بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ التغابن — Surah Taghabun
آیت نمبر 9
کل آیات: 18
قرآن کریم التغابن آیت 9
آیت نمبر: 9 — سورۃ التغابن islamicurdubooks.com ↗
یَوۡمَ یَجۡمَعُکُمۡ لِیَوۡمِ الۡجَمۡعِ ذٰلِکَ یَوۡمُ التَّغَابُنِ ؕ وَ مَنۡ یُّؤۡمِنۡۢ بِاللّٰہِ وَ یَعۡمَلۡ صَالِحًا یُّکَفِّرۡ عَنۡہُ سَیِّاٰتِہٖ وَ یُدۡخِلۡہُ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَاۤ اَبَدًا ؕ ذٰلِکَ الۡفَوۡزُ الۡعَظِیۡمُ ﴿۹﴾
(اِس کا پتا تمہیں اس روز چل جائے گا) جب اجتماع کے دن وہ تم سب کو اکٹھا کرے گا وہ دن ہوگا ایک دوسرے کے مقابلے میں لوگوں کی ہار جیت کا جو اللہ پر ایمان لایا ہے اور نیک عمل کرتا ہے، اللہ اس کے گناہ جھاڑ دے گا اور اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے یہ بڑی کامیابی ہے
جس دن تم سب کو اس جمع ہونے کے دن جمع کرے گا وہی دن ہے ہار جیت کا اور جو شخص اللہ پر ایمان ﻻکر نیک عمل کرے اللہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا اور اسے جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جن میں وه ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہی بہت بڑی کامیابی ہے
جس دن تمہیں اکٹھا کرے گا سب جمع ہونے کے دن وہ دن ہے ہار والوں کی ہار کھلنے کا اور جو اللہ پر ایمان لائے اور اچھا کام کرے اللہ اس کی برائیاں اتاردے گا اور اسے باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں کہ وہ ہمیشہ ان میں رہیں، یہی بڑی کامیابی ہے،
(اس دن کو یاد کرو) جس دن اللہ تمہیں اجتماع والے دن جمع کرے گا یہی دن باہمی گھاٹا اٹھانے کا دن ہوگا اور جو اللہ پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اللہ اس سے اس کی برائیاں (گناہ) دور کرے گا اور اسے ان باغہائے بہشت میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں رواں دواں ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے یہ بہت بڑی کامیابی ہے۔
جس دن وہ تمھیں جمع کرنے کے دن کے لیے جمع کرے گا، وہی ہار جیت کا دن ہے اور جو اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے وہ اس سے اس کی برائیاں دور کر دے گا اور اسے ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہیں، ہمیشہ ان میں رہنے والے ہیں ہمیشہ، یہی بہت بڑی کامیابی ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

منکرین قیامت مشرکین و ملحدین ٭٭

اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ کفار مشرکین ملحدین کہتے ہیں کہ مرنے کے بعد نہیں اٹھیں گے، اے نبی! تم ان سے کہہ دو کہ ہاں اٹھو گے، پھر تمہارے تمام چھوٹے بڑے، چھپے کھلے اعمال کا اظہار تم پر کیا جائے گا، سنو تمہارا دوبارہ پیدا کرنا تمہیں بدلے دینا وغیرہ تمام کام اللہ تعالیٰ پر بالکل آسان ہیں ‘۔ یہ تیسری آیت ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو قسم کھا کر قیامت کی حقانیت کے بیان کرنے کو فرمایا ہے۔ پہلی آیت تو سورۃ یونس میں ہے «وَيَسْتَنبِئُونَكَ أَحَقٌّ هُوَ قُلْ إِي وَرَبِّي إِنَّهُ لَحَقٌّ وَمَا أَنتُم بِمُعْجِزِينَ» ۱؎ [10-یونس:53] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ لوگ تجھ سے پوچھتے ہیں کہ کیا وہ حق ہے؟ تو کہہ میرے رب کی قسم وہ حق ہے اور تم اللہ کو ہرا نہیں سکتے ‘۔ دوسری آیت سورۃ سبا میں ہے «وَقَالَ الَّذِينَ كَفَرُوا لَا تَأْتِينَا السَّاعَةُ قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتَأْتِيَنَّكُمْ» ۱؎ [34-سبأ:3] ‏‏‏‏ ’ کافر کہتے ہیں ہم پر قیامت نہ آئے گی تو کہہ دے کہ ہاں میرے رب کی قسم یقیناً اور بالضرور آئے گی ‘۔ اور تیسری آیت یہی «زَعَمَ الَّذِينَ كَفَرُوا أَن لَّن يُبْعَثُوا قُلْ بَلَىٰ وَرَبِّي لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ بِمَا عَمِلْتُمْ وَذَٰلِكَ عَلَى اللَّهِ يَسِيرٌ» ۱؎ [64-التغابن:7] ‏‏‏‏ پھر ارشاد ہوتا ہے کہ ’ اللہ پر، رسول پر، نور منزل یعنی قرآن کریم پر ایمان لاؤ تمہارا کوئی خفیہ عمل بھی اللہ تعالیٰ پر پوشیدہ نہیں۔ قیامت والے دن اللہ تعالیٰ تم سب کو جمع کرے گا اور اسی لیے اس کا نام «یوم الجمع» ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «ذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّجْمُوعٌ لَّهُ النَّاسُ وَذَٰلِكَ يَوْمٌ مَّشْهُودٌ» ۱؎ [11-ھود:103] ‏‏‏‏ ’ یہ لوگوں کے جمع کئے جانے اور ان کے حاضر باش ہونے کا دن ہے ‘۔ اور جگہ ہے «قُلْ إِنَّ الْأَوَّلِينَ وَالْآخِرِينَ لَمَجْمُوعُونَ إِلَى مِيقَاتِ يَوْمٍ مَعْلُومٍ» ۱؎ [56-الواقعة:49-50] ‏‏‏‏ یعنی ’ قیامت والے دن تمام اولین اور آخرین جمع کئے جائیں گے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ” «یوم التغابن» قیامت کا ایک نام ہے، اس نام کی وجہ یہ ہے کہ اہل جنت، اہل دوزخ کو نقصان میں ڈالیں گے۔‏‏‏‏“ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں ”اس سے زیادہ «تغابن» کیا ہو گا کہ ان کے سامنے انہیں جنت میں اور ان کے سامنے انہیں جہنم میں لے جائیں گے۔‏‏‏‏“ گویا اسی کی تفسیر اس کے بعد والی آیت میں ہے کہ ایماندار، نیک اعمال والوں کے گناہ معاف کر دیئے جائیں گے اور بہتی نہروں والی ہمیشہ رہنے والی جنت میں انہیں داخل کیا جائے گا اور پوری کامیابی کو پہنچ جائے گا اور کفر و تکذیب کرنے والے جہنم کی آگ میں جائیں گے جہاں ہمیشہ جلنے کا عذاب پاتے رہیں گے بھلا اس سے برا ٹھکانا اور کیا ہو سکتا ہے؟

📖 احسن البیان

9۔ 1 قیامت کو یوم الجمع اس لیے کہا کہ اس دن اول وآخر سب ایک ہی میدان میں جمع ہوں گے فرشتے کی آواز سب سنیں گے ہر ایک کی نگاہ آخر تک پہنچے گی کیونکہ درمیان میں کوئی چیز حائل نہ ہوگی۔ 9۔ 2 یعنی ایک گروہ جیت جائے گا اور ایک ہار جائے گا، اہل حق اہل باطن پر، ایمان والے اہل کفر پر اور اہل طاعت اہل معصیت پر جیت جائیں گے، سب سے بڑی جیت اہل ایمان کو یہ حاصل ہوگی کہ وہ جنت میں داخل ہوجائیں گے اور سب سے بڑی ہار جہنمیوں کے حصے آئے گی جو جہنم میں داخل ہونگے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 9) ➊ {يَوْمَ يَجْمَعُكُمْ لِيَوْمِ الْجَمْعِ:} یہ{” لَتُبْعَثُنَّ ثُمَّ لَتُنَبَّؤُنَّ “} کا ظرف ہے، قیامت کے دن کو{” يَوْمُ الْجَمْعِ “} اس لیے کہا گیا ہے کہ اس دن تمام پہلے اور پچھلے ایک میدان میں جمع کیے جائیں گے۔ (دیکھیے ہود: ۱۰۳۔ صافات: 50،49۔ شوریٰ: ۷۔ مرسلات: ۳۸) {”يَوْمُ الْجَمْعِ“} کا معنی یہ بھی ہو سکتا ہے کہ اس دن انسان کے جسم کی ہر ہڈی اور ہر ذرّہ جو منتشر ہوچکا ہوگا جمع کر دیا جائے گا، جیساکہ فرمایا: «اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗ» [ القیامۃ: ۳ ] ”کیا انسان گمان کرتا ہے کہ ہم کبھی اس کی ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے۔“ ➋ {ذٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ: ”غَبَنَ“ (ن) ”فُلَانًا فِي الْبَيْعِ“} بیع میں دوسرے کو نقصان پہنچا کر خود فائدہ حاصل کرلینا۔ طبری نے علی بن ابی طلحہ کی معتبر سند کے ساتھ ابنِ عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل فرمایا ہے، انھوں نے {” ذٰلِكَ يَوْمُ التَّغَابُنِ “} کے متعلق فرمایا: [هُوَ اسْمٌ مِّنْ أَسْمَاءِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَذٰلِكَ أَنَّ أَهْلَ الْجَنَّةِ يَغْبُنُوْنَ أَهْلَ النَّارِ ] ” یعنی یوم التغابن قیامت کے ناموں میں سے ایک نام ہے اور یہ نام اس لیے ہے کہ اس دن جنتی جہنمیوں کو نقصان میں رکھ کر خود فائدہ حاصل کریں گے۔“ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ اس نفع و نقصان کی تفصیل خود اللہ تعالیٰ نے آگے بیان فرما دی ہے کہ ایمان اور عمل صالح والوں کو کیا حاصل ہو گا اور کفر و تکذیب والوں کے حصے میں کیا آئے گا۔ ➌ {وَ مَنْ يُّؤْمِنْۢ بِاللّٰهِ وَ يَعْمَلْ صَالِحًا …:} یہ اس دن کی ہار جیت میں سے جیت والوں کے حصے کا بیان ہے۔
← پچھلی آیت (8) پوری سورۃ اگلی آیت (10) →