بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 79
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 79
آیت نمبر: 79 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
وَ الَّذِیۡ ہُوَ یُطۡعِمُنِیۡ وَ یَسۡقِیۡنِ ﴿ۙ۷۹﴾
جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے
وہی ہے جو مجھے کھلاتا پلاتا ہے
اور وہ جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے
اور وہ جو مجھے کھلاتا ہے اور پلاتا بھی۔
اور وہی جو مجھے کھلاتا ہے اور مجھے پلاتا ہے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

خلیل اللہ کی تعریف ٭٭

حضرت خلیل اللہ علیہ السلام اپنے رب کی صفتیں بیان فرماتے ہیں کہ ”میں تو ان اوصاف والے رب کا ہی عابد ہوں۔ اس کے سوا اور کسی کی عبادت نہیں کرونگا۔ پہلا وصف یہ کہ وہ میرا خالق ہے اسی نے اندازہ مقرر کیا ہے اور وہی مخلوقات کی اس کی طرف رہبری کرتا ہے۔ دوسرا وصف یہ کہ وہ ہادی حقیقی ہے جسے چاہتا ہے اپنی راہ مستقیم پر چلاتا ہے جسے چاہتا ہے اسے غلط راہ پر لگا دیتا ہے۔ تیسر وصف میرے رب کا یہ ہے کہ وہ رازق ہے آسمان و زمین کے تمام اسباب اسی نے مہیا کئے ہیں۔ بادلوں کا اٹھانا پھیلانا ان سے بارش کا برسانا اس سے زمین کو زندہ کرنا پھر پیداوار اگانا اسی کا کام ہے۔ وہی میٹھا اور پیاس بجھانے والا پانی ہمیں دیتا ہے اور اپنی مخلوق کو بھی غرض کھلانے پلانے والا ہی ہے۔ ساتھ ہی بیمار تندرستی بھی اسی کے ہاتھ ہے۔‏‏‏‏“ لیکن خلیل اللہ علیہ السلام کا کمال ادب دیکھئیے کہ بیماری کی نسبت تو اپنی طرف کی اور شفاء کی نسبت اللہ تعالیٰ کی طرف ہے۔ گو بیماری بھی اس قضاء و قدر ہے اور اسی کی بنائی ہوئی چیز ہے۔ یہی لطافت سورۃ فاتحہ کی دعا میں بھی ہے کہ انعام وہدایت کی اسناد تو اللہ عالم کی طرف کی ہے اور غضب کے فاعل کو حزف کر دیا ہے اور ضلالت بندے کی طرف منسوب کر دی ہے۔ سورۃ الجن میں جنات کا قول بھی ملاحظہ ہوجہاں انہوں نے کہا ہے کہ ہمیں نہیں معلوم کہ زمین والی مخلوق کے ساتھ کسی برائی کا ارادہ کیا گیا ہے یا ان کے ساتھ ان کے رب نے بھلائی کا ارادہ کیا ہے؟ یہاں بھی بھلائی کی نسبت رب کی طرف کی گئی اور برائی کے ارادے میں نسبت ظاہر نہیں کی گئی۔ اسی طرح کی آیت ہے کہ ’ جب میں بیمار پڑتا ہوں تو میری شفاء پر بجز اس اللہ کے اور کوئی قادر نہیں ‘۔ دوا میں تاثیر پیدا کرنا بھی اسی کے بس کی چیز ہے۔ موت و حیات پر قادر بھی وہی ہے۔ ابتداء اسی کے ساتھ ہے اسی نے پہلی پیدائش کی ہے۔ وہی دوبارہ لوٹائے گا۔ دنیا اور آخرت میں گناہوں کی بخشش پر بھی وہی قادر ہے وہ جو چاہتا ہے کرتا ہے، غفور ورحیم وہی ہے۔

📖 احسن البیان

79-1یعنی بہت سے اقسام کے رزق پیدا کرنے والا اور جو پانی ہم پیتے ہیں، اسے مہیا کرنے والا وہی اللہ ہے

📖 القرآن الکریم

(آیت 79) {وَ الَّذِيْ هُوَ يُطْعِمُنِيْ وَ يَسْقِيْنِ:} یہ دونوں صفات بھی حصر کے ساتھ ہیں کہ وہی مجھے کھلاتا ہے اور مجھے پلاتا ہے، اور کوئی نہیں۔ یہاں بھی حصر کی ضرورت اس لیے ہے کہ لوگوں نے اور بھی داتا اور رزاق بنا رکھے ہیں۔ یہ{ ”رب العالمين“} ہونے کی تیسری وجہ ہے کہ اس نے پیدا کرکے مجھے چھوڑ نہیں دیا، بلکہ میری ضرورت کی ہر چیز مجھے مہیا کرتا ہے۔
← پچھلی آیت (78) پوری سورۃ اگلی آیت (80) →