بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 80
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 80
آیت نمبر: 80 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
وَ اِذَا مَرِضۡتُ فَہُوَ یَشۡفِیۡنِ ﴿۪ۙ۸۰﴾
اور جب میں بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے
اور جب میں بیمار پڑ جاؤں تو مجھے شفا عطا فرماتا ہے
اور جب میں بیمار ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے
اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہ مجھے شفا دیتا ہے۔
اور جب میں بیمار ہوتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

خلیل اللہ کی تعریف ٭٭

حضرت خلیل اللہ علیہ السلام اپنے رب کی صفتیں بیان فرماتے ہیں کہ ”میں تو ان اوصاف والے رب کا ہی عابد ہوں۔ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہیں کرونگا۔ پہلا وصف یہ کہ وہ میرا خالق ہے اسی نے اندازہ مقرر کیا ہے اور وہی مخلوقات کی اس کی طرف رہبری کرتا ہے۔ دوسرا وصف یہ کہ وہ ہادی حقیقی ہے جسے چاہتا ہے اپنی راہ مستقیم پر چلاتا ہے جسے چاہتا ہے اسے غلط راہ پر لگا دیتا ہے۔ تیسر وصف میرے رب کا یہ ہے کہ وہ رازق ہے آسمان و زمین کے تمام اسباب اسی نے مہیا کئے ہیں۔ بادلوں کا اٹھانا پھیلانا ان سے بارش کا برسانا اس سے زمین کو زندہ کرنا پھر پیداوار اگانا اسی کا کام ہے۔ وہی میٹھا اور پیاس بجھانے والا پانی ہمیں دیتا ہے اور اپنی مخلوق کو بھی غرض کھلانے پلانے والا ہی ہے۔ ساتھ ہی بیمار تندرستی بھی اسی کے ہاتھ ہے۔‏‏‏‏“ لیکن خلیل اللہ علیہ السلام کا کمال ادب دیکھئیے کہ بیماری کی نسبت تو اپنی طرف کی اور شفاء کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔ گو بیماری بھی اس قضاء و قدر ہے اور اسی کی بنائی ہوئی چیز ہے۔ یہی لطافت سورۃ فاتحہ کی دعا میں بھی ہے کہ انعام وہدایت کی اسناد تو اللہ عالم کی طرف کی ہے اور غضب کے فاعل کو حزف کر دیا ہے اور ضلالت بندے کی طرف منسوب کر دی ہے۔ سورۃ الجن میں جنات کا قول بھی ملاحظہ ہوجہاں انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ زمین والی مخلوق کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے ساتھ ان کے رب نے بھلائی کا ارادہ کیا ہے؟ یہاں بھی بھلائی کی نسبت رب کی طرف کی گئی اور برائی کے ارادے میں نسبت ظاہر نہیں کی گئی۔ اسی طرح کی آیت ہے کہ ’ جب میں بیمار پڑتا ہوں تو میری شفاء پر بجز اس اللہ کے اور کوئی قادر نہیں ‘۔ دوا میں تاثیر پیدا کرنا بھی اسی کے بس کی چیز ہے۔ موت و حیات پر قادر بھی وہی ہے۔ ابتداء اسی کے ساتھ ہے اسی نے پہلی پیدائش کی ہے۔ وہی دوبارہ لوٹائے گا۔ دنیا اور آخرت میں گناہوں کی بخشش پر بھی وہی قادر ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، غفور ورحیم وہی ہے۔

📖 احسن البیان

80-1بیماری کو دور کر کے شفا عطا کرنے والا بھی وہی ہے یعنی دواؤں میں شفا کی تاثیر بھی اسی کے حکم سے ہوتی ہے۔ ورنہ دوائیں بھی بےاثر ثابت ہوتی ہیں بیماری بھی اگرچہ اللہ کے حکم اور مشیت سے ہی آتی ہے لیکن اس کی نسبت اللہ کی طرف نہیں کی بلکہ اپنی طرف کی یہ گویا اللہ کے ذکر میں اس کے ادب و احترام کے پہلو کو ملحوظ رکھا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 80) ➊ { وَ اِذَا مَرِضْتُ فَهُوَ يَشْفِيْنِ:} یعنی وہی ہے جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا ہے، مگر میں جب اس کھانے پینے میں حد اعتدال سے گزر کر بیمار ہوتا ہوں، یا اپنی کسی اور غلطی کی وجہ سے بیمار ہوتا ہوں تو وہی ہے جو پھر مجھے شفا دے دیتا ہے۔ یہ پچھلی آیت کے ساتھ ایک لطیف مطابقت ہے۔ بعض طبیبوں کا کہنا ہے کہ اگر مُردوں سے پوچھا جائے، تمھاری موت کا سبب کیا ہوا تو اکثر یہی کہیں گے کہ زیادہ کھانے سے، بدہضمی سے۔ ➋ اگرچہ بیماری اور شفا دونوں اللہ تعالیٰ کی طرف سے ہیں، مگر ابراہیم علیہ السلام نے یہاں بیمار ہونے کی نسبت اپنی طرف کی ہے کہ ”جب میں بیمار ہوتا ہوں“ اور شفا دینے کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف کی ہے کہ {” فَهُوَ يَشْفِيْنِ “} (تو وہی مجھے شفا دیتا ہے)، اس میں ابراہیم علیہ السلام نے اللہ تعالیٰ کا ادب ملحوظ رکھا ہے کہ خیر و شر دونوں کا خالق ہونے کے باوجود شر کی نسبت اس کی طرف نہ کی جائے، جیسا کہ صحیح مسلم (۷۷۱) کی ایک حدیث میں ہے: [ وَالشَّرُّ لَيْسَ إِلَيْكَ ] اور جیسا کہ سورۂ فاتحہ میں {” اَنْعَمْتَ عَلَيْهِمْ “} میں انعام کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، مگر {” الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ وَ لَا الضَّآلِّيْنَ “} میں ”غضب“ اور ”ضلالت“ کی نسبت اس کی طرف نہیں ہے اور سورۂ کہف (۷۹ تا ۸۲) میں خضر علیہ السلام نے تینوں واقعات کی تاویل بیان کرتے وقت اس ادب کو خوب ملحوظ رکھا ہے اور سورۂ جن (۱۰) میں جنوں نے بھی اس ادب کو ملحوظ رکھا ہے۔ {” فَهُوَ يَشْفِيْنِ “} میں بھی حصر ہے کہ وہی مجھے شفا دیتا ہے، کوئی اور نہیں، کیونکہ اور بھی بے شمار ہستیاں ہیں جن کو لوگوں نے شفا دینے والے سمجھ رکھا ہے۔
← پچھلی آیت (79) پوری سورۃ اگلی آیت (81) →