بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 129
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 129
آیت نمبر: 129 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
وَ تَتَّخِذُوۡنَ مَصَانِعَ لَعَلَّکُمۡ تَخۡلُدُوۡنَ ﴿۱۲۹﴾ۚ
اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو گویا تمہیں ہمیشہ رہنا ہے
اور بڑی صنعت والے (مضبوط محل تعمیر) کر رہے ہو، گویا کہ تم ہمیشہ یہیں رہو گے
اور مضبوط محل چنتے ہو اس امید پر کہ تم ہمیشہ رہوگے
اور تم بڑے بڑے محل تعمیر کرتے ہو شاید کہ تم ہمیشہ زندہ رہوگے۔
اور بڑی بڑی عمارتیں بناتے ہو، شاید کہ تم ہمیشہ رہو گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ہود علیہ السلام اور ان کی قوم ٭٭

حضرت ہود علیہ السلام کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضر موت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح علیہ السلام کے بعد کا ہے۔ سورۃ الاعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جا بجا دئیے۔ الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی علیہ السلام کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی علیہ السلام نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا۔

اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح علیہ السلام نے دی تھی۔ اپنا بے لاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر و ریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لیے بلند و بالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی ہود علیہ السلام نے روکا کیونکہ اس میں بے کار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔ بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی علیہ السلام نے نصیحت کی کہ ”کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہو گے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔‏‏‏‏“ ایک قرأت میں «کَاَنَّکُمْ خَالِدُوْنَ» ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہٰ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کر دی تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو! لوگ سب جمع ہو گئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ ”تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کر دیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کر دئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کر دیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہو گئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے۔‏‏‏‏“

ان کے مال ومکانات کا بیان فرما کر ’ ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے ‘۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ ”اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

129-1اسی طرح وہ بڑی مضبوط اور عالی شان رہائشی عمارتیں تعمیر کرتے تھے، جیسے وہ ہمیشہ انہی محلات میں رہیں گے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 129) {وَ تَتَّخِذُوْنَ مَصَانِعَ …:” مَصَانِعَ”مَصْنَعٌ“} یا {”مَصْنَعَةٌ“} کی جمع ہے۔ مختار الصحاح اور قاموس میں اس کا معنی بڑے بڑے قلعے، مضبوط محلات اور زمین دوز نہریں لکھا ہے۔ راغب لکھتے ہیں کہ {”صَنْعٌ“} کا معنی کوئی کام عمدہ طریقے سے کرنا ہے۔ عالی شان جگہوں کو {” مَصَانِعَ “} کہا گیا ہے۔ {” لَعَلَّكُمْ”لَعَلَّ“} کا معنی ہے ”امید ہے، شاید“ یہاں یہ {”كَأَنَّ“} کا مفہوم ادا کر رہا ہے ”گویا، جیسے۔“ یہ ان کا دوسرا کام ہے جس پر ہود علیہ السلام نے انکار کا اظہار فرمایا، اس سے ان کی ہمیشہ زندہ رہنے کی حرص اور لمبی امید کا اظہار ہوتا تھا۔ یعنی تمھاری دوسری قسم کی تعمیرات ایسی ہیں جو اگرچہ استعمال کے لیے ہیں مگر انھیں شاندار، مزین اور مستحکم بنانے کے لیے تم اپنی دولت، محنت اور قابلیت اس طرح صرف کرتے ہو جیسے تمھیں ہمیشہ یہیں رہنا ہے، اس کے سوا تمھیں کسی اور زندگی کی فکر ہی نہیں۔ ابن کثیر نے ابن ابی حاتم سے نقل فرمایا ہے کہ ابوالدرداء رضی اللہ عنہ نے ”غوطہ“ میں مسلمانوں کی بنائی ہوئی عمارتیں اور شجر کاری دیکھی تو ان کی مسجد میں جا کر آواز دی: ”اے دمشق والو!“ وہ ان کے پاس جمع ہو گئے، تو انھوں نے اللہ کی حمد و ثنا کی، پھر فرمایا: ”کیا تم حیا نہیں کرتے؟ کیا تم حیا نہیں کرتے؟ تم وہ کچھ جمع کر رہے ہو جو کھاتے نہیں اور وہ عمارتیں بنا رہے ہو جن میں رہتے نہیں اور اس کی امید کرتے ہو جو کبھی حاصل نہیں کر سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ تم سے پہلے کئی صدیاں گزریں، وہ لوگ جمع کرتے تھے، پھر اس کی حفاظت کرتے تھے، عمارتیں بناتے تھے اور بہت مضبوط بناتے تھے، امیدیں باندھتے تھے اور بہت لمبی باندھتے تھے، پھر ان کی امید دھوکا نکلی اور ان کی جماعت ہلاک ہو گئی اور ان کی رہائش گاہیں قبریں بن گئیں۔ یاد رکھو! قوم عاد عدن سے عمان تک گھوڑوں اور اونٹوں کے مالک تھے، اب کون ہے جو مجھ سے ان کی میراث دو درہم میں خرید لے؟“ دکتور حکمت بن بشیر نے فرمایا، اس کی سند حسن ہے۔
← پچھلی آیت (128) پوری سورۃ اگلی آیت (130) →