بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 92
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 92
آیت نمبر: 92 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
قَالَ یٰہٰرُوۡنُ مَا مَنَعَکَ اِذۡ رَاَیۡتَہُمۡ ضَلُّوۡۤا ﴿ۙ۹۲﴾
موسیٰؑ (قوم کو ڈانٹنے کے بعد ہارونؑ کی طرف پلٹا اور) بولا "ہارونؑ، تم نے جب دیکھا تھا کہ یہ گمراہ ہو رہے ہیں
موسیٰ (علیہ السلام) کہنے لگے اے ہارون! انہیں گمراه ہوتا ہوا دیکھتے ہوئے تجھے کس چیز نے روکا تھا
موسیٰ نے کہا، اے ہارون! تمہیں کس بات نے روکا تھا جب تم نے انہیں گمراہ ہوتے دیکھا تھا کہ میرے پیچھے آتے
موسیٰ نے کہا اے ہارون! جب تم نے دیکھا کہ یہ لوگ گمراہ ہوگئے ہیں۔
کہا اے ہارون! تجھے کس چیز نے روکا، جب تو نے انھیں دیکھا کہ وہ گمراہ ہوگئے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

کوہ طور سے واپسی اور بنی اسرائیل کی حرکت پہ غصہ ٭٭

موسیٰ علیہ السلام سخت غصے اور پورے غم میں لوٹے تھے۔ تختیاں زمین پردے ماریں اور اپنے بھائی ہارون علیہ السلام کی طرف غصے سے بڑھ گئے اور ان کے سر کے بال تھام کر اپنی طرف گھسیٹنے لگے۔ اس کا تفصیلی بیان سورۃ الاعراف کی تفسیر میں گزر چکا ہے اور وہیں وہ حدیث بھی بیان ہو چکی ہے کہ سننا دیکھنے کے مطابق نہیں۔ آپ نے اپنے بھائی اور اپنے جانشین کو ملامت کرنی شروع کی کہ اس بت پرستی کے شروع ہوتے ہی تو نے مجھے خبر کیوں نہ کی؟ کیا جو کچھ میں تجھے کہہ گیا تھا، تو بھی اس کا مخالف بن بیٹھا؟ میں تو صاف کہہ گیا تھا کہ میری قوم میں میری جانشینی کر۔ اصلاح کے درپے رہ اور مفسدوں کی نہ مان۔ ہارون علیہ السلام نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اے میرے ماں جائے بھائی! یہ صرف اس لیے (‏‏‏‏کہا) کہ موسیٰ علیہ السلام کو زیادہ رحم اور محبت آئے ورنہ باپ الگ الگ نہ تھے، باپ بھی ایک ہی تھے، دونوں سگے بھائی تھے۔ آپ عذر پیش کرتے ہیں کہ جی میں تو میرے بھی آئی تھی کہ آپ کے پاس آ کر آپ کو اس کی خبر کروں لیکن پھر خیال آیا کہ انہیں تنہا چھوڑنا مناسب نہیں۔ کہیں آپ مجھ پر نہ بگڑ بیٹھیں کہ انہیں تنہا کیوں چھوڑ دیا؟ اور اولاد یعقوب میں یہ جدائی کیوں ڈال دی؟ اور جو میں کہہ گیا تھا، اس کی نگہبانی کیوں نہ کی؟ بات یہ ہے کہ ہارون علیہ السلام میں جہاں اطاعت کا پورا مادہ تھا، وہاں موسیٰ علیہ السلام کی عزت بھی بہت کرتے تھے اور ان کا بہت ہی لحاظ رکھتے تھے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 93،92){ قَالَ يٰهٰرُوْنُ مَا مَنَعَكَ …:} آیت (۸۶) سے (۸۹) تک موسیٰ علیہ السلام کی شدید غصے اور افسوس کے ساتھ واپسی اور قوم کو ڈانٹنے اور ان سے سوال جواب کا ذکر ہے۔ اس کے بعد دو آیات میں اس عرصے میں ہارون علیہ السلام کی امر بالمعروف اور نہی عن المنکر کے فریضے کی ادائیگی اور قوم کے ان کی کوئی بھی بات نہ ماننے کا ذکر ہے، جس سے مقصود ہارون علیہ السلام کا دامن ہر کوتاہی سے پاک قرار دینا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام نے قوم کو بچھڑے کی عبادت کرتے دیکھا تھا، انھیں ہارون علیہ السلام کی اصلاح کی کوشش اور نصیحت کا علم نہ تھا، اس لیے قوم کو ڈانٹ ڈپٹ کے ساتھ ہی انھوں نے شدید غصے کی حالت میں تورات کی تختیوں کو پھینک دیا اور ہارون علیہ السلام کا سر پکڑ کر اپنی طرف کھینچنے لگے(اعراف: ۱۵۰، ۱۵۱) اور کہنے لگے کہ جب تم نے دیکھا کہ یہ گمراہ ہو گئے ہیں تو تمھیں کس چیز نے روکا کہ میرے پیچھے چلے آؤ اور آ کر مجھے ان کے گمراہ ہونے کی خبر دو، تو کیا تم نے میرا حکم نہیں مانا؟
← پچھلی آیت (91) پوری سورۃ اگلی آیت (93) →