سُفْيَانُ ، سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ ، بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنْ سَالِمٍ أَبِي النَّضْرِ مَوْلَى عُمَرَ بْنِ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ مَعْمَرٍ، عَنْ بُسْرِ بْنِ سَعِيدٍ ، قَالَ: أَرْسَلَنِي أَبُو جُهَيْمٍ ابْنُ أُخْتِ أُبَيِّ بْنِ كَعْبٍ، إِلَى زَيْدِ بْنِ خَالِدٍ أَسْأَلُهُ مَا سَمِعَ فِي الْمَارِّ بَيْنَ يَدَيْ الْمُصَلِّي، قَالَ: سَمِعْتُ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، يَقُولُ: " لَأَنْ يَقُومَ أَرْبَعِينَ لَا أَدْرِي مِنْ يَوْمٍ أَوْ شَهْرٍ أَوْ سَنَةٍ خَيْرٌ لَهُ مِنْ أَنْ يَمُرَّ بَيْنَ يَدَيْهِ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا بسر بن سعید رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ ایک مرتبہ مجھے سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ کے بھانجے ابوجہیم نے سیدنا زید بن خالد رضی اللہ عنہ کے پاس وہ حدیث پوچھنے کے لیے بھیجا جو انہوں نے نمازی کے آگے سے گزرنے والے شخص کے متعلق سن رکھی تھی، انہوں نے فرمایا: میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو یہ فرماتے ہوئے سنا ہے کہ انسان کے لیے نمازی کے آگے سے گزرنے کی نسبت زیادہ بہتر ہے کہ وہ چالیس۔۔۔۔۔ تک کھڑا رہے، یہ مجھے یاد نہیں رہا کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے دن فرمایا، مہینے یا سال فرمایا؟ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17051]
حکم دارالسلام
حديث صحيح على قلب فى إسناده، روى ابن عيينة هذا الحديث مقلوباً عن أبى النضر، عن بسر بن سعيد، جعل فى موضع زيد ابن خالد أبا جهيم، وفي موضع أبى جهيم زيد بن خالد
الحكم: حديث صحيح على قلب فى إسناده، روى ابن عيينة هذا الحديث مقلوباً عن أبى النضر، عن بسر بن سعيد، جعل فى موضع زيد ابن خالد أبا جهيم، وفي موضع أبى جهيم زيد بن خالد