بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القصص — Surah Qasas
آیت نمبر 75
کل آیات: 88
قرآن کریم القصص آیت 75
آیت نمبر: 75 — سورۃ القصص islamicurdubooks.com ↗
وَ نَزَعۡنَا مِنۡ کُلِّ اُمَّۃٍ شَہِیۡدًا فَقُلۡنَا ہَاتُوۡا بُرۡہَانَکُمۡ فَعَلِمُوۡۤا اَنَّ الۡحَقَّ لِلّٰہِ وَ ضَلَّ عَنۡہُمۡ مَّا کَانُوۡا یَفۡتَرُوۡنَ ﴿٪۷۵﴾
اور ہم ہر امّت میں سے ایک گواہ نکال لائیں گے پھر کہیں گے کہ "لاؤ اب اپنی دلیل" اس وقت انہیں معلوم ہو جائے گا کہ حق اللہ کی طرف سے ہے، اور گم ہو جائیں گے ان کے وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے
اور ہم ہر امت میں سے ایک گواه الگ کرلیں گے کہ اپنی دلیلیں پیش کرو پس اس وقت جان لیں گے کہ حق اللہ تعالیٰ کی طرف ہے، اور جو کچھ افترا وه جوڑتے تھے سب ان کے پاس سے کھو جائے گا
اور ہر گروہ میں سے ایک گواہ نکال کر فرمائیں گے اپنی دلیل لاؤ تو جان لیں گے کہ حق اللہ کا ہے اور ان سے کھوئی جائیں گی جو بناوٹیں کرتے تھے
اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہ نکال کر لائیں گے پھر ان سے کہیں گے کہ اپنی دلیل و برہان لاؤ تب انہیں معلوم ہوگا کہ حق اللہ ہی کیلئے ہے اور وہ جو افتراء پردازیاں کیا کرتے تھے وہ سب ان سے غائب ہو جائیں گی۔
اور ہم ہر امت میں سے ایک گواہ نکالیں گے، پھر ہم کہیں گے لاؤ اپنی دلیل، تو وہ جان لیں گے کہ بے شک سچ بات اللہ کی ہے اور ان سے گم ہو جائے گا جو وہ گھڑا کرتے تھے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

افترا بندی چھوڑ دو ٭٭

مشرکوں کو دوسری دفعہ ڈانٹ دی جائے گی اور فرمایا جائے گا کہ ’ دنیا میں جنہیں میرا شریک ٹھہرا رہے تھے وہ آج کہاں ہیں؟‘ ہر امت میں سے ایک گواہ یعنی اس امت کا پیغمبر ممتاز کر لیا جائے گا۔ مشرکوں سے کہا جائے گا اپنے شرک کی کوئی دلیل پیش کرو۔ اس وقت یہ یقین کر لیں گے کہ فی الواقع عبادتوں کے لائق اللہ کے سوا اور کوئی نہیں۔ کوئی جواب نہ دے سکیں گے حیران رہ جائیں گے اور تمام افترا بھول جائیں گے۔

📖 احسن البیان

75-1اس گواہ سے مراد پیغمبر ہے۔ یعنی ہر امت کے پیغمبر کو اس امت سے الگ کھڑا کردیں گے۔ 75-2یعنی دنیا میں میرے پیغمبروں کی دعوت توحید کے باوجود میرے شریک ٹھہراتے تھے اور میرے ساتھ ان کی بھی عبادت کرتے تھے، اس کی دلیل پیش کرو۔ 75-3یعنی وہ حیران اور ساکت کھڑے ہونگے، کوئی جواب اور دلیل انھیں نہیں سوجھے گی۔ 75-4یعنی ان کے کام نہیں آئے گا۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 75) ➊ { وَ نَزَعْنَا مِنْ كُلِّ اُمَّةٍ شَهِيْدًا:} اس گواہ سے مراد وہ نبی ہے جس نے کسی امت کو حق کا پیغام پہنچایا اور اس کی امت کے وہ لوگ بھی جنھوں نے پیغمبر کے بعد لوگوں کو دین کی تبلیغ کی۔ اسی طرح ہر وہ ذریعہ بھی جس سے کسی قوم یا شخص تک حق کا پیغام پہنچا۔ وہ گواہ گواہی دے گا کہ میں نے ان لوگوں تک اللہ کا پیغام پہنچایا تھا۔ دوسری جگہ فرمایا: «وَ جِايْٓءَ بِالنَّبِيّٖنَ وَ الشُّهَدَآءِ وَ قُضِيَ بَيْنَهُمْ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ» ‏‏‏‏ [ الزمر: ۶۹ ] ”اور نبیوں اور گواہوں کو لایا جائے گا اور ان کے درمیان حق کے ساتھ فیصلہ کیا جائے گا اور ان پر ظلم نہیں کیا جائے گا۔“ ➋ { فَقُلْنَا هَاتُوْا بُرْهَانَكُمْ …:} اس گواہی کے بعد مجرموں کو موقع دیا جائے گا کہ وہ اس کے خلاف کوئی عذر پیش کر سکتے ہیں تو کریں اور جب وہ کوئی عذر پیش نہیں کر سکیں گے تو ان سے کہا جائے گا کہ تم اللہ کا پیغام پہنچنے کے بعد جو شرک ہی پر قائم رہے، اس کی تمھارے پاس کوئی دلیل ہے تو پیش کرو۔ تو اس وقت انھیں معلوم ہو جائے گا کہ سچی بات اللہ کی ہے، عبادت اسی کا حق ہے، کوئی اس کا شریک نہیں اور انھوں نے جو شریک بنائے تھے اور دنیا میں جو حجت بازی کرتے تھے، سب کچھ ان سے گم ہو جائے گا، نہ کوئی شریک ہاتھ آئے گا نہ اسے شریک بنانے کی کوئی دلیل پیش کر سکیں گے۔
← پچھلی آیت (74) پوری سورۃ اگلی آیت (76) →