بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القصص — Surah Qasas
آیت نمبر 74
کل آیات: 88
قرآن کریم القصص آیت 74
آیت نمبر: 74 — سورۃ القصص islamicurdubooks.com ↗
وَ یَوۡمَ یُنَادِیۡہِمۡ فَیَقُوۡلُ اَیۡنَ شُرَکَآءِیَ الَّذِیۡنَ کُنۡتُمۡ تَزۡعُمُوۡنَ ﴿۷۴﴾
(یاد رکھیں یہ لوگ) وہ دن جبکہ وہ انہیں پکارے گا پھر پوچھے گا "کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے؟"
اور جس دن انہیں پکار کر اللہ تعالیٰ فرمائے گا کہ جنہیں تم میرے شریک خیال کرتے تھے وه کہاں ہیں؟
اور جس دن انہیں ندا کرتے گا تو فرمائے گا، کہاں ہیں؟ میرے وہ شریک جو تم بکتے تھے،
اور (یاد کرو) وہ دن جس میں اللہ ان (مشرکین) کو پکارے گا اور کہے گا کہاں ہیں میرے شریک جن کے متعلق تم گمان فاسد کیا کرتے تھے۔
اور جس دن وہ انھیں آواز دے گا، پس کہے گا کہاں ہیں میرے وہ شریک جو تم گمان کرتے تھے؟

📖 تفسیر ابن کثیر

افترا بندی چھوڑ دو ٭٭

مشرکوں کو دوسری دفعہ ڈانٹ دی جائے گی اور فرمایا جائے گا کہ ’ دنیا میں جنہیں میرا شریک ٹھہرا رہے تھے وہ آج کہاں ہیں؟‘ ہر امت میں سے ایک گواہ یعنی اس امت کا پیغمبر ممتاز کر لیا جائے گا۔ مشرکوں سے کہا جائے گا اپنے شرک کی کوئی دلیل پیش کرو۔ اس وقت یہ یقین کر لیں گے کہ فی الواقع عبادتوں کے لائق اللہ کے سوا اور کوئی نہیں۔ کوئی جواب نہ دے سکیں گے حیران رہ جائیں گے اور تمام افترا بھول جائیں گے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 74) {وَ يَوْمَ يُنَادِيْهِمْ فَيَقُوْلُ …:} توحید کے مزید دلائل ذکر کرنے کے بعد وہی مضمون دہرایا جو اوپر گزرا ہے کہ اللہ تعالیٰ مشرکین کو آواز دے کر کہے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک جنھیں تم گمان کرتے تھے!؟ بار بار یہ کہنے کا مقصد انھیں ڈانٹنا، ذلیل و رسوا کرنا اور ان کی اور ان کے شرکاء کی بے بسی کا اور شرک کے باطل ہونے کا اظہار ہو گا۔ پھر کبھی وہ اس بات سے انکار کریں گے کہ وہ کسی شریک کی عبادت کرتے تھے (دیکھیے انعام: ۲۲ تا ۲۴)، کبھی اپنے جھوٹے معبودوں کو پکاریں گے اور کوئی جواب نہ پائیں گے اور کبھی مایوس ہو کر خاموش ہو رہیں گے۔
← پچھلی آیت (73) پوری سورۃ اگلی آیت (75) →