بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 110
صفحہ 6 از 6
حدیث نمبر: 18234 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، التَّيْمِيُّ ، بَكْرٍ ، الْحَسَنِ ، ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَبِيهِ ، بَكْر ، ابْنِ الْمُغِيرَةِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا التَّيْمِيُّ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنِ الْحَسَنِ ، عَنِ ابْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " تَوَضَّأَ، فَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ وَالْعِمَامَةِ" . قَالَ بَكْر : وَقَدْ سَمِعْتُهُ مِنْ ابْنِ الْمُغِيرَةِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے وضو کیا تو پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور اپنے عمامے پر مسح کیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18234]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 182، م: 274
الحكم: إسناده صحيح، خ: 182، م: 274
حدیث نمبر: 18235 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، زَكَرِيَّا ، عَامِرٍ ، عُرْوَةُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ زَكَرِيَّا ، عَنْ عَامِرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي عُرْوَةُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ فِي مَسِيرٍ، فَقَالَ لِي:" مَعَكَ مَاءٌ؟"، قُلْتُ: نَعَمْ، فَنَزَلَ عَنْ رَاحِلَتِهِ، ثُمَّ ذَهَبَ عَنِّي حَتَّى تَوَارَى عَنِّي فِي سَوَادِ اللَّيْلِ، قَالَ: وَكَانَتْ عَلَيْهِ جُبَّةٌ، فَذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ أَنْ يُخْرِجَ يَدَيْهِ مِنْهَا، فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، ثُمَّ ذَهَبْتُ أَنْزِعُ خُفَّيْهِ، قَالَ: " دَعْهُمَا، فَإِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ"، فَمَسَحَ عَلَيْهِمَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میرے نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہیں دیکھ سکتا تھا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس آئے اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور اپنے عمامے پر مسح کیا پھر میں نے ان کے موزے اتارنے کے لئے ہاتھ بڑھائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انہیں رہنے دو میں نے وضو کی حالت میں انہیں پہنا تھا چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان پر مسح کرلیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18235]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 182، م: 274
الحكم: إسناده صحيح، خ: 182، م: 274
حدیث نمبر: 18236 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مِسْعَرٌ ، أَبِي صَخْرَةَ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا مِسْعَرٌ ، عَنْ أَبِي صَخْرَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: بِتُّ بِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَأَمَرَ بِجَنْبٍ فَشُوِيَ، ثُمَّ أَخَذَ الشَّفْرَةَ، فَجَعَلَ يَحُزُّ لِي بِهَا مِنْهُ، فَجَاءَ بِلَالٌ يُؤْذِنُهُ بِالصَّلَاةِ، فَأَلْقَى الشَّفْرَةَ، وَقَالَ:" مَا لَهُ تَرِبَتْ يَدَاهُ؟"، قَالَ: وَكَانَ شَارِبِي وَفَى، فَقَصَّهُ لِي عَلَى سِوَاكٍ، أَوْ قَالَ: " أَقُصُّهُ لَكَ عَلَى سِوَاكٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ رات کے وقت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے یہاں مہمان تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے حکم دیا تو اس ران بھونی گئی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم چھری پکڑ کر مجھے اس میں سے کاٹ کاٹ کردینے لگے اس دوران حضرت بلال رضی اللہ عنہ نماز کی اطلاع دینے کے لئے آگئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چھری ہاتھ سے رکھ دی اور فرمایا اس کے ہاتھ خاک آلود ہوں اسے کیا ہوا؟ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ میری مونچھیں بڑھی ہوئی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مسواک نیچے رکھ کر انہیں کتر دیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18236]
حکم دارالسلام
إسناده حسن
الحكم: إسناده حسن
حدیث نمبر: 18237 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَسَدِيُّ ، عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ ، الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدٍ الطَّائِيُّ ، وَمُحَمَّدُ بْنُ قَيْسٍ الْأَسَدِيُّ ، عَنْ عَلِيِّ بْنِ رَبِيعَةَ الْوَالِبِيِّ ، قَالَ: إِنَّ أَوَّلَ مِنْ نِيحَ عَلَيْهِ بِالْكُوفَةِ قَرَظَةُ بْنُ كَعْبٍ الْأَنْصَارِيُّ، فَقَالَ الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ : سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ: " مَنْ نِيحَ عَلَيْهِ، فَإِنَّهُ يُعَذَّبُ بِمَا نِيحَ عَلَيْهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ ارشاد فرماتے ہوئے سنا ہے جس شخص پر نوحہ کیا جاتا ہے اسے اس نوحے کی وجہ سے عذاب ہوتا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18237]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1291، م: 933
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1291، م: 933
حدیث نمبر: 18238 مسند احمد
وَكِيعٌ ، مِسْعَرٍ ، وَسُفْيَانُ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ مِسْعَرٍ ، وَسُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ يُصَلِّي حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ، فَقَالَ: " أَوَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنی دیر قیام فرماتے کہ آپ کے مبارک قدم سوج جاتے لوگ کہتے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرمادئیے ہیں پھر اتنی محنت؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے کیا میں شکرگذار بندہ نہ بنوں؟ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18238]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1130، م: 2819
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1130، م: 2819
حدیث نمبر: 18239 مسند احمد
وَكِيعٌ ، يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، الشَّعْبِيِّ ، عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، عَنْ يُونُسَ بْنِ أَبِي إِسْحَاقَ ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " لَبِسَ جُبَّةً رُومِيَّةً ضَيِّقَةَ الْكُمَّيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے رومی جبہ زیب تن فرمایا جس کی آستینیں تنگ تھیں۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18239]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 182، م: 274، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، خ: 182، م: 274، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18240 مسند احمد
وَكِيعٌ ، سُفْيَانُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، حَبِيبٍ ، مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ . قَالَ: وَحَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ حَبِيبٍ ، عَنْ مَيْمُونِ بْنِ أَبِي شَبِيبٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ حَدَّثَ بِحَدِيثٍ وَهُوَ يَرَى أَنَّهُ كَذِبٌ، فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ" . وَقَالَ عَبْدُ الرَّحْمَنِ:" فَهُوَ أَحَدُ الْكَذَّابِينَ"..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا جو شخص میرے حوالے سے کوئی حدیث نقل کرتا ہے وہ سمجھتا ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے تو وہ دو میں سے ایک جھوٹا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18240]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، ميمون بن أبى شبيب لم يدرك المغيرة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، ميمون بن أبى شبيب لم يدرك المغيرة
حدیث نمبر: 18241 مسند احمد
بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، شُعْبَةُ ، حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ
حَدَّثَنَا بَهْزُ بْنُ أَسَدٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، حَدَّثَنَا حَبِيبُ بْنُ أَبِي ثَابِتٍ . فَذَكَرَ نَحْوَهُ، قَالَ:" فَهُوَ أَحَدُ الْكَاذِبِينَ".
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، ميمون بن أبى شبيب لم يدرك المغيرة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، ميمون بن أبى شبيب لم يدرك المغيرة
حدیث نمبر: 18242 مسند احمد
وَكِيعٌ ، يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، الشَّعْبِيِّ ، عُرْوَةُ بْنُ الْمُغِيرَةِ ، أَبُوهُ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا يُونُسُ بْنُ أَبِي إِسْحَاقَ ، سَمِعْتُهُ مِنَ الشَّعْبِيِّ ، قَالَ: شَهِدَ لِي عُرْوَةُ بْنُ الْمُغِيرَةِ عَلَى أَبِيهِ، أَنَّهُ شَهِدَ لَهُ أَبُوهُ عَلَى رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّهُ كَانَ فِي سَفَرٍ، فَأَنَاخَ، وَأَنَاخَ أَصْحَابُهُ، قَالَ: فَبَرَزَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لِحَاجَتِهِ، ثُمَّ جَاءَ، فَأَتَيْتُهُ بِإِدَاوَةٍ وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ لَهُ رُومِيَّةٌ، ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ، فَذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ، فَضَاقَتَا، فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ. قَالَ: ثُمَّ صَبَبْتُ عَلَيْهِ، فَتَوَضَّأَ، فَلَمَّا بَلَغَ الْخُفَّيْنِ، أَهْوَيْتُ لِأَنْزِعَهُمَا، فَقَالَ:" لَا، إِنِّي أَدْخَلْتُهُمَا وَهُمَا طَاهِرَتَانِ"، قَالَ: فَتَوَضَّأَ وَمَسَحَ عَلَيْهِمَا . قَالَ الشَّعْبِيُّ: فَشَهِدَ لِي عُرْوَةُ عَلَى أَبِيهِ، شَهِدَ لَهُ أَبُوهُ عَلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے پوچھا کہ کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میرے نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہیں دیکھ سکتا تھا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس آئے اور میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور اپنے عمامے پر مسح کیا پھر میں نے ان کے موزے اتارنے کے لئے ہاتھ بڑھائے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا انہیں رہنے دو میں نے وضو کی حالت میں انہیں پہنا تھا چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ان پر مسح کرلیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18242]
حکم دارالسلام
صحيح، خ: 182، م: 274، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، خ: 182، م: 274، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18243 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانُ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قَالَ: سَمِعْتُ الْمُغِيرَةَ بْنَ شُعْبَةَ يَقُولُ: كَانَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي حَتَّى تَرِمَ قَدَمَاهُ، فَقِيلَ لَهُ: أَلَيْسَ قَدْ غَفَرَ اللَّهُ لَكَ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ؟! قَالَ: " أَفَلَا أَكُونُ عَبْدًا شَكُورًا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اتنی دیرقیام فرماتے کہ آپ کے مبارک قدم سوج جاتے لوگ کہتے یا رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ! اللہ تعالیٰ نے تو آپ کے اگلے پچھلے سارے گناہ معاف فرمادئیے ہیں پھر اتنی محنت؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم فرماتے کیا میں شکرگذار بندہ نہ بنوں؟ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18243]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1130، م: 2819
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1130، م: 2819