بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 128
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 128
آیت نمبر: 128 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
اَتَبۡنُوۡنَ بِکُلِّ رِیۡعٍ اٰیَۃً تَعۡبَثُوۡنَ ﴿۱۲۸﴾
یہ تمہارا کیا حال ہے کہ ہر اونچے مقام پر لا حاصل ایک یادگار عمارت بنا ڈالتے ہو
کیا تم ایک ایک ٹیلے پر بطور کھیل تماشا یادگار (عمارت) بنا رہے ہو
کیا ہر بلندی پر ایک نشان بناتے ہو راہ گیروں سے ہنسنے کو
کیا تم ہر بلندی پر بے فائدہ ایک یادگار تعمیر کرتے ہو؟
کیا تم ہر اونچی جگہ پر ایک یادگار بناتے ہو؟ اس حال میں کہ لاحاصل کام کرتے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

ہود علیہ السلام اور ان کی قوم ٭٭

حضرت ہود علیہ السلام کا قصہ بیان ہو رہا ہے کہ انہوں نے عادیوں کو جو احقاف کے رہنے والے تھے اللہ کی طرف بلایا۔ احقاف ملک یمن میں حضر موت کے پاس ریتلی پہاڑیوں کے قریب ہے ان کا زمانہ نوح علیہ السلام کے بعد کا ہے۔ سورۃ الاعراف میں بھی ان کا ذکر گزر چکا ہے کہ انہیں قوم نوح کا جانشین بنایا گیا اور انہیں بہت کچھ کشادگی اور وسعت دی گئی۔ ڈیل ڈول دیا بڑی قوت طاقت دی پورے مال اولاد کھیت باغات پھل اور اناج دیا۔ بکثرت دولت اور زر بہت سی نہریں اور چشمے جا بجا دئیے۔ الغرض ہر طرح کی آسائش اور آسانی مہیا کی لیکن رب کی تمام نعمتوں کی ناقدری کرنے والے اور اللہ کے ساتھ شریک کرنے والوں نے اپنے نبی علیہ السلام کو جھٹلایا۔ یہ انہی میں سے تھے نبی علیہ السلام نے انہیں سمجھایا بجھایا ڈرایا دھمکایا۔

اپنا رسول ہونا ظاہر فرمایا۔ اپنی اطاعت اور اللہ کی عبادت و وحدانیت کی دعوت دی جیسے کہ نوح علیہ السلام نے دی تھی۔ اپنا بے لاگ ہونا طالب دنیا نہ ہونا بیان فرمایا۔ اپنے خواص کا بھی ذکر کیا یہ جو فخر و ریا کے طور پر اپنے مال برباد کرتے تھے اور اونچے اونچے مشہور ٹیلوں پر اپنی قوت کے اور مال کے اظہار کے لیے بلند و بالا علامتیں بناتے تھے اس فعل عبث سے انہیں ان کے نبی ہود علیہ السلام نے روکا کیونکہ اس میں بے کار دولت کا کھونا وقت کا برباد کرنا اور مشقت اٹھانا ہے جس سے دین دنیا کا کوئی فائدہ نہ مقصود ہوتا ہے نہ متصور۔ بڑے بڑے پختہ اور بلند برج اور مینار بناتے تھے جس کے بارے میں ان کے نبی علیہ السلام نے نصیحت کی کہ ”کیا تم یہ سمجھے بیٹھے ہو کہ یہیں ہمیشہ رہو گے محبت دنیا نے تمہیں آخرت بھلادی ہے لیکن یاد رکھو تمہاری یہ چاہت بےسود ہے۔ دنیا زائل ہونے والی ہے تم خود فنا ہونے والے ہو۔‏‏‏‏“ ایک قرأت میں «کَاَنَّکُمْ خَالِدُوْنَ» ہے۔ ابن ابی حاتم میں ہے کہ جب مسلمانوں نے غوطہٰ میں محلات اور باغات کی تعمیر اعلی پیمانے پر ضروت سے زیادہ شروع کر دی تو سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ نے مسجد میں کھڑے ہو کر فرمایا کہ اے دمشق کے رہنے والو سنو! لوگ سب جمع ہو گئے تو آپ نے اللہ تعالیٰ کی حمد و ثنا کے بعد فرمایا کہ ”تمہیں شرم نہیں آتی تم خیال نہیں کرتے کہ تم نے وہ جمع کرنا شروع کر دیا جسے تم کھا نہیں سکتے۔ تم نے وہ مکانات بنانے شروع کر دئیے جو تمہارے رہنے سہنے کے کام نہیں آتے تم نے وہ دور دراز کی آرزوئیں کرنی شروع کر دیں جو پوری ہونی محال ہیں۔ کیا تم بھول گئے تم سے اگلے لوگوں نے بھی جمع جتھا کر کے سنبھال سنبھال کر رکھا تھا۔ بڑے اونچے اونچے پختہ اور مضبوط محلات تعمیر کئے تھے بڑی بڑی آرزوئیں باندھی تھیں لیکن نتیجہ یہ ہوا کہ وہ دھوکے میں رہ گئے ان کی پونجی برباد ہو گئی ان کے مکانات اور بستیاں اجڑگئیں۔ عادیوں کو دیکھو کہ عدن سے لے کر عمان تک ان کے گھوڑے اور اونٹ تھے لیکن آج وہ کہاں ہیں؟ ہے کوئی ایسا بیوقوف کہ قوم عاد کی میراث کو دو درہموں کے بدلے بھی خریدے۔‏‏‏‏“

ان کے مال ومکانات کا بیان فرما کر ’ ان کی قوت وطاقت کا بیان فرمایا کہ بڑے سرکش، بتکبر اور سخت لوگ تھے ‘۔ نبی علیہ صلوات اللہ نے انہیں اللہ سے ڈرنے اور اپنی اطاعت کرنے کا حکم دیا کہ عبادت رب کی کرو اطاعت اس کے رسول کی کرو پھر وہ نعمتیں یاد دلائیں جو اللہ نے ان پر انعام کی تھیں جنہیں وہ خود جانتے تھے۔ مثلا چوپائے جانور اور اولاد باغات اور دریا پھر اپنا اندیشہ ظاہر کیا کہ ”اگر تم نے میری تکذیب کی اور میری مخالفت پر جمے رہے تو تم پر عذاب اللہ برس پڑے گا لالچ اور ڈر دونوں دکھائے مگر بےسود رہیں۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

128-1ریع، ریعۃ، کی جمع ہے۔ ٹیلہ، بلند جگہ، پہاڑ، درہ یا گھاٹی یہ ان گزر گاہوں پر کوئی عمارت تعمیر کرتے جو بلندی پر ایک نشانی مشہور ہوتی۔ لیکن اس کا مقصد اس میں رہنا نہیں ہوتا بلکہ صرف کھیل کود ہوتا تھا۔ حضرت ہود ؑ نے منع فرمایا کہ یہ تم ایسا کام کرتے ہو، جس میں وقت اور وسائل کا بھی ضیاع ہے اور اس کا مقصد بھی ایسا ہے جس سے دین اور دنیا کا کوئی مفاد وابستہ نہیں بلکہ صرف کھیل کود ہوتا ہے بیکار محض بےفائدہ ہونے میں کوئی شک نہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 128) {اَتَبْنُوْنَ بِكُلِّ رِيْعٍ اٰيَةً تَعْبَثُوْنَ:رِيْعٍ “} اونچی جگہ۔ قاموس میں ہے {”رِيْعٌ“} (کسرہ اور فتحہ کے ساتھ) اونچی زمین یا ہر کشادہ راستہ یا ہر راستہ یا پہاڑ میں کھلا راستہ یا بلند پہاڑ۔ واحد کے لیے تاء کے ساتھ استعمال ہوتا ہے۔ {” اٰيَةً “} نشانی، یادگار۔ {” تَعْبَثُوْنَ”عَبَثٌ“} (ع) بے فائدہ اور لاحاصل کام کرنا، یعنی تم بے فائدہ اور لاحاصل کام کرتے ہو۔ {”كُلُّ رِيْعٍ“} سے مراد بہت سی اونچی جگہیں ہیں، کیونکہ ہر اونچی جگہ تو یاد گار نہ بن سکتی ہے اور نہ انھوں نے بنائی تھی۔ ہود علیہ السلام نے پہلے اپنی قوم کو تمام انبیاء کی لائی ہوئی بنیادی تعلیم اللہ پر ایمان، اس کے تقویٰ اور اطاعت کی دعوت دی، اس کے بعد ان کے چند کاموں پر انکار کا اظہار فرمایا۔ پہلا یہ کہ تم ہر اونچی اور نمایاں جگہ، جہاں تمھارے فخر و غرور، تمھاری شان و شوکت اور دولت و قوت کا اظہار ہو سکتا ہے کوئی نہ کوئی یاد گار بنا دیتے ہو، جس کا دنیا یا آخرت میں کوئی فائدہ نہیں۔ ہود علیہ السلام کا مقصد نمود و نمائش کے اس رجحان سے ہٹانا ہے، جس کی وجہ سے ایسے عبث کام کیے جاتے ہیں اور سمجھا جاتا ہے کہ ہم کسی کے سامنے جواب دہ نہیں ہیں۔ بے دریغ مال خرچ کرتے ہوئے کوئی اپنی یاد گار کے طور پر شاندار مقبرہ تعمیر کرا دیتا ہے، کوئی بلند و بالا مینار کھڑا کر دیتا ہے، کوئی بارہ دری بنوا دیتا ہے۔ عجائب عالم میں شمار ہونے والے اہرامِ مصر اور تاج محل بھی اپنے بانیوں کی ایسی ہی لاحاصل اور عبث یاد گاریں ہیں، جن کی جواب دہی انھیں کرنا ہو گی۔ ان یادگاروں کی مذمت اس لیے فرمائی کہ یہ فخر و غرور، فضول خرچی اور عمر عزیز کو ضائع کرنے پر دلالت کرتی ہیں، جن کا باعث یہ ہے کہ ان کے بنانے والوں کو جواب دہی کا احساس نہیں۔
← پچھلی آیت (127) پوری سورۃ اگلی آیت (129) →