بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 59
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 59
آیت نمبر: 59 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
قَالَ مَوۡعِدُکُمۡ یَوۡمُ الزِّیۡنَۃِ وَ اَنۡ یُّحۡشَرَ النَّاسُ ضُحًی ﴿۵۹﴾
موسیٰؑ نے کہا "جشن کا دن طے ہوا، ا ور دن چڑھے لوگ جمع ہوں"
موسیٰ (علیہ السلام) نے جواب دیا کہ زینت اور جشن کے دن کا وعده ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے ہی جمع ہو جائیں
موسیٰ نے کہا تمہارا وعدہ میلے کا دن ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے جمع کیے جائیں
موسیٰ نے کہا تمہارے لئے وعدہ کا دن جشن والا دن ہے اور یہ کہ دن چڑھے لوگ جمع کر لئے جائیں۔
کہا تمھارے وعدے کا وقت زینت کا دن ہے اور یہ کہ لوگ دن چڑھے جمع کیے جائیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فرعون کے ساحر اور موسیٰ علیہ السلام ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ لکڑی کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا روشن ہو جانا وغیرہ دیکھ کر فرعون نے کہا کہ یہ تو جادو ہے اور تو جادو کے زور سے ہمارا ملک چھیننا چاہتا ہے۔ تو مغرور نہ ہو۔ جا ہم بھی اس جادو میں تیرا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ دن اور جگہ مقرر ہو جائے اور مقابلہ ہو جائے۔ ہم بھی اس دن اس جگہ آ جائیں اور تو بھی، ایسا نہ ہو کہ کوئی نہ آئے۔ کھلے میدان میں سب کے سامنے ہار جیت کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، مجھے منظور ہے اور میرے خیال سے تو اس کے لیے تمہاری عید کا دن مناسب ہے۔ کیونکہ وہ فرصت کا دن ہوتا ہے سب آ جائیں گے اور دیکھ کر حق و باطل میں تمیز کر لیں گے۔ معجزے اور جادو کا فرق سب پر ظاہر ہو جائے گا۔ وقت دن چڑھے کا رکھنا چاہیئے تاکہ جو کچھ میدان میں آئے سب دیکھ سکیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ان کی زینت اور عید کا دن عاشورے کا دن تھا۔ یہ یاد رہے کہ انبیاء علیہ السلام ایسے موقعوں پر کبھی پیچھے نہیں رہتے۔ ایسا کام کرتے ہیں جس سے حق صاف واضح ہو جائے اور ہر ایک پرکھ لے۔ اسی لیے آپ نے ان کی عید کا دن مقرر کیا اور وقت دن چڑھے کا بتایا اور صاف ہموار میدان مقرر کیا کہ جہاں سے ہر ایک دیکھ سکے اور جو باتیں ہوں وہ بھی سن سکے وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرعون نے مہلت چاہی۔ موسیٰ علیہ السلام نے انکار کیا، اس پر وحی اتری کہ مدت مقرر کر لو۔ فرعون نے چالیس دن کی مہلت مانگی جو منظور کی گئی۔

📖 احسن البیان

59۔ 1 اس سے مراد نو روز یا کوئی اور سالانہ میلے یا جشن کا دن ہے جسے وہ عید کے طور پر مناتے تھے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 59){ قَالَ مَوْعِدُكُمْ يَوْمُ الزِّيْنَةِ …: ” ضُحًى “} وہ وقت جب سورج نکلنے کے بعد اس کی حرارت کا آغاز ہوتا ہے۔ موسیٰ علیہ السلام تو خود چاہتے تھے کہ زیادہ سے زیادہ لوگ جمع ہوں، تاکہ ان تک حق کا پیغام پہنچے اور وہ معجزات الٰہی کو اور حق کی فتح کو اپنی آنکھوں سے دیکھیں۔ چنانچہ {” يَوْمُ الزِّيْنَةِ “} اور دوپہر کا وقت مقرر کر دیا گیا، تاکہ لوگ چھٹی کی وجہ سے فارغ ہوں اور دوپہر تک تمام علاقوں سے ہر شخص آسانی سے پہنچ جائے، دن کی روشنی زیادہ سے زیادہ ہو اور اگر مقابلہ طول پکڑ جائے تو مغرب تک لمبا وقت مل جائے۔ {” يَوْمُ الزِّيْنَةِ “ } مصریوں کے ہاں معروف دن تھا، یہ اس دن منایا جاتا جب نیل کی طغیانی اپنی انتہا کو پہنچ جاتی اور دور تک پانی پھیل جاتا، جس کے بعد فصلوں کی کاشت کا آغاز ہوتا۔ ابن عاشور رحمہ اللہ نے اس کا اندازہ پندرہ ستمبر لگایا ہے۔ تفصیل ”التحریر والتنویر“ میں دیکھیں۔ موسیٰ علیہ السلام نے جگہ کا ذکر نہیں فرمایا، اس سے معلوم ہوتا ہے کہ {” يَوْمُ الزِّيْنَةِ “} میں تمام لوگوں کا جشن منانے کے لیے کسی خاص جگہ جمع ہونا معروف تھا، جیسا کہ حکومتوں نے بڑے بڑے سٹیڈیم بنا رکھے ہوتے ہیں، اس لیے زینت کا دن اور وقت طے کرنے کے بعد جگہ کے ذکر کی ضرورت نہ تھی۔
← پچھلی آیت (58) پوری سورۃ اگلی آیت (60) →