اللہ کی تسبیح کر رہی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور ہر وہ چیز جو زمین میں ہے اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کے لیے تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
(تمام چیزیں) جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں اسی کی سلطنت ہے اور اسی کی تعریف ہے، اور وه ہر ہر چیز پر قادر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ کی پاکی بولتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں، اسی کا ملک ہے اور اسی کی تعریف اور وہ ہر چیز پر قادر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ سب چیزیں جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اس اللہ کی تسبیح کرتی ہیں جو (حقیقی) بادشاہ ہے اور اسی کیلئے (ہر) تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ کا پاک ہونا بیان کرتی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ اسی کی بادشاہی ہے اور اسی کی سب تعریف ہے اور وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر التغابن ٭٭
مسبحات کی سورتوں میں سب سے آخری سورت یہی ہے، مخلوقات کی تسبیح الٰہی کا بیان کئی دفعہ ہو چکا ہے، ملک و حمد والا اللہ ہی ہے ہر چیز پر اس کی حکومت کام میں اور ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے میں۔ وہ تعریف کا مستحق، جس چیز کا ارادہ کرے اس کو پورا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے، نہ کوئی اس کا مزاحم بن سکے، نہ اسے کوئی روک سکے وہ اگر نہ چاہے تو کچھ بھی نہ ہو، وہی تمام مخلوق کا خالق ہے اس کے ارادے سے بعض انسان کافر ہوئے بعض مومن، وہ بخوبی جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے؟ اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ اپنے بندوں کے اعمال پر شاہد ہے اور ہر ایک عمل کا پورا پورا بدلے دے گا، اس نے عدل و حکمت کے ساتھ آسمان و زمین کی پیدائش کی ہے، اسی نے تمہیں پاکیزہ اور خوبصورت شکلیں دے رکھی ہیں۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» ۱؎ [82-الانفطار:6-8] ’ اے انسان تجھے تیرے رب کریم سے کس چیز نے غافل کر دیا، اسی نے تجھے پیدا کیا، پھر درست کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اور جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دی ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ» ۱؎ [40-غافر:64] ، ’ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہیں بہترین صورتیں دیں اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو عنایت فرمائیں ‘۔ آخر سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے، آسمان و زمین اور ہر نفس اور کل کائنات کا علم اسے حاصل ہے یہاں تک کہ دل کے ارادوں اور پوشیدہ باتوں سے بھی وہ واقف ہے۔
تمام چیزیں) (1) جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اللہ کی پاکی بیان کرتی ہیں اسی کی سلطنت ہے اور اسی کی تعریف ہے (2) اور وہ ہر ہر چیز پر قادر ہے۔
(آیت 1) ➊ { يُسَبِّحُ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ:} اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ حدید (۱) اور سورۂ حشر (ا) کی تفسیر۔ {” يُسَبِّحُ “} (مضارع) کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ جمعہ کی پہلی آیت کی تفسیر اور تسبیح کے مفہوم کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل کی آیت (۴۴) کی تفسیر۔ ➋ {” لَهُ الْمُلْكُ “} کے لیے دیکھیے سورۂ ملک کی پہلی آیت کی تفسیر اور {” وَ لَهُ الْحَمْدُ “} کے لیے دیکھیے سورۂ فاتحہ کی پہلی آیت کی تفسیر۔ ➌ فرمایا آسمان و زمین میں جو بھی چیز ہے وہ زبان قال و حال سے شہادت دے رہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہر عیب اور ہر کمی سے پاک ہے۔ اس کے بعد اللہ تعالیٰ کی متعدد صفات خلق، قدرت اور علم وغیرہ اور ان کے مظاہر بیان فرمائے جن سے اللہ تعالیٰ کے وجود، اس کی توحید، تسبیح، قیامت اور رسالت کا حق ہونا ثابت ہوتا ہے، پھر کفار کے قیامت اور رسولوں کے انکار کا ردّ فرمایا اور انھیں اللہ، اس کے رسول اور اس پر نازل کردہ وحی پر ایمان لانے کا حکم دیا۔
وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن، اور اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی نے تمہیں پیدا کیا ہے سو تم میں سے بعضے تو کافر ہیں اور بعض ایمان والے ہیں، اور جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ خوب دیکھ رہا ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا تو تم میں کوئی کافر اور تم میں کوئی مسلمان اور اللہ تمہارے کام دیکھ رہا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ وہی ہے جس نے تم (سب) کو پیدا کیا پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مؤمن اور تم جو کچھ کرتے ہواللہ اسے خوب دیکھ رہا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہی ہے جس نے تمھیں پیدا کیا، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور تم میں سے کوئی ایمان دار ہے اور اللہ اسے جو تم کر رہے ہو، خوب دیکھنے والا ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر التغابن ٭٭
مسبحات کی سورتوں میں سب سے آخری سورت یہی ہے، مخلوقات کی تسبیح الٰہی کا بیان کئی دفعہ ہو چکا ہے، ملک و حمد والا اللہ ہی ہے ہر چیز پر اس کی حکومت کام میں اور ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے میں۔ وہ تعریف کا مستحق، جس چیز کا ارادہ کرے اس کو پورا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے، نہ کوئی اس کا مزاحم بن سکے، نہ اسے کوئی روک سکے وہ اگر نہ چاہے تو کچھ بھی نہ ہو، وہی تمام مخلوق کا خالق ہے اس کے ارادے سے بعض انسان کافر ہوئے بعض مومن، وہ بخوبی جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے؟ اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ اپنے بندوں کے اعمال پر شاہد ہے اور ہر ایک عمل کا پورا پورا بدلے دے گا، اس نے عدل و حکمت کے ساتھ آسمان و زمین کی پیدائش کی ہے، اسی نے تمہیں پاکیزہ اور خوبصورت شکلیں دے رکھی ہیں۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» ۱؎ [82-الانفطار:6-8] ’ اے انسان تجھے تیرے رب کریم سے کس چیز نے غافل کر دیا، اسی نے تجھے پیدا کیا، پھر درست کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اور جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دی ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ» ۱؎ [40-غافر:64] ، ’ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہیں بہترین صورتیں دیں اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو عنایت فرمائیں ‘۔ آخر سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے، آسمان و زمین اور ہر نفس اور کل کائنات کا علم اسے حاصل ہے یہاں تک کہ دل کے ارادوں اور پوشیدہ باتوں سے بھی وہ واقف ہے۔
12۔ 1 یعنی ہمارے رسول کا اس سے کچھ نہیں بگڑے گا، کیونکہ اس کا کام صرف تبلیغ ہے۔ امام زہری فرماتے ہیں، اللہ کا کام رسول بھیجنا ہے، رسول کا کام تبلیغ اور لوگوں کا کام تسلیم کرنا ہے (فتح القدیر)
(آیت 2) ➊ {هُوَ الَّذِيْ خَلَقَكُمْ فَمِنْكُمْ كَافِرٌ وَّ مِنْكُمْ مُّؤْمِنٌ:} یعنی اتنی صفات کے مالک ہی نے تمھیں پیدا کیا اور دوسری مخلوقات کی طرح تمھیں بھی ہر بات میں اپنے تکوینی حکم کا پابند کر دینے کے بجائے ایمان و کفر دونوں راستے واضح فرما کر تمھیں ان میں سے کسی ایک پر چلنے کا اختیار بخشا۔ اب حق تو یہ تھا کہ تم اپنے پیدا کرنے والے کا شکر ادا کرتے ہوئے اس پر ایمان لاتے، مگر اس کے بجائے تم دو گروہوں میں بٹ گئے۔ چنانچہ تم میں سے کچھ کفر کرنے والے ہیں اور کچھ ایمان لانے والے۔ اب یہ خیال مت کرنا کہ تمھارے اس کفرپر تم سے کوئی بازپرس نہیں ہوگی، یا ایمان لانے پر کوئی جزا نہیں ملے گی، بلکہ تم جو کچھ کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اسے پوری طرح دیکھنے والا ہے، وہ ہر ایک کو اس کے عمل کے مطابق سزا یا جزا دے گا۔ یہاں {” فَمِنْكُمْ كَافِرٌ “} کا ذکر پہلے اس لیے فرمایا کہ مقصود ناراضی کا اظہار ہے کہ اتنی صفات کے مالک اور اپنے خالق کے ساتھ بھی تم میں سے کئی کفر کرنے والے ہیں۔ اس کے علاوہ اس بات کا اظہار بھی ہے کہ کفر کرنے والے زیادہ ہیں۔ (دیکھیے بنی اسرائیل: ۸۹۔ سبا: ۲۰) اس آیت میں وہی بات بیان ہوئی ہے جو تفصیل کے ساتھ سورہ دہر کی ان آیات میں ہے، فرمایا: «اِنَّا خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ مِنْ نُّطْفَةٍ اَمْشَاجٍ نَّبْتَلِيْهِ فَجَعَلْنٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا (2) اِنَّا هَدَيْنٰهُ السَّبِيْلَ اِمَّا شَاكِرًا وَّ اِمَّا كَفُوْرًا (3) اِنَّاۤ اَعْتَدْنَا لِلْكٰفِرِيْنَ سَلٰسِلَاۡ وَ اَغْلٰلًا وَّ سَعِيْرًا (4) اِنَّ الْاَبْرَارَ يَشْرَبُوْنَ مِنْ كَاْسٍ كَانَ مِزَاجُهَا كَافُوْرًا» [ الدہر: ۲ تا ۵ ] ”بلاشبہ ہم نے انسان کو ایک ملے جلے قطرے سے پیدا کیا، ہم اسے آزماتے ہیں، سو ہم نے اسے خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا بنا دیا۔بلاشبہ ہم نے اسے راستہ دکھا دیا، خواہ وہ شکر کرنے والا بنے اور خواہ نا شکرا۔یقینا ہم نے کافروں کے لیے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ تیار کی ہے۔بلاشبہ نیک لوگ ایسے جام سے پییں گے جس میں کافور ملا ہوا ہو گا۔“ ➋ اس آیت سے معلوم ہوا کہ خلق کے وقت کوئی کافر نہیں ہوتا، بلکہ پیدا ہوتے وقت ہر انسان فطرت پر ہوتا ہے، پھر بعد میں کفر اختیار کرتاہے یا ایمان پر قائم رہتا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ روم (۳۰ تا ۳۲) کی تفسیر۔ ➌ یہ بھی معلوم ہوا کہ تمام لوگوں کی دو ہی قسمیں ہیں، یا تو مومن ہیں جو اللہ تعالیٰ پر، اس کے فرشتوں پر، اس کی کتابوں پر، اس کے رسولوں پر، یوم آخرت پر اور تقدیر پر ایمان رکھتے ہیں یا پھر کافر ہیں، تیسری کوئی قسم نہیں جو نہ مومن ہوں نہ کافر۔ مومن گناہ کرے تو اس کی وجہ سے اسے ایمان سے خارج یا کافر قرار نہیں دیاجائے گا اور نہ ہی یہ کہا جائے گا کہ یہ نہ مومن ہے نہ کافر، بلکہ وہ ناقص ایمان والا مومن ہے اور اسے اس وقت تک مومن ہی کہا جائے گا جب تک وہ ان چیزوں پر ایمان رکھتا ہے جن کا دین ہونا سب کو معلوم ہے۔ اگر وہ ان میں سے کسی چیز کا انکار کرے یا ایسا کام کرے جو مرتد ہونے کی علامت ہے تو پھر وہ مومن نہیں بلکہ کافر ہے۔
اس نے زمین اور آسمانوں کو برحق پیدا کیا ہے، اور تمہاری صورت بنائی اور بڑی عمدہ بنائی ہے، اور اسی کی طرف آخرکار تمہیں پلٹنا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اسی نے آسمانوں کو اور زمین کو عدل وحکمت سے پیدا کیا، اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں اور بہت اچھی بنائیں اور اسی کی طرف لوٹنا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اس نے آسمان اور زمین حق کے ساتھ بنائے اور تمہاری تصویر کی تو تمہاری اچھی صورت بنائی اور اسی کی طرف پھرنا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اوراس نے تمہاری صورت گری کی تو تمہاری بہت اچھی صورتیں بنائیں اور اسی کی طرف (سب نے) لوٹ کر جانا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اس نے آسمانوں کو اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور اس نے تمھاری صورتیں بنائیں تو تمھاری صورتیں اچھی بنائیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر التغابن ٭٭
مسبحات کی سورتوں میں سب سے آخری سورت یہی ہے، مخلوقات کی تسبیح الٰہی کا بیان کئی دفعہ ہو چکا ہے، ملک و حمد والا اللہ ہی ہے ہر چیز پر اس کی حکومت کام میں اور ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے میں۔ وہ تعریف کا مستحق، جس چیز کا ارادہ کرے اس کو پورا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے، نہ کوئی اس کا مزاحم بن سکے، نہ اسے کوئی روک سکے وہ اگر نہ چاہے تو کچھ بھی نہ ہو، وہی تمام مخلوق کا خالق ہے اس کے ارادے سے بعض انسان کافر ہوئے بعض مومن، وہ بخوبی جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے؟ اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ اپنے بندوں کے اعمال پر شاہد ہے اور ہر ایک عمل کا پورا پورا بدلے دے گا، اس نے عدل و حکمت کے ساتھ آسمان و زمین کی پیدائش کی ہے، اسی نے تمہیں پاکیزہ اور خوبصورت شکلیں دے رکھی ہیں۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» ۱؎ [82-الانفطار:6-8] ’ اے انسان تجھے تیرے رب کریم سے کس چیز نے غافل کر دیا، اسی نے تجھے پیدا کیا، پھر درست کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اور جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دی ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ» ۱؎ [40-غافر:64] ، ’ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہیں بہترین صورتیں دیں اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو عنایت فرمائیں ‘۔ آخر سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے، آسمان و زمین اور ہر نفس اور کل کائنات کا علم اسے حاصل ہے یہاں تک کہ دل کے ارادوں اور پوشیدہ باتوں سے بھی وہ واقف ہے۔
3۔ 1 اور وہ عدل و حکمت یہی ہے کہ محسن کو احسان کی اور بدکار کو اس کی بدی کی جزا دے، چناچہ وہ اس عدل کا مکمل اہتمام قیامت والے دن فرمائے گا۔ 3۔ 2 تمہاری شکل وصورت، قدو قامت اور خدوخال نہایت خوبصورت بنائے۔ جس سے اللہ کی دوسری مخلوق محروم ہے۔ 3۔ 2 کسی اور کی طرف نہیں، کہ اللہ کے محاسبے اور مؤاخذے سے بچاؤ ہوجائے۔
(آیت 3) ➊ { خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ:} حق سے مراد یہاں حکمت و مصلحت ہے اور ان کی پیدائش کی بے شمار حکمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان کی پیدائش سے پہلے ہی ا للہ تعالیٰ نے ایسی تمام چیزیں پیدا فرما دیں جو انسان کی بقا کے لیے ضروری تھیں اور انھیں انسان کی خدمت پر مامور کر دیا، جیسا کہ فرمایا: «هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا» [البقرۃ: ۲۹ ] ”وہی ہے جس نے زمین میں جو کچھ ہے سب تمھارے لیے پیدا کیا۔“ مزید دیکھیے سورۂ زمر (۵)۔ ➋ { وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ:} اللہ تعالیٰ نے جو چیز پیدا فرمائی اچھی پیدا فرمائی۔ (دیکھیے سجدہ: ۷) یہاں فرمایا کہ اس نے تمھاری صورت بنائی تو تمھاری صورتیں اچھی بنائیں۔ (دیکھیے مومن: ۶۴۔ انفطار: ۶ تا ۸) دوسری جگہ فرمایا کہ ہم نے انسان کو (اچھی ہی نہیں بلکہ) سب سے اچھی بناوٹ میں پیدا فرمایا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ» [ التین: ۴ ] ”بلاشبہ یقینا ہم نے انسان کو سب سے اچھی بناوٹ میں پیدا کیا ہے۔ “ ظاہری شکل و صورت میں بھی اور ذہنی اور عقلی استعداد کے لحاظ سے بھی انسان کو بہترین بناوٹ عطا ہوئی ہے، کسی دوسری مخلوق میں ایسی عقلی استعداد نہیں ہے۔ کوئی انسان کتنا بھی بدصورت ہو، کبھی نہیں چاہے گا کہ اسے کسی اور مخلوق کی شکل میں تبدیل کر دیا جائے، خواہ وہ کتنی خوبصورت ہو۔ ➌ { وَ اِلَيْهِ الْمَصِيْرُ:} یعنی ساری کائنات کی پیدائش خصوصاً انسان کو اتنی بہترین بناوٹ میں پیدا کرنا بے مقصد نہیں بلکہ تمھاری آزمائش کے لیے ہے، جیسا کہ فرمایا: «لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا» [ ہود: ۷ ] ”تاکہ وہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے۔“ اور اس کے لیے تمھیں مرنے کے بعد قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہو کر اس کی طرف واپس جانا ہے۔
زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا اسے علم ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو سب اس کو معلوم ہے، اور وہ دلوں کا حال تک جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه آسمان وزمین کی ہر ہر چیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ تم چھپاؤ اور جو ﻇاہر کرو وه (سب کو) جانتا ہے۔ اللہ تو سینوں کی باتوں تک کو جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جانتا ہے جو تم چھپاتے اور ظاہر کرتے ہو، اور اللہ دلوں کی بات جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو آسمانوں اور زمین میں ہے اوروہ اسے بھی جانتا ہے جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو اور اللہ تو سینوں کے بھیدوں کا بھی خوب جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں اور زمین میں ہے اور جانتا ہے جو تم چھپاتے ہو اور جو ظاہر کرتے ہو اور اللہ سینوں والی بات کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر التغابن ٭٭
مسبحات کی سورتوں میں سب سے آخری سورت یہی ہے، مخلوقات کی تسبیح الٰہی کا بیان کئی دفعہ ہو چکا ہے، ملک و حمد والا اللہ ہی ہے ہر چیز پر اس کی حکومت کام میں اور ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے میں۔ وہ تعریف کا مستحق، جس چیز کا ارادہ کرے اس کو پورا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے، نہ کوئی اس کا مزاحم بن سکے، نہ اسے کوئی روک سکے وہ اگر نہ چاہے تو کچھ بھی نہ ہو، وہی تمام مخلوق کا خالق ہے اس کے ارادے سے بعض انسان کافر ہوئے بعض مومن، وہ بخوبی جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے؟ اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ اپنے بندوں کے اعمال پر شاہد ہے اور ہر ایک عمل کا پورا پورا بدلے دے گا، اس نے عدل و حکمت کے ساتھ آسمان و زمین کی پیدائش کی ہے، اسی نے تمہیں پاکیزہ اور خوبصورت شکلیں دے رکھی ہیں۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» ۱؎ [82-الانفطار:6-8] ’ اے انسان تجھے تیرے رب کریم سے کس چیز نے غافل کر دیا، اسی نے تجھے پیدا کیا، پھر درست کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اور جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دی ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ» ۱؎ [40-غافر:64] ، ’ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہیں بہترین صورتیں دیں اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو عنایت فرمائیں ‘۔ آخر سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے، آسمان و زمین اور ہر نفس اور کل کائنات کا علم اسے حاصل ہے یہاں تک کہ دل کے ارادوں اور پوشیدہ باتوں سے بھی وہ واقف ہے۔
4۔ 1 یعنی اس کا علم کائنات ارضی و سماوی سب پر محیط ہے بلکہ تمہارے سینوں کے رازوں تک سے واقف ہے، اس سے قبل جو وعدے اور وعیدین بیان ہوئی ہیں، یہ ان کی تاکید ہے۔
(آیت 4) {يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ يَعْلَمُ …:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ جب انسان کے جسم کا ہر ذرہ منتشر ہو جائے گا اور اس نے جو کچھ کیا وہ معدوم ہوچکا ہو گا تو اسے دوبارہ کیسے زندہ کیا جائے گا اور اس کے اعمال کی کسی کو کیا خبر ہو گی کہ ان کے مطابق اسے جزا یا سزا دی جائے۔ فرمایا وہ ہر اس چیز کو جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے (اور وہ ہر جاندار کے زندگی میں ٹھکانے کو جانتا ہے اور اس بات کو بھی کہ مرنے کے بعد وہ کہاں ہے۔ دیکھیے ہود: ۶) اس لیے اسے کچھ مشکل نہیں کہ جو جہاں بھی ہے اسے دوبارہ زندہ کر دے اور وہ تمھارے تمام اعمال سے واقف ہے خواہ تم انھیں چھپاتے ہو یا ظاہر کرتے ہو۔ (دیکھیے رعد: ۹، ۱۰) بلکہ وہ سینوں کی بات اور نیتوں کو بھی خوب جاننے والا ہے، سو اس کے لیے تمھارے اعمال کا محاسبہ کچھ مشکل نہیں۔ پچھلی آیات میں مذکور صفات خصوصاً خلق میں اس کی کامل قدرت کا بیان تھا، اس آیت میں اس کے کامل علم کا بیان ہے، پھر جو علیم بھی ہے اور قدیر بھی اور جس نے پہلے ہر چیز کو پیدا کیا اور ہر چیز کا پورا علم رکھتا ہے، وہ تمھیں دوبارہ پید اکیوں نہیں کرسکتا اور محاسبہ کیوں نہیں کرسکتا؟
کیا تمہیں اُن لوگوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے اِس سے پہلے کفر کیا اور پھر اپنی شامت اعمال کا مزہ چکھ لیا؟ اور آگے اُن کے لیے ایک دردناک عذاب ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تمہارے پاس اس سے پہلے کے کافروں کی خبر نہیں پہنچی؟ جنہوں نے اپنے اعمال کا وبال چکھ لیا اور جن کے لیے دردناک عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا تمہیں ان کی خبر نہ آئی جنہوں نے تم سے پہلے کفر کیا اور اپنے کام کا وبال چکھا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تمہیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے اس سے پہلے کفر کیا اور اپنے کئے (کفر) کا وبال چکھا اور ان کے لئے دردناک عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تمھارے پاس ان لوگوں کی خبر نہیں آئی جنھوںنے اس سے پہلے کفر کیا، پھر اپنے کام کا وبال چکھا اور ان کے لیے دردناک عذاب ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سابقہ واقعات سے سبق لو ٭٭
یہاں گزشتہ کافروں کے کفر اور ان کی بری سزا اور بدترین بدلے کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ کیا تمہیں تم سے پہلے منکروں کا حال معلوم نہیں؟ کہ رسولوں کی مخالفت اور حق کی تکذیب کیا رنگ لائی؟ دنیا اور آخرت میں برباد ہو گئے یہاں بھی اپنے بدافعال کا خمیازہ بھگتا اور وہاں کا بھگتنا ابھی باقی ہے جو نہایت الم انگیز ہے ‘۔ اس کی وجہ سوا اس کے کچھ بھی نہیں کہ دلائل و براہین اور روشن نشان کے ساتھ جو انبیاء اللہ علیہ السلام ان کے پاس آئے انہوں نے انہیں نہ مانا اور اپنے نزدیک اسے محال جانا کہ انسان پیغمبر ہو، اور انہی جیسے ایک آدم زاد کے ہاتھ پر انہیں ہدایت دی جائے، پس انکار کر بیٹھے اور عمل چھوڑ دیا، اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے بےپرواہی برتی وہ تو غنی ہے ہی اور ساتھ ہی حمد و ثناء کے لائق بھی۔
5۔ 1 یعنی دنیاوی عذاب کے علاوہ آخرت میں۔ 5۔ 2 یہ اشارہ ہے اس عذاب کی طرف جو دنیا میں انہیں ملا اور آخرت میں بھی انہیں ملے گا۔
(آیت 5) ➊ { اَلَمْ يَاْتِكُمْ نَبَؤُا الَّذِيْنَ كَفَرُوْا مِنْ قَبْلُ فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ:} یعنی اگر تم اپنے اس خالق پر ایمان نہ لائے اور اس کے ساتھ کفر پر ڈٹے رہے جو ان صفات کا مالک ہے اور جس کی طرف تمھیں واپس جانا ہے، تو کیا تمھیں ان لوگوں کی خبر نہیں پہنچی جنھوں نے اس سے پہلے اپنے خالق و مالک کے علاوہ اس کے رسولوں اور آخرت کا بھی انکار کیا، مثلاً قوم نوح، عاد و ثمود اور آل فرعون وغیرہ جو مال و دولت اور قوت و شوکت میں تم سے کہیں زیادہ تھے۔ (دیکھیے روم: ۹) قریش مکہ کا گزر اکثر شام اور یمن کی طرف سفر میں ان کی برباد شدہ بستیوں پرہوتا تھا اورعرب میں ان کے واقعات مشہور تھے۔ ➋ { فَذَاقُوْا وَبَالَ اَمْرِهِمْ وَ لَهُمْ عَذَابٌ اَلِيْمٌ:} یعنی انھوں نے دنیا ہی میں اپنے کفر اور سرکشی کا وبال چکھ لیا، مگر یہ ان کی پوری اور اصل سزا نہ تھی بلکہ یہ صرف دنیا میں ان کے اعمال بد کا نتیجہ تھا جو دوسروں کو عبرت دلانے کے لیے دکھایا گیا تھا، جس سے تمھیں بھی عبرت حاصل کرنی چاہیے۔ اصل سزا کے طور پر ان کے لیے نہایت درد ناک عذاب تیار ہے۔
اِس انجام کے مستحق وہ اس لیے ہوئے کہ اُن کے پاس اُن کے رسول کھلی کھلی دلیلیں اور نشانیاں لے کر آتے رہے، مگر اُنہوں نے کہا "کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے؟" اس طرح انہوں نے ماننے سے انکار کر دیا اور منہ پھیر لیا، تب اللہ بھی ان سے بے پروا ہو گیا اور اللہ تو ہے ہی بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود
مولانا محمد جوناگڑھی
یہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دﻻئل لے کر آئے تو انہوں نے کہہ دیا کہ کیا انسان ہماری رہنمائی کرے گا؟ پس انکار کر دیا اور منھ پھیر لیا اور اللہ نے بھی بےنیازی کی، اور اللہ تو ہے ہی بہت بےنیاز سب خوبیوں واﻻ
احمد رضا خان بریلوی
یہ اس لیے کہ ان کے پاس ان کے رسول روشن دلیلیں لاتے تو بولے، کیا آدمی ہمیں راہ بتائیں گے تو کافر ہوئے اور پھر گئے اور اللہ نے بے نیازی کو کام فرمایا، اور اللہ بے نیاز ہے سب خوبیوں سراہا،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ اس لئے ہوا کہ ان کے رسول(ص) کھلی ہوئی دلیلیں لے کر ان کے پاس آتے رہے تو انہوں نے کہا کیا بشر ہماری رہبری کریں گے؟ پس(اس طرح) انہوں نے کفر اختیار کیا اور رُوگردانی کی اور اللہ نے (بھی ان کی) کوئی پروا نہ کی (کیونکہ) اللہ بےنیاز (اور) سزاوارِ حمد و ثنا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ اس لیے کہ حقیقت یہ ہے کہ ان کے پاس ان کے رسول واضح دلیلیں لے کر آتے تھے تو انھوں نے کہا کیا کوئی بشرہماری رہنمائی کریں گے؟ پس انھوں نے انکار کر دیا اور منہ پھیر لیا اور اللہ نے پروا نہ کی اور اللہ بے پروا ہے، تمام خوبیوں والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سابقہ واقعات سے سبق لو ٭٭
یہاں گزشتہ کافروں کے کفر اور ان کی بری سزا اور بدترین بدلے کا ذکر ہو رہا ہے کہ ’ کیا تمہیں تم سے پہلے منکروں کا حال معلوم نہیں؟ کہ رسولوں کی مخالفت اور حق کی تکذیب کیا رنگ لائی؟ دنیا اور آخرت میں برباد ہو گئے یہاں بھی اپنے بدافعال کا خمیازہ بھگتا اور وہاں کا بھگتنا ابھی باقی ہے جو نہایت الم انگیز ہے ‘۔ اس کی وجہ سوا اس کے کچھ بھی نہیں کہ دلائل و براہین اور روشن نشان کے ساتھ جو انبیاء اللہ علیہ السلام ان کے پاس آئے انہوں نے انہیں نہ مانا اور اپنے نزدیک اسے محال جانا کہ انسان پیغمبر ہو، اور انہی جیسے ایک آدم زاد کے ہاتھ پر انہیں ہدایت دی جائے، پس انکار کر بیٹھے اور عمل چھوڑ دیا، اللہ تعالیٰ نے بھی ان سے بےپرواہی برتی وہ تو غنی ہے ہی اور ساتھ ہی حمد و ثناء کے لائق بھی۔
6۔ 1 چناچہ اس بنا پر انہوں نے رسولوں کو رسول ما ننے سے اور ان پر ایمان لانے سے انکار کردیا۔ 6۔ 2 یعنی ان سے اعراض کیا اور جو دعوت وہ پیش کرتے تھے، اس پر انہوں نے غور و تدبر ہی نہیں کیا۔ 6۔ 3 یعنی ان کے ایمان اور ان کی عبادت سے۔ 6۔ 4 اس کو کسی کی عبادت سے کیا فائدہ اور اس کی عبادت سے انکار کرنے سے کیا نقصان؟ 6 ۔ 5 یا محمود ہے تمام مخلوقات کی طرف سے یعنی ہر مخلوق زبان حال وقال سے اس کی حمد و تعریف میں رطب اللسان ہے۔
(آیت 6) ➊ { ذٰلِكَ بِاَنَّهٗ كَانَتْ تَّاْتِيْهِمْ رُسُلُهُمْ بِالْبَيِّنٰتِ: ” بِاَنَّهٗ “} میں {” هٗ “} ضمیر کو ضمیر شان کہا جاتا ہے، اس کا مقصد اس بات کی اہمیت کا اظہار ہوتا ہے جو بعد میں آ رہی ہوتی ہے۔”بینات“ کا لفظی معنی واضح اور روشن چیزیں ہے۔ رسول جو بینات لے کر آئے ان میں وہ معجزے بھی شامل ہیں جو ان کی رسالت کی واضح دلیل تھے اور اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ آیات اور عقلی دلائل بھی جو بالکل واضح اور روشن تھے، جنھیں سمجھنے میں کوئی دشواری نہیں تھی، ان بینات کو دیکھ اور سن کر ان کے رسول ہونے کا یقین حاصل ہوتا تھا۔ ➋ { فَقَالُوْۤا اَبَشَرٌ يَّهْدُوْنَنَا: ”بَشَرٌ “} اسم جنس ہے جو جمع پر بھی بولا جاتا ہے، جیسا کہ یہاں {” يَهْدُوْنَنَا “} سے ظاہر ہے اور واحد پر بھی، جیسا کہ فرمایا: «اَبَشَرًا مِّنَّا وَاحِدًا نَّتَّبِعُهٗۤ» [ القمر: ۲۴ ] ”کیا ایک آدمی جو ہمیں سے ہے اکیلا، ہم اس کے پیچھے لگ جائیں؟ “کفار کے قول میں {” بَشَرٌ “} کو تحقیر کے لیے بطور نکرہ استعمال کیا گیا ہے، گویا وہ کہہ رہے ہیں ”کیا یہ عام سے بشرہماری رہنمائی کریں گے؟“وہ کسی بشر کو رسول ماننے کے لیے تیار نہیں تھے، خواہ اس کی رسالت ہر طرح سے ثابت ہوجائے۔ ان کے خیال میں رسول فرشتہ ہوناچاہیے یا خود اللہ تعالیٰ کو ان کے پاس آنا چاہیے۔ (دیکھیے فرقان: ۲۱) یہی وتیرہ پہلے تمام انبیاء کے منکرین کا تھا اور یہی کفار قریش نے اختیار کیا۔ اللہ تعالیٰ نے متعدد مقامات پر ان کے اس باطل خیال کا ذکر کیا اور اس کا ردّ فرمایا۔ دیکھیے بنی اسرائیل(95،94)، ابراہیم (11،10)، کہف (۱۱۰)، مومنون (۳۳)، شعراء (۸۶)، یٰس (۱۵) اور سورۂ انعام(۹۱)۔ ➌ { فَكَفَرُوْا وَ تَوَلَّوْا وَّ اسْتَغْنَى اللّٰهُ…:} جب انھوں نے بشر کی رسالت کو محال قرار دیا تو اس کا واضح نتیجہ یہی تھا کہ انھوں نے رسولوں پر ایمان لانے سے انکار کر دیا اور منہ پھیر لیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی کچھ پروا نہ کی، کیونکہ اللہ تعالیٰ کسی کا محتاج نہیں، وہ ساری کائنات سے مستغنی اور بے پروا ہے۔ وہ اکیلا تمام خوبیوں کا مالک ہے، کسی کے کفر سے اسے کوئی نقصان نہیں اور نہ ہی کسی کے ایمان سے اس کا کوئی فائدہ ہے۔ ایمان کا فائدہ اور کفر کا نقصان خود انسان ہی کو ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ آلِ عمران(۹۷) اور سورۂ زمر (۷) کی تفسیر۔ ➍ کفار کا معاملہ عجیب ہے، وہ بشر کو رسول ماننے کے لیے تیار نہیں مگر پتھر، لکڑی اور دھات کے بتوں کو رب مانتے ہیں، وہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے نازل کردہ بینات دیکھ کر بھی یہ کہہ کر ایمان نہیں لاتے کہ”کیا کوئی بشر ہماری رہنمائی کریں گے؟ “ گویا انھیں کسی بشر کی رہنمائی قبول نہیں، خواہ وہ کتنی درست اور کتنی عمدہ ہو، جبکہ وہ اپنے بڑوں کی غلط راہ پر اندھا دھند چل رہے ہیں، حالانکہ وہ بھی بشر تھے، جیساکہ فرمایا: «قَالُوْۤا اِنَّا وَجَدْنَاۤ اٰبَآءَنَا عَلٰۤى اُمَّةٍ وَّ اِنَّا عَلٰۤى اٰثٰرِهِمْ مُّهْتَدُوْنَ» [ الزخرف: ۲۲ ] ”انھوں نے کہا کہ بے شک ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک راستے پر پایا ہے اور بے شک ہم انھی کے قدموں کے نشانوں پر راہ پانے والے ہیں۔“ اگر کسی بشر کی راہ پر چلنا انھیں منظور نہیں تو بڑوں کی راہ پر کیوں چلتے ہیں؟ اصل بات یہ ہے کہ وہ اللہ کی راہ پر چلنے کے لیے تیار نہیں، کیونکہ شیطان نے انھیں اور ان کے بڑوں کو اپنی راہ پر لگا رکھا ہے۔
منکرین نے بڑے دعوے سے کہا ہے کہ وہ مرنے کے بعد ہرگز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے ان سے کہو "نہیں، میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے، پھر ضرور تمہیں بتایا جائے گا کہ تم نے (دنیا میں) کیا کچھ کیا ہے، اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے"
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کافروں نے خیال کیا ہے کہ دوباره زنده نہ کیے جائیں گے۔ آپ کہہ دیجئے کہ کیوں نہیں اللہ کی قسم! تم ضرور دوباره اٹھائے جاؤ گے پھر جو تم نے کیا ہے اس کی خبر دیئے جاؤ گے اور اللہ پر یہ بالکل ہی آسان ہے
احمد رضا خان بریلوی
کافروں نے بکا کہ وہ ہرگز نہ اٹھائے جائیں گے، تم فرماؤ کیوں نہیں میرے رب کی قسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر تمہارے کوتک تمہیں جتا دیے جائیں گے، اور یہ اللہ کو آسان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
کافر لوگ خیال کرتے ہیں کہ وہ (مر نے کے بعد) دوبارہ نہیں اٹھائے جائیں گے آپ(ص) کہئے! ہاں میرے پروردگار کی قَسم تم ضرور اٹھائے جاؤ گے پھر تمہیں بتایا جائے گا جو کچھ تم نے کیا ہوگا اور یہ کام اللہ کیلئے بالکل آسان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا انھوں نے گمان کیا کہ وہ ہرگز اٹھائے نہیں جائیں گے۔ کہہ دے کیوں نہیں؟ میرے رب کی قسم! تم ضرور بالضرور اٹھائے جاؤ گے، پھر تمھیں ضرور بالضرور بتایا جائے گا جو تم نے کیا اور یہ اللہ پربہت آسان ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منکرین قیامت مشرکین و ملحدین ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ کفار مشرکین ملحدین کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد نہیں اٹھیں گے، اے نبی! تم ان سے کہہ دو کہ ہاں اٹھو گے، پھر تمہارے تمام چھوٹے بڑے، چھپے کھلے اعمال کا اظہار تم پر کیا جائے گا، سنو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا تمہیں بدلے دینا وغیرہ تمام کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہیں ‘۔ یہ تیسری آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم کھا کر قیامت کی حقانیت کے بیان کرنے کو فرمایا ہے۔ پہلی آیت تو سورۃ یونس میں ہے «وَيَسْتَنبِئُونَكَ أَحَقٌّ هُوَ قُلْ إِي وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقٌّ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ» ۱؎ [10-یونس:53] یعنی ’ یہ لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ حق ہے؟ تو کہہ میرے رب کی قسم وہ حق ہے اور تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے ‘۔ دوسری آیت سورۃ سبا میں ہے «وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ» ۱؎ [34-سبأ:3] ’ کافر کہتے ہیں ہم پر قیامت نہ آئے گی تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم یقیناً اور بالضرور آئے گی ‘۔ اور تیسری آیت یہی «زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ» ۱؎ [64-التغابن:7] پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اللہ پر، رسول پر، نور منزل یعنی قرآن کریم پر ایمان لاؤ تمہارا کوئی خفیہ عمل بھی اللہ تعالیٰ پر پوشیدہ نہیں۔ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تم سب کو جمع کرے گا اور اسی لیے اس کا نام «یوم الجمع» ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» ۱؎ [11-ھود:103] ’ یہ لوگوں کے جمع کئے جانے اور ان کے حاضر باش ہونے کا دن ہے ‘۔ اور جگہ ہے «قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ» ۱؎ [56-الواقعة:49-50] یعنی ’ قیامت والے دن تمام اولین اور آخرین جمع کئے جائیں گے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «یوم التغابن» قیامت کا ایک نام ہے، اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اہل جنت، اہل دوزخ کو نقصان میں ڈالیں گے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے زیادہ «تغابن» کیا ہو گا کہ ان کے سامنے انہیں جنت میں اور ان کے سامنے انہیں جہنم میں لے جائیں گے۔“ گویا اسی کی تفسیر اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ ایماندار، نیک اعمال والوں کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت میں انہیں داخل کیا جائے گا اور پوری کامیابی کو پہنچ جائے گا اور کفر و تکذیب کرنے والے جہنم کی آگ میں جائیں گے جہاں ہمیشہ جلنے کا عذاب پاتے رہیں گے بھلا اس سے برا ٹھکانا اور کیا ہو سکتا ہے؟
7۔ 1 یعنی یہ عقیدہ کے قیامت والے دن دوبارہ زندہ نہیں کیے جائیں گے یہ کافروں کا محض گمان ہے جس کی پشت پر دلیل کوئی نہیں۔ زعم کا اطلاق کذب پر بھی ہوتا ہے۔ 7۔ 2 قرآن مجید میں تین مقامات پر اللہ نے اپنے رسول کو یہ حکم دیا کہ وہ اپنے رب کی قسم کھا کر یہ اعلان کرے کہ اللہ تعالیٰ ضرور دوبارہ زندہ فرمائے گا۔ ان میں سے ایک یہ مقام ہے اس سے قبل ایک مقام سورة یونس، اور دوسرا مقام سورة سبا ہے۔ 7۔ 3 یہ وقوع قیامت کی حکمت ہے کہ آخر اللہ تعالیٰ تمام انسانوں کو کیوں دوبارہ زندہ کرے گا؟ تاکہ وہاں پر ہر ایک کو اس کے عمل کی پوری جزا دی جائے۔ 7۔ 4 یہ دوبارہ زندگی، انسانوں کو کتنی ہی مشکل نظر آتی ہو، لیکن اللہ کے لئے بالکل آسان ہے۔
(آیت 7) ➊ {زَعَمَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَنْ لَّنْ يُّبْعَثُوْا: ” زَعَمَ “} کا لفظ گمان کرنے کے معنی میں بھی آتا ہے، کسی بات کا دعویٰ کرنے کے معنی میں بھی اور جھوٹ کہنے کے معنی میں بھی۔ اللہ تعالیٰ نے کفار کا دعویٰ حرف تاکید {” لَنْ “} کے ساتھ ذکر فرمایا، مگر یہ دعویٰ کرنے کو زعم قرار دیا۔ گویا ان کا تاکید کے ساتھ کہنا کہ انھیں ہر گز اٹھایا نہیں جائے گا، سراسر گمان اور جھوٹ ہے۔ گمان اس لیے کہ ان کے پاس کوئی ایسا ذریعۂ علم نہیں جس کی بنیاد پر وہ یقین سے کہہ سکیں کہ دوبارہ زندگی نہیں ہوسکتی۔ انسان کے پاس ایسا ذریعۂ علم نہ کبھی آج سے پہلے تھا، نہ آج ہے اور نہ ہی آئندہ ہو سکتا ہے، پھر اس دعویٰ کو اس زور شور سے بیان کرنا کیا معنی رکھتا ہے؟ انسان زیادہ سے زیادہ یہی کچھ کہہ سکتا ہے کہ مرنے کے بعد جی اٹھنے اور نہ اٹھنے کے دونوں احتمال موجود ہیں، لیکن جی اٹھنے کی تردید میں وہ کوئی دلیل پیش نہیں کرسکتا۔ ➋ { قُلْ بَلٰى وَ رَبِّيْ لَتُبْعَثُنَّ:} یعنی جب وہ محض گمان کی بنیاد پر اتنی تاکید کے ساتھ قیامت کا انکار کر رہے ہیں تو آپ ان کے ردّ میں اس سے زیادہ تاکید کے ساتھ کہیں کہ میں تمھارے اس دعوے کے مقابلے میں اللہ کی طرف سے وحی کے علم کی بنیاد پر پورے یقین کے ساتھ اپنے رب کی قسم اٹھا کر کہتا ہوں کہ تم ضرور بالضرور اٹھائے جاؤ گے۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مخاطب مانتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے کبھی جھوٹ نہیں بولا۔ اللہ تعالیٰ نے آپ کو قسم کے ساتھ یہ بات کہنے کا حکم دیا، تاکہ انھیں اس کا یقین ہو جائے، کیونکہ انسان کی عادت ہے کہ قسم کھا کر بات کی جائے تو اسے یقین ہو جاتا ہے۔یہ تیسری جگہ ہے جہاں اللہ تعالیٰ نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم کھا کر قیامت کا یقین دلانے کا حکم دیا ہے۔ پہلے سورۂ یونس میں فرمایا: «وَ يَسْتَنْۢبِـُٔوْنَكَ اَحَقٌّ هُوَ قُلْ اِيْ وَ رَبِّيْۤ اِنَّهٗ لَحَقٌّ وَ مَاۤ اَنْتُمْ بِمُعْجِزِيْنَ» [ یونس: ۵۳ ] ” اور وہ تجھ سے پوچھتے ہیں کیا یہ سچ ہی ہے؟ تو کہہ ہاں! مجھے اپنے رب کی قسم! یقینا یہ ضرور سچ ہے اور تم ہر گز عاجز کرنے والے نہیں ہو۔“ پھر سورۂ سبا میں فرمایا: «وَ قَالَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا لَا تَاْتِيْنَا السَّاعَةُ قُلْ بَلٰى وَ رَبِّيْ لَتَاْتِيَنَّكُمْ» [ سبا: ۳ ] ”اور ان لوگوں نے کہا جنھوں نے کفر کیا ہم پر قیامت نہیں آئے گی۔ کہہ دے کیوں نہیں، قسم ہے میرے رب کی! وہ تم پر ضرور ہی آئے گی۔ “ ➌ { ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ:} اس میں دوبارہ زندہ کیے جانے کا مقصد بیان فرمایا کہ ساری کائنات کو تمھارے فائدے کے لیے مسخر کرنے اور تمھیں ایمان و کفرمیں اختیار دینے کے بعد یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ تم سے کوئی بازپرس ہی نہ کی جائے؟ اس لیے اٹھائے جانے کے بعد تمھیں وہ سب کچھ ضرور بالضرور بتایا جائے گا جو تم نے کیا۔ بتانے سے مراد محاسبہ اور سزا دینا ہے، جیسا کہ دھمکی دیتے ہوئے کہا جاتا ہے کہ میں بہت جلد تمھیں بتاؤں گا کہ تم نے کیا کیا۔ ➍ {وَ ذٰلِكَ عَلَى اللّٰهِ يَسِيْرٌ:} یعنی تمھیں دوبارہ زندہ کرنا اللہ تعالیٰ کے لیے بہت آسان اور بالکل معمولی بات ہے، کیونکہ جس نے تمھیں پہلی دفعہ بنا لیا اس کے لیے دوبارہ بنا لینا تو زیادہ آسان ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ یٰس (79،78)، لقمان(۲۸) اور سورۂ روم (۲۷)کی تفسیر۔ کفارِ مکہ جیسا کہ متعدد آیات سے ظاہر ہے، اس بات کے قائل تھے کہ انسانوں کو اللہ تعالیٰ ہی نے پیدا کیا ہے۔
پس ایمان لاؤ اللہ پر، اور اُس کے رسول پر، اور اُس روشنی پر جو ہم نے نازل کی ہے جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
سو تم اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس نور پر جسے ہم نے نازل فرمایا ہے ایمان ﻻؤ اور اللہ تعالیٰ تمہارے ہر عمل پر باخبر ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو ایمان لاؤ اللہ اور اس کے رسول اور اس نور پر جو ہم نے اتارا، اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
تو تم اللہ اور اس کے رسول(ص) پر ایمان لاؤ اور اس نور پر جو ہم نے نازل کیا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہواللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
سو تم اللہ اور اس کے رسول اور اس نور پر ایمان لاؤ جو ہم نے نازل کیا اوراللہ اس سے جو تم کرتے ہو، خوب با خبر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منکرین قیامت مشرکین و ملحدین ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ کفار مشرکین ملحدین کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد نہیں اٹھیں گے، اے نبی! تم ان سے کہہ دو کہ ہاں اٹھو گے، پھر تمہارے تمام چھوٹے بڑے، چھپے کھلے اعمال کا اظہار تم پر کیا جائے گا، سنو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا تمہیں بدلے دینا وغیرہ تمام کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہیں ‘۔ یہ تیسری آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم کھا کر قیامت کی حقانیت کے بیان کرنے کو فرمایا ہے۔ پہلی آیت تو سورۃ یونس میں ہے «وَيَسْتَنبِئُونَكَ أَحَقٌّ هُوَ قُلْ إِي وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقٌّ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ» ۱؎ [10-یونس:53] یعنی ’ یہ لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ حق ہے؟ تو کہہ میرے رب کی قسم وہ حق ہے اور تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے ‘۔ دوسری آیت سورۃ سبا میں ہے «وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ» ۱؎ [34-سبأ:3] ’ کافر کہتے ہیں ہم پر قیامت نہ آئے گی تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم یقیناً اور بالضرور آئے گی ‘۔ اور تیسری آیت یہی «زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ» ۱؎ [64-التغابن:7] پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اللہ پر، رسول پر، نور منزل یعنی قرآن کریم پر ایمان لاؤ تمہارا کوئی خفیہ عمل بھی اللہ تعالیٰ پر پوشیدہ نہیں۔ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تم سب کو جمع کرے گا اور اسی لیے اس کا نام «یوم الجمع» ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» ۱؎ [11-ھود:103] ’ یہ لوگوں کے جمع کئے جانے اور ان کے حاضر باش ہونے کا دن ہے ‘۔ اور جگہ ہے «قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ» ۱؎ [56-الواقعة:49-50] یعنی ’ قیامت والے دن تمام اولین اور آخرین جمع کئے جائیں گے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «یوم التغابن» قیامت کا ایک نام ہے، اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اہل جنت، اہل دوزخ کو نقصان میں ڈالیں گے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے زیادہ «تغابن» کیا ہو گا کہ ان کے سامنے انہیں جنت میں اور ان کے سامنے انہیں جہنم میں لے جائیں گے۔“ گویا اسی کی تفسیر اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ ایماندار، نیک اعمال والوں کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت میں انہیں داخل کیا جائے گا اور پوری کامیابی کو پہنچ جائے گا اور کفر و تکذیب کرنے والے جہنم کی آگ میں جائیں گے جہاں ہمیشہ جلنے کا عذاب پاتے رہیں گے بھلا اس سے برا ٹھکانا اور کیا ہو سکتا ہے؟
8۔ 1 آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ نازل ہونے والا یہ نور قرآن مجید ہے، جس سے گمراہی کی تاریکیاں چھٹتی ہیں اور ایمان کی روشنی پھیلتی ہے۔
(آیت 8) ➊ {فَاٰمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ وَ النُّوْرِ الَّذِيْۤ اَنْزَلْنَا:} اس ”فاء“ کو فصیحہ کہتے ہیں، کیو نکہ وہ اس شرط کا اظہار کر رہی ہوتی ہے جو وہاں مقدر ہے، یعنی جب تم یہ سب کچھ جان چکے تو اللہ اور اس کے رسول اور اس نور پر ایمان لے آؤ جو ہم نے نازل کیا ہے، یعنی دل اور زبان سے انھیں سچا مان کر ان کے احکام کی پیروی کرو۔ {” النُّوْرِ “} سے مراد اللہ تعالیٰ کی نازل کردہ وحی ہے، کیونکہ اسی سے اللہ تعالیٰ تک پہنچنے کا راستہ روشن ہوتا ہے، اس میں قرآن و سنت دونوں شامل ہیں۔ دیکھیے سورہ شوریٰ(۵۲) کی تفسیر۔ ➋ {وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ:} خبیر ہونے کا مطلب یہ ہے کہ وہ تمھیں تمھارے اعمال کی جزا دے گا۔ اس میں ایمان لانے والوں کے لیے وعدہ اور ایمان نہ لانے والوں کے لیے وعید ہے۔
(اِس کا پتا تمہیں اس روز چل جائے گا) جب اجتماع کے دن وہ تم سب کو اکٹھا کرے گا وہ دن ہوگا ایک دوسرے کے مقابلے میں لوگوں کی ہار جیت کا جو اللہ پر ایمان لایا ہے اور نیک عمل کرتا ہے، اللہ اس کے گناہ جھاڑ دے گا اور اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن تم سب کو اس جمع ہونے کے دن جمع کرے گا وہی دن ہے ہار جیت کا اور جو شخص اللہ پر ایمان ﻻکر نیک عمل کرے اللہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا اور اسے جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے
احمد رضا خان بریلوی
جس دن تمہیں اکٹھا کرے گا سب جمع ہونے کے دن وہ دن ہے ہار والوں کی ہار کھلنے کا اور جو اللہ پر ایمان لائے اور اچھا کام کرے اللہ اس کی برائیاں اتاردے گا اور اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں کہ وہ ہمیشہ ان میں رہیں، یہی بڑی کامیابی ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
(اس دن کو یاد کرو) جس دن اللہ تمہیں اجتماع والے دن جمع کرے گا یہی دن باہمی گھاٹا اٹھانے کا دن ہوگا اور جو اللہ پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اللہ اس سے اس کی برائیاں (گناہ) دور کرے گا اور اسے ان باغہائے بہشت میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں رواں دواں ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن وہ تمھیں جمع کرنے کے دن کے لیے جمع کرے گا، وہی ہار جیت کا دن ہے اور جو اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا اور اسے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ہمیشہ ان میں رہنے والے ہیں ہمیشہ، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منکرین قیامت مشرکین و ملحدین ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ کفار مشرکین ملحدین کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد نہیں اٹھیں گے، اے نبی! تم ان سے کہہ دو کہ ہاں اٹھو گے، پھر تمہارے تمام چھوٹے بڑے، چھپے کھلے اعمال کا اظہار تم پر کیا جائے گا، سنو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا تمہیں بدلے دینا وغیرہ تمام کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہیں ‘۔ یہ تیسری آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم کھا کر قیامت کی حقانیت کے بیان کرنے کو فرمایا ہے۔ پہلی آیت تو سورۃ یونس میں ہے «وَيَسْتَنبِئُونَكَ أَحَقٌّ هُوَ قُلْ إِي وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقٌّ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ» ۱؎ [10-یونس:53] یعنی ’ یہ لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ حق ہے؟ تو کہہ میرے رب کی قسم وہ حق ہے اور تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے ‘۔ دوسری آیت سورۃ سبا میں ہے «وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ» ۱؎ [34-سبأ:3] ’ کافر کہتے ہیں ہم پر قیامت نہ آئے گی تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم یقیناً اور بالضرور آئے گی ‘۔ اور تیسری آیت یہی «زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ» ۱؎ [64-التغابن:7] پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اللہ پر، رسول پر، نور منزل یعنی قرآن کریم پر ایمان لاؤ تمہارا کوئی خفیہ عمل بھی اللہ تعالیٰ پر پوشیدہ نہیں۔ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تم سب کو جمع کرے گا اور اسی لیے اس کا نام «یوم الجمع» ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» ۱؎ [11-ھود:103] ’ یہ لوگوں کے جمع کئے جانے اور ان کے حاضر باش ہونے کا دن ہے ‘۔ اور جگہ ہے «قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ» ۱؎ [56-الواقعة:49-50] یعنی ’ قیامت والے دن تمام اولین اور آخرین جمع کئے جائیں گے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «یوم التغابن» قیامت کا ایک نام ہے، اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اہل جنت، اہل دوزخ کو نقصان میں ڈالیں گے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے زیادہ «تغابن» کیا ہو گا کہ ان کے سامنے انہیں جنت میں اور ان کے سامنے انہیں جہنم میں لے جائیں گے۔“ گویا اسی کی تفسیر اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ ایماندار، نیک اعمال والوں کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت میں انہیں داخل کیا جائے گا اور پوری کامیابی کو پہنچ جائے گا اور کفر و تکذیب کرنے والے جہنم کی آگ میں جائیں گے جہاں ہمیشہ جلنے کا عذاب پاتے رہیں گے بھلا اس سے برا ٹھکانا اور کیا ہو سکتا ہے؟
9۔ 1 قیامت کو یوم الجمع اس لیے کہا کہ اس دن اول وآخر سب ایک ہی میدان میں جمع ہوں گے فرشتے کی آواز سب سنیں گے ہر ایک کی نگاہ آخر تک پہنچے گی کیونکہ درمیان میں کوئی چیز حائل نہ ہوگی۔ 9۔ 2 یعنی ایک گروہ جیت جائے گا اور ایک ہار جائے گا، اہل حق اہل باطن پر، ایمان والے اہل کفر پر اور اہل طاعت اہل معصیت پر جیت جائیں گے، سب سے بڑی جیت اہل ایمان کو یہ حاصل ہوگی کہ وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے اور سب سے بڑی ہار جہنمیوں کے حصے آئے گی جو جہنم میں داخل ہونگے۔
(آیت 9) ➊ {يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ:} یہ{” لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ “} کا ظرف ہے، قیامت کے دن کو{” يَوْمُ الْجَمْعِ “} اس لیے کہا گیا ہے کہ اس دن تمام پہلے اور پچھلے ایک میدان میں جمع کیے جائیں گے۔ (دیکھیے ہود: ۱۰۳۔ صافات: 50،49۔ شوریٰ: ۷۔ مرسلات: ۳۸) {”يَوْمُ الْجَمْعِ“} کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس دن انسان کے جسم کی ہر ہڈی اور ہر ذرّہ جو منتشر ہوچکا ہوگا جمع کر دیا جائے گا، جیساکہ فرمایا: «اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗ» [ القیامۃ: ۳ ] ”کیا انسان گمان کرتا ہے کہ ہم کبھی اس کی ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے۔“ ➋ {ذٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ: ”غَبَنَ“ (ن) ”فُلَانًا فِي الْبَيْعِ“} بیع میں دوسرے کو نقصان پہنچا کر خود فائدہ حاصل کرلینا۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابنِ عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل فرمایا ہے، انھوں نے {” ذٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ “} کے متعلق فرمایا: [هُوَ اسْمٌ مِّنْ أَسْمَاءِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَذٰلِكَ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَغْبُنُوْنَ أَهْلَ النَّارِ ] ” یعنی یوم التغابن قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور یہ نام اس لیے ہے کہ اس دن جنتی جہنمیوں کو نقصان میں رکھ کر خود فائدہ حاصل کریں گے۔“ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس نفع و نقصان کی تفصیل خود اللہ تعالیٰ نے آگے بیان فرما دی ہے کہ ایمان اور عمل صالح والوں کو کیا حاصل ہو گا اور کفر و تکذیب والوں کے حصے میں کیا آئے گا۔ ➌ {وَ مَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ يَعْمَلْ صَالِحًا …:} یہ اس دن کی ہار جیت میں سے جیت والوں کے حصے کا بیان ہے۔
اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے وہ دوزخ کے باشندے ہوں گے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جن لوگوں نے کفر کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا وہی (سب) جہنمی ہیں (جو) جہنم میں ہمیشہ رہیں گے، وه بہت برا ٹھکانا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور جنہوں نے کفر کیا اور ہماری آیتیں جھٹلائیں وہ آگ والے ہیں ہمیشہ اس میں رہیں، اور کیا ہی برا انجام،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور ہماری آیتوں کو جھٹلایا یہی لوگ دوزخی ہیں جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ بہت برا ٹھکانا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جنھوں نے کفر کیا اور ہماری آیات کو جھٹلایا، وہ آگ والے ہیں، اس میں ہمیشہ رہنے والے اور وہ لوٹ کر جانے کی بری جگہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منکرین قیامت مشرکین و ملحدین ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ کفار مشرکین ملحدین کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد نہیں اٹھیں گے، اے نبی! تم ان سے کہہ دو کہ ہاں اٹھو گے، پھر تمہارے تمام چھوٹے بڑے، چھپے کھلے اعمال کا اظہار تم پر کیا جائے گا، سنو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا تمہیں بدلے دینا وغیرہ تمام کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہیں ‘۔ یہ تیسری آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم کھا کر قیامت کی حقانیت کے بیان کرنے کو فرمایا ہے۔ پہلی آیت تو سورۃ یونس میں ہے «وَيَسْتَنبِئُونَكَ أَحَقٌّ هُوَ قُلْ إِي وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقٌّ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ» ۱؎ [10-یونس:53] یعنی ’ یہ لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ حق ہے؟ تو کہہ میرے رب کی قسم وہ حق ہے اور تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے ‘۔ دوسری آیت سورۃ سبا میں ہے «وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ» ۱؎ [34-سبأ:3] ’ کافر کہتے ہیں ہم پر قیامت نہ آئے گی تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم یقیناً اور بالضرور آئے گی ‘۔ اور تیسری آیت یہی «زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ» ۱؎ [64-التغابن:7] پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اللہ پر، رسول پر، نور منزل یعنی قرآن کریم پر ایمان لاؤ تمہارا کوئی خفیہ عمل بھی اللہ تعالیٰ پر پوشیدہ نہیں۔ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تم سب کو جمع کرے گا اور اسی لیے اس کا نام «یوم الجمع» ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» ۱؎ [11-ھود:103] ’ یہ لوگوں کے جمع کئے جانے اور ان کے حاضر باش ہونے کا دن ہے ‘۔ اور جگہ ہے «قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ» ۱؎ [56-الواقعة:49-50] یعنی ’ قیامت والے دن تمام اولین اور آخرین جمع کئے جائیں گے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «یوم التغابن» قیامت کا ایک نام ہے، اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اہل جنت، اہل دوزخ کو نقصان میں ڈالیں گے۔“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے زیادہ «تغابن» کیا ہو گا کہ ان کے سامنے انہیں جنت میں اور ان کے سامنے انہیں جہنم میں لے جائیں گے۔“ گویا اسی کی تفسیر اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ ایماندار، نیک اعمال والوں کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت میں انہیں داخل کیا جائے گا اور پوری کامیابی کو پہنچ جائے گا اور کفر و تکذیب کرنے والے جہنم کی آگ میں جائیں گے جہاں ہمیشہ جلنے کا عذاب پاتے رہیں گے بھلا اس سے برا ٹھکانا اور کیا ہو سکتا ہے؟
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 10) {وَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا وَ كَذَّبُوْا بِاٰيٰتِنَاۤ …:} یہ اس دن کی ہار والوں کے حصے کا بیان ہے۔
کوئی مصیبت کبھی نہیں آتی مگر اللہ کے اذن ہی سے آتی ہے جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہو اللہ اس کے دل کو ہدایت بخشتا ہے، اور اللہ کو ہر چیز کا علم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کوئی مصیبت اللہ کی اجازت کے بغیر نہیں پہنچ سکتی، جو اللہ پر ایمان ﻻئے اللہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
کوئی مصیبت نہیں پہنچتی مگر اللہ کے حکم سے، اور جو اللہ پر ایمان لائے اللہ اس کے دل کو ہدایت فرمادے گا اور اللہ سب کچھ جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
کوئی مصیبت (کسی پر) نہیں آتی مگر اللہ کے اذن و اجازت سے اور جو شخص اللہ پر ایمان لائے اللہ اس کے دل کو صحیح راستہ دکھاتا ہے اور اللہ ہر چیز کا بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کوئی مصیبت نہیں پہنچی مگر اللہ کے اذن سے اور جو اللہ پر ایمان لے آئے وہ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وہی مختار مطلق ہے ناقابل تردید سچائی ٭٭
سورۃ الحدید میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی اجازت اور اس کے حکم سے ہوتا ہے اس کی قدر و مشیت کے بغیر نہیں ہو سکتا، اب جس شخص کو کوئی تکلیف پہنچے وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے مجھے یہ تکلیف پہنچی، پھر صبر و تحمل سے کام لے، اللہ کی مرضی پر ثابت قدم رہے، ثواب اور بھلائی کی امید رکھے، رضا بہ قضاء کے سوا لب نہ ہلائے، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کی رہبری کرتا ہے اور اسے بدلے کے طور پر ہدایت قلبی عطا فرماتا ہے۔ وہ دل میں یقین صادق کی چمک دیکھتا ہے اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس مصیبت کا بدلہ یا اس سے بھی بہتر دنیا میں ہی عطا فرما دیتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”اس کا ایمان مضبوط ہو جاتا ہے، اسے مصائب ڈگمگا نہیں سکتے، وہ جانتا ہے کہ جو پہنچا وہ خطا کرنے والا نہ تھا اور جو نہ پہنچا وہ ملنے والا ہی نہ تھا۔“
آسان ترین افضل عمل ٭٭
سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ آیت «مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ» [64-التغابن-11] پڑھی جاتی ہے اور آپ رضی اللہ عنہ سے اس کا مطلب دریافت کیا جاتا ہے تو فرماتے ہیں ”اس سے مراد وہ شخص ہے جو ہر مصیبت کے وقت اس بات کا عقیدہ رکھے کہ یہ منجانب اللہ ہے پھر راضی خوشی اسے برداشت کر لے۔“ یہ بھی مطلب ہے کہ ”وہ «إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ۱؎ [2-البقرہ:156] پڑھ لے۔“ متفق علیہ حدیث میں ہے کہ { مومن پر تعجب ہے ہر ایک بات میں اس کے لیے بہتری ہوتی ہے نقصان پر صبر و ضبط کر کے نفع اور بھلائی پر شکر و احسان مندی کر کے بہتری سمیٹ لیتا ہے، یہ دو طرفہ بھلائی مومن کے سوا کسی اور کے حصے میں نہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2999] مسند احمد میں ہے کہ { ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اس کی تصدیق کرنا اس کی راہ میں جہاد کرنا۔“ اس نے کہا یا رسول اللہ! میں کوئی آسان کام چاہتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو فیصلہ قسمت کا تجھ پر جاری ہو تو اس میں اللہ تعالیٰ کا گلہ شکوہ نہ کر، اس کی رضا پر راضی رہ یہ اس سے ہلکا امر ہے“ }۔ [مسند احمد:318/5:ضعیف] پھر اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیتا ہے کہ ’ امور شرعی میں ان اطاعتوں سے سر منہ تجاوز نہ کرو جس کا حکم ملے بجا لاؤ، جس سے روکا جائے رک جاؤ، اگر تم اس کے ماننے سے اعراض کرتے تو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی بوجھ نہیں، ان کے ذمہ صرف تبلیغ تھی جو وہ کر چکے اب عمل نہ کرنے کی سزا تمہیں اٹھانا پڑے گی ‘۔ پھر فرمان ہے کہ ’ اللہ تعالیٰ واحد و صمد ہے اس کے سوا کسی کی ذات کسی طرح کی عبادت کے لائق نہیں ‘، یہ خبر معنی میں طلب کے ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید مانو اخلاص کے ساتھ صرف اسی کی عبادت کرو۔ پھر فرماتا ہے ’ چونکہ توکل اور بھروسے کے لائق بھی وہی ہے تم اسی پر بھروسہ رکھو ‘۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:9] ’ مشرق اور مغرب کا رب وہی ہے، معبود حقیقی بھی اس کے سوا کوئی نہیں تو اسی کو اپنا کار ساز بنا لے ‘۔
11۔ 1 یعنی اس کی تقدیر اور مشیت سے ہی اس کا ظہور ہوتا ہے۔ بعض کہتے ہیں اس کے نزول کا سبب کفار کا یہ قول ہے کہ اگر مسلمان حق پر ہوتے تو دنیا کی مصیبتیں انہیں نہ پہنچتیں (فتح القدیر) 11۔ 2 یعنی وہ جان لیتا ہے کہ اسے جو کچھ پہنچا ہے اللہ کی مشیت اور اس کے حکم سے ہی پہنچا ہے پس وہ صبر اور رضا بالقضاء کا مظاہرہ کرتا ہے۔
(آیت 11) ➊ {مَاۤ اَصَابَ مِنْ مُّصِيْبَةٍ …:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ حدیدکی آیت (۲۲) کی تفسیر۔ ➋ { اِلَّا بِاِذْنِ اللّٰهِ:} اس سے پہلی آیات میں اللہ کی توحید، رسولوں کی رسالت اور قیامت کا بیان تھا، اس آیت میں تقدیر پر ایمان کا بیان ہے جس سے آدمی کے دل میں تکلیفیں برداشت کرنے اور ان پر صبر کرنے کی ہمت پیدا ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ اس آیت میں ایمان والوں کے لیے تسلی اور کفار کے اس اعتراض کا جواب بھی ہے کہ ایمان والوں پرمصیبتیں کیوں آتی ہیں۔ فرمایا جو مصیبت بھی آتی ہے اللہ کے اذن سے آتی ہے جو اللہ تعالیٰ کے ہاں پہلے سے مقدر ہو چکی ہوتی ہے۔ یہ دنیا میں مومن و کافر سب پر آتی ہے، کیونکہ اس کے بغیر امتحان اور آزمائش کا مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ البتہ مومن و کافر پر اس کا اثر اور نتیجہ مختلف ہوتا ہے، مومن اپنے رب پر راضی رہتا ہے جس کے نتیجے میں اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ہدایت کی روشنی، یقین اور اطمینان کی نعمت اور آخرت میں جنت عطا فرماتا ہے اور کافر اپنے رب پر ناراض ہوجاتا ہے جس کے نتیجے میں وہ دنیا کے اندر ہر وقت پر یشان اور سراپا شکوہ بنا رہتا ہے اور آخرت میں اس کے لیے جہنم ہے۔ ➌ یعنی جو بھی مصیبت پہنچتی ہے اللہ کے حکم سے اور اس کے طے شدہ فیصلے اور تقدیر کے مطابق پہنچتی ہے۔ ➍ { وَ مَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ يَهْدِ قَلْبَهٗ:} یعنی جسے کوئی مصیبت پہنچے اور وہ جان لے کہ یہ اللہ کے فیصلے اور اس کی تقدیر سے ہے، پھر اس پر صبر کرے، ثواب کی نیت رکھے اور اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کے فیصلے کے سپرد کر دے تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کو ہدایت دیتا ہے اور دنیا میں اس کے ہاتھ سے جو کچھ نکلا یعنی اس سے جو کچھ لیا گیا اس کے بدلے میں اس کے دل میں سیدھی راہ پر چلنے کی توفیق اور سچا یقین عطا فرماتا ہے اور ایسا بھی ہوتا ہے کہ جو کچھ اس سے لیاگیا اس کی جگہ وہی یا اس سے بہتر چیز عطا فرما دیتا ہے۔ اس آیت کی طرح سورۂ بقرہ (۱۵۵ تا ۱۵۷) میں مصیبت پر صبر کرنے والوں کو {” الْمُهْتَدُوْنَ “} (ہدایت والے) قرار دیا ہے۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ {” وَ مَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ يَهْدِ قَلْبَهٗ “} کے متعلق ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل فرمایا ہے: [يَعْنِيْ يَهْدِ قَلْبَهُ لِلْيَقِيْنِ فَيَعْلَمُ أَنَّ مَا أَصَابَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُخْطِه وَمَا أَخْطَأَهُ لَمْ يَكُنْ لِيُصِيْبَهُ ] [ طبري: 12/23، ح: ۳۴۵۰۹ ] ”یعنی (آیت کا مطلب یہ ہے کہ جو اللہ پر ایمان رکھے) اللہ تعالیٰ اس کے دل کو یقین کی ہدایت دیتا ہے اور وہ جان لیتا ہے کہ اس پر جو مصیبت آئی وہ کسی صورت اس سے خطا کرنے والی نہیں تھی اور جو خطا کر گئی وہ کسی صورت اس پر آنے والی نہیں تھی۔“ اور اعمش نے ابوظبیان سے بیان کیا کہ ہم علقمہ کے پاس تھے، ان کے پاس یہ آیت پڑھی گئی: «وَ مَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ يَهْدِ قَلْبَهٗ» اور اس کا مطلب پوچھا گیا تو انھوں نے فرمایا: ”اس سے مراد وہ آدمی ہے جسے کوئی مصیبت آتی ہے تو وہ جان لیتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے ہے، اس پر راضی ہوجاتا ہے اور اسے تسلیم کرلیتا ہے۔“(ابن جریر و ابن ابی حاتم بسند صحیح) صہیب رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [عَجَبًا لِأَمْرِ الْمُؤْمِنِ إِنَّ أَمْرَهُ كُلَّهُ خَيْرٌ وَلَيْسَ ذَاكَ لِأَحَدٍ إِلَّا لِلْمُؤْمِنِ إِنْ أَصَابَتْهُ سَرَّاءُ شَكَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَهُ وَ إِنْ أَصَابَتْهُ ضَرَّاءُ صَبَرَ، فَكَانَ خَيْرًا لَهُ ] [ مسلم، الزہد والر قائق، باب المؤمن أمرہ کلہ خیر: ۲۹۹۹ ] ”مومن کے معاملے پر تعجب ہے، کیونکہ اس کا سارا معاملہ ہی خیر ہے اور یہ بات مومن کے سواکسی کو حاصل نہیں، اگر اسے کوئی خوشی ملتی ہے تو شکر کرتا ہے اور وہ اس کے لیے خیر ہوتا ہے اور اگر اسے کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو صبر کرتاہے اور وہ بھی اس کے لیے خیر ہوتا ہے۔“ ➎ { وَ اللّٰهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيْمٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ کو ہر چیز کا پوری طرح علم ہے، وہ خوب جانتا ہے کہ کون اس کی تقدیر پر ایمان رکھ کر صبر وشکر کرتا ہے اور کون نہیں کرتا، پھر وہ ہر ایک کو اس کے مطابق جزا و سزا دے گا۔
اللہ کی اطاعت کرو اور رسول کی طاعت کرو لیکن اگر تم اطاعت سے منہ موڑتے ہو تو ہمارے رسول پر صاف صاف حق پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
(لوگو) اللہ کا کہنا مانو اور رسول کا کہنا مانو۔ پس اگر تم اعراض کرو تو ہمارے رسول کے ذمہ صرف صاف صاف پہنچا دینا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو، پھر اگر تم منہ پھیرو تو جان لو کہ ہمارے رسول پر صرف صریح پہنچا دینا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور اطاعت کرو اللہ کی اور اطاعت کرو رسول(ص) کی پھر اگر تم رُوگردانی کرو گے تو ہمارے رسول(ص) پر کھول کر پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمہ داری نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور اللہ کا حکم مانو اور رسول کا حکم مانو، پس اگر تم پھر جاؤ تو ہمارے رسول کے ذمے تو صرف کھلم کھلا پہنچا دینا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وہی مختار مطلق ہے ناقابل تردید سچائی ٭٭
سورۃ الحدید میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی اجازت اور اس کے حکم سے ہوتا ہے اس کی قدر و مشیت کے بغیر نہیں ہو سکتا، اب جس شخص کو کوئی تکلیف پہنچے وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے مجھے یہ تکلیف پہنچی، پھر صبر و تحمل سے کام لے، اللہ کی مرضی پر ثابت قدم رہے، ثواب اور بھلائی کی امید رکھے، رضا بہ قضاء کے سوا لب نہ ہلائے، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کی رہبری کرتا ہے اور اسے بدلے کے طور پر ہدایت قلبی عطا فرماتا ہے۔ وہ دل میں یقین صادق کی چمک دیکھتا ہے اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس مصیبت کا بدلہ یا اس سے بھی بہتر دنیا میں ہی عطا فرما دیتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”اس کا ایمان مضبوط ہو جاتا ہے، اسے مصائب ڈگمگا نہیں سکتے، وہ جانتا ہے کہ جو پہنچا وہ خطا کرنے والا نہ تھا اور جو نہ پہنچا وہ ملنے والا ہی نہ تھا۔“
آسان ترین افضل عمل ٭٭
سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ آیت «مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ» [64-التغابن-11] پڑھی جاتی ہے اور آپ رضی اللہ عنہ سے اس کا مطلب دریافت کیا جاتا ہے تو فرماتے ہیں ”اس سے مراد وہ شخص ہے جو ہر مصیبت کے وقت اس بات کا عقیدہ رکھے کہ یہ منجانب اللہ ہے پھر راضی خوشی اسے برداشت کر لے۔“ یہ بھی مطلب ہے کہ ”وہ «إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ۱؎ [2-البقرہ:156] پڑھ لے۔“ متفق علیہ حدیث میں ہے کہ { مومن پر تعجب ہے ہر ایک بات میں اس کے لیے بہتری ہوتی ہے نقصان پر صبر و ضبط کر کے نفع اور بھلائی پر شکر و احسان مندی کر کے بہتری سمیٹ لیتا ہے، یہ دو طرفہ بھلائی مومن کے سوا کسی اور کے حصے میں نہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2999] مسند احمد میں ہے کہ { ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اس کی تصدیق کرنا اس کی راہ میں جہاد کرنا۔“ اس نے کہا یا رسول اللہ! میں کوئی آسان کام چاہتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو فیصلہ قسمت کا تجھ پر جاری ہو تو اس میں اللہ تعالیٰ کا گلہ شکوہ نہ کر، اس کی رضا پر راضی رہ یہ اس سے ہلکا امر ہے“ }۔ [مسند احمد:318/5:ضعیف] پھر اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیتا ہے کہ ’ امور شرعی میں ان اطاعتوں سے سر منہ تجاوز نہ کرو جس کا حکم ملے بجا لاؤ، جس سے روکا جائے رک جاؤ، اگر تم اس کے ماننے سے اعراض کرتے تو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی بوجھ نہیں، ان کے ذمہ صرف تبلیغ تھی جو وہ کر چکے اب عمل نہ کرنے کی سزا تمہیں اٹھانا پڑے گی ‘۔ پھر فرمان ہے کہ ’ اللہ تعالیٰ واحد و صمد ہے اس کے سوا کسی کی ذات کسی طرح کی عبادت کے لائق نہیں ‘، یہ خبر معنی میں طلب کے ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید مانو اخلاص کے ساتھ صرف اسی کی عبادت کرو۔ پھر فرماتا ہے ’ چونکہ توکل اور بھروسے کے لائق بھی وہی ہے تم اسی پر بھروسہ رکھو ‘۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:9] ’ مشرق اور مغرب کا رب وہی ہے، معبود حقیقی بھی اس کے سوا کوئی نہیں تو اسی کو اپنا کار ساز بنا لے ‘۔
12۔ 1 یعنی ہمارے رسول کا اس سے کچھ نہیں بگڑے گا، کیونکہ اس کا کام صرف تبلیغ ہے۔ امام زہری فرماتے ہیں، اللہ کا کام رسول بھیجنا ہے، رسول کا کام تبلیغ اور لوگوں کا کام تسلیم کرنا ہے (فتح القدیر)
(آیت 12) ➊ {وَ اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ:} سلسلۂ کلام کے مطابق مطلب یہ ہے کہ مصیبت آنے پر اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت سے منہ نہ موڑو، بلکہ تمام حالات میں، اچھے ہوں یا برے، اللہ کا حکم مانو اور اس کے رسول کا حکم مانو۔ {” اَطِيْعُوْا “} کو {” الرَّسُوْلَ “} کے ساتھ دوبارہ لانے سے ظاہر ہے کہ جس طرح اللہ کا حکم مستقل شریعت ہے اسی طرح رسول کا حکم بھی مستقل شریعت ہے، دونوں میں سے کسی کی مخالفت کی گنجائش نہیں۔ دوسرے لوگ جن کا حکم مانا جاتا ہے وہ یہ مقام نہیں رکھتے، ان کا وہی حکم مانا جائے گا جو کتاب و سنت کے خلاف نہ ہو۔ اس نکتے کی وضاحت سورۂ نساء کی آیت (۵۹): «اَطِيْعُوا اللّٰهَ وَ اَطِيْعُوا الرَّسُوْلَ وَ اُولِي الْاَمْرِ مِنْكُمْ» سے ہوتی ہے کہ{” اُولِي الْاَمْرِ “} کے ساتھ {” اَطِيْعُوْا “} کو دوبارہ نہیں لایا گیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورہ نساء(۵۹) کی تفسیر۔ ➋ { فَاِنْ تَوَلَّيْتُمْ فَاِنَّمَا عَلٰى رَسُوْلِنَا الْبَلٰغُ الْمُبِيْنُ:} پھر اگر مصیبتوں سے گھبرا کر تم نے اطاعت سے منہ موڑ لیا تو اپنا ہی نقصان کروگے، ہمارے رسول کے ذمے صرف یہ ہے کہ وہ اللہ کے احکام صاف صاف تم تک پہنچا دیں، سو وہ اس نے پہنچا دیے۔
اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی خدا نہیں، لہٰذا ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسا رکھنا چاہیے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ کے سوا کوئی معبود برحق نہیں اور مومنوں کو اللہ ہی پر توکل رکھنا چاہئے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ ہے جس کے سوا کسی کی بندگی نہیں اور اللہ ہی پر ایمان والے بھروسہ کریں،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے بس ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ (وہ ہے کہ) اس کے سوا کوئی معبود نہیں اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ مومن بھروسا کریں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
وہی مختار مطلق ہے ناقابل تردید سچائی ٭٭
سورۃ الحدید میں بھی یہ مضمون گزر چکا ہے کہ جو کچھ ہوتا ہے وہ اللہ کی اجازت اور اس کے حکم سے ہوتا ہے اس کی قدر و مشیت کے بغیر نہیں ہو سکتا، اب جس شخص کو کوئی تکلیف پہنچے وہ جان لے کہ اللہ تعالیٰ کی قضاء و قدر سے مجھے یہ تکلیف پہنچی، پھر صبر و تحمل سے کام لے، اللہ کی مرضی پر ثابت قدم رہے، ثواب اور بھلائی کی امید رکھے، رضا بہ قضاء کے سوا لب نہ ہلائے، تو اللہ تعالیٰ اس کے دل کی رہبری کرتا ہے اور اسے بدلے کے طور پر ہدایت قلبی عطا فرماتا ہے۔ وہ دل میں یقین صادق کی چمک دیکھتا ہے اور بسا اوقات ایسا بھی ہوتا ہے کہ اس مصیبت کا بدلہ یا اس سے بھی بہتر دنیا میں ہی عطا فرما دیتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا بیان ہے کہ ”اس کا ایمان مضبوط ہو جاتا ہے، اسے مصائب ڈگمگا نہیں سکتے، وہ جانتا ہے کہ جو پہنچا وہ خطا کرنے والا نہ تھا اور جو نہ پہنچا وہ ملنے والا ہی نہ تھا۔“
آسان ترین افضل عمل ٭٭
سیدنا علقمہ رضی اللہ عنہ کے سامنے یہ آیت «مَا أَصَابَ مِن مُّصِيبَةٍ إِلَّا بِإِذْنِ اللَّهِ وَمَن يُؤْمِن بِاللَّهِ يَهْدِ قَلْبَهُ وَاللَّهُ بِكُلِّ شَيْءٍ عَلِيمٌ» [64-التغابن-11] پڑھی جاتی ہے اور آپ رضی اللہ عنہ سے اس کا مطلب دریافت کیا جاتا ہے تو فرماتے ہیں ”اس سے مراد وہ شخص ہے جو ہر مصیبت کے وقت اس بات کا عقیدہ رکھے کہ یہ منجانب اللہ ہے پھر راضی خوشی اسے برداشت کر لے۔“ یہ بھی مطلب ہے کہ ”وہ «إِنَّا لِلَّـهِ وَإِنَّا إِلَيْهِ رَاجِعُونَ» ۱؎ [2-البقرہ:156] پڑھ لے۔“ متفق علیہ حدیث میں ہے کہ { مومن پر تعجب ہے ہر ایک بات میں اس کے لیے بہتری ہوتی ہے نقصان پر صبر و ضبط کر کے نفع اور بھلائی پر شکر و احسان مندی کر کے بہتری سمیٹ لیتا ہے، یہ دو طرفہ بھلائی مومن کے سوا کسی اور کے حصے میں نہیں }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2999] مسند احمد میں ہے کہ { ایک شخص نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ! سب سے افضل عمل کون سا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ پر ایمان لانا، اس کی تصدیق کرنا اس کی راہ میں جہاد کرنا۔“ اس نے کہا یا رسول اللہ! میں کوئی آسان کام چاہتا ہوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو فیصلہ قسمت کا تجھ پر جاری ہو تو اس میں اللہ تعالیٰ کا گلہ شکوہ نہ کر، اس کی رضا پر راضی رہ یہ اس سے ہلکا امر ہے“ }۔ [مسند احمد:318/5:ضعیف] پھر اپنی اور اپنے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کا حکم دیتا ہے کہ ’ امور شرعی میں ان اطاعتوں سے سر منہ تجاوز نہ کرو جس کا حکم ملے بجا لاؤ، جس سے روکا جائے رک جاؤ، اگر تم اس کے ماننے سے اعراض کرتے تو ہمارے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر کوئی بوجھ نہیں، ان کے ذمہ صرف تبلیغ تھی جو وہ کر چکے اب عمل نہ کرنے کی سزا تمہیں اٹھانا پڑے گی ‘۔ پھر فرمان ہے کہ ’ اللہ تعالیٰ واحد و صمد ہے اس کے سوا کسی کی ذات کسی طرح کی عبادت کے لائق نہیں ‘، یہ خبر معنی میں طلب کے ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی توحید مانو اخلاص کے ساتھ صرف اسی کی عبادت کرو۔ پھر فرماتا ہے ’ چونکہ توکل اور بھروسے کے لائق بھی وہی ہے تم اسی پر بھروسہ رکھو ‘۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «رَّبُّ الْمَشْرِقِ وَالْمَغْرِبِ لَا إِلَـٰهَ إِلَّا هُوَ فَاتَّخِذْهُ وَكِيلًا» ۱؎ [73-المزمل:9] ’ مشرق اور مغرب کا رب وہی ہے، معبود حقیقی بھی اس کے سوا کوئی نہیں تو اسی کو اپنا کار ساز بنا لے ‘۔
13۔ 1 یعنی تمام معاملات اسی کو سونپیں، اسی پر اعتماد کریں اور صرف اسی سے دعا والتجا کریں کیونکہ اس کے سوا کوئی حاجت روا اور مشکل کشا ہے ہی نہیں۔
(آیت 13){ اَللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ وَ عَلَى اللّٰهِ …:} یعنی جس طرح تقدیر اللہ تعالیٰ کے ہاتھ میں ہے اور جو بھی مصیبت یا راحت ہے اسی کے حکم سے آتی ہے، اسی طرح یاد رکھو کہ اللہ تعالیٰ ہی وہ ہستی ہے جو ہر عبادت کی مستحق ہے، اس کے سوا کوئی معبود نہیں، اس لیے رنج ہو یا راحت ہر حال میں اسی کو پکارو اور اسی پر توکل رکھو، کیونکہ پکارنا بھی عبادت ہے اور توکل بھی عبادت ہے اور جو اللہ پر ایمان رکھتا ہو اس کے پاس اس اکیلے پر بھروسا کرنے کے سوا کوئی راستہ نہیں، کیونکہ کسی دوسرے کے ہاتھ میں رنج یا راحت میں سے کچھ ہے ہی نہیں کہ اس پر بھروسا کیا جاسکے۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں، ان سے ہوشیار رہو اور اگر تم عفو و درگزر سے کام لو اور معاف کر دو تو اللہ غفور و رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور بعض بچے تمہارے دشمن ہیں پس ان سے ہوشیار رہنا اور اگر تم معاف کر دو اور درگزر کر جاؤ اور بخش دو تو اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو تمہاری کچھ بی بیا ں اور بچے تمہارے دشمن ہیں تو ان سے احتیاط رکھو اور اگر معاف کرو اور درگزرو اور بخش دو تو بیشک اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! تمہاری بعض بیویاں اور تمہاری بعض اولادیں تمہاری دشمن ہیں بس تم ان سے ڈرتے رہو (ہوشیار رہو) اور اگر معاف کرو، درگزر کرو اور بخش دو تو اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا رحم کرنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! بے شک تمھاری بیویوں اور تمھارے بچوں میں سے بعض تمھارے دشمن ہیں، سو ان سے ہوشیار رہو اور اگر تم معاف کر و اور درگزر کرو اور بخش دو تو بے شک اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت رحم والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کی یاد اور اولاد و مال کی محبت ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ’ بعض عورتیں اپنے مردوں کو اور بعض اولاد اپنے ماں باپ کو یاد اللہ اور نیک عمل سے روک دیتی ہے جو درحقیقت دشمنی ہے ‘۔ جس سے پہلے تنبیہ ہو چکی ہے کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» ۱؎ [63-المنافقون:9] ’ ایسا نہ ہو تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں یاد اللہ سے غافل کر دیں، اگر ایسا ہو گیا تو تمہیں بڑا گھاٹا رہے گا ‘۔ یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ ان سے ہوشیار رہو، اپنے دین کی نگہبانی ان کی ضروریات اور فرمائشات کے پورا کرنے پر مقدم رکھو ‘۔ بیوی بچوں اور مال کی خاطر انسان قطع رحمی کر گزرتا ہے اللہ کی نافرمانی پر تل جاتا ہے ان کی محبت میں پھنس کر احکام اسلامی کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”بعض اہل مکہ اسلام قبول کر چکے تھے مگر زن و فرزند کی محبت نے انہیں ہجرت سے روک دیا، پھر جب اسلام کا خوب افشأ ہو گیا، تب یہ لوگ حاضر ہوئے دیکھا کہ ان سے پہلے کے مہاجرین نے بہت کچھ علم دین حاصل کر لیا ہے، اب جی میں آیا کہ اپنے بال بچوں کو سزا دیں جس پر یہ فرمان ہوا کہ «وَإِن تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [64-التغابن:14] ، یعنی ’ اب درگزر کرو، آئندہ کے لیے ہوشیار رہو، اللہ تعالیٰ مال و اولاد دے کر انسان کو پرکھ لیتا ہے کہ معصیت میں مبتلا ہونے والے کون ہیں اور اطاعت گزار کون ہیں؟ اللہ کے پاس جو اجر عظیم ہے تمہیں چاہیئے کہ اس پر نگاہیں رکھو ‘۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَات مِنْ النِّسَاء وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِير الْمُقَنْطَرَة مِنْ الذَّهَب وَالْفِضَّة وَالْخَيْل الْمُسَوَّمَة وَالْأَنْعَام وَالْحَرْث ذَلِكَ مَتَاع الْحَيَاة الدُّنْيَا وَاَللَّه عِنْده حُسْن الْمَآب» ۱؎ [3-آل عمران:14-15] ، یعنی ’ بطور آزمائش کے لوگوں کے لیے دنیوی خواہشات یعنی بیویاں اور اولاد، سونے چاندی کے بڑے بڑے لگے ہوئے ڈھیر، شائستہ گھوڑے، مویشی، کھیتی کی محبت کو زینت دی گئی ہے مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان ہے اور ہمیشہ رہنے والا اچھا ٹھکانا تو اللہ ہی کے پاس ہے ‘۔
اولاد ایک فتنہ بھی ٭٭
مسند احمد میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ فرما رہے تھے کہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما لمبے لمبے کرتے پہنے آ گئے، دونوں بچے کرتوں میں الجھ الجھ کر گرتے پڑتے آ رہے تھے یہ کرتے سرخ رنگ کے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظریں جب ان پر پڑیں تو منبر سے اتر کر انہیں اٹھا کر لائے اور اپنے سامنے بٹھا لیا پھر فرمانے لگے: ”اللہ تعالیٰ سچا ہے اور اس کے رسول نے بھی سچ فرمایا ہے کہ تمہارے مال اولاد فتنہ ہیں، میں ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے دیکھ کر صبر نہ کر سکا آخر خطبہ چھوڑ کر انہیں اٹھانا پڑا“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3774،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند میں ہے { سیدنا اشعت بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کندہ قبیلے کے وفد میں، میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”تمہاری کچھ اولاد بھی ہے۔“ میں نے کہا: ہاں، اب آتے ہوئے ایک لڑکا ہوا ہے، کاش کہ اس کے بجائے کوئی درندہ ہی ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار، ایسا نہ کہو، ان میں آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور انتقال کر جائیں تو اجر ہے“، پھر فرمایا: ”ہاں ہاں یہی بزدلی اور غم کا سبب بھی بن جاتے ہیں یہ بزدلی اور غم و رنج بھی ہیں۔“ } [مسند احمد:211/5:صحیح اسناد ضعیف] بزاز میں ہے { اولاد دل کا پھل ہے اور یہ بخل و نامردی اور غمگینی کا باعث بھی ہے }۔ [مسند بزار:1819:ضعیف] طبرانی میں ہے { تیرا دشمن صرف وہی نہیں جو تیرے مقابلہ میں کفر پر جم کر لڑائی کے لیے آیا کیونکہ اگر تو نے اسے قتل کر دیا تو تیرے لیے باعث نور ہے اور اگر اس نے تجھے قتل کر دیا تو قطعاً جنتی ہو گیا۔ پھر فرمایا: ”شاید تیرا دشمن تیرا بچہ ہے، جو تیری پیٹھ سے نکلا، پھر تجھ سے دشمنی کرنے لگا، تیرا پورا دشمن تیرا مال ہے، جو تیری ملکیت میں ہے، پھر دشمنی کرتا ہے“ }۔ [طبرانی:3445:ضعیف]
14۔ 1 یعنی جو تمہیں عمل صالح اور اطاعت الٰہی سے روکیں، سمجھ لو وہ تمہارے خیر خواہ نہیں، دشمن ہیں۔ 14۔ 2 یعنی ان کے پیچھے لگنے سے بچو، بلکہ انہیں اپنے پیچھے لگاؤ تاکہ وہ بھی اطاعت الٰہی اختیار کریں، نہ کہ ان کے پیچھ لگ کر اپنی عاقبت خراب کرلو۔ 14۔ 3 اس کا سبب نزول یہ بیان کیا گیا ہے کہ مکہ میں مسلمان ہونے والے بعض مسلمانوں نے مکہ چھوڑ کر مدینہ آنے کا ارادہ کیا، جیسا کہ اس وقت ہجرت کا حکم نہایت تاکید کے ساتھ دیا گیا تھا۔ لیکن ان کے بیوی بچے آڑے آگئے اور انہوں نے انہیں ہجرت نہیں کرنے دی پھر بعد میں جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آگئے تو دیکھا کہ ان سے پہلے آنے والوں نے دین میں بہت زیادہ سمجھ حاصل کرلی تو انہیں اپنے بیوی بچوں پر غصہ آیا، جنہوں نے انہیں ہجرت سے روکا تھا، چناچہ انہوں نے ان کو سزا دینے کا ارادہ کیا۔ اللہ تعالیٰ نے اس میں انہیں معاف کرنے اور درگزر سے کام لینے کی تلقین فرمائی۔
(آیت 14){ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ …: ” عَدُوًّا “ ”فَعُوْلٌ“} کا وزن ہے، واحد اور جمع دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے، {” فَاحْذَرُوْهُمْ “} سے ظاہر ہے کہ یہاں جمع کے لیے استعمال ہوا ہے۔ {” مِنْ اَزْوَاجِكُمْ “} میں {” مِنْ “} تبعیض کے لیے ہے، یعنی بعض بیویاں اور اولادیں دشمن ہوتی ہیں سب نہیں، بلکہ بعض دین میں مددگار اور آنکھوں کی ٹھنڈک بھی ہوتی ہیں۔اس سے پہلی آیات میں اللہ کی اطاعت اور اس کے رسول کی اطاعت کا حکم دیا ہے، اب ایک ایسی چیز سے ہوشیار رہنے کاحکم دیاجو عموماً اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کی راہ میں رکاوٹ بن جاتی ہے اور وہ آدمی کی بیوی اور اس کی اولاد ہے۔ اللہ تعالیٰ کو کسی صورت گوارا نہیں کہ اس کا مومن بندہ اس سے بڑھ کر اور اس کے رسول سے بڑھ کر کسی سے محبت کرے، یا کسی عزیز سے عزیز شخص کے تقاضے کو اللہ اور اس کے رسول کے تقاضے پر ترجیح دے۔ (دیکھیے توبہ: ۲۴) یہاں خاص طور پر بعض بیویوں اور بعض اولاد کا ذکر فرمایا، کیونکہ آدمی ہر وقت ان کے ساتھ رہتا ہے اور طبعی طور پر ان سے محبت ہوتی ہے، اس لیے بعض اوقات وہ ان کی محبت میں آکر اللہ اور اس کے رسول کے احکام کو پس پشت پھینک دیتا ہے اور ان کے آرام و آسائش کی خاطر حلال و حرام میں تمیز نہیں کرتا۔ان کے اصرار پر کئی فرائض ترک کر دیتا ہے، کئی ناجائز کاموں کا ارتکاب کرلیتا ہے اور اس طرح اپنی آخرت تباہ کرلیتا ہے، ظاہر ہے جو اہل وعیال آخرت کی بربادی کا باعث بنیں ان سے بڑھ کر آدمی کا کوئی دشمن نہیں ہوسکتا۔ بعض بیویاں اور اولاد ناموافقت یا سرکشی کی وجہ سے فی الواقع بھی اپنے خاوند یا باپ کے ساتھ دشمنی رکھتے ہیں، مگر یہ ایسے دشمن ہیں کہ آدمی ان سے مسلسل دشمنی نہیں رکھ سکتا اور نہ ہی ان سے علیحدگی اختیار کرسکتا ہے، بلکہ ان کے ساتھ گزارا ہی کرنا پڑتا ہے۔ اس لیے فرمایا کہ ان کی دشمنی کا یہ علاج نہیں کہ انھیں مارو پیٹو، خرچہ بند کردو یا ان سے علیحدگی اختیار کر لو، بلکہ مارنے پیٹنے اور سختی کرنے کے بجائے اگر انھیں معاف کردو، ان سے در گزر کرو اور ان کی غلطیوں پر پردہ ڈال دو تو تمھارے لیے بہتر اور اللہ کو پسند ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ بے حد پردہ ڈالنے والا اور نہایت رحم والا ہے۔ البتہ اس عفو و درگزر کے باوجود جتنی طاقت ہے اللہ کے تقویٰ پر قائم رہو اور انھیں اس کی تلقین کرتے رہو۔ اللہ تعالیٰ کے اس حکم میں یقینا بہت سی حکمتیں ہیں، کیونکہ بعض اوقات آدمی کی سختی کی وجہ سے اولاد بغاوت پر اتر آتی ہے، جب کہ عفوو درگزر، مسلسل نصیحت اور خود تقویٰ پر قائم رہنے سے ان کی اصلاح کی توقع زیادہ ہوتی ہے۔ عکرمہ فرماتے ہیں کہ ایک آدمی نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے اس آیت {” يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِنَّ مِنْ اَزْوَاجِكُمْ وَ اَوْلَادِكُمْ عَدُوًّا لَّكُمْ فَاحْذَرُوْهُمْ “} کے متعلق سوال کیا تو انھوں نے فرمایا: ” یہ اہلِ مکہ میں سے کچھ لوگ تھے جو مسلمان ہوگئے اور انھوں نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کا ارادہ کر لیا (یاد رہے کہ ان دنوں ہر مسلمان ہونے والے کے لیے مدینہ کی طرف ہجرت کرنا فرض تھا) مگر انھیں ان کی بیویوں اور بچوں نے نہیں چھوڑا کہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے۔ پھر جب وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو انھوں نے دوسرے لوگوں کو دیکھا کہ وہ دین کی سمجھ حاصل کر چکے تھے تو انھوں نے ارادہ کیا کہ اپنے بیوی بچوں کو سزا دیں تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت نازل فرمائی۔“ [ ترمذي، التفسیر، سورۃ التغابن: ۳۳۱۷ وقال الألباني حسن ]
تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو ایک آزمائش ہیں، اور اللہ ہی ہے جس کے پاس بڑا اجر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تمہارے مال اور اوﻻد تو سراسر تمہاری آزمائش ہیں۔ اور بہت بڑا اجر اللہ کے پاس ہے
احمد رضا خان بریلوی
تمہارے مال اور تمہارے بچے جانچ ہی ہیں اور اللہ کے پاس بڑا ثواب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
تمہارے مال، تمہاری اولاد ایک بڑی آزمائش ہیں اور اللہ ہی ہے جس کے پاس بڑا اجر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تمھارے مال اور تمھاری اولاد تو محض ایک آزمائش ہیں اور جو اللہ ہے اسی کے پاس بہت بڑا اجر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کی یاد اور اولاد و مال کی محبت ٭٭
ارشاد ہوتا ہے کہ ’ بعض عورتیں اپنے مردوں کو اور بعض اولاد اپنے ماں باپ کو یاد اللہ اور نیک عمل سے روک دیتی ہے جو درحقیقت دشمنی ہے ‘۔ جس سے پہلے تنبیہ ہو چکی ہے کہ «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا لَا تُلْهِكُمْ أَمْوَالُكُمْ وَلَا أَوْلَادُكُمْ عَن ذِكْرِ اللَّـهِ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَأُولَـٰئِكَ هُمُ الْخَاسِرُونَ» ۱؎ [63-المنافقون:9] ’ ایسا نہ ہو تمہارے مال اور تمہاری اولاد تمہیں یاد اللہ سے غافل کر دیں، اگر ایسا ہو گیا تو تمہیں بڑا گھاٹا رہے گا ‘۔ یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ ان سے ہوشیار رہو، اپنے دین کی نگہبانی ان کی ضروریات اور فرمائشات کے پورا کرنے پر مقدم رکھو ‘۔ بیوی بچوں اور مال کی خاطر انسان قطع رحمی کر گزرتا ہے اللہ کی نافرمانی پر تل جاتا ہے ان کی محبت میں پھنس کر احکام اسلامی کو پس پشت ڈال دیتا ہے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”بعض اہل مکہ اسلام قبول کر چکے تھے مگر زن و فرزند کی محبت نے انہیں ہجرت سے روک دیا، پھر جب اسلام کا خوب افشأ ہو گیا، تب یہ لوگ حاضر ہوئے دیکھا کہ ان سے پہلے کے مہاجرین نے بہت کچھ علم دین حاصل کر لیا ہے، اب جی میں آیا کہ اپنے بال بچوں کو سزا دیں جس پر یہ فرمان ہوا کہ «وَإِن تَعْفُوا وَتَصْفَحُوا وَتَغْفِرُوا فَإِنَّ اللَّـهَ غَفُورٌ رَّحِيمٌ» ۱؎ [64-التغابن:14] ، یعنی ’ اب درگزر کرو، آئندہ کے لیے ہوشیار رہو، اللہ تعالیٰ مال و اولاد دے کر انسان کو پرکھ لیتا ہے کہ معصیت میں مبتلا ہونے والے کون ہیں اور اطاعت گزار کون ہیں؟ اللہ کے پاس جو اجر عظیم ہے تمہیں چاہیئے کہ اس پر نگاہیں رکھو ‘۔ جیسے اور جگہ فرمان ہے «زُيِّنَ لِلنَّاسِ حُبُّ الشَّهَوَات مِنْ النِّسَاء وَالْبَنِينَ وَالْقَنَاطِير الْمُقَنْطَرَة مِنْ الذَّهَب وَالْفِضَّة وَالْخَيْل الْمُسَوَّمَة وَالْأَنْعَام وَالْحَرْث ذَلِكَ مَتَاع الْحَيَاة الدُّنْيَا وَاَللَّه عِنْده حُسْن الْمَآب» ۱؎ [3-آل عمران:14-15] ، یعنی ’ بطور آزمائش کے لوگوں کے لیے دنیوی خواہشات یعنی بیویاں اور اولاد، سونے چاندی کے بڑے بڑے لگے ہوئے ڈھیر، شائستہ گھوڑے، مویشی، کھیتی کی محبت کو زینت دی گئی ہے مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان ہے اور ہمیشہ رہنے والا اچھا ٹھکانا تو اللہ ہی کے پاس ہے ‘۔
اولاد ایک فتنہ بھی ٭٭
مسند احمد میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم خطبہ فرما رہے تھے کہ سیدنا حسن اور سیدنا حسین رضی اللہ عنہما لمبے لمبے کرتے پہنے آ گئے، دونوں بچے کرتوں میں الجھ الجھ کر گرتے پڑتے آ رہے تھے یہ کرتے سرخ رنگ کے تھے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نظریں جب ان پر پڑیں تو منبر سے اتر کر انہیں اٹھا کر لائے اور اپنے سامنے بٹھا لیا پھر فرمانے لگے: ”اللہ تعالیٰ سچا ہے اور اس کے رسول نے بھی سچ فرمایا ہے کہ تمہارے مال اولاد فتنہ ہیں، میں ان دونوں کو گرتے پڑتے آتے دیکھ کر صبر نہ کر سکا آخر خطبہ چھوڑ کر انہیں اٹھانا پڑا“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3774،قال الشيخ الألباني:صحیح] مسند میں ہے { سیدنا اشعت بن قیس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: کندہ قبیلے کے وفد میں، میں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھ سے پوچھا: ”تمہاری کچھ اولاد بھی ہے۔“ میں نے کہا: ہاں، اب آتے ہوئے ایک لڑکا ہوا ہے، کاش کہ اس کے بجائے کوئی درندہ ہی ہوتا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”خبردار، ایسا نہ کہو، ان میں آنکھوں کی ٹھنڈک ہے اور انتقال کر جائیں تو اجر ہے“، پھر فرمایا: ”ہاں ہاں یہی بزدلی اور غم کا سبب بھی بن جاتے ہیں یہ بزدلی اور غم و رنج بھی ہیں۔“ } [مسند احمد:211/5:صحیح اسناد ضعیف] بزاز میں ہے { اولاد دل کا پھل ہے اور یہ بخل و نامردی اور غمگینی کا باعث بھی ہے }۔ [مسند بزار:1819:ضعیف] طبرانی میں ہے { تیرا دشمن صرف وہی نہیں جو تیرے مقابلہ میں کفر پر جم کر لڑائی کے لیے آیا کیونکہ اگر تو نے اسے قتل کر دیا تو تیرے لیے باعث نور ہے اور اگر اس نے تجھے قتل کر دیا تو قطعاً جنتی ہو گیا۔ پھر فرمایا: ”شاید تیرا دشمن تیرا بچہ ہے، جو تیری پیٹھ سے نکلا، پھر تجھ سے دشمنی کرنے لگا، تیرا پورا دشمن تیرا مال ہے، جو تیری ملکیت میں ہے، پھر دشمنی کرتا ہے“ }۔ [طبرانی:3445:ضعیف]
15۔ 1 جو تمہیں کسب حرام پر اکساتے ہیں اور اللہ کے حقوق ادا کرنے سے روکتے ہیں پس اس آزمائش میں تم اسی وقت سرخرو ہوسکتے ہو جب تم اللہ کی معصیت میں ان کی اطاعت نہ کرو۔ مطلب یہ ہوا کہ مال واولاد جہاں اللہ کی نعمت ہیں وہاں انسان کی آزمائش کا ذریعہ بھی ہیں اس طرح اللہ دیکھتا ہے کہ کون میرا فرمانبردار ہے اور کون نافرمان۔ 15۔ 2 یعنی اس شخص کے لئے جو مال و اولاد کی محبت کے مقابلے میں اللہ کی اطاعت کو ترجیح دیتا ہے اور اس کی نافرمانی سے اجتناب کرتا ہے۔
(آیت 15){ اَنَّمَا اَمْوَالُكُمْ وَ اَوْلَادُكُمْ فِتْنَةٌ …:} اس کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۱۴)، انفال (۲۸)، کہف (۴۶) اور سورۂ منافقون (۹)۔
لہٰذا جہاں تک تمہارے بس میں ہو اللہ سے ڈرتے رہو، اور سنو اور اطاعت کرو، اور اپنے مال خرچ کرو، یہ تمہارے ہی لیے بہتر ہے جو اپنے دل کی تنگی سے محفوظ رہ گئے بس وہی فلاح پانے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پس جہاں تک تم سے ہوسکے اللہ سے ڈرتے رہو اور سنتے اور مانتے چلے جاؤ اور اللہ کی راه میں خیرات کرتے رہو جو تمہارے لیے بہتر ہے اور جو شخص اپنے نفس کی حرص سے محفوظ رکھا جائے وہی کامیاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
تو اللہ سے ڈرو جہاں تک ہوسکے اور فرمان سنو اور حکم مانو اور اللہ کی راہ میں خرچ کرو اپنے بھلے کو، اور جو اپنی جان کے لالچ سے بچایا گیا تو وہی فلاح پانے والے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جہاں تک ہو سکے اللہ (کی نافرمانی) سے ڈرو اور سنو اور اطاعت کرو اور (مال) خرچ کرو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور جو شخص اپنے نفس کے بُخل سے بچایا گیا تو وہی لوگ فلاح پانے والے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
سو اللہ سے ڈرو جتنی طاقت رکھو اور سنو اور حکم مانو اور خرچ کرو، تمھارے اپنے لیے بہتر ہو گا اور جو اپنے نفس کے بخل سے بچا لیے جائیں سو وہی کامیاب ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ سے طاقت کے مطابق ڈرنا ٭٭
پھر فرماتا ہے ’ اپنے مقدور بھر اللہ کا خوف رکھو اس کے عذاب سے بچنے کی کوشش کرو ‘۔ بخاری و مسلم میں ہے { جو حکم میں کروں اسے اپنی مقدور بھر بجا لاؤ , جس سے میں روک دوں رک جاؤ }۔ [صحیح بخاری:7288] بعض مفسرین کا فرمان ہے کہ سورۃ آل عمران کی آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» ۱؎ [3-آل عمران:102] کی ناسخ یہ آیت ہے، یعنی پہلے فرمایا تھا ’ اللہ تعالیٰ سے اس قدر ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیئے ‘، لیکن اب فرما دیا کہ ’ اپنی طاقت کے مطابق ‘۔ چنانچہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلی آیت لوگوں پر بڑی بھاری پڑی تھی اس قدر لمبے قیام کرتے تھے کہ پیروں پر ورم آ جاتا تھا اور اتنے لمبے سجدے کرتے تھے کہ پیشانیاں زخمی ہو جاتی تھیں۔“
پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار کر تخفیف کر دی اور بھی بعض مفسرین نے یہی فرمایا ہے اور پہلی آیت کو منسوخ اور اس دوسری آیت کو ناسخ بتایا ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار بن جاؤ , ان کے فرمان سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو , نہ آگے بڑھو , نہ پیچھے سرکو، نہ امر کو چھوڑو , نہ نہی کے خلاف کرو، جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے رشتہ داروں کو , فقیروں، مسکینوں کو اور حاجت مندوں کو دیتے رہو، اللہ نے تم پر احسان کیا تم دوسری مخلوق پر احسان کرو تاکہ اس جہان میں بھی اللہ کے احسان کے مستحق بن جاؤ اور اگر یہ نہ کیا تو دونوں جہان کی بربادی اپنے ہاتھوں آپ مول لو گے ‘۔ «وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» ۱؎ [59-الحشر:9] کی تفسیر اس آیت میں گزر چکی ہے۔ ’ جب تم کوئی چیز راہ اللہ دو گے اللہ اس کا بدلہ دے گا ہر صدقے کی جزا عطا فرمائے گا، تمہارا مسکینوں کے ساتھ سلوک کرنا گویا اللہ کو قرض دینا ہے ‘۔
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ کون ہے؟ جو ایسے کو قرض دے جو نہ تو ظالم ہے، نہ مفلس، نہ نادہندہ ‘ }۔ [صحیح مسلم:758] پس فرماتا ہے ’ وہ تمہیں بہت کچھ بڑھا چڑھا کر پھیر دے گا ‘، جیسے سورۃ البقرہ میں بھی فرمایا ہے «فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» ۱؎ [2-البقرۃ:245] ’ کئی کئی گنا بڑھا کر دے گا ‘۔ ساتھ ہی خیرات سے تمہارے گناہ معاف فرما کر دے گا، اللہ بڑا قدر دان ہے، تھوڑی سی نیکی کا بہت بڑا اجر دیتا ہے، وہ بردبار ہے، درگزر کرتا ہے، بخش دیتا ہے، گناہوں سے اور لغزشوں سے چشم پوشی کر لیتا ہے، خطاؤں اور برائیوں کو معاف فرما دیتا ہے، چھپے کھلے کا عالم ہے اور وہ غالب اور باحکمت ہے، ان اسماء حسنیٰ کی تفسیر کئی کئی مرتبہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے سورۃ التغابن کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
16۔ 1 یعنی اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی باتوں کو توجہ اور غور سے سنو اور ان پر عمل کرو۔ اس لئے کہ صرف سن لینا بےفائدہ ہے، جب تک عمل نہ ہو۔
(آیت 16) ➊ { فَاتَّقُوا اللّٰهَ مَا اسْتَطَعْتُمْ …:} ما ل و اولاد کے فتنے سے بچنے کے لیے چند چیزوں کی تاکید فرمائی، جن میں سب سے پہلے اللہ تعالیٰ کا حسب استطاعت تقویٰ ہے، پھر سمع و طاعت اور آخر میں فتنہ بننے والے اس مال کو خرچ کرنا ہے اور اس میں بخل سے گریز کرناہے۔ ➋ { مَا اسْتَطَعْتُمْ:} اس سے معلوم ہوا کہ آدمی کے لیے اللہ کے احکام پر اتنا عمل ہی فرض ہے جتنی اس میں طاقت ہے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «لَا يُكَلِّفُ اللّٰهُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا» [ البقرۃ: ۲۸۶ ] ”اللہ کسی جان کو تکلیف نہیں دیتا مگر اس کی گنجائش کے مطابق۔“ جہاں آدمی بے بس ہو جائے وہاں مؤاخذہ نہیں۔ (دیکھیے بقرہ: ۱۷۳۔ انعام: ۱۱۹۔ نحل: ۱۰۶) مؤاخذہ اسی صورت میں ہے جب آدمی استطاعت کے باوجود اللہ کی اطاعت نہ کرے۔رہی یہ بات کہ آدمی بہانہ بنا لے اور فرض کر لے کہ فلاں کام میری استطاعت سے باہر ہے، حالانکہ وہ اس کی استطاعت میں ہو تو اس پر اس کا ضرور مؤاخذہ ہوگا، کیونکہ اللہ تعالیٰ کو ہر بات کا علم ہے۔ ➌ { وَ اسْمَعُوْا وَ اَطِيْعُوْا:} یعنی اللہ اور اس کے رسول کے احکام سنو اور ان کی اطاعت کرو۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے سمع و طاعت کی بیعت لیا کرتے تھے، عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیعت والی حدیث کے الفاظ ہیں: [ بَايَعْنَا رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ عَلی السَّمْعِ وَالطَّاعَةِ فِي الْمَنْشَطِ وَالْمَكْرَهِ ] [ بخاري، الأحکام، باب کیف یبایع الإمام الناس؟: ۷۱۹۹ ] ”ہم نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے خوش دلی اور ناگواری (ہر حال) میں سننے اور فرماں برداری کرنے پر بیعت کی۔“ ➍ {وَ اَنْفِقُوْا خَيْرًا لِّاَنْفُسِكُمْ: ” خَيْرًا “ ”يَكُنْ“} کی خبر ہونے کی وجہ سے منصوب ہے جو یہاں {” اَنْفِقُوْا “} کے جواب میں مقدر ہے۔ یعنی خرچ کرو یہ تمھارے لیے بہتر ہوگا۔ یہ مال کے فتنے کا تریاق ہے کہ اسے زیادہ سے زیادہ خرچ کیا جائے، جمع کر کے نہ رکھا جائے۔ ابو ذر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں، میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپ اس وقت کعبہ کے سائے میں تھے اور فرما رہے تھے: [ هُمُ الْأَخْسَرُوْنَ وَ رَبِّ الْكَعْبَةِ، هُمُ الْأَخْسَرُوْنَ وَ رَبِّ الْكَعْبَةِ ] ”وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں رب کعبہ کی قسم! وہی سب سے زیادہ خسارے والے ہیں رب کعبہ کی قسم!“ میں نے کہا: ”میرا کیا معاملہ ہے، کیا مجھ میں کوئی (خسارے والی) چیز دکھائی دے رہی ہے، میرا معاملہ کیا ہے؟“ خیر میں آپ کے پاس بیٹھ گیا اور آپ یہی فرماتے رہے۔ مجھ میں خاموش رہنے کی سکت نہ رہی، اللہ کو جو منظور تھا (یعنی بے قراری اور اضطراب) وہ مجھ پر طاری ہوگیا، تو میں نے پوچھا: ”وہ کون ہیں یا رسول اللہ! میرے ماں باپ آپ پر قربان؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [هُمُ الْأَكْثَرُوْنَ أَمْوَالًا إِلَّا مَنْ قَالَ هٰكَذَا وَهٰكَذَا وَهٰكَذَا ] [ بخاري، الأیمان والنذور، باب کیف کانت یمین النبي صلی اللہ علیہ وسلم ؟: ۶۶۳۸۔ مسلم: ۹۹۰ ] ”وہ لوگ جو بہت زیادہ اموال والے ہیں، سوائے اس کے جو اس طرح اور اس طرح اور اس طرح (بے دریغ) خرچ کرے۔“ ➎ { ” اَنْفِقُوْا “} (خرچ کرو)کا مصرف ذکر نہیں فرمایا، تاکہ عام رہے اور فرض و نفل ہر قسم کا خرچ کرتے رہنے کی تاکید ہو جائے۔ اس میں اپنی ذات پر، اہل و عیال پر اور ان لوگوں پر خرچ کرنا بھی شامل ہے جن کی پرورش اس کے ذمے ہے۔ ضرورت کی دوسری جگہوں پر بھی، صدقات کے ان آٹھ مصارف میں بھی جن کا سورۂ توبہ کی آیت (۶۰) {” اِنَّمَا الصَّدَقٰتُ لِلْفُقَرَآءِ …“} میں ذکر ہے اور ان میں سے بھی خاص طور پر ان لوگوں پر جو جہاد فی سبیل اللہ کے لیے وقف ہیں۔ دیکھیے سورۂ بقرہ(۲۷۳) کی تفسیر۔ ➏ {وَ مَنْ يُّوْقَ شُحَّ نَفْسِهٖ …:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ حشر کی آیت (۹) کی تفسیر۔ ”شح“سے بچنے کی تاکید سے ظاہر ہے کہ اہل و عیال پر خرچ بھی اللہ کے ساتھ قرض حسن کے معاملے میں شامل ہے۔
اگر تم اللہ کو قرض حسن دو تو وہ تمہیں کئی گنا بڑھا کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا، اللہ بڑا قدردان اور بردبار ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو گے (یعنی اس کی راه میں خرچ کرو گے) تو وه اسے تمہارے لیے بڑھاتا جائے گا اور تمہارے گناه بھی معاف فرما دے گا۔ اللہ بڑا قدر دان بڑا بردبار ہے
احمد رضا خان بریلوی
اگر تم اللہ کو اچھا قرض دو گے وہ تمہارے لیے اس کے دونے کردے گا اور تمہیں بخش دے گا اور اللہ قدر فرمانے والے حلم والا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اگر خدا کو قرضۂ حسنہ دو تو اللہ اسے تمہارے لئے کئی گنا بڑھا دے گا اور تمہیں بخش دے گا اللہ بڑا قدردان (اور) بڑا بردبار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اگر تم اللہ کو قرض دو گے، اچھا قرض تو وہ اسے تمھارے لیے کئی گنا کر دے گا اور تمھیں بخش دے گا اور اللہ بڑا قدردان، بے حد بردبارہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ سے طاقت کے مطابق ڈرنا ٭٭
پھر فرماتا ہے ’ اپنے مقدور بھر اللہ کا خوف رکھو اس کے عذاب سے بچنے کی کوشش کرو ‘۔ بخاری و مسلم میں ہے { جو حکم میں کروں اسے اپنی مقدور بھر بجا لاؤ , جس سے میں روک دوں رک جاؤ }۔ [صحیح بخاری:7288] بعض مفسرین کا فرمان ہے کہ سورۃ آل عمران کی آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» ۱؎ [3-آل عمران:102] کی ناسخ یہ آیت ہے، یعنی پہلے فرمایا تھا ’ اللہ تعالیٰ سے اس قدر ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیئے ‘، لیکن اب فرما دیا کہ ’ اپنی طاقت کے مطابق ‘۔ چنانچہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلی آیت لوگوں پر بڑی بھاری پڑی تھی اس قدر لمبے قیام کرتے تھے کہ پیروں پر ورم آ جاتا تھا اور اتنے لمبے سجدے کرتے تھے کہ پیشانیاں زخمی ہو جاتی تھیں۔“
پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار کر تخفیف کر دی اور بھی بعض مفسرین نے یہی فرمایا ہے اور پہلی آیت کو منسوخ اور اس دوسری آیت کو ناسخ بتایا ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار بن جاؤ , ان کے فرمان سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو , نہ آگے بڑھو , نہ پیچھے سرکو، نہ امر کو چھوڑو , نہ نہی کے خلاف کرو، جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے رشتہ داروں کو , فقیروں، مسکینوں کو اور حاجت مندوں کو دیتے رہو، اللہ نے تم پر احسان کیا تم دوسری مخلوق پر احسان کرو تاکہ اس جہان میں بھی اللہ کے احسان کے مستحق بن جاؤ اور اگر یہ نہ کیا تو دونوں جہان کی بربادی اپنے ہاتھوں آپ مول لو گے ‘۔ «وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» ۱؎ [59-الحشر:9] کی تفسیر اس آیت میں گزر چکی ہے۔ ’ جب تم کوئی چیز راہ اللہ دو گے اللہ اس کا بدلہ دے گا ہر صدقے کی جزا عطا فرمائے گا، تمہارا مسکینوں کے ساتھ سلوک کرنا گویا اللہ کو قرض دینا ہے ‘۔
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ کون ہے؟ جو ایسے کو قرض دے جو نہ تو ظالم ہے، نہ مفلس، نہ نادہندہ ‘ }۔ [صحیح مسلم:758] پس فرماتا ہے ’ وہ تمہیں بہت کچھ بڑھا چڑھا کر پھیر دے گا ‘، جیسے سورۃ البقرہ میں بھی فرمایا ہے «فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» ۱؎ [2-البقرۃ:245] ’ کئی کئی گنا بڑھا کر دے گا ‘۔ ساتھ ہی خیرات سے تمہارے گناہ معاف فرما کر دے گا، اللہ بڑا قدر دان ہے، تھوڑی سی نیکی کا بہت بڑا اجر دیتا ہے، وہ بردبار ہے، درگزر کرتا ہے، بخش دیتا ہے، گناہوں سے اور لغزشوں سے چشم پوشی کر لیتا ہے، خطاؤں اور برائیوں کو معاف فرما دیتا ہے، چھپے کھلے کا عالم ہے اور وہ غالب اور باحکمت ہے، ان اسماء حسنیٰ کی تفسیر کئی کئی مرتبہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے سورۃ التغابن کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
17۔ 1 یعنی اخلاص نیت اور طیب نفس کے ساتھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو گے۔ 17۔ 2 یعنی کئی کئی گنا بڑھانے کے ساتھ وہ تمہارے گناہ بھی معاف فرما دے گا۔ 17۔ 3 وہ اپنے اطاعت گزاروں کو اجر وثواب سے نوازتا ہے اور گناہ گاروں کی فوری باز پرس نہیں فرماتا۔
(آیت 17) ➊ { اِنْ تُقْرِضُوا اللّٰهَ قَرْضًا حَسَنًا يُّضٰعِفْهُ لَكُمْ وَ يَغْفِرْ لَكُمْ:} اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۴۵) کی تفسیر۔ ➋ { وَ اللّٰهُ شَكُوْرٌ حَلِيْمٌ:} الله {” شَكُوْرٌ “} (بڑا قدر دان) ہے کہ تھوڑا سا خرچ کرنے پر اسے بے حساب بڑ ھاتا ہے اور گناہ بھی بخشتا ہے اور {” حَلِيْمٌ “} (بے حد بردباد) ہے کہ بڑی بڑی غلطیوں پر بھی فوراً نہیں پکڑتا، بلکہ مہلت پر مہلت دیتا چلا جاتا ہے۔ اس میں ازواج و اولاد کے ساتھ معاملے میں ”شکر و حلم“ اختیار کرنے کی طرف بھی اشارہ ہے کہ میاں بیوی اور والد و اولاد دونوں ایک دوسرے کے معمولی حسن سلوک کی بھی قدر کریں اور ایک دوسرے کی کو تاہیوں پر برد باری سے کام لیں۔
حاضر اور غائب ہر چیز کو جانتا ہے، زبردست اور دانا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وه پوشیده اور ﻇاہر کا جاننے واﻻ ہے زبردست حکمت واﻻ (ہے)
احمد رضا خان بریلوی
ہر نہاں اور عیاں کا جاننے والا عزت والا حکمت والا،
علامہ محمد حسین نجفی
وہ غائب اور حاضر کا جاننے والا، زبردست(اور) بڑا حکمت والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ہر پوشیدہ اور ظاہر کو جاننے والا، سب پر غالب، کمال حکمت والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ سے طاقت کے مطابق ڈرنا ٭٭
پھر فرماتا ہے ’ اپنے مقدور بھر اللہ کا خوف رکھو اس کے عذاب سے بچنے کی کوشش کرو ‘۔ بخاری و مسلم میں ہے { جو حکم میں کروں اسے اپنی مقدور بھر بجا لاؤ , جس سے میں روک دوں رک جاؤ }۔ [صحیح بخاری:7288] بعض مفسرین کا فرمان ہے کہ سورۃ آل عمران کی آیت «يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّـهَ حَقَّ تُقَاتِهِ وَلَا تَمُوتُنَّ إِلَّا وَأَنتُم مُّسْلِمُونَ» ۱؎ [3-آل عمران:102] کی ناسخ یہ آیت ہے، یعنی پہلے فرمایا تھا ’ اللہ تعالیٰ سے اس قدر ڈرو جتنا اس سے ڈرنا چاہیئے ‘، لیکن اب فرما دیا کہ ’ اپنی طاقت کے مطابق ‘۔ چنانچہ سعید بن جبیر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”پہلی آیت لوگوں پر بڑی بھاری پڑی تھی اس قدر لمبے قیام کرتے تھے کہ پیروں پر ورم آ جاتا تھا اور اتنے لمبے سجدے کرتے تھے کہ پیشانیاں زخمی ہو جاتی تھیں۔“
پس اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتار کر تخفیف کر دی اور بھی بعض مفسرین نے یہی فرمایا ہے اور پہلی آیت کو منسوخ اور اس دوسری آیت کو ناسخ بتایا ہے۔ پھر فرماتا ہے ’ اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار بن جاؤ , ان کے فرمان سے ایک انچ ادھر ادھر نہ ہٹو , نہ آگے بڑھو , نہ پیچھے سرکو، نہ امر کو چھوڑو , نہ نہی کے خلاف کرو، جو اللہ نے تمہیں دے رکھا ہے اس میں سے رشتہ داروں کو , فقیروں، مسکینوں کو اور حاجت مندوں کو دیتے رہو، اللہ نے تم پر احسان کیا تم دوسری مخلوق پر احسان کرو تاکہ اس جہان میں بھی اللہ کے احسان کے مستحق بن جاؤ اور اگر یہ نہ کیا تو دونوں جہان کی بربادی اپنے ہاتھوں آپ مول لو گے ‘۔ «وَمَن يُوقَ شُحَّ نَفْسِهِ فَأُولَٰئِكَ هُمُ الْمُفْلِحُونَ» ۱؎ [59-الحشر:9] کی تفسیر اس آیت میں گزر چکی ہے۔ ’ جب تم کوئی چیز راہ اللہ دو گے اللہ اس کا بدلہ دے گا ہر صدقے کی جزا عطا فرمائے گا، تمہارا مسکینوں کے ساتھ سلوک کرنا گویا اللہ کو قرض دینا ہے ‘۔
بخاری مسلم کی حدیث میں ہے { اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ کون ہے؟ جو ایسے کو قرض دے جو نہ تو ظالم ہے، نہ مفلس، نہ نادہندہ ‘ }۔ [صحیح مسلم:758] پس فرماتا ہے ’ وہ تمہیں بہت کچھ بڑھا چڑھا کر پھیر دے گا ‘، جیسے سورۃ البقرہ میں بھی فرمایا ہے «فَيُضَاعِفَهُ لَهُ أَضْعَافًا كَثِيرَةً» ۱؎ [2-البقرۃ:245] ’ کئی کئی گنا بڑھا کر دے گا ‘۔ ساتھ ہی خیرات سے تمہارے گناہ معاف فرما کر دے گا، اللہ بڑا قدر دان ہے، تھوڑی سی نیکی کا بہت بڑا اجر دیتا ہے، وہ بردبار ہے، درگزر کرتا ہے، بخش دیتا ہے، گناہوں سے اور لغزشوں سے چشم پوشی کر لیتا ہے، خطاؤں اور برائیوں کو معاف فرما دیتا ہے، چھپے کھلے کا عالم ہے اور وہ غالب اور باحکمت ہے، ان اسماء حسنیٰ کی تفسیر کئی کئی مرتبہ اس سے پہلے گزر چکی ہے۔ اللہ تعالیٰ کے فضل و کرم اور لطف و رحم سے سورۃ التغابن کی تفسیر ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه» ۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 18){ عٰلِمُ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ الْعَزِيْزُ الْحَكِيْمُ:} یہ صفات یہاں ذکر کرنے سے یہ احساس دلانا مقصود ہے کہ میاں بیوی اور والد و اولاد کے باہمی معاملات سے پوری طرح واقف اللہ تعالیٰ ہی ہے، لوگوں کو اس کی خبر نہیں ہوسکتی، کیونکہ وہ ان سے الگ رہتے ہیں۔ اس لیے ان میں سے ہر ایک کو ہر وقت اس عالم الغیب والشہادہ کو اپنے سامنے رکھنا چاہیے اور اس کی گرفت سے ڈرتے رہنا چاہیے، کیونکہ وہ عزیز بھی ہے اور حکیم بھی۔