بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ التغابن — Surah Taghabun
آیت نمبر 3
کل آیات: 18
قرآن کریم التغابن آیت 3
آیت نمبر: 3 — سورۃ التغابن islamicurdubooks.com ↗
خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الۡاَرۡضَ بِالۡحَقِّ وَ صَوَّرَکُمۡ فَاَحۡسَنَ صُوَرَکُمۡ ۚ وَ اِلَیۡہِ الۡمَصِیۡرُ ﴿۳﴾
اس نے زمین اور آسمانوں کو برحق پیدا کیا ہے، اور تمہاری صورت بنائی اور بڑی عمدہ بنائی ہے، اور اسی کی طرف آخرکار تمہیں پلٹنا ہے
اسی نے آسمانوں کو اور زمین کو عدل وحکمت سے پیدا کیا، اسی نے تمہاری صورتیں بنائیں اور بہت اچھی بنائیں اور اسی کی طرف لوٹنا ہے
اس نے آسمان اور زمین حق کے ساتھ بنائے اور تمہاری تصویر کی تو تمہاری اچھی صورت بنائی اور اسی کی طرف پھرنا ہے
اس نے آسمانوں اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا ہے اوراس نے تمہاری صورت گری کی تو تمہاری بہت اچھی صورتیں بنائیں اور اسی کی طرف (سب نے) لوٹ کر جانا ہے۔
اس نے آسمانوں کو اور زمین کو حق کے ساتھ پیدا کیا اور اس نے تمھاری صورتیں بنائیں تو تمھاری صورتیں اچھی بنائیں اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

تفسیر التغابن ٭٭

مسبحات کی سورتوں میں سب سے آخری سورت یہی ہے، مخلوقات کی تسبیح الٰہی کا بیان کئی دفعہ ہو چکا ہے، ملک و حمد والا اللہ ہی ہے ہر چیز پر اس کی حکومت کام میں اور ہر چیز کا اندازہ مقرر کرنے میں۔ وہ تعریف کا مستحق، جس چیز کا ارادہ کرے اس کو پورا کرنے کی قدرت بھی رکھتا ہے، نہ کوئی اس کا مزاحم بن سکے، نہ اسے کوئی روک سکے وہ اگر نہ چاہے تو کچھ بھی نہ ہو، وہی تمام مخلوق کا خالق ہے اس کے ارادے سے بعض انسان کافر ہوئے بعض مومن، وہ بخوبی جانتا ہے کہ مستحق ہدایت کون ہے؟ اور مستحق ضلالت کون ہے؟ وہ اپنے بندوں کے اعمال پر شاہد ہے اور ہر ایک عمل کا پورا پورا بدلے دے گا، اس نے عدل و حکمت کے ساتھ آسمان و زمین کی پیدائش کی ہے، اسی نے تمہیں پاکیزہ اور خوبصورت شکلیں دے رکھی ہیں۔ جیسے اور جگہ ارشاد ہے «يَا أَيُّهَا الْإِنسَانُ مَا غَرَّكَ بِرَبِّكَ الْكَرِيمِ الَّذِي خَلَقَكَ فَسَوَّاكَ فَعَدَلَكَ فِي أَيِّ صُورَةٍ مَّا شَاءَ رَكَّبَكَ» ۱؎ [82-الانفطار:6-8] ‏‏‏‏ ’ اے انسان تجھے تیرے رب کریم سے کس چیز نے غافل کر دیا، اسی نے تجھے پیدا کیا، پھر درست کیا، پھر ٹھیک ٹھاک کیا اور جس صورت میں چاہا تجھے ترکیب دی ‘۔ اور جگہ ارشاد ہے «اللَّـهُ الَّذِي جَعَلَ لَكُمُ الْأَرْضَ قَرَارًا وَالسَّمَاءَ بِنَاءً وَصَوَّرَكُمْ فَأَحْسَنَ صُوَرَكُمْ وَرَزَقَكُم مِّنَ الطَّيِّبَاتِ» ۱؎ [40-غافر:64] ‏‏‏‏، ’ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو قرار گاہ اور آسمان کو چھت بنایا اور تمہیں بہترین صورتیں دیں اور پاکیزہ چیزیں کھانے کو عنایت فرمائیں ‘۔ آخر سب کو اسی کی طرف لوٹنا ہے، آسمان و زمین اور ہر نفس اور کل کائنات کا علم اسے حاصل ہے یہاں تک کہ دل کے ارادوں اور پوشیدہ باتوں سے بھی وہ واقف ہے۔

📖 احسن البیان

3۔ 1 اور وہ عدل و حکمت یہی ہے کہ محسن کو احسان کی اور بدکار کو اس کی بدی کی جزا دے، چناچہ وہ اس عدل کا مکمل اہتمام قیامت والے دن فرمائے گا۔ 3۔ 2 تمہاری شکل وصورت، قدو قامت اور خدوخال نہایت خوبصورت بنائے۔ جس سے اللہ کی دوسری مخلوق محروم ہے۔ 3۔ 2 کسی اور کی طرف نہیں، کہ اللہ کے محاسبے اور مؤاخذے سے بچاؤ ہوجائے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 3) ➊ { خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ بِالْحَقِّ:} حق سے مراد یہاں حکمت و مصلحت ہے اور ان کی پیدائش کی بے شمار حکمتوں میں سے ایک یہ ہے کہ انسان کی پیدائش سے پہلے ہی ا للہ تعالیٰ نے ایسی تمام چیزیں پیدا فرما دیں جو انسان کی بقا کے لیے ضروری تھیں اور انھیں انسان کی خدمت پر مامور کر دیا، جیسا کہ فرمایا: «هُوَ الَّذِيْ خَلَقَ لَكُمْ مَّا فِي الْاَرْضِ جَمِيْعًا» ‏‏‏‏ [البقرۃ: ۲۹ ] ”وہی ہے جس نے زمین میں جو کچھ ہے سب تمھارے لیے پیدا کیا۔“ مزید دیکھیے سورۂ زمر (۵)۔ ➋ { وَ صَوَّرَكُمْ فَاَحْسَنَ صُوَرَكُمْ:} اللہ تعالیٰ نے جو چیز پیدا فرمائی اچھی پیدا فرمائی۔ (دیکھیے سجدہ: ۷) یہاں فرمایا کہ اس نے تمھاری صورت بنائی تو تمھاری صورتیں اچھی بنائیں۔ (دیکھیے مومن: ۶۴۔ انفطار: ۶ تا ۸) دوسری جگہ فرمایا کہ ہم نے انسان کو (اچھی ہی نہیں بلکہ) سب سے اچھی بناوٹ میں پیدا فرمایا، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: «‏‏‏‏لَقَدْ خَلَقْنَا الْاِنْسَانَ فِيْۤ اَحْسَنِ تَقْوِيْمٍ» ‏‏‏‏ [ التین: ۴ ] ”بلاشبہ یقینا ہم نے انسان کو سب سے اچھی بناوٹ میں پیدا کیا ہے۔ “ ظاہری شکل و صورت میں بھی اور ذہنی اور عقلی استعداد کے لحاظ سے بھی انسان کو بہترین بناوٹ عطا ہوئی ہے، کسی دوسری مخلوق میں ایسی عقلی استعداد نہیں ہے۔ کوئی انسان کتنا بھی بدصورت ہو، کبھی نہیں چاہے گا کہ اسے کسی اور مخلوق کی شکل میں تبدیل کر دیا جائے، خواہ وہ کتنی خوبصورت ہو۔ ➌ { وَ اِلَيْهِ الْمَصِيْرُ:} یعنی ساری کائنات کی پیدائش خصوصاً انسان کو اتنی بہترین بناوٹ میں پیدا کرنا بے مقصد نہیں بلکہ تمھاری آزمائش کے لیے ہے، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏لِيَبْلُوَكُمْ اَيُّكُمْ اَحْسَنُ عَمَلًا» ‏‏‏‏ [ ہود: ۷ ] ”تاکہ وہ تمھیں آزمائے کہ تم میں سے کون عمل میں زیادہ اچھا ہے۔“ اور اس کے لیے تمھیں مرنے کے بعد قیامت کے دن دوبارہ زندہ ہو کر اس کی طرف واپس جانا ہے۔
← پچھلی آیت (2) پوری سورۃ اگلی آیت (4) →