بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يونس — Surah Yunus
آیت نمبر 107
کل آیات: 109
قرآن کریم يونس آیت 107
آیت نمبر: 107 — سورۃ يونس islamicurdubooks.com ↗
وَ اِنۡ یَّمۡسَسۡکَ اللّٰہُ بِضُرٍّ فَلَا کَاشِفَ لَہٗۤ اِلَّا ہُوَ ۚ وَ اِنۡ یُّرِدۡکَ بِخَیۡرٍ فَلَا رَآدَّ لِفَضۡلِہٖ ؕ یُصِیۡبُ بِہٖ مَنۡ یَّشَآءُ مِنۡ عِبَادِہٖ ؕ وَ ہُوَ الۡغَفُوۡرُ الرَّحِیۡمُ ﴿۱۰۷﴾
اگر اللہ تجھے کسی مصیبت میں ڈالے تو خود اس کے سوا کوئی نہیں جو اس مصیبت کو ٹال دے، اور اگر وہ تیرے حق میں کسی بھلائی کا ارادہ کرے تو اس کے فضل کو پھیرنے والا بھی کوئی نہیں ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے
اور اگر تم کو اللہ کوئی تکلیف پہنچائے تو بجز اس کے اور کوئی اس کو دور کرنے واﻻ نہیں ہے اور اگر وه تم کو کوئی خیر پہنچانا چاہے تو اس کے فضل کا کوئی ہٹانے واﻻ نہیں، وه اپنا فضل اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے نچھاور کردے اور وه بڑی مغفرت بڑی رحمت واﻻ ہے
اور اگر تجھے اللہ کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کا کوئی ٹالنے والا نہیں اس کے سوا، اور اگر تیرا بھلا چاہے تو اس کے فضل کے رد کرنے والا کوئی نہیں اسے پہنچا تا ہے اپنے بندوں میں جسے چاہے، اور وہی بخشنے والا مہربان ہے،
اور اگر اللہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو اس کے سوا کوئی اس کا دور کرنے والا نہیں ہے اور اگر وہ تمہارے ساتھ بھلائی کرنا چاہے تو اس کے فضل کو کوئی روکنے والا نہیں ہے وہ اپنے بندوں میں سے جس پر چاہے اپنا فضل و کرم فرمائے وہ بڑا بخشنے والا، رحم کرنے والا ہے۔
اور اگر اللہ تجھے کوئی تکلیف پہنچائے تو اس کے سوا اسے کوئی دور کرنے والا نہیں اور اگر وہ تیرے ساتھ کسی بھلائی کا ارادہ کرلے تو کوئی اس کے فضل کو ہٹانے والا نہیں، وہ اسے اپنے بندوں میں سے جس کو چاہے پہنچا دیتا ہے اور وہی بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

دین حنیف کی وضاحت ٭٭

یکسوئی والا سچا دین جو میں اپنے اللہ کی طرف سے لے کر آیا ہوں اس میں اے لوگوں اگر تمہیں کوئی شک شبہ ہے تو ہو، یہ تو ناممکن ہے کہ تمہاری طرح میں بھی مشرک ہو جاؤں اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرنے لگوں۔ میں تو صرف اسی اللہ کا بندہ ہوں اور اسی کی بندگی میں لگا رہوں گا جو تمہاری موت پر بھی ویسا ہی قادر ہے جیسا تمہاری پیدائش پر قادر ہے تم سب اسی کی طرف لوٹنے والے اور اسی کے سامنے جمع ہونے والے ہو۔ اچھا اگر تمہارے یہ معبود کچھ طاقت و قدرت رکھتے ہیں تو ان سے کہو کہ جو ان کے بس میں ہو مجھے سزا دیں۔ حق تو یہ ہے کہ نہ کوئی سزا ان کے قبضے میں نہ جزا۔ یہ محض بے بس ہیں، بے نفع و نقصان ہیں، بھلائی برائی سب میرے اللہ کے قبضے میں ہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے، مجھے اس کا حکم ہے کہ میں مومن رہوں۔ یہ بھی مجھے حکم مل چکا ہے کہ میں صرف اسی کی عبادت کرو۔ شرک سے یکسو اور بالکل علیحدہ رہوں اور مشرکوں میں ہرگز شمولیت نہ کروں۔ خیر و شر نفع ضرر، اللہ ہی کے ہاتھ میں۔ کسی اور کو کسی امر میں کچھ بھی اختیار نہیں۔ پس کسی اور کی کسی طرح کی عبادت بھی لائق نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ { اپنی پوری عمر اللہ تعالیٰ سے بھلائی طلب کرتے رہو۔ رب کی رحمتوں کے موقع کی تلاش میں رہو۔ ان کے موقعوں پر اللہ پاک جسے چاہے اپنی بھرپور رحمتیں عطا فرما دیتا ہے۔ اس سے پہلے عیبوں کی پردہ پوشی اپنے خوف ڈر کا امن طلب کیا کرو }۔ ۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:328/8:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ جس گناہ سے جو شخص جب بھی توبہ کرے، اللہ اسے بخشنے والا اور اس پر مہربانی کرنے والا ہے ‘۔

📖 احسن البیان

17۔ 1 خیر کو یہاں فضل سے اس لئے تعبیر فرمایا کہ اللہ تعلیٰ اپنے بندوں کے ساتھ جو بھلائی کا معاملہ فرماتا ہے، اعمال کے اعتبار سے اگرچہ بندے اس کے مستحق نہیں۔ لیکن یہ محض اس کا فضل ہے کہ وہ اعمال سے قطع نظر کرتے ہوئے، انسانوں پر پھر بھی رحم و کرم فرماتا ہے

📖 القرآن الکریم

(آیت 107) {وَ اِنْ يَّمْسَسْكَ اللّٰهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهٗۤ اِلَّا هُوَ …:} عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنھما فرماتے ہیں، میں ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پیچھے (سوار) تھا، آپ نے فرمایا: [ يَا غُلاَمُ! إِنِّيْ أُعَلِّمُكَ كَلِمَاتٍ احْفَظِ اللّٰهَ يَحْفَظْكَ، احْفَظِ اللّٰهَ تَجِدْهٗ تُجَاهَكَ، إِذَا سَأَلْتَ فَاسْأَلِ اللّٰهَ، وَإِذَا اسْتَعَنْتَ فَاسْتَعِنْ بِاللّٰهِ، وَاعْلَمْ أَنَّ الْأُمَّةَ لَوِ اجْتَمَعَتْ عَلَی أَنْ يَنْفَعُوْكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَنْفَعُوْكَ إِلاَّ بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللّٰهُ لَكَ، وَ إِنِ اجْتَمَعُوْا عَلٰی أَنْ يَضُرُّوْكَ بِشَيْءٍ لَمْ يَضُرُّوْكَ إِلاَّ بِشَيْءٍ قَدْ كَتَبَهُ اللّٰهُ عَلَيْكَ، رُفِعَتِ الأَقْلاَمُ وَجَفَّتِ الصُّحُفُ ] [ ترمذی، صفۃ القیامۃ، باب: ۲۵۱۶۔ مسند أحمد: 293/1، ح:۲۶۷۳، و صححہ الأئمۃ ] ”اے لڑکے! میں تمھیں چند باتیں سکھاتا ہوں، تو اللہ کا دھیان رکھ وہ تیرا دھیان رکھے گا، تو اللہ کا دھیان رکھ تو تو اسے اپنے سامنے پائے گا اور جب تو مانگے تو اللہ سے مانگ اور جب مدد مانگے تو اللہ سے مدد مانگ اور جان لے کہ بے شک اگر سارے لوگ جمع ہو جائیں کہ تجھے کسی چیز کا فائدہ پہنچائیں تو اس چیز کے سوا نہیں پہنچا سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے تیرے لیے لکھ دی ہے اور اگر وہ سب جمع ہو جائیں کہ تجھے کسی چیز کا نقصان پہنچائیں تو اس کے سوا تجھے نقصان نہیں پہنچا سکیں گے جو اللہ تعالیٰ نے تم پر لکھ دی ہے، قلم اٹھا لیے گئے اور صحیفے خشک ہو گئے۔“ بعض اہل علم نے فرمایا کہ قرآن مجید کی تین آیات پر اگر کوئی محکم یقین کرلے تو ان شاء اللہ مخلوق سے مستغنی ہو جائے گا، ایک تویہ آیت، دوسری: «{ مَا يَفْتَحِ اللّٰهُ لِلنَّاسِ مِنْ رَّحْمَةٍ فَلَا مُمْسِكَ لَهَاوَ مَا يُمْسِكْ فَلَا مُرْسِلَ لَهٗ مِنْۢ بَعْدِهٖ وَ هُوَ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ }» [ فاطر: ۲ ] ”جو کچھ اللہ لوگوں کے لیے کسی بھی رحمت میں سے کھول دے تو اس کے بعد کوئی بند کرنے والا نہیں اور جو اللہ بند کر دے اسے اس کے بعد کوئی کھولنے والا نہیں اور وہی سب پر غالب کمال حکمت والا ہے۔“ اور تیسری: «{ وَ مَا مِنْ دَآبَّةٍ فِي الْاَرْضِ اِلَّا عَلَى اللّٰهِ رِزْقُهَا وَ يَعْلَمُ مُسْتَقَرَّهَا وَ مُسْتَوْدَعَهَا }» [ ہود: ۶ ] ”اور زمین میں کوئی چلنے والا (جان دار) نہیں، مگر اس کا رزق اللہ ہی پر ہے اور وہی اس کے ٹھہرنے کی جگہ اور اس کے سونپے جانے کی جگہ کو جانتا ہے۔“ بیہقی نے شعب الایمان میں عامر بن قیس کا قول نقل کیا ہے کہ قرآن کی تین آیتوں نے مجھے سارے جہان سے بے نیاز کر دیا، پھر اوپر والی تین آیات ذکر فرمائیں۔ اس اثر کی سند تو کمزور ہے مگر آیات کے مضمون کے لحاظ سے اصل بات بلاشک و شبہ درست ہے۔
← پچھلی آیت (106) پوری سورۃ اگلی آیت (108) →