بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
حَدِيثُ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 110
صفحہ 2 از 6
حدیث نمبر: 18154 مسند احمد
أَبُو مُعَاوِيَةَ ، عَاصِمٌ ، بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا أَبُو مُعَاوِيَةَ ، حَدَّثَنَا عَاصِمٌ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: خَطَبْتُ امْرَأَةً، فَقَالَ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" أَنَظَرْتَ إِلَيْهَا؟" قُلْتُ: لَا، قَالَ: " فَانْظُرْ إِلَيْهَا، فَإِنَّهُ أَحْرَى أَنْ يُؤْدَمَ بَيْنَكُمَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے ایک عورت پاس پیغام نکاح بھیجا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھ سے فرمایا کیا تم نے اسے دیکھا ہے؟ میں نے کہا نہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا جاکر پہلے اسے دیکھو، کیونکہ اس سے تمہارے درمیان محبت بڑھے گی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18154]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، إن صح سماع بكر بن عبدالله من المغيرة بن شعبة
الحكم: حديث صحيح، إن صح سماع بكر بن عبدالله من المغيرة بن شعبة
حدیث نمبر: 18155 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، شُعْبَةُ ، إِسْمَاعِيلَ ، قَيْسٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا شُعْبَةُ ، عَنْ إِسْمَاعِيلَ ، عَنْ قَيْسٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: مَا سَأَلَ أَحَدٌ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُ أَنَا عَنْهُ، فَقَالَ:" إِنَّهُ لَا يَضُرُّكَ"، قَالَ: قُلْتُ: إِنَّهُمْ يَقُولُونَ مَعَهُ نَهَرٌ وَكَذَا وَكَذَا. قَالَ:" هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ مِنْ ذَاكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دجال کے متعلق جتنی کثرت کے ساتھ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال پوچھے ہیں کسی نے نہیں پوچھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ وہ تمہیں کچھ نقصان نہ پہنچاسکے گا میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں اس کے ساتھ ایک نہر بھی ہوگی اور فلاں فلاں چیز بھی ہوگی، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ اللہ کے نزدیک اس سے بہت حقیر ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18155]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7122، م: 2152
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7122، م: 2152
حدیث نمبر: 18156 مسند احمد
إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، أَبِي الزِّنَادِ ، عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، الْمُغِيرَةُ ، سُرَيْجٌ ، والْهَاشِمِيُّ
حَدَّثَنَا إِبْرَاهِيمُ بْنُ أَبِي الْعَبَّاسِ ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ أَبِي الزِّنَادِ ، عَنْ عُرْوَةَ بْنِ الزُّبَيْرِ ، قَالَ: قَالَ الْمُغِيرَةُ : رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ عَلَى ظُهُورِ الْخُفَّيْن" . قال عبد الله: قال أبي: حَدَّثَنَاه سُرَيْجٌ ، والْهَاشِمِيُّ أَيْضًا.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18156]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا اسناد حسن فى المتعابعات لأجل عبدالرحمن بن أبى الزناد
الحكم: حديث صحيح، وهذا اسناد حسن فى المتعابعات لأجل عبدالرحمن بن أبى الزناد
حدیث نمبر: 18157 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، سَعِيدٌ ، بَكْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، حَدَّثَنَا سَعِيدٌ ، قَالَ: سَمِعْتُ بَكْرَ بْنَ عَبْدِ اللَّهِ يُحَدِّثُ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّهُ قَالَ: خَصْلَتَانِ لَا أَسْأَلُ عَنْهُمَا أَحَدًا مِنَ النَّاسِ، رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَعَلَهُمَا: صَلَاةُ الْإِمَامِ خَلْفَ الرَّجُلِ مِنْ رَعِيَّتِهِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " صَلَّى خَلْفَ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَوْفٍ رَكْعَةً مِنْ صَلَاةِ الصُّبْح" . وَمَسْحُ الرَّجُلِ عَلَى خُفَّيْهِ، وَقَدْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " يَمْسَحُ عَلَى الْخُفَّيْنِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دو چیزوں کے متعلق تو میں کسی سے سوال نہیں کروں گا کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو وہ کام کرتے ہوئے دیکھا ہے ایک تو امام کا اپنی رعایا میں سے کسی کے پیچھے نماز پڑھنا میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو ایک مرتبہ فجر کی ایک رکعت میں حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ کے پیچھے پڑھتے ہوئے دیکھا ہے اور دوسرا موزوں پر مسح کرنا کیونکہ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو موزوں پر مسح کرتے ہوئے دیکھا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18157]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد فيه ضعف وانقطاع، ومحمد بن جعفر روي عن سعيد بن أبى عروبة بعد الاختلاط، وبكر بن عبدالله لم يسمع هذا الحديث من المغيرة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد فيه ضعف وانقطاع، ومحمد بن جعفر روي عن سعيد بن أبى عروبة بعد الاختلاط، وبكر بن عبدالله لم يسمع هذا الحديث من المغيرة
حدیث نمبر: 18158 مسند احمد
رَوْحٌ ، ابْنُ عَوْنٍ ، أَبُو سَعِيدٍ ، وَرَّادٌ ، الْمُغِيرَةِ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، حَدَّثَنَا ابْنُ عَوْنٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنِي أَبُو سَعِيدٍ ، قَالَ: أَنْبَأَنِي وَرَّادٌ كَاتِبُ الْمُغِيرَةِ، قَالَ: كَتَبَ مُعَاوِيَةُ إِلَى الْمُغِيرَةِ ، اكْتُبْ إِلَيَّ بِشَيْءٍ سَمِعْتَهُ مِنْ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: كَانَ إِذَا صَلَّى فَفَرَغَ، قَالَ: " لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ" قَالَ: وَأَظُنُّهُ قَالَ:" وَحْدَهُ لَا شَرِيكَ لَهُ، لَهُ الْمُلْكُ وَلَهُ الْحَمْدُ، وَهُوَ عَلَى كُلِّ شَيْءٍ قَدِيرٌ، اللَّهُمَّ لَا مَانِعَ لِمَا أَعْطَيْتَ، وَلَا مُعْطِيَ لِمَا مَنَعْتَ، وَلَا يَنْفَعُ ذَا الْجَدِّ مِنْكَ الْجَدُّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے ایک مرتبہ حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کو خط لکھا کہ مجھے کوئی ایسی چیز لکھ کر بھیجئے جو آپ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سنی ہو؟ انہوں نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب نماز سے فارغ ہوتے تھے تو یوں کہتے تھے اللہ کے علاوہ کوئی معبود نہیں وہ یکتا ہے اس کا کوئی شریک نہیں حکومت اسی کی ہے اور تمام تعریفیں بھی اسی کی ہیں اے اللہ! جسے آپ دیں اس سے کوئی روک نہیں سکتا اور جس سے روک لیں اسے کوئی دے نہیں سکتا اور آپ کے سامنے کسی مرتبے والے کا مرتبہ کام نہیں آسکتا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18158]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 844، م: 593، أبو سعيد مجهول
الحكم: حديث صحيح، خ: 844، م: 593، أبو سعيد مجهول
حدیث نمبر: 18159 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، الْأَعْمَشِ ، أَبِي الضُّحَى ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الْأَعْمَشِ ، عَنْ أَبِي الضُّحَى ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، " فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ جِئْتُهُ بِإِدَاوَةٍ مِنْ مَاءٍ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ، قَالَ: فَلَمْ يَقْدِرْ أَنْ يُخْرِجَ يَدَيْهِ مِنْ كُمَّيْهَا، فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ أَسْفَلِهَا، ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قضاء حاجت کی پھر میں پانی کا ایک برتن لے کر حاضر ہوا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے وضو کرکے موزوں پر مسح کیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18159]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، والظاهر أن بين أبى الضحى والمغيرة مسروقاً
الحكم: حديث صحيح، والظاهر أن بين أبى الضحى والمغيرة مسروقاً
حدیث نمبر: 18160 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
قَالَ: قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ : مَالِكٌ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ من وَلَدِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، عَنْ أَبِيهِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَهَبَ لِحَاجَتِهِ فِي غَزْوَةِ تَبُوكَ، قَالَ الْمُغِيرَةُ: فَذَهَبْتُ مَعَهُ بِمَاءٍ، فَجَاءَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَسَكَبْتُ عَلَيْهِ مَاءً، " فَغَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يُخْرِجُ يَدَيْهِ مِنْ كُمِّ جُبَّتِهِ، فَلَمْ يَسْتَطِعْ مِنْ ضِيقِ كُمِّ الْجُبَّةِ، فَأَخْرَجَهَا مِنْ تَحْتِ جُبَّتِهِ، فَغَسَلَ يَدَيْهِ، وَمَسَحَ رَأْسَهُ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ، فَجَاءَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَؤُمُّهُمْ وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ رَكْعَةً، فَصَلَّى رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَعَهُمْ الرَّكْعَةَ الَّتِي بَقِيَتْ عَلَيْهِمْ، فَلَمَّا فَرَغَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ:" أَحْسَنْتُمْ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ غزوہ تبوک کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئے میں بھی پانی لے کر ساتھ چلا گیا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس آئے تو میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پانی لے کر حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے میں انہیں بتانے کے لئے جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے روک دیا اور ہم نے جو رکعت پائی وہ تو پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی اسے (سلام پھرنے کے بعد ادا کیا۔ اور نماز سے فارغ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا تم نے اچھا کیا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18160]
حکم دارالسلام
حديث صحيح على وهم فى إسناده، قوله: عباد بن زياد من ولد المغيرة خطأ، والصواب: ليس هو من ولد المغيرة، بل هو من ولد زياد بن أبى سفيان، وعباد هذا مجهول، وإسقاط مالك عروة وحمزة من الإسناد بين عباد وبين المغيرة ، وقوله: «عن أبيه» خطأ
الحكم: حديث صحيح على وهم فى إسناده، قوله: عباد بن زياد من ولد المغيرة خطأ، والصواب: ليس هو من ولد المغيرة، بل هو من ولد زياد بن أبى سفيان، وعباد هذا مجهول، وإسقاط مالك عروة وحمزة من الإسناد بين عباد وبين الم
حدیث نمبر: 18161 مسند احمد
مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، ابْنِ شِهَابٍ ، عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ
قال عَبْد اللَّهِ، حَدَّثَنَاه مُصْعَبُ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ الزُّبَيْرِيُّ ، حَدَّثَنِي مَالِكُ بْنُ أَنَسٍ ، عَنِ ابْنِ شِهَابٍ ، عَنْ عَبَّادِ بْنِ زِيَادٍ مِنْ وَلَدِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ، فَذَكَرَ هَذَا الْحَدِيثَ. قَالَ مُصْعَبٌ: وَأَخْطَأَ فِيهِ مَالِكٌ خَطَأً قَبِيحًا.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، فقول مالك: «عباد بن زياد من ولد المغيرة .....» خطاً، راجع ما قبله
الحكم: حديث صحيح، فقول مالك: «عباد بن زياد من ولد المغيرة .....» خطاً، راجع ما قبله
حدیث نمبر: 18162 مسند احمد
عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ ، سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ، زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَاحِدِ الْحَدَّادُ ، حَدَّثَنَا سَعِيدُ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الثَّقَفِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ جُبَيْرٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " الرَّاكِبُ خَلْفَ الْجِنَازَةِ، وَالْمَاشِي حَيْثُ شَاءَ مِنْهَا، وَالطِّفْلُ يُصَلَّى عَلَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا سوار آدمی جنازے کے پیچھے چلے پیدل چلنے والے کی مرضی ہے (آگے چلے یا پیچھے دائیں جانب چلے یا بائیں جانب) اور نابالغ بچے کی نماز جنازہ پڑھی جائے گی۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18162]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد اختلف فى رفعه ووقفه
الحكم: حديث صحيح، وقد اختلف فى رفعه ووقفه
حدیث نمبر: 18163 مسند احمد
يَزِيدُ ، الْمَسْعُودِيُّ ، زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا الْمَسْعُودِيُّ ، عَنْ زِيَادِ بْنِ عِلَاقَةَ ، قَالَ: صَلَّى بِنَا الْمُغِيرَةُ بْنُ شُعْبَةَ ، " فَلَمَّا صَلَّى رَكْعَتَيْنِ، قَامَ وَلَمْ يَجْلِسْ، فَسَبَّحَ بِهِ مَنْ خَلْفَهُ، فَأَشَارَ إِلَيْهِمْ أَنْ قُومُوا، فَلَمَّا فَرَغَ مِنْ صَلَاتِهِ، سَلَّمَ ثُمَّ سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا صَنَعَ بِنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
زیاد بن علاقہ رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد وہ بیٹھے نہیں بلکہ کھڑے ہوگئے مقتدیوں نے سبحان اللہ کہا لیکن انہوں نے اشارہ سے کہا کہ کھڑے ہوجاؤ جب نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کئے اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ہمارے ساتھ اسی طرح کرتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18163]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وقد اختلف فى رفعه ووقفه
الحكم: حديث صحيح، وقد اختلف فى رفعه ووقفه
حدیث نمبر: 18164 مسند احمد
يَزِيدُ ، هِشَامٌ ، مُحَمَّدٍ ، عَمْرُو بْنُ وَهْبٍ الثَّقَفِيُّ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا هِشَامٌ ، عَنْ مُحَمَّدٍ ، قَالَ: دَخَلْتُ مَسْجِدَ الْجَامِعِ، فَإِذَا عَمْرُو بْنُ وَهْبٍ الثَّقَفِيُّ قَدْ دَخَلَ مِنَ النَّاحِيَةِ الْأُخْرَى، فَالْتَقَيْنَا قَرِيبًا مِنْ وَسَطِ الْمَسْجِدِ، فَابْتَدَأَنِي بِالْحَدِيثِ، وَكَانَ يُحِبُّ مَا سَاقَ إِلَيَّ مِنْ خَيْرٍ، فَابْتَدَأَنِي بِالْحَدِيثِ، فَقَالَ: كُنَّا عِنْدَ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، فَزَادَهُ فِي نَفْسِي تَصْدِيقًا الَّذِي قَرَّبَ بِهِ الْحَدِيثَ، قَالَ: قُلْنَا: هَلْ أَمَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَجُلٌ مِنْ هَذِهِ الْأُمَّةِ غَيْرَ أَبِي بَكْرٍ الصِّدِّيقِ رَضِيَ اللَّهُ تَعَالَى عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ، كُنَّا فِي سَفَرِ كَذَا وَكَذَا، فَلَمَّا كَانَ فِي السَّحَرِ، ضَرَبَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عُنُقَ رَاحِلَتِهِ، وَانْطَلَقَ فَتَبِعْتُهُ، فَتَغَيَّبَ عَنِّي سَاعَةً، ثُمَّ جَاءَ، فَقَالَ:" حَاجَتَكَ؟" فَقُلْتُ: لَيْسَتْ لِي حَاجَةٌ يَا رَسُولَ اللَّهِ. قَالَ:" هَلْ مِنْ مَاءٍ؟" قُلْتُ: نَعَمْ، فَصَبَبْتُ عَلَيْهِ، " فَغَسَلَ يَدَيْهِ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، وَكَانَتْ عَلَيْهِ جُبَّةٌ لَهُ شَامِيَّةٌ، فَضَاقَتْ، فَأَدْخَلَ يَدَيْهِ، فَأَخْرَجَهُمَا مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ، فَغَسَلَ وَجْهَهُ، وَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ، وَمَسَحَ بِنَاصِيَتِهِ، وَمَسَحَ عَلَى الْعِمَامَةِ، وَعَلَى الْخُفَّيْنِ. ثُمَّ لَحِقْنَا النَّاسَ وَقَدْ أُقِيمَتْ الصَّلَاةُ، وَعَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ يَؤُمُّهُمْ، وَقَدْ صَلَّى رَكْعَةً، فَذَهَبْتُ لِأُوذِنَهُ، فَنَهَانِي، فَصَلَّيْنَا الَّتِي أَدْرَكْنَا، وَقَضَيْنَا الَّتِي سُبِقْنَا بِهَا" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
عمرو بن وہب رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ ہم لوگ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ تھے کہ کسی شخص نے ان سے پوچھا حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے علاوہ اس امت میں کوئی اور بھی ایسا شخص ہوا ہے جس کی امامت میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھی ہو؟ انہوں نے جواب دیا ہاں! ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے میرے خیمے کا دروازہ بجایا میں سمجھ گیا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قضاء حاجت کے لئے جانا چاہتے ہیں چناچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ نکل پڑا یہاں تک کہ ہم لوگ چلتے چلتے لوگوں سے دور چلے گئے۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میری نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہیں دیکھ سکتا تھا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس آئے اور فرمایا مغیرہ! تم بھی اپنی ضرورت پوری کرلو میں نے عرض کیا کہ مجھے اس وقت حاجت نہیں ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ میں نے عرض کیا جی ہاں! اور یہ کہہ کر میں وہ مشکیزہ لانے چلا گیا جو کجاوے کے پچھلے حصے میں لٹکا ہوا تھا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پانی لے حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھا چکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے میں انہیں بتانے کے لئے جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے روک دیا اور ہم نے جو رکعت پائی وہ تو پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی اسے (سلام پھرنے کے بعد) ادا کیا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18164]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح
الحكم: إسناده صحيح
حدیث نمبر: 18165 مسند احمد
أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، رَجُلٌ ، عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ
حَدَّثَنَا أَسْوَدُ بْنُ عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا جَرِيرُ بْنُ حَازِمٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ سِيرِينَ ، قَالَ: حَدَّثَنِي رَجُلٌ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ وَهْبٍ ، يَعْنِي فَذَكَرَ نَحْوَهُ.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، لعل ابن سيرين سمع الحديث من رجل، عن عمرو، ثم لقيه، فسمع منه
الحكم: حديث صحيح، لعل ابن سيرين سمع الحديث من رجل، عن عمرو، ثم لقيه، فسمع منه
حدیث نمبر: 18166 مسند احمد
يَزِيدُ ، إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ يَعْنِي ابْنَ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا يَزَالُ نَاسٌ مِنْ أُمَّتِي يُقَاتِلُونَ عَلَى الْحَقِّ ظَاهِرِينَ، حَتَّى يَأْتِيَهُمْ أَمْرُ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا میری امت میں ایک جماعت ہمیشہ قتال کرتی اور لوگوں پر غالب رہے گی یہاں تک کہ جب ان کے پاس اللہ کا حکم آئے گا تب بھی وہ غالب ہی ہوں گے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18166]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7311، م: 1921
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7311، م: 1921
حدیث نمبر: 18167 مسند احمد
يَزِيدُ ، إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا يَزِيدُ ، أَخْبَرَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ أَبِي خَالِدٍ ، عَنْ قَيْسِ بْنِ أَبِي حَازِمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: مَا سَأَلَ أَحَدٌ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الدَّجَّالِ أَكْثَرَ مِمَّا سَأَلْتُهُ عَنْهُ، فَقَالَ لِي:" أَيْ بُنَيَّ، وَمَا يُنْصِبُكَ مِنْهُ؟ إِنَّهُ لَنْ يَضُرَّكَ". قَالَ: قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، إِنَّهُمْ يَزْعُمُونَ أَنَّ مَعَهُ جِبَالَ الْخُبْزِ وَأَنْهَارَ الْمَاءِ! فَقَالَ:" هُوَ أَهْوَنُ عَلَى اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ مِنْ ذَاكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دجال کے متعلق جتنی کثرت کے ساتھ میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے سوال پوچھے ہیں کسی نے نہیں پوچھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ایک مرتبہ فرمایا کہ وہ تمہیں کچھ نقصان نہ پہنچاسکے گا میں نے عرض کیا کہ لوگ کہتے ہیں اس کے سا تھا ایک نہر بھی ہوگی اور فلاں فلاں چیز بھی ہوگی، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا وہ اللہ کے نزدیک اس سے بہت حقیر ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18167]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7122، م: 2152
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7122، م: 2152
حدیث نمبر: 18168 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو الْوَلِيدِ ، أَبُو عَوَانَةَ ، عَبْدِ الْمَلِكِ ، وَرَّادٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ أَبُو الْوَلِيدِ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، عَنْ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عَنْ وَرَّادٍ كَاتِبِ الْمُغِيرَةِ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ سَعْدُ بْنُ عُبَادَةَ: لَوْ رَأَيْتُ رَجُلًا مَعَ امْرَأَتِي لَضَرَبْتُهُ بِالسَّيْفِ غَيْرَ مُصْفَحٍ، فَبَلَغَ ذَلِكَ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ:" أَتَعْجَبُونَ مِنْ غَيْرَةِ سَعْدٍ، وَاللَّهِ لَأَنَا أَغْيَرُ مِنْهُ، وَاللَّهُ أَغْيَرُ مِنِّي، وَمِنْ أَجْلِ غَيْرَةِ اللَّهِ حَرَّمَ الْفَوَاحِشَ مَا ظَهَرَ مِنْهَا وَمَا بَطَنَ، وَلَا شَخْصَ أَغْيَرُ مِنَ اللَّهِ، وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ الْعُذْرُ مِنَ اللَّهِ، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ بَعَثَ اللَّهُ الْمُرْسَلِينَ مُبَشِّرِينَ وَمُنْذِرِينَ، وَلَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِدْحَةٌ مِنَ اللَّهِ، مِنْ أَجْلِ ذَلِكَ وَعَدَ اللَّهُ الْجَنَّةَ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضرت سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے کہا کہ اگر میں اپنی بیوی کے ساتھ کسی اجنبی مرد کو دیکھ لو تو تلوار سے اس کی گردن اڑادوں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم تک یہ بات پہنچی تو فرمایا کہ تم سعد کی غیرت سے تعجب کرتے ہو؟ بخدا! میں ان سب سے زیادہ غیور ہوں اور اللہ مجھ سے زیادہ غیور ہے اسی بناء پر اس نے ظاہری اور باطنی فواحش کو حرام قرار دیا اور اللہ سے زیادہ غیرت مند کوئی شخص نہیں ہوسکتا اللہ سے زیادہ عذر کو پسند کرنے والا کوئی شخص نہیں ہوسکتا، اسی وجہ سے اللہ نے جنت کا وعدہ فرمایا ہے۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ عبیداللہ قواریری رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ اس حدیث سے زیادہ سخت حدیث فرقہ جہمیہ کے نزدیک کوئی نہیں ہے کہ اللہ تعالیٰ کوئی شخص ایسا نہیں ہے جسے اللہ سے زیادہ تعریف پسند ہو۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18168]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6846 ، م: 1499
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6846 ، م: 1499
حدیث نمبر: 18169 مسند احمد
عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ ، أَبُو عَوَانَةَ
قال عبد الله بن أحمد: حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ ، حَدَّثَنَا أَبُو عَوَانَةَ ، بِإِسْنَادِهِ مِثْلَهُ سَوَاءً. قَالَ أَبُو عَبْد الرَّحْمَنِ: قَالَ عُبَيْدُ اللَّهِ الْقَوَارِيرِيُّ: لَيْسَ حَدِيثٌ أَشَدَّ عَلَى الْجَهْمِيَّةِ مِنْ هَذَا الْحَدِيثِ قَوْلِهِ:" لَا شَخْصَ أَحَبُّ إِلَيْهِ مِدْحَةٌ مِنَ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ".
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 6846، م: 1499
الحكم: إسناده صحيح، خ: 6846، م: 1499
حدیث نمبر: 18170 مسند احمد
هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ ، إيَادًا ، قَبِيصَةَ بْنِ بُرْمَةَ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا هِشَامُ بْنُ عَبْدِ الْمَلِكِ ، حَدَّثَنَا عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ إِيَادٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ إيَادًا يُحَدِّثُ، عَنْ قَبِيصَةَ بْنِ بُرْمَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: خَرَجْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ مَا كَانَ يُسَافِرُ، فَسِرْنَا حَتَّى إِذَا كُنَّا فِي وَجْهِ السَّحَرِ، انْطَلَقَ حَتَّى تَوَارَى عَنِّي، " فَضَرَبَ الْخَلَاءَ، ثُمَّ جَاءَ فَدَعَا بِطَهُورٍ، وَعَلَيْهِ جُبَّةٌ شَامِيَّةٌ، ضَيِّقَةُ الْكُمَّيْنِ، فَأَدْخَلَ يَدَهُ مِنْ أَسْفَلِ الْجُبَّةِ، ثُمَّ غَسَلَ وَجْهَهُ وَيَدَيْهِ، وَمَسَحَ بِرَأْسِهِ، وَمَسَحَ عَلَى الْخُفَّيْنِ" ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ہمراہ کسی سفر پر نکلا صبح کے وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم قضاء حاجت کے لئے چلے گئے اور میری نظروں سے غائب ہوگئے اب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو نہیں دیکھ سکتا تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس آئے پانی منگوایا اور اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے سر پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا۔ گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18170]
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18171 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ عَبَيْدٍ ، مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، أَبِي سَلَمَةَ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَبَيْدٍ ، حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عَمْرٍو ، عَنِ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي بَعْضِ أَسْفَارِهِ، وَكَانَ إِذَا ذَهَبَ، أَبْعَدَ فِي الْمَذْهَبِ، فَذَهَبَ لِحَاجَتِهِ، وَقَالَ:" يَا مُغِيرَةُ اتْبَعْنِي بِمَاءٍ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
حکم دارالسلام
صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 18172 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، حُمَيْدٍ ، بَكْرٍ ، حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ أَبِي عَدِيٍّ ، عَنْ حُمَيْدٍ ، عَنْ بَكْرٍ ، عَنْ حَمْزَةَ بْنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، عَنْ أَبِيهِ ، قَالَ: تَخَلَّفَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، فَقَالَ:" هَلْ مَعَكَ طَهُورٌ؟" قَال: فَاتَّبَعْتُهُ بِمِيضَأَةٍ فِيهَا مَاءٌ، " فَغَسَلَ كَفَّيْهِ وَوَجْهَهُ، ثُمَّ ذَهَبَ يَحْسِرُ عَنْ ذِرَاعَيْهِ، وَكَانَ فِي يَدَيْ الْجُبَّةِ ضِيقٌ، فَأَخْرَجَ يَدَيْهِ مِنْ تَحْتِ الْجُبَّةِ، فَغَسَلَ ذِرَاعَيْهِ، ثُمَّ مَسَحَ عَلَى عِمَامَتِهِ وَخُفَّيْهِ، وَرَكِبَ وَرَكِبْتُ رَاحِلَتِي، فَانْتَهَيْنَا إِلَى الْقَوْمِ، وَقَدْ صَلَّى بِهِمْ عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ عَوْفٍ رَكْعَةً، فَلَمَّا أَحَسَّ بِالنَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ذَهَبَ يَتَأَخَّرُ فَأَوْمَأَ إِلَيْهِ أَنْ يُتِمَّ الصَّلَاةَ، وَقَالَ:" قَدْ أَحْسَنْتَ، كَذَلِكَ فَافْعَلْ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنی سواری سے اترے اور قضاء حاجت کے لئے چلے گئے تھوڑی دیر گذرنے کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم واپس آئے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پوچھا کیا تمہارے پاس پانی ہے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں پانی لے حاضر ہوا اور پانی ڈالتا رہا نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے پہلے دونوں ہاتھ خوب اچھی طرح دھوئے پھر چہرہ دھویا۔ اس کے بعد نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم اپنے بازؤوں سے آستینیں اوپر چڑھانے لگے لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے جو شامی جبہ زیب تن فرما رکھا تھا ' اس کی آستینیں تنگ تھیں اس لئے وہ اوپر نہ ہوسکیں چناچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دونوں ہاتھ نیچے سے نکال لئے اور چہرہ اور ہاتھ دھوئے پیشانی کی مقدار سر پر مسح کیا اپنے عمامے پر مسح کیا اور موزوں پر مسح کیا اور واپسی کے لئے سوار ہوگئے جب ہم لوگوں کے پاس پہنچے تو نماز کھڑی ہوچکی تھی اور حضرت عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہ آگے بڑھ کر ایک رکعت پڑھاچکے تھے اور دوسری رکعت میں تھے میں انہیں بتانے کے لئے جانے لگا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے روک دیا اور ہم نے جو رکعت پائی وہ تو پڑھ لی اور جو رہ گئی تھی اسے (سلام پھرنے کے بعد) ادا کیا۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18172]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 182، م: 274
الحكم: إسناده صحيح، خ: 182، م: 274
حدیث نمبر: 18173 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، سُفْيَانُ ، ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، الشَّعْبِيِّ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ ابْنِ أَبِي لَيْلَى ، عَنِ الشَّعْبِيِّ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، أَنَّهُ " قَامَ فِي الرَّكْعَتَيْنِ الْأُولَيَيْنِ، فَسَبَّحُوا بِهِ، فَلَمْ يَجْلِسْ، فَلَمَّا قَضَى صَلَاتَهُ، سَجَدَ سَجْدَتَيْنِ بَعْدَ التَّسْلِيمِ، ثُمَّ قَالَ: هَكَذَا فَعَلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
شعبی رحمہ اللہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مغیرہ بن شعبہ رضی اللہ عنہ نے ہمیں نماز پڑھائی دو رکعتیں پڑھانے کے بعد وہ بیٹھے نہیں بلکہ کھڑے ہوگئے مقتدیوں نے سبحان اللہ کہا لیکن انہوں نے اشارہ سے کہا کہ کھڑے ہوجاؤ جب نماز سے فارغ ہوئے تو انہوں نے سلام پھیر کر سہو کے دو سجدے کئے اور فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم بھی ایسا ہی کرتے تھے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18173]
حکم دارالسلام
حديث صحيح بطرقه ، ابن أبى ليلى سيئ الحفظ، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح بطرقه ، ابن أبى ليلى سيئ الحفظ، لكنه توبع