بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بَقِیَّة حَدِیثِ زَیدِ بنِ خَالِد الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ ...
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 34
صفحہ 1 از 2
حدیث نمبر: 17029 مسند احمد
حَجَّاجٌ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، صَالِحٍ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا حَجَّاجٌ ، وَعُثْمَانُ بْنُ عُمَرَ ، قَالَا: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ ، قَالَ عُثْمَانُ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، وَنَنْصَرِفُ إِلَى السُّوقِ، وَلَوْ رَمَى أَحَدُنَا بِالنَّبْلِ قَالَ عُثْمَانُ: رَمَى بِنَبْلٍ لَأَبْصَرَ مَوَاقِعَهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے اور بازار آتے اس وقت اگر ہم میں سے کوئی شخص تیر پھینکتا تو وہ تیر گرنے کی جگہ کو بھی دیکھ سکتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17029]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17030 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، ويَعْلَى ، وَيَزِيدُ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا، ويَعْلَى ، قَالَ: حَدَّثَنَا، وَيَزِيدُ ، قَالَ: أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " لَا تَتَّخِذُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا، صَلُّوا فِيهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنایا کرو بلکہ ان میں نماز پڑھا کرو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17030]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عطاء لم يسمع زيد بن خالد
الحكم: صحيح لغيره ، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عطاء لم يسمع زيد بن خالد
حدیث نمبر: 17031 مسند احمد
ابْنُ نُمَيْرٍ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، وَيَزِيدُ ، يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ
حَدَّثَنَا ابْنُ نُمَيْرٍ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى . وَيَزِيدُ قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ سَعِيدٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ يَحْيَى ، عَنِ ابْنِ أَبِي عَمْرَةَ ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ، قَالَ يَزِيدُ: أَنَّ أَبَا عَمْرَةَ مَوْلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ، أَنَّهُ سَمِعَ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ يُحَدِّثُ، أَنَّ رَجُلًا مِنَ الْمُسْلِمِينَ تُوُفِّيَ بِخَيْبَرَ، وَأَنَّهُ ذُكِرَ لِرَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: " صَلُّوا عَلَى صَاحِبِكُمْ"، قَالَ: فَتَغَيَّرَتْ وُجُوهُ الْقَوْمِ لِذَلِكَ، فَلَمَّا رَأَى الَّذِي بِهِمْ، قَالَ:" إِنَّ صَاحِبَكُمْ غَلَّ فِي سَبِيلِ اللَّهِ"، فَفَتَّشْنَا مَتَاعَهُ، فَوَجَدْنَا فِيهِ خَرَزًا مِنْ خَرَزِ الْيَهُودِ مَا يُسَاوِي دِرْهَمَيْنِ .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ خیبر میں ایک مسلمان فوت ہو گیا، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے لوگوں نے اس کا ذکر کیا تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اپنے ساتھی کی نماز جنازہ تم خود ہی پڑھ لو، یہ سن کر لوگوں کے چہرے کا رنگ اڑ گیا (کیونکہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا اس طرح انکار فرمانا اس شخص کے حق میں اچھی علامت نہ تھی) نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے لوگوں کی کیفیت بھانپ کر فرمایا: تمہارے اس ساتھی نے اللہ کی راہ میں نکل کر بھی (مال غنیمت میں) خیانت کی ہے، ہم نے اس کے سامان کی تلاشی لی تو ہمیں اس میں سے ایک رسی ملی جس کی قیمت صرف دو درہم کے برابر تھی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17031]
حکم دارالسلام
إسناده محتمل للتحسين
الحكم: إسناده محتمل للتحسين
حدیث نمبر: 17032 مسند احمد
يَعْلَى ، وَمُحَمَّدٌ ، مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا يَعْلَى ، وَمُحَمَّدٌ ابنا عبيد قَالَا: حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ بْنِ عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ" وَقَالَ مُحَمَّدٌ: لَوْلَا أَنْ يُشَقَّ عَلَى أُمَّتِي لَأَخَّرْتُ صَلَاةَ الْعِشَاءِ إِلَى ثُلُثِ اللَّيْلِ، وَلَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر شفقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں نماز عشاء ایک تہائی رات تک مؤخر کر کے پڑھتا اور انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17032]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1895، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن
الحكم: حديث صحيح، م: 1895، وهذا إسناد ضعيف، محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن
حدیث نمبر: 17033 مسند احمد
يَعْلَى ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا يَعْلَى ، حَدَّثَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ فَطَّرَ صَائِمًا، كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ، إِلَّا أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْءٌ، وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ، كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِهِ إِلَّا أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْغَازِي شَيْءٌ" .، وَيَزِيدُ قَالَ: أَنْبَأَنَا، إِلَّا أَنَّهُ قَالَ:" مِنْ غَيْرِ أَنْ لَا يُنْتَقَصُ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرائے، اس کے لیے روزہ دار کے برابر اجر و ثواب لکھا جائے گا اور روزہ دار کے ثواب میں ذرا سی کمی بھی نہیں کی جائے گی، اور جو شخص کسی مجاہد کے لئے سامانِ جہاد مہیا کرے یا اس پیچھے اس کے اہلِ خانہ کی حفاظت کرے تو اس کے لئے مجاہد کے برابر اجر و ثواب لکھا جائے گا اور مجاہد کے ثواب میں ذرا سی کمی بھی نہیں کی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17033]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: «من فطر صائما» فحسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عطاء لم يسمع من زيد بن خالد
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: «من فطر صائما» فحسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عطاء لم يسمع من زيد بن خالد
حدیث نمبر: 17034 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، أَخْبَرَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: لَعَنَ رَجُلٌ دِيكًا صَاحَ عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَلْعَنْهُ، فَإِنَّهُ يَدْعُو إِلَى الصَّلَاةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی موجودگی میں ایک شخص نے ایک مرغے پر اس کے چیخنے کی وجہ سے لعنت کی، نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس پر لعنت نہ کرو، کیونکہ یہ نماز کی طرف بلاتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17034]
حکم دارالسلام
رجاله ثقات، وقد اختلف فى وصله وإرساله
الحكم: رجاله ثقات، وقد اختلف فى وصله وإرساله
حدیث نمبر: 17035 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، قَالَ: " صَلَّى بِنَا النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الصُّبْحَ بِالْحُدَيْبِيَةِ فِي أَثَرِ سَمَاءٍ" فَذَكَرَ الْحَدِيثَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
حضرت زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ہمیں حدیبیہ میں بارش کے اثرات میں نماز فجر پڑھائی۔۔۔۔ پھر راوی نے پوری حدیث ذکر کی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17035]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4147، م: 71
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4147، م: 71
حدیث نمبر: 17036 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، ابْنُ جُرَيْجٍ ، أَبَا سَعِيدٍ الْأَعْمَى ، السَّائِبُ ، حَجَّاجٌ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، وَابْنُ بَكْرٍ ، قَالَا: أَخْبَرَنَا ابْنُ جُرَيْجٍ ، قَالَ: سَمِعْتُ أَبَا سَعِيدٍ الْأَعْمَى يُخْبِرُ، عَنْ رَجُلٍ يُقَالُ لَهُ: السَّائِبُ مَوْلَى الْفَارِسِيِّينَ، وَقَالَ ابْنُ بَكْرٍ: مَوْلًى لِفَارِسَ، وَقَالَ حَجَّاجٌ : مَوْلَى الْفَارِسِيِّ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّهُ رَآهُ عُمَرُ بْنُ الْخَطَّابِ وَهُوَ خَلِيفَةٌ رَكَعَ بَعْدَ الْعَصْرِ رَكْعَتَيْنِ، فَمَشَى إِلَيْهِ، فَضَرَبَهُ بِالدِّرَّةِ وَهُوَ يُصَلِّي كَمَا هُوَ، فَلَمَّا انْصَرَفَ، قَالَ زَيْدٌ: يَا أَمِيرَ الْمُؤْمِنِينَ، فَوَاللَّهِ لَا أَدَعُهُمَا أَبَدًا بَعْدَ أَنْ رَأَيْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّيهِمَا، قَالَ: فَجَلَسَ إِلَيْهِ عُمَرُ، وَقَالَ: يَا زَيْدُ بْنَ خَالِدٍ، لَوْلَا أَنِّي أَخْشَى أَنْ يَتَّخِذَهَا النَّاسُ سُلَّمًا إِلَى الصَّلَاةِ حَتَّى اللَّيْلِ لَمْ أَضْرِبْ فِيهِمَا .
حکم دارالسلام
إسناده ضعيف لجهالة أبى سعيد الأعمى
الحكم: إسناده ضعيف لجهالة أبى سعيد الأعمى
حدیث نمبر: 17037 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ بْنِ خَالِدِ الْجُهَنِيِّ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ مُحَمَّدِ بْنِ عَقِيلِ بْنِ أَبِي طَالِبٍ ، عَنْ خَالِدِ بْنِ زَيْدٍ بْنِ خَالِدِ الْجُهَنِيِّ ، عَنْ أَبِيهِ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، أَنَّهُ سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، أَوْ أَنَّ رَجُلًا سَأَلَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ رَاعِي الْغَنَمِ؟ قَالَ:" هِيَ لَكَ أَوْ لِلذِّئْبِ" . قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي ضَالَّةِ رَاعِي الْإِبِلِ؟ قَالَ: " وَمَا لَكَ وَلَهَا، مَعَهَا سِقَاؤُهَا، وَحِذَاؤُهَا، وَتَأْكُلُ مِنْ أَطْرَافِ الشَّجَرِ" . قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَقُولُ فِي الْوَرِقِ إِذَا وَجَدْتُهَا؟ قَالَ: " اعْلَمْ وِعَاءَهَا، وَوِكَاءَهَا، وَعَدَدَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ جَاءَ صَاحِبُهَا فَادْفَعْهَا إِلَيْهِ، وَإِلَّا فَهِيَ لَكَ، أَوْ اسْتَمْتِعْ بِهَا" ، أَوْ نَحْوَ هَذَا.
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن زيد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لجهالة خالد بن زيد
حدیث نمبر: 17038 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أن رجلا جاء إلى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا عَلَى هَذَا، فَزَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَأَخْبَرُونِي، أَنَّ عَلَى ابْنِي الرَّجْمَ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِوَلِيدَةٍ، وَبِماِئَةِ شَاةٍ، ثُمَّ أَخْبَرَنِي أَهْلُ الْعِلْمِ أَنَّ عَلَى ابْنِي جَلْدَ مِائَةٍ، وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَأَنَّ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ، حَسِبْتُ أَنَّهُ قَالَ: فَاقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ، أَمَّا الْغَنَمُ وَالْوَلِيدَةُ فَرَدٌّ عَلَيْكَ، وَأَمَّا ابْنُكَ، فَعَلَيْهِ جَلْدُ مِئَةٍ، وَتَغْرِيبُ عَامٍ"، ثُمَّ قَالَ لِرَجُلٍ مِنْ أَسْلَمَ: يُقَالُ لَهُ: أُنَيْسٌ:" قُمْ يَا أُنَيْسُ فَاسْأَلْ امْرَأَةَ هَذَا، فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک آدمی نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس حاضر ہوا اور کہنے لگا کہ میرا بیٹا اس شخص کے ہاں مزدور تھا، اس نے اس کی بیوی سے بدکاری کی، لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو رجم کیا جائے گا، میں نے اس کے فدیے میں ایک لونڈی اور سو بکریاں پیش کر دیں، پھر مجھے اہل علم نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں، ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے، اس کی بیوی کو رجم کیا جائے، اب آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کر دیجئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضے میں میری جان ہے، میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کروں گا، وہ لونڈی اور بکریاں تجھے واپس دے دی جائیں گی، تمہارے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں گے اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے گا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک آدمیانیس سے فرمایا: انیس اٹھو اور اس شخص کی بیوی سے جا کر پوچھو، اگر وہ اعتراف جرم کر لے تو اسے رجم کر دو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17038]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2314، م: 1697
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2314، م: 1697
حدیث نمبر: 17039 مسند احمد
مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا مُعَاوِيَةُ بْنُ عَمْرٍو ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو بْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بُكَيْرِ بْنِ الْأَشَجِّ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ فَقَدْ غَزَا، وَمَنْ خَلَفَهُ فَقَدْ غَزَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مجاہد کے لئے سامان جہاد مہیا کرے گا یا اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ کی حفاظت کرے گا تو اس کے لئے مجاہد کے برابر اجر و ثواب لکھا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17039]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1895
الحكم: إسناده صحيح، م: 1895
حدیث نمبر: 17040 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، مَالِكٌ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ عِيسَى ، أَنْبَأَنَا مَالِكٌ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ أَبِي بَكْرٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي عَمْرَةَ الْأَنْصَارِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، إِنْ شَاءَ اللَّهُ قَالَهَ إِسْحَاقُ، قَالَ: إِنَّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشُّهَدَاءِ؟ الَّذِي يَأْتِي بِالشَّهَادَةِ قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں بہترین گواہوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ جو (حق پر) گواہی کی درخواست سے پہلے گواہی دینے کے لئے تیار ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17040]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، م: 1719، وهذا إسناد اختلف فيه على مالك
الحكم: حديث صحيح، م: 1719، وهذا إسناد اختلف فيه على مالك
حدیث نمبر: 17041 مسند احمد
ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ ، أَبِي ، سُفْيَانَ ، صَالِحٍ ، زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا ابْنُ الْأَشْجَعِيِّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا أَبِي ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، قَالَ: سَمِعْتُ زَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: كُنْتُ أُصَلِّي مَعَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ أَخْرُجُ إِلَى السُّوقِ، فَلَوْ أَرْمِي لَأَبْصَرْتُ مَوَاقِعَ نَبْلِي .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتا اور بازار آتا، اس وقت اگر میں تیر پھینکتا تو تیر گرنے کی جگہ بھی دیکھ سکتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17041]
حکم دارالسلام
حديث صحيح ، صالح مولى التوأمة مختلط ، ورواية سفيان الثوري عنه بعد اختلاطه، لكنه توبع
الحكم: حديث صحيح ، صالح مولى التوأمة مختلط ، ورواية سفيان الثوري عنه بعد اختلاطه، لكنه توبع
حدیث نمبر: 17042 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ ، وَشَبْلًا
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، قَالَ: أَخْبَرَنِي عُبَيْدُ اللَّهِ بْنُ عَبْدِ اللَّهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ أَبَا هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدَ بْنَ خَالِدٍ الْجُهَنِيَّ ، وَشَبْلًا ، قَالَ سُفْيَانُ: قَالَ بَعْضُ النَّاسِ: ابْنَ مَعْبَدٍ، وَالَّذِي حَفِظْتُ شِبْلًا، قَالُوا: كُنَّا عِنْدَ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، فَقَامَ رَجُلٌ، فَقَالَ: أَنْشُدُكَ اللَّهَ إِلَّا قَضَيْتَ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ، فَقَامَ خَصْمُهُ وَكَانَ أَفْقَهَ مِنْهُ، فَقَالَ: صَدَقَ، اقْضِ بَيْنَنَا بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، وَأْذَنْ لِي فَأَتَكَلَّمَ، قَالَ:" قُلْ"، قَالَ: إِنَّ ابْنِي كَانَ عَسِيفًا، عَلَى هَذَا، وَإِنَّهُ زَنَى بِامْرَأَتِهِ، فَافْتَدَيْتُ مِنْهُ بِمِئَةِ شَاةٍ، وَخَادِمٍ، ثُمَّ سَأَلْتُ رِجَالًا مِنْ أَهْلِ الْعِلْمِ، فَأَخْبَرُونِي، أَنَّ عَلَى ابْنِي، جَلْدَ مِئَةٍ، وَتَغْرِيبَ عَامٍ، وَعَلَى امْرَأَةِ هَذَا الرَّجْمَ، فَقَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ:" وَالَّذِي نَفْسِي بِيَدِهِ لَأَقْضِيَنَّ بَيْنَكُمَا بِكِتَابِ اللَّهِ عَزَّ وَجَلَّ، الْمِئَةُ شَاةٍ وَالْخَادِمُ رَدٌّ عَلَيْكَ، وَعَلَى ابْنِكَ جَلْدُ مِئَةٍ، وَتَغْرِيبُ عَامٍ، وَاغْدُ يَا أُنَيْسُ رَجُلٌ مِنْ أَسْلَمَ عَلَى امْرَأَةِ هَذَا، فَإِنْ اعْتَرَفَتْ فَارْجُمْهَا"، فَغَدَا عَلَيْهَا، فَاعْتَرَفَتْ، فَرَجَمَهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور زید بن خالد رضی اللہ عنہ اور شبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ ہم لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی خدمت میں حاضر تھے کہ ایک آدمی کھڑا ہوا اور کہنے لگا کہ میں آپ کو قسم دیتا ہوں کہ ہمارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کیجئے، اس کا فریق مخالف کھڑا ہوا،، جو اس سے زیادہ سمجھدار تھا، اور کہنے لگا یہ صحیح کہتا ہے ہمارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کر دیجئے اور مجھے بات کرنے کی اجازت دیجئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کہو، وہ اور کہنے لگا کہ میرا بیٹا اس شخص کے یہاں مزدور تھا اس نے اس کی بیوی سے بدکاری کی، لوگوں نے مجھے بتایا کہ میرے بیٹے کو رجم کیا جائے گا، میں نے اس کے فدیے میں ایک لونڈی اور سو بکریاں پیش کر دیں، پھر مجھے اہل علم نے بتایا کہ میرے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں، ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے اور اس شخص کی بیوی کو رجم کیا جائے (اب آپ ہمارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کر دیجئے) نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے میں تمہارے درمیان کتاب اللہ کی روشنی میں فیصلہ کروں گا، بکریاں اور لونڈی تمہیں واپس دے دی جائیں گی تمہارے بیٹے کو سو کوڑے مارے جائیں گے اور ایک سال کے لئے جلا وطن کیا جائے گا، پھر نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے قبیلہ اسلم کے ایک آدمی انیس سے فرمایا: انیس اٹھو اور اس شخص کی بیوی سے جا کر پوچھو، اگر وہ اعتراف جرم کر لے تو اسے رجم کر دو چنانچہ وہ اس کے پاس پہنچے تو اس نے اعتراف جرم کر لیا اور انہوں نے اسے رجم کر دیا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17042]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2314، م: 1697 على وهم فى إسناده
الحكم: حديث صحيح، خ: 2314، م: 1697 على وهم فى إسناده
حدیث نمبر: 17043 مسند احمد
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، وَشَبْلٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، وَشَبْلٍ ، قَالُوا: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَمَةِ تَزْنِي قَبْلَ أَنْ تُحْصَنَ، قَالَ: " اجْلِدُوهَا فَإِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، زید بن خالد رضی اللہ عنہ اور شبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس باندی کے متعلق پوچھا، جو شادی شدہ ہونے سے پہلے بدکاری کا ارتکا ب کرے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اسے کوڑے مارو، اگر دوبارہ کرے تو پھر کوڑے مارو، اگر چوتھی مرتبہ پھر ایسا کرے تو اسے بیچ دو خواہ ایک رسی کے عوض ہی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17043]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2555، م: 1704 على وهم فى إسناده، وهم سفيان بن عيينة ، وأن شبلاً ليست له صحبة
الحكم: حديث صحيح، خ: 2555، م: 1704 على وهم فى إسناده، وهم سفيان بن عيينة ، وأن شبلاً ليست له صحبة
حدیث نمبر: 17044 مسند احمد
إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَطَاءٍ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْحَاقُ بْنُ يُوسُفَ ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ الْمَلِكِ ، عَنْ عَطَاءٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَا تَتَّخِذُوا بُيُوتَكُمْ قُبُورًا صَلُّوا فِيهَا . وَمَنْ فَطَّرَ صَائِمًا، كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الصَّائِمِ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الصَّائِمِ شَيْءٌ . وَمَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، أَوْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ، كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ الْغَازِي فِي أَنَّهُ لَا يَنْقُصُ مِنْ أَجْرِ الْغَازِي شَيْءٌ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اپنے گھروں کو قبرستان نہ بنایا کرو، بلکہ ان میں نماز پڑھا کرو اور جو شخص کسی روزہ دار کو روزہ افطار کرائے، اس کے لیے روزہ دار کے برابر اجر و ثواب لکھا جائے گا اور روزہ دار کے ثواب میں ذرا سی کمی بھی نہیں کی جائے گی، اور جو شخص کسی مجاہد کے لیے سامان جہاد مہیا کرے یا اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ کی حفاظت کرے تو اس کے لیے مجاہد کے برابر اجر و ثواب لکھا جائے گا اور مجاہد کے ثواب میں ذرا سی کمی بھی نہیں کی جائے گی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17044]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره دون قوله: «من فطر صائما» ، فحسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عطاء لم يسمع من زيد بن خالد
الحكم: صحيح لغيره دون قوله: «من فطر صائما» ، فحسن بشواهده، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه، عطاء لم يسمع من زيد بن خالد
حدیث نمبر: 17045 مسند احمد
رَوْحٌ ، حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا رَوْحٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حُسَيْنٌ الْمُعَلِّمُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنَّ نَبِيَّ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا فِي سَبِيلِ اللَّهِ، فَقَدْ غَزَا، وَمَنْ خَلَفَ غَازِيًا فِي أَهْلِهِ بِخَيْرٍ فَقَدْ غَزَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مجاہد کے لیے سامان جہاد مہیا کرے یا اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ کی حفاظت کرے اس کے لیے مجاہد کے برابر اجر و ثواب لکھا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17045]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2843، م: 1895
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2843، م: 1895
حدیث نمبر: 17046 مسند احمد
أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، أَبِي النَّضْرِ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو بَكْرٍ الْحَنَفِيُّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا الضَّحَّاكُ بْنُ عُثْمَانَ ، عَنْ أَبِي النَّضْرِ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: سُئِلَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ اللُّقَطَةِ؟ فَقَالَ: " عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ اعْتُرِفَتْ فَأَدِّهَا، وَإِلَّا فَاعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا وَعَدَدَهَا، وَإِلَّا فَكُلْهَا، فَإِنْ اعْتُرِفَتْ فَأَدِّهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ کسی آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر مجھے گری پڑی کسی تھیلی میں چاندی مل جائے تو آپ کیا فرماتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کا ظرف، اس کا بندھن اور اس کی تعداد اچھی طرح محفوظ کر کے ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس دوران اس کا مالک آ جائے تو اس کے حوالے کر دو، ورنہ وہ تمہاری ہو گئی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17046]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، م: 1722
الحكم: إسناده صحيح، م: 1722
حدیث نمبر: 17047 مسند احمد
صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ ، أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا صَفْوَانُ بْنُ عِيسَى ، قَالَ: أَخْبَرَنَا مُحَمَّدُ بْنُ عُمَارَةَ ، عَنْ أَبِي بَكْرِ بْنِ مُحَمَّدٍ ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " أَلَا أُخْبِرُكُمْ بِخَيْرِ الشَّهَادَةِ؟ الَّذِينَ يَبْدَؤُونَ بِشَهَادَتِهِمْ مِنْ غَيْرِ أَنْ يُسْأَلُوا عَنْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: کیا میں تمہیں بہترین گواہوں کے بارے نہ بتاؤں؟ وہ جو (حق پر) گواہی کی درخواست سے پہلے گواہی دینے کے لئے تیار ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17047]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، فبين عبدالله بن عمرو و زيد بن خالد عبدالرحمن بن أبى عمرة
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد منقطع، فبين عبدالله بن عمرو و زيد بن خالد عبدالرحمن بن أبى عمرة
حدیث نمبر: 17048 مسند احمد
عَبْدُ الصَّمَدِ ، حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، يَحْيَى ، أَبُو سَلَمَةَ ، مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، أَبِي سَلَمَةَ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الصَّمَدِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا حَرْبٌ يَعْنِي ابْنَ شَدَّادٍ ، عَنْ يَحْيَى ، حَدَّثَنَا أَبُو سَلَمَةَ . ح وَحَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ فُضَيْلٍ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ إِبْرَاهِيمَ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " لَوْلَا أَنْ أَشُقَّ عَلَى أُمَّتِي، لَأَمَرْتُهُمْ بِالسِّوَاكِ عِنْدَ كُلِّ صَلَاةٍ" ، قَالَ: فَكَانَ زَيْدُ بْنُ خَالِدٍ يَضَعُ السِّوَاكَ مِنْهُ مَوْضِعَ الْقَلَمِ مِنْ أُذُنِ الْكَاتِبِ، كُلَّمَا قَامَ إِلَى الصَّلَاةِ اسْتَاكَ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہیں کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: اگر مجھے اپنی امت پر مشقت کا اندیشہ نہ ہوتا تو میں انہیں ہر نماز کے وقت مسواک کرنے کا حکم دیتا، اسی وجہ سے سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ مسواک کو اسی طرح اپنے کان پر رکھتے تھے جیسے کاتب قلم رکھتا ہے اور جب نماز کے لئے کھڑے ہوتے تو مسواک کرتے تھے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17048]
حکم دارالسلام
هذا الحديث له إسنادان، أحدهما صحيح، وفي الثاني: محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن، وفيه زيادة قول أبى سلمة: «فكان زيد بن خالد . . . . . . » وهى زيادة ضعيفة، تفرد بها ابن إسحاق
الحكم: هذا الحديث له إسنادان، أحدهما صحيح، وفي الثاني: محمد بن إسحاق مدلس، وقد عنعن، وفيه زيادة قول أبى سلمة: «فكان زيد بن خالد . . . . . . » وهى زيادة ضعيفة، تفرد بها ابن إسحاق