بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القيامة — Surah Qiyamah
آیت نمبر 31
کل آیات: 40
قرآن کریم القيامة آیت 31
آیت نمبر: 31 — سورۃ القيامة islamicurdubooks.com ↗
فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰی ﴿ۙ۳۱﴾
مگر اُس نے نہ سچ مانا، اور نہ نماز پڑھی
اس نے نہ تو تصدیق کی نہ نماز ادا کی
اس نے نہ تو سچ مانا اور نہ نماز پڑھی،
(اتنا کچھ سمجھانے کے باوجود اس مخصوص آدمی نے) نہ تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی۔
سو نہ اس نے سچ مانا اور نہ نماز ادا کی۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جب ہماری روح حلق تک پہنچ جاتی ہے اور اس کے بعد کیا ہوتا ہے ٭٭

یہاں موت کا اور سکرات کی کیفیت کا بیان ہو رہا ہے اللہ تعالیٰ ہمیں اس وقت حق پر ثابت قدم رکھے۔ «كَلَّا» کو اگر یہاں ڈانٹ کے معنی میں لیا جائے تو یہ معنی ہوں گے کہ ’ اے ابن آدم! تو جو میری خبروں کو جھٹلاتا ہے یہ درست نہیں بلکہ ان کے مقدمات تو تو روزمرہ کھلم کھلا دیکھ رہا ہے ‘ اور اگر اس لفظ کو «حقا» کے معنی میں لیں تو مطلب اور زیادہ ظاہر ہے یعنی ’ یہ بات یقینی ہے کہ جب تیری روح تیرے جسم سے نکلنے لگے اور تیرے نرخرے تک پہنچ جائے ‘۔ «تَّرَاقِيَ» جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو سینے پر اور مونڈھوں کے درمیان میں ہیں جسے ہانس کی ہڈی کہتے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «فَلَوْلَا إِذَا بَلَغَتِ الْحُلْقُومَ وَأَنتُمْ حِينَئِذٍ تَنظُرُونَ وَنَحْنُ أَقْرَبُ إِلَيْهِ مِنكُمْ وَلَـٰكِن لَّا تُبْصِرُونَ فَلَوْلَا إِن كُنتُمْ غَيْرَ مَدِينِينَ تَرْجِعُونَهَا إِن كُنتُمْ صَادِقِينَ» ۱؎ [56-الواقعة:87-83] ‏‏‏‏ فرمایا ہے یعنی ’ جبکہ روح حلق تک پہنچ جائے اور تم دیکھ رہے ہو اور ہم تم سے بھی زیادہ اس کے قریب ہیں لیکن تم نہیں دیکھ سکتے پس اگر تم حکم الٰہی کے ماتحت نہیں ہو اور اپنے اس قول میں سچے ہو تو اس روح کو کیوں نہیں لوٹا لاتے؟ ‘ اس مقام پر اس حدیث پر بھی نظر ڈال لی جائے جو بشر بن حجاج کی روایت سے سورۃ یٰسین کی تفسیر میں گزر چکی ہے۔ «تَّرَاقِيَ» جو جمع ہے «تَرْقُوّٰةُ» کی ان ہڈیوں کو کہتے ہیں جو «حلقوم» کے قریب ہیں اس وقت ہائی دہائی ہوتی ہے کہ کوئی ہے جو جھاڑ پھونک کرے یعنی کسی طبیب وغیرہ کے ذریعہ شفاء ہو سکتی ہے؟ اور یہ بھی کہا گیا ہے کہ یہ فرشتوں کا قول ہے یعنی اس روح کو لے کر کون چڑھے گا رحمت کے فرشتے یا عذاب کے؟ اور پنڈلی سے پنڈلی کے رگڑا کھانے کا ایک مطلب تو سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ سے یہ مروی ہے کہ ”دنیا اور آخرت اس پر جمع ہو جاتی ہے دنیا کا آخری دن ہوتا ہے اور آخرت کا پہلا دن ہوتا ہے جس سے سختی اور سخت ہو جاتی ہے مگر جس پر رب رحیم کا رحم و کرم ہو۔‏‏‏‏“ دوسرا مطلب عکرمہ رحمہ اللہ سے یہ مروی ہے کہ ایک بہت بڑا امیر دوسرے بہت بڑے امیر سے مل جاتا ہے بلا پر بلا آ جاتی ہے، تیسرا مطلب حسن بصری رحمہ اللہ وغیرہ سے مروی ہے کہ خود مرنے والے کی بے قراری، شدت درد سے پاؤں پر پاؤں کا چڑھ جانا مراد ہے۔ پہلے تو ان پیروں پر چلتا پھرتا تھا اب ان میں جان کہاں؟ اور یہ بھی مروی ہے کہ کفن کے وقت پنڈلی سے پنڈلی کامل جانا مراد ہے۔

چوتھا مطلب ضحاک رحمہ اللہ سے یہ بھی مروی ہے کہ دو کام دو طرف جمع ہو جاتے ہیں ادھر تو لوگ اس کے جسم کو نہلا دھلا کر سپرد خاک کرنے کو تیار ہیں، ادھر فرشتے اس کی روح لے جانے میں مشغول ہیں، اگر نیک ہے تو عمدہ تیاری اور دھوم کے ساتھ، اگر بد ہے تو نہایت ہی برائی اور بدتر حالت کے ساتھ، اب لوٹنے، قرار پانے، رہنے سہنے، پہنچ جانے، کھچ کر اور چل کر پہنچنے کی جگہ اللہ ہی کی طرف ہے روح آسمان کی طرف چڑھائی جاتی ہے پھر وہاں سے حکم ہوتا ہے کہ اسے زمین کی طرف واپس لے جاؤ میں نے ان سب کو اسی سے پیدا کیا ہے اسی میں لوٹا کر لے جاؤں گا اور پھر اسی سے انہیں دوبارہ نکالوں گا۔‏‏‏‏“ جیسے کہ سیدنا براء رضی اللہ عنہ کی مطول حدیث میں آیا ہے، یہی مضمون اور جگہ بیان ہوا ہے «وَهُوَ الْقَاهِرُ فَوْقَ عِبَادِهِ وَيُرْسِلُ عَلَيْكُمْ حَفَظَةً حَتَّىٰ إِذَا جَاءَ أَحَدَكُمُ الْمَوْتُ تَوَفَّتْهُ رُسُلُنَا وَهُمْ لَا يُفَرِّطُونَ ثُمَّ رُدُّوا إِلَى اللَّـهِ مَوْلَاهُمُ الْحَقِّ أَلَا لَهُ الْحُكْمُ وَهُوَ أَسْرَعُ الْحَاسِبِينَ» ۱؎ [6-الأنعام:62،61] ‏‏‏‏، ’ وہی اپنے بندوں پر غالب ہے وہی تمہاری حفاظت کے لیے تمہارے پاس فرشتے بھیجتا ہے یہاں تک کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آ جائے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اسے فوت کر لیتے ہیں اور وہ کوئی قصور نہیں کرتے پھر سب کے سب اپنے سچے مولا کی طرف لوٹائے جاتے ہیں یقین مانو کہ حکم اسی کا چلتا ہے اور وہ سب سے جلد حساب لینے والا ہے ‘۔ پھر اس کافر انسان کا حال بیان ہو رہا ہے جو اپنے دل اور عقیدے سے حق کا جھٹلانے والا اور اپنے بدن اور عمل سے حق سے روگردانی کرنے والا تھا جس کا ظاہر باطن برباد ہو چکا تھا اور کوئی بھلائی اس میں باقی نہیں رہی تھی، نہ وہ اللہ کی باتوں کی دل سے تصدیق کرتا تھا نہ جسم سے عبادت اللہ بجا لاتا تھا یہاں تک کہ نماز کا بھی چور تھا۔

📖 احسن البیان

31۔ 1 یعنی اس انسان نے رسول اور قرآن کی تصدیق کی اور نہ نماز پڑھی یعنی اللہ کی عبادت نہیں کی۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 31تا35) ➊ {فَلَا صَدَّقَ وَ لَا صَلّٰى…:يَتَمَطّٰى “} ”م ط و “ سے {”تَمَطّٰي“} کا مضارع ہے۔ {”مَطَا“} کا معنی پیٹھ ہے، یعنی اکڑتا ہوا۔ {” اَوْلٰى “} ”و ل ی“ سے اسم تفضیل ہے، زیادہ لائق، زیادہ حق دار، زیادہ قریب۔ ➋ {” فَلَا صَدَّقَ “} (سو نہ اس نے سچ مانا) میں ضمیر {” الْاِنْسَانُ “} کی طرف جا رہی ہے جس کا اوپر {” اَيَحْسَبُ الْاِنْسَانُ اَلَّنْ نَّجْمَعَ عِظَامَهٗ “} میں ذکر ہے۔ یعنی یہ دیکھنے کے بعد کہ موت کے وقت انسان پر کیا گزرتی ہے اور کس طرح بے بس ہو کر اسے اپنے رب کی طرف روانہ ہونا پڑتا ہے، حق تو یہ تھا کہ وہ آخرت کو سچ مانتا اور اس دن کی نجات کے لیے نماز ادا کرتا اور اللہ کی زمین پر عجز و بندگی اختیار کرتا، مگر اس نے نہ عقیدہ کی اصلاح کی اور نہ عمل کی اور نہ لوگوں کے ساتھ اپنی روش درست کی، بلکہ آخرت کو اور پیدا کرنے والے کو جھٹلایا اور ماننے کے بجائے منہ پھیر کر چلا گیا اور عجز و بندگی اختیار کرنے کے بجائے گھر کو گیا تو اکڑتا ہوا گیا۔ ➌ { اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى:} اس آیت کی سب سے بہتر تفسیر وہ ہے جو حافظ ابن کثیر نے فرمائی ہے کہ اس کافر کو جس نے اپنے خالق سے کفر کیا اور متکبرانہ چال چلا، اسے اللہ تعالیٰ کی طرف سے طنز اور دھمکی کے طور پر کہا جا رہا ہے کہ جب تو نے جھٹلا دیا اور اپنے خالق سے کفر کی جرأت کرچکا تو تیرا حق بنتا ہے کہ یہ چال چلے اور یہی چال تیرے لائق ہے۔ ہم تمھاری چال دیکھ رہے ہیں اور تمھیں اس کا نتیجہ مل جائے گا، جیسا کہ فرمایا: «كُلُوْا وَ تَمَتَّعُوْا قَلِيْلًا اِنَّكُمْ مُّجْرِمُوْنَ» ‏‏‏‏ [ المرسلات: ۴۶ ] ”کھاؤ اور فائدہ اٹھاؤ، تھوڑا، یقینا تم مجرم ہو۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏فَاعْبُدُوْا مَا شِئْتُمْ مِّنْ دُوْنِهٖ» ‏‏‏‏ [ الزمر: ۱۵ ] ”اس اللہ کے علاوہ جس کی چاہو عبادت کرتے رہو۔“ اور فرمایا: «‏‏‏‏اِعْمَلُوْا مَا شِئْتُمْ» ‏‏‏‏ [ المؤمن: ۴۰] ”تم جو چاہو کرو۔“ {” اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى (34) ثُمَّ اَوْلٰى لَكَ فَاَوْلٰى “} میں تکرار مزید وعید کے لیے ہے۔ یہ معنی اس لیے بھی بہتر ہے کہ {” اَوْلٰى “} کا معنی ”زیادہ لائق، زیادہ حق دار “ معروف ہے۔ ➍ بہت سے مفسرین نے {” اَوْلٰى لَكَ “} کا معنی ”خرابی ہے تیرے لیے، افسوس ہے تیرے لیے، ہلاکت ہے تیرے لیے“ کیا ہے، کیونکہ {” اَوْلٰى لَكَ “} کلام عرب میں {”وَيْلٌ لَّكَ“} کے معنی میں بھی آتا ہے۔ مگر یہ معنی {” اَوْلٰى لَكَ “} کا لفظی معنی نہیں ہے، لفظی معنی ”زیادہ لائق، زیادہ حق دار“ ہی ہے،کیونکہ {” اَوْلٰى “} کے حروف اصلی ” و ل ی“ ہیں، ”و ی ل“ نہیں، بلکہ یہ معنی مرادی ہے اور اس کی توجیہ یہ ہے کہ موقع و محل کے مطابق {” اَوْلٰى لَكَ “} کا مبتدا {”اَلْهِلَاكُ“} یا {”اَلنَّارُ“} محذوف مانا جائے، یعنی ہلاکت ہی تیرے زیادہ لائق ہے، یا آگ ہی تیرے زیادہ لائق ہے۔
← پچھلی آیت (30) پوری سورۃ اگلی آیت (32) →