بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 64
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 64
آیت نمبر: 64 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
فَاَجۡمِعُوۡا کَیۡدَکُمۡ ثُمَّ ائۡتُوۡا صَفًّا ۚ وَ قَدۡ اَفۡلَحَ الۡیَوۡمَ مَنِ اسۡتَعۡلٰی ﴿۶۴﴾
اپنی ساری تدبیریں آج اکٹھی کر لو اور اَیکا کر کے میدان میں آؤبس یہ سمجھ لو کہ آج جو غالب رہا وہی جیت گیا"
تو تم بھی اپنا کوئی داؤ اٹھا نہ رکھو، پھر صف بندی کرکے آؤ۔ جو غالب آگیا وہی بازی لے گیا
تو اپنا داؤ (فریب) پکا کرلو پھر پرا باندھ (صف باندھ) کر آ ؤ آج مراد کو پہنچا جو غالب رہا،
لہٰذا تم اپنی سب تدبیریں (داؤ پیچ) جمع کرو۔ اور پرا باندھ کر (مقابلہ میں) آجاؤ۔ یقیناً فلاح وہی پائے گا جو غالب آئے گا۔
سو تم اپنی تدبیر پختہ کرو، پھر صف باندھ کر آجاؤ اور یقینا آج وہ کامیاب ہوگا جس نے غلبہ حاصل کر لیا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مقابلہ اور نتیجہ ٭٭

جب کہ مقابلہ کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ دن وقت اور جگہ بھی مقرر ہو گئی تو فرعون نے ادھر ادھر سے جادوگروں کو جمع کرنا شروع کیا۔ اس زمانے میں جادو کا بہت زور تھا اور بڑے بڑے جادوگر موجود تھے۔ فرعون نے عام طور سے حکم جاری کر دیا تھا کہ تمام ہوشیار جادوگروں کو میرے پاس بھیج دو۔ مقررہ وقت تک تمام جادوگر جمع ہو گئے۔ فرعون نے اسی میدان میں اپنا تخت نکلوایا اس پر بیٹھا۔ تمام امراء وزراء اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے، رعایا سب جمع ہو گئی، جادوگروں کی جماعت صفیں باندھے تخت کے آگے کھڑی ہو گئیں۔ فرعون نے ان کی کمر ٹھونکنی شروع کی اور کہا، دیکھو آج اپنا وہ ہنر دکھاؤ کہ دنیا میں یادگار رہ جائے۔ جادوگروں نے کہا کہ اگر ہم بازی لے جائیں تو ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا؟ کہا کیوں نہیں؟ میں تو تمہیں اپنا خاص درباری بنا لوں گا۔ ادھر سے کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں تبلیغ شروع کی کہ دیکھو اللہ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ شامت اعمال برباد کر دے گی۔ لوگوں کی آنکھوں میں خاک نہ جھونکو کہ درحقیقت کچھ نہ ہو اور تم اپنے جادو سے بہت کچھ دکھا دو۔ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں جو فی الواقع کسی چیز کو پیدا کر سکے۔ یاد رکھو ایسے جھوٹے بہتانی لوگ فلاح نہیں پاتے۔ یہ سن کر ان میں آپس میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔

بعض تو سمجھ گئے اور کہنے لگے یہ کلام جادوگروں کا نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کے رسول ہیں۔ بعض نے کہا نہیں بلکہ یہ جادوگر ہیں مقابلہ کرو۔ یہ باتیں بہت ہی احتیاط اور راز سے کی گئیں۔ «‏‏‏‏إِنْ هَٰذَانِ» کی دوسری قرأت «اِنَّ ھٰذَیْنِ» بھی ہے، مطلب اور معنی دونوں قرأتوں کا ایک ہی ہے۔ اب با آواز بلند کہنے لگے کہ یہ دونوں بھائی سیانے اور پہنچے ہوئے جادوگر ہیں۔ اس وقت تک تو تمہاری ہوا بندھی ہوئی ہے، بادشاہ کا قرب نصیب ہے، مال و دولت قدموں تلے لوٹ رہا ہے لیکن آج اگر یہ بازی لے گئے تو ظاہر ہے کہ ریاست ان ہی کی ہو جائے گی۔ تمہیں ملک سے نکال دیں گے، عوام ان کے ماتحت ہو جائیں گے، ان کا زور بند بندھ جائے گا، یہ بادشاہت چھین لیں گے اور ساتھ ہی تمہارے مذہب کو ملیا میٹ کر دیں گے۔ بادشاہت، عیش و آرام سب چیزیں تم سے چھن جائیں گی۔ شرافت، عقلمندی، ریاست سب ان کے قبضے میں آ جائے گی، تم یونہی بھٹے بھونتے رہ جاؤ گے۔ تمہارے اشراف ذلیل ہو جائیں گے، امیر فقیر بن جائیں گے، ساری رونق اور بہار جاتی رہے گی۔ بنی اسرائیل جو تمہارے لونڈی غلام بنے ہوئے ہیں، یہ سب ان کے ساتھ ہو جائیں گے اور تمہاری حکومت پاش پاش ہو جائے گی۔ تم سب اتفاق کر لو۔ ان کے مقابلے میں صف بندی کر کے اپنا کوئی فن باقی نہ رکھو، جی کھول کر ہوشیاری اور دانائی سے اپنے جادو کے زور سے اسے دبا لو۔ ایک ہی دفعہ ہر استاد اپنی کاری گری دکھا دے تاکہ میدان ہمارے جادو سے پر ہو جائے۔ دیکھو اگر وہ جیت گیا تو یہ ریاست اسی کی ہو جائے گی اور اگر ہم غالب آ گئے تو تم سن چکے ہو کہ بادشاہ ہمیں اپنا مقرب اور دربار خاص کے اراکین بنا دے گا۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 64) ➊ {فَاَجْمِعُوْا كَيْدَكُمْ …: ”جَمَعَ يَجْمَعُ“} (ف) جمع کرنا اور {”أَجْمَعَ“} (افعال) پختہ کرنا، پختہ ارادہ کرنا، اتفاق کرنا۔ لہٰذا {” فَاَجْمِعُوْا “} (افعال)کا ترجمہ ”جمع کرو یا اکٹھا کرو“ درست نہیں۔ یعنی یہ تذبذب اور اختلاف چھوڑو کہ موسیٰ (علیہ السلام) کا مقابلہ کیا جائے یا نہ کیا جائے، تم اپنا ارادہ اور اپنی خفیہ تدبیر پختہ اور مستحکم کرو اور پھر صف کی صورت میں اکٹھے ہو کر میدان میں آؤ، تاکہ سب پر تمھارا رعب پڑے اور دفعتاً ایسا حملہ کرو کہ حریف کے قدم اکھڑ جائیں۔ اس سے ظاہر ہے کہ جادوگر بہت بڑی تعداد میں تھے اور انھوں نے ایک بے ہنگم ہجوم کی صورت میں سامنے آنے کے بجائے باقاعدہ فوجی ترتیب سے آگے پیچھے صفیں باندھ کر اپنی ہیبت اور شان و شوکت کے اظہار کا فیصلہ کیا۔ {” صَفًّا “} یہاں جنس کے معنی میں ہے اور اس سے ایک صف مراد نہیں، جیسا کہ فرمایا: «{ يَوْمَ يَقُوْمُ الرُّوْحُ وَ الْمَلٰٓىِٕكَةُ صَفًّا }» [ النبا: ۳۸ ] ”جس دن روح اور فرشتے صف بنا کر کھڑے ہوں گے۔“ فرعون کے حکم سے مصر کے تمام شہروں میں سے ہر ماہر جادوگر وہاں لایا گیا تھا، اس لیے مراد کئی صفیں ہیں۔ ➋ { وَ قَدْ اَفْلَحَ الْيَوْمَ مَنِ اسْتَعْلٰى:اسْتَعْلٰى”عَلَا يَعْلُوْ“ } سے استفعال ہے۔ زائد حروف مبالغے کے لیے ہیں، یعنی آج کے مقابلے کی اتنی اہمیت ہے کہ جس نے اس میں واضح اور نمایاں غلبہ حاصل کر لیا اس کا سکہ ہمیشہ کے لیے بیٹھ گیا اور جو اس میں رہ گیا پھر کبھی سر نہ اٹھا سکے گا۔
← پچھلی آیت (63) پوری سورۃ اگلی آیت (65) →