عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ الْمَرْوَزِيُّ ، عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ ، عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ ، عَائِشَةَ ، قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ ، شُعْبَةَ ، خَالِدٍ الْحَذَّاءِ
حَدَّثَنَا عَبْدُ الْوَارِثِ بْنُ عُبَيْدِ اللَّهِ الْعَتَكِيُّ الْمَرْوَزِيُّ، أَخْبَرَنَا عَبْدُ اللَّهِ بْنُ الْمُبَارَكِ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ، عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ شَقِيقٍ، عَنْ عَائِشَةَ، أَنّ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ كَانَ " إِذَا لَمْ يُصَلِّ أَرْبَعًا قَبْلَ الظُّهْرِ صَلَّاهُنَّ بَعْدَهُ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، إِنَّمَا نَعْرِفُهُ مِنْ حَدِيثِ ابْنِ الْمُبَارَكِ مِنْ هَذَا الْوَجْهِ، وَقَدْ رَوَاهُ قَيْسُ بْنُ الرَّبِيعِ، عَنْ شُعْبَةَ، عَنْ خَالِدٍ الْحَذَّاءِ نَحْوَ هَذَا وَلَا نَعْلَمُ أَحَدًا رَوَاهُ، عَنْ شُعْبَةَ غَيْرَ قَيْسِ بْنِ الرَّبِيعِ، وَقَدْ رُوِيَ عَنْ عَبْدِ الرَّحْمَنِ بْنِ أَبِي لَيْلَى، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ نَحْوُ هَذَا.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام المؤمنین عائشہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم جب ظہر سے پہلے چار رکعتیں نہ پڑھ پاتے تو انہیں آپ اس کے بعد پڑھتے
۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- ہم اسے ابن مبارک کی حدیث سے صرف اسی سند سے جانتے ہیں۔ اور اسے قیس بن ربیع نے شعبہ سے اور شعبہ نے خالد الحذاء سے اسی طرح روایت کیا ہے۔ اور ہم قیس بن ربیع کے علاوہ کسی اور کو نہیں جانتے جس نے شعبہ سے روایت کی ہو،
۳- بطریق:
«عبدالرحمٰن بن أبي ليلى عن النبي صلى الله عليه و آله وسلم» بھی اسی طرح (مرسلاً) مروی ہے۔
[سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 426] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابن ماجہ/الإقامة 106 (1158)، (تحفة الأشراف: 16208) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس سے نبی اکرم صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کا ان سنتوں کے اہتمام کا پتہ چلتا ہے، اس لیے ہمیں بھی ان سنتوں کے ادائیگی کا اہتمام کرنا چاہیئے، اگر ہم پہلے ادا نہ کر سکیں تو فرض نماز کے بعد انہیں ادا کر لیا کریں، لیکن یہ قضاء فرض نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني
حسن، ابن ماجة (1158)
الحكم: حسن، ابن ماجة (1158)