أَبو النَّضْرِ ، أَبو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبانَ ، لَيْثٍ ، شَهْرِ بنِ حَوْشَب ، الْأَنْصَارِيُّ
حَدَّثَنَا أَبو النَّضْرِ ، حَدَّثَنَا أَبو مُعَاوِيَةَ يَعْنِي شَيْبانَ , عَنْ لَيْثٍ ، عَنْ شَهْرِ بنِ حَوْشَب ، قَالَ: حَدَّثَنِي الْأَنْصَارِيُّ ، صَاحِب بدْنِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ أَنَّ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ لَمَّا بعَثَهُ، قَالَ:" رَجَعْتُ"، فَقُلْتُ: يَا رَسُولَ اللَّهِ، مَا تَأْمُرُنِي بمَا عَطِب مِنْهَا؟ قَالَ: " انْحَرْهَا، ثُمَّ اصْبغْ نَعْلَهَا فِي دَمِهَا، ثُمَّ ضَعْهَا عَلَى صَفْحَتِهَا أَوْ عَلَى جَنْبهَا، وَلَا تَأْكُلْ مِنْهَا أَنْتَ، وَلَا أَحَدٌ مِنْ أَهْلِ رِفْقَتِكَ" .
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
ایک انصاری صحابی رضی اللہ عنہ جو نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کی اونٹنی کی دیکھ بھال پر مامور تھے " کہتے ہیں ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے انہیں کہیں بھیجا میں کچھ دور جا کر واپس آگیا اور عرض کیا یا رسول اللہ! اگر کوئی اونٹ مرنے والا ہوجائے تو آپ کیا حکم دیتے ہیں؟ نبی کریم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا اسے ذبح کرلینا پھر اس کے نعلوں کو خون میں تر بتر کر کے اس کی پیشانی یا پہلو پر رکھ دینا اور اس میں سے تم کھانا اور نہ ہی تمہارا کوئی رفیق کھائے۔ [مسند احمد/مُسْنَدُ الْأَنْصَارِ رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمْ/حدیث: 23198]
حکم دارالسلام
صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث، وشهر
الحكم: صحيح لغيره، وهذا إسناد ضعيف لضعف ليث، وشهر