سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، وَشَبْلٍ
حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنْ أَبِي هُرَيْرَةَ ، وَزَيْدِ بْنِ خَالِدٍ ، وَشَبْلٍ ، قَالُوا: سُئِلَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَنِ الْأَمَةِ تَزْنِي قَبْلَ أَنْ تُحْصَنَ، قَالَ: " اجْلِدُوهَا فَإِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَاجْلِدُوهَا، فَإِنْ عَادَتْ فَبِيعُوهَا وَلَوْ بِضَفِيرٍ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ، زید بن خالد رضی اللہ عنہ اور شبل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ کسی شخص نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم سے اس باندی کے متعلق پوچھا، جو شادی شدہ ہونے سے پہلے بدکاری کا ارتکا ب کرے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ”اسے کوڑے مارو، اگر دوبارہ کرے تو پھر کوڑے مارو، اگر چوتھی مرتبہ پھر ایسا کرے تو اسے بیچ دو خواہ ایک رسی کے عوض ہی ہو۔“ [مسند احمد/مسنَد الشَّامِیِّینَ/حدیث: 17043]
حکم دارالسلام
حديث صحيح، خ: 2555، م: 1704 على وهم فى إسناده، وهم سفيان بن عيينة ، وأن شبلاً ليست له صحبة
الحكم: حديث صحيح، خ: 2555، م: 1704 على وهم فى إسناده، وهم سفيان بن عيينة ، وأن شبلاً ليست له صحبة