بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
القيامة
سورۃ القيامة — 40 آیات
قرآن کریم Surah 75
لَاۤ اُقۡسِمُ بِیَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ ۙ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
نہیں، میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی
مولانا محمد جوناگڑھی
میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی
احمد رضا خان بریلوی
روزِ قیامت کی قسم! یاد فرماتا ہوں،
علامہ محمد حسین نجفی
نہیں! میں قَسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی۔
عبدالسلام بن محمد
نہیں، میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں ٭٭

یہ کئی دفعہ بیان ہو چکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے «لا» کا کلمہ نفی کی تائید کے لیے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہو گی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے ’ قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی ‘۔ حسن رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج رحمہ اللہ علیہم کی قرأت «لَأُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ» ہے اس سے بھی حسن رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لیے کہ ان کے نزدیک پہلے کی قسم ہے اور دوسرے کی نہیں، لیکن صحیح قول یہی ہے کہ دونوں کی قسم کھائی ہے جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ کا مختار قول بھی یہی ہے۔ یوم قیامت کو تو ہر شخص جانتا ہی ہے۔

«نفس لوامہ» کی تفسیر میں حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد مومن کا نفس ہے وہ ہر وقت اپنے تئیں ملامت ہی کرتا رہتا ہے کہ یوں کیوں کہہ دیا؟، یہ کیوں کھا لیا؟، یہ خیال دل میں کیوں آیا؟ ہاں فاسق، فاجر، غافل ہوتا ہے اسے کیا پڑی جو اپنے نفس کو روکے۔ یہ بھی مروی ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق قیامت کے دن اپنے تئیں ملامت کرے گی، خیر والے خیر کی کمی پر اور شر والے شر کے سرزد ہونے پر، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مذموم نفس ہے جو نافرمان ہو، فوت شدہ پر نادم ہونے والا اور اس پر ملامت کرنے والا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں ”یہ سب اقوال قریب قریب ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ نفس والا ہے جو نیکی کی کمی پر برائی کے ہو جانے پر اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے اور فوت شدہ پر ندامت کرتا ہے۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے ’ کیا انسان یہ سوچے ہوئے ہے کہ ہم قیامت کے دن اس کی ہڈیوں کے جمع کرنے پر قادر نہ ہوں گے، یہ تو نہایت غلط خیال ہے ہم اسے متفرق جگہ سے جمع کر کے دوبارہ کھڑا کریں گے اور اس کی بالشت بالشت بنا دیں گے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”ہم قادر ہیں کہ اسے اونٹ یا گھوڑے کے تلوے کی طرح بنا دیں“، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”دنیا میں بھی اگر ہم چاہتے اسے ایسا کر دیتے۔‏‏‏‏“ آیت کے لفظوں سے تو ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ «قَادِرِينَ» حال ہے «نَّجْمَعَ» سے یعنی کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے ہاں ہاں ہم عنقریب جمع کریں گے درآنحالیکہ ہمیں ان کے جمع کرنے کی قدرت ہے بلکہ اگر ہم چاہیں تو جتنا یہ تھا اس سے بھی کچھ زیادہ بنا کر اسے اٹھائیں اس کی انگلیوں کے سرے تک برابر کر کے پیدا کریں۔ ابن قتیبہ اور زجاج کے قول کے یہی معنی ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ انسان اپنے آگے فسق و فجور کرنا چاہتا ہے یعنی قدم بہ قدم بڑھ رہا ہے، امیدیں باندھے ہوئے ہے، کہتا جاتا ہے کہ گناہ کر تو لوں توبہ بھی ہو جائے گی قیامت کے دن سے جو اس کے آگے ہے کفر کرتا ہے، وہ گویا اپنے سر پر سوار ہو کر آگے بڑھ رہا ہے، ہر وقت یہی پایا جاتا ہے کہ ایک ایک قدم اپنے نفس کو اللہ کی معصیت کی طرف بڑھاتا جاتا ہے مگر جن پر رب کا رحم ہے۔ اکثر سلف کا قول اس آیت کی تفسیر میں یہی ہے کہ گناہوں میں جلدی کرتا ہے اور توبہ میں تاخیر کرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جو یوم حساب کا منکر ہے“، ابن زید رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ ظاہر مراد ہے کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ وہ پوچھتا ہے قیامت کب ہوگی، اس کا یہ سوال بھی بطور انکار کے ہے یہ جانتا ہے کہ قیامت کا آنا محال ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ» ۱؎ [34-سبأ:29،30] ‏‏‏‏، ’ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتا دو کہ قیامت کب آئے گی؟ ان سے کہہ دے کہ اس کا ایک دن مقرر ہے جس سے نہ تم ایک ساعت آگے بڑھ سکو گے نہ پیچھے ہٹ سکو گے ‘۔
میں قسم کھاتا ہوں قیامت کے دن کی (1)۔
(آیت 2،1) ➊ {لَا اُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ…:الْقِيٰمَةِ “ ” قِيَامٌ“} مصدر ہے، کھڑا ہونا، تاء ”ایک دفعہ“ کا معنی ادا کرنے کے لیے ہے، یعنی آدمی کا ایک دفعہ کھڑا ہونا۔یہاں یہ تنبیہ کے لیے لائی گئی ہے کہ قیامت کا وقوع دفعتاً ہو گا۔ (راغب) {”يَوْمُ الْقِيَامَةِ“} کا معنی ہو گا ایک ہی دفعہ اٹھ کھڑے ہونے کا دن۔ {” اللَّوَّامَةِ”لَامَ يَلُوْمُ“} سے مبالغے کا صیغہ ہے، یعنی بہت ملامت کرنے والا، جیسے {”عَلَّامَةٌ“} اور {” فَهَّامَةٌ “} ہے۔ ➋ {” لَاۤ اُقْسِمُ “} کا معنی یہ نہیں کہ میں قسم نہیں کھاتا، بلکہ {” لَا“} الگ ہے اور {” اُقْسِمُ “} الگ۔ معنی یہ ہے کہ نہیں، میں قیامت کے دن کی قسم کھاتا ہوں۔ عرب کے ہاں یہ محاورہ عام ہے {”لاَ وَاللّٰهِ“} یعنی جب کوئی شخص انکار کر رہا ہو تو پہلے اس کے انکار کی نفی {”لَا“} سے کی جاتی ہے، پھر اپنی بات کی تاکید کے لیے قسم ذکر کی جاتی ہے۔ اردو میں بھی مخاطب کے غلط خیال کی تردید کے لیے ایسے ہی کہا جاتا ہے کہ نہیں، اللہ کی قسم! بات اس طرح ہے۔ کئی مفسرین نے فرمایا کہ {” لَا “} زائدہ ہے اورمعنی یہ ہے کہ میں قسم کھاتا ہوں۔ مگر زائدہ ماننے کے بجائے بامعنی قرار دینا بلاغتِ قرآن کے زیادہ لائق ہے، جب کہ معنی بھی درست ہو رہا ہے اور پر زور ہو رہا ہے۔ ➌ قرآن میں انسانی نفس کی تین قسموں کا ذکر کیا گیا ہے، ایک وہ جو اسے گناہ پر ابھارتا ہے، اس کا نام ”امارہ“ہے، جیساکہ فرمایا: «‏‏‏‏اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَةٌۢ بِالسُّوْٓءِ» ‏‏‏‏ [ یوسف: ۵۳ ] ” نفس تو برائی کا حکم دینے والا ہے۔ “دوسرا وہ نفس جو آدمی کو برائی پر ملامت کرتا ہے، اس کا نام ”لوامہ“ ہے۔ کوئی بھی شخص خواہ نیک ہو یا بد، نیک کام میں کوتاہی اور برے کام کے ارتکاب پر خود اس کا نفس اسے ملامت کرتا ہے کہ تم نے ایسا کیوں کیا؟ اسے عام طور پر اردو میں ضمیر کہتے ہیں۔ تیسرا وہ جسے اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی تمام باتوں پر یقین ہو اور ان کے حق ہونے پر اسے پورا اطمینان اور تسلی ہو، منافقین کی طرح شک و شبہ میں مبتلا نہ ہو، یہ ”نفس مطمئنہ “ ہے۔ بعض اہل علم نے فرمایا کہ یہ ایک ہی نفس کی مختلف وقتوں میں تین حالتیں ہیں۔ ➍ {” بِيَوْمِ الْقِيٰمَةِ “} اور {” بِالنَّفْسِ اللَّوَّامَةِ “} کی قسم جس بات پر کھائی گئی ہے وہ یہاں لفظوں میں مذکور نہیں، مگر بعد میں آنے والی آیات سے وہ بات خود بخود سمجھ میں آرہی ہے کہ وہ یہ ہے کہ ہم یقینا انسان کی ہڈیاں اکٹھی کرکے اسے دوبارہ زندہ کریں گے۔ ➎ قسم سے مراد اس بات کی تاکید ہوتی ہے جس کے لیے قسم کھائی جاتی ہے، پھر بعض اوقات تاکید کی صورت یہ ہوتی ہے کہ وہ چیز نہایت عظیم الشان ہوتی ہے جس کی قسم کھائی گئی ہے اور اس کی عظمت ہی بات کی تاکیدکے لیے کافی سمجھی جاتی ہے اور بعض اوقات قسم اپنے جواب قسم کی دلیل ہوتی ہے جس سے اس کی تاکید ہوتی ہے۔ یہاں قیامت کے دن کی قسم قیامت کے حق ہونے کی تاکید کے لیے اٹھائی گئی ہے، اس کی وجہ قیامت کی عظمت بھی ہے اور یہ بھی کہ روز قیامت اپنی دلیل خود ہے، جیساکہ سورۂ ص میں قرآن کے حق ہونے کے لیے خود قرآن کی قسم کھائی ہے، فرمایا: «‏‏‏‏صٓ وَ الْقُرْاٰنِ ذِي الذِّكْرِ» ‏‏‏‏ [ صٓ: ۱ ] ”صٓ۔ اس نصیحت والے قرآن کی قسم۔ “ اور نفس لوامہ کی قسم اس لیے کہ یہ بات انسان کی فطرت میں رکھ دی گئی ہے کہ اس کا نفس برے کام پر اسے ملامت کرتا ہے، قطع نظر اس سے کہ اس کے نزدیک اچھائی یا برائی کا معیار کیا ہے اور قطع نظر اس سے کہ وہ ضمیر کی اس ملامت کی پروا کرتا ہے یا نہیں؟ ملامت کرنے والا یہ نفس اللہ تعالیٰ کی طرف سے انسان پر حجت ہے کہ جس طرح تمھارا اپنا نفس خود تم سے باز پرس کر رہا ہے لازم ہے کہ ایک ایسا وقت آئے جب تمھارا پیدا کرنے والا تم سے باز ُپرس کرے۔
وَ لَاۤ اُقۡسِمُ بِالنَّفۡسِ اللَّوَّامَۃِ ؕ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور قسم کھاتا ہوں اس نفس کی جو ملامت کرنے واﻻ ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور اس جان کی قسم! جو اپنے اوپر ملامت کرے
علامہ محمد حسین نجفی
اور نہیں! میں قَسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی۔
عبدالسلام بن محمد
اور نہیں، میںبہت ملامت کرنے والے نفس کی قسم کھاتا ہوں!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں ٭٭

یہ کئی دفعہ بیان ہو چکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے «لا» کا کلمہ نفی کی تائید کے لیے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہو گی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے ’ قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی ‘۔ حسن رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج رحمہ اللہ علیہم کی قرأت «لَأُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ» ہے اس سے بھی حسن رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لیے کہ ان کے نزدیک پہلے کی قسم ہے اور دوسرے کی نہیں، لیکن صحیح قول یہی ہے کہ دونوں کی قسم کھائی ہے جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ کا مختار قول بھی یہی ہے۔ یوم قیامت کو تو ہر شخص جانتا ہی ہے۔

«نفس لوامہ» کی تفسیر میں حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد مومن کا نفس ہے وہ ہر وقت اپنے تئیں ملامت ہی کرتا رہتا ہے کہ یوں کیوں کہہ دیا؟، یہ کیوں کھا لیا؟، یہ خیال دل میں کیوں آیا؟ ہاں فاسق، فاجر، غافل ہوتا ہے اسے کیا پڑی جو اپنے نفس کو روکے۔ یہ بھی مروی ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق قیامت کے دن اپنے تئیں ملامت کرے گی، خیر والے خیر کی کمی پر اور شر والے شر کے سرزد ہونے پر، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مذموم نفس ہے جو نافرمان ہو، فوت شدہ پر نادم ہونے والا اور اس پر ملامت کرنے والا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں ”یہ سب اقوال قریب قریب ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ نفس والا ہے جو نیکی کی کمی پر برائی کے ہو جانے پر اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے اور فوت شدہ پر ندامت کرتا ہے۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے ’ کیا انسان یہ سوچے ہوئے ہے کہ ہم قیامت کے دن اس کی ہڈیوں کے جمع کرنے پر قادر نہ ہوں گے، یہ تو نہایت غلط خیال ہے ہم اسے متفرق جگہ سے جمع کر کے دوبارہ کھڑا کریں گے اور اس کی بالشت بالشت بنا دیں گے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”ہم قادر ہیں کہ اسے اونٹ یا گھوڑے کے تلوے کی طرح بنا دیں“، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”دنیا میں بھی اگر ہم چاہتے اسے ایسا کر دیتے۔‏‏‏‏“ آیت کے لفظوں سے تو ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ «قَادِرِينَ» حال ہے «نَّجْمَعَ» سے یعنی کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے ہاں ہاں ہم عنقریب جمع کریں گے درآنحالیکہ ہمیں ان کے جمع کرنے کی قدرت ہے بلکہ اگر ہم چاہیں تو جتنا یہ تھا اس سے بھی کچھ زیادہ بنا کر اسے اٹھائیں اس کی انگلیوں کے سرے تک برابر کر کے پیدا کریں۔ ابن قتیبہ اور زجاج کے قول کے یہی معنی ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ انسان اپنے آگے فسق و فجور کرنا چاہتا ہے یعنی قدم بہ قدم بڑھ رہا ہے، امیدیں باندھے ہوئے ہے، کہتا جاتا ہے کہ گناہ کر تو لوں توبہ بھی ہو جائے گی قیامت کے دن سے جو اس کے آگے ہے کفر کرتا ہے، وہ گویا اپنے سر پر سوار ہو کر آگے بڑھ رہا ہے، ہر وقت یہی پایا جاتا ہے کہ ایک ایک قدم اپنے نفس کو اللہ کی معصیت کی طرف بڑھاتا جاتا ہے مگر جن پر رب کا رحم ہے۔ اکثر سلف کا قول اس آیت کی تفسیر میں یہی ہے کہ گناہوں میں جلدی کرتا ہے اور توبہ میں تاخیر کرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جو یوم حساب کا منکر ہے“، ابن زید رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ ظاہر مراد ہے کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ وہ پوچھتا ہے قیامت کب ہوگی، اس کا یہ سوال بھی بطور انکار کے ہے یہ جانتا ہے کہ قیامت کا آنا محال ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ» ۱؎ [34-سبأ:29،30] ‏‏‏‏، ’ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتا دو کہ قیامت کب آئے گی؟ ان سے کہہ دے کہ اس کا ایک دن مقرر ہے جس سے نہ تم ایک ساعت آگے بڑھ سکو گے نہ پیچھے ہٹ سکو گے ‘۔
2۔ 1 یعنی بھلائی پر بھی کرتا ہے کہ زیادہ کیوں نہیں کی۔ اور برائی پر بھی، کہ اس سے باز کیوں نہیں آتا؟ دنیا میں بھی جن کے ضمیر بیدار ہوتے ہیں ان کے نفس انہیں ملامت کرتے ہیں، تاہم آخرت میں تو سب کے ہی نفس ملامت کریں گے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَیَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَلَّنۡ نَّجۡمَعَ عِظَامَہٗ ؕ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اُس کی ہڈیوں کو جمع نہ کر سکیں گے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا انسان یہ خیال کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع کریں گے ہی نہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا آدمی یہ سمجھتا ہے کہ ہم ہرگز اس کی ہڈیاں جمع نہ فرمائیں گے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی (بوسیدہ) ہڈیوں کو جمع نہیں کریں گے؟
عبدالسلام بن محمد
کیا انسان گمان کرتا ہے کہ ہم کبھی اس کی ہڈیاں اکٹھی نہیں کریں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں ٭٭

یہ کئی دفعہ بیان ہو چکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے «لا» کا کلمہ نفی کی تائید کے لیے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہو گی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے ’ قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی ‘۔ حسن رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج رحمہ اللہ علیہم کی قرأت «لَأُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ» ہے اس سے بھی حسن رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لیے کہ ان کے نزدیک پہلے کی قسم ہے اور دوسرے کی نہیں، لیکن صحیح قول یہی ہے کہ دونوں کی قسم کھائی ہے جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ کا مختار قول بھی یہی ہے۔ یوم قیامت کو تو ہر شخص جانتا ہی ہے۔

«نفس لوامہ» کی تفسیر میں حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد مومن کا نفس ہے وہ ہر وقت اپنے تئیں ملامت ہی کرتا رہتا ہے کہ یوں کیوں کہہ دیا؟، یہ کیوں کھا لیا؟، یہ خیال دل میں کیوں آیا؟ ہاں فاسق، فاجر، غافل ہوتا ہے اسے کیا پڑی جو اپنے نفس کو روکے۔ یہ بھی مروی ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق قیامت کے دن اپنے تئیں ملامت کرے گی، خیر والے خیر کی کمی پر اور شر والے شر کے سرزد ہونے پر، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مذموم نفس ہے جو نافرمان ہو، فوت شدہ پر نادم ہونے والا اور اس پر ملامت کرنے والا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں ”یہ سب اقوال قریب قریب ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ نفس والا ہے جو نیکی کی کمی پر برائی کے ہو جانے پر اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے اور فوت شدہ پر ندامت کرتا ہے۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے ’ کیا انسان یہ سوچے ہوئے ہے کہ ہم قیامت کے دن اس کی ہڈیوں کے جمع کرنے پر قادر نہ ہوں گے، یہ تو نہایت غلط خیال ہے ہم اسے متفرق جگہ سے جمع کر کے دوبارہ کھڑا کریں گے اور اس کی بالشت بالشت بنا دیں گے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”ہم قادر ہیں کہ اسے اونٹ یا گھوڑے کے تلوے کی طرح بنا دیں“، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”دنیا میں بھی اگر ہم چاہتے اسے ایسا کر دیتے۔‏‏‏‏“ آیت کے لفظوں سے تو ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ «قَادِرِينَ» حال ہے «نَّجْمَعَ» سے یعنی کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے ہاں ہاں ہم عنقریب جمع کریں گے درآنحالیکہ ہمیں ان کے جمع کرنے کی قدرت ہے بلکہ اگر ہم چاہیں تو جتنا یہ تھا اس سے بھی کچھ زیادہ بنا کر اسے اٹھائیں اس کی انگلیوں کے سرے تک برابر کر کے پیدا کریں۔ ابن قتیبہ اور زجاج کے قول کے یہی معنی ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ انسان اپنے آگے فسق و فجور کرنا چاہتا ہے یعنی قدم بہ قدم بڑھ رہا ہے، امیدیں باندھے ہوئے ہے، کہتا جاتا ہے کہ گناہ کر تو لوں توبہ بھی ہو جائے گی قیامت کے دن سے جو اس کے آگے ہے کفر کرتا ہے، وہ گویا اپنے سر پر سوار ہو کر آگے بڑھ رہا ہے، ہر وقت یہی پایا جاتا ہے کہ ایک ایک قدم اپنے نفس کو اللہ کی معصیت کی طرف بڑھاتا جاتا ہے مگر جن پر رب کا رحم ہے۔ اکثر سلف کا قول اس آیت کی تفسیر میں یہی ہے کہ گناہوں میں جلدی کرتا ہے اور توبہ میں تاخیر کرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جو یوم حساب کا منکر ہے“، ابن زید رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ ظاہر مراد ہے کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ وہ پوچھتا ہے قیامت کب ہوگی، اس کا یہ سوال بھی بطور انکار کے ہے یہ جانتا ہے کہ قیامت کا آنا محال ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ» ۱؎ [34-سبأ:29،30] ‏‏‏‏، ’ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتا دو کہ قیامت کب آئے گی؟ ان سے کہہ دے کہ اس کا ایک دن مقرر ہے جس سے نہ تم ایک ساعت آگے بڑھ سکو گے نہ پیچھے ہٹ سکو گے ‘۔
3۔ 1 یہ جواب قسم ہے انسان سے مراد یہاں کافر اور بےدین انسان ہے جو قیامت کو نہیں مانتا۔ اس کا گمان غلط ہے، اللہ تعالیٰ یقینا انسانوں کے اجزا کو جمع فرمائے گا یہاں ہڈیوں کا بطور خاص ذکر ہے، اس لیئے کہ ہڈیاں ہی پیدائش کا اصل ڈھانچہ اور قالب ہیں۔
(آیت 4،3) ➊ { اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗ …: ” قٰدِرِيْنَ “} حال ہے، اس سے پہلے فعل محذوف ہے: {”أَيْ بَلٰي نَجْمَعُهَا قَادِرِيْنَ…“} ”یعنی کیوں نہیں ہم انھیں جمع کریں گے، اس حال میں کہ ہم اس بات پر قادر ہیں…۔“ ➋ قیامت کے منکرین یہ ماننے کے لیے تیار نہ تھے کہ جب ان کی ہڈیاں تک بوسیدہ ہو کر ذرّات کی صورت میں بکھر جائیں گی تو انھیں پھر دوبارہ زندہ کیا جائے گا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا کہ(انسان اگر یہ خیال کرے کہ اس کی ہڈیاں خود بخود جمع نہیں ہو سکتیں یا مخلوق میں سے کوئی انھیں دوبارہ جمع نہیں کر سکتا تو اسے یہ سمجھنے کا حق ہے، مگر) کیا وہ ہمارے متعلق گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہیں کر سکیں گے؟ پہلی دفعہ جب اس کا نام و نشان تک نہ تھا، ہم نے اسے پیدا کر دیا تو اب اس کی ہڈیاں کیوں جمع نہیں کرسکتے؟ یقینا ہم انھیں جمع کریں گے اور بڑی ہڈیاں ہی نہیں بلکہ ہم یہ بھی قدرت رکھتے ہیں کہ اس کے پورے، جو نہایت باریک اور نازک ہڈیوں پر مشتمل ہیں، دوبارہ درست کر کے بنا دیں۔ سورۂ یس (۷۷ تا ۷۹) اور سورۂ بنی اسرائیل (۴۹ تا ۵۱) میں یہ مضمون تفصیل سے بیان ہوا ہے۔ ➌ ان آیات سے صاف ظاہر ہے کہ قیامت کے دن جسم دوبارہ زندہ کیے جائیں گے اور وہ بھی حساب، عذاب اور ثواب میں روح کے ساتھ شریک ہوں گے۔ صحیح بخاری (۳۴۸۱) میں بنی اسرائیل کے ایک آدمی کا ذکر آیا ہے جس کے بیٹوں نے اس کے کہنے کے مطابق اسے مرنے کے بعد جلا کر اور ہڈیوں کو پیس کر کچھ راکھ ہوا میں اڑا دی اور کچھ پانی میں بہا دی، تو اللہ تعالیٰ نے ہوا اور پانی کو حکم دے کر اس کے ذرّات اکٹھے کرکے اسے دوبارہ زندہ کر دیا۔ اگر روح ہی سے باز پرس ہو تو ذرّات جمع کرکے اسے دوبارہ سامنے کھڑا کرنے کی کیا ضرورت تھی؟
بَلٰی قٰدِرِیۡنَ عَلٰۤی اَنۡ نُّسَوِّیَ بَنَانَہٗ ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہم تو اس کی انگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنا دینے پر قادر ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ہاں ضرور کریں گے ہم تو قادر ہیں کہ اس کی پور پور تک درست کردیں
احمد رضا خان بریلوی
کیوں نہیں ہم قادر ہیں کہ اس کے پور ٹھیک بنادیں
علامہ محمد حسین نجفی
ہاں ضرور جمع کریں گے ہم اس کی انگلیوں کے پور پور درست کرنے پر قادر ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کیوں نہیں؟ (ہم انھیں اکٹھا کریں گے) اس حال میں کہ ہم قادر ہیں کہ اس (کی انگلیوں) کے پورے درست کر (کے بنا) دیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں ٭٭

یہ کئی دفعہ بیان ہو چکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے «لا» کا کلمہ نفی کی تائید کے لیے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہو گی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے ’ قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی ‘۔ حسن رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج رحمہ اللہ علیہم کی قرأت «لَأُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ» ہے اس سے بھی حسن رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لیے کہ ان کے نزدیک پہلے کی قسم ہے اور دوسرے کی نہیں، لیکن صحیح قول یہی ہے کہ دونوں کی قسم کھائی ہے جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ کا مختار قول بھی یہی ہے۔ یوم قیامت کو تو ہر شخص جانتا ہی ہے۔

«نفس لوامہ» کی تفسیر میں حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد مومن کا نفس ہے وہ ہر وقت اپنے تئیں ملامت ہی کرتا رہتا ہے کہ یوں کیوں کہہ دیا؟، یہ کیوں کھا لیا؟، یہ خیال دل میں کیوں آیا؟ ہاں فاسق، فاجر، غافل ہوتا ہے اسے کیا پڑی جو اپنے نفس کو روکے۔ یہ بھی مروی ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق قیامت کے دن اپنے تئیں ملامت کرے گی، خیر والے خیر کی کمی پر اور شر والے شر کے سرزد ہونے پر، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مذموم نفس ہے جو نافرمان ہو، فوت شدہ پر نادم ہونے والا اور اس پر ملامت کرنے والا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں ”یہ سب اقوال قریب قریب ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ نفس والا ہے جو نیکی کی کمی پر برائی کے ہو جانے پر اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے اور فوت شدہ پر ندامت کرتا ہے۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے ’ کیا انسان یہ سوچے ہوئے ہے کہ ہم قیامت کے دن اس کی ہڈیوں کے جمع کرنے پر قادر نہ ہوں گے، یہ تو نہایت غلط خیال ہے ہم اسے متفرق جگہ سے جمع کر کے دوبارہ کھڑا کریں گے اور اس کی بالشت بالشت بنا دیں گے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”ہم قادر ہیں کہ اسے اونٹ یا گھوڑے کے تلوے کی طرح بنا دیں“، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”دنیا میں بھی اگر ہم چاہتے اسے ایسا کر دیتے۔‏‏‏‏“ آیت کے لفظوں سے تو ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ «قَادِرِينَ» حال ہے «نَّجْمَعَ» سے یعنی کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے ہاں ہاں ہم عنقریب جمع کریں گے درآنحالیکہ ہمیں ان کے جمع کرنے کی قدرت ہے بلکہ اگر ہم چاہیں تو جتنا یہ تھا اس سے بھی کچھ زیادہ بنا کر اسے اٹھائیں اس کی انگلیوں کے سرے تک برابر کر کے پیدا کریں۔ ابن قتیبہ اور زجاج کے قول کے یہی معنی ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ انسان اپنے آگے فسق و فجور کرنا چاہتا ہے یعنی قدم بہ قدم بڑھ رہا ہے، امیدیں باندھے ہوئے ہے، کہتا جاتا ہے کہ گناہ کر تو لوں توبہ بھی ہو جائے گی قیامت کے دن سے جو اس کے آگے ہے کفر کرتا ہے، وہ گویا اپنے سر پر سوار ہو کر آگے بڑھ رہا ہے، ہر وقت یہی پایا جاتا ہے کہ ایک ایک قدم اپنے نفس کو اللہ کی معصیت کی طرف بڑھاتا جاتا ہے مگر جن پر رب کا رحم ہے۔ اکثر سلف کا قول اس آیت کی تفسیر میں یہی ہے کہ گناہوں میں جلدی کرتا ہے اور توبہ میں تاخیر کرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جو یوم حساب کا منکر ہے“، ابن زید رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ ظاہر مراد ہے کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ وہ پوچھتا ہے قیامت کب ہوگی، اس کا یہ سوال بھی بطور انکار کے ہے یہ جانتا ہے کہ قیامت کا آنا محال ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ» ۱؎ [34-سبأ:29،30] ‏‏‏‏، ’ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتا دو کہ قیامت کب آئے گی؟ ان سے کہہ دے کہ اس کا ایک دن مقرر ہے جس سے نہ تم ایک ساعت آگے بڑھ سکو گے نہ پیچھے ہٹ سکو گے ‘۔
4۔ 1 بَنَان (پور پور) جوڑوں، ناخن، لطیف رگوں اور باریک ہڈیوں پر مشتمل ہوتے ہیں۔ جب یہ باریک اور لطیف چیزیں ہم بالکل صحیح صحیح جوڑ دیں گے تو بڑے حصے کو جوڑ دینا ہمارے لئے کیا مشکل ہوگا
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
بَلۡ یُرِیۡدُ الۡاِنۡسَانُ لِیَفۡجُرَ اَمَامَہٗ ۚ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر انسان چاہتا یہ ہے کہ آگے بھی بد اعمالیاں کرتا رہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ انسان تو چاہتا ہے کہ آگے آگے نافرمانیاں کرتا جائے
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ آدمی چاہتا ہے کہ اس کی نگاہ کے سامنے بدی کرے
علامہ محمد حسین نجفی
بلکہ انسان چاہتا ہے کہ اپنے آگے (آئندہ زندگی میں) بھی بدعملی کرتا رہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ انسان چاہتا ہے کہ اپنے آگے (آنے والے دنوں میں بھی) نافرمانی کرتا رہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں ٭٭

یہ کئی دفعہ بیان ہو چکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے «لا» کا کلمہ نفی کی تائید کے لیے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہو گی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے ’ قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی ‘۔ حسن رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج رحمہ اللہ علیہم کی قرأت «لَأُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ» ہے اس سے بھی حسن رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لیے کہ ان کے نزدیک پہلے کی قسم ہے اور دوسرے کی نہیں، لیکن صحیح قول یہی ہے کہ دونوں کی قسم کھائی ہے جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ کا مختار قول بھی یہی ہے۔ یوم قیامت کو تو ہر شخص جانتا ہی ہے۔

«نفس لوامہ» کی تفسیر میں حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد مومن کا نفس ہے وہ ہر وقت اپنے تئیں ملامت ہی کرتا رہتا ہے کہ یوں کیوں کہہ دیا؟، یہ کیوں کھا لیا؟، یہ خیال دل میں کیوں آیا؟ ہاں فاسق، فاجر، غافل ہوتا ہے اسے کیا پڑی جو اپنے نفس کو روکے۔ یہ بھی مروی ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق قیامت کے دن اپنے تئیں ملامت کرے گی، خیر والے خیر کی کمی پر اور شر والے شر کے سرزد ہونے پر، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مذموم نفس ہے جو نافرمان ہو، فوت شدہ پر نادم ہونے والا اور اس پر ملامت کرنے والا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں ”یہ سب اقوال قریب قریب ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ نفس والا ہے جو نیکی کی کمی پر برائی کے ہو جانے پر اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے اور فوت شدہ پر ندامت کرتا ہے۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے ’ کیا انسان یہ سوچے ہوئے ہے کہ ہم قیامت کے دن اس کی ہڈیوں کے جمع کرنے پر قادر نہ ہوں گے، یہ تو نہایت غلط خیال ہے ہم اسے متفرق جگہ سے جمع کر کے دوبارہ کھڑا کریں گے اور اس کی بالشت بالشت بنا دیں گے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”ہم قادر ہیں کہ اسے اونٹ یا گھوڑے کے تلوے کی طرح بنا دیں“، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”دنیا میں بھی اگر ہم چاہتے اسے ایسا کر دیتے۔‏‏‏‏“ آیت کے لفظوں سے تو ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ «قَادِرِينَ» حال ہے «نَّجْمَعَ» سے یعنی کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے ہاں ہاں ہم عنقریب جمع کریں گے درآنحالیکہ ہمیں ان کے جمع کرنے کی قدرت ہے بلکہ اگر ہم چاہیں تو جتنا یہ تھا اس سے بھی کچھ زیادہ بنا کر اسے اٹھائیں اس کی انگلیوں کے سرے تک برابر کر کے پیدا کریں۔ ابن قتیبہ اور زجاج کے قول کے یہی معنی ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ انسان اپنے آگے فسق و فجور کرنا چاہتا ہے یعنی قدم بہ قدم بڑھ رہا ہے، امیدیں باندھے ہوئے ہے، کہتا جاتا ہے کہ گناہ کر تو لوں توبہ بھی ہو جائے گی قیامت کے دن سے جو اس کے آگے ہے کفر کرتا ہے، وہ گویا اپنے سر پر سوار ہو کر آگے بڑھ رہا ہے، ہر وقت یہی پایا جاتا ہے کہ ایک ایک قدم اپنے نفس کو اللہ کی معصیت کی طرف بڑھاتا جاتا ہے مگر جن پر رب کا رحم ہے۔ اکثر سلف کا قول اس آیت کی تفسیر میں یہی ہے کہ گناہوں میں جلدی کرتا ہے اور توبہ میں تاخیر کرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جو یوم حساب کا منکر ہے“، ابن زید رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ ظاہر مراد ہے کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ وہ پوچھتا ہے قیامت کب ہوگی، اس کا یہ سوال بھی بطور انکار کے ہے یہ جانتا ہے کہ قیامت کا آنا محال ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ» ۱؎ [34-سبأ:29،30] ‏‏‏‏، ’ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتا دو کہ قیامت کب آئے گی؟ ان سے کہہ دے کہ اس کا ایک دن مقرر ہے جس سے نہ تم ایک ساعت آگے بڑھ سکو گے نہ پیچھے ہٹ سکو گے ‘۔
5۔ 1 یعنی اس امید پر نافرمانی اور حق کا انکار کرتا ہے کہ کون سی قیامت آنی ہے۔
(آیت 6،5) {بَلْ يُرِيْدُ الْاِنْسَانُ …: ” لِيَفْجُرَ”فَجَرَ فُجُوْرًا“} (ن) جھوٹ بولنا، گناہ کرنا، زنا کرنا۔ یعنی قیامت کے انکار کی کوئی اور وجہ نہیں، بلکہ اصل بات یہ ہے کہ انسان چاہتا ہے کہ اپنے آگے یعنی آنے والے دنوں میں بھی نافرمانی اور گناہ کرتا رہے۔ اب اگر وہ قیامت پر ایمان لائے تو اس کا تقاضا ہے کہ گناہ چھوڑ دے جسے چھوڑنے پر وہ آمادہ نہیں۔ گویا وہ عقل کی وجہ سے قیامت کا انکار نہیں کر رہا بلکہ ہوس نے اسے اندھا کر رکھا ہے، اس لیے وہ تیاری کے لیے نہیں بلکہ مذاق اڑانے اور جھٹلانے کے لیے پوچھتا ہے کہ وہ دفعتاً اٹھ کھڑے ہونے کا وقت کب ہو گا؟
یَسۡـَٔلُ اَیَّانَ یَوۡمُ الۡقِیٰمَۃِ ؕ﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پوچھتا ہے "آخر کب آنا ہے وہ قیامت کا دن؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا
احمد رضا خان بریلوی
پوچھتا ہے قیامت کا دن کب ہوگا،
علامہ محمد حسین نجفی
(اس لئے) پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب آئے گا؟
عبدالسلام بن محمد
وہ پوچھتا ہے اٹھ کھڑے ہونے کا دن کب ہو گا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں ٭٭

یہ کئی دفعہ بیان ہو چکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے «لا» کا کلمہ نفی کی تائید کے لیے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہو گی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے ’ قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی ‘۔ حسن رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج رحمہ اللہ علیہم کی قرأت «لَأُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ» ہے اس سے بھی حسن رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لیے کہ ان کے نزدیک پہلے کی قسم ہے اور دوسرے کی نہیں، لیکن صحیح قول یہی ہے کہ دونوں کی قسم کھائی ہے جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ کا مختار قول بھی یہی ہے۔ یوم قیامت کو تو ہر شخص جانتا ہی ہے۔

«نفس لوامہ» کی تفسیر میں حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد مومن کا نفس ہے وہ ہر وقت اپنے تئیں ملامت ہی کرتا رہتا ہے کہ یوں کیوں کہہ دیا؟، یہ کیوں کھا لیا؟، یہ خیال دل میں کیوں آیا؟ ہاں فاسق، فاجر، غافل ہوتا ہے اسے کیا پڑی جو اپنے نفس کو روکے۔ یہ بھی مروی ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق قیامت کے دن اپنے تئیں ملامت کرے گی، خیر والے خیر کی کمی پر اور شر والے شر کے سرزد ہونے پر، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مذموم نفس ہے جو نافرمان ہو، فوت شدہ پر نادم ہونے والا اور اس پر ملامت کرنے والا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں ”یہ سب اقوال قریب قریب ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ نفس والا ہے جو نیکی کی کمی پر برائی کے ہو جانے پر اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے اور فوت شدہ پر ندامت کرتا ہے۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے ’ کیا انسان یہ سوچے ہوئے ہے کہ ہم قیامت کے دن اس کی ہڈیوں کے جمع کرنے پر قادر نہ ہوں گے، یہ تو نہایت غلط خیال ہے ہم اسے متفرق جگہ سے جمع کر کے دوبارہ کھڑا کریں گے اور اس کی بالشت بالشت بنا دیں گے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”ہم قادر ہیں کہ اسے اونٹ یا گھوڑے کے تلوے کی طرح بنا دیں“، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”دنیا میں بھی اگر ہم چاہتے اسے ایسا کر دیتے۔‏‏‏‏“ آیت کے لفظوں سے تو ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ «قَادِرِينَ» حال ہے «نَّجْمَعَ» سے یعنی کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے ہاں ہاں ہم عنقریب جمع کریں گے درآنحالیکہ ہمیں ان کے جمع کرنے کی قدرت ہے بلکہ اگر ہم چاہیں تو جتنا یہ تھا اس سے بھی کچھ زیادہ بنا کر اسے اٹھائیں اس کی انگلیوں کے سرے تک برابر کر کے پیدا کریں۔ ابن قتیبہ اور زجاج کے قول کے یہی معنی ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ انسان اپنے آگے فسق و فجور کرنا چاہتا ہے یعنی قدم بہ قدم بڑھ رہا ہے، امیدیں باندھے ہوئے ہے، کہتا جاتا ہے کہ گناہ کر تو لوں توبہ بھی ہو جائے گی قیامت کے دن سے جو اس کے آگے ہے کفر کرتا ہے، وہ گویا اپنے سر پر سوار ہو کر آگے بڑھ رہا ہے، ہر وقت یہی پایا جاتا ہے کہ ایک ایک قدم اپنے نفس کو اللہ کی معصیت کی طرف بڑھاتا جاتا ہے مگر جن پر رب کا رحم ہے۔ اکثر سلف کا قول اس آیت کی تفسیر میں یہی ہے کہ گناہوں میں جلدی کرتا ہے اور توبہ میں تاخیر کرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جو یوم حساب کا منکر ہے“، ابن زید رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ ظاہر مراد ہے کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ وہ پوچھتا ہے قیامت کب ہوگی، اس کا یہ سوال بھی بطور انکار کے ہے یہ جانتا ہے کہ قیامت کا آنا محال ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ» ۱؎ [34-سبأ:29،30] ‏‏‏‏، ’ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتا دو کہ قیامت کب آئے گی؟ ان سے کہہ دے کہ اس کا ایک دن مقرر ہے جس سے نہ تم ایک ساعت آگے بڑھ سکو گے نہ پیچھے ہٹ سکو گے ‘۔
6۔ 1 یہ سوال اس لئے نہیں کرتا کہ گناہوں سے تائب ہوجائے، بلکہ قیامت کو ناممکن الو قوع سمجھتے ہوئے پوچھتا ہے۔ اسی لیے فسق و فجور سے باز نہیں آتا۔ تاہم اگلی ٓآیت میں اللہ تعالیٰ قیامت کے آنے کا وقت بیان فرما رہے ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَاِذَا بَرِقَ الۡبَصَرُ ۙ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر جب دیدے پتھرا جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
پس جس وقت کہ نگاه پتھرا جائے گی
احمد رضا خان بریلوی
پھر جس دن آنکھ چوندھیائے گی
علامہ محمد حسین نجفی
پس جب نگاہ خیرہ ہو جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جب آنکھ پتھرا جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں ٭٭

یہ کئی دفعہ بیان ہو چکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے «لا» کا کلمہ نفی کی تائید کے لیے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہو گی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے ’ قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی ‘۔ حسن رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج رحمہ اللہ علیہم کی قرأت «لَأُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ» ہے اس سے بھی حسن رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لیے کہ ان کے نزدیک پہلے کی قسم ہے اور دوسرے کی نہیں، لیکن صحیح قول یہی ہے کہ دونوں کی قسم کھائی ہے جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ کا مختار قول بھی یہی ہے۔ یوم قیامت کو تو ہر شخص جانتا ہی ہے۔

«نفس لوامہ» کی تفسیر میں حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد مومن کا نفس ہے وہ ہر وقت اپنے تئیں ملامت ہی کرتا رہتا ہے کہ یوں کیوں کہہ دیا؟، یہ کیوں کھا لیا؟، یہ خیال دل میں کیوں آیا؟ ہاں فاسق، فاجر، غافل ہوتا ہے اسے کیا پڑی جو اپنے نفس کو روکے۔ یہ بھی مروی ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق قیامت کے دن اپنے تئیں ملامت کرے گی، خیر والے خیر کی کمی پر اور شر والے شر کے سرزد ہونے پر، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مذموم نفس ہے جو نافرمان ہو، فوت شدہ پر نادم ہونے والا اور اس پر ملامت کرنے والا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں ”یہ سب اقوال قریب قریب ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ نفس والا ہے جو نیکی کی کمی پر برائی کے ہو جانے پر اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے اور فوت شدہ پر ندامت کرتا ہے۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے ’ کیا انسان یہ سوچے ہوئے ہے کہ ہم قیامت کے دن اس کی ہڈیوں کے جمع کرنے پر قادر نہ ہوں گے، یہ تو نہایت غلط خیال ہے ہم اسے متفرق جگہ سے جمع کر کے دوبارہ کھڑا کریں گے اور اس کی بالشت بالشت بنا دیں گے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”ہم قادر ہیں کہ اسے اونٹ یا گھوڑے کے تلوے کی طرح بنا دیں“، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”دنیا میں بھی اگر ہم چاہتے اسے ایسا کر دیتے۔‏‏‏‏“ آیت کے لفظوں سے تو ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ «قَادِرِينَ» حال ہے «نَّجْمَعَ» سے یعنی کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے ہاں ہاں ہم عنقریب جمع کریں گے درآنحالیکہ ہمیں ان کے جمع کرنے کی قدرت ہے بلکہ اگر ہم چاہیں تو جتنا یہ تھا اس سے بھی کچھ زیادہ بنا کر اسے اٹھائیں اس کی انگلیوں کے سرے تک برابر کر کے پیدا کریں۔ ابن قتیبہ اور زجاج کے قول کے یہی معنی ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ انسان اپنے آگے فسق و فجور کرنا چاہتا ہے یعنی قدم بہ قدم بڑھ رہا ہے، امیدیں باندھے ہوئے ہے، کہتا جاتا ہے کہ گناہ کر تو لوں توبہ بھی ہو جائے گی قیامت کے دن سے جو اس کے آگے ہے کفر کرتا ہے، وہ گویا اپنے سر پر سوار ہو کر آگے بڑھ رہا ہے، ہر وقت یہی پایا جاتا ہے کہ ایک ایک قدم اپنے نفس کو اللہ کی معصیت کی طرف بڑھاتا جاتا ہے مگر جن پر رب کا رحم ہے۔ اکثر سلف کا قول اس آیت کی تفسیر میں یہی ہے کہ گناہوں میں جلدی کرتا ہے اور توبہ میں تاخیر کرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جو یوم حساب کا منکر ہے“، ابن زید رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ ظاہر مراد ہے کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ وہ پوچھتا ہے قیامت کب ہوگی، اس کا یہ سوال بھی بطور انکار کے ہے یہ جانتا ہے کہ قیامت کا آنا محال ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ» ۱؎ [34-سبأ:29،30] ‏‏‏‏، ’ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتا دو کہ قیامت کب آئے گی؟ ان سے کہہ دے کہ اس کا ایک دن مقرر ہے جس سے نہ تم ایک ساعت آگے بڑھ سکو گے نہ پیچھے ہٹ سکو گے ‘۔
7۔ 1 دہشت اور حیرانی سے جیسے موت کے وقت عام طور پر ہوتا ہے۔
(آیت 7) {فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ:بَرِقَ الْبَصَرُ “ (س،ن) ” بَرْقًا وَ بُرُوْقًا“} آنکھ کا حیرت سے کھلا رہ جانا یا دہشت زدہ ہو کر کچھ نہ دیکھ سکنا۔ (قاموس) اللہ تعالیٰ نے قیامت کی تاریخ اور قیامت کے متعلق بتانے کے بجائے اس دن واقع ہونے والی چند چیزیں بیان فرما دیں۔ {” فَاِذَا بَرِقَ الْبَصَرُ “} یعنی قیامت کے دن کے عجیب و غریب حوادث و واقعات کو دیکھ کر آنکھیں حیرت سے کھلی رہ جائیں گی اور خوف و دہشت کے مارے ان سے کچھ دکھائی نہ دے گا، جیسے اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏وَ لَا تَحْسَبَنَّ اللّٰهَ غَافِلًا عَمَّا يَعْمَلُ الظّٰلِمُوْنَ اِنَّمَا يُؤَخِّرُهُمْ لِيَوْمٍ تَشْخَصُ فِيْهِ الْاَبْصَارُ (42) مُهْطِعِيْنَ مُقْنِعِيْ رُءُوْسِهِمْ لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَ اَفْـِٕدَتُهُمْ هَوَآءٌ» ‏‏‏‏ [ إبراہیم: 43,42 ] ”اور تو ہرگز خیال نہ کر کہ اللہ ان کاموں سے بے خبر ہے جو ظالم لوگ کر رہے ہیں، وہ تو انھیں صرف اس دن کے لیے مہلت دے رہا ہے جس میں آنکھیں کھلی رہ جائیں گی۔ حال یہ ہوگا کہ سر اٹھائے ہوئے تیز بھاگ رہے ہوں گے، ان کی نگاہیں ان کی طرف لوٹ کر نہیں آئیں گی اور ان کے دل خالی ہوں گے۔“
وَ خَسَفَ الۡقَمَرُ ۙ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور چاند بے نور ہو جائیگا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور چاند بے نور ہو جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
اور چاند کہے گا
علامہ محمد حسین نجفی
اور چاند کو گہن لگ جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
اور چاند گہنا جائے گا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہم سب اپنے اعمال کا خود آئینہ ہیں ٭٭

یہ کئی دفعہ بیان ہو چکا ہے کہ جس چیز پر قسم کھائی جائے اگر وہ رد کرنے کی چیز ہو تو قسم سے پہلے «لا» کا کلمہ نفی کی تائید کے لیے لانا جائز ہوتا ہے یہاں قیامت کے ہونے پر اور جاہلوں کے اس قول کی تردید پر قیامت نہ ہو گی قسم کھائی جا رہی ہے تو فرماتا ہے ’ قسم ہے قیامت کے دن کی اور قسم ہے ملامت کرنے والی جان کی ‘۔ حسن رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں قیامت کی قسم ہے اور ملامت کرنے والے نفس کی قسم نہیں ہے، قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں دونوں کی قسم ہے، حسن اور اعرج رحمہ اللہ علیہم کی قرأت «لَأُقْسِمُ بِيَوْمِ الْقِيَامَةِ» ہے اس سے بھی حسن رحمہ اللہ کے قول کی تائید ہوتی ہے اس لیے کہ ان کے نزدیک پہلے کی قسم ہے اور دوسرے کی نہیں، لیکن صحیح قول یہی ہے کہ دونوں کی قسم کھائی ہے جیسے کہ قتادہ رحمہ اللہ کا فرمان ہے، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور سعید بن جبیر رضی اللہ عنہما سے بھی یہی مروی ہے اور امام ابن جریر رحمہ اللہ کا مختار قول بھی یہی ہے۔ یوم قیامت کو تو ہر شخص جانتا ہی ہے۔

«نفس لوامہ» کی تفسیر میں حسن بصری رحمتہ اللہ علیہ سے مروی ہے کہ اس سے مراد مومن کا نفس ہے وہ ہر وقت اپنے تئیں ملامت ہی کرتا رہتا ہے کہ یوں کیوں کہہ دیا؟، یہ کیوں کھا لیا؟، یہ خیال دل میں کیوں آیا؟ ہاں فاسق، فاجر، غافل ہوتا ہے اسے کیا پڑی جو اپنے نفس کو روکے۔ یہ بھی مروی ہے کہ زمین و آسمان کی تمام مخلوق قیامت کے دن اپنے تئیں ملامت کرے گی، خیر والے خیر کی کمی پر اور شر والے شر کے سرزد ہونے پر، یہ بھی کہا گیا ہے کہ اس سے مراد مذموم نفس ہے جو نافرمان ہو، فوت شدہ پر نادم ہونے والا اور اس پر ملامت کرنے والا۔ امام ابن جریر فرماتے ہیں ”یہ سب اقوال قریب قریب ہیں مطلب یہ ہے کہ وہ نفس والا ہے جو نیکی کی کمی پر برائی کے ہو جانے پر اپنے نفس کو ملامت کرتا ہے اور فوت شدہ پر ندامت کرتا ہے۔‏‏‏‏“ پھر فرماتا ہے ’ کیا انسان یہ سوچے ہوئے ہے کہ ہم قیامت کے دن اس کی ہڈیوں کے جمع کرنے پر قادر نہ ہوں گے، یہ تو نہایت غلط خیال ہے ہم اسے متفرق جگہ سے جمع کر کے دوبارہ کھڑا کریں گے اور اس کی بالشت بالشت بنا دیں گے ‘۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں یعنی ”ہم قادر ہیں کہ اسے اونٹ یا گھوڑے کے تلوے کی طرح بنا دیں“، امام ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی ”دنیا میں بھی اگر ہم چاہتے اسے ایسا کر دیتے۔‏‏‏‏“ آیت کے لفظوں سے تو ظاہر یہی معلوم ہوتا ہے کہ «قَادِرِينَ» حال ہے «نَّجْمَعَ» سے یعنی کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ ہم اس کی ہڈیاں جمع نہ کریں گے ہاں ہاں ہم عنقریب جمع کریں گے درآنحالیکہ ہمیں ان کے جمع کرنے کی قدرت ہے بلکہ اگر ہم چاہیں تو جتنا یہ تھا اس سے بھی کچھ زیادہ بنا کر اسے اٹھائیں اس کی انگلیوں کے سرے تک برابر کر کے پیدا کریں۔ ابن قتیبہ اور زجاج کے قول کے یہی معنی ہیں۔ پھر فرماتا ہے کہ انسان اپنے آگے فسق و فجور کرنا چاہتا ہے یعنی قدم بہ قدم بڑھ رہا ہے، امیدیں باندھے ہوئے ہے، کہتا جاتا ہے کہ گناہ کر تو لوں توبہ بھی ہو جائے گی قیامت کے دن سے جو اس کے آگے ہے کفر کرتا ہے، وہ گویا اپنے سر پر سوار ہو کر آگے بڑھ رہا ہے، ہر وقت یہی پایا جاتا ہے کہ ایک ایک قدم اپنے نفس کو اللہ کی معصیت کی طرف بڑھاتا جاتا ہے مگر جن پر رب کا رحم ہے۔ اکثر سلف کا قول اس آیت کی تفسیر میں یہی ہے کہ گناہوں میں جلدی کرتا ہے اور توبہ میں تاخیر کرتا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں ”جو یوم حساب کا منکر ہے“، ابن زید رحمہ اللہ بھی یہی کہتے ہیں اور یہی زیادہ ظاہر مراد ہے کیونکہ اس کے بعد ہی ہے کہ وہ پوچھتا ہے قیامت کب ہوگی، اس کا یہ سوال بھی بطور انکار کے ہے یہ جانتا ہے کہ قیامت کا آنا محال ہے۔ جیسے اور جگہ ہے «وَيَقُولُونَ مَتَىٰ هَـٰذَا الْوَعْدُ إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ قُل لَّكُم مِّيعَادُ يَوْمٍ لَّا تَسْتَأْخِرُونَ عَنْهُ سَاعَةً وَلَا تَسْتَقْدِمُونَ» ۱؎ [34-سبأ:29،30] ‏‏‏‏، ’ کہتے ہیں کہ اگر تم سچے ہو تو بتا دو کہ قیامت کب آئے گی؟ ان سے کہہ دے کہ اس کا ایک دن مقرر ہے جس سے نہ تم ایک ساعت آگے بڑھ سکو گے نہ پیچھے ہٹ سکو گے ‘۔
8۔ 1 جب چاند کو گرہن لگ جاتا ہے تو اس وقت بھی وہ بےنور ہوجاتا ہے۔ لیکن جو علامات قیامت میں سے ہے، جب ہوگا تو اس کے بعد اس میں روشنی نہیں آئے گی۔
(آیت 8) {وَ خَسَفَ الْقَمَرُ:} چاند گہنا جائے گا، یعنی بے نور ہو جائے گا۔
وَ جُمِعَ الشَّمۡسُ وَ الۡقَمَرُ ۙ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور چاند سورج ملا کر ایک کر دیے جائیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور سورج اور چاند جمع کردیئے جائیں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور سورج اور چاند ملادیے جائیں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور سورج اور چاند اکٹھے کر دئیے جائیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور سورج اور چاند اکٹھے کر دیے جائیں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ جب آنکھیں پتھرا جائیں گی ‘، جیسے اور جگہ ہے «لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاءٌ» ۱؎ [14-إبراھیم:43] ‏‏‏‏، یعنی ’ پلکیں جھپکیں گی نہیں بلکہ رعب و دہشت خوف و وحشت کے مارے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھتے رہیں گے ‘۔ «بَرِقَ» کی دوسری قرأت «بَرَقَ» بھی ہے، معنی قریب قریب ہیں اور چاند کی روشنی بالکل جاتی رہے گی اور سورج چاند جمع کر دیئے جائیں گے یعنی دونوں کو بے نور کر کے لپیٹ لیا جائے گا۔ جیسے فرمایا «إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ» ۱؎ [81-التكوير:2،1] ‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَجُمِعَ بَيْنَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ» ہے۔ انسان جب یہ پریشانی، شدت ہول، گھبراہٹ اور انتظام عالم کی یہ خطرناک حالت دیکھے گا تو بھاگا جائے گا اور کہے گا کہ جائے پناہ یعنی بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ملے گا کہ کوئی پناہ نہیں رب کے سامنے اور اس کے پاس ٹھہرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں، جیسے اور جگہ ہے «مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» ۱؎ [42-الشورى:47] ‏‏‏‏ یعنی ’ آج نہ تو کوئی جائے پناہ ہے، نہ ایسی جگہ کہ وہاں جا کر تم انجان اور بے پہچان بن جاؤ، آج ہر شخص کو اس کے اگلے پچھلے نئے پرانے چھوٹے بڑے اعمال سے مطلع کیا جائے گا ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا» ۱؎ [18-الكهف:49] ‏‏‏‏ ’ جو کیا تھا، موجود پا لیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا ‘۔ انسان اپنے آپ کو بخوبی جانتا ہے اپنے اعمال کا خود آئینہ ہے گو انکار کرے اور عذر معذرت پیش کرتا پھرے۔ جیسے فرمان ہے «اِقْرَاْ كِتٰبَكَ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا» ۱؎ [17-الإسراء:14] ‏‏‏‏ ’ اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے اور اپنے تئیں آپ ہی جانچ لے، اس کے کان آنکھ، پاؤں اور دیگر اعضاء ہی اس پر شہادت دینے کافی ہیں، لیکن افسوس کہ یہ دوسروں کے عیبوں اور نقصانوں کو دیکھتا ہے اور اپنے کیڑے چننے سے غافل ہے ‘۔ کہا جاتا ہے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے اے ابن آدم تو دوسروں کی آنکھوں کا تو تنکا دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر بھی تجھے دکھائی نہیں دیتا؟ قیامت کے دن چاہے انسان فضول بہانے بنائے گا اور جھوٹی دلیلیں دے گا، بے کار عذر پیش کرے گا مگر ایک بھی قبول نہ کیا جائے گا۔ اس آیت کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ وہ پردے ڈالے۔

اہل یمن پردے کو «الْمِعْذَارَ» کہتے ہیں، لیکن صحیح معنی اوپر والے ہیں جیسے اور جگہ ہے کہ «ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:23] ‏‏‏‏ ’ کوئی معقول عذر نہ پا کر اپنے شرک کا سرے سے انکار ہی کر دیں گے کہ اللہ کی قسم ہم مشرک تھے ہی نہیں ‘۔ اور جگہ ہے کہ «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ» ۱؎ [58-المجادلہ:18] ‏‏‏‏ ’ قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کھا کر سچا ہونا چاہیں گے جیسے دنیا میں تمہارے سامنے ان کی حالت ہے لیکن اللہ پر تو ان کا جھوٹ ظاہر ہے چاہے کتنا ہی وہ اپنی تئیں کچھ بھی سمجھتے رہیں ‘، غرض عذر معذرت انہیں قیامت کے دن کچھ کار آمد نہ ہو گا۔ جیسے اور جگہ فرماتا ہے «يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْءُ الدَّارِ» ۱؎ [40-غافر:52] ‏‏‏‏ ’ ظالموں کو ان کی معذرت کچھ کام نہ آئے گی یہ تو اپنے شکر کے ساتھ اپنی تمام بداعمالیوں کا بھی انکار کردیں گے لیکن بے سود ہوگا ‘۔
9۔ 1 یعنی بےنوری میں۔ مطلب ہے کہ چاند کی طرح سورج کی روشنی بھی ختم ہوجائے گی۔
(آیت 9) {وَ جُمِعَ الشَّمْسُ وَ الْقَمَرُ:} یعنی یہ نظامِ فلکی جس میں چاند سورج سے لاکھوں میل کے فاصلے پر ہے، درہم برہم ہو جائے گا اورسورج اور چاند اکٹھے کر دیے جائیں گے۔ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [اَلشَّمْسُ وَالْقَمَرُ مُكَوَّرَانِ يَوْمَ الْقِيَامَةِ ] [ بخاري، بدء الخلق، باب صفۃ الشمس والقمر: ۳۲۰۰ ] ”قیامت کے دن سورج اور چاند لپیٹے ہوئے ہوں گے۔“
یَقُوۡلُ الۡاِنۡسَانُ یَوۡمَئِذٍ اَیۡنَ الۡمَفَرُّ ﴿ۚ۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس وقت یہی انسان کہے گا "کہاں بھاگ کر جاؤں؟"
مولانا محمد جوناگڑھی
اس دن انسان کہے گا کہ آج بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
اس دن آدمی کہے گا کدھر بھاگ کر جاؤں
علامہ محمد حسین نجفی
اس دن انسان کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟
عبدالسلام بن محمد
انسان اس دن کہے گا کہ بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ جب آنکھیں پتھرا جائیں گی ‘، جیسے اور جگہ ہے «لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاءٌ» ۱؎ [14-إبراھیم:43] ‏‏‏‏، یعنی ’ پلکیں جھپکیں گی نہیں بلکہ رعب و دہشت خوف و وحشت کے مارے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھتے رہیں گے ‘۔ «بَرِقَ» کی دوسری قرأت «بَرَقَ» بھی ہے، معنی قریب قریب ہیں اور چاند کی روشنی بالکل جاتی رہے گی اور سورج چاند جمع کر دیئے جائیں گے یعنی دونوں کو بے نور کر کے لپیٹ لیا جائے گا۔ جیسے فرمایا «إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ» ۱؎ [81-التكوير:2،1] ‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَجُمِعَ بَيْنَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ» ہے۔ انسان جب یہ پریشانی، شدت ہول، گھبراہٹ اور انتظام عالم کی یہ خطرناک حالت دیکھے گا تو بھاگا جائے گا اور کہے گا کہ جائے پناہ یعنی بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ملے گا کہ کوئی پناہ نہیں رب کے سامنے اور اس کے پاس ٹھہرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں، جیسے اور جگہ ہے «مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» ۱؎ [42-الشورى:47] ‏‏‏‏ یعنی ’ آج نہ تو کوئی جائے پناہ ہے، نہ ایسی جگہ کہ وہاں جا کر تم انجان اور بے پہچان بن جاؤ، آج ہر شخص کو اس کے اگلے پچھلے نئے پرانے چھوٹے بڑے اعمال سے مطلع کیا جائے گا ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا» ۱؎ [18-الكهف:49] ‏‏‏‏ ’ جو کیا تھا، موجود پا لیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا ‘۔ انسان اپنے آپ کو بخوبی جانتا ہے اپنے اعمال کا خود آئینہ ہے گو انکار کرے اور عذر معذرت پیش کرتا پھرے۔ جیسے فرمان ہے «اِقْرَاْ كِتٰبَكَ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا» ۱؎ [17-الإسراء:14] ‏‏‏‏ ’ اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے اور اپنے تئیں آپ ہی جانچ لے، اس کے کان آنکھ، پاؤں اور دیگر اعضاء ہی اس پر شہادت دینے کافی ہیں، لیکن افسوس کہ یہ دوسروں کے عیبوں اور نقصانوں کو دیکھتا ہے اور اپنے کیڑے چننے سے غافل ہے ‘۔ کہا جاتا ہے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے اے ابن آدم تو دوسروں کی آنکھوں کا تو تنکا دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر بھی تجھے دکھائی نہیں دیتا؟ قیامت کے دن چاہے انسان فضول بہانے بنائے گا اور جھوٹی دلیلیں دے گا، بے کار عذر پیش کرے گا مگر ایک بھی قبول نہ کیا جائے گا۔ اس آیت کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ وہ پردے ڈالے۔

اہل یمن پردے کو «الْمِعْذَارَ» کہتے ہیں، لیکن صحیح معنی اوپر والے ہیں جیسے اور جگہ ہے کہ «ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:23] ‏‏‏‏ ’ کوئی معقول عذر نہ پا کر اپنے شرک کا سرے سے انکار ہی کر دیں گے کہ اللہ کی قسم ہم مشرک تھے ہی نہیں ‘۔ اور جگہ ہے کہ «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ» ۱؎ [58-المجادلہ:18] ‏‏‏‏ ’ قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کھا کر سچا ہونا چاہیں گے جیسے دنیا میں تمہارے سامنے ان کی حالت ہے لیکن اللہ پر تو ان کا جھوٹ ظاہر ہے چاہے کتنا ہی وہ اپنی تئیں کچھ بھی سمجھتے رہیں ‘، غرض عذر معذرت انہیں قیامت کے دن کچھ کار آمد نہ ہو گا۔ جیسے اور جگہ فرماتا ہے «يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْءُ الدَّارِ» ۱؎ [40-غافر:52] ‏‏‏‏ ’ ظالموں کو ان کی معذرت کچھ کام نہ آئے گی یہ تو اپنے شکر کے ساتھ اپنی تمام بداعمالیوں کا بھی انکار کردیں گے لیکن بے سود ہوگا ‘۔
10۔ 1 یعنی جب یہ واقعات ظہور پذیر ہونگے تو پھر اللہ سے یا جہنم کے عذاب سے راہ فرار ڈھونڈے گا، لیکن اس وقت راہ فرار کہاں ہوگی۔
(آیت 10تا12) {يَقُوْلُ الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍ …:} یہ انسان جو آج پوچھتا ہے کہ قیامت کا دن کب ہو گا، اس دن ایسا حیران اور خوف زدہ ہو گا کہ بھاگنے کے لیے جگہ تلاش کرے گا، مگر اس دن کوئی جائے پناہ نہیں ملے گی اور سب لوگوں کو اپنے رب کے سامنے پیش ہونا پڑے گا۔
کَلَّا لَا وَزَرَ ﴿ؕ۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہرگز نہیں، وہاں کوئی جائے پناہ نہ ہوگی
مولانا محمد جوناگڑھی
نہیں نہیں کوئی پناہ گاه نہیں
احمد رضا خان بریلوی
ہرگز نہیں کوئی پناہ نہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
ہرگز نہیں! کہیں کوئی پناہ گاہ نہیں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
ہرگز نہیں، پناہ کی جگہ کوئی نہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ جب آنکھیں پتھرا جائیں گی ‘، جیسے اور جگہ ہے «لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاءٌ» ۱؎ [14-إبراھیم:43] ‏‏‏‏، یعنی ’ پلکیں جھپکیں گی نہیں بلکہ رعب و دہشت خوف و وحشت کے مارے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھتے رہیں گے ‘۔ «بَرِقَ» کی دوسری قرأت «بَرَقَ» بھی ہے، معنی قریب قریب ہیں اور چاند کی روشنی بالکل جاتی رہے گی اور سورج چاند جمع کر دیئے جائیں گے یعنی دونوں کو بے نور کر کے لپیٹ لیا جائے گا۔ جیسے فرمایا «إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ» ۱؎ [81-التكوير:2،1] ‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَجُمِعَ بَيْنَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ» ہے۔ انسان جب یہ پریشانی، شدت ہول، گھبراہٹ اور انتظام عالم کی یہ خطرناک حالت دیکھے گا تو بھاگا جائے گا اور کہے گا کہ جائے پناہ یعنی بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ملے گا کہ کوئی پناہ نہیں رب کے سامنے اور اس کے پاس ٹھہرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں، جیسے اور جگہ ہے «مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» ۱؎ [42-الشورى:47] ‏‏‏‏ یعنی ’ آج نہ تو کوئی جائے پناہ ہے، نہ ایسی جگہ کہ وہاں جا کر تم انجان اور بے پہچان بن جاؤ، آج ہر شخص کو اس کے اگلے پچھلے نئے پرانے چھوٹے بڑے اعمال سے مطلع کیا جائے گا ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا» ۱؎ [18-الكهف:49] ‏‏‏‏ ’ جو کیا تھا، موجود پا لیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا ‘۔ انسان اپنے آپ کو بخوبی جانتا ہے اپنے اعمال کا خود آئینہ ہے گو انکار کرے اور عذر معذرت پیش کرتا پھرے۔ جیسے فرمان ہے «اِقْرَاْ كِتٰبَكَ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا» ۱؎ [17-الإسراء:14] ‏‏‏‏ ’ اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے اور اپنے تئیں آپ ہی جانچ لے، اس کے کان آنکھ، پاؤں اور دیگر اعضاء ہی اس پر شہادت دینے کافی ہیں، لیکن افسوس کہ یہ دوسروں کے عیبوں اور نقصانوں کو دیکھتا ہے اور اپنے کیڑے چننے سے غافل ہے ‘۔ کہا جاتا ہے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے اے ابن آدم تو دوسروں کی آنکھوں کا تو تنکا دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر بھی تجھے دکھائی نہیں دیتا؟ قیامت کے دن چاہے انسان فضول بہانے بنائے گا اور جھوٹی دلیلیں دے گا، بے کار عذر پیش کرے گا مگر ایک بھی قبول نہ کیا جائے گا۔ اس آیت کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ وہ پردے ڈالے۔

اہل یمن پردے کو «الْمِعْذَارَ» کہتے ہیں، لیکن صحیح معنی اوپر والے ہیں جیسے اور جگہ ہے کہ «ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:23] ‏‏‏‏ ’ کوئی معقول عذر نہ پا کر اپنے شرک کا سرے سے انکار ہی کر دیں گے کہ اللہ کی قسم ہم مشرک تھے ہی نہیں ‘۔ اور جگہ ہے کہ «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ» ۱؎ [58-المجادلہ:18] ‏‏‏‏ ’ قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کھا کر سچا ہونا چاہیں گے جیسے دنیا میں تمہارے سامنے ان کی حالت ہے لیکن اللہ پر تو ان کا جھوٹ ظاہر ہے چاہے کتنا ہی وہ اپنی تئیں کچھ بھی سمجھتے رہیں ‘، غرض عذر معذرت انہیں قیامت کے دن کچھ کار آمد نہ ہو گا۔ جیسے اور جگہ فرماتا ہے «يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْءُ الدَّارِ» ۱؎ [40-غافر:52] ‏‏‏‏ ’ ظالموں کو ان کی معذرت کچھ کام نہ آئے گی یہ تو اپنے شکر کے ساتھ اپنی تمام بداعمالیوں کا بھی انکار کردیں گے لیکن بے سود ہوگا ‘۔
11۔ 1 وَزَرَ پہاڑ یا قعلے کو کہتے ہیں جہاں انسان پناہ حاصل کرلے۔ وہاں ایسی کوئی پناہ گاہ نہیں ہوگی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِلٰی رَبِّکَ یَوۡمَئِذِۣ الۡمُسۡتَقَرُّ ﴿ؕ۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس روز تیرے رب ہی کے سامنے جا کر ٹھیرنا ہوگا
مولانا محمد جوناگڑھی
آج تو تیرے پروردگار کی طرف ہی قرار گاه ہے
احمد رضا خان بریلوی
اس دن تیرے رب ہی کی طرف جاکر ٹھہرنا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اس دن صرف آپ(ص) کے پروردگار کی طرف ٹھکانہ ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
اس دن تیرے رب ہی کی طرف جا ٹھہرنا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ جب آنکھیں پتھرا جائیں گی ‘، جیسے اور جگہ ہے «لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاءٌ» ۱؎ [14-إبراھیم:43] ‏‏‏‏، یعنی ’ پلکیں جھپکیں گی نہیں بلکہ رعب و دہشت خوف و وحشت کے مارے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھتے رہیں گے ‘۔ «بَرِقَ» کی دوسری قرأت «بَرَقَ» بھی ہے، معنی قریب قریب ہیں اور چاند کی روشنی بالکل جاتی رہے گی اور سورج چاند جمع کر دیئے جائیں گے یعنی دونوں کو بے نور کر کے لپیٹ لیا جائے گا۔ جیسے فرمایا «إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ» ۱؎ [81-التكوير:2،1] ‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَجُمِعَ بَيْنَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ» ہے۔ انسان جب یہ پریشانی، شدت ہول، گھبراہٹ اور انتظام عالم کی یہ خطرناک حالت دیکھے گا تو بھاگا جائے گا اور کہے گا کہ جائے پناہ یعنی بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ملے گا کہ کوئی پناہ نہیں رب کے سامنے اور اس کے پاس ٹھہرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں، جیسے اور جگہ ہے «مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» ۱؎ [42-الشورى:47] ‏‏‏‏ یعنی ’ آج نہ تو کوئی جائے پناہ ہے، نہ ایسی جگہ کہ وہاں جا کر تم انجان اور بے پہچان بن جاؤ، آج ہر شخص کو اس کے اگلے پچھلے نئے پرانے چھوٹے بڑے اعمال سے مطلع کیا جائے گا ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا» ۱؎ [18-الكهف:49] ‏‏‏‏ ’ جو کیا تھا، موجود پا لیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا ‘۔ انسان اپنے آپ کو بخوبی جانتا ہے اپنے اعمال کا خود آئینہ ہے گو انکار کرے اور عذر معذرت پیش کرتا پھرے۔ جیسے فرمان ہے «اِقْرَاْ كِتٰبَكَ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا» ۱؎ [17-الإسراء:14] ‏‏‏‏ ’ اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے اور اپنے تئیں آپ ہی جانچ لے، اس کے کان آنکھ، پاؤں اور دیگر اعضاء ہی اس پر شہادت دینے کافی ہیں، لیکن افسوس کہ یہ دوسروں کے عیبوں اور نقصانوں کو دیکھتا ہے اور اپنے کیڑے چننے سے غافل ہے ‘۔ کہا جاتا ہے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے اے ابن آدم تو دوسروں کی آنکھوں کا تو تنکا دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر بھی تجھے دکھائی نہیں دیتا؟ قیامت کے دن چاہے انسان فضول بہانے بنائے گا اور جھوٹی دلیلیں دے گا، بے کار عذر پیش کرے گا مگر ایک بھی قبول نہ کیا جائے گا۔ اس آیت کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ وہ پردے ڈالے۔

اہل یمن پردے کو «الْمِعْذَارَ» کہتے ہیں، لیکن صحیح معنی اوپر والے ہیں جیسے اور جگہ ہے کہ «ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:23] ‏‏‏‏ ’ کوئی معقول عذر نہ پا کر اپنے شرک کا سرے سے انکار ہی کر دیں گے کہ اللہ کی قسم ہم مشرک تھے ہی نہیں ‘۔ اور جگہ ہے کہ «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ» ۱؎ [58-المجادلہ:18] ‏‏‏‏ ’ قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کھا کر سچا ہونا چاہیں گے جیسے دنیا میں تمہارے سامنے ان کی حالت ہے لیکن اللہ پر تو ان کا جھوٹ ظاہر ہے چاہے کتنا ہی وہ اپنی تئیں کچھ بھی سمجھتے رہیں ‘، غرض عذر معذرت انہیں قیامت کے دن کچھ کار آمد نہ ہو گا۔ جیسے اور جگہ فرماتا ہے «يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْءُ الدَّارِ» ۱؎ [40-غافر:52] ‏‏‏‏ ’ ظالموں کو ان کی معذرت کچھ کام نہ آئے گی یہ تو اپنے شکر کے ساتھ اپنی تمام بداعمالیوں کا بھی انکار کردیں گے لیکن بے سود ہوگا ‘۔
12۔ 1 جہاں وہ بندوں کے درمیان فیصلے فرمائے گا۔ یہ ممکن نہیں ہوگا کہ کوئی اللہ کی اس عدالت سے چھپ جائے
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
یُنَبَّؤُا الۡاِنۡسَانُ یَوۡمَئِذٍۭ بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَ ﴿ؕ۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس روز انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا کرایا بتا دیا جائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
آج انسان کو اس کے آگے بھیجے ہوئے اور پیچھے چھوڑے ہوئے سے آگاه کیا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
اس دن آدمی کو اس کا سب اگلا پچھلا جتادیا جائے گا
علامہ محمد حسین نجفی
اس دن انسان کو بتایا جائے گا کہ اس نے کیا (عمل) آگے بھیجا اور کیا پیچھے چھوڑا؟
عبدالسلام بن محمد
اس دن انسان کو بتایا جائے گا جو اس نے آگے بھیجا اور جو پیچھے چھوڑا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ جب آنکھیں پتھرا جائیں گی ‘، جیسے اور جگہ ہے «لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاءٌ» ۱؎ [14-إبراھیم:43] ‏‏‏‏، یعنی ’ پلکیں جھپکیں گی نہیں بلکہ رعب و دہشت خوف و وحشت کے مارے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھتے رہیں گے ‘۔ «بَرِقَ» کی دوسری قرأت «بَرَقَ» بھی ہے، معنی قریب قریب ہیں اور چاند کی روشنی بالکل جاتی رہے گی اور سورج چاند جمع کر دیئے جائیں گے یعنی دونوں کو بے نور کر کے لپیٹ لیا جائے گا۔ جیسے فرمایا «إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ» ۱؎ [81-التكوير:2،1] ‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَجُمِعَ بَيْنَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ» ہے۔ انسان جب یہ پریشانی، شدت ہول، گھبراہٹ اور انتظام عالم کی یہ خطرناک حالت دیکھے گا تو بھاگا جائے گا اور کہے گا کہ جائے پناہ یعنی بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ملے گا کہ کوئی پناہ نہیں رب کے سامنے اور اس کے پاس ٹھہرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں، جیسے اور جگہ ہے «مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» ۱؎ [42-الشورى:47] ‏‏‏‏ یعنی ’ آج نہ تو کوئی جائے پناہ ہے، نہ ایسی جگہ کہ وہاں جا کر تم انجان اور بے پہچان بن جاؤ، آج ہر شخص کو اس کے اگلے پچھلے نئے پرانے چھوٹے بڑے اعمال سے مطلع کیا جائے گا ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا» ۱؎ [18-الكهف:49] ‏‏‏‏ ’ جو کیا تھا، موجود پا لیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا ‘۔ انسان اپنے آپ کو بخوبی جانتا ہے اپنے اعمال کا خود آئینہ ہے گو انکار کرے اور عذر معذرت پیش کرتا پھرے۔ جیسے فرمان ہے «اِقْرَاْ كِتٰبَكَ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا» ۱؎ [17-الإسراء:14] ‏‏‏‏ ’ اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے اور اپنے تئیں آپ ہی جانچ لے، اس کے کان آنکھ، پاؤں اور دیگر اعضاء ہی اس پر شہادت دینے کافی ہیں، لیکن افسوس کہ یہ دوسروں کے عیبوں اور نقصانوں کو دیکھتا ہے اور اپنے کیڑے چننے سے غافل ہے ‘۔ کہا جاتا ہے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے اے ابن آدم تو دوسروں کی آنکھوں کا تو تنکا دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر بھی تجھے دکھائی نہیں دیتا؟ قیامت کے دن چاہے انسان فضول بہانے بنائے گا اور جھوٹی دلیلیں دے گا، بے کار عذر پیش کرے گا مگر ایک بھی قبول نہ کیا جائے گا۔ اس آیت کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ وہ پردے ڈالے۔

اہل یمن پردے کو «الْمِعْذَارَ» کہتے ہیں، لیکن صحیح معنی اوپر والے ہیں جیسے اور جگہ ہے کہ «ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:23] ‏‏‏‏ ’ کوئی معقول عذر نہ پا کر اپنے شرک کا سرے سے انکار ہی کر دیں گے کہ اللہ کی قسم ہم مشرک تھے ہی نہیں ‘۔ اور جگہ ہے کہ «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ» ۱؎ [58-المجادلہ:18] ‏‏‏‏ ’ قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کھا کر سچا ہونا چاہیں گے جیسے دنیا میں تمہارے سامنے ان کی حالت ہے لیکن اللہ پر تو ان کا جھوٹ ظاہر ہے چاہے کتنا ہی وہ اپنی تئیں کچھ بھی سمجھتے رہیں ‘، غرض عذر معذرت انہیں قیامت کے دن کچھ کار آمد نہ ہو گا۔ جیسے اور جگہ فرماتا ہے «يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْءُ الدَّارِ» ۱؎ [40-غافر:52] ‏‏‏‏ ’ ظالموں کو ان کی معذرت کچھ کام نہ آئے گی یہ تو اپنے شکر کے ساتھ اپنی تمام بداعمالیوں کا بھی انکار کردیں گے لیکن بے سود ہوگا ‘۔
3 1۔ 1 یعنی اس کے تمام اعمال سے آگاہ کیا جائے گا قدیم ہو یا جدید، اول ہو یا آخر چھوٹا ہو یا بڑا
(آیت 13){ يُنَبَّؤُا الْاِنْسَانُ يَوْمَىِٕذٍۭ …:} ”جو آگے بھیجا “ سے مراد وہ اعمال ہیں جو اس نے موت سے پہلے کیے اور ” جو پیچھے چھوڑا “ سے مراد وہ اچھے یا برے اعمال ہیں جو اس کے مرنے کے بعد بھی جاری رہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِذَا مَاتَ الإِْنْسَانُ انْقَطَعَ عَنْهُ عَمَلُهُ إِلَّا مِنْ ثَلَاثَةٍ إِلَّا مِنْ صَدَقَةٍ جَارِيَةٍ أَوْ عِلْمٍ يُنْتَفَعُ بِهِ أَوْ وَلَدٍ صَالِحٍ يَدْعُوْ لَهُ ] [ مسلم، الوصیۃ، باب ما یلحق الإنسان من الثواب بعد وفاتہ: ۱۶۳۱، عن أبي ہریرۃ رضی اللہ عنہ ] ”جب انسان فوت ہوتا ہے تو اس کا عمل منقطع ہو جاتا ہے مگر تین عمل جاری رہتے ہیں، صدقہ جاریہ، وہ علم جس سے فائدہ اٹھایا جائے اور صالح اولاد جو اس کے لیے دعا کرے۔“ اور فرمایا: [ مَنْ سَنَّ فِي الإِْسْلَامِ سُنَّةً حَسَنَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كُتِبَ لَهُ مِثْلُ أَجْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أُجُوْرِهِمْ شَيْءٌ وَمَنْ سَنَّ فِي الإِْسْلَامِ سُنَّةً سَيِّئَةً فَعُمِلَ بِهَا بَعْدَهُ كُتِبَ عَلَيْهِ مِثْلُ وِزْرِ مَنْ عَمِلَ بِهَا وَلَا يَنْقُصُ مِنْ أَوْزَارِهِمْ شَيْءٌ] [ مسلم، العلم، باب من سن سنۃ حسنۃ أو سیئۃ…: ۱۰۱۷، بعد الحدیث: ۲۶۷۳ ] ”جو شخص اسلام میں کوئی اچھا طریقہ جاری کرے پھر اس کے بعد اس طریقے پر عمل کیا جائے، تو اس کے لیے ان لوگوں کی مثل اجر لکھا جائے گا جو اس پر عمل کریں گے اور ان کے ثواب سے بھی کچھ کم نہیں ہو گا اور جو شخص اسلام میں کوئی برا طریقہ جاری کرے، پھر اس کے بعد اس پر عمل کیا جائے، تو اس پر ان لوگوں کے گناہ کی مثل لکھا جائے گا جو اس پر عمل کریں گے اور ان کے گناہ میں سے بھی کچھ کم نہیں ہوگا۔“ {” بِمَا قَدَّمَ وَ اَخَّرَ “} کا دوسرا معنی یہ ہے کہ اسے وہ سب کچھ بتا دیا جائے گا جو اس نے کیا اور جو کرنا تھا مگر نہیں کیا۔ تیسرا معنی یہ ہے کہ جو کچھ اس نے پہلے وقت میں کیا اور جو بعد میں کیا سب تاریخ اور وقت کے ساتھ اسے بتایا جائے گا۔
بَلِ الۡاِنۡسَانُ عَلٰی نَفۡسِہٖ بَصِیۡرَۃٌ ﴿ۙ۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ انسان خود اپنے اوپر آپ حجت ہے
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ آدمی خود ہی اپنے حال پر پوری نگاہ رکھتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بلکہ خود انسان اپنے حال کو خوب جانتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ انسان اپنے آپ کو خوب دیکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ جب آنکھیں پتھرا جائیں گی ‘، جیسے اور جگہ ہے «لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاءٌ» ۱؎ [14-إبراھیم:43] ‏‏‏‏، یعنی ’ پلکیں جھپکیں گی نہیں بلکہ رعب و دہشت خوف و وحشت کے مارے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھتے رہیں گے ‘۔ «بَرِقَ» کی دوسری قرأت «بَرَقَ» بھی ہے، معنی قریب قریب ہیں اور چاند کی روشنی بالکل جاتی رہے گی اور سورج چاند جمع کر دیئے جائیں گے یعنی دونوں کو بے نور کر کے لپیٹ لیا جائے گا۔ جیسے فرمایا «إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ» ۱؎ [81-التكوير:2،1] ‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَجُمِعَ بَيْنَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ» ہے۔ انسان جب یہ پریشانی، شدت ہول، گھبراہٹ اور انتظام عالم کی یہ خطرناک حالت دیکھے گا تو بھاگا جائے گا اور کہے گا کہ جائے پناہ یعنی بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ملے گا کہ کوئی پناہ نہیں رب کے سامنے اور اس کے پاس ٹھہرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں، جیسے اور جگہ ہے «مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» ۱؎ [42-الشورى:47] ‏‏‏‏ یعنی ’ آج نہ تو کوئی جائے پناہ ہے، نہ ایسی جگہ کہ وہاں جا کر تم انجان اور بے پہچان بن جاؤ، آج ہر شخص کو اس کے اگلے پچھلے نئے پرانے چھوٹے بڑے اعمال سے مطلع کیا جائے گا ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا» ۱؎ [18-الكهف:49] ‏‏‏‏ ’ جو کیا تھا، موجود پا لیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا ‘۔ انسان اپنے آپ کو بخوبی جانتا ہے اپنے اعمال کا خود آئینہ ہے گو انکار کرے اور عذر معذرت پیش کرتا پھرے۔ جیسے فرمان ہے «اِقْرَاْ كِتٰبَكَ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا» ۱؎ [17-الإسراء:14] ‏‏‏‏ ’ اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے اور اپنے تئیں آپ ہی جانچ لے، اس کے کان آنکھ، پاؤں اور دیگر اعضاء ہی اس پر شہادت دینے کافی ہیں، لیکن افسوس کہ یہ دوسروں کے عیبوں اور نقصانوں کو دیکھتا ہے اور اپنے کیڑے چننے سے غافل ہے ‘۔ کہا جاتا ہے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے اے ابن آدم تو دوسروں کی آنکھوں کا تو تنکا دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر بھی تجھے دکھائی نہیں دیتا؟ قیامت کے دن چاہے انسان فضول بہانے بنائے گا اور جھوٹی دلیلیں دے گا، بے کار عذر پیش کرے گا مگر ایک بھی قبول نہ کیا جائے گا۔ اس آیت کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ وہ پردے ڈالے۔

اہل یمن پردے کو «الْمِعْذَارَ» کہتے ہیں، لیکن صحیح معنی اوپر والے ہیں جیسے اور جگہ ہے کہ «ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:23] ‏‏‏‏ ’ کوئی معقول عذر نہ پا کر اپنے شرک کا سرے سے انکار ہی کر دیں گے کہ اللہ کی قسم ہم مشرک تھے ہی نہیں ‘۔ اور جگہ ہے کہ «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ» ۱؎ [58-المجادلہ:18] ‏‏‏‏ ’ قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کھا کر سچا ہونا چاہیں گے جیسے دنیا میں تمہارے سامنے ان کی حالت ہے لیکن اللہ پر تو ان کا جھوٹ ظاہر ہے چاہے کتنا ہی وہ اپنی تئیں کچھ بھی سمجھتے رہیں ‘، غرض عذر معذرت انہیں قیامت کے دن کچھ کار آمد نہ ہو گا۔ جیسے اور جگہ فرماتا ہے «يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْءُ الدَّارِ» ۱؎ [40-غافر:52] ‏‏‏‏ ’ ظالموں کو ان کی معذرت کچھ کام نہ آئے گی یہ تو اپنے شکر کے ساتھ اپنی تمام بداعمالیوں کا بھی انکار کردیں گے لیکن بے سود ہوگا ‘۔
14۔ 1 یعنی اس کے اپنے ہاتھ، پاؤں، زبان اور دیگر اعضاء گواہی دیں گے، یا یہ مطلب ہے کہ انسان اپنے عیوب خود جانتا ہے۔
(آیت 15،14) {بَلِ الْاِنْسَانُ عَلٰى نَفْسِهٖ بَصِيْرَةٌ …: ” بَصِيْرَةٌ”بَصُرَ“} (ک) سے صفت کا صیغہ ہے۔ ”تاء“ مزید مبالغے کے لیے ہے، جیسے {”عَلَّامَةٌ“} میں ہے، یہ تائے تانیث نہیں ہے، خوب دیکھنے والا۔ {” مَعَاذِيْرَ“ ”مَعْذِرَةٌ“} کی جمع ہے، یعنی اس دن انسان کو پہلے اور پچھلے اعمال بتائے جانے کا مطلب یہ نہیں کہ اسے معلوم نہیں کہ وہ کیا کرتا رہا ہے، بلکہ حقیقت یہ ہے کہ انسان کو اپنے متعلق خوب معلوم ہے کہ وہ اچھا کام کر رہا ہے یا برا۔ پھر دوسروں کے سامنے اپنے کفر و شرک، خالق کی نافرمانی، اس کی مخلوق پر ظلم و ستم اور اپنی خواہش پرستی کے جواز کے لیے مجبوری یا مصلحت کے لاکھ بہانے گھڑے، مگر خود اسے اچھی طرح معلوم ہے کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے اور بہانہ بازی کر رہا ہے۔ اس کے نفس کی ملامت بھی اس بات کی دلیل ہے کہ وہ اپنے کرتوتوں سے آگاہ ہے۔ نامۂ اعمال پیش کیے جانے کا مطلب تو اس پر حجت تمام کرنا ہے اور یہ حجت صرف نامۂ اعمال کے ذریعے سے نہیں بلکہ اس کے ہر ہر عضو کو بلوا کر اور زمین کے ہر اس حصے کو بلوا کر جس پر اس نے نافرمانی کی تھی، پوری کی جائے گی۔
وَّ لَوۡ اَلۡقٰی مَعَاذِیۡرَہٗ ﴿ؕ۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے
مولانا محمد جوناگڑھی
اگر چہ کتنے ہی بہانے پیش کرے
احمد رضا خان بریلوی
اور اگر اس کے پاس جتنے بہانے ہوں سب لا ڈالے،
علامہ محمد حسین نجفی
اگرچہ کتنے ہی بہانے پیش کرے۔
عبدالسلام بن محمد
اگرچہ وہ اپنے بہانے پیش کرے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
یہاں بھی فرماتا ہے کہ ’ جب آنکھیں پتھرا جائیں گی ‘، جیسے اور جگہ ہے «لَا يَرْتَدُّ اِلَيْهِمْ طَرْفُهُمْ وَاَفْــِٕدَتُهُمْ هَوَاءٌ» ۱؎ [14-إبراھیم:43] ‏‏‏‏، یعنی ’ پلکیں جھپکیں گی نہیں بلکہ رعب و دہشت خوف و وحشت کے مارے آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر ادھر ادھر دیکھتے رہیں گے ‘۔ «بَرِقَ» کی دوسری قرأت «بَرَقَ» بھی ہے، معنی قریب قریب ہیں اور چاند کی روشنی بالکل جاتی رہے گی اور سورج چاند جمع کر دیئے جائیں گے یعنی دونوں کو بے نور کر کے لپیٹ لیا جائے گا۔ جیسے فرمایا «إِذَا الشَّمْسُ كُوِّرَتْ وَإِذَا النُّجُومُ انكَدَرَتْ» ۱؎ [81-التكوير:2،1] ‏‏‏‏ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کی قرأت میں «وَجُمِعَ بَيْنَ الشَّمْسِ وَالْقَمَرِ» ہے۔ انسان جب یہ پریشانی، شدت ہول، گھبراہٹ اور انتظام عالم کی یہ خطرناک حالت دیکھے گا تو بھاگا جائے گا اور کہے گا کہ جائے پناہ یعنی بھاگنے کی جگہ کہاں ہے؟ اللہ تعالیٰ کی طرف سے جو ملے گا کہ کوئی پناہ نہیں رب کے سامنے اور اس کے پاس ٹھہرنے کے سوا کوئی چارہ کار نہیں، جیسے اور جگہ ہے «مَا لَكُمْ مِّنْ مَّلْجَاٍ يَّوْمَىِٕذٍ وَّمَا لَكُمْ مِّنْ نَّكِيْرٍ» ۱؎ [42-الشورى:47] ‏‏‏‏ یعنی ’ آج نہ تو کوئی جائے پناہ ہے، نہ ایسی جگہ کہ وہاں جا کر تم انجان اور بے پہچان بن جاؤ، آج ہر شخص کو اس کے اگلے پچھلے نئے پرانے چھوٹے بڑے اعمال سے مطلع کیا جائے گا ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَوَجَدُوْا مَا عَمِلُوْا حَاضِرًا» ۱؎ [18-الكهف:49] ‏‏‏‏ ’ جو کیا تھا، موجود پا لیں گے اور تیرا رب کسی پر ظلم نہ کرے گا ‘۔ انسان اپنے آپ کو بخوبی جانتا ہے اپنے اعمال کا خود آئینہ ہے گو انکار کرے اور عذر معذرت پیش کرتا پھرے۔ جیسے فرمان ہے «اِقْرَاْ كِتٰبَكَ كَفٰى بِنَفْسِكَ الْيَوْمَ عَلَيْكَ حَسِيْبًا» ۱؎ [17-الإسراء:14] ‏‏‏‏ ’ اپنا نامہ اعمال خود پڑھ لے اور اپنے تئیں آپ ہی جانچ لے، اس کے کان آنکھ، پاؤں اور دیگر اعضاء ہی اس پر شہادت دینے کافی ہیں، لیکن افسوس کہ یہ دوسروں کے عیبوں اور نقصانوں کو دیکھتا ہے اور اپنے کیڑے چننے سے غافل ہے ‘۔ کہا جاتا ہے کہ توراۃ میں لکھا ہوا ہے اے ابن آدم تو دوسروں کی آنکھوں کا تو تنکا دیکھتا ہے اور اپنی آنکھ کا شہتیر بھی تجھے دکھائی نہیں دیتا؟ قیامت کے دن چاہے انسان فضول بہانے بنائے گا اور جھوٹی دلیلیں دے گا، بے کار عذر پیش کرے گا مگر ایک بھی قبول نہ کیا جائے گا۔ اس آیت کے معنی یہ بھی کئے گئے ہیں کہ وہ پردے ڈالے۔

اہل یمن پردے کو «الْمِعْذَارَ» کہتے ہیں، لیکن صحیح معنی اوپر والے ہیں جیسے اور جگہ ہے کہ «ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:23] ‏‏‏‏ ’ کوئی معقول عذر نہ پا کر اپنے شرک کا سرے سے انکار ہی کر دیں گے کہ اللہ کی قسم ہم مشرک تھے ہی نہیں ‘۔ اور جگہ ہے کہ «يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللَّـهُ جَمِيعًا فَيَحْلِفُونَ لَهُ كَمَا يَحْلِفُونَ لَكُمْ وَيَحْسَبُونَ أَنَّهُمْ عَلَىٰ شَيْءٍ أَلَا إِنَّهُمْ هُمُ الْكَاذِبُونَ» ۱؎ [58-المجادلہ:18] ‏‏‏‏ ’ قیامت کے دن اللہ کے سامنے بھی قسمیں کھا کھا کر سچا ہونا چاہیں گے جیسے دنیا میں تمہارے سامنے ان کی حالت ہے لیکن اللہ پر تو ان کا جھوٹ ظاہر ہے چاہے کتنا ہی وہ اپنی تئیں کچھ بھی سمجھتے رہیں ‘، غرض عذر معذرت انہیں قیامت کے دن کچھ کار آمد نہ ہو گا۔ جیسے اور جگہ فرماتا ہے «يَوْمَ لَا يَنْفَعُ الظّٰلِمِيْنَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوْءُ الدَّارِ» ۱؎ [40-غافر:52] ‏‏‏‏ ’ ظالموں کو ان کی معذرت کچھ کام نہ آئے گی یہ تو اپنے شکر کے ساتھ اپنی تمام بداعمالیوں کا بھی انکار کردیں گے لیکن بے سود ہوگا ‘۔
15۔ 1 یعنی لڑے جھگڑے، ایک سے ایک بہانہ کرے، لیکن ایسا کرنا نہ اس کے لئے مفید ہے اور نہ وہ اپنے ضمیر کو مطمئن کرسکتا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
لَا تُحَرِّکۡ بِہٖ لِسَانَکَ لِتَعۡجَلَ بِہٖ ﴿ؕ۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے نبیؐ، اِس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دو
مولانا محمد جوناگڑھی
(اے نبی) آپ قرآن کو جلدی (یاد کرنے) کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دیں
احمد رضا خان بریلوی
جب بھی نہ سنا جائے گا تم یاد کرنے کی جلدی میں قرآن کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دو
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول (ص)) آپ(ص) اپنی زبان کو اس (قرآن) کے ساتھ حرکت نہ دیجئے تاکہ اسے جلدی جلدی (حفظ) کر لیں۔
عبدالسلام بن محمد
تو اس کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دے، تاکہ اسے جلدی حاصل کرلے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حفظ قرآن، تلاوت و تفسیر کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ٭٭

یہاں اللہ عزوجل اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دیتا ہے کہ فرشتے سے وحی کس طرح حاصل کریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اخذ کرنے میں بہت جلدی کرتے تھے اور قرأت میں فرشتے کے بالکل ساتھ ساتھ رہتے تھے، پس اللہ عزوجل حکم فرماتا ہے کہ ’ جب فرشتہ وحی لے کر آئے آپ سنتے رہیں، پھر جس ڈر سے آپ ایسا کرتے تھے اسی طرح اس کا واضح کرانا اور تفسیر اور بیان آپ سے کرانے کے ذمہ داری بھی ہم ہی پر ہے ‘۔ پس پہلی حالت یاد کرانا، دوسری تلاوت کرانا، تیسری تفسیر، مضمون اور توضیح مطلب کرانا تینوں کی کفالت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی، جیسے اور جگہ ہے «لَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّقْضٰٓى اِلَيْكَ وَحْيُهٗ ۡ وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا» ۱؎ [20-طه:114] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب تک تیرے پاس وحی پوری نہ آئے تو پڑھنے میں جلدی نہ کیا کر ہم سے دعا مانگ کہ میرے رب میرے علم کو زیادہ کرتا رہے ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ اسے تیرے سینے میں جمع کرنا اور اسے تجھ سے پڑھوانا ہمارا ذمہ ہے جب ہم اسے پڑھیں (‏‏‏‏یعنی ہمارا نازل کردہ فرشتہ جب اسے تلاوت کرے تو) تو سن لے جب وہ پڑھ چکے تب تو پڑھ ہماری مہربانی سے تجھے پورا یاد ہو گا اتنا ہی نہیں بلکہ حفظ کرانے تلاوت کرانے کے بعد ہم تجھے اس کی معنی مطالب تعین و توضیح کے ساتھ سمجھا دیں گے تاکہ ہماری اصلی مراد اور صاف شریعت سے تو پوری طرح آگاہ ہو جائے ‘۔

مسند میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پہلے وحی کو دل میں اتارنے کی سخت تکلیف ہوتی تھی اس ڈر کے مارے کہ کہیں میں بھول نہ جاؤں فرشتے کے ساتھ ساتھ پڑھتے جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہونٹ ہلتے جاتے تھے چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما راوی حدیث نے اپنے ہونٹ ہلا کر دکھایا کہ اس طرح اور ان کے شاگرد سعید رحمہ اللہ نے بھی اپنے استاد کی طرح ہلا کر اپنے شاگرد کو دکھائے اس پر یہ آیت اتری کہ ’ اتنی جلدی نہ کرو اور ہونٹ نہ ہلاؤ اسے آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کی زبان سے اس کی تلاوت کرانا ہمارے سپرد ہے جب ہم اسے پڑھیں تو آپ سنئے اور چپ رہئے جبرائیل کے چلے جانے کے بعد انہی کی طرح ان کا پڑھایا ہوا پڑھنا بھی ہمارے سپرد ہے ‘ }۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے، ۱؎ [صحیح بخاری:50] ‏‏‏‏
16۔ 1 حضرت جبرائیل ؑ جب وحی لے کر آتے نبی صلی اللہ علیہ وسلم بھی ان کے ساتھ جلدی سے پڑھتے جاتے کہ کہیں کوئی لفظ بھول نہ جائے۔ اللہ نے اپنے فرشتے کے ساتھ ساتھ اس طرح پڑھنے سے منع فرمایا۔ صحیح بخاری
(آیت 16تا19) ➊ {لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ …:} ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم قرآن مجید اترتے وقت بہت تکلیف محسوس کرتے تھے۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ آپ ساتھ ساتھ ہونٹ ہلاتے جاتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیت اتاری: «‏‏‏‏لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ لِتَعْجَلَ بِهٖ (16) اِنَّ عَلَيْنَا جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗ» ‏‏‏‏ ”تو اس کے ساتھ اپنی زبان کو حرکت نہ دے کہ اسے جلدی حاصل کرے، بلاشبہ اس کو جمع کرنا اور (آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا) اس کو پڑھنا ہمارے ذمے ہے۔“ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا، اس کا مطلب یہ ہے کہ اسے آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کا اسے پڑھنا ہمارے ذمے ہے۔ {” فَاِذَا قَرَاْنٰهُ فَاتَّبِعْ قُرْاٰنَهٗ “} تو جب ہم اسے پڑھیں تو کان لگا کر سنو اور خاموش رہو۔ {” ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ “} پھر یہ ہمارے ذمے ہے کہ آپ اسے پڑھیں گے۔ اس کے بعد جب جبریل علیہ السلام آپ کے پاس آتے تو آپ کان لگاکر سنتے رہتے، جب وہ چلے جاتے تو نبی صلی اللہ علیہ وسلم اسی طرح پڑھ لیتے جیسے جبریل علیہ السلام نے پڑھا تھا۔ [ بخاری، بدء الوحي، باب کیف کان بدء الوحي: ۵ ] {” جَمْعَهٗ وَ قُرْاٰنَهٗ “} سے اوّلین مراد یہی ہے جو ابن عباس رضی اللہ عنھما نے بیان فرمائی، مگر لفظ عام ہونے کی وجہ سے قرآن جمع کرنے اور اسے پڑھنے کی تمام صورتیں اس میں شامل ہیں اور اس کے جمع و نشر کا ذمہ اللہ تعالیٰ نے خود لیا ہے۔ چنانچہ خلفاء کا قرآن مجید کو جمع کرنا، لکھوانا اور حفاظ کا حفظ کرنا، ریڈیو، ٹیلی وژن، پریس اور کمپیوٹر کے ذریعے سے قرآن کا جمع اور نشر ہونا بھی اس میں شامل ہے۔ ➋ {” ثُمَّ اِنَّ عَلَيْنَا بَيَانَهٗ “} سے معلوم ہوا کہ قرآن مجید کی وضاحت کا ذمہ بھی اللہ تعالیٰ نے خود اٹھایا ہے اور یہ وضاحت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے فرمائی ہے، جو حدیث و سنت کی صورت میں ہمارے پاس محفوظ ہے۔ مثلاً قرآن میں اللہ تعالیٰ نے نماز قائم کرنے کا حکم دیا تو اس کی تشریح رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے عمل اور فرمان کے ساتھ کر دی کہ نمازوں کے اوقات کیا ہیں اور نمازیں کتنی ہیں۔ ان کی رکعات، قیام، رکوع، سجود وغیرہ کی ترتیب اور ان میں پڑھے جانے والے اذکار، غرض یہ سب کچھ قرآن کا بیان ہے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعے سے کیا گیا۔ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ اَنْزَلْنَاۤ اِلَيْكَ الذِّكْرَ لِتُبَيِّنَ لِلنَّاسِ مَا نُزِّلَ اِلَيْهِمْ وَ لَعَلَّهُمْ يَتَفَكَّرُوْنَ» ‏‏‏‏ [ النحل: ۴۴ ] ”اور (اے رسول!) ہم نے تیری طرف یہ ذکر نازل کیاہے، تاکہ تو لوگوں کے لیے اس (ذکر) کی وضاحت اور تشریح کر دے جو ان کی طرف نازل کیا گیا اور تاکہ وہ غور و فکر کریں۔“ معلوم ہوا کہ حدیث قرآن ہی کا بیان ہے، اس لیے اس پر عمل کرنا بھی اسی طرح واجب ہے جس طرح قرآن پر عمل کرنا واجب ہے۔ ➌ {” فَاِذَا قَرَاْنٰهُ “} (جب ہم اسے پڑھیں) سے مراد یہ ہے کہ جب جبریل علیہ السلام پڑھ رہے ہوں، کیونکہ ان کا پڑھنا اللہ تعالیٰ کے حکم سے ہے، اس لیے اس کی نسبت اللہ تعالیٰ نے خود اپنی طرف فرمائی۔ ➍ سورت کے شروع میں منکرین حشر اور منکرین قیامت کا ذکر ہے، سورت کے آخر میں بھی یہی ذکر ہے، درمیان میں یہ آیات ہیں جن کا بظاہر ماقبل اور ما بعد سے کوئی ربط نہیں۔ اس لیے بعض شیعہ مفسرین نے یہاں تک لکھ دیا کہ اس سورت میں کچھ آیات رہ گئی ہیں، مگر یہ بات غلط ہے، کیونکہ اس کا رد خود ان آیات میں موجود ہے کہ قرآن کا جمع کرنا اللہ کے ذمے ہے، پھر اس میں سے آیات کس طرح رہ سکتی ہیں؟ اور یہ بات بھی صحیح سندوں سے ثابت ہے کہ قرآن مجید کی آیات کی یہ ترتیب خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بتائی ہوئی ہے، جیسا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے فرمایا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایک وقت میں کئی سورتیں نازل ہو رہی ہوتی تھیں، جب کوئی چیز نازل ہوتی تو آپ کسی وحی لکھنے والے کو بلا کر فرماتے کہ یہ آیات اس سورت میں لکھو جس میں فلاں فلاں بات کا ذکر ہے اور جب آپ پر کوئی آیت اترتی تو فرماتے اسے اس سورت میں لکھ دو جس میں فلاں فلاں بات کا ذکر ہے۔ [ترمذي، التفسیر، باب سورۃ التوبۃ: ۳۰۸۶] ابو داؤد، نسائی، مسنداحمد، مستدرک حاکم اور صحیح ابن حبان میں بھی یہ حدیث موجود ہے۔ اگرچہ بعض مفسرین نے ان آیات کا ربط ما قبل اور ما بعد کے ساتھ بنانے کی کوشش کی ہے مگر ابن عباس رضی اللہ عنھما کی تفسیر کے بعد جو بہترین سندوں کے ساتھ امام بخاری رحمہ اللہ نے نقل فرمائی ہے، خود ساختہ ربط کی تکلیف اٹھانا سراسر تکلف ہے۔ صحیح بات یہی ہے کہ اس سورت کے نازل ہونے کے وقت اور سورۂ طٰہٰ کی آیت (۱۱۴): «‏‏‏‏وَ لَا تَعْجَلْ بِالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّقْضٰۤى اِلَيْكَ وَحْيُهٗ» ‏‏‏‏ نازل ہونے کے وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو جبریل علیہ السلام کے ساتھ پڑھنے کا موقع پیش آیا اور اس وقت ممانعت کا یہ حکم نازل ہوا اور اس مقام پر قرآن میں لکھ دیا گیا۔ اس کی مثال ایسے ہی سمجھیں جیسے کوئی استاذ شاگرد کو کوئی چیز پڑھا رہا ہو اور درمیان میں اس کی کسی حرکت کی اصلاح کے لیے کہے” ایسا مت کرو“ اور پہلا سلسلہ کلام جاری کر دے تو ٹیپ ریکارڈر میں یہ بات بھی ریکارڈ ہو جائے گی اور لفظ بلفظ تحریر میں بھی اسی طرح نقل ہو گی۔ درمیان میں آنے والی اس بات کا معنوی ربط و تعلق ما قبل و ما بعد سے جوڑنا تکلف ہو گا، مگر اس بات کو بے محل نہیں کہہ سکتے، یقینا اس موقع پر یہی بات ضروری تھی اور یہ بھی ربط کی ایک صورت ہے کہ موقع و محل کے تقاضے سے یہ الفاظ درمیان میں آگئے۔
اِنَّ عَلَیۡنَا جَمۡعَہٗ وَ قُرۡاٰنَہٗ ﴿ۚۖ۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اِس کو یاد کرا دینا اور پڑھوا دینا ہمارے ذمہ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس کا جمع کرنا اور (آپ کی زبان سے) پڑھنا ہمارے ذمہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اس کا محفوظ کرنا اور پڑھنا ہمارے ذمہ ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بیشک اس کا جمع کرنا اور اس کا پڑھانا ہماے ذمہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ اس کوجمع کرنا اور (آپ کا ) اس کو پڑھنا ہمارے ذمے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
حفظ قرآن، تلاوت و تفسیر کا ذمہ دار اللہ تعالیٰ ٭٭

یہاں اللہ عزوجل اپنے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دیتا ہے کہ فرشتے سے وحی کس طرح حاصل کریں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس کو اخذ کرنے میں بہت جلدی کرتے تھے اور قرأت میں فرشتے کے بالکل ساتھ ساتھ رہتے تھے، پس اللہ عزوجل حکم فرماتا ہے کہ ’ جب فرشتہ وحی لے کر آئے آپ سنتے رہیں، پھر جس ڈر سے آپ ایسا کرتے تھے اسی طرح اس کا واضح کرانا اور تفسیر اور بیان آپ سے کرانے کے ذمہ داری بھی ہم ہی پر ہے ‘۔ پس پہلی حالت یاد کرانا، دوسری تلاوت کرانا، تیسری تفسیر، مضمون اور توضیح مطلب کرانا تینوں کی کفالت اللہ تعالیٰ نے اپنے ذمہ لی، جیسے اور جگہ ہے «لَا تَعْجَلْ بالْقُرْاٰنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يُّقْضٰٓى اِلَيْكَ وَحْيُهٗ ۡ وَقُلْ رَّبِّ زِدْنِيْ عِلْمًا» ۱؎ [20-طه:114] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب تک تیرے پاس وحی پوری نہ آئے تو پڑھنے میں جلدی نہ کیا کر ہم سے دعا مانگ کہ میرے رب میرے علم کو زیادہ کرتا رہے ‘۔ پھر فرماتا ہے ’ اسے تیرے سینے میں جمع کرنا اور اسے تجھ سے پڑھوانا ہمارا ذمہ ہے جب ہم اسے پڑھیں (‏‏‏‏یعنی ہمارا نازل کردہ فرشتہ جب اسے تلاوت کرے تو) تو سن لے جب وہ پڑھ چکے تب تو پڑھ ہماری مہربانی سے تجھے پورا یاد ہو گا اتنا ہی نہیں بلکہ حفظ کرانے تلاوت کرانے کے بعد ہم تجھے اس کی معنی مطالب تعین و توضیح کے ساتھ سمجھا دیں گے تاکہ ہماری اصلی مراد اور صاف شریعت سے تو پوری طرح آگاہ ہو جائے ‘۔

مسند میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس سے پہلے وحی کو دل میں اتارنے کی سخت تکلیف ہوتی تھی اس ڈر کے مارے کہ کہیں میں بھول نہ جاؤں فرشتے کے ساتھ ساتھ پڑھتے جاتے تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہونٹ ہلتے جاتے تھے چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما راوی حدیث نے اپنے ہونٹ ہلا کر دکھایا کہ اس طرح اور ان کے شاگرد سعید رحمہ اللہ نے بھی اپنے استاد کی طرح ہلا کر اپنے شاگرد کو دکھائے اس پر یہ آیت اتری کہ ’ اتنی جلدی نہ کرو اور ہونٹ نہ ہلاؤ اسے آپ کے سینے میں جمع کرنا اور آپ کی زبان سے اس کی تلاوت کرانا ہمارے سپرد ہے جب ہم اسے پڑھیں تو آپ سنئے اور چپ رہئے جبرائیل کے چلے جانے کے بعد انہی کی طرح ان کا پڑھایا ہوا پڑھنا بھی ہمارے سپرد ہے ‘ }۔ بخاری و مسلم میں بھی یہ روایت ہے، ۱؎ [صحیح بخاری:50] ‏‏‏‏
17۔ 1 یعنی آپ کے سینے میں اس کا جمع کردینا اور آپ کی زبان پر اس کی قرأت کو جاری کردینا ہماری ذمہ داری ہے۔ تاکہ اس کا کوئی حصہ آپ کی یادداشت سے نہ نکلے اور آپ کے ذہن سے محو نہ ہو۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَاِذَا قَرَاۡنٰہُ فَاتَّبِعۡ قُرۡاٰنَہٗ ﴿ۚ۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
لہٰذا جب ہم اِسے پڑھ رہے ہوں اُس وقت تم اِس کی قرات کو غور سے سنتے رہو
مولانا محمد جوناگڑھی
ہم جب اسے پڑھ لیں تو آپ اس کے پڑھنے کی پیروی کریں
احمد رضا خان بریلوی
تو جب ہم اسے پڑھ چکیں اس وقت اس پڑھے ہوئے کی اتباع کرو
علامہ محمد حسین نجفی
پس جب ہم اسے پڑھیں تو آپ(ص) بھی اسی کے مطابق پڑھیں۔
عبدالسلام بن محمد
تو جب ہم اسے پڑھیں تو تو اس کے پڑھنے کی پیروی کر۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ { پھر جب وحی اترتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نظریں نیچی کر لیتے اور جب وحی چلی جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4927] ‏‏‏‏۔ ابن ابی حاتم میں بھی بروایت ابن عباس یہ حدیث مروی ہے اور بہت سے مفسرین سلف صالحین نے یہی فرمایا ہے یہ بھی مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت تلاوت فرمایا کرتے تھے کہ ایسا نہ ہو میں بھول جاؤں اس پر یہ آیتیں اتریں }۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطیہ عوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا بیان ہم پر ہے یعنی حلال حرام کا واضح کرنا۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ ’ ان کافروں کو قیامت کے انکار، اللہ کی پاک کتاب کو نہ ماننے اور اللہ کے عظیم الشان رسول کی اطاعت نہ کرنے پر آمادہ کرنے والی چیز حب دنیا اور غفلت آخرت ہے، حالانکہ آخرت کا دن بڑی اہمیت والا دن ہے، اس دن بہت سے لوگ تو وہ ہوں گے جن کے چہرے ہشاش بشاش، تروتازہ، خوش و خرم ہوں گے اور اپنے رب کے دیدار سے مشرف ہو رہے ہوں گے ‘۔ جیسے کہ صحیح بخاری میں ہے کہ { عنقریب تم اپنے رب کو صاف صاف کھلم کھلا اپنے سامنے دیکھو گے } ۱؎ [صحیح بخاری:7434] ‏‏‏‏، بہت سی صحیح احادیث سے متواتر سندوں سے جو ائمہ حدیث نے اپنی کتابوں میں وارد کی ہیں ثابت ہو چکا ہے کہ ایمان والے اپنے رب کے دیدار سے قیامت کے دن مشرف ہوں گے ان احادیث کو نہ تو کوئی ہٹا سکے نہ ان کا کوئی انکار کر سکے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند کو جبکہ آسمان صاف بے ابر ہو دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت یا رکاوٹ ہوتی ہے؟“، انہوں نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح تم اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7437] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں ہے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چودہویں رات کے چاند کو دیکھ رہے ہو پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی نماز (‏‏‏‏یعنی صبح کی نماز) اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نماز (‏‏‏‏یعنی عصر کی نماز) میں کسی طرح کی سستی نہ کرو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:573] ‏‏‏‏ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے انہی دونوں متبرک کتابوں میں مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو جنتیں سونے کی ہیں وہاں کے برتن اور ہر چیز سونے کی ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں اور ان کے برتن اور ہر چیز چاندی ہی کی ہے سوائے کبریائی کی چادروں کے اور کوئی آڑ نہیں“ یہ جنت عدن کا ذکر ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4878] ‏‏‏‏

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائے گا ’ کچھ چاہتے ہو کہ بڑھا دوں؟ ‘ وہ کہیں گے الٰہی تو نے ہمارے چہرے سفید نورانی کر دیئے، ہمیں جنت میں پہنچا دیا جہنم سے بچا لیا اب ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟ اسی وقت حجاب ہٹا دیئے جائیں گے اور ان اہل جنت کی نگاہیں جمال باری سے منور ہوں گی اس میں انہیں جو سرور و لذت حاصل ہو گی وہ کسی چیز میں نہ حاصل ہو گی سب سے زیادہ محبوب انہیں دیدار باری ہو گا اسی کو اس آیت میں لفظ «الزِّيَادَةُ» سے تعبیر کیا گیا ہے } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:26] ‏‏‏‏ یعنی ’ احسان کرنے والوں کو جنت بھی ملے گی اور دیدار رب بھی ‘۔ ۱؎ [صحیح مسلم:181] ‏‏‏‏ صحیح مسلم کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ مومنوں پر قیامت کے میدان میں مسکراتا ہوا تجلی فرمائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:191] ‏‏‏‏ پس معلوم ہوا کہ ایماندار قیامت کے عرصات میں اور جنتوں میں دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے ہلکے درجہ کا جنتی اپنے ملک اور اپنی ملکیت کو دو ہزار سال دیکھتا رہے گا دور اور نزدیک کی چیزیں یکساں نگاہ میں ہوں گی ہر طرف اور ہر جگہ اسی کی بیویاں اور خادم نظر آئیں گے اور اعلیٰ درجہ کے جنتی ایک ایک دن میں دو دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کے بزرگ چہرے کو دیکھیں گے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی شریف میں بھی یہ حدیث ہے، یہ حدیث بروایت ابن عمر مرفوعًا بھی مروی ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ اگر اس قسم کی تمام حدیثیں اور روایتیں اور ان کی سندیں اور ان کے مختلف الفاظ یہاں جمع کریں گے تو مضمون بہت طویل ہو جائے گا بہت ہی صحیح اور حسن حدیثیں بہت سی مسند اور سنن کی کتابوں میں مروی ہیں جن میں اکثر ہماری اس تفسیر میں متفرق مقامات پر آ بھی گئی ہیں، ہاں توفیق اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس مسئلہ میں یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار مومنوں کو قیامت کے دن ہونے میں صحابہ، تابعین اور سلف امت کا اتفاق اور اجماع ہے ائمہ اسلام اور ہداۃ انام سب اس پر متفق ہیں، جو لوگ اس کی تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مراد اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھنا جیسے مجاہد اور ابوصالح رحمہ اللہ علیہم سے تفسیر ابن جریر میں مروی ہے ان کا قول حق سے دور اور سراسر تکلف سے معمور ہے، ان کے پاس اس آیت کا کیا جواب ہے جہاں بدکاروں کی نسبت فرمایا گیا ہے «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» ۱؎ [83-المطففين:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ فاجر قیامت کے دن اپنے پروردگار سے پردے میں کر دیئے جائیں گے ‘۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ ”فاجروں کے دیدار الٰہی سے محروم رہنے کا صاف مطلب یہی ہے کہ «ابرار» یعنی نیک کار لوگ دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے“ اور متواتر احادیث سے ثابت ہو چکا ہے اور اسی پر اس آیت کی روانگی الفاظ صاف دلالت کرتی ہے کہ ایماندار دیدار باری سے محظوظ ہوں گے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ چہرے حسن و خوبی والے ہوں گے کیونکہ دیدار رب پر ان کی نگاہیں پڑتی ہوں گی پھر بھلا یہ منور و حسین کیوں نہ ہوں اور بہت سے منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے، بدشکل ہو رہے ہوں گے، بے رونق اور اداس ہوں گے، انہیں یقین ہو گا کہ ہم کوئی ہلاکت اور اللہ کی پکڑ آئی، ابھی ہمیں جہنم میں جانے کا حکم ہوا۔

جیسے اور جگہ ہے «يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:106] ‏‏‏‏ ’ جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه، سیاه چہرے والوں (‏‏‏‏سے کہا جائے گا) کہ کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو ‘۔ اور آیت میں ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ» ۱؎ [80-عبس:38-42] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن بعض چہرے گورے چٹے خوبصورت اور حسین ہوں گے اور بعض کالے منہ والے ہوں گے ‘۔ اور جگہ سے «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» [88-الغاشية:7-2] ‏‏‏‏، یعنی ’ قیامت کے دن بہت سے چہرے خوف زدہ دہشت اور ڈر والے، بدرونق اور ذلیل ہوں گے جو عمل کرتے رہے، تکلیف اٹھاتے رہے لیکن آج بھڑکتی ہوئی آگ میں جا گھسے ‘۔ پھر فرمایا «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌلِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ» ۱؎ [88-الغاشية:10-8] ‏‏‏‏، یعنی ’ بعض چہرے ان دن نعتموں والے خوش و خرم چمکیلے اور شادان و فرحان بھی ہوں گے، جو اپنے گزشتہ اعمال سے خوش ہوں گے اور بلند و بالا جنتوں میں اقامت رکھتے ہوں گے ‘، اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
18۔ 1 یعنی فرشتے کے ذریعے سے جب ہم اس کی قرأت آپ پوری کرلیں۔ یعنی اس کے شرائع و احکام لوگوں کو پڑھ کر سنائیں اور ان کی پیروی بھی کریں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
ثُمَّ اِنَّ عَلَیۡنَا بَیَانَہٗ ﴿ؕ۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ذمہ ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اس کا واضح کر دینا ہمارے ذمہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
پھر بیشک اس کی باریکیوں کا تم پر ظاہر فرمانا ہمارے ذمہ ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر اس کا واضح کرنا بھی ہمارے ذمہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر بلاشبہ اسے واضح کرنا ہمارے ذمے ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ { پھر جب وحی اترتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نظریں نیچی کر لیتے اور جب وحی چلی جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4927] ‏‏‏‏۔ ابن ابی حاتم میں بھی بروایت ابن عباس یہ حدیث مروی ہے اور بہت سے مفسرین سلف صالحین نے یہی فرمایا ہے یہ بھی مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت تلاوت فرمایا کرتے تھے کہ ایسا نہ ہو میں بھول جاؤں اس پر یہ آیتیں اتریں }۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطیہ عوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا بیان ہم پر ہے یعنی حلال حرام کا واضح کرنا۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ ’ ان کافروں کو قیامت کے انکار، اللہ کی پاک کتاب کو نہ ماننے اور اللہ کے عظیم الشان رسول کی اطاعت نہ کرنے پر آمادہ کرنے والی چیز حب دنیا اور غفلت آخرت ہے، حالانکہ آخرت کا دن بڑی اہمیت والا دن ہے، اس دن بہت سے لوگ تو وہ ہوں گے جن کے چہرے ہشاش بشاش، تروتازہ، خوش و خرم ہوں گے اور اپنے رب کے دیدار سے مشرف ہو رہے ہوں گے ‘۔ جیسے کہ صحیح بخاری میں ہے کہ { عنقریب تم اپنے رب کو صاف صاف کھلم کھلا اپنے سامنے دیکھو گے } ۱؎ [صحیح بخاری:7434] ‏‏‏‏، بہت سی صحیح احادیث سے متواتر سندوں سے جو ائمہ حدیث نے اپنی کتابوں میں وارد کی ہیں ثابت ہو چکا ہے کہ ایمان والے اپنے رب کے دیدار سے قیامت کے دن مشرف ہوں گے ان احادیث کو نہ تو کوئی ہٹا سکے نہ ان کا کوئی انکار کر سکے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند کو جبکہ آسمان صاف بے ابر ہو دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت یا رکاوٹ ہوتی ہے؟“، انہوں نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح تم اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7437] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں ہے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چودہویں رات کے چاند کو دیکھ رہے ہو پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی نماز (‏‏‏‏یعنی صبح کی نماز) اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نماز (‏‏‏‏یعنی عصر کی نماز) میں کسی طرح کی سستی نہ کرو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:573] ‏‏‏‏ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے انہی دونوں متبرک کتابوں میں مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو جنتیں سونے کی ہیں وہاں کے برتن اور ہر چیز سونے کی ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں اور ان کے برتن اور ہر چیز چاندی ہی کی ہے سوائے کبریائی کی چادروں کے اور کوئی آڑ نہیں“ یہ جنت عدن کا ذکر ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4878] ‏‏‏‏

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائے گا ’ کچھ چاہتے ہو کہ بڑھا دوں؟ ‘ وہ کہیں گے الٰہی تو نے ہمارے چہرے سفید نورانی کر دیئے، ہمیں جنت میں پہنچا دیا جہنم سے بچا لیا اب ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟ اسی وقت حجاب ہٹا دیئے جائیں گے اور ان اہل جنت کی نگاہیں جمال باری سے منور ہوں گی اس میں انہیں جو سرور و لذت حاصل ہو گی وہ کسی چیز میں نہ حاصل ہو گی سب سے زیادہ محبوب انہیں دیدار باری ہو گا اسی کو اس آیت میں لفظ «الزِّيَادَةُ» سے تعبیر کیا گیا ہے } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:26] ‏‏‏‏ یعنی ’ احسان کرنے والوں کو جنت بھی ملے گی اور دیدار رب بھی ‘۔ ۱؎ [صحیح مسلم:181] ‏‏‏‏ صحیح مسلم کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ مومنوں پر قیامت کے میدان میں مسکراتا ہوا تجلی فرمائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:191] ‏‏‏‏ پس معلوم ہوا کہ ایماندار قیامت کے عرصات میں اور جنتوں میں دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے ہلکے درجہ کا جنتی اپنے ملک اور اپنی ملکیت کو دو ہزار سال دیکھتا رہے گا دور اور نزدیک کی چیزیں یکساں نگاہ میں ہوں گی ہر طرف اور ہر جگہ اسی کی بیویاں اور خادم نظر آئیں گے اور اعلیٰ درجہ کے جنتی ایک ایک دن میں دو دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کے بزرگ چہرے کو دیکھیں گے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی شریف میں بھی یہ حدیث ہے، یہ حدیث بروایت ابن عمر مرفوعًا بھی مروی ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ اگر اس قسم کی تمام حدیثیں اور روایتیں اور ان کی سندیں اور ان کے مختلف الفاظ یہاں جمع کریں گے تو مضمون بہت طویل ہو جائے گا بہت ہی صحیح اور حسن حدیثیں بہت سی مسند اور سنن کی کتابوں میں مروی ہیں جن میں اکثر ہماری اس تفسیر میں متفرق مقامات پر آ بھی گئی ہیں، ہاں توفیق اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس مسئلہ میں یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار مومنوں کو قیامت کے دن ہونے میں صحابہ، تابعین اور سلف امت کا اتفاق اور اجماع ہے ائمہ اسلام اور ہداۃ انام سب اس پر متفق ہیں، جو لوگ اس کی تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مراد اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھنا جیسے مجاہد اور ابوصالح رحمہ اللہ علیہم سے تفسیر ابن جریر میں مروی ہے ان کا قول حق سے دور اور سراسر تکلف سے معمور ہے، ان کے پاس اس آیت کا کیا جواب ہے جہاں بدکاروں کی نسبت فرمایا گیا ہے «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» ۱؎ [83-المطففين:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ فاجر قیامت کے دن اپنے پروردگار سے پردے میں کر دیئے جائیں گے ‘۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ ”فاجروں کے دیدار الٰہی سے محروم رہنے کا صاف مطلب یہی ہے کہ «ابرار» یعنی نیک کار لوگ دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے“ اور متواتر احادیث سے ثابت ہو چکا ہے اور اسی پر اس آیت کی روانگی الفاظ صاف دلالت کرتی ہے کہ ایماندار دیدار باری سے محظوظ ہوں گے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ چہرے حسن و خوبی والے ہوں گے کیونکہ دیدار رب پر ان کی نگاہیں پڑتی ہوں گی پھر بھلا یہ منور و حسین کیوں نہ ہوں اور بہت سے منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے، بدشکل ہو رہے ہوں گے، بے رونق اور اداس ہوں گے، انہیں یقین ہو گا کہ ہم کوئی ہلاکت اور اللہ کی پکڑ آئی، ابھی ہمیں جہنم میں جانے کا حکم ہوا۔

جیسے اور جگہ ہے «يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:106] ‏‏‏‏ ’ جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه، سیاه چہرے والوں (‏‏‏‏سے کہا جائے گا) کہ کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو ‘۔ اور آیت میں ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ» ۱؎ [80-عبس:38-42] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن بعض چہرے گورے چٹے خوبصورت اور حسین ہوں گے اور بعض کالے منہ والے ہوں گے ‘۔ اور جگہ سے «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» [88-الغاشية:7-2] ‏‏‏‏، یعنی ’ قیامت کے دن بہت سے چہرے خوف زدہ دہشت اور ڈر والے، بدرونق اور ذلیل ہوں گے جو عمل کرتے رہے، تکلیف اٹھاتے رہے لیکن آج بھڑکتی ہوئی آگ میں جا گھسے ‘۔ پھر فرمایا «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌلِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ» ۱؎ [88-الغاشية:10-8] ‏‏‏‏، یعنی ’ بعض چہرے ان دن نعتموں والے خوش و خرم چمکیلے اور شادان و فرحان بھی ہوں گے، جو اپنے گزشتہ اعمال سے خوش ہوں گے اور بلند و بالا جنتوں میں اقامت رکھتے ہوں گے ‘، اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
19۔ 1 یعنی اس کے مشکل مقامات کی تشریح اور حلال وحرام کی توضیح یہ بھی ہمارے ذمے ہے اس کا صاف مطلب ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کے مجملات کی توضیح جو تخصیص بیان فرمائی ہے جسے حدیث کہا جاتا ہے یہ بھی اللہ کی طرف سے ہی الہام اور سمجھائی ہوئی باتیں ہیں اس لیے انہیں بھی قرآن کی طرح ماننا ضروری ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
کَلَّا بَلۡ تُحِبُّوۡنَ الۡعَاجِلَۃَ ﴿ۙ۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہرگز نہیں، اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز (یعنی دنیا) سے محبت رکھتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
نہیں نہیں تم جلدی ملنے والی (دنیا) کی محبت رکھتے ہو
احمد رضا خان بریلوی
کوئی نہیں بلکہ اے کافرو! تم پاؤں تلے کی (دنیاوی فائدے کو) عزیز دوست رکھتے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
ہرگز نہیں بلکہ تم جلدی ملنے والی (دنیا) سے محبت کرتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
ہرگز نہیں، بلکہ تم جلدی ملنے والی کو پسند کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ { پھر جب وحی اترتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نظریں نیچی کر لیتے اور جب وحی چلی جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4927] ‏‏‏‏۔ ابن ابی حاتم میں بھی بروایت ابن عباس یہ حدیث مروی ہے اور بہت سے مفسرین سلف صالحین نے یہی فرمایا ہے یہ بھی مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت تلاوت فرمایا کرتے تھے کہ ایسا نہ ہو میں بھول جاؤں اس پر یہ آیتیں اتریں }۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطیہ عوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا بیان ہم پر ہے یعنی حلال حرام کا واضح کرنا۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ ’ ان کافروں کو قیامت کے انکار، اللہ کی پاک کتاب کو نہ ماننے اور اللہ کے عظیم الشان رسول کی اطاعت نہ کرنے پر آمادہ کرنے والی چیز حب دنیا اور غفلت آخرت ہے، حالانکہ آخرت کا دن بڑی اہمیت والا دن ہے، اس دن بہت سے لوگ تو وہ ہوں گے جن کے چہرے ہشاش بشاش، تروتازہ، خوش و خرم ہوں گے اور اپنے رب کے دیدار سے مشرف ہو رہے ہوں گے ‘۔ جیسے کہ صحیح بخاری میں ہے کہ { عنقریب تم اپنے رب کو صاف صاف کھلم کھلا اپنے سامنے دیکھو گے } ۱؎ [صحیح بخاری:7434] ‏‏‏‏، بہت سی صحیح احادیث سے متواتر سندوں سے جو ائمہ حدیث نے اپنی کتابوں میں وارد کی ہیں ثابت ہو چکا ہے کہ ایمان والے اپنے رب کے دیدار سے قیامت کے دن مشرف ہوں گے ان احادیث کو نہ تو کوئی ہٹا سکے نہ ان کا کوئی انکار کر سکے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند کو جبکہ آسمان صاف بے ابر ہو دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت یا رکاوٹ ہوتی ہے؟“، انہوں نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح تم اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7437] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں ہے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چودہویں رات کے چاند کو دیکھ رہے ہو پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی نماز (‏‏‏‏یعنی صبح کی نماز) اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نماز (‏‏‏‏یعنی عصر کی نماز) میں کسی طرح کی سستی نہ کرو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:573] ‏‏‏‏ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے انہی دونوں متبرک کتابوں میں مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو جنتیں سونے کی ہیں وہاں کے برتن اور ہر چیز سونے کی ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں اور ان کے برتن اور ہر چیز چاندی ہی کی ہے سوائے کبریائی کی چادروں کے اور کوئی آڑ نہیں“ یہ جنت عدن کا ذکر ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4878] ‏‏‏‏

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائے گا ’ کچھ چاہتے ہو کہ بڑھا دوں؟ ‘ وہ کہیں گے الٰہی تو نے ہمارے چہرے سفید نورانی کر دیئے، ہمیں جنت میں پہنچا دیا جہنم سے بچا لیا اب ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟ اسی وقت حجاب ہٹا دیئے جائیں گے اور ان اہل جنت کی نگاہیں جمال باری سے منور ہوں گی اس میں انہیں جو سرور و لذت حاصل ہو گی وہ کسی چیز میں نہ حاصل ہو گی سب سے زیادہ محبوب انہیں دیدار باری ہو گا اسی کو اس آیت میں لفظ «الزِّيَادَةُ» سے تعبیر کیا گیا ہے } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:26] ‏‏‏‏ یعنی ’ احسان کرنے والوں کو جنت بھی ملے گی اور دیدار رب بھی ‘۔ ۱؎ [صحیح مسلم:181] ‏‏‏‏ صحیح مسلم کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ مومنوں پر قیامت کے میدان میں مسکراتا ہوا تجلی فرمائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:191] ‏‏‏‏ پس معلوم ہوا کہ ایماندار قیامت کے عرصات میں اور جنتوں میں دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے ہلکے درجہ کا جنتی اپنے ملک اور اپنی ملکیت کو دو ہزار سال دیکھتا رہے گا دور اور نزدیک کی چیزیں یکساں نگاہ میں ہوں گی ہر طرف اور ہر جگہ اسی کی بیویاں اور خادم نظر آئیں گے اور اعلیٰ درجہ کے جنتی ایک ایک دن میں دو دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کے بزرگ چہرے کو دیکھیں گے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی شریف میں بھی یہ حدیث ہے، یہ حدیث بروایت ابن عمر مرفوعًا بھی مروی ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ اگر اس قسم کی تمام حدیثیں اور روایتیں اور ان کی سندیں اور ان کے مختلف الفاظ یہاں جمع کریں گے تو مضمون بہت طویل ہو جائے گا بہت ہی صحیح اور حسن حدیثیں بہت سی مسند اور سنن کی کتابوں میں مروی ہیں جن میں اکثر ہماری اس تفسیر میں متفرق مقامات پر آ بھی گئی ہیں، ہاں توفیق اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس مسئلہ میں یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار مومنوں کو قیامت کے دن ہونے میں صحابہ، تابعین اور سلف امت کا اتفاق اور اجماع ہے ائمہ اسلام اور ہداۃ انام سب اس پر متفق ہیں، جو لوگ اس کی تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مراد اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھنا جیسے مجاہد اور ابوصالح رحمہ اللہ علیہم سے تفسیر ابن جریر میں مروی ہے ان کا قول حق سے دور اور سراسر تکلف سے معمور ہے، ان کے پاس اس آیت کا کیا جواب ہے جہاں بدکاروں کی نسبت فرمایا گیا ہے «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» ۱؎ [83-المطففين:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ فاجر قیامت کے دن اپنے پروردگار سے پردے میں کر دیئے جائیں گے ‘۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ ”فاجروں کے دیدار الٰہی سے محروم رہنے کا صاف مطلب یہی ہے کہ «ابرار» یعنی نیک کار لوگ دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے“ اور متواتر احادیث سے ثابت ہو چکا ہے اور اسی پر اس آیت کی روانگی الفاظ صاف دلالت کرتی ہے کہ ایماندار دیدار باری سے محظوظ ہوں گے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ چہرے حسن و خوبی والے ہوں گے کیونکہ دیدار رب پر ان کی نگاہیں پڑتی ہوں گی پھر بھلا یہ منور و حسین کیوں نہ ہوں اور بہت سے منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے، بدشکل ہو رہے ہوں گے، بے رونق اور اداس ہوں گے، انہیں یقین ہو گا کہ ہم کوئی ہلاکت اور اللہ کی پکڑ آئی، ابھی ہمیں جہنم میں جانے کا حکم ہوا۔

جیسے اور جگہ ہے «يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:106] ‏‏‏‏ ’ جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه، سیاه چہرے والوں (‏‏‏‏سے کہا جائے گا) کہ کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو ‘۔ اور آیت میں ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ» ۱؎ [80-عبس:38-42] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن بعض چہرے گورے چٹے خوبصورت اور حسین ہوں گے اور بعض کالے منہ والے ہوں گے ‘۔ اور جگہ سے «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» [88-الغاشية:7-2] ‏‏‏‏، یعنی ’ قیامت کے دن بہت سے چہرے خوف زدہ دہشت اور ڈر والے، بدرونق اور ذلیل ہوں گے جو عمل کرتے رہے، تکلیف اٹھاتے رہے لیکن آج بھڑکتی ہوئی آگ میں جا گھسے ‘۔ پھر فرمایا «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌلِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ» ۱؎ [88-الغاشية:10-8] ‏‏‏‏، یعنی ’ بعض چہرے ان دن نعتموں والے خوش و خرم چمکیلے اور شادان و فرحان بھی ہوں گے، جو اپنے گزشتہ اعمال سے خوش ہوں گے اور بلند و بالا جنتوں میں اقامت رکھتے ہوں گے ‘، اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 21،20){ كَلَّا بَلْ تُحِبُّوْنَ الْعَاجِلَةَ…:} یہاں سے پھر وہی سلسلۂ کلام شروع ہوتا ہے جو {” لَا تُحَرِّكْ بِهٖ لِسَانَكَ “} سے پہلے چل رہا تھا۔ فرمایا تمھارے قیامت کا انکار کرنے کی وجہ کوئی اور نہیں بلکہ یہ ہے کہ تم دنیا سے محبت کرتے ہو اور اس کی محبت میں آخرت کو چھوڑ ہی بیٹھے ہو، کیونکہ دنیا جلدی ملنے والی اور نقد ہے جب کہ آخرت بعد میں آئے گی اور ادھار ہے، حالانکہ اس نقد کی راحتیں اور رنج عارضی ہیں اور آخرت ہمیشہ رہنے والی اور کہیں بہتر ہے، جیساکہ فرمایا: «‏‏‏‏بَلْ تُؤْثِرُوْنَ الْحَيٰوةَ الدُّنْيَا (16) وَ الْاٰخِرَةُ خَيْرٌ وَّ اَبْقٰى» [ الأعلٰی: 17،16 ] ”بلکہ تم دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو۔ حالانکہ آخرت کہیں بہتر اور زیادہ باقی رہنے والی ہے۔“
وَ تَذَرُوۡنَ الۡاٰخِرَۃَ ﴿ؕ۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو
مولانا محمد جوناگڑھی
اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو
احمد رضا خان بریلوی
اور آخرت کو چھوڑ بیٹھے ہو،
علامہ محمد حسین نجفی
اور آخرت (دیر سے آنے والی) کو چھوڑتے ہو۔
عبدالسلام بن محمد
اور بعد میں آنے والی کو چھوڑ دیتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ { پھر جب وحی اترتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نظریں نیچی کر لیتے اور جب وحی چلی جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4927] ‏‏‏‏۔ ابن ابی حاتم میں بھی بروایت ابن عباس یہ حدیث مروی ہے اور بہت سے مفسرین سلف صالحین نے یہی فرمایا ہے یہ بھی مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت تلاوت فرمایا کرتے تھے کہ ایسا نہ ہو میں بھول جاؤں اس پر یہ آیتیں اتریں }۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطیہ عوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا بیان ہم پر ہے یعنی حلال حرام کا واضح کرنا۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ ’ ان کافروں کو قیامت کے انکار، اللہ کی پاک کتاب کو نہ ماننے اور اللہ کے عظیم الشان رسول کی اطاعت نہ کرنے پر آمادہ کرنے والی چیز حب دنیا اور غفلت آخرت ہے، حالانکہ آخرت کا دن بڑی اہمیت والا دن ہے، اس دن بہت سے لوگ تو وہ ہوں گے جن کے چہرے ہشاش بشاش، تروتازہ، خوش و خرم ہوں گے اور اپنے رب کے دیدار سے مشرف ہو رہے ہوں گے ‘۔ جیسے کہ صحیح بخاری میں ہے کہ { عنقریب تم اپنے رب کو صاف صاف کھلم کھلا اپنے سامنے دیکھو گے } ۱؎ [صحیح بخاری:7434] ‏‏‏‏، بہت سی صحیح احادیث سے متواتر سندوں سے جو ائمہ حدیث نے اپنی کتابوں میں وارد کی ہیں ثابت ہو چکا ہے کہ ایمان والے اپنے رب کے دیدار سے قیامت کے دن مشرف ہوں گے ان احادیث کو نہ تو کوئی ہٹا سکے نہ ان کا کوئی انکار کر سکے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند کو جبکہ آسمان صاف بے ابر ہو دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت یا رکاوٹ ہوتی ہے؟“، انہوں نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح تم اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7437] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں ہے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چودہویں رات کے چاند کو دیکھ رہے ہو پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی نماز (‏‏‏‏یعنی صبح کی نماز) اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نماز (‏‏‏‏یعنی عصر کی نماز) میں کسی طرح کی سستی نہ کرو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:573] ‏‏‏‏ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے انہی دونوں متبرک کتابوں میں مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو جنتیں سونے کی ہیں وہاں کے برتن اور ہر چیز سونے کی ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں اور ان کے برتن اور ہر چیز چاندی ہی کی ہے سوائے کبریائی کی چادروں کے اور کوئی آڑ نہیں“ یہ جنت عدن کا ذکر ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4878] ‏‏‏‏

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائے گا ’ کچھ چاہتے ہو کہ بڑھا دوں؟ ‘ وہ کہیں گے الٰہی تو نے ہمارے چہرے سفید نورانی کر دیئے، ہمیں جنت میں پہنچا دیا جہنم سے بچا لیا اب ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟ اسی وقت حجاب ہٹا دیئے جائیں گے اور ان اہل جنت کی نگاہیں جمال باری سے منور ہوں گی اس میں انہیں جو سرور و لذت حاصل ہو گی وہ کسی چیز میں نہ حاصل ہو گی سب سے زیادہ محبوب انہیں دیدار باری ہو گا اسی کو اس آیت میں لفظ «الزِّيَادَةُ» سے تعبیر کیا گیا ہے } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:26] ‏‏‏‏ یعنی ’ احسان کرنے والوں کو جنت بھی ملے گی اور دیدار رب بھی ‘۔ ۱؎ [صحیح مسلم:181] ‏‏‏‏ صحیح مسلم کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ مومنوں پر قیامت کے میدان میں مسکراتا ہوا تجلی فرمائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:191] ‏‏‏‏ پس معلوم ہوا کہ ایماندار قیامت کے عرصات میں اور جنتوں میں دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے ہلکے درجہ کا جنتی اپنے ملک اور اپنی ملکیت کو دو ہزار سال دیکھتا رہے گا دور اور نزدیک کی چیزیں یکساں نگاہ میں ہوں گی ہر طرف اور ہر جگہ اسی کی بیویاں اور خادم نظر آئیں گے اور اعلیٰ درجہ کے جنتی ایک ایک دن میں دو دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کے بزرگ چہرے کو دیکھیں گے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی شریف میں بھی یہ حدیث ہے، یہ حدیث بروایت ابن عمر مرفوعًا بھی مروی ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ اگر اس قسم کی تمام حدیثیں اور روایتیں اور ان کی سندیں اور ان کے مختلف الفاظ یہاں جمع کریں گے تو مضمون بہت طویل ہو جائے گا بہت ہی صحیح اور حسن حدیثیں بہت سی مسند اور سنن کی کتابوں میں مروی ہیں جن میں اکثر ہماری اس تفسیر میں متفرق مقامات پر آ بھی گئی ہیں، ہاں توفیق اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس مسئلہ میں یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار مومنوں کو قیامت کے دن ہونے میں صحابہ، تابعین اور سلف امت کا اتفاق اور اجماع ہے ائمہ اسلام اور ہداۃ انام سب اس پر متفق ہیں، جو لوگ اس کی تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مراد اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھنا جیسے مجاہد اور ابوصالح رحمہ اللہ علیہم سے تفسیر ابن جریر میں مروی ہے ان کا قول حق سے دور اور سراسر تکلف سے معمور ہے، ان کے پاس اس آیت کا کیا جواب ہے جہاں بدکاروں کی نسبت فرمایا گیا ہے «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» ۱؎ [83-المطففين:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ فاجر قیامت کے دن اپنے پروردگار سے پردے میں کر دیئے جائیں گے ‘۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ ”فاجروں کے دیدار الٰہی سے محروم رہنے کا صاف مطلب یہی ہے کہ «ابرار» یعنی نیک کار لوگ دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے“ اور متواتر احادیث سے ثابت ہو چکا ہے اور اسی پر اس آیت کی روانگی الفاظ صاف دلالت کرتی ہے کہ ایماندار دیدار باری سے محظوظ ہوں گے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ چہرے حسن و خوبی والے ہوں گے کیونکہ دیدار رب پر ان کی نگاہیں پڑتی ہوں گی پھر بھلا یہ منور و حسین کیوں نہ ہوں اور بہت سے منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے، بدشکل ہو رہے ہوں گے، بے رونق اور اداس ہوں گے، انہیں یقین ہو گا کہ ہم کوئی ہلاکت اور اللہ کی پکڑ آئی، ابھی ہمیں جہنم میں جانے کا حکم ہوا۔

جیسے اور جگہ ہے «يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:106] ‏‏‏‏ ’ جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه، سیاه چہرے والوں (‏‏‏‏سے کہا جائے گا) کہ کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو ‘۔ اور آیت میں ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ» ۱؎ [80-عبس:38-42] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن بعض چہرے گورے چٹے خوبصورت اور حسین ہوں گے اور بعض کالے منہ والے ہوں گے ‘۔ اور جگہ سے «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» [88-الغاشية:7-2] ‏‏‏‏، یعنی ’ قیامت کے دن بہت سے چہرے خوف زدہ دہشت اور ڈر والے، بدرونق اور ذلیل ہوں گے جو عمل کرتے رہے، تکلیف اٹھاتے رہے لیکن آج بھڑکتی ہوئی آگ میں جا گھسے ‘۔ پھر فرمایا «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌلِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ» ۱؎ [88-الغاشية:10-8] ‏‏‏‏، یعنی ’ بعض چہرے ان دن نعتموں والے خوش و خرم چمکیلے اور شادان و فرحان بھی ہوں گے، جو اپنے گزشتہ اعمال سے خوش ہوں گے اور بلند و بالا جنتوں میں اقامت رکھتے ہوں گے ‘، اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
21۔ 1 یعنی یوم قیامت کو جھٹلانا اور حق سے اعراض، اسلئے ہے کہ تم نے دنیا کی زندگی کو ہی سب کچھ سمجھ رکھا ہے اور آخرت تمہیں بالکل فراموش ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ ﴿ۙ۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس روز کچھ چہرے تر و تازہ ہونگے
مولانا محمد جوناگڑھی
اس روز بہت سے چہرے تروتازه اور بارونق ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
کچھ منہ اس دن تر و تازہ ہوں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اس دن کچھ چہرے تر و تازہ ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اس دن کئی چہرے ترو تازہ ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ { پھر جب وحی اترتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نظریں نیچی کر لیتے اور جب وحی چلی جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4927] ‏‏‏‏۔ ابن ابی حاتم میں بھی بروایت ابن عباس یہ حدیث مروی ہے اور بہت سے مفسرین سلف صالحین نے یہی فرمایا ہے یہ بھی مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت تلاوت فرمایا کرتے تھے کہ ایسا نہ ہو میں بھول جاؤں اس پر یہ آیتیں اتریں }۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطیہ عوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا بیان ہم پر ہے یعنی حلال حرام کا واضح کرنا۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ ’ ان کافروں کو قیامت کے انکار، اللہ کی پاک کتاب کو نہ ماننے اور اللہ کے عظیم الشان رسول کی اطاعت نہ کرنے پر آمادہ کرنے والی چیز حب دنیا اور غفلت آخرت ہے، حالانکہ آخرت کا دن بڑی اہمیت والا دن ہے، اس دن بہت سے لوگ تو وہ ہوں گے جن کے چہرے ہشاش بشاش، تروتازہ، خوش و خرم ہوں گے اور اپنے رب کے دیدار سے مشرف ہو رہے ہوں گے ‘۔ جیسے کہ صحیح بخاری میں ہے کہ { عنقریب تم اپنے رب کو صاف صاف کھلم کھلا اپنے سامنے دیکھو گے } ۱؎ [صحیح بخاری:7434] ‏‏‏‏، بہت سی صحیح احادیث سے متواتر سندوں سے جو ائمہ حدیث نے اپنی کتابوں میں وارد کی ہیں ثابت ہو چکا ہے کہ ایمان والے اپنے رب کے دیدار سے قیامت کے دن مشرف ہوں گے ان احادیث کو نہ تو کوئی ہٹا سکے نہ ان کا کوئی انکار کر سکے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند کو جبکہ آسمان صاف بے ابر ہو دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت یا رکاوٹ ہوتی ہے؟“، انہوں نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح تم اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7437] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں ہے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چودہویں رات کے چاند کو دیکھ رہے ہو پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی نماز (‏‏‏‏یعنی صبح کی نماز) اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نماز (‏‏‏‏یعنی عصر کی نماز) میں کسی طرح کی سستی نہ کرو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:573] ‏‏‏‏ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے انہی دونوں متبرک کتابوں میں مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو جنتیں سونے کی ہیں وہاں کے برتن اور ہر چیز سونے کی ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں اور ان کے برتن اور ہر چیز چاندی ہی کی ہے سوائے کبریائی کی چادروں کے اور کوئی آڑ نہیں“ یہ جنت عدن کا ذکر ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4878] ‏‏‏‏

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائے گا ’ کچھ چاہتے ہو کہ بڑھا دوں؟ ‘ وہ کہیں گے الٰہی تو نے ہمارے چہرے سفید نورانی کر دیئے، ہمیں جنت میں پہنچا دیا جہنم سے بچا لیا اب ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟ اسی وقت حجاب ہٹا دیئے جائیں گے اور ان اہل جنت کی نگاہیں جمال باری سے منور ہوں گی اس میں انہیں جو سرور و لذت حاصل ہو گی وہ کسی چیز میں نہ حاصل ہو گی سب سے زیادہ محبوب انہیں دیدار باری ہو گا اسی کو اس آیت میں لفظ «الزِّيَادَةُ» سے تعبیر کیا گیا ہے } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:26] ‏‏‏‏ یعنی ’ احسان کرنے والوں کو جنت بھی ملے گی اور دیدار رب بھی ‘۔ ۱؎ [صحیح مسلم:181] ‏‏‏‏ صحیح مسلم کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ مومنوں پر قیامت کے میدان میں مسکراتا ہوا تجلی فرمائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:191] ‏‏‏‏ پس معلوم ہوا کہ ایماندار قیامت کے عرصات میں اور جنتوں میں دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے ہلکے درجہ کا جنتی اپنے ملک اور اپنی ملکیت کو دو ہزار سال دیکھتا رہے گا دور اور نزدیک کی چیزیں یکساں نگاہ میں ہوں گی ہر طرف اور ہر جگہ اسی کی بیویاں اور خادم نظر آئیں گے اور اعلیٰ درجہ کے جنتی ایک ایک دن میں دو دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کے بزرگ چہرے کو دیکھیں گے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی شریف میں بھی یہ حدیث ہے، یہ حدیث بروایت ابن عمر مرفوعًا بھی مروی ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ اگر اس قسم کی تمام حدیثیں اور روایتیں اور ان کی سندیں اور ان کے مختلف الفاظ یہاں جمع کریں گے تو مضمون بہت طویل ہو جائے گا بہت ہی صحیح اور حسن حدیثیں بہت سی مسند اور سنن کی کتابوں میں مروی ہیں جن میں اکثر ہماری اس تفسیر میں متفرق مقامات پر آ بھی گئی ہیں، ہاں توفیق اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس مسئلہ میں یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار مومنوں کو قیامت کے دن ہونے میں صحابہ، تابعین اور سلف امت کا اتفاق اور اجماع ہے ائمہ اسلام اور ہداۃ انام سب اس پر متفق ہیں، جو لوگ اس کی تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مراد اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھنا جیسے مجاہد اور ابوصالح رحمہ اللہ علیہم سے تفسیر ابن جریر میں مروی ہے ان کا قول حق سے دور اور سراسر تکلف سے معمور ہے، ان کے پاس اس آیت کا کیا جواب ہے جہاں بدکاروں کی نسبت فرمایا گیا ہے «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» ۱؎ [83-المطففين:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ فاجر قیامت کے دن اپنے پروردگار سے پردے میں کر دیئے جائیں گے ‘۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ ”فاجروں کے دیدار الٰہی سے محروم رہنے کا صاف مطلب یہی ہے کہ «ابرار» یعنی نیک کار لوگ دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے“ اور متواتر احادیث سے ثابت ہو چکا ہے اور اسی پر اس آیت کی روانگی الفاظ صاف دلالت کرتی ہے کہ ایماندار دیدار باری سے محظوظ ہوں گے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ چہرے حسن و خوبی والے ہوں گے کیونکہ دیدار رب پر ان کی نگاہیں پڑتی ہوں گی پھر بھلا یہ منور و حسین کیوں نہ ہوں اور بہت سے منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے، بدشکل ہو رہے ہوں گے، بے رونق اور اداس ہوں گے، انہیں یقین ہو گا کہ ہم کوئی ہلاکت اور اللہ کی پکڑ آئی، ابھی ہمیں جہنم میں جانے کا حکم ہوا۔

جیسے اور جگہ ہے «يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:106] ‏‏‏‏ ’ جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه، سیاه چہرے والوں (‏‏‏‏سے کہا جائے گا) کہ کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو ‘۔ اور آیت میں ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ» ۱؎ [80-عبس:38-42] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن بعض چہرے گورے چٹے خوبصورت اور حسین ہوں گے اور بعض کالے منہ والے ہوں گے ‘۔ اور جگہ سے «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» [88-الغاشية:7-2] ‏‏‏‏، یعنی ’ قیامت کے دن بہت سے چہرے خوف زدہ دہشت اور ڈر والے، بدرونق اور ذلیل ہوں گے جو عمل کرتے رہے، تکلیف اٹھاتے رہے لیکن آج بھڑکتی ہوئی آگ میں جا گھسے ‘۔ پھر فرمایا «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌلِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ» ۱؎ [88-الغاشية:10-8] ‏‏‏‏، یعنی ’ بعض چہرے ان دن نعتموں والے خوش و خرم چمکیلے اور شادان و فرحان بھی ہوں گے، جو اپنے گزشتہ اعمال سے خوش ہوں گے اور بلند و بالا جنتوں میں اقامت رکھتے ہوں گے ‘، اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 23،22) {وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ …:” نَاضِرَةٌ “” نَضَرَ الْوَجْهُ وَالشَّجَرُ وَاللَّوْنُ “} (ن،ک،س) چہرے یا درخت یا رنگ کا تروتازہ، خوبصورت اور بارونق ہونا۔ معلوم ہوا کہ قیامت کے دن نیک بندوں کو اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہو گا اور اس خوشی میں ان کے چہرے تروتازہ اور چمک رہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں انسان ہوں یا حیوان، نباتات ہوں یا جمادات، ایسا ایسا حسن و جمال ہے جسے دیکھ کر خوشی سے چہروں پر تازگی اور رونق آجاتی ہے۔ جب حسن و جمال کے خالق کی ذات کو دیکھیں گے تو ان کی خوشی اور ان کے چہروں کی تازگی کا کیا ٹھکانا ہوگا!! حقیقت یہ ہے کہ جنت کی سب سے بڑی نعمت ہی یہ ہو گی کہ جنتی اپنی آنکھوں سے اپنے رب تعالیٰ کا دیدار کریں گے۔ صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ قَالَ يَقُوْلُ اللّٰهُ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی تُرِيْدُوْنَ شَيْئًا أَزِيْدُكُمْ؟ فَيَقُوْلُوْنَ أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوْهَنَا؟ أَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ وَتُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ؟ قَالَ فَيَكْشِفُ الْحِجَابَ فَمَا أُعْطُوْا شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلٰی رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ تَلَا هٰذِهِ الْآيَةَ: «‏‏‏‏لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِيَادَةٌ» ] [ مسلم، الإیمان، باب إثبات رؤیۃ المؤمنین …:۱۸۱ ] ”جب اہلِ جنت جنت میں داخل ہوں گے تو اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا: ”تمھیں کوئی چیز چاہیے جو میں تمھیں مزید عطا کروں؟“ وہ کہیں گے: ”کیا تو نے ہمارے چہروں کو سفید نہیں کیا؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا اور آگ سے نجات نہیں دی؟“ فرمایا: ”پھر اللہ تعالیٰ پردہ ہٹا دے گا اور انھیں کوئی بھی چیز نہیں دی گئی ہو گی جو انھیں اپنے رب کو دیکھنے سے زیادہ پیاری ہو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِيَادَةٌ» [ یونس: ۲۶ ] ”جن لوگوں نے اچھے اعمال کیے ان کے لیے اچھا اجر ہے اور مزید بھی (مزید سے رب تعالیٰ کا دیدار مراد ہے)۔“ جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ عِيَانًا ] [ بخاري، التوحید، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «‏‏‏‏وجوہ یومئذ ناضرۃ…» : ۷۴۳۵ ] ”تم اپنے رب کو اپنی آنکھوں سے صاف دیکھو گے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ هَلْ تُضَارُّوْنَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟ قَالُوْا لاَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قَالَ فَهَلْ تُضَارُّوْنَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُوْنَهَا سَحَابٌ؟ قَالُوْا لاَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قَالَ فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذٰلِكَ ] [ بخاري، التوحید، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «وجوہ یومئذ ناظرۃ…» : ۷۴۳۷۔ مسلم: ۱۸۲ ] ”کیا تمھیں چودھویں کا چاند دیکھنے میں کوئی تکلیف ہوتی ہے؟ “ انھوں نے کہا: ”نہیں، اے اللہ کے رسول!“ فرمایا: ”کیا تمھیں سورج دیکھنے میں کوئی تکلیف ہوتی ہے جس کے سامنے بادل کی رکاوٹ بھی نہ ہو؟“ انھوں نے کہا: ”نہیں، اے اللہ کے رسول!“ فرمایا: ”(یقین رکھو کہ) تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے۔“ قرآن مجید میں فاجر لوگوں کے متعلق فرمایا: «‏‏‏‏كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» [ المطففین: ۱۵ ] ”ہر گز نہیں، بے شک وہ اس دن اپنے رب سے حجاب میں رکھے جائیں گے۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کے دیدار الٰہی سے محروم رکھے جانے کا خاص طور پر ذکر فرمایا۔ اگر ابرار کو بھی اس دن رب کا دیدار نہ ہوا تو ان میں اور فجار میں کیا فرق رہا؟ بہت بد نصیب ہیں وہ لوگ جو اتنی واضح آیات و احادیث کے باوجود قیامت کے دن دیدار الٰہی کے منکر ہیں۔ اس انکار کا بدلا یہی ہے کہ انھیں قیامت کے دن اس سب سے بڑی نعمت سے محروم ہی رکھا جائے۔
اِلٰی رَبِّہَا نَاظِرَۃٌ ﴿ۚ۲۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اپنے رب کی طرف دیکھ رہے ہونگے
مولانا محمد جوناگڑھی
اپنے رب کی طرف دیکھتے ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
اپنے رب کا دیکھتے
علامہ محمد حسین نجفی
اپنے پروردگار کی نعمت (و رحمت) کو دیکھ رہے ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اپنے رب کی طرف دیکھنے والے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ { پھر جب وحی اترتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نظریں نیچی کر لیتے اور جب وحی چلی جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4927] ‏‏‏‏۔ ابن ابی حاتم میں بھی بروایت ابن عباس یہ حدیث مروی ہے اور بہت سے مفسرین سلف صالحین نے یہی فرمایا ہے یہ بھی مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت تلاوت فرمایا کرتے تھے کہ ایسا نہ ہو میں بھول جاؤں اس پر یہ آیتیں اتریں }۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطیہ عوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا بیان ہم پر ہے یعنی حلال حرام کا واضح کرنا۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ ’ ان کافروں کو قیامت کے انکار، اللہ کی پاک کتاب کو نہ ماننے اور اللہ کے عظیم الشان رسول کی اطاعت نہ کرنے پر آمادہ کرنے والی چیز حب دنیا اور غفلت آخرت ہے، حالانکہ آخرت کا دن بڑی اہمیت والا دن ہے، اس دن بہت سے لوگ تو وہ ہوں گے جن کے چہرے ہشاش بشاش، تروتازہ، خوش و خرم ہوں گے اور اپنے رب کے دیدار سے مشرف ہو رہے ہوں گے ‘۔ جیسے کہ صحیح بخاری میں ہے کہ { عنقریب تم اپنے رب کو صاف صاف کھلم کھلا اپنے سامنے دیکھو گے } ۱؎ [صحیح بخاری:7434] ‏‏‏‏، بہت سی صحیح احادیث سے متواتر سندوں سے جو ائمہ حدیث نے اپنی کتابوں میں وارد کی ہیں ثابت ہو چکا ہے کہ ایمان والے اپنے رب کے دیدار سے قیامت کے دن مشرف ہوں گے ان احادیث کو نہ تو کوئی ہٹا سکے نہ ان کا کوئی انکار کر سکے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند کو جبکہ آسمان صاف بے ابر ہو دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت یا رکاوٹ ہوتی ہے؟“، انہوں نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح تم اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7437] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں ہے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چودہویں رات کے چاند کو دیکھ رہے ہو پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی نماز (‏‏‏‏یعنی صبح کی نماز) اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نماز (‏‏‏‏یعنی عصر کی نماز) میں کسی طرح کی سستی نہ کرو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:573] ‏‏‏‏ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے انہی دونوں متبرک کتابوں میں مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو جنتیں سونے کی ہیں وہاں کے برتن اور ہر چیز سونے کی ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں اور ان کے برتن اور ہر چیز چاندی ہی کی ہے سوائے کبریائی کی چادروں کے اور کوئی آڑ نہیں“ یہ جنت عدن کا ذکر ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4878] ‏‏‏‏

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائے گا ’ کچھ چاہتے ہو کہ بڑھا دوں؟ ‘ وہ کہیں گے الٰہی تو نے ہمارے چہرے سفید نورانی کر دیئے، ہمیں جنت میں پہنچا دیا جہنم سے بچا لیا اب ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟ اسی وقت حجاب ہٹا دیئے جائیں گے اور ان اہل جنت کی نگاہیں جمال باری سے منور ہوں گی اس میں انہیں جو سرور و لذت حاصل ہو گی وہ کسی چیز میں نہ حاصل ہو گی سب سے زیادہ محبوب انہیں دیدار باری ہو گا اسی کو اس آیت میں لفظ «الزِّيَادَةُ» سے تعبیر کیا گیا ہے } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:26] ‏‏‏‏ یعنی ’ احسان کرنے والوں کو جنت بھی ملے گی اور دیدار رب بھی ‘۔ ۱؎ [صحیح مسلم:181] ‏‏‏‏ صحیح مسلم کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ مومنوں پر قیامت کے میدان میں مسکراتا ہوا تجلی فرمائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:191] ‏‏‏‏ پس معلوم ہوا کہ ایماندار قیامت کے عرصات میں اور جنتوں میں دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے ہلکے درجہ کا جنتی اپنے ملک اور اپنی ملکیت کو دو ہزار سال دیکھتا رہے گا دور اور نزدیک کی چیزیں یکساں نگاہ میں ہوں گی ہر طرف اور ہر جگہ اسی کی بیویاں اور خادم نظر آئیں گے اور اعلیٰ درجہ کے جنتی ایک ایک دن میں دو دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کے بزرگ چہرے کو دیکھیں گے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی شریف میں بھی یہ حدیث ہے، یہ حدیث بروایت ابن عمر مرفوعًا بھی مروی ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ اگر اس قسم کی تمام حدیثیں اور روایتیں اور ان کی سندیں اور ان کے مختلف الفاظ یہاں جمع کریں گے تو مضمون بہت طویل ہو جائے گا بہت ہی صحیح اور حسن حدیثیں بہت سی مسند اور سنن کی کتابوں میں مروی ہیں جن میں اکثر ہماری اس تفسیر میں متفرق مقامات پر آ بھی گئی ہیں، ہاں توفیق اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس مسئلہ میں یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار مومنوں کو قیامت کے دن ہونے میں صحابہ، تابعین اور سلف امت کا اتفاق اور اجماع ہے ائمہ اسلام اور ہداۃ انام سب اس پر متفق ہیں، جو لوگ اس کی تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مراد اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھنا جیسے مجاہد اور ابوصالح رحمہ اللہ علیہم سے تفسیر ابن جریر میں مروی ہے ان کا قول حق سے دور اور سراسر تکلف سے معمور ہے، ان کے پاس اس آیت کا کیا جواب ہے جہاں بدکاروں کی نسبت فرمایا گیا ہے «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» ۱؎ [83-المطففين:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ فاجر قیامت کے دن اپنے پروردگار سے پردے میں کر دیئے جائیں گے ‘۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ ”فاجروں کے دیدار الٰہی سے محروم رہنے کا صاف مطلب یہی ہے کہ «ابرار» یعنی نیک کار لوگ دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے“ اور متواتر احادیث سے ثابت ہو چکا ہے اور اسی پر اس آیت کی روانگی الفاظ صاف دلالت کرتی ہے کہ ایماندار دیدار باری سے محظوظ ہوں گے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ چہرے حسن و خوبی والے ہوں گے کیونکہ دیدار رب پر ان کی نگاہیں پڑتی ہوں گی پھر بھلا یہ منور و حسین کیوں نہ ہوں اور بہت سے منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے، بدشکل ہو رہے ہوں گے، بے رونق اور اداس ہوں گے، انہیں یقین ہو گا کہ ہم کوئی ہلاکت اور اللہ کی پکڑ آئی، ابھی ہمیں جہنم میں جانے کا حکم ہوا۔

جیسے اور جگہ ہے «يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:106] ‏‏‏‏ ’ جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه، سیاه چہرے والوں (‏‏‏‏سے کہا جائے گا) کہ کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو ‘۔ اور آیت میں ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ» ۱؎ [80-عبس:38-42] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن بعض چہرے گورے چٹے خوبصورت اور حسین ہوں گے اور بعض کالے منہ والے ہوں گے ‘۔ اور جگہ سے «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» [88-الغاشية:7-2] ‏‏‏‏، یعنی ’ قیامت کے دن بہت سے چہرے خوف زدہ دہشت اور ڈر والے، بدرونق اور ذلیل ہوں گے جو عمل کرتے رہے، تکلیف اٹھاتے رہے لیکن آج بھڑکتی ہوئی آگ میں جا گھسے ‘۔ پھر فرمایا «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌلِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ» ۱؎ [88-الغاشية:10-8] ‏‏‏‏، یعنی ’ بعض چہرے ان دن نعتموں والے خوش و خرم چمکیلے اور شادان و فرحان بھی ہوں گے، جو اپنے گزشتہ اعمال سے خوش ہوں گے اور بلند و بالا جنتوں میں اقامت رکھتے ہوں گے ‘، اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
23۔ 1 یہ اہل ایمان کے چہرے ہونگے جو اپنے حسن انجام کی وجہ سے مطمئن، مسرور اور منور ہونگے۔ مذید دیدار الٰہی سے بھی لطف اندوز ہونگیں۔ جیسا کہ صحیح حدیث سے ثابت ہے اور اہل سنت کا متفقہ عقیدہ ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍۭ بَاسِرَۃٌ ﴿ۙ۲۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور کچھ چہرے اداس ہوں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کتنے چہرے اس دن (بد رونق اور) اداس ہوں گے
احمد رضا خان بریلوی
اور کچھ منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے
علامہ محمد حسین نجفی
اور کئی چہرے اس دن بےرونق ہوں گے۔
عبدالسلام بن محمد
اور کئی چہرے اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ { پھر جب وحی اترتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نظریں نیچی کر لیتے اور جب وحی چلی جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4927] ‏‏‏‏۔ ابن ابی حاتم میں بھی بروایت ابن عباس یہ حدیث مروی ہے اور بہت سے مفسرین سلف صالحین نے یہی فرمایا ہے یہ بھی مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت تلاوت فرمایا کرتے تھے کہ ایسا نہ ہو میں بھول جاؤں اس پر یہ آیتیں اتریں }۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطیہ عوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا بیان ہم پر ہے یعنی حلال حرام کا واضح کرنا۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ ’ ان کافروں کو قیامت کے انکار، اللہ کی پاک کتاب کو نہ ماننے اور اللہ کے عظیم الشان رسول کی اطاعت نہ کرنے پر آمادہ کرنے والی چیز حب دنیا اور غفلت آخرت ہے، حالانکہ آخرت کا دن بڑی اہمیت والا دن ہے، اس دن بہت سے لوگ تو وہ ہوں گے جن کے چہرے ہشاش بشاش، تروتازہ، خوش و خرم ہوں گے اور اپنے رب کے دیدار سے مشرف ہو رہے ہوں گے ‘۔ جیسے کہ صحیح بخاری میں ہے کہ { عنقریب تم اپنے رب کو صاف صاف کھلم کھلا اپنے سامنے دیکھو گے } ۱؎ [صحیح بخاری:7434] ‏‏‏‏، بہت سی صحیح احادیث سے متواتر سندوں سے جو ائمہ حدیث نے اپنی کتابوں میں وارد کی ہیں ثابت ہو چکا ہے کہ ایمان والے اپنے رب کے دیدار سے قیامت کے دن مشرف ہوں گے ان احادیث کو نہ تو کوئی ہٹا سکے نہ ان کا کوئی انکار کر سکے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند کو جبکہ آسمان صاف بے ابر ہو دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت یا رکاوٹ ہوتی ہے؟“، انہوں نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح تم اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7437] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں ہے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چودہویں رات کے چاند کو دیکھ رہے ہو پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی نماز (‏‏‏‏یعنی صبح کی نماز) اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نماز (‏‏‏‏یعنی عصر کی نماز) میں کسی طرح کی سستی نہ کرو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:573] ‏‏‏‏ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے انہی دونوں متبرک کتابوں میں مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو جنتیں سونے کی ہیں وہاں کے برتن اور ہر چیز سونے کی ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں اور ان کے برتن اور ہر چیز چاندی ہی کی ہے سوائے کبریائی کی چادروں کے اور کوئی آڑ نہیں“ یہ جنت عدن کا ذکر ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4878] ‏‏‏‏

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائے گا ’ کچھ چاہتے ہو کہ بڑھا دوں؟ ‘ وہ کہیں گے الٰہی تو نے ہمارے چہرے سفید نورانی کر دیئے، ہمیں جنت میں پہنچا دیا جہنم سے بچا لیا اب ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟ اسی وقت حجاب ہٹا دیئے جائیں گے اور ان اہل جنت کی نگاہیں جمال باری سے منور ہوں گی اس میں انہیں جو سرور و لذت حاصل ہو گی وہ کسی چیز میں نہ حاصل ہو گی سب سے زیادہ محبوب انہیں دیدار باری ہو گا اسی کو اس آیت میں لفظ «الزِّيَادَةُ» سے تعبیر کیا گیا ہے } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:26] ‏‏‏‏ یعنی ’ احسان کرنے والوں کو جنت بھی ملے گی اور دیدار رب بھی ‘۔ ۱؎ [صحیح مسلم:181] ‏‏‏‏ صحیح مسلم کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ مومنوں پر قیامت کے میدان میں مسکراتا ہوا تجلی فرمائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:191] ‏‏‏‏ پس معلوم ہوا کہ ایماندار قیامت کے عرصات میں اور جنتوں میں دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے ہلکے درجہ کا جنتی اپنے ملک اور اپنی ملکیت کو دو ہزار سال دیکھتا رہے گا دور اور نزدیک کی چیزیں یکساں نگاہ میں ہوں گی ہر طرف اور ہر جگہ اسی کی بیویاں اور خادم نظر آئیں گے اور اعلیٰ درجہ کے جنتی ایک ایک دن میں دو دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کے بزرگ چہرے کو دیکھیں گے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی شریف میں بھی یہ حدیث ہے، یہ حدیث بروایت ابن عمر مرفوعًا بھی مروی ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ اگر اس قسم کی تمام حدیثیں اور روایتیں اور ان کی سندیں اور ان کے مختلف الفاظ یہاں جمع کریں گے تو مضمون بہت طویل ہو جائے گا بہت ہی صحیح اور حسن حدیثیں بہت سی مسند اور سنن کی کتابوں میں مروی ہیں جن میں اکثر ہماری اس تفسیر میں متفرق مقامات پر آ بھی گئی ہیں، ہاں توفیق اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس مسئلہ میں یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار مومنوں کو قیامت کے دن ہونے میں صحابہ، تابعین اور سلف امت کا اتفاق اور اجماع ہے ائمہ اسلام اور ہداۃ انام سب اس پر متفق ہیں، جو لوگ اس کی تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مراد اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھنا جیسے مجاہد اور ابوصالح رحمہ اللہ علیہم سے تفسیر ابن جریر میں مروی ہے ان کا قول حق سے دور اور سراسر تکلف سے معمور ہے، ان کے پاس اس آیت کا کیا جواب ہے جہاں بدکاروں کی نسبت فرمایا گیا ہے «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» ۱؎ [83-المطففين:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ فاجر قیامت کے دن اپنے پروردگار سے پردے میں کر دیئے جائیں گے ‘۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ ”فاجروں کے دیدار الٰہی سے محروم رہنے کا صاف مطلب یہی ہے کہ «ابرار» یعنی نیک کار لوگ دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے“ اور متواتر احادیث سے ثابت ہو چکا ہے اور اسی پر اس آیت کی روانگی الفاظ صاف دلالت کرتی ہے کہ ایماندار دیدار باری سے محظوظ ہوں گے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ چہرے حسن و خوبی والے ہوں گے کیونکہ دیدار رب پر ان کی نگاہیں پڑتی ہوں گی پھر بھلا یہ منور و حسین کیوں نہ ہوں اور بہت سے منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے، بدشکل ہو رہے ہوں گے، بے رونق اور اداس ہوں گے، انہیں یقین ہو گا کہ ہم کوئی ہلاکت اور اللہ کی پکڑ آئی، ابھی ہمیں جہنم میں جانے کا حکم ہوا۔

جیسے اور جگہ ہے «يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:106] ‏‏‏‏ ’ جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه، سیاه چہرے والوں (‏‏‏‏سے کہا جائے گا) کہ کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو ‘۔ اور آیت میں ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ» ۱؎ [80-عبس:38-42] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن بعض چہرے گورے چٹے خوبصورت اور حسین ہوں گے اور بعض کالے منہ والے ہوں گے ‘۔ اور جگہ سے «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» [88-الغاشية:7-2] ‏‏‏‏، یعنی ’ قیامت کے دن بہت سے چہرے خوف زدہ دہشت اور ڈر والے، بدرونق اور ذلیل ہوں گے جو عمل کرتے رہے، تکلیف اٹھاتے رہے لیکن آج بھڑکتی ہوئی آگ میں جا گھسے ‘۔ پھر فرمایا «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌلِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ» ۱؎ [88-الغاشية:10-8] ‏‏‏‏، یعنی ’ بعض چہرے ان دن نعتموں والے خوش و خرم چمکیلے اور شادان و فرحان بھی ہوں گے، جو اپنے گزشتہ اعمال سے خوش ہوں گے اور بلند و بالا جنتوں میں اقامت رکھتے ہوں گے ‘، اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
24۔ 1 یہ کافروں کے چہرے ہونگے سیاہ اور بےرونق۔
(آیت 25،24) {وَ وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍۭ بَاسِرَةٌ …:” بَاسِرَةٌ”بَسَرَ يَبْسُرُ بُسُوْرًا“} (ن) تیوری چڑھانا، منہ بگاڑنا۔{” فَاقِرَةٌ “} وہ سختی جو کمر توڑ دے۔ یہ {”فَقَرَاتُ الظَّهْرِِ“} سے نکلا ہے جس کے معنی ”پیٹھ کے مہرے“ ہیں۔ کہا جاتا ہے: {”فَقَرْتُ الرَّجُلَ“} ”میں نے اس آدمی کی پیٹھ کے مہرے توڑ دیے۔“
تَظُنُّ اَنۡ یُّفۡعَلَ بِہَا فَاقِرَۃٌ ﴿ؕ۲۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور سمجھ رہے ہوں گے کہ اُن کے ساتھ کمر توڑ برتاؤ ہونے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
سمجھتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ دینے واﻻ معاملہ کیا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
سمجھتے ہوں گے کہ ان کے ساتھ وہ کی جائے گی جو کمر کو توڑ دے
علامہ محمد حسین نجفی
وہ سمجھ رہے ہوں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑ دینے والا سلوک کیا جائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
وہ یقین کریں گے کہ ان کے ساتھ کمر توڑنے والی(سختی) کی جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ { پھر جب وحی اترتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نظریں نیچی کر لیتے اور جب وحی چلی جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4927] ‏‏‏‏۔ ابن ابی حاتم میں بھی بروایت ابن عباس یہ حدیث مروی ہے اور بہت سے مفسرین سلف صالحین نے یہی فرمایا ہے یہ بھی مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت تلاوت فرمایا کرتے تھے کہ ایسا نہ ہو میں بھول جاؤں اس پر یہ آیتیں اتریں }۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطیہ عوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا بیان ہم پر ہے یعنی حلال حرام کا واضح کرنا۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ ’ ان کافروں کو قیامت کے انکار، اللہ کی پاک کتاب کو نہ ماننے اور اللہ کے عظیم الشان رسول کی اطاعت نہ کرنے پر آمادہ کرنے والی چیز حب دنیا اور غفلت آخرت ہے، حالانکہ آخرت کا دن بڑی اہمیت والا دن ہے، اس دن بہت سے لوگ تو وہ ہوں گے جن کے چہرے ہشاش بشاش، تروتازہ، خوش و خرم ہوں گے اور اپنے رب کے دیدار سے مشرف ہو رہے ہوں گے ‘۔ جیسے کہ صحیح بخاری میں ہے کہ { عنقریب تم اپنے رب کو صاف صاف کھلم کھلا اپنے سامنے دیکھو گے } ۱؎ [صحیح بخاری:7434] ‏‏‏‏، بہت سی صحیح احادیث سے متواتر سندوں سے جو ائمہ حدیث نے اپنی کتابوں میں وارد کی ہیں ثابت ہو چکا ہے کہ ایمان والے اپنے رب کے دیدار سے قیامت کے دن مشرف ہوں گے ان احادیث کو نہ تو کوئی ہٹا سکے نہ ان کا کوئی انکار کر سکے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند کو جبکہ آسمان صاف بے ابر ہو دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت یا رکاوٹ ہوتی ہے؟“، انہوں نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح تم اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7437] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں ہے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چودہویں رات کے چاند کو دیکھ رہے ہو پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی نماز (‏‏‏‏یعنی صبح کی نماز) اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نماز (‏‏‏‏یعنی عصر کی نماز) میں کسی طرح کی سستی نہ کرو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:573] ‏‏‏‏ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے انہی دونوں متبرک کتابوں میں مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو جنتیں سونے کی ہیں وہاں کے برتن اور ہر چیز سونے کی ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں اور ان کے برتن اور ہر چیز چاندی ہی کی ہے سوائے کبریائی کی چادروں کے اور کوئی آڑ نہیں“ یہ جنت عدن کا ذکر ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4878] ‏‏‏‏

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائے گا ’ کچھ چاہتے ہو کہ بڑھا دوں؟ ‘ وہ کہیں گے الٰہی تو نے ہمارے چہرے سفید نورانی کر دیئے، ہمیں جنت میں پہنچا دیا جہنم سے بچا لیا اب ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟ اسی وقت حجاب ہٹا دیئے جائیں گے اور ان اہل جنت کی نگاہیں جمال باری سے منور ہوں گی اس میں انہیں جو سرور و لذت حاصل ہو گی وہ کسی چیز میں نہ حاصل ہو گی سب سے زیادہ محبوب انہیں دیدار باری ہو گا اسی کو اس آیت میں لفظ «الزِّيَادَةُ» سے تعبیر کیا گیا ہے } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:26] ‏‏‏‏ یعنی ’ احسان کرنے والوں کو جنت بھی ملے گی اور دیدار رب بھی ‘۔ ۱؎ [صحیح مسلم:181] ‏‏‏‏ صحیح مسلم کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ مومنوں پر قیامت کے میدان میں مسکراتا ہوا تجلی فرمائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:191] ‏‏‏‏ پس معلوم ہوا کہ ایماندار قیامت کے عرصات میں اور جنتوں میں دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے ہلکے درجہ کا جنتی اپنے ملک اور اپنی ملکیت کو دو ہزار سال دیکھتا رہے گا دور اور نزدیک کی چیزیں یکساں نگاہ میں ہوں گی ہر طرف اور ہر جگہ اسی کی بیویاں اور خادم نظر آئیں گے اور اعلیٰ درجہ کے جنتی ایک ایک دن میں دو دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کے بزرگ چہرے کو دیکھیں گے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی شریف میں بھی یہ حدیث ہے، یہ حدیث بروایت ابن عمر مرفوعًا بھی مروی ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ اگر اس قسم کی تمام حدیثیں اور روایتیں اور ان کی سندیں اور ان کے مختلف الفاظ یہاں جمع کریں گے تو مضمون بہت طویل ہو جائے گا بہت ہی صحیح اور حسن حدیثیں بہت سی مسند اور سنن کی کتابوں میں مروی ہیں جن میں اکثر ہماری اس تفسیر میں متفرق مقامات پر آ بھی گئی ہیں، ہاں توفیق اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس مسئلہ میں یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار مومنوں کو قیامت کے دن ہونے میں صحابہ، تابعین اور سلف امت کا اتفاق اور اجماع ہے ائمہ اسلام اور ہداۃ انام سب اس پر متفق ہیں، جو لوگ اس کی تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مراد اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھنا جیسے مجاہد اور ابوصالح رحمہ اللہ علیہم سے تفسیر ابن جریر میں مروی ہے ان کا قول حق سے دور اور سراسر تکلف سے معمور ہے، ان کے پاس اس آیت کا کیا جواب ہے جہاں بدکاروں کی نسبت فرمایا گیا ہے «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» ۱؎ [83-المطففين:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ فاجر قیامت کے دن اپنے پروردگار سے پردے میں کر دیئے جائیں گے ‘۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ ”فاجروں کے دیدار الٰہی سے محروم رہنے کا صاف مطلب یہی ہے کہ «ابرار» یعنی نیک کار لوگ دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے“ اور متواتر احادیث سے ثابت ہو چکا ہے اور اسی پر اس آیت کی روانگی الفاظ صاف دلالت کرتی ہے کہ ایماندار دیدار باری سے محظوظ ہوں گے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ چہرے حسن و خوبی والے ہوں گے کیونکہ دیدار رب پر ان کی نگاہیں پڑتی ہوں گی پھر بھلا یہ منور و حسین کیوں نہ ہوں اور بہت سے منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے، بدشکل ہو رہے ہوں گے، بے رونق اور اداس ہوں گے، انہیں یقین ہو گا کہ ہم کوئی ہلاکت اور اللہ کی پکڑ آئی، ابھی ہمیں جہنم میں جانے کا حکم ہوا۔

جیسے اور جگہ ہے «يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:106] ‏‏‏‏ ’ جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه، سیاه چہرے والوں (‏‏‏‏سے کہا جائے گا) کہ کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو ‘۔ اور آیت میں ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ» ۱؎ [80-عبس:38-42] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن بعض چہرے گورے چٹے خوبصورت اور حسین ہوں گے اور بعض کالے منہ والے ہوں گے ‘۔ اور جگہ سے «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» [88-الغاشية:7-2] ‏‏‏‏، یعنی ’ قیامت کے دن بہت سے چہرے خوف زدہ دہشت اور ڈر والے، بدرونق اور ذلیل ہوں گے جو عمل کرتے رہے، تکلیف اٹھاتے رہے لیکن آج بھڑکتی ہوئی آگ میں جا گھسے ‘۔ پھر فرمایا «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌلِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ» ۱؎ [88-الغاشية:10-8] ‏‏‏‏، یعنی ’ بعض چہرے ان دن نعتموں والے خوش و خرم چمکیلے اور شادان و فرحان بھی ہوں گے، جو اپنے گزشتہ اعمال سے خوش ہوں گے اور بلند و بالا جنتوں میں اقامت رکھتے ہوں گے ‘، اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔
25۔ 1 اور وہ یہی ہے کہ جہنم میں ان کو پھینک دیا جائے گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
کَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِیَ ﴿ۙ۲۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہرگز نہیں، جب جان حلق تک پہنچ جائے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
نہیں نہیں جب روح ہنسلی تک پہنچے گی
احمد رضا خان بریلوی
ہاں ہاں جب جان گلے کو پہنچ جائے گی
علامہ محمد حسین نجفی
ہرگز نہیں جب جان (کھینچ کر) حلق تک پہنچ جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
ہرگز نہیں، ( وہ وقت یاد کرو) جب (جان) ہنسلیوں تک پہنچ جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے ٭٭

یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ «كَلَّا» کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ ’ اے ابن آدم! تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے ‘ اور اگر اس لفظ کو «حقا» کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی ’ یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے ‘۔ «تَّرَاقِيَ» جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [56-الواقعة:87-83] ‏‏‏‏ فرمایا ہے یعنی ’ جبکہ روح حلق تک پہنچ جائے اور تم دیکھ رہے ہو اور ہم تم سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے پس اگر تم حکم الٰہی کے ماتحت نہیں ہو اور اپنے اس قول میں سچے ہو تو اس روح کو کیوں نہیں لوٹا لاتے؟ ‘ اس مقام پر اس حدیث پر بھی نظر ڈال لی جائے جو بشر بن حجاج کی روایت سے سورۃ یٰسین کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ «تَّرَاقِيَ» جو جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو «حلقوم» کے قریب ہیں اس وقت ہائی دہائی ہوتی ہے کہ کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کرے یعنی کسی طبیب وغیرہ کے ذریعہ شفاء ہو سکتی ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہے یعنی اس روح کو لے کر کون چڑھے گا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے؟ اور پنڈلی سے پنڈلی کے رگڑا کھانے کا ایک مطلب تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے یہ مروی ہے کہ ”دنیا اور آخرت اس پر جمع ہو جاتی ہے دنیا کا آخری دن ہوتا ہے اور آخرت کا پہلا دن ہوتا ہے جس سے سختی اور سخت ہو جاتی ہے مگر جس پر رب رحیم کا رحم و کرم ہو۔‏‏‏‏“ دوسرا مطلب عکرمہ رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ایک بہت بڑا امیر دوسرے بہت بڑے امیر سے مل جاتا ہے بلا پر بلا آ جاتی ہے، تیسرا مطلب حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ خود مرنے والے کی بے قراری، شدت درد سے پاؤں پر پاؤں کا چڑھ جانا مراد ہے۔ پہلے تو ان پیروں پر چلتا پھرتا تھا اب ان میں جان کہاں؟ اور یہ بھی مروی ہے کہ کفن کے وقت پنڈلی سے پنڈلی کامل جانا مراد ہے۔

چوتھا مطلب ضحاک رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ دو کام دو طرف جمع ہو جاتے ہیں ادھر تو لوگ اس کے جسم کو نہلا دھلا کر سپرد خاک کرنے کو تیار ہیں، ادھر فرشتے اس کی روح لے جانے میں مشغول ہیں، اگر نیک ہے تو عمدہ تیاری اور دھوم کے ساتھ، اگر بد ہے تو نہایت ہی برائی اور بدتر حالت کے ساتھ، اب لوٹنے، قرار پانے، رہنے سہنے، پہنچ جانے، کھچ کر اور چل کر پہنچنے کی جگہ اللہ ہی کی طرف ہے روح آسمان کی طرف چڑھائی جاتی ہے پھر وہاں سے حکم ہوتا ہے کہ اسے زمین کی طرف واپس لے جاؤ میں نے ان سب کو اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹا کر لے جاؤں گا اور پھر اسی سے انہیں دوبارہ نکالوں گا۔‏‏‏‏“ جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں آیا ہے، یہی مضمون اور جگہ بیان ہوا ہے «وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:62،61] ‏‏‏‏، ’ وہی اپنے بندوں پر غالب ہے وہی تمہاری حفاظت کے لیے تمہارے پاس فرشتے بھیجتا ہے یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اسے فوت کر لیتے ہیں اور وہ کوئی قصور نہیں کرتے پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جاتے ہیں یقین مانو کہ حکم اسی کا چلتا ہے اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے ‘۔ پھر اس کافر انسان کا حال بیان ہو رہا ہے جو اپنے دل اور عقیدے سے حق کا جھٹلانے والا اور اپنے بدن اور عمل سے حق سے روگردانی کرنے والا تھا جس کا ظاہر باطن برباد ہو چکا تھا اور کوئی بھلائی اس میں باقی نہیں رہی تھی، نہ وہ اللہ کی باتوں کی دل سے تصدیق کرتا تھا نہ جسم سے عبادت اللہ بجا لاتا تھا یہاں تک کہ نماز کا بھی چور تھا۔
26۔ 1 یعنی یہ ممکن نہیں کہ کافر قیامت پر ایمان لے آئیں۔ 26۔ 2 گردن کے قریب، سینے اور کندھے کے درمیان ایک ہڈی ہے، یعنی جب موت آئے گی آہنی پنجہ تمہیں اپنی گرفت میں لے لے گا۔
(آیت 26تا30) ➊ {كَلَّاۤ اِذَا بَلَغَتِ التَّرَاقِيَ …: ” بَلَغَتْ “} کا فاعل {” نَفْسٌ“} ہے جو محذوف ہے، یعنی جان ہنسلیوں تک پہنچ جائے گی۔ {” التَّرَاقِيَ”تَرْقُوَةٌ“} کی جمع ہے، سینے کی اوپر والی ہڈی جو گلے کے ساتھ ہے، ہنسلی۔ {” رَاقٍ”رَقٰي يَرْقِيْ“} (ض) سے اسم فاعل ہے، دم کرنے والا۔ {” ظَنَّ “} کا معنی گمان کرنا ہے، اگر اس کے بعد {”أَنَّ“} ہو تو یقین کے معنی میں بھی آتا ہے۔ {” الْمَسَاقُ “ ” سَاقَ يَسُوْقُ سَوْقًا “} (ن) سے مصدر میمی ہے، ہانکنا، چلانا۔ ➋ { ” كَلَّاۤ “} نہیں نہیں، یعنی تمھارا جلدی حاصل ہونے والی دنیا سے محبت کرنا اور آخرت کو چھوڑ دینا ہر گز درست نہیں، تمھارے سامنے کتنے لوگ دنیا سے رخصت ہوئے، ان کا آخری وقت یاد کرو جب جان پیروں سے اور تمام جسم سے نکل کر ہنسلیوں تک پہنچ جاتی ہے اور حکیموں ڈاکٹروں سے مایوس ہو کر کسی دم کرنے والے کی تلاش شروع ہوتی ہے کہ شاید دم ہی سے اچھا ہو جائے۔ ادھر بیمار کو زندگی سے نا امیدی ہو گئی اور مرنے کا گمان قوی ہو گیا۔ پکے دنیا داروں کو جان بہت پیاری ہوتی ہے، وہ مرنا نہیں چاہتے، آخری وقت تک ان کو زندگی کی توقع رہتی ہے، اس لیے یقین کی جگہ گمان کا لفظ فرمایا، لیکن آخر یہ گمان یوں یقین کے درجے کو پہنچ گیا کہ پاؤں کا دم نکل گیا۔پنڈلیاں سوکھ کر ایک دوسرے سے لپٹ گئیں، یہاں تک کہ ٹانگوں کو کوئی دوسرا آدمی سیدھا نہ کرے تو سمٹی ہوئی ہی رہ جائیں، آخر سارے جسم میں سے کھنچ کر جو جان حلق میں آگئی تھی اس نے بھی جسم کو چھوڑ دیا اور پھر اس کی روانگی اس رب تعالیٰ کی طرف ہو گئی جس نے پہلے جسم میں وہ جان ڈالی تھی۔(خلاصہ احسن التفاسیر)
وَ قِیۡلَ مَنۡ ٜ رَاقٍ ﴿ۙ۲۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا
مولانا محمد جوناگڑھی
اور کہا جائے گا کہ کوئی جھاڑ پھونک کرنے واﻻ ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
اور کہیں گے کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرے
علامہ محمد حسین نجفی
اور کہاجائے گا کہ اب کون ہے جھاڑ پھونک کرنے والا؟
عبدالسلام بن محمد
اور کہا جائے گا کون ہے دم کرنے والا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے ٭٭

یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ «كَلَّا» کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ ’ اے ابن آدم! تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے ‘ اور اگر اس لفظ کو «حقا» کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی ’ یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے ‘۔ «تَّرَاقِيَ» جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [56-الواقعة:87-83] ‏‏‏‏ فرمایا ہے یعنی ’ جبکہ روح حلق تک پہنچ جائے اور تم دیکھ رہے ہو اور ہم تم سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے پس اگر تم حکم الٰہی کے ماتحت نہیں ہو اور اپنے اس قول میں سچے ہو تو اس روح کو کیوں نہیں لوٹا لاتے؟ ‘ اس مقام پر اس حدیث پر بھی نظر ڈال لی جائے جو بشر بن حجاج کی روایت سے سورۃ یٰسین کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ «تَّرَاقِيَ» جو جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو «حلقوم» کے قریب ہیں اس وقت ہائی دہائی ہوتی ہے کہ کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کرے یعنی کسی طبیب وغیرہ کے ذریعہ شفاء ہو سکتی ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہے یعنی اس روح کو لے کر کون چڑھے گا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے؟ اور پنڈلی سے پنڈلی کے رگڑا کھانے کا ایک مطلب تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے یہ مروی ہے کہ ”دنیا اور آخرت اس پر جمع ہو جاتی ہے دنیا کا آخری دن ہوتا ہے اور آخرت کا پہلا دن ہوتا ہے جس سے سختی اور سخت ہو جاتی ہے مگر جس پر رب رحیم کا رحم و کرم ہو۔‏‏‏‏“ دوسرا مطلب عکرمہ رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ایک بہت بڑا امیر دوسرے بہت بڑے امیر سے مل جاتا ہے بلا پر بلا آ جاتی ہے، تیسرا مطلب حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ خود مرنے والے کی بے قراری، شدت درد سے پاؤں پر پاؤں کا چڑھ جانا مراد ہے۔ پہلے تو ان پیروں پر چلتا پھرتا تھا اب ان میں جان کہاں؟ اور یہ بھی مروی ہے کہ کفن کے وقت پنڈلی سے پنڈلی کامل جانا مراد ہے۔

چوتھا مطلب ضحاک رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ دو کام دو طرف جمع ہو جاتے ہیں ادھر تو لوگ اس کے جسم کو نہلا دھلا کر سپرد خاک کرنے کو تیار ہیں، ادھر فرشتے اس کی روح لے جانے میں مشغول ہیں، اگر نیک ہے تو عمدہ تیاری اور دھوم کے ساتھ، اگر بد ہے تو نہایت ہی برائی اور بدتر حالت کے ساتھ، اب لوٹنے، قرار پانے، رہنے سہنے، پہنچ جانے، کھچ کر اور چل کر پہنچنے کی جگہ اللہ ہی کی طرف ہے روح آسمان کی طرف چڑھائی جاتی ہے پھر وہاں سے حکم ہوتا ہے کہ اسے زمین کی طرف واپس لے جاؤ میں نے ان سب کو اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹا کر لے جاؤں گا اور پھر اسی سے انہیں دوبارہ نکالوں گا۔‏‏‏‏“ جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں آیا ہے، یہی مضمون اور جگہ بیان ہوا ہے «وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:62،61] ‏‏‏‏، ’ وہی اپنے بندوں پر غالب ہے وہی تمہاری حفاظت کے لیے تمہارے پاس فرشتے بھیجتا ہے یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اسے فوت کر لیتے ہیں اور وہ کوئی قصور نہیں کرتے پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جاتے ہیں یقین مانو کہ حکم اسی کا چلتا ہے اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے ‘۔ پھر اس کافر انسان کا حال بیان ہو رہا ہے جو اپنے دل اور عقیدے سے حق کا جھٹلانے والا اور اپنے بدن اور عمل سے حق سے روگردانی کرنے والا تھا جس کا ظاہر باطن برباد ہو چکا تھا اور کوئی بھلائی اس میں باقی نہیں رہی تھی، نہ وہ اللہ کی باتوں کی دل سے تصدیق کرتا تھا نہ جسم سے عبادت اللہ بجا لاتا تھا یہاں تک کہ نماز کا بھی چور تھا۔
27۔ 1 یعنی حاضرین میں سے کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کے ذریعہ سے تمہیں موت کے پنجے سے چھڑا لے۔ بعض نے اس کا ترجمہ یہ بھی کیا ہے کہ اس کی روح کون لے کر چڑھے گا ملائکہ رحمت یا ملائکہ عذاب؟ اس صورت میں یہ قول فرشتوں کا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَّ ظَنَّ اَنَّہُ الۡفِرَاقُ ﴿ۙ۲۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور آدمی سمجھ لے گا کہ یہ دنیا سے جدائی کا وقت ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور جان لیا اس نے کہ یہ وقت جدائی ہے
احمد رضا خان بریلوی
سمجھ لے گا کہ یہ جدائی کی گھڑی ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ سمجھ لے گا کہ اب (دنیا سے) جدائی کا وقت ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اوروہ یقین کرلے گا کہ یہ جدائی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے ٭٭

یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ «كَلَّا» کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ ’ اے ابن آدم! تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے ‘ اور اگر اس لفظ کو «حقا» کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی ’ یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے ‘۔ «تَّرَاقِيَ» جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [56-الواقعة:87-83] ‏‏‏‏ فرمایا ہے یعنی ’ جبکہ روح حلق تک پہنچ جائے اور تم دیکھ رہے ہو اور ہم تم سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے پس اگر تم حکم الٰہی کے ماتحت نہیں ہو اور اپنے اس قول میں سچے ہو تو اس روح کو کیوں نہیں لوٹا لاتے؟ ‘ اس مقام پر اس حدیث پر بھی نظر ڈال لی جائے جو بشر بن حجاج کی روایت سے سورۃ یٰسین کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ «تَّرَاقِيَ» جو جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو «حلقوم» کے قریب ہیں اس وقت ہائی دہائی ہوتی ہے کہ کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کرے یعنی کسی طبیب وغیرہ کے ذریعہ شفاء ہو سکتی ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہے یعنی اس روح کو لے کر کون چڑھے گا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے؟ اور پنڈلی سے پنڈلی کے رگڑا کھانے کا ایک مطلب تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے یہ مروی ہے کہ ”دنیا اور آخرت اس پر جمع ہو جاتی ہے دنیا کا آخری دن ہوتا ہے اور آخرت کا پہلا دن ہوتا ہے جس سے سختی اور سخت ہو جاتی ہے مگر جس پر رب رحیم کا رحم و کرم ہو۔‏‏‏‏“ دوسرا مطلب عکرمہ رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ایک بہت بڑا امیر دوسرے بہت بڑے امیر سے مل جاتا ہے بلا پر بلا آ جاتی ہے، تیسرا مطلب حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ خود مرنے والے کی بے قراری، شدت درد سے پاؤں پر پاؤں کا چڑھ جانا مراد ہے۔ پہلے تو ان پیروں پر چلتا پھرتا تھا اب ان میں جان کہاں؟ اور یہ بھی مروی ہے کہ کفن کے وقت پنڈلی سے پنڈلی کامل جانا مراد ہے۔

چوتھا مطلب ضحاک رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ دو کام دو طرف جمع ہو جاتے ہیں ادھر تو لوگ اس کے جسم کو نہلا دھلا کر سپرد خاک کرنے کو تیار ہیں، ادھر فرشتے اس کی روح لے جانے میں مشغول ہیں، اگر نیک ہے تو عمدہ تیاری اور دھوم کے ساتھ، اگر بد ہے تو نہایت ہی برائی اور بدتر حالت کے ساتھ، اب لوٹنے، قرار پانے، رہنے سہنے، پہنچ جانے، کھچ کر اور چل کر پہنچنے کی جگہ اللہ ہی کی طرف ہے روح آسمان کی طرف چڑھائی جاتی ہے پھر وہاں سے حکم ہوتا ہے کہ اسے زمین کی طرف واپس لے جاؤ میں نے ان سب کو اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹا کر لے جاؤں گا اور پھر اسی سے انہیں دوبارہ نکالوں گا۔‏‏‏‏“ جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں آیا ہے، یہی مضمون اور جگہ بیان ہوا ہے «وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:62،61] ‏‏‏‏، ’ وہی اپنے بندوں پر غالب ہے وہی تمہاری حفاظت کے لیے تمہارے پاس فرشتے بھیجتا ہے یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اسے فوت کر لیتے ہیں اور وہ کوئی قصور نہیں کرتے پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جاتے ہیں یقین مانو کہ حکم اسی کا چلتا ہے اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے ‘۔ پھر اس کافر انسان کا حال بیان ہو رہا ہے جو اپنے دل اور عقیدے سے حق کا جھٹلانے والا اور اپنے بدن اور عمل سے حق سے روگردانی کرنے والا تھا جس کا ظاہر باطن برباد ہو چکا تھا اور کوئی بھلائی اس میں باقی نہیں رہی تھی، نہ وہ اللہ کی باتوں کی دل سے تصدیق کرتا تھا نہ جسم سے عبادت اللہ بجا لاتا تھا یہاں تک کہ نماز کا بھی چور تھا۔
28۔ 1 یعنی وہ شخص یقین کرلے گا جس کی روح ہنسلی تک پہنچ گئی ہے کہ اب، مال، اولاد اور دنیا کی ہر چیز سے جدائی کا مرحلہ آگیا ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
وَ الۡتَفَّتِ السَّاقُ بِالسَّاقِ ﴿ۙ۲۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور پنڈلی سے پنڈلی جڑ جائے گی
مولانا محمد جوناگڑھی
اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی
احمد رضا خان بریلوی
اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی
علامہ محمد حسین نجفی
اور پنڈلی سے پنڈلی لپٹ جائے گی۔
عبدالسلام بن محمد
اور پنڈلی، پنڈلی کے ساتھ لپٹ جائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے ٭٭

یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ «كَلَّا» کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ ’ اے ابن آدم! تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے ‘ اور اگر اس لفظ کو «حقا» کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی ’ یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے ‘۔ «تَّرَاقِيَ» جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [56-الواقعة:87-83] ‏‏‏‏ فرمایا ہے یعنی ’ جبکہ روح حلق تک پہنچ جائے اور تم دیکھ رہے ہو اور ہم تم سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے پس اگر تم حکم الٰہی کے ماتحت نہیں ہو اور اپنے اس قول میں سچے ہو تو اس روح کو کیوں نہیں لوٹا لاتے؟ ‘ اس مقام پر اس حدیث پر بھی نظر ڈال لی جائے جو بشر بن حجاج کی روایت سے سورۃ یٰسین کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ «تَّرَاقِيَ» جو جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو «حلقوم» کے قریب ہیں اس وقت ہائی دہائی ہوتی ہے کہ کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کرے یعنی کسی طبیب وغیرہ کے ذریعہ شفاء ہو سکتی ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہے یعنی اس روح کو لے کر کون چڑھے گا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے؟ اور پنڈلی سے پنڈلی کے رگڑا کھانے کا ایک مطلب تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے یہ مروی ہے کہ ”دنیا اور آخرت اس پر جمع ہو جاتی ہے دنیا کا آخری دن ہوتا ہے اور آخرت کا پہلا دن ہوتا ہے جس سے سختی اور سخت ہو جاتی ہے مگر جس پر رب رحیم کا رحم و کرم ہو۔‏‏‏‏“ دوسرا مطلب عکرمہ رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ایک بہت بڑا امیر دوسرے بہت بڑے امیر سے مل جاتا ہے بلا پر بلا آ جاتی ہے، تیسرا مطلب حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ خود مرنے والے کی بے قراری، شدت درد سے پاؤں پر پاؤں کا چڑھ جانا مراد ہے۔ پہلے تو ان پیروں پر چلتا پھرتا تھا اب ان میں جان کہاں؟ اور یہ بھی مروی ہے کہ کفن کے وقت پنڈلی سے پنڈلی کامل جانا مراد ہے۔

چوتھا مطلب ضحاک رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ دو کام دو طرف جمع ہو جاتے ہیں ادھر تو لوگ اس کے جسم کو نہلا دھلا کر سپرد خاک کرنے کو تیار ہیں، ادھر فرشتے اس کی روح لے جانے میں مشغول ہیں، اگر نیک ہے تو عمدہ تیاری اور دھوم کے ساتھ، اگر بد ہے تو نہایت ہی برائی اور بدتر حالت کے ساتھ، اب لوٹنے، قرار پانے، رہنے سہنے، پہنچ جانے، کھچ کر اور چل کر پہنچنے کی جگہ اللہ ہی کی طرف ہے روح آسمان کی طرف چڑھائی جاتی ہے پھر وہاں سے حکم ہوتا ہے کہ اسے زمین کی طرف واپس لے جاؤ میں نے ان سب کو اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹا کر لے جاؤں گا اور پھر اسی سے انہیں دوبارہ نکالوں گا۔‏‏‏‏“ جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں آیا ہے، یہی مضمون اور جگہ بیان ہوا ہے «وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:62،61] ‏‏‏‏، ’ وہی اپنے بندوں پر غالب ہے وہی تمہاری حفاظت کے لیے تمہارے پاس فرشتے بھیجتا ہے یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اسے فوت کر لیتے ہیں اور وہ کوئی قصور نہیں کرتے پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جاتے ہیں یقین مانو کہ حکم اسی کا چلتا ہے اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے ‘۔ پھر اس کافر انسان کا حال بیان ہو رہا ہے جو اپنے دل اور عقیدے سے حق کا جھٹلانے والا اور اپنے بدن اور عمل سے حق سے روگردانی کرنے والا تھا جس کا ظاہر باطن برباد ہو چکا تھا اور کوئی بھلائی اس میں باقی نہیں رہی تھی، نہ وہ اللہ کی باتوں کی دل سے تصدیق کرتا تھا نہ جسم سے عبادت اللہ بجا لاتا تھا یہاں تک کہ نماز کا بھی چور تھا۔
29۔ 1 اس سے یا تو موت کے وقت پنڈلی کا پنڈلی کے ساتھ مل جانا مراد ہے یا پے درپے تکلیفیں، بہت سے مفسرین نے دوسرے معنی کئے ہیں۔ (فتح القدیر)
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اِلٰی رَبِّکَ یَوۡمَئِذِۣ الۡمَسَاقُ ﴿ؕ٪۳۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
وہ دن ہوگا تیرے رب کی طرف روانگی کا
مولانا محمد جوناگڑھی
آج تیرے پروردگار کی طرف چلنا ہے
احمد رضا خان بریلوی
اس دن تیرے رب ہی کی طرف ہانکنا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
اس دن تمہارے پروردوگار کی طرف کھینچ کرجانا ہوگا۔
عبدالسلام بن محمد
اس دن تیرے رب ہی کی طرف روانگی ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے ٭٭

یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ «كَلَّا» کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ ’ اے ابن آدم! تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے ‘ اور اگر اس لفظ کو «حقا» کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی ’ یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے ‘۔ «تَّرَاقِيَ» جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [56-الواقعة:87-83] ‏‏‏‏ فرمایا ہے یعنی ’ جبکہ روح حلق تک پہنچ جائے اور تم دیکھ رہے ہو اور ہم تم سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے پس اگر تم حکم الٰہی کے ماتحت نہیں ہو اور اپنے اس قول میں سچے ہو تو اس روح کو کیوں نہیں لوٹا لاتے؟ ‘ اس مقام پر اس حدیث پر بھی نظر ڈال لی جائے جو بشر بن حجاج کی روایت سے سورۃ یٰسین کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ «تَّرَاقِيَ» جو جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو «حلقوم» کے قریب ہیں اس وقت ہائی دہائی ہوتی ہے کہ کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کرے یعنی کسی طبیب وغیرہ کے ذریعہ شفاء ہو سکتی ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہے یعنی اس روح کو لے کر کون چڑھے گا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے؟ اور پنڈلی سے پنڈلی کے رگڑا کھانے کا ایک مطلب تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے یہ مروی ہے کہ ”دنیا اور آخرت اس پر جمع ہو جاتی ہے دنیا کا آخری دن ہوتا ہے اور آخرت کا پہلا دن ہوتا ہے جس سے سختی اور سخت ہو جاتی ہے مگر جس پر رب رحیم کا رحم و کرم ہو۔‏‏‏‏“ دوسرا مطلب عکرمہ رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ایک بہت بڑا امیر دوسرے بہت بڑے امیر سے مل جاتا ہے بلا پر بلا آ جاتی ہے، تیسرا مطلب حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ خود مرنے والے کی بے قراری، شدت درد سے پاؤں پر پاؤں کا چڑھ جانا مراد ہے۔ پہلے تو ان پیروں پر چلتا پھرتا تھا اب ان میں جان کہاں؟ اور یہ بھی مروی ہے کہ کفن کے وقت پنڈلی سے پنڈلی کامل جانا مراد ہے۔

چوتھا مطلب ضحاک رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ دو کام دو طرف جمع ہو جاتے ہیں ادھر تو لوگ اس کے جسم کو نہلا دھلا کر سپرد خاک کرنے کو تیار ہیں، ادھر فرشتے اس کی روح لے جانے میں مشغول ہیں، اگر نیک ہے تو عمدہ تیاری اور دھوم کے ساتھ، اگر بد ہے تو نہایت ہی برائی اور بدتر حالت کے ساتھ، اب لوٹنے، قرار پانے، رہنے سہنے، پہنچ جانے، کھچ کر اور چل کر پہنچنے کی جگہ اللہ ہی کی طرف ہے روح آسمان کی طرف چڑھائی جاتی ہے پھر وہاں سے حکم ہوتا ہے کہ اسے زمین کی طرف واپس لے جاؤ میں نے ان سب کو اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹا کر لے جاؤں گا اور پھر اسی سے انہیں دوبارہ نکالوں گا۔‏‏‏‏“ جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں آیا ہے، یہی مضمون اور جگہ بیان ہوا ہے «وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:62،61] ‏‏‏‏، ’ وہی اپنے بندوں پر غالب ہے وہی تمہاری حفاظت کے لیے تمہارے پاس فرشتے بھیجتا ہے یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اسے فوت کر لیتے ہیں اور وہ کوئی قصور نہیں کرتے پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جاتے ہیں یقین مانو کہ حکم اسی کا چلتا ہے اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے ‘۔ پھر اس کافر انسان کا حال بیان ہو رہا ہے جو اپنے دل اور عقیدے سے حق کا جھٹلانے والا اور اپنے بدن اور عمل سے حق سے روگردانی کرنے والا تھا جس کا ظاہر باطن برباد ہو چکا تھا اور کوئی بھلائی اس میں باقی نہیں رہی تھی، نہ وہ اللہ کی باتوں کی دل سے تصدیق کرتا تھا نہ جسم سے عبادت اللہ بجا لاتا تھا یہاں تک کہ نماز کا بھی چور تھا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰی ﴿ۙ۳۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
مگر اُس نے نہ سچ مانا، اور نہ نماز پڑھی
مولانا محمد جوناگڑھی
اس نے نہ تو تصدیق کی نہ نماز ادا کی
احمد رضا خان بریلوی
اس نے نہ تو سچ مانا اور نہ نماز پڑھی،
علامہ محمد حسین نجفی
(اتنا کچھ سمجھانے کے باوجود اس مخصوص آدمی نے) نہ تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی۔
عبدالسلام بن محمد
سو نہ اس نے سچ مانا اور نہ نماز ادا کی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے ٭٭

یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ «كَلَّا» کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ ’ اے ابن آدم! تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے ‘ اور اگر اس لفظ کو «حقا» کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی ’ یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے ‘۔ «تَّرَاقِيَ» جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [56-الواقعة:87-83] ‏‏‏‏ فرمایا ہے یعنی ’ جبکہ روح حلق تک پہنچ جائے اور تم دیکھ رہے ہو اور ہم تم سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے پس اگر تم حکم الٰہی کے ماتحت نہیں ہو اور اپنے اس قول میں سچے ہو تو اس روح کو کیوں نہیں لوٹا لاتے؟ ‘ اس مقام پر اس حدیث پر بھی نظر ڈال لی جائے جو بشر بن حجاج کی روایت سے سورۃ یٰسین کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ «تَّرَاقِيَ» جو جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو «حلقوم» کے قریب ہیں اس وقت ہائی دہائی ہوتی ہے کہ کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کرے یعنی کسی طبیب وغیرہ کے ذریعہ شفاء ہو سکتی ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہے یعنی اس روح کو لے کر کون چڑھے گا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے؟ اور پنڈلی سے پنڈلی کے رگڑا کھانے کا ایک مطلب تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے یہ مروی ہے کہ ”دنیا اور آخرت اس پر جمع ہو جاتی ہے دنیا کا آخری دن ہوتا ہے اور آخرت کا پہلا دن ہوتا ہے جس سے سختی اور سخت ہو جاتی ہے مگر جس پر رب رحیم کا رحم و کرم ہو۔‏‏‏‏“ دوسرا مطلب عکرمہ رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ایک بہت بڑا امیر دوسرے بہت بڑے امیر سے مل جاتا ہے بلا پر بلا آ جاتی ہے، تیسرا مطلب حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ خود مرنے والے کی بے قراری، شدت درد سے پاؤں پر پاؤں کا چڑھ جانا مراد ہے۔ پہلے تو ان پیروں پر چلتا پھرتا تھا اب ان میں جان کہاں؟ اور یہ بھی مروی ہے کہ کفن کے وقت پنڈلی سے پنڈلی کامل جانا مراد ہے۔

چوتھا مطلب ضحاک رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ دو کام دو طرف جمع ہو جاتے ہیں ادھر تو لوگ اس کے جسم کو نہلا دھلا کر سپرد خاک کرنے کو تیار ہیں، ادھر فرشتے اس کی روح لے جانے میں مشغول ہیں، اگر نیک ہے تو عمدہ تیاری اور دھوم کے ساتھ، اگر بد ہے تو نہایت ہی برائی اور بدتر حالت کے ساتھ، اب لوٹنے، قرار پانے، رہنے سہنے، پہنچ جانے، کھچ کر اور چل کر پہنچنے کی جگہ اللہ ہی کی طرف ہے روح آسمان کی طرف چڑھائی جاتی ہے پھر وہاں سے حکم ہوتا ہے کہ اسے زمین کی طرف واپس لے جاؤ میں نے ان سب کو اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹا کر لے جاؤں گا اور پھر اسی سے انہیں دوبارہ نکالوں گا۔‏‏‏‏“ جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں آیا ہے، یہی مضمون اور جگہ بیان ہوا ہے «وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:62،61] ‏‏‏‏، ’ وہی اپنے بندوں پر غالب ہے وہی تمہاری حفاظت کے لیے تمہارے پاس فرشتے بھیجتا ہے یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اسے فوت کر لیتے ہیں اور وہ کوئی قصور نہیں کرتے پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جاتے ہیں یقین مانو کہ حکم اسی کا چلتا ہے اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے ‘۔ پھر اس کافر انسان کا حال بیان ہو رہا ہے جو اپنے دل اور عقیدے سے حق کا جھٹلانے والا اور اپنے بدن اور عمل سے حق سے روگردانی کرنے والا تھا جس کا ظاہر باطن برباد ہو چکا تھا اور کوئی بھلائی اس میں باقی نہیں رہی تھی، نہ وہ اللہ کی باتوں کی دل سے تصدیق کرتا تھا نہ جسم سے عبادت اللہ بجا لاتا تھا یہاں تک کہ نماز کا بھی چور تھا۔
31۔ 1 یعنی اس انسان نے رسول اور قرآن کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی یعنی اللہ کی عبادت نہیں کی۔
(آیت 31تا35) ➊ {فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰى…:يَتَمَطّٰى “} ”م ط و “ سے {”تَمَطّٰي“} کا مضارع ہے۔ {”مَطَا“} کا معنی پیٹھ ہے، یعنی اکڑتا ہوا۔ {” اَوْلٰى “} ”و ل ی“ سے اسم تفضیل ہے، زیادہ لائق، زیادہ حق دار، زیادہ قریب۔ ➋ {” فَلَا صَدَّقَ “} (سو نہ اس نے سچ مانا) میں ضمیر {” الْاِنْسَانُ “} کی طرف جا رہی ہے جس کا اوپر {” اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗ “} میں ذکر ہے۔ یعنی یہ دیکھنے کے بعد کہ موت کے وقت انسان پر کیا گزرتی ہے اور کس طرح بے بس ہو کر اسے اپنے رب کی طرف روانہ ہونا پڑتا ہے، حق تو یہ تھا کہ وہ آخرت کو سچ مانتا اور اس دن کی نجات کے لیے نماز ادا کرتا اور اللہ کی زمین پر عجز و بندگی اختیار کرتا، مگر اس نے نہ عقیدہ کی اصلاح کی اور نہ عمل کی اور نہ لوگوں کے ساتھ اپنی روش درست کی، بلکہ آخرت کو اور پیدا کرنے والے کو جھٹلایا اور ماننے کے بجائے منہ پھیر کر چلا گیا اور عجز و بندگی اختیار کرنے کے بجائے گھر کو گیا تو اکڑتا ہوا گیا۔ ➌ { اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى:} اس آیت کی سب سے بہتر تفسیر وہ ہے جو حافظ ابن کثیر نے فرمائی ہے کہ اس کافر کو جس نے اپنے خالق سے کفر کیا اور متکبرانہ چال چلا، اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے طنز اور دھمکی کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ جب تو نے جھٹلا دیا اور اپنے خالق سے کفر کی جرأت کرچکا تو تیرا حق بنتا ہے کہ یہ چال چلے اور یہی چال تیرے لائق ہے۔ ہم تمھاری چال دیکھ رہے ہیں اور تمھیں اس کا نتیجہ مل جائے گا، جیسا کہ فرمایا: «كُلُوْا وَ تَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» ‏‏‏‏ [ المرسلات: ۴۶ ] ”کھاؤ اور فائدہ اٹھاؤ، تھوڑا، یقینا تم مجرم ہو۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» ‏‏‏‏ [ الزمر: ۱۵ ] ”اس اللہ کے علاوہ جس کی چاہو عبادت کرتے رہو۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ» ‏‏‏‏ [ المؤمن: ۴۰] ”تم جو چاہو کرو۔“ {” اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى (34) ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى “} میں تکرار مزید وعید کے لیے ہے۔ یہ معنی اس لیے بھی بہتر ہے کہ {” اَوْلٰى “} کا معنی ”زیادہ لائق، زیادہ حق دار “ معروف ہے۔ ➍ بہت سے مفسرین نے {” اَوْلٰى لَكَ “} کا معنی ”خرابی ہے تیرے لیے، افسوس ہے تیرے لیے، ہلاکت ہے تیرے لیے“ کیا ہے، کیونکہ {” اَوْلٰى لَكَ “} کلام عرب میں {”وَيْلٌ لَّكَ“} کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مگر یہ معنی {” اَوْلٰى لَكَ “} کا لفظی معنی نہیں ہے، لفظی معنی ”زیادہ لائق، زیادہ حق دار“ ہی ہے،کیونکہ {” اَوْلٰى “} کے حروف اصلی ” و ل ی“ ہیں، ”و ی ل“ نہیں، بلکہ یہ معنی مرادی ہے اور اس کی توجیہ یہ ہے کہ موقع و محل کے مطابق {” اَوْلٰى لَكَ “} کا مبتدا {”اَلْهِلَاكُ“} یا {”اَلنَّارُ“} محذوف مانا جائے، یعنی ہلاکت ہی تیرے زیادہ لائق ہے، یا آگ ہی تیرے زیادہ لائق ہے۔
وَ لٰکِنۡ کَذَّبَ وَ تَوَلّٰی ﴿ۙ۳۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
بلکہ جھٹلایا اور پلٹ گیا
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ جھٹلایا اور روگردانی کی
احمد رضا خان بریلوی
ہاں جھٹلایا اور منہ پھیرا
علامہ محمد حسین نجفی
بلکہ اس نے جھٹلایا اور منہ پھیر لیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور لیکن اس نے جھٹلایا اور منہ پھیرا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے ٭٭

یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ «كَلَّا» کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ ’ اے ابن آدم! تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے ‘ اور اگر اس لفظ کو «حقا» کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی ’ یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے ‘۔ «تَّرَاقِيَ» جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [56-الواقعة:87-83] ‏‏‏‏ فرمایا ہے یعنی ’ جبکہ روح حلق تک پہنچ جائے اور تم دیکھ رہے ہو اور ہم تم سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے پس اگر تم حکم الٰہی کے ماتحت نہیں ہو اور اپنے اس قول میں سچے ہو تو اس روح کو کیوں نہیں لوٹا لاتے؟ ‘ اس مقام پر اس حدیث پر بھی نظر ڈال لی جائے جو بشر بن حجاج کی روایت سے سورۃ یٰسین کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ «تَّرَاقِيَ» جو جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو «حلقوم» کے قریب ہیں اس وقت ہائی دہائی ہوتی ہے کہ کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کرے یعنی کسی طبیب وغیرہ کے ذریعہ شفاء ہو سکتی ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہے یعنی اس روح کو لے کر کون چڑھے گا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے؟ اور پنڈلی سے پنڈلی کے رگڑا کھانے کا ایک مطلب تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے یہ مروی ہے کہ ”دنیا اور آخرت اس پر جمع ہو جاتی ہے دنیا کا آخری دن ہوتا ہے اور آخرت کا پہلا دن ہوتا ہے جس سے سختی اور سخت ہو جاتی ہے مگر جس پر رب رحیم کا رحم و کرم ہو۔‏‏‏‏“ دوسرا مطلب عکرمہ رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ایک بہت بڑا امیر دوسرے بہت بڑے امیر سے مل جاتا ہے بلا پر بلا آ جاتی ہے، تیسرا مطلب حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ خود مرنے والے کی بے قراری، شدت درد سے پاؤں پر پاؤں کا چڑھ جانا مراد ہے۔ پہلے تو ان پیروں پر چلتا پھرتا تھا اب ان میں جان کہاں؟ اور یہ بھی مروی ہے کہ کفن کے وقت پنڈلی سے پنڈلی کامل جانا مراد ہے۔

چوتھا مطلب ضحاک رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ دو کام دو طرف جمع ہو جاتے ہیں ادھر تو لوگ اس کے جسم کو نہلا دھلا کر سپرد خاک کرنے کو تیار ہیں، ادھر فرشتے اس کی روح لے جانے میں مشغول ہیں، اگر نیک ہے تو عمدہ تیاری اور دھوم کے ساتھ، اگر بد ہے تو نہایت ہی برائی اور بدتر حالت کے ساتھ، اب لوٹنے، قرار پانے، رہنے سہنے، پہنچ جانے، کھچ کر اور چل کر پہنچنے کی جگہ اللہ ہی کی طرف ہے روح آسمان کی طرف چڑھائی جاتی ہے پھر وہاں سے حکم ہوتا ہے کہ اسے زمین کی طرف واپس لے جاؤ میں نے ان سب کو اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹا کر لے جاؤں گا اور پھر اسی سے انہیں دوبارہ نکالوں گا۔‏‏‏‏“ جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں آیا ہے، یہی مضمون اور جگہ بیان ہوا ہے «وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:62،61] ‏‏‏‏، ’ وہی اپنے بندوں پر غالب ہے وہی تمہاری حفاظت کے لیے تمہارے پاس فرشتے بھیجتا ہے یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اسے فوت کر لیتے ہیں اور وہ کوئی قصور نہیں کرتے پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جاتے ہیں یقین مانو کہ حکم اسی کا چلتا ہے اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے ‘۔ پھر اس کافر انسان کا حال بیان ہو رہا ہے جو اپنے دل اور عقیدے سے حق کا جھٹلانے والا اور اپنے بدن اور عمل سے حق سے روگردانی کرنے والا تھا جس کا ظاہر باطن برباد ہو چکا تھا اور کوئی بھلائی اس میں باقی نہیں رہی تھی، نہ وہ اللہ کی باتوں کی دل سے تصدیق کرتا تھا نہ جسم سے عبادت اللہ بجا لاتا تھا یہاں تک کہ نماز کا بھی چور تھا۔
32۔ 1 یعنی رسول کو جھٹلایا اور ایمان و اطاعت سے روگردانی کی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
ثُمَّ ذَہَبَ اِلٰۤی اَہۡلِہٖ یَتَمَطّٰی ﴿ؕ۳۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چل دیا
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اپنے گھر والوں کے پاس اتراتا ہوا گیا
احمد رضا خان بریلوی
پھر اپنے گھر کو اکڑتا چلا
علامہ محمد حسین نجفی
پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چلا گیا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اکڑتا ہوا اپنے گھر والوں کی طرف چلا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» ۱؎ [83-المطففين:31] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں ‘۔ اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» ۱؎ [84-الإنشقاق:13-15] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں ‘۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ’ خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» ۱؎ [44-الدخان:49] ‏‏‏‏ یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ’ لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا ‘۔ اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» ۱؎ [77-المرسلات:46] ‏‏‏‏ ’ کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو ‘۔ اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» ۱؎ [39-الزمر:15] ‏‏‏‏ ’ جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو ‘ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» ۱؎ [75-القيامة:34] ‏‏‏‏، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، ۱؎ [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل] ‏‏‏‏ کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ ’ اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے ‘۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے }۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے ۱؎ [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔ ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» ۱؎ [95-التين:8] ‏‏‏‏ پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ’ ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں ‘ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» ۱؎ [75-القيامة:40] ‏‏‏‏ پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [77-المرسلات:50] ‏‏‏‏ پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔ ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
33۔ 1 یَتَمَطَّیٰ اتراتا اور اکڑاتا ہوا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَوۡلٰی لَکَ فَاَوۡلٰی ﴿ۙ۳۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یہ روش تیرے ہی لیے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
افسوس ہے تجھ پر حسرت ہے تجھ پر
احمد رضا خان بریلوی
تیری خرابی ا ٓ لگی اب آ لگی،
علامہ محمد حسین نجفی
یہ (روش) تیرے ہی لئے سزاوار ہے اور تیرے ہی لائق ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یہی تیرے لائق ہے، پھر یہی لائق ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» ۱؎ [83-المطففين:31] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں ‘۔ اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» ۱؎ [84-الإنشقاق:13-15] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں ‘۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ’ خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» ۱؎ [44-الدخان:49] ‏‏‏‏ یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ’ لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا ‘۔ اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» ۱؎ [77-المرسلات:46] ‏‏‏‏ ’ کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو ‘۔ اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» ۱؎ [39-الزمر:15] ‏‏‏‏ ’ جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو ‘ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» ۱؎ [75-القيامة:34] ‏‏‏‏، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، ۱؎ [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل] ‏‏‏‏ کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ ’ اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے ‘۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے }۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے ۱؎ [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔ ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» ۱؎ [95-التين:8] ‏‏‏‏ پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ’ ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں ‘ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» ۱؎ [75-القيامة:40] ‏‏‏‏ پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [77-المرسلات:50] ‏‏‏‏ پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔ ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
ثُمَّ اَوۡلٰی لَکَ فَاَوۡلٰی ﴿ؕ۳۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
ہاں یہ روش تیرے ہی لیے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
وائے ہے اور خرابی ہے تیرے لیے
احمد رضا خان بریلوی
پھر تیری خرابی آ لگی اب آ لگی،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر یہ تیرے ہی لائق ہے اور تیرے ہی لئے سزوار ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر تیرے لائق یہی ہے، پھر یہی لائق ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» ۱؎ [83-المطففين:31] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں ‘۔ اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» ۱؎ [84-الإنشقاق:13-15] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں ‘۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ’ خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» ۱؎ [44-الدخان:49] ‏‏‏‏ یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ’ لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا ‘۔ اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» ۱؎ [77-المرسلات:46] ‏‏‏‏ ’ کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو ‘۔ اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» ۱؎ [39-الزمر:15] ‏‏‏‏ ’ جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو ‘ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» ۱؎ [75-القيامة:34] ‏‏‏‏، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، ۱؎ [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل] ‏‏‏‏ کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ ’ اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے ‘۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے }۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے ۱؎ [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔ ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» ۱؎ [95-التين:8] ‏‏‏‏ پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ’ ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں ‘ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» ۱؎ [75-القيامة:40] ‏‏‏‏ پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [77-المرسلات:50] ‏‏‏‏ پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔ ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
35۔ 1 یہ کلمہ وعید سے کہا جاتا ہے کہ اس کی اصل ہے، اللہ تجھے ایسی چیز سے دو چار کرے جسے تو ناپسند کرے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَیَحۡسَبُ الۡاِنۡسَانُ اَنۡ یُّتۡرَکَ سُدًی ﴿ؕ۳۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے بیکار چھوڑ دیا جائے گا
احمد رضا خان بریلوی
کیا آدمی اس گھمنڈ میں ہے کہ آزاد چھوڑ دیا جائے گا
علامہ محمد حسین نجفی
کیا انسان یہ گمان کرتا ہے کہ اسے یونہی مہمل چھوڑ دیا جائے گا؟
عبدالسلام بن محمد
کیا انسان گمان کرتا ہے کہ اسے بغیر پوچھے ہی چھوڑ دیا جائے گا؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» ۱؎ [83-المطففين:31] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں ‘۔ اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» ۱؎ [84-الإنشقاق:13-15] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں ‘۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ’ خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» ۱؎ [44-الدخان:49] ‏‏‏‏ یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ’ لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا ‘۔ اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» ۱؎ [77-المرسلات:46] ‏‏‏‏ ’ کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو ‘۔ اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» ۱؎ [39-الزمر:15] ‏‏‏‏ ’ جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو ‘ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» ۱؎ [75-القيامة:34] ‏‏‏‏، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، ۱؎ [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل] ‏‏‏‏ کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ ’ اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے ‘۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے }۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے ۱؎ [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔ ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» ۱؎ [95-التين:8] ‏‏‏‏ پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ’ ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں ‘ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» ۱؎ [75-القيامة:40] ‏‏‏‏ پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [77-المرسلات:50] ‏‏‏‏ پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔ ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
36۔ 1 یعنی اس کو کسی چیز کا حکم دیا جائے گا، نہ کسی چیز سے منع کیا جائے گا، نہ اس کا محاسبہ ہوگا۔ یا اس کی قبر میں ہمیشہ کے لئے چھوڑ دیا جائے گا، وہاں سے اسے دوبارہ زندہ نہیں کیا جائے گا۔
(آیت 36تا40) ➊ {اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَنْ يُّتْرَكَ سُدًى …: ” سُدًى “} وہ اونٹ جو کھلے چھوڑ دیے جائیں، انھیں {”إِبِلٌ سُدًي“} کہتے ہیں، یعنی کھلا چھوڑا ہوا، جس سے کوئی باز پرس نہ ہو۔ {” يُمْنٰى”أَمْنٰي يُمْنِيْ“} (افعال) سے مضارع مجہول ہے، گرایا جاتا ہے، ٹپکایا جاتاہے۔ ➋ حشر و نشر کے منکر اس بات کو ناممکن قرار دیتے تھے کہ بوسیدہ ہڈیاں دوبارہ زندہ ہوں گی اور ان کا محاسبہ ہو گا۔ ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو دوبارہ زندہ کرکے اس سے حساب لینے کی دلیل بیان فرمائی ہے کہ کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے پوچھے بغیر ہی رہنے دیا جائے گا؟ نہیں،یہ غلط سوچ ہے، جس قادر مطلق نے پانی جیسی پتلی چیز کی ایک بوند کو رحم مادر میں جمے ہوئے خون میں بدلنے کے بعد گوشت، ہڈیاں اور تمام اعضا مکمل کرکے روح پھونک کر مرد یا عورت کی صورت والا زندہ انسان بنا دیا، تو اس کے لیے اسی کی مٹی کو دوبارہ اصل شکل میں لے آنا کیا مشکل ہے؟ اس کے علاوہ اگر انسان اپنی اصل پر غور کرے کہ وہ ایک حقیر قطرہ تھا جو باپ کے ان اعضا سے ماں کے ان اعضا میں گرایا گیا جن کا نام بھی شرم و حیا کی وجہ سے نہیں لیا جاتا، پھر وہاں مختلف مراحل سے گزار کر اس کی مکمل صورت گری کے بعد اسے اسی راستے سے واپس لایا گیا جس کا ذکر ہی موجب حیا ہے۔ اب کیا انسان کو یہ زیب دیتا ہے کہ اپنے پیدا کرنے والے کے سامنے سرکشی کرے اور اکڑ کر چلے اور یہ سمجھے کہ اسے کوئی پوچھنے والا ہی نہیں؟
اَلَمۡ یَکُ نُطۡفَۃً مِّنۡ مَّنِیٍّ یُّمۡنٰی ﴿ۙ۳۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا وہ ایک حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا جو (رحم مادر میں) ٹپکایا جاتا ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا وه ایک گاڑھے پانی کا قطره نہ تھا جو ٹپکایا گیا تھا؟
احمد رضا خان بریلوی
کیا وہ ایک بوند نہ تھا اس منی کا کہ گرائی جائے
علامہ محمد حسین نجفی
کیاوہ شروع میں منی کا ایک قطرہ نہ تھا جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
کیا وہ منی کا ایک قطرہ نہیں تھا جو گرایا جاتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» ۱؎ [83-المطففين:31] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں ‘۔ اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» ۱؎ [84-الإنشقاق:13-15] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں ‘۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ’ خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» ۱؎ [44-الدخان:49] ‏‏‏‏ یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ’ لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا ‘۔ اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» ۱؎ [77-المرسلات:46] ‏‏‏‏ ’ کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو ‘۔ اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» ۱؎ [39-الزمر:15] ‏‏‏‏ ’ جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو ‘ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» ۱؎ [75-القيامة:34] ‏‏‏‏، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، ۱؎ [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل] ‏‏‏‏ کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ ’ اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے ‘۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے }۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے ۱؎ [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔ ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» ۱؎ [95-التين:8] ‏‏‏‏ پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ’ ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں ‘ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» ۱؎ [75-القيامة:40] ‏‏‏‏ پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [77-المرسلات:50] ‏‏‏‏ پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔ ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
ثُمَّ کَانَ عَلَقَۃً فَخَلَقَ فَسَوّٰی ﴿ۙ۳۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر وہ ایک لوتھڑا بنا، پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور اس کے اعضا درست کیے
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر وه لہو کا لوتھڑا ہوگیا پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست بنا دیا
احمد رضا خان بریلوی
پھر خون کی پھٹک ہوا تو اس نے پیدا فرمایا پھر ٹھیک بنایا
علامہ محمد حسین نجفی
پھر وہ ایک لوتھڑا بنا پھر اس (خدا) نے اسے پیدا کیا اور پھر (اس کے) اعضاء درست کئے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر وہ جما ہوا خون بنا، پھر اس نے پیدا کیا، پس درست بنا دیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» ۱؎ [83-المطففين:31] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں ‘۔ اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» ۱؎ [84-الإنشقاق:13-15] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں ‘۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ’ خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» ۱؎ [44-الدخان:49] ‏‏‏‏ یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ’ لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا ‘۔ اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» ۱؎ [77-المرسلات:46] ‏‏‏‏ ’ کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو ‘۔ اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» ۱؎ [39-الزمر:15] ‏‏‏‏ ’ جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو ‘ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» ۱؎ [75-القيامة:34] ‏‏‏‏، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، ۱؎ [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل] ‏‏‏‏ کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ ’ اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے ‘۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے }۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے ۱؎ [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔ ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» ۱؎ [95-التين:8] ‏‏‏‏ پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ’ ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں ‘ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» ۱؎ [75-القيامة:40] ‏‏‏‏ پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [77-المرسلات:50] ‏‏‏‏ پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔ ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
38۔ 1 فَسَوَّیٰ، یعنی اسے ٹھیک ٹھاک کیا اور اس کی تکمیل کی اور اس میں روح پھونکی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
فَجَعَلَ مِنۡہُ الزَّوۡجَیۡنِ الذَّکَرَ وَ الۡاُنۡثٰی ﴿ؕ۳۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
پھر اس سے مرد اور عورت کی دو قسمیں بنائیں
مولانا محمد جوناگڑھی
پھر اس سے جوڑے یعنی نر وماده بنائے
احمد رضا خان بریلوی
تو اس سے دو جوڑ بنائے مرد اور عورت،
علامہ محمد حسین نجفی
پھر اس سے دو قِسمیں بنائیں مرد و عورت۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اس نے اس سے دو قسمیں نر اور مادہ بنائیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» ۱؎ [83-المطففين:31] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں ‘۔ اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» ۱؎ [84-الإنشقاق:13-15] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں ‘۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ’ خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» ۱؎ [44-الدخان:49] ‏‏‏‏ یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ’ لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا ‘۔ اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» ۱؎ [77-المرسلات:46] ‏‏‏‏ ’ کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو ‘۔ اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» ۱؎ [39-الزمر:15] ‏‏‏‏ ’ جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو ‘ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» ۱؎ [75-القيامة:34] ‏‏‏‏، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، ۱؎ [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل] ‏‏‏‏ کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ ’ اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے ‘۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے }۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے ۱؎ [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔ ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» ۱؎ [95-التين:8] ‏‏‏‏ پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ’ ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں ‘ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» ۱؎ [75-القيامة:40] ‏‏‏‏ پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [77-المرسلات:50] ‏‏‏‏ پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔ ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
اَلَیۡسَ ذٰلِکَ بِقٰدِرٍ عَلٰۤی اَنۡ یُّحۡیَِۧ الۡمَوۡتٰی ﴿٪۴۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا وہ اِس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر زندہ کر دے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا (اللہ تعالیٰ) اس (امر) پر قادر نہیں کہ مردے کو زنده کردے
احمد رضا خان بریلوی
کیا جس نے یہ کچھ کیا وہ مردے نہ جِلا سکے گا،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا وہ اس بات پر قادر نہیں ہے کہ وہ مُردوں کو پھر زندہ کر دے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا وہ اس پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کر دے؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ہاں جھٹلانے اور منہ موڑنے میں بے باک تھا اور اپنے اس ناکارہ عمل پر اتراتا اور پھولتا ہوا بے ہمتی اور بد عملی کے ساتھ اپنے والوں میں جا ملتا تھا، جیسے اور جگہ ہے «وَإِذَا انقَلَبُوا إِلَىٰ أَهْلِهِمُ انقَلَبُوا فَكِهِينَ» ۱؎ [83-المطففين:31] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب اپنے والوں کی طرف لوٹتے ہیں تو خوب باتیں بناتے ہوئے مزے کرتے ہوئے خوش خوش جاتے ہیں ‘۔ اور جگہ ہے «إِنَّهُ كَانَ فِي أَهْلِهِ مَسْرُورًا إِنَّهُ ظَنَّ أَن لَّن يَحُورَ بَلَىٰ إِنَّ رَبَّهُ كَانَ بِهِ بَصِيرًا» ۱؎ [84-الإنشقاق:13-15] ‏‏‏‏ یعنی ’ یہ اپنے گھرانے والوں میں شادمان تھا اور سمجھ رہا تھا کہ اللہ کی طرف اسے لوٹنا ہی نہیں۔ اس کا یہ خیال محض غلط تھا اس کے رب کی نگاہیں اس پر تھیں ‘۔ پھر اسے اللہ تبارک و تعالیٰ دھمکاتا ہے اور ڈر سناتا ہے اور فرماتا ہے ’ خرابی ہو تجھے اللہ کے ساتھ کفر کر کے پھر اتراتا ہے ‘۔ جیسے اور جگہ ہے «ذُقْ اِنَّكَ اَنْتَ الْعَزِيْزُ الْكَرِيْمُ» ۱؎ [44-الدخان:49] ‏‏‏‏ یعنی قیامت کے دن کافر سے بطور ڈانٹ اور حقارت کے کہا جائے گا کہ ’ لے اب مزہ چکھ تو تو بڑی عزت اور بزرگی والا تھا ‘۔ اور فرمان ہے «كُلُوْا وَتَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» ۱؎ [77-المرسلات:46] ‏‏‏‏ ’ کچھ کھا پی لو آخر تو بدکار گنہگار ہو ‘۔ اور جگہ ہے «فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» ۱؎ [39-الزمر:15] ‏‏‏‏ ’ جاؤ اللہ کے سوا جس کی چاہو عبادت کرو ‘ وغیرہ وغیرہ غرض یہ ہے کہ ان تمام جگہوں میں یہ احکام بطور ڈانٹ ڈپٹ کے ہیں۔ سعید بن جبیر رحمہ اللہ سے جب یہ آیت «اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى» ۱؎ [75-القيامة:34] ‏‏‏‏، کی بابت پوچھا گیا تو آپ نے فرمایا ”رسول مقبول صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ ابوجہل کو فرمایا تھا پھر قرآن میں بھی یہی الفاظ نازل ہوئے۔‏‏‏‏“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35734:مرسل] ‏‏‏‏

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی اسی کے قریب قریب نسائی میں موجود ہے، ۱؎ [سنن نسائی:658،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ ابن ابی حاتم میں قتادہ رحمہ اللہ کی روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان پر اس دشمن رب نے کہا کہ کیا تو مجھے دھمکاتا ہے؟ اللہ کی قسم تو اور تیرا رب میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتے، ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان چلنے والوں میں سب سے زیادہ ذی عزت میں ہوں۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35731:مرسل] ‏‏‏‏ کیا انسان یہ سمجھتا ہے کہ اسے یونہی چھوڑ دیا جائے گا؟ اسے کوئی حکم اور کسی چیز کی ممانعت نہ کی جائے گی؟ ایسا ہرگز نہیں بلکہ دنیا میں اسے حکم و ممانعت اور آخرت میں اپنے اپنے اعمال کے بموجب جزاء و سزا ضرور ملے گی، مقصود یہاں پر قیامت کا اثبات اور منکرین قیامت کا رد ہے، اسی لیے دلیل کے طور پر کہا جاتا ہے کہ انسان دراصل نطفہ کی شکل میں بے جان و بے بنیاد تھا پانی کا ذلیل قطرہ تھا جو پیٹھ سے رحم میں آیا پھر خون کی پھٹکی بنی، پھر گوشت کا لوتھڑا ہوا، پھر اللہ تعالیٰ نے شکل و صورت دے کر روح پھونکی اور سالم اعضاء والا انسان بنا کر مرد یا عورت کی صورت میں پیدا کیا۔ کیا اللہ جس نے نطفہ ضعیف کو ایسا صحیح القامت قوی انسان بنا دیا وہ اس بات پر قادر نہیں کہ اسے فنا کر کے پھر دوبارہ پیدا کر دے؟ یقیناً پہلی مرتبہ کا پیدا کرنے والا دوبارہ بنانے پر بہت زیادہ اور بطور اولیٰ قادر ہے، یا کم از کم اتنا ہی جتنا پہلی مرتبہ تھا۔ جیسے فرمایا «وَهُوَ الَّذِيْ يَبْدَؤُا الْخَــلْقَ ثُمَّ يُعِيْدُهٗ وَهُوَ اَهْوَنُ عَلَيْهِ» ۱؎ [30-الروم:27] ‏‏‏‏ ’ اس نے ابتداء پیدا کیا وہی پھر لوٹائے گا اور وہ اس پر بہت زیادہ آسان ہے ‘۔ اس آیت کے مطلب میں بھی دو قول ہیں، لیکن پہلا قول ہی زیادہ مشہور ہے جیسے کہ سورۃ الروم کی تفسیر میں اس کا بیان اور تقریر گزر چکی۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

ابن ابی حاتم میں ہے کہ { ایک صحابی رضی اللہ عنہ اپنی چھت پر باآواز بلند قرآن شریف پڑھ رہے تھے جب اس سورت کی آخری آیت کی تلاوت کی تو فرمایا «سُبْحَانك اللَّهُمَّ فَبَلَى» یعنی ”اے اللہ تو پاک ہے اور بیشک قادر ہے“، لوگوں نے اس کہنے کا باعث پوچھا: تو فرمایا میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس آیت کا یہی جواب دیتے ہوئے سنا ہے }۔ ابوداؤد میں بھی یہ حدیث ہے ۱؎ [سنن ابوداود:884،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ لیکن دونوں کتابوں میں اس صحابی کا نام نہیں گو یہ نام نہ ہونا مضر نہیں۔ ابوداؤد کی اور حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جو شخص تم میں سے سورۃ والتین کی آخری آیت «اَلَيْسَ اللّٰهُ بِاَحْكَمِ الْحٰكِمِيْنَ» ۱؎ [95-التين:8] ‏‏‏‏ پڑھے وہ «بَلَى وَأَنَا عَلَى ذَلِكَ مِنْ الشَّاهِدِينَ» کہے یعنی ’ ہاں اور میں بھی اس پر گواہ ہوں ‘ اور جو شخص سورۃ قیامت کی آخری آیت «اَلَيْسَ ذٰلِكَ بِقٰدِرٍ عَلٰٓي اَنْ يُّـحْيِۦ الْمَوْتٰى» ۱؎ [75-القيامة:40] ‏‏‏‏ پڑھے تو وہ کہے «بَلَى» اور جو سورۃ والمرسلات کی آخری آیت «فَبِاَيِّ حَدِيْثٍۢ بَعْدَهٗ يُؤْمِنُوْنَ» ۱؎ [77-المرسلات:50] ‏‏‏‏ پڑھے وہ «آمَنَّا بِاَللَّهِ» کہے“ }۔ ۱؎ [سنن ابوداود:887،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ یہ حدیث مسند احمد اور ترمذی میں بھی ہے۔ ابن جریر میں قتادہ رحمہ اللہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اس آخری آیت کے بعد فرماتے «سُبْحَانك وَبَلَى» }۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:35738:] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس آیت کے جواب میں یہ کہنا ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ سورۃ القیامہ کی تفسیر «اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ» ختم ہوئی۔
40۔ 1 یعنی انسان کو اس طرح مختلف اطوار سے گزار کر پیدا فرماتا ہے کیا مرنے کے بعد دوبارہ اسے زندہ کرنے پر قادر نہیں ہے؟
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔