عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ ، يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ ، مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيِّ ، أَبِيهِ ، عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ ، أُمِّ حَبِيبَةَ
حَدَّثَنَا عَلِيُّ بْنُ حُجْرٍ، أَخْبَرَنَا يَزِيدُ بْنُ هَارُونَ، عَنْ مُحَمَّدِ بْنِ عَبْدِ اللَّهِ الشُّعَيْثِيِّ، عَنْ أَبِيهِ، عَنْ عَنْبَسَةَ بْنِ أَبِي سُفْيَانَ، عَنْ أُمِّ حَبِيبَةَ، قَالَتْ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: " مَنْ صَلَّى قَبْلَ الظُّهْرِ أَرْبَعًا وَبَعْدَهَا أَرْبَعًا، حَرَّمَهُ اللَّهُ عَلَى النَّارِ ". قَالَ أَبُو عِيسَى: هَذَا حَدِيثٌ حَسَنٌ غَرِيبٌ، وَقَدْ رُوِيَ مِنْ غَيْرِ هَذَا الْوَجْهِ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
ام حبیبہ رضی الله عنہا کہتی ہیں کہ رسول اللہ
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم نے فرمایا:
”جس نے ظہر سے پہلے چار رکعتیں اور ظہر کے بعد چار رکعتیں پڑھیں اللہ اسے جہنم کی آگ پر حرام کر دے گا
“ ۱؎۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- یہ حدیث حسن غریب ہے،
۲- اور یہ اس سند کے علاوہ دوسری سندوں سے بھی مروی ہے۔
[سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 427] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«سنن ابی داود/ الصلاة 296 (1269)، سنن النسائی/قیام اللیل (1815)، سنن ابن ماجہ/الإقامة 108 (1160)، (تحفة الأشراف: 15858)، مسند احمد (6/326) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس قسم کی احادیث کا مطلب یہ ہے کہ ایسے شخص کی موت اسلام پر آئے گی اور وہ کافروں کی طرح جہنم میں ہمیشہ نہیں رہے گا، یعنی اللہ تعالیٰ اس پر جہنم میں ہمیشہ رہنے کو حرام فرما دے گا، اسی طرح بعض روایات میں آتا ہے کہ اسے جہنم کی آگ نہیں چھوئے گی، اس کا مطلب یہی ہوتا ہے کہ ہمیشگی کی آگ نہیں چھوئے گی، مسلمان اگر گناہ گار اور سزا کا مستحق ہو تو بقدر جرم جہنم میں اس کا جانا ان احادیث کے منافی نہیں ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، ابن ماجة (1160)
الحكم: صحيح، ابن ماجة (1160)