بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful

الادب المفرد

حدیث نمبر: 111 — جس نے پڑوسی سے بھلائی روک لی
کتب الادب المفرد كتاب الجار جس نے پڑوسی سے بھلائی روک لی حدیث 111
حَدَّثَنَا مَالِكُ بْنُ إِسْمَاعِيلَ، قَالَ‏:‏ حَدَّثَنَا عَبْدُ السَّلاَمِ، عَنْ لَيْثٍ، عَنْ نَافِعٍ، عَنِ ابْنِ عُمَرَ قَالَ‏:‏ لَقَدْ أَتَى عَلَيْنَا زَمَانٌ، أَوْ قَالَ‏:‏ حِينٌ، وَمَا أَحَدٌ أَحَقُّ بِدِينَارِهِ وَدِرْهَمِهِ مِنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ، ثُمَّ الْآنَ الدِّينَارُ وَالدِّرْهَمُ أَحَبُّ إِلَى أَحَدِنَا مِنْ أَخِيهِ الْمُسْلِمِ، سَمِعْتُ النَّبِيَّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَقُولُ‏:‏ ”كَمْ مِنْ جَارٍ مُتَعَلِّقٌ بِجَارِهِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ يَقُولُ‏:‏ يَا رَبِّ، هَذَا أَغْلَقَ بَابَهُ دُونِي، فَمَنَعَ مَعْرُوفَهُ.“
ترجمہ: مولانا عثمان منیب
سیدنا ابن عمر رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ لوگوں پر ایک ایسا زمانہ یا دور بھی گزرا ہے کہ درہم و دینار کا سب سے زیادہ مستحق مسلمان بھائی کو سمجھا جاتا تھا، پھر اب ایسا زمانہ آ گیا ہے کہ درہم و دینار مسلمان بھائی سے زیادہ محبوب ہو گئے ہیں۔ میں نے نبی صلی اللہ علیہ و آلہ وسلم کو فرماتے سنا ہے: کتنے پڑوسی ایسے ہیں جو قیامت کے روز اپنے پڑوسیوں سے چمٹے ہوئے کہیں گے: اے میرے رب! اس نے اپنا دروازہ مجھ پر بند کر لیا تھا، اور مجھے اپنے حسنِ سلوک سے محروم رکھا۔ [الادب المفرد/كِتَابُ الْجَارِ/حدیث: 111]
تخریج الحدیث
«حسن لغيره: الصحيحة: 2646 - أخرجه المروزي فى البر و الصلة: 252 و هناد فى الزهد: 1045 و ابن أبى الدنيا فى مكارم الاخلاق: 346»
قال الشيخ الألباني
حسن لغيره
الحكم: حسن لغيره
← پچھلی حدیث (110) باب پر واپس اگلی حدیث (112) →