بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ الشعراء — Surah Shuara
آیت نمبر 106
کل آیات: 227
قرآن کریم الشعراء آیت 106
آیت نمبر: 106 — سورۃ الشعراء islamicurdubooks.com ↗
اِذۡ قَالَ لَہُمۡ اَخُوۡہُمۡ نُوۡحٌ اَلَا تَتَّقُوۡنَ ﴿۱۰۶﴾ۚ
یاد کرو جبکہ ان کے بھائی نوحؑ نے ان سے کہا تھا "کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟
جبکہ ان کے بھائی نوح (علیہ السلام) نے کہا کہ کیا تمہیں اللہ کا خوف نہیں!
جبکہ ان سے ان کے ہم قوم نوح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں
جب کہ ان کے بھائی نوح نے ان سے کہا کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟ ۔
جب ان سے ان کے بھائی نوح نے کہا کیا تم ڈرتے نہیں؟

📖 تفسیر ابن کثیر

بت پرستی کا اغاز ٭٭

زمین پر سب سے پہلے جو بت پرستی شروع ہوئی اور لوگ شیطانی راہوں پر چلنے لگے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے اولوالعزم رسولوں کے سلسلے کو نوح علیہ السلام سے شروع کیا جنہوں نے آکر لوگوں کو اللہ کے عذابوں سے ڈرایا اور اس کی سزاؤں سے انہیں آگاہ کیا لیکن وہ اپنے ناپاک کرتوتوں سے باز نہ آئے غیر اللہ کی عبادت نہ چھوڑی بلکہ نوح علیہ السلام کو جھوٹا کہا ان کے دشمن بن گئے اور ایذاء رسانی کے درپے ہو گئے۔ نوح علیہ السلام کا جھٹلانا گویا تمام پیغمبروں سے انکار کرنا تھا اس لیے آیت میں فرمایا گیا کہ ’ قوم نوح نے نبیوں کو جھٹلایا ‘۔

حضرت نوح علیہ السلام نے پہلے تو انہیں اللہ کا خوف کرنے کی نصیحت کی کہ ”تم جو غیر اللہ کی عبادت کرتے ہو اللہ کے عذاب کا تمہیں ڈر نہیں؟“ اس طرح توحید کی تعلیم کے بعد اپنی رسالت کی تلقین کی اور فرمایا ”میں تمہاری طرف اللہ کا رسول بن کر آیا ہوں اور میں امانت دار بھی ہوں اس کا پیغام ہو بہو وہی ہے جو تمہیں سنارہا ہوں۔ پس تمہیں اپنے دلوں کو اللہ کے ڈر سے پرکھنا چاہیئے اور میری تمام باتوں کو بلا چوں وچرا مان لینا چائیے۔ اور سنو میں تم سے اس تبلیغ رسالت پر کوئی اجرت نہیں مانگتا۔ میر امقصد اس سے صرف یہی ہے کہ میرا رب مجھے اس کا بدلہ اور ثواب عطا فرمائے۔ پس تم اللہ سے ڈرو اور میر اکہنا مانو میری سچائی میری خیر خواہی تم پر خوب روشن ہے۔ ساتھ ہی میری دیانت داری اور امانت داری بھی تم پر واضح ہے۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

16-1بھائی اس لئے کہا کہ حضرت نوح ؑ ان ہی کی قوم کے ایک فرد تھے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 106){ اِذْ قَالَ لَهُمْ اَخُوْهُمْ نُوْحٌ اَلَا تَتَّقُوْنَ:اَخُوْهُمْ “} کے لفظ سے ان کے ساتھ نوح علیہ السلام کا نسبی تعلق واضح کیا ہے اور اس خیر خواہی کی طرف اشارہ ہے جو نوح علیہ السلام کو اس قوم کا فرد ہونے کی وجہ سے ان کے ساتھ تھی۔ یہ بھی معلوم ہوا کہ رسول بشر ہی ہوتے ہیں اور حکمت کا تقاضا بھی یہی ہے، کیونکہ انسانوں کے لیے نمونہ انسان ہی بن سکتا ہے، فرشتہ یا کوئی اور نہیں، مگر اس وقت کفار نے بشر ہونے کی وجہ سے انھیں نبی نہیں مانا اور اب کئی جاہل ایسے ہیں جو نبی مانتے ہیں مگر نبی ہونے کی وجہ سے بشر نہیں مانتے۔ عقیدہ دونوں کا ایک ہے کہ بشر نبی نہیں ہو سکتا۔ قرآن نے جا بجا اس عقیدے کی تردید کی ہے۔ دوسرے مقامات پر مذکور نوح علیہ السلام کے خطاب کی ابتدا ان الفاظ سے ہوتی ہے: «{ يٰقَوْمِ اعْبُدُوا اللّٰهَ مَا لَكُمْ مِّنْ اِلٰهٍ غَيْرُهٗ اَفَلَا تَتَّقُوْنَ }» [ المؤمنون: ۲۳ ] ”اے میری قوم! اللہ کی عبادت کرو، اس کے سوا تمھارا کوئی بھی معبود نہیں، تو کیا تم ڈرتے نہیں؟“ اور فرمایا: «{ اَنِ اعْبُدُوا اللّٰهَ وَ اتَّقُوْهُ وَ اَطِيْعُوْنِ }» [ نوح: ۳ ] ”کہ اللہ کی عبادت کرو اور اس سے ڈرو اور میرا کہنا مانو۔“ دعوت کے آغاز میں خوف دلانے میں حکمت یہ ہے کہ جب تک کسی شخص یا قوم کو اس کے غلط رویے کے برے انجام کا خطرہ محسوس نہ کرایا جائے وہ صحیح بات پر توجہ کرنے کے لیے آمادہ نہیں ہوتا۔ ہمارے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی اپنے قریبی رشتہ داروں کو جمع کرکے صفا پر کھڑے ہو کر یہی کہا تھا: [ فَإِنِّيْ نَذِيْرٌ لَّكُمْ بَيْنَ يَدَيْ عَذَابٍ شَدِيْدٍ ] [ بخاري، التفسیر، باب: «و أنذر عشیرتک الأقربین…» ‏‏‏‏: ۴۷۷۰ ] ”میں تمھیں ایک بہت سخت عذاب سے پہلے ڈرانے والا ہوں۔“
← پچھلی آیت (105) پوری سورۃ اگلی آیت (107) →