وَكِيعٌ ، بُكَيْرُ بْنُ عَامِرٍ ، ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ
حَدَّثَنَا وَكِيعٌ ، حَدَّثَنَا بُكَيْرُ بْنُ عَامِرٍ ، عَنِ ابْنِ أَبِي نُعْمٍ ، عَنِ الْمُغِيرَةِ بْنِ شُعْبَةَ ، قَالَ: كُنْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي سَفَرٍ، فَقَضَى حَاجَتَهُ، ثُمَّ تَوَضَّأَ، وَمَسَحَ عَلَى خُفَّيْهِ، قُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، نَسِيتَ؟ قَالَ:" بَلْ أَنْتَ نَسِيتَ، بِهَذَا أَمَرَنِي رَبِّي عَزَّ وَجَلَّ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت مغیرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ کسی سفر میں تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم ایک وادی میں قضاء حاجت کے لئے تشریف لے گئے وہاں سے واپس آکر وضو کیا اور موزوں پر ہی مسح کرلیا میں نے عرض کیا یا رسول اللہ! شاید آپ بھول گئے کہ آپ نے موزے نہیں اتارے؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا قطعاً نہیں تم بھول گئے ہو مجھے تو میرے رب نے یہی حکم دیا ہے۔ [مسند احمد/أَوَّلُ مُسْنَدِ الْكُوفِيِّينَ/حدیث: 18220]
حکم دارالسلام
ضعيف بهذه السياقة، تفرد بها بكير، وهو ضعيف
الحكم: ضعيف بهذه السياقة، تفرد بها بكير، وهو ضعيف