بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 107
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 107
آیت نمبر: 107 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
اِنِّیۡ لَکُمۡ رَسُوۡلٌ اَمِیۡنٌ ﴿۱۰۷﴾ۙ
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں
سنو! میں تمہاری طرف اللہ کا امانتدار رسول ہوں
بیشک میں تمہارے لیے اللہ کا بھیجا ہوا امین ہوں
بےشک میں تمہارے لئے امانت دار رسول ہوں۔
بے شک میں تمھارے لیے ایک امانت دار رسول ہوں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بت پرستی کا اغاز ٭٭

زمین پر سب سے پہلے جو بت پرستی شروع ہوئی اور لوگ شیطانی راہوں پر چلنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اولوالعزم رسولوں کے سلسلے کو نوح علیہ السلام سے شروع کیا جنہوں نے آکر لوگوں کو اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اور اس کی سزاؤں سے انہیں آگاہ کیا لیکن وہ اپنے ناپاک کرتوتوں سے باز نہ آئے غیر اللہ کی عبادت نہ چھوڑی بلکہ نوح علیہ السلام کو جھوٹا کہا ان کے دشمن بن گئے اور ایذاء رسانی کے درپے ہو گئے۔ نوح علیہ السلام کا جھٹلانا گویا تمام پیغمبروں سے انکار کرنا تھا اس لیے آیت میں فرمایا گیا کہ ’ قوم نوح نے نبیوں کو جھٹلایا ‘۔

حضرت نوح علیہ السلام نے پہلے تو انہیں اللہ کا خوف کرنے کی نصیحت کی کہ ”تم جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو اللہ کے عذاب کا تمہیں ڈر نہیں؟“ اس طرح توحید کی تعلیم کے بعد اپنی رسالت کی تلقین کی اور فرمایا ”میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں اور میں امانت دار بھی ہوں اس کا پیغام ہو بہو وہی ہے جو تمہیں سنارہا ہوں۔ پس تمہیں اپنے دلوں کو اللہ کے ڈر سے پرکھنا چاہیئے اور میری تمام باتوں کو بلا چوں وچرا مان لینا چائیے۔ اور سنو میں تم سے اس تبلیغ رسالت پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میر امقصد اس سے صرف یہی ہے کہ میرا رب مجھے اس کا بدلہ اور ثواب عطا فرمائے۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میر اکہنا مانو میری سچائی میری خیر خواہی تم پر خوب روشن ہے۔ ساتھ ہی میری دیانت داری اور امانت داری بھی تم پر واضح ہے۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

17-1یعنی اللہ نے جو پیغام دے کر مجھے بھیجا ہے، وہ بلا کم وکاست تم تک پہنچانے والا ہوں، اس میں کمی بیشی نہیں کرتا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 108،107){ اِنِّيْ لَكُمْ رَسُوْلٌ اَمِيْنٌ …:} نوح علیہ السلام نے دعویٔ رسالت کے ثبوت کے طور پر دو چیزیں پیش فرمائیں، پہلی یہ کہ میں امانت دار ہوں، میری ساری عمر تمھارے سامنے گزری، تم میری امانت اور میرے صدق سے خوب واقف ہو، پھر تمھیں میری رسالت تسلیم کرنے میں رکاوٹ کیا ہے؟ ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی اللہ تعالیٰ نے یہ بات واشگاف الفاظ میں کہہ دینے کا حکم دیا، فرمایا: «{ فَقَدْ لَبِثْتُ فِيْكُمْ عُمُرًا مِّنْ قَبْلِهٖ اَفَلَا تَعْقِلُوْنَ }» [ یونس: ۱۶ ] ”پس بے شک میں تم میں اس سے پہلے ایک عمر رہ چکا ہوں، تو کیا تم نہیں سمجھتے؟“ حدیثِ ہرقل میں ابوسفیان نے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا صادق و امین ہونا تسلیم کیا تو ہرقل نے کہا: ”یہ نہیں ہو سکتا کہ وہ لوگوں پر جھوٹ سے تو اجتناب کرے اور اللہ پر جھوٹ باندھ دے کہ اس نے مجھے رسول بنا کر بھیجا ہے۔“ (دیکھیے بخاری: ۷) غرض نوح علیہ السلام نے قوم کو اپنے امین ہونے کا حوالہ دے کر اپنی رسالت کی اطلاع دی اور فرمایا (چونکہ میں رسول امین ہوں) اس لیے تم اللہ سے ڈرو کہ مجھے جھٹلا کر کہیں تم اس کے غضب کا نشانہ نہ بن جاؤ اور میرا کہا مانو۔ معلوم ہوا کہ رسول کا ہر حکم ماننا امت کے لیے ضروری ہے۔ یہ نہیں کہ وہ کتاب اللہ کی چند آیات پہنچا دے اور بس، اس کے علاوہ اس کی بات ماننا لازم نہ ہو۔
← پچھلی آیت (106) پوری سورۃ اگلی آیت (108) →