بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ طه — Surah Taha
آیت نمبر 58
کل آیات: 135
قرآن کریم طه آیت 58
آیت نمبر: 58 — سورۃ طه islamicurdubooks.com ↗
فَلَنَاۡتِیَنَّکَ بِسِحۡرٍ مِّثۡلِہٖ فَاجۡعَلۡ بَیۡنَنَا وَ بَیۡنَکَ مَوۡعِدًا لَّا نُخۡلِفُہٗ نَحۡنُ وَ لَاۤ اَنۡتَ مَکَانًا سُوًی ﴿۵۸﴾
اچھا، ہم بھی تیرے مقابلے میں ویساہی جادو لاتے ہیں طے کر لے کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے نہ ہم اِس قرارداد سے پھریں گے نہ تو پھریو کھُلے میدان میں سامنے آ جا"
اچھا ہم بھی تیرے مقابلے میں اسی جیسا جادو ضرور ﻻئیں گے پس تو ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدے کا وقت مقرر کر لے، کہ نہ ہم اس کا خلاف کریں اور نہ تو، صاف میدان میں مقابلہ ہو
تو ضرور ہم بھی تمہارے آگے ویسا ہی جادو لائیں گے تو ہم میں اور اپنے میں ایک وعدہ ٹھہرادو جس سے نہ ہم بدلہ لیں نہ تم ہموار جگہ ہو،
سو ہم بھی تمہارے مقابلہ میں ویسا ہی جادو لائیں گے لہٰذا تم (مقابلہ کیلئے) ہمارے اور اپنے درمیان ایک وعدہ گاہ مقرر کرو۔ جس کی نہ ہم خلاف ورزی کریں گے اور نہ تم۔ اور وہ وعدہ گاہ ہو بھی ہموار اور کھلے میدان میں۔
تو ہم بھی ہر صورت تیرے پاس اس جیسا جادو لائیں گے، پس تو ہمارے درمیان اور اپنے درمیان وعدے کا ایک وقت طے کردے کہ نہ ہم اس کے خلاف کریں اور نہ تو، ایسی جگہ میں جو مساوی ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

فرعون کے ساحر اور موسیٰ علیہ السلام ٭٭

موسیٰ علیہ السلام کا معجزہ لکڑی کا سانپ بن جانا، ہاتھ کا روشن ہو جانا وغیرہ دیکھ کر فرعون نے کہا کہ یہ تو جادو ہے اور تو جادو کے زور سے ہمارا ملک چھیننا چاہتا ہے۔ تو مغرور نہ ہو۔ جا ہم بھی اس جادو میں تیرا مقابلہ کر سکتے ہیں۔ دن اور جگہ مقرر ہو جائے اور مقابلہ ہو جائے۔ ہم بھی اس دن اس جگہ آ جائیں اور تو بھی، ایسا نہ ہو کہ کوئی نہ آئے۔ کھلے میدان میں سب کے سامنے ہار جیت کھل جائے۔ موسیٰ علیہ السلام نے فرمایا، مجھے منظور ہے اور میرے خیال سے تو اس کے لیے تمہاری عید کا دن مناسب ہے۔ کیونکہ وہ فرصت کا دن ہوتا ہے سب آ جائیں گے اور دیکھ کر حق و باطل میں تمیز کر لیں گے۔ معجزے اور جادو کا فرق سب پر ظاہر ہو جائے گا۔ وقت دن چڑھے کا رکھنا چاہیئے تاکہ جو کچھ میدان میں آئے سب دیکھ سکیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ان کی زینت اور عید کا دن عاشورے کا دن تھا۔ یہ یاد رہے کہ انبیاء علیہ السلام ایسے موقعوں پر کبھی پیچھے نہیں رہتے۔ ایسا کام کرتے ہیں جس سے حق صاف واضح ہو جائے اور ہر ایک پرکھ لے۔ اسی لیے آپ نے ان کی عید کا دن مقرر کیا اور وقت دن چڑھے کا بتایا اور صاف ہموار میدان مقرر کیا کہ جہاں سے ہر ایک دیکھ سکے اور جو باتیں ہوں وہ بھی سن سکے وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ فرعون نے مہلت چاہی۔ موسیٰ علیہ السلام نے انکار کیا، اس پر وحی اتری کہ مدت مقرر کر لو۔ فرعون نے چالیس دن کی مہلت مانگی جو منظور کی گئی۔

📖 احسن البیان

58۔ 1 موعد مصدر ہے یا اگر ظرف ہے تو زمان اور مکان دونوں مراد ہوسکتے ہیں کوئی جگہ اور دن مقرر کرلے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 58){ فَاجْعَلْ بَيْنَنَا وَ بَيْنَكَ مَوْعِدًا …: ” مَوْعِدًا “} ظرف زمان بھی ہو سکتا ہے، مکان بھی اور مصدر میمی بھی، یعنی ہمارے ساتھ وہ وقت بھی طے کر لو جس میں مقابلہ ہو گا اور جگہ بھی، البتہ جگہ ایسی ہونی چاہیے جو قبطیوں اور بنی اسرائیل دونوں کے لیے برابر ہو، تاکہ کسی کو آنے میں دشواری پیش نہ آئے۔ بعض مفسرین نے فرمایا کہ {” مَكَانًا سُوًى “} کا مطلب برابر اور ہموار زمین ہے، جہاں سب مقابلہ دیکھ سکیں۔
← پچھلی آیت (57) پوری سورۃ اگلی آیت (59) →