بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
بَقِیَّة حَدِیثِ زَیدِ بنِ خَالِد الجهَنِیِّ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّى اللَّه عَلَیهِ وَسَلَّمَ ...
Musnad Ahmad
کتب مسند احمد ابواب باب
ماخذ: islamicurdubooks.com پر اس باب کا اصل صفحہ ↗
کل احادیث: 34
صفحہ 2 از 2
حدیث نمبر: 17049 مسند احمد
سُفْيَانُ ، صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، حَدَّثَنَا صَالِحُ بْنُ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، مُطِرَ النَّاسُ عَلَى عَهْدِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ ذَاتَ لَيْلَةٍ، فَلَمَّا أَصْبَحُ، قَالَ:" أَلَمْ تَسْمَعُوا مَا قَالَ رَبُّكُمْ عَزَّ وَجَلَّ اللَّيْلَةَ؟"، قَالَ: " مَا أَنْعَمْتُ عَلَى عِبَادِي نِعْمَةً إِلَّا أَصْبَحَ بِهَا قَوْمٌ كَافِرِينَ بِالَّذِي آمَنَ بِي" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ رات کے وقت بارش ہوئی، جب صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا تم لوگوں نے سنا نہیں کہ تمہارے پروردگار نے آج رات کیا فرمایا؟ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں اپنے بندوں پر جب بھی کوئی نعمت اتارتا ہوں تو ان میں سے ایک گروہ اس کی ناشکری کرنے لگتا ہے اور کہتا ہے کہ فلاں فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے، لہٰذا جو شخص مجھ پر ایمان لائے، میرے پانی پلانے پر میری تعریف کرے تو وہ مجھ پر ایمان رکھتا ہے ستاروں کا انکار کرتا ہے اور جو یہ کہتا کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے تو وہ ستارے پر ایمان رکھتا ہے اور میرے ساتھ کفر کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17049]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 7503، م: 71
الحكم: إسناده صحيح، خ: 7503، م: 71
حدیث نمبر: 17050 مسند احمد
سُفْيَانُ ، يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، يَزِيدَ ، رَبِيعَةُ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، رَبِيعَةَ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ يَحْيَى بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ يَزِيدَ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، قَالَ يَحْيَى: أَخْبَرَنِي رَبِيعَةُ أَنَّهُ قَالَ: عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، فَسَأَلْتُ رَبِيعَةَ، فَقَالَ: أَخْبَرَنِيهِ عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنْ ضَالَّةِ الْإِبِلِ؟ فَغَضِبَ، وَاحْمَرَّتْ وَجْنَتَاهُ، وَقَالَ: " مَا لَكَ وَلَهَا، مَعَهَا الْحِذَاءُ وَالسِّقَاءُ، تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ، حَتَّى يَجِيءَ رَبَّهَا . وَسُئِلَ عَنْ ضَالَّةِ الْغَنَمِ؟ فَقَالَ: " خُذْهَا فَإِنَّمَا هِيَ لَكَ، أَوْ لِأَخِيكَ، أَوْ لِلذِّئْبِ" . وَسُئِلَ عَنِ اللُّقَطَةِ؟ فَقَالَ: " اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، ثُمَّ عَرِّفْهَا سَنَةً، فَإِنْ اعْتُرِفَتْ، وَإِلَّا فَاخْلِطْهَا بِمَالِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خود یا کسی اور آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گمشدہ بکری کا حکم پوچھا: تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے پکڑ لو گے یا بھیڑیا لے جائے گا، سائل نے پوچھا: یا رسول اللہ! گمشدہ اونٹ ملے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انتہائی ناراض ہوئے، حتیٰ کہ رخسار مبارک سرخ ہو گئے اور فرمایا: تمہارا اس کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے پاس اس کا مشکیزہ اور جوتے ہیں اور وہ درختوں کے پتے کھا سکتا ہے، پھر سائل نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر مجھے کسی تھیلی میں چاندی مل جائے تو آپ کیا فرماتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کا ظرف، اس کا بندھن اور اس کی تعداد اچھی طرح محفوظ کر کے ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس دوران اس کا مالک آ جائے تو اس کے حوالے کر دو، ورنہ وہ تمہاری ہو گئی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17050]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2372، م: 1722
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2372، م: 1722
حدیث نمبر: 17051 مسند احمد
سُفْيَانُ ، سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَبُو جُهَيْمٍ ابْنُ أُخْتِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، إِلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَسْأَلُهُ مَا سَمِعَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَأَنْ يَقُومَ أَرْبَعِينَ لَا أَدْرِي مِنْ يَوْمٍ أَوْ شَهْرٍ أَوْ سَنَةٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا بسر بن سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بھانجے ابوجہیم نے سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ کے پاس وہ حدیث پوچھنے کے لیے بھیجا جو انہوں نے نمازی کے آگے سے گزرنے والے شخص کے متعلق سن رکھی تھی، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان کے لیے نمازی کے آگے سے گزرنے کی نسبت زیادہ بہتر ہے کہ وہ چالیس۔۔۔۔۔ تک کھڑا رہے، یہ مجھے یاد نہیں رہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دن فرمایا، مہینے یا سال فرمایا؟ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17051]
حکم دارالسلام
حديث صحيح على قلب فى إسناده، روى ابن عيينة هذا الحديث مقلوباً عن أبى النضر، عن بسر بن سعيد، جعل فى موضع زيد ابن خالد أبا جهيم، وفي موضع أبى جهيم زيد بن خالد
الحكم: حديث صحيح على قلب فى إسناده، روى ابن عيينة هذا الحديث مقلوباً عن أبى النضر، عن بسر بن سعيد، جعل فى موضع زيد ابن خالد أبا جهيم، وفي موضع أبى جهيم زيد بن خالد
حدیث نمبر: 17052 مسند احمد
هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، مَوْلَى ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَبِيهِ
حَدَّثَنَا هَاشِمُ بْنُ الْقَاسِمِ ، عَنِ ابْنِ أَبِي ذِئْبٍ ، قَالَ: حَدَّثَنِي مَوْلَى الْجُهَيْنَةَ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ يُحَدِّثُ، عَنْ أَبِيهِ ، أَنَّهُ سَمِعَ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ " نَهَى عَنِ النُّهْبَةِ وَالْخُلْسَةِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ انہوں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو لوٹ مار کرنے اور اچکے پن سے منع فرمایا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17052]
حکم دارالسلام
حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن زيد، ولإبهام الراوي عنه
الحكم: حسن لغيره، وهذا إسناد ضعيف لجهالة عبدالرحمن بن زيد، ولإبهام الراوي عنه
حدیث نمبر: 17053 مسند احمد
أَبُو النَّضْرِ ، ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، صَالِحٍ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو النَّضْرِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ أَبِي ذِئْبٍ ، عَنْ صَالِحٍ مَوْلَى التَّوْءَمَةِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: كُنَّا نُصَلِّي مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ الْمَغْرِبَ، ثُمَّ نَنْصَرِفُ إِلَى السُّوقِ، وَلَوْ رُمِيَ بِنَبْلٍ لَأَبْصَرْتُ مَوَاقِعَهَا .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ہم لوگ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ مغرب کی نماز پڑھتے اور بازار آتے، اس وقت اگر ہم میں سے کوئی شخص تیر پھینکتا تو وہ تیر گرنے کی جکہ کو بھی دیکھ سکتا تھا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17053]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد حسن
حدیث نمبر: 17054 مسند احمد
أَبُو عَامِرٍ ، هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ ، عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا أَبُو عَامِرٍ ، حَدَّثَنَا هِشَامٌ يَعْنِي ابْنَ سَعْدٍ ، عَنْ زَيْدٍ يَعْنِي ابْنَ أَسْلَمَ ، عَنْ عَطَاءِ بْنِ يَسَارٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قَالَ: " مَنْ تَوَضَّأَ فَأَحْسَنَ وُضُوءَهُ ثُمَّ صَلَّى رَكْعَتَيْنِ لَا يَسْهُو فِيهِمَا، غَفَرَ اللَّهُ لَهُ مَا تَقَدَّمَ مِنْ ذَنْبِهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص وضو کرے اور اچھی طرح کرے، پھر دو رکعتیں اس طرح پڑھے کہ اس میں غفلت نہ کرے، تو اللّٰہ اس کے پچھلے سارے گناہوں کو معاف فرما دے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17054]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف هشام بن سعد
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف هشام بن سعد
حدیث نمبر: 17055 مسند احمد
يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، ابْنُ لَهِيعَةَ ، بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، سُرَيْجٌ هُوَ ابْنُ النُّعْمَانِ ، ابْنُ وَهْبٍ ، عَمْرِو ابْنِ الْحَارِثِ ، بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا يَحْيَى بْنُ إِسْحَاقَ ، أَنْبَأَنَا ابْنُ لَهِيعَةَ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، حَدَّثَنَا سُرَيْجٌ هُوَ ابْنُ النُّعْمَانِ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ وَهْبٍ ، عَنْ عَمْرِو ابْنِ الْحَارِثِ ، عَنْ بَكْرِ بْنِ سَوَادَةَ ، عَنْ أَبِي سَالِمٍ الْجَيْشَانِيِّ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ آوَى ضَالَّةً، فَهُوَ ضَالٌّ مَا لَمْ يُعَرِّفْهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: جو شخص کسی بھٹکے ہوئے جانور کو پکڑ لے، وہ گمراہ ہے جب تک کہ اس کی تشہیر نہ کرے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17055]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح م: 1725
الحكم: إسناده صحيح م: 1725
حدیث نمبر: 17056 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، عَلِيُّ بْنُ مُبَارَكٍ الْهُنَائِيُّ بَصْرِيٌّ ، يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، أَبِي سَلَمَةَ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ مُبَارَكٍ الْهُنَائِيُّ بَصْرِيٌّ ثِقَةٌ، عَنْ يَحْيَى بْنِ أَبِي كَثِيرٍ ، عَنْ أَبِي سَلَمَةَ ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ جَهَّزَ غَازِيًا، فَقَدْ غَزَا، وَمَنْ خَلَفَهُ فِي أَهْلِهِ، فَقَدْ غَزَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے ارشاد فرمایا: جو شخص کسی مجاہد کے لئے سامان جہاد مہیا کرے گا یا اس کے پیچھے اس کے اہل خانہ کی حفاظت کرے، تو اس کے لئے مجاہد کے برابر اجر و ثواب لکھا جائے گا۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17056]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2153، م: 1704
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2153، م: 1704
حدیث نمبر: 17057 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، مَالِكٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ مَهْدِيٍّ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، أَنّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، سُئِلَ عَنِ الْأَمَةِ تَزْنِي وَلَمْ تُحْصَنْ؟ قَالَ: " اجْلِدْهَا فَإِنْ زَنَتْ فَاجْلِدْهَا"، فَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ، أَوْ فِي الرَّابِعَةِ:" فَإِنْ زَنَتْ فَبِعْهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ" وَالضَّفِيرُ: الْحَبْلُ..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے کسی شخص نے اس باندی کے متعلق پوچھا جو شادی شدہ ہونے پہلے بدکاری کا ارتکاب کرے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا کہ اسے کوڑے مارو اگر دوبارہ کرے تو پھر کوڑے مارو اور اگر چوتھی بار ایسا کرے تو اس کو بیچ دو خواہ ایک رسی کے عوض ہی ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17057]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2555، م: 1704
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2555، م: 1704
حدیث نمبر: 17058 مسند احمد
مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، مَعْمَرٌ ، ابْنُ شِهَابٍ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ
حَدَّثَنَا مُحَمَّدُ بْنُ جَعْفَرٍ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، قَالَ: حَدَّثَنَا ابْنُ شِهَابٍ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، الْمَعْنَى..
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17058]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2555، م: 1704
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2555، م: 1704
حدیث نمبر: 17059 مسند احمد
عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، مَعْمَرٌ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّزَّاقِ ، حَدَّثَنَا مَعْمَرٌ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عُتْبَةَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، وَأَبِي هُرَيْرَةَ ، قَالَا: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَمَةِ؟ فَذَكَرَ الْحَدِيثَ، وَقَالَ فِي الثَّالِثَةِ، أَوْ الرَّابِعَةِ: الزُّهْرِيُّ شَكَّ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
گزشتہ حدیث اس دوسری سند سے بھی مروی ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17059]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2555، م: 1704
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2555، م: 1704
حدیث نمبر: 17060 مسند احمد
عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، سُفْيَانَ ، رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، يَزِيدُ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ ، عَنْ سُفْيَانَ ، عَنْ رَبِيعَةَ بْنِ أَبِي عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، قَالَ: حَدَّثَنِي يَزِيدُ مَوْلَى الْمُنْبَعِثِ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: جَاءَ أَعْرَابِيٌّ إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ بِلُقَطَةٍ، فَقَالَ: " عَرِّفْهَا سَنَةً، ثُمَّ اعْرِفْ عِفَاصَهَا وَوِكَاءَهَا، فَإِنْ جَاءَ أَحَدٌ يُخْبِرُكَ بِهَا، وَإِلَّا فَاسْتَنْفِقْهَا" . قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، فَضَالَّةُ الْغَنَمِ؟ قَالَ: " لَكَ، أَوْ لِأَخِيكَ، أَوْ لِلذِّئْبِ" . قَالَ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، ضَالَّةُ الْإِبِلِ؟ قَالَ: فَتَغَيَّرَ وَجْهُ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، ثُمَّ قَالَ: " مَا لَكَ وَلَهَا؟ مَعَهَا حِذَاؤُهَا وَسِقَاؤُهَا، تَرِدُ الْمَاءَ، وَتَأْكُلُ الشَّجَرَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ انہوں نے خود یا کسی اور آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے گمشدہ بکری کا حکم پوچھا: تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: تم اسے پکڑ لو گے یا بھیڑیا لے جاۓ گا، سائل نے پوچھا: یا رسول اللہ! گمشدہ اونٹ ملے تو کیا حکم ہے؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم انتہائی ناراض ہوئے، حتیٰ کہ رخسار مبارک سرخ ہو گئے اور فرمایا: تمہارا اس کے ساتھ کیا تعلق؟ اس کے پاس مشکیزہ اور جوتے ہیں اور وہ درختوں کے پتے کھا سکتا ہے، پھر سائل نے پوچھا: یا رسول اللہ! اگر مجھے کسی تھیلی میں چاندی مل جائے تو آپ کیا فرماتے ہیں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: اس کا ظرف، اس کا بندھن اور اس کی تعداد اچھی طرح محفوظ کر کے ایک سال تک اس کی تشہیر کرو، اگر اس دوران اس کا مالک آ جاۓ تو اس کے حوالے کر دو، ورنہ وہ تمہاری ہو گئی۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17060]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 2427، م: 1722
الحكم: إسناده صحيح، خ: 2427، م: 1722
حدیث نمبر: 17061 مسند احمد
عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، إِسْحَاقُ ، مَالِكٌ ، صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
قَرَأْتُ عَلَى قَرَأْتُ عَلَى عَبْدِ الرَّحْمَنِ ، مَالِكٌ ، قَالَ أَبِي: وحَدَّثَنَا إِسْحَاقُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا مَالِكٌ ، عَنْ صَالِحِ بْنِ كَيْسَانَ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: صَلَّى لَنَا رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ صَلَاةَ الصُّبْحِ بِالْحُدَيْبِيَةِ عَلَى إِثَرِ سَمَاءٍ كَانَتْ مِنَ اللَّيْلِ، فَلَمَّا انْصَرَفَ أَقْبَلَ عَلَى النَّاسِ، قَالَ: " هَلْ تَدْرُونَ مَاذَا قَالَ رَبُّكُمْ؟" قَالُوا: اللَّهُ وَرَسُولُهُ أَعْلَمُ، قَالَ:" أَصْبَحَ مِنْ عِبَادِي مُؤْمِنٌ بِي قَالَ إِسْحَاقُ، كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ وَمُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ كَافِرٌ بِي، فَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِفَضْلِ اللَّهِ وَبِرَحْمَتِهِ فَذَلِكَ مُؤْمِنٌ بِي كَافِرٌ بِالْكَوْكَبِ، وَأَمَّا مَنْ قَالَ مُطِرْنَا بِنَوْءِ كَذَا وَكَذَا، فَذَلِكَ كَافِرٌ بِي مُؤْمِنٌ بِالْكَوْكَبِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ حدیبیہ میں نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے دور باسعادت میں ایک مرتبہ رات کے وقت بارش ہوئی، جب صبح ہوئی تو نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے نماز پڑھا کر لوگوں کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: کیا تم لوگوں نے سنا نہیں کہ تمہارے پروردگار نے آج رات کیا فرمایا؟ انہوں نے عرض کیا، اللہ اور اس کا رسول زیادہ جانتے ہیں، فرمایا: اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میرے بندوں میں سے کچھ لوگ صبح کے وقت مؤمن (اور ستاروں کے منکر، جبکہ لوگ ستاروں پر مؤمن) اور میرے منکر ہوتے ہیں، جو شخص یہ کہتا ہے کہ اللہ کے فضل و کرم سے ہم پر بارش ہوئی ہے تو وہ مجھ پر ایمان رکھتا اور ستاروں کا انکار کرتا ہے، اور جو یہ کہتا ہے کہ فلاں ستارے کی وجہ سے ہم پر بارش ہوئی ہے وہ تو ستارے پر ایمان رکھتا ہے اور میرے ساتھ کفر کرتا ہے۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17061]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 846، م: 71
الحكم: إسناده صحيح، خ: 846، م: 71
حدیث نمبر: 17062 مسند احمد
إِسْمَاعِيلُ ، عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، أَبِيهِ ، عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ
حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيلُ ، قَالَ: حَدَّثَنَا عَبْدُ الرَّحْمَنِ بْنُ إِسْحَاقَ ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ أَبِي بَكْرِ بْنِ حَزْمٍ ، عَنْ أَبِيهِ ، عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ عَمْرِو بْنِ عُثْمَانَ ، عَنْ زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ الْجُهَنِيِّ ، قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " خَيْرُ الشَّهَادَةِ مَنْ شَهِدَ بِهَا صَاحِبُهَا قَبْلَ أَنْ يُسْأَلَهَا" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: کیا میں بہترین گواہوں کے بارے میں نہ بتاؤں؟ وہ جو (حق پر) گواہی کی درخواست سے پہلے گواہی دینے کے لیے تیار ہو۔ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17062]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه على وهم فيه، فقول عبدالرحمن بن إسحاق: «عن محمد بن أبى بكر وعبدالرحمن بن عمرو» وهم، والصواب: عبدالله بن أبى بكر، وعبدالله بن عمرو وأسقط عبدالرحمن بن إسحاق الواسطة بين عبدالله بن عمرو و زيد بن خالد
الحكم: حديث صحيح، وهذا إسناد ضعيف لانقطاعه على وهم فيه، فقول عبدالرحمن بن إسحاق: «عن محمد بن أبى بكر وعبدالرحمن بن عمرو» وهم، والصواب: عبدالله بن أبى بكر، وعبدالله بن عمرو وأسقط عبدالرحمن بن إسحاق الواسطة بي