بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

مسند احمد

حدیث نمبر: 1892
کتب مسند احمد ابواب باب حدیث 1892
حدیث نمبر: 1892 ماخذ: islamicurdubooks.com ↗
سُفْيَانُ ، الزُّهْرِيِّ ، عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، ابْنِ عَبَّاسٍ
(حديث مرفوع) حَدَّثَنَا سُفْيَانُ ، عَنِ الزُّهْرِيِّ ، عَنْ عُبَيْدِ اللَّهِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ ، عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ , أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ،" خَرَجَ يَوْمَ الْفَتْحِ، فَصَامَ حَتَّى إِذَا كَانَ بِالْكَدِيدِ أَفْطَرَ"، , وَإِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالآخِرِ، مِنْ فِعْلِ رَسُولِ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ، قِيلَ لِسُفْيَانَ قَوْلُهُ: إِنَّمَا يُؤْخَذُ بِالآخِرِ، مِنْ قَوْلِ الزُّهْرِيِّ، أَوْ قَوْلِ ابْنِ عَبَّاسٍ، قَالَ: كَذَا فِي الْحَدِيثِ.
ترجمہ: مولانا ظفر اقبال
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب فتح مکہ کے لئے روانہ ہوئے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم روزے سے تھے، لیکن جب مقام کدید میں پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے روزہ توڑ دیا، اور نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے آخری فعل کو بطور حجت لیا جاتا ہے، سفیان سے کسی نے پوچھا کہ یہ آخری جملہ امام زہری رحمہ اللہ کا قول ہے یا سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا؟ تو انہوں نے فرمایا: حدیث میں یہ لفظ اسی طرح آیا ہے۔ [مسند احمد/وَمِن مسنَدِ بَنِی هَاشِم/حدیث: 1892]
حکم دارالسلام
إسناده صحيح، خ: 1944، م: 1113.
الحكم: إسناده صحيح، خ: 1944، م: 1113.
← پچھلی حدیث (1891) باب پر واپس اگلی حدیث (1893) →