بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 63
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 63
آیت نمبر: 63 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
قَالُوۡۤا اِنۡ ہٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ یُرِیۡدٰنِ اَنۡ یُّخۡرِجٰکُمۡ مِّنۡ اَرۡضِکُمۡ بِسِحۡرِہِمَا وَ یَذۡہَبَا بِطَرِیۡقَتِکُمُ الۡمُثۡلٰی ﴿۶۳﴾
آخر کار کچھ لوگو ں نے کہا کہ "یہ دونوں تو محض جادوگر ہیں اِن کا مقصد یہ ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہاری زمین سے بے دخل کر دیں اور تمہارے مثالی طریق زندگی کا خاتمہ کر دیں
کہنے لگے یہ دونوں محض جادوگر ہیں اور ان کا پختہ اراده ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہارے ملک سے نکال باہر کر دیں اور تمہارے بہترین مذہب کو برباد کر دیں
بولے بیشک یہ دونوں ضرور جادوگر ہیں چاہتے ہیں کہ تمہیں تمہاری زمین زمین سے اپنے جادو کے زور سے نکال دیں اور تمہارا اچھا دین لے جائیں،
(آخرکار) انہوں نے کہا کہ یہ دونوں جادوگر ہیں جو چاہتے ہیں کہ اپنے جادو کے زور سے تمہیں تمہاری سرزمین سے نکال دیں اور تمہارے اعلیٰ و مثالی طریقہ کار کو مٹا دیں۔
کہا بے شک یہ دونوں یقینا جادوگر ہیں، چاہتے ہیں کہ تمھیں تمھاری سرزمین سے اپنے جادو کے ذریعے نکال دیں اور تمھارا وہ طریقہ لے جائیں جو سب سے اچھا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مقابلہ اور نتیجہ ٭٭

جب کہ مقابلہ کی تاریخ مقرر ہو گئی۔ دن وقت اور جگہ بھی مقرر ہو گئی تو فرعون نے ادھر ادھر سے جادوگروں کو جمع کرنا شروع کیا۔ اس زمانے میں جادو کا بہت زور تھا اور بڑے بڑے جادوگر موجود تھے۔ فرعون نے عام طور سے حکم جاری کر دیا تھا کہ تمام ہوشیار جادوگروں کو میرے پاس بھیج دو۔ مقررہ وقت تک تمام جادوگر جمع ہو گئے۔ فرعون نے اسی میدان میں اپنا تخت نکلوایا اس پر بیٹھا۔ تمام امراء وزراء اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے، رعایا سب جمع ہو گئی، جادوگروں کی جماعت صفیں باندھے تخت کے آگے کھڑی ہو گئیں۔ فرعون نے ان کی کمر ٹھونکنی شروع کی اور کہا، دیکھو آج اپنا وہ ہنر دکھاؤ کہ دنیا میں یادگار رہ جائے۔ جادوگروں نے کہا کہ اگر ہم بازی لے جائیں تو ہمیں کچھ انعام بھی ملے گا؟ کہا کیوں نہیں؟ میں تو تمہیں اپنا خاص درباری بنا لوں گا۔ ادھر سے کلیم اللہ موسیٰ علیہ السلام نے انہیں تبلیغ شروع کی کہ دیکھو اللہ پر جھوٹ نہ باندھو ورنہ شامت اعمال برباد کر دے گی۔ لوگوں کی آنکھوں میں خاک نہ جھونکو کہ درحقیقت کچھ نہ ہو اور تم اپنے جادو سے بہت کچھ دکھا دو۔ اللہ کے سوا کوئی خالق نہیں جو فی الواقع کسی چیز کو پیدا کر سکے۔ یاد رکھو ایسے جھوٹے بہتانی لوگ فلاح نہیں پاتے۔ یہ سن کر ان میں آپس میں چہ میگوئیاں شروع ہو گئیں۔

بعض تو سمجھ گئے اور کہنے لگے یہ کلام جادوگروں کا نہیں یہ تو سچ مچ اللہ کے رسول ہیں۔ بعض نے کہا نہیں بلکہ یہ جادوگر ہیں مقابلہ کرو۔ یہ باتیں بہت ہی احتیاط اور راز سے کی گئیں۔ «‏‏‏‏إِنْ هَٰذَانِ» کی دوسری قرأت «اِنَّ ھٰذَیْنِ» بھی ہے، مطلب اور معنی دونوں قرأتوں کا ایک ہی ہے۔ اب با آواز بلند کہنے لگے کہ یہ دونوں بھائی سیانے اور پہنچے ہوئے جادوگر ہیں۔ اس وقت تک تو تمہاری ہوا بندھی ہوئی ہے، بادشاہ کا قرب نصیب ہے، مال و دولت قدموں تلے لوٹ رہا ہے لیکن آج اگر یہ بازی لے گئے تو ظاہر ہے کہ ریاست ان ہی کی ہو جائے گی۔ تمہیں ملک سے نکال دیں گے، عوام ان کے ماتحت ہو جائیں گے، ان کا زور بند بندھ جائے گا، یہ بادشاہت چھین لیں گے اور ساتھ ہی تمہارے مذہب کو ملیا میٹ کر دیں گے۔ بادشاہت، عیش و آرام سب چیزیں تم سے چھن جائیں گی۔ شرافت، عقلمندی، ریاست سب ان کے قبضے میں آ جائے گی، تم یونہی بھٹے بھونتے رہ جاؤ گے۔ تمہارے اشراف ذلیل ہو جائیں گے، امیر فقیر بن جائیں گے، ساری رونق اور بہار جاتی رہے گی۔ بنی اسرائیل جو تمہارے لونڈی غلام بنے ہوئے ہیں، یہ سب ان کے ساتھ ہو جائیں گے اور تمہاری حکومت پاش پاش ہو جائے گی۔ تم سب اتفاق کر لو۔ ان کے مقابلے میں صف بندی کر کے اپنا کوئی فن باقی نہ رکھو، جی کھول کر ہوشیاری اور دانائی سے اپنے جادو کے زور سے اسے دبا لو۔ ایک ہی دفعہ ہر استاد اپنی کاری گری دکھا دے تاکہ میدان ہمارے جادو سے پر ہو جائے۔ دیکھو اگر وہ جیت گیا تو یہ ریاست اسی کی ہو جائے گی اور اگر ہم غالب آ گئے تو تم سن چکے ہو کہ بادشاہ ہمیں اپنا مقرب اور دربار خاص کے اراکین بنا دے گا۔

📖 احسن البیان

63۔ 1 مثلیٰ، طریقۃ کی صفت ہے یہ امثل کی تانیث ہے افضل کے معنی میں مطلب یہ ہے کہ اگر یہ دونوں بھائی اپنے ' جادو ' کے زور سے غالب آگئے، تو سادات و اشراف اس کی طرف مائل ہوجائیں گے، جس سے ہمارا اقتدار خطرے میں اور ان کے اقتدار کا امکان بڑھ جائے گا۔ علاوہ ازیں ہمارا بہترین طریقہ یا مذہب، اسے بھی یہ ختم کردیں گے۔ یعنی اپنے مشرکانہ مذہب کو بھی انہوں نے " بہترین " قرار دیا جیسا کہ آج بھی ہر باطل مذہب اور فرقے کے پیروکار اسی زعم فاسد میں مبتلا ہیں سچ فرمایا اللہ نے (کل حزب بما لدیھم فرحون) ہر فرقہ جو اس کے پاس ہے اس پر ریچھ رہا ہے۔۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 63) ➊ { قَالُوْۤا اِنْ هٰذٰىنِ لَسٰحِرٰنِ …:} یہ {” اِنْ “} اصل میں {”إِنَّ“} حرف تاکید ہے، جس کی علامت خبر {” لَسٰحِرٰنِ “} پر لام تاکید ہے۔ یہاں ایک مشہور سوال ہے کہ {” إِنَّ “} اپنے اسم کو نصب دیتا ہے، اس لیے {” هٰذٰىنِ “} کے بجائے {”هٰذَيْنِ“} ہونا چاہیے تھا۔ اس کا ایک جواب یہ ہے کہ {” إِنَّ“} کے نون کو جزم دینے کے بعد اس کا عمل ختم کر دیا گیا اور {” هٰذٰىنِ “} مبتدا ہونے کی وجہ سے مرفوع ہے، دوسرا یہ کہ {” اِنْ “} (نون ساکن کے ساتھ) {” إِنَّهُ “} یعنی {” إِنَّ “} اور ضمیر شان کی جگہ آیا ہے، چنانچہ {”اِنْ “} کا اسم ضمیرِ شان تھی اور {” هٰذٰىنِ “} اگلے جملے کا مبتدا ہے اور وہ جملہ {” اِنْ “} کی خبر بن رہا ہے۔ (ابن جزی) مزید جواب لمبی تفسیروں میں دیکھیں۔ {” الْمُثْلٰى”أَمْثَلُ“} اسم تفضیل کا مؤنث ہے، بمعنی {”أَفْضَلُ“} سب سے اچھا۔ ➋ آخر باہمی مشورے کے بعد مال و دولت اور جاہ ومنصب کی حرص نے ان سب کو مقابلے پر متفق کر دیا اور فیصلہ یہ ٹھہرا کہ یہ دونوں یقینا جادوگر ہیں اور چاہتے ہیں کہ اقتدار حاصل کرکے تمھیں تمھارے وطن سے نکال دیں اور تمھارے دین و مذہب کو، جو سب سے اچھا ہے اور تمھاری عیش و عشرت والی بہترین زندگی کو حکومت پر قبضہ کرکے ختم کر دیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا ذِئْبَانِ جَائِعَانِ أُرْسِلاَ فِيْ غَنَمٍ بِأَفْسَدَ لَهَا مِنْ حِرْصِ الْمَرْءِ عَلَی الْمَالِ وَالشَّرَفِ لِدِيْنِهٖ ] ”دو بھوکے بھیڑیے، جو بھیڑ بکریوں میں چھوڑ دیے جائیں، وہ انھیں اس قدر برباد کرنے والے نہیں جس قدر آدمی کی مال اور بلند مرتبہ (شہرت) کی حرص اس کے دین کو برباد کرنے والی ہے۔“ [ ترمذی، الزھد، باب حدیث ما ذئبان جائعان…: ۲۳۷۶۔ ابن حبان: ۳۲۲۸، عن کعب بن مالک رضی اللہ عنہ، صحیح ]
← پچھلی آیت (62) پوری سورۃ اگلی آیت (64) →