بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 1890
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 1890
حدیث نمبر: 1890 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، سَمِعَ سُلَيْمَانَ بْنَ يَسَارٍ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ ، أَنَّ امْرَأَةً مِنْ خَثْعَمَ، سَأَلَتْ رَسُولَ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ غَدَاةَ جَمْعٍ وَالْفَضْلُ بْنُ عَبَّاسٍ رِدْفُهُ، فَقَالَتْ:" إِنَّ فَرِيضَةَ اللَّهِ فِي الْحَجِّ عَلَى عِبَادِهِ، أَدْرَكَتْ أَبِي شَيْخًا كَبِيرًا، لَا يَسْتَطِيعُ أَنْ يَسْتَمْسِكَ عَلَى الرَّحْلِ، فَهَلْ تَرَى أَنْ أَحُجَّ عَنْهُ؟ قَالَ: نَعَمْ".
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا فضل رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ قبیلہ خثعم کی ایک عورت مزدلفہ کی صبح نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پاس آئی، اس وقت سیدنا فضل رضی اللہ عنہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے پیچھے سوار تھے، وہ کہنے لگی: یا رسول اللہ! حج کے معاملے میں میرے والد پر اللہ کا فریضہ عائد ہو چکا ہے، لیکن وہ اتنے بوڑھے ہو چکے ہیں کہ سواری پر بھی نہیں بیٹھ سکتے، کیا میں ان کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا: ہاں! [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1890]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 3999.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 3999.
← پچھلی حدیث (1889) باب پر واپس اگلی حدیث (1891) →