أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ ، إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ ، أَيُّوبَ ، نَافِعٍ ، ابْنِ عُمَرَ
حَدَّثَنَا أَحْمَدُ بْنُ مَنِيعٍ، حَدَّثَنَا إِسْمَاعِيل بْنُ إِبْرَاهِيمَ، عَنْ أَيُّوبَ، عَنْ نَافِعٍ، عَنْ ابْنِ عُمَرَ، قَالَ: " صَلَّيْتُ مَعَ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَكْعَتَيْنِ قَبْلَ الظُّهْرِ وَرَكْعَتَيْنِ بَعْدَهَا " قَالَ: وَفِي الْبَاب عَنْ عَلِيٍّ، وَعَائِشَةَ، قَالَ أَبُو عِيسَى: حَدِيثُ ابْنِ عُمَرَ حَدِيثٌ حَسَنٌ صَحِيحٌ.
ترجمہ: ڈاکٹر عبدالرحمٰن فریوائی
عبداللہ بن عمر رضی الله عنہما کہتے ہیں کہ میں نے نبی اکرم
صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کے ساتھ ظہر سے پہلے دو رکعتیں
۱؎ اور اس کے بعد دو رکعتیں پڑھیں۔
امام ترمذی کہتے ہیں:
۱- اس باب میں علی رضی الله عنہ اور عائشہ رضی الله عنہا سے بھی احادیث آئی ہیں،
۲- ابن عمر کی حدیث حسن صحیح ہے۔
[سنن ترمذي/أبواب السهو/حدیث: 425] تخریج الحدیث دارالدعوہ
«تفرد بہ المؤلف ویأتي برقم: 432 (تحفة الأشراف: 7591) (صحیح)»
وضاحت
۱؎: اس سے پہلے والی روایت میں ظہر سے پہلے چار رکعتوں کا ذکر ہے اور اس میں دو ہی رکعت کا ذکر ہے دونوں صحیح ہیں، حالات و ظروف کے لحاظ سے ان دونوں میں سے کسی پر بھی عمل کیا جا سکتا ہے۔ البتہ دونوں پر عمل زیادہ افضل ہے۔
قال الشيخ الألباني
صحيح، صحيح أبي داود (1138)
الحكم: صحيح، صحيح أبي داود (1138)