بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ يونس — Surah Yunus
آیت نمبر 106
کل آیات: 109
قرآن کریم يونس آیت 106
آیت نمبر: 106 — سورۃ يونس islamicurdubooks.com ↗
وَ لَا تَدۡعُ مِنۡ دُوۡنِ اللّٰہِ مَا لَا یَنۡفَعُکَ وَ لَا یَضُرُّکَ ۚ فَاِنۡ فَعَلۡتَ فَاِنَّکَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِیۡنَ ﴿۱۰۶﴾
اور اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی ہستی کو نہ پکار جو تجھے نہ فائدہ پہنچا سکتی ہے نہ نقصان اگر تو ایسا کرے گا تو ظالموں میں سے ہوگا
اور اللہ کو چھوڑ کر ایسی چیز کی عبادت مت کرنا جو تجھ کو نہ کوئی نفع پہنچا سکے اور نہ کوئی ضرر پہنچا سکے۔ پھر اگر ایسا کیا تو تم اس حالت میں ﻇالموں میں سے ہو جاؤ گے
اور اللہ کے سوا اس کی بندگی نہ کر جو نہ تیرا بھلا کرسکے نہ برا، پھر اگر ایسا کرے تو اس وقت تو ظالموں سے ہوگا،
نیز (مجھے حکم دیا گیا ہے کہ) اللہ کے سوا کسی ایسی ہستی کو نہ پکاریں جو تمہیں نہ فائدہ پہنچا سکے اور نہ نقصان اور اگر ایسا کیا تو پھر ظالموں میں سے ہو جاؤ گے۔
اور اللہ کو چھوڑ کر اس چیز کو مت پکار جو نہ تجھے نفع دے اور نہ تجھے نقصان پہنچائے، پھر اگر تو نے ایسا کیا تو یقینا تو اس وقت ظالموں سے ہوگا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

دین حنیف کی وضاحت ٭٭

یکسوئی والا سچا دین جو میں اپنے اللہ کی طرف سے لے کر آیا ہوں اس میں اے لوگوں اگر تمہیں کوئی شک شبہ ہے تو ہو، یہ تو ناممکن ہے کہ تمہاری طرح میں بھی مشرک ہو جاؤں اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرنے لگوں۔ میں تو صرف اسی اللہ کا بندہ ہوں اور اسی کی بندگی میں لگا رہوں گا جو تمہاری موت پر بھی ویسا ہی قادر ہے جیسا تمہاری پیدائش پر قادر ہے تم سب اسی کی طرف لوٹنے والے اور اسی کے سامنے جمع ہونے والے ہو۔ اچھا اگر تمہارے یہ معبود کچھ طاقت و قدرت رکھتے ہیں تو ان سے کہو کہ جو ان کے بس میں ہو مجھے سزا دیں۔ حق تو یہ ہے کہ نہ کوئی سزا ان کے قبضے میں نہ جزا۔ یہ محض بے بس ہیں، بے نفع و نقصان ہیں، بھلائی برائی سب میرے اللہ کے قبضے میں ہے۔ وہ واحد اور لاشریک ہے، مجھے اس کا حکم ہے کہ میں مومن رہوں۔ یہ بھی مجھے حکم مل چکا ہے کہ میں صرف اسی کی عبادت کرو۔ شرک سے یکسو اور بالکل علیحدہ رہوں اور مشرکوں میں ہرگز شمولیت نہ کروں۔ خیر و شر نفع ضرر، اللہ ہی کے ہاتھ میں۔ کسی اور کو کسی امر میں کچھ بھی اختیار نہیں۔ پس کسی اور کی کسی طرح کی عبادت بھی لائق نہیں۔ ایک حدیث میں ہے کہ { اپنی پوری عمر اللہ تعالیٰ سے بھلائی طلب کرتے رہو۔ رب کی رحمتوں کے موقع کی تلاش میں رہو۔ ان کے موقعوں پر اللہ پاک جسے چاہے اپنی بھرپور رحمتیں عطا فرما دیتا ہے۔ اس سے پہلے عیبوں کی پردہ پوشی اپنے خوف ڈر کا امن طلب کیا کرو }۔ ۱؎ [تاریخ دمشق لا بن عساکر:328/8:ضعیف و منقطع] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ ’ جس گناہ سے جو شخص جب بھی توبہ کرے، اللہ اسے بخشنے والا اور اس پر مہربانی کرنے والا ہے ‘۔

📖 احسن البیان

16۔ 1 یعنی اگر اللہ کو چھوڑ کر ایسے معبودوں کو آپ پکاریں گے جو کسی کو نفع نقصان پہنچانے پر قادر نہیں ہیں تو یہ ظلم کا ارتکاب ہوگا، عبادت چونکہ صرف اللہ کا حق ہے جس نے تمام کائنات بنائی ہے اور تمام اسباب حیات بھی وہی پیدا کرتا ہے تو اس مستحق عبادت ذات کو چھوڑ کر کسی اور کی عبادت کرنا نہایت ہی غلط ہے اس لئے شرک کو ظلم عظیم سے تعبیر کیا گیا ہے۔ یہاں بھی خطاب اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو ہے لیکن اصل مخاطب افراد انسانی اور امت محمدیہ ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 106) ➊ {وَ لَا تَدْعُ مِنْ دُوْنِ اللّٰهِ مَا لَا يَنْفَعُكَ وَ لَا يَضُرُّكَ:} اس میں اللہ تعالیٰ کے سوا زمین و آسمان کی ہر زندہ یا مردہ ہستی اور ہر جان دار یا بے جان چیز آگئی۔ یہ مطلب نہیں کہ پہلے تو کسی بزرگ یا نبی کی قبر کے بارے میں یہ غلط عقیدہ قائم کر لیا جائے کہ وہ نفع نقصان پہنچا سکتی ہے، پھر اسے سجدے کیے جائیں اور اس سے مرادیں طلب کی جائیں اور کہا جائے کہ ہم نفع نقصان کا اختیار رکھنے والوں ہی کو پکار رہے ہیں۔ اس آیت کی اس طرح تاویل کرنا اللہ کی کتاب سے کھیلنا اور اس کا مذاق اڑانا ہے۔ اس آیت کا صاف مطلب مشرکین کو سمجھانا ہے کہ ہر قسم کے نفع نقصان کا اختیار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ (فتح القدیر) اس سے اگلی آیت میں اس کی صراحت بھی آ رہی ہے۔ یہاں اگرچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو غیر اللہ کے پکارنے سے منع کیا گیا ہے، مگر درحقیقت پوری امت کو اس سے منع کیا گیا ہے، کیونکہ اس شخص کو منع کرنا جس نے نہ وہ کام کیا ہو نہ کبھی کرنا ہو، اس کا مطلب دوسروں کو منع کرنے میں مبالغہ ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «{ وَ لَقَدْ اُوْحِيَ اِلَيْكَ وَ اِلَى الَّذِيْنَ مِنْ قَبْلِكَ لَىِٕنْ اَشْرَكْتَ لَيَحْبَطَنَّ عَمَلُكَ وَ لَتَكُوْنَنَّ مِنَ الْخٰسِرِيْنَ }» [ الزمر: ۶۵ ] ”اور بلاشبہ یقینا تیری طرف وحی کی گئی اور ان لوگوں کی طرف بھی جو تجھ سے پہلے تھے کہ بلاشبہ اگر تو نے شریک ٹھہرایا تو یقینا تیرا عمل ضرور ضائع ہو جائے گا اور تو ضرور بالضرور خسارہ اٹھانے والوں سے ہو جائے گا۔“ ➋ {فَاِنْ فَعَلْتَ فَاِنَّكَ اِذًا مِّنَ الظّٰلِمِيْنَ:} کیونکہ شرک کے برابر کوئی ظلم نہیں، جیسے فرمایا: «{ اِنَّ الشِّرْكَ لَظُلْمٌ عَظِيْمٌ }» [لقمان: ۱۳] ”بے شک شرک یقینا بہت بڑا ظلم ہے۔“ ظلم کا مطلب ہے: {”وَضْعُ الشَّيْءِ فِيْ غَيْرِ مَحَلِّهٖ “} کہ کسی چیز کو بے موقع اور غلط جگہ استعمال کرنا۔ تو عبادت جو صرف خالق کا حق ہے کسی مخلوق کو دینے سے بڑا ظلم اور بے انصافی کیا ہو سکتی ہے۔ یہاں ”اگر تو نے ایسا کیا“ سے مراد ہے کہ اگر تو نے اس کو پکارا جو نہ تجھے نفع دے نہ نقصان تو ظالموں میں سے ہو گا۔ یہ مضمون قرآن مجید کی کئی آیات میں بیان ہوا ہے کہ اللہ کے سوا کوئی بھی نہ کسی نفع کا مالک ہے نہ نقصان کا۔ دیکھیے سورۂ نمل (۶۲)، مائدہ (۷۶) اور سبا (۲۲) اور بھی بہت سی آیات ہیں۔
← پچھلی آیت (105) پوری سورۃ اگلی آیت (107) →