بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القيامة — Surah Qiyamah
آیت نمبر 22
کل آیات: 40
قرآن کریم القيامة آیت 22
آیت نمبر: 22 — سورۃ القيامة islamicurdubooks.com ↗
وُجُوۡہٌ یَّوۡمَئِذٍ نَّاضِرَۃٌ ﴿ۙ۲۲﴾
اُس روز کچھ چہرے تر و تازہ ہونگے
اس روز بہت سے چہرے تروتازه اور بارونق ہوں گے
کچھ منہ اس دن تر و تازہ ہوں گے
اس دن کچھ چہرے تر و تازہ ہوں گے۔
اس دن کئی چہرے ترو تازہ ہوں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

بخاری شریف میں یہ بھی ہے کہ { پھر جب وحی اترتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نظریں نیچی کر لیتے اور جب وحی چلی جاتی آپ صلی اللہ علیہ وسلم پڑھتے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4927] ‏‏‏‏۔ ابن ابی حاتم میں بھی بروایت ابن عباس یہ حدیث مروی ہے اور بہت سے مفسرین سلف صالحین نے یہی فرمایا ہے یہ بھی مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ہر وقت تلاوت فرمایا کرتے تھے کہ ایسا نہ ہو میں بھول جاؤں اس پر یہ آیتیں اتریں }۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما اور عطیہ عوفی رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس کا بیان ہم پر ہے یعنی حلال حرام کا واضح کرنا۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول بھی یہی ہے۔ پھر فرمان ہوتا ہے کہ ’ ان کافروں کو قیامت کے انکار، اللہ کی پاک کتاب کو نہ ماننے اور اللہ کے عظیم الشان رسول کی اطاعت نہ کرنے پر آمادہ کرنے والی چیز حب دنیا اور غفلت آخرت ہے، حالانکہ آخرت کا دن بڑی اہمیت والا دن ہے، اس دن بہت سے لوگ تو وہ ہوں گے جن کے چہرے ہشاش بشاش، تروتازہ، خوش و خرم ہوں گے اور اپنے رب کے دیدار سے مشرف ہو رہے ہوں گے ‘۔ جیسے کہ صحیح بخاری میں ہے کہ { عنقریب تم اپنے رب کو صاف صاف کھلم کھلا اپنے سامنے دیکھو گے } ۱؎ [صحیح بخاری:7434] ‏‏‏‏، بہت سی صحیح احادیث سے متواتر سندوں سے جو ائمہ حدیث نے اپنی کتابوں میں وارد کی ہیں ثابت ہو چکا ہے کہ ایمان والے اپنے رب کے دیدار سے قیامت کے دن مشرف ہوں گے ان احادیث کو نہ تو کوئی ہٹا سکے نہ ان کا کوئی انکار کر سکے۔ صحیح بخاری و صحیح مسلم میں ابوسعید اور ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ { لوگوں نے پوچھا: یا رسول اللہ! کیا ہم اپنے رب کو قیامت کے دن دیکھیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سورج اور چاند کو جبکہ آسمان صاف بے ابر ہو دیکھنے میں تمہیں کوئی مزاحمت یا رکاوٹ ہوتی ہے؟“، انہوں نے کہا نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسی طرح تم اللہ تعالیٰ کو دیکھو گے“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7437] ‏‏‏‏ بخاری و مسلم میں ہے سیدنا جریر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”چودہویں رات کے چاند کو دیکھ رہے ہو پس اگر تم سے ہو سکے تو سورج نکلنے سے پہلے کی نماز (‏‏‏‏یعنی صبح کی نماز) اور سورج ڈوبنے سے پہلے کی نماز (‏‏‏‏یعنی عصر کی نماز) میں کسی طرح کی سستی نہ کرو“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:573] ‏‏‏‏ ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے انہی دونوں متبرک کتابوں میں مروی ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”دو جنتیں سونے کی ہیں وہاں کے برتن اور ہر چیز سونے کی ہے اور دو جنتیں چاندی کی ہیں اور ان کے برتن اور ہر چیز چاندی ہی کی ہے سوائے کبریائی کی چادروں کے اور کوئی آڑ نہیں“ یہ جنت عدن کا ذکر ہے }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4878] ‏‏‏‏

صحیح مسلم کی حدیث میں ہے کہ { جب جنتی جنت میں پہنچ جائیں گے تو اللہ تعالیٰ ان سے دریافت فرمائے گا ’ کچھ چاہتے ہو کہ بڑھا دوں؟ ‘ وہ کہیں گے الٰہی تو نے ہمارے چہرے سفید نورانی کر دیئے، ہمیں جنت میں پہنچا دیا جہنم سے بچا لیا اب ہمیں کس چیز کی ضرورت ہے؟ اسی وقت حجاب ہٹا دیئے جائیں گے اور ان اہل جنت کی نگاہیں جمال باری سے منور ہوں گی اس میں انہیں جو سرور و لذت حاصل ہو گی وہ کسی چیز میں نہ حاصل ہو گی سب سے زیادہ محبوب انہیں دیدار باری ہو گا اسی کو اس آیت میں لفظ «الزِّيَادَةُ» سے تعبیر کیا گیا ہے } پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی «لِلَّذِيْنَ اَحْسَـنُوا الْحُسْنٰى وَزِيَادَةٌ وَلَا يَرْهَقُ وُجُوْهَھُمْ قَتَرٌ وَّلَا ذِلَّةٌ اُولٰىِٕكَ اَصْحٰبُ الْجَنَّةِ ھُمْ فِيْهَا خٰلِدُوْنَ» ۱؎ [10-یونس:26] ‏‏‏‏ یعنی ’ احسان کرنے والوں کو جنت بھی ملے گی اور دیدار رب بھی ‘۔ ۱؎ [صحیح مسلم:181] ‏‏‏‏ صحیح مسلم کی سیدنا جابر رضی اللہ عنہ والی روایت میں ہے کہ { اللہ تعالیٰ مومنوں پر قیامت کے میدان میں مسکراتا ہوا تجلی فرمائے گا }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:191] ‏‏‏‏ پس معلوم ہوا کہ ایماندار قیامت کے عرصات میں اور جنتوں میں دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے۔ مسند احمد کی حدیث میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”سب سے ہلکے درجہ کا جنتی اپنے ملک اور اپنی ملکیت کو دو ہزار سال دیکھتا رہے گا دور اور نزدیک کی چیزیں یکساں نگاہ میں ہوں گی ہر طرف اور ہر جگہ اسی کی بیویاں اور خادم نظر آئیں گے اور اعلیٰ درجہ کے جنتی ایک ایک دن میں دو دو مرتبہ اللہ تعالیٰ کے بزرگ چہرے کو دیکھیں گے“ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3330،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی شریف میں بھی یہ حدیث ہے، یہ حدیث بروایت ابن عمر مرفوعًا بھی مروی ہے۔ ہمیں ڈر ہے کہ اگر اس قسم کی تمام حدیثیں اور روایتیں اور ان کی سندیں اور ان کے مختلف الفاظ یہاں جمع کریں گے تو مضمون بہت طویل ہو جائے گا بہت ہی صحیح اور حسن حدیثیں بہت سی مسند اور سنن کی کتابوں میں مروی ہیں جن میں اکثر ہماری اس تفسیر میں متفرق مقامات پر آ بھی گئی ہیں، ہاں توفیق اللہ کے ہاتھ میں ہے، اللہ کا شکر ہے کہ اس مسئلہ میں یعنی اللہ تعالیٰ کا دیدار مومنوں کو قیامت کے دن ہونے میں صحابہ، تابعین اور سلف امت کا اتفاق اور اجماع ہے ائمہ اسلام اور ہداۃ انام سب اس پر متفق ہیں، جو لوگ اس کی تاویل کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ مراد اس سے اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کو دیکھنا جیسے مجاہد اور ابوصالح رحمہ اللہ علیہم سے تفسیر ابن جریر میں مروی ہے ان کا قول حق سے دور اور سراسر تکلف سے معمور ہے، ان کے پاس اس آیت کا کیا جواب ہے جہاں بدکاروں کی نسبت فرمایا گیا ہے «كَلَّآ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» ۱؎ [83-المطففين:15] ‏‏‏‏ یعنی ’ فاجر قیامت کے دن اپنے پروردگار سے پردے میں کر دیئے جائیں گے ‘۔ امام شافعی فرماتے ہیں کہ ”فاجروں کے دیدار الٰہی سے محروم رہنے کا صاف مطلب یہی ہے کہ «ابرار» یعنی نیک کار لوگ دیدار الٰہی سے مشرف کئے جائیں گے“ اور متواتر احادیث سے ثابت ہو چکا ہے اور اسی پر اس آیت کی روانگی الفاظ صاف دلالت کرتی ہے کہ ایماندار دیدار باری سے محظوظ ہوں گے۔ حسن رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ چہرے حسن و خوبی والے ہوں گے کیونکہ دیدار رب پر ان کی نگاہیں پڑتی ہوں گی پھر بھلا یہ منور و حسین کیوں نہ ہوں اور بہت سے منہ اس دن بگڑے ہوئے ہوں گے، بدشکل ہو رہے ہوں گے، بے رونق اور اداس ہوں گے، انہیں یقین ہو گا کہ ہم کوئی ہلاکت اور اللہ کی پکڑ آئی، ابھی ہمیں جہنم میں جانے کا حکم ہوا۔

جیسے اور جگہ ہے «يَّوْمَ تَبْيَضُّ وُجُوْهٌ وَّتَسْوَدُّ وُجُوْهٌ فَاَمَّا الَّذِيْنَ اسْوَدَّتْ وُجُوْھُھُمْ اَكَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِكُمْ فَذُوْقُوا الْعَذَابَ بِمَا كُنْتُمْ تَكْفُرُوْنَ» ۱؎ [3-آل عمران:106] ‏‏‏‏ ’ جس دن بعض چہرے سفید ہوں گے اور بعض سیاه، سیاه چہرے والوں (‏‏‏‏سے کہا جائے گا) کہ کیا تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا؟ اب اپنے کفر کا عذاب چکھو ‘۔ اور آیت میں ہے «وُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ مُّسْفِرَةٌ ضَاحِكَةٌ مُّسْتَبْشِرَةٌ وَوُجُوهٌ يَوْمَئِذٍ عَلَيْهَا غَبَرَةٌ تَرْهَقُهَا قَتَرَةٌ أُولَـٰئِكَ هُمُ الْكَفَرَةُ الْفَجَرَةُ» ۱؎ [80-عبس:38-42] ‏‏‏‏ یعنی ’ اس دن بعض چہرے گورے چٹے خوبصورت اور حسین ہوں گے اور بعض کالے منہ والے ہوں گے ‘۔ اور جگہ سے «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ خَاشِعَةٌ عَامِلَةٌ نَّاصِبَةٌ تَصْلَىٰ نَارًا حَامِيَةً تُسْقَىٰ مِنْ عَيْنٍ آنِيَةٍ لَّيْسَ لَهُمْ طَعَامٌ إِلَّا مِن ضَرِيعٍ لَّا يُسْمِنُ وَلَا يُغْنِي مِن جُوعٍ» [88-الغاشية:7-2] ‏‏‏‏، یعنی ’ قیامت کے دن بہت سے چہرے خوف زدہ دہشت اور ڈر والے، بدرونق اور ذلیل ہوں گے جو عمل کرتے رہے، تکلیف اٹھاتے رہے لیکن آج بھڑکتی ہوئی آگ میں جا گھسے ‘۔ پھر فرمایا «وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاعِمَةٌلِّسَعْيِهَا رَاضِيَةٌ فِي جَنَّةٍ عَالِيَةٍ» ۱؎ [88-الغاشية:10-8] ‏‏‏‏، یعنی ’ بعض چہرے ان دن نعتموں والے خوش و خرم چمکیلے اور شادان و فرحان بھی ہوں گے، جو اپنے گزشتہ اعمال سے خوش ہوں گے اور بلند و بالا جنتوں میں اقامت رکھتے ہوں گے ‘، اسی مضمون کی اور بھی بہت سی آیتیں ہیں۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 23،22) {وُجُوْهٌ يَّوْمَىِٕذٍ نَّاضِرَةٌ …:” نَاضِرَةٌ “” نَضَرَ الْوَجْهُ وَالشَّجَرُ وَاللَّوْنُ “} (ن،ک،س) چہرے یا درخت یا رنگ کا تروتازہ، خوبصورت اور بارونق ہونا۔ معلوم ہوا کہ قیامت کے دن نیک بندوں کو اللہ تعالیٰ کا دیدار نصیب ہو گا اور اس خوشی میں ان کے چہرے تروتازہ اور چمک رہے ہوں گے۔ اللہ تعالیٰ کی مخلوق میں انسان ہوں یا حیوان، نباتات ہوں یا جمادات، ایسا ایسا حسن و جمال ہے جسے دیکھ کر خوشی سے چہروں پر تازگی اور رونق آجاتی ہے۔ جب حسن و جمال کے خالق کی ذات کو دیکھیں گے تو ان کی خوشی اور ان کے چہروں کی تازگی کا کیا ٹھکانا ہوگا!! حقیقت یہ ہے کہ جنت کی سب سے بڑی نعمت ہی یہ ہو گی کہ جنتی اپنی آنکھوں سے اپنے رب تعالیٰ کا دیدار کریں گے۔ صہیب رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِذَا دَخَلَ أَهْلُ الْجَنَّةِ الْجَنَّةَ قَالَ يَقُوْلُ اللّٰهُ تَبَارَكَ وَتَعَالٰی تُرِيْدُوْنَ شَيْئًا أَزِيْدُكُمْ؟ فَيَقُوْلُوْنَ أَلَمْ تُبَيِّضْ وُجُوْهَنَا؟ أَلَمْ تُدْخِلْنَا الْجَنَّةَ وَتُنَجِّنَا مِنَ النَّارِ؟ قَالَ فَيَكْشِفُ الْحِجَابَ فَمَا أُعْطُوْا شَيْئًا أَحَبَّ إِلَيْهِمْ مِنَ النَّظَرِ إِلٰی رَبِّهِمْ عَزَّ وَجَلَّ، ثُمَّ تَلَا هٰذِهِ الْآيَةَ: «‏‏‏‏لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِيَادَةٌ» ] [ مسلم، الإیمان، باب إثبات رؤیۃ المؤمنین …:۱۸۱ ] ”جب اہلِ جنت جنت میں داخل ہوں گے تو اللہ تبارک و تعالیٰ فرمائے گا: ”تمھیں کوئی چیز چاہیے جو میں تمھیں مزید عطا کروں؟“ وہ کہیں گے: ”کیا تو نے ہمارے چہروں کو سفید نہیں کیا؟ کیا تو نے ہمیں جنت میں داخل نہیں کیا اور آگ سے نجات نہیں دی؟“ فرمایا: ”پھر اللہ تعالیٰ پردہ ہٹا دے گا اور انھیں کوئی بھی چیز نہیں دی گئی ہو گی جو انھیں اپنے رب کو دیکھنے سے زیادہ پیاری ہو۔“ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ آیت پڑھی: «لِلَّذِيْنَ اَحْسَنُوا الْحُسْنٰى وَ زِيَادَةٌ» [ یونس: ۲۶ ] ”جن لوگوں نے اچھے اعمال کیے ان کے لیے اچھا اجر ہے اور مزید بھی (مزید سے رب تعالیٰ کا دیدار مراد ہے)۔“ جریر بن عبد اللہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّكُمْ سَتَرَوْنَ رَبَّكُمْ عِيَانًا ] [ بخاري، التوحید، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «‏‏‏‏وجوہ یومئذ ناضرۃ…» : ۷۴۳۵ ] ”تم اپنے رب کو اپنی آنکھوں سے صاف دیکھو گے۔“ ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی حدیث میں ہے کہ لوگوں نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! کیا ہم قیامت کے دن اپنے رب کو دیکھیں گے؟“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ هَلْ تُضَارُّوْنَ فِي الْقَمَرِ لَيْلَةَ الْبَدْرِ؟ قَالُوْا لاَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قَالَ فَهَلْ تُضَارُّوْنَ فِي الشَّمْسِ لَيْسَ دُوْنَهَا سَحَابٌ؟ قَالُوْا لاَ يَا رَسُوْلَ اللّٰهِ! قَالَ فَإِنَّكُمْ تَرَوْنَهُ كَذٰلِكَ ] [ بخاري، التوحید، باب قول اللّٰہ تعالٰی: «وجوہ یومئذ ناظرۃ…» : ۷۴۳۷۔ مسلم: ۱۸۲ ] ”کیا تمھیں چودھویں کا چاند دیکھنے میں کوئی تکلیف ہوتی ہے؟ “ انھوں نے کہا: ”نہیں، اے اللہ کے رسول!“ فرمایا: ”کیا تمھیں سورج دیکھنے میں کوئی تکلیف ہوتی ہے جس کے سامنے بادل کی رکاوٹ بھی نہ ہو؟“ انھوں نے کہا: ”نہیں، اے اللہ کے رسول!“ فرمایا: ”(یقین رکھو کہ) تم اپنے رب کو اسی طرح دیکھو گے۔“ قرآن مجید میں فاجر لوگوں کے متعلق فرمایا: «‏‏‏‏كَلَّاۤ اِنَّهُمْ عَنْ رَّبِّهِمْ يَوْمَىِٕذٍ لَّمَحْجُوْبُوْنَ» [ المطففین: ۱۵ ] ”ہر گز نہیں، بے شک وہ اس دن اپنے رب سے حجاب میں رکھے جائیں گے۔“ اللہ تعالیٰ نے ان کے دیدار الٰہی سے محروم رکھے جانے کا خاص طور پر ذکر فرمایا۔ اگر ابرار کو بھی اس دن رب کا دیدار نہ ہوا تو ان میں اور فجار میں کیا فرق رہا؟ بہت بد نصیب ہیں وہ لوگ جو اتنی واضح آیات و احادیث کے باوجود قیامت کے دن دیدار الٰہی کے منکر ہیں۔ اس انکار کا بدلا یہی ہے کہ انھیں قیامت کے دن اس سب سے بڑی نعمت سے محروم ہی رکھا جائے۔
← پچھلی آیت (21) پوری سورۃ اگلی آیت (23) →