بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 91
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 91
آیت نمبر: 91 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
قَالُوۡا لَنۡ نَّبۡرَحَ عَلَیۡہِ عٰکِفِیۡنَ حَتّٰی یَرۡجِعَ اِلَیۡنَا مُوۡسٰی ﴿۹۱﴾
مگر اُنہوں نے اس سے کہہ دیا کہ "ہم تو اسی کی پرستش کرتے رہیں گے جب تک کہ موسیٰؑ واپس نہ آ جائے"
انہوں نے جواب دیا کہ موسیٰ (علیہ السلام) کی واپسی تک تو ہم اسی کے مجاور بنے بیٹھے رہیں گے
بولے ہم تو اس پر آسن مارے جمے (پوجا کے لیے بیٹھے) رہیں گے جب تک ہمارے پاس موسیٰ لوٹ کے آئیں
مگر قوم نے کہا کہ ہم تو برابر اس کی عبادت پر جمے رہیں گے یہاں تک کہ موسیٰ ہماری طرف آجائیں۔
انھوں نے کہا ہم اسی پر مجاور بن کر بیٹھے رہیں گے، یہاں تک کہ موسیٰ ہماری طرف واپس آئے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بنی اسرائیل اور ہارون علیہ السلام ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کے آنے سے پہلے ہارون علیہ السلام نے انہیں ہر چند سمجھایا بجھایا کہ دیکھو فتنے میں نہ پڑو۔ اللہ رحمان کے سوا اور کسی کے سامنے نہ جھکو۔ وہ ہرچیز کا خالق و مالک ہے، سب کا اندازہ مقرر کرنے والا وہی ہے، وہی عرش مجید کا مالک ہے، وہی جو چاہے کر گزرنے والا ہے۔ تم میری تابعداری اور حکم برداری کرتے رہو۔ جو میں کہوں وہ بجا لاؤ، جس سے روکوں رک جاؤ۔ لیکن ان سرکشوں نے جواب دیا کہ موسیٰ علیہ السلام کی سن کر تو خیر ہم مان لیں گے۔ تب تک تو ہم اس کی پرستش نہیں چھوڑیں گے۔ چنانچہ لڑنے اور مرنے مارنے کے واسطے تیار ہو گئے۔

📖 احسن البیان

91۔ 1 اسرائیلیوں کو یہ گو سالہ اتنا اچھا لگا کہ ہارون ؑ کی بات کی بھی پروا نہیں کی اور اس کی تعظیم و عبادت چھوڑنے سے انکار کردیا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 91){ قَالُوْا لَنْ نَّبْرَحَ عَلَيْهِ عٰكِفِيْنَ …: ” عَكَفَ يَعْكُفُ عُكُوْفًا “} (ن) کا معنی عبادت اور تقرب کے ارادے سے کسی جگہ بیٹھ رہنا ہے۔ ہارون علیہ السلام نے بنی اسرائیل کو بچھڑے کی عبادت چھوڑنے اور اپنے ساتھ موسیٰ علیہ السلام کے پیچھے طور کی طرف جانے کے لیے کہا تو انھوں نے نہایت ڈھٹائی سے ان کی دونوں باتوں کا انکار کر دیا کہ موسیٰ علیہ السلام کے واپس آنے تک ہم نہ تمھارے ساتھ جائیں گے اور نہ بچھڑے کی مجاوری چھوڑیں گے۔
← پچھلی آیت (90) پوری سورۃ اگلی آیت (92) →