بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 1891
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 1891
حدیث نمبر: 1891 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، قَالَ:" جِئْتُ أَنَا وَالْفَضْلُ وَنَحْنُ عَلَى أَتَانٍ، وَرَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يُصَلِّي بِالنَّاسِ بِعَرَفَةَ، فَمَرَرْنَا عَلَى بَعْضِ الصَّفِّ، فَنَزَلْنَا عَنْهَا، وَتَرَكْنَاهَا تَرْتَعُ وَدَخَلْنَا فِي الصَّفِّ، فَلَمْ يَقُلْ لِي رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ شَيْئًا".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم لوگوں کو میدان عرفات میں نماز پڑھا رہے تھے، میں اور فضل ایک گدھی پر سوار ہو کر آئے، ہم ایک صف کے آگے سے گزر کر اس سے اتر گئے، اسے چرنے کے لئے چھوڑ دیا اور خود صف میں شامل ہو گئے، لیکن نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے مجھے کچھ بھی نہیں کہا۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1891]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 4412، م: 504.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 4412، م: 504.
← پچھلی حدیث (1890) باب پر واپس اگلی حدیث (1892) →