بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القصص — Surah Qasas
آیت نمبر 71
کل آیات: 88
قرآن کریم القصص آیت 71
آیت نمبر: 71 — سورۃ القصص islamicurdubooks.com ↗
قُلۡ اَرَءَیۡتُمۡ اِنۡ جَعَلَ اللّٰہُ عَلَیۡکُمُ الَّیۡلَ سَرۡمَدًا اِلٰی یَوۡمِ الۡقِیٰمَۃِ مَنۡ اِلٰہٌ غَیۡرُ اللّٰہِ یَاۡتِیۡکُمۡ بِضِیَآءٍ ؕ اَفَلَا تَسۡمَعُوۡنَ ﴿۷۱﴾
اے نبیؐ، اِن سے کہو کبھی تم لوگوں نے غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے رات طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کونسا معبود ہے جو تمہیں روشنی لا دے؟ کیا تم سُنتے نہیں ہو؟
کہہ دیجئے! کہ دیکھو تو سہی اگر اللہ تعالیٰ تم پر رات ہی رات قیامت تک برابر کر دے تو سوائے اللہ کے کون معبود ہے جو تمہارے پاس دن کی روشنی ﻻئے؟ کیا تم سنتے نہیں ہو؟
تم فرماؤ بھلا دیکھو تو اگر اللہ ہمیشہ تم پر قیامت تک رات رکھے تو اللہ کے سوا کون خدا ہے جو تمہیں روشنی لادے تو کیا تم سنتے نہیں
آپ کہئے آیا تم نے کبھی غور کیا ہے کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر رات مقرر (مسلط) کر دے تو اللہ کے سوا کون الہ ہے جو تمہارے پاس روشنی لائے؟ کیا تم سنتے نہیں ہو؟
کہہ کیا تم نے دیکھا اگر اللہ تم پر ہمیشہ قیامت کے دن تک رات کر دے تو اللہ کے سوا کون معبود ہے جو تمھارے پاس کوئی روشنی لے آئے؟ تو کیا تم نہیں سنتے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

سنی ان سنی نہ کرو ٭٭

اللہ کا احسان دیکھو کہ بغیر تمہاری کوشش اور تدبیر کے دن اور رات برابر آگے پیچھے آ رہے ہیں اگر رات ہی رات رہے تو تم عاجز آ جاؤ تمہارے کام رک جائیں تم پر زندگی وبال ہو جائے تم تھک جاؤ اکتا جاؤ کسی کو نہ پاؤ جو تمہارے لیے دن نکال سکے کہ تم اس کی روشنی میں چلو پھرو، دیکھو بھالو اپنے کام کاج کر لو۔ افسوس تم سنا کر بھی بے سنا کر دیتے ہو۔ اسی طرح اگر وہ تم پر دن ہی دن کو روک دے رات آئے ہی نہیں تو بھی تمہاری زندگی تلخ ہو جائے۔ بدن کا نظام الٹ پلٹ ہو جائے تھک جاؤ تنگ ہو جاؤ کوئی نہیں جسے قدرت ہو کہ وہ رات لاسکے جس میں تم راحت و آرام حاصل کر سکو لیکن تم آنکھیں رکھتے ہوئے اللہ کی ان نشانیوں اور مہربانیوں کو دیکھتے ہی نہیں ہو۔ یہ بھی اس کا احسان ہے کہ اس نے دن رات دونوں پیدا کر دئیے ہیں کہ رات کو تمہیں سکون و آرام حاصل ہو اور دن کو تم کام کاج تجارت ذراعت سفر شغل کر سکو۔ تمہیں چاہیئے کہ تم اس مالک حقیقی اس قادر مطلق کا شکر ادا کرو رات کو اس کی عبادتیں کرو رات کے قصور کی تلافی دن میں اور دن کے قصور کی تلافی رات میں کر لیا کرو۔ یہ مختلف چیزیں قدرت کے نمونے ہیں اور اس لیے ہیں کہ تم نصیحت وعبرت سیکھو اور رب کا شکر کرو۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 72،71) ➊ {قُلْ اَرَءَيْتُمْ اِنْ جَعَلَ اللّٰهُ عَلَيْكُمُ الَّيْلَ …:” اَرَءَيْتُمْ “} کا لفظی معنی ہے ”کیا تم نے دیکھا۔“ عرب اسے {”أَخْبِرُوْنِيْ“} (مجھے بتاؤ) کے معنی میں استعمال کرتے ہیں، یعنی تم نے دیکھا ہے تو بتاؤ۔ اللہ تعالیٰ کی توحید کی ایک اور دلیل اور اس کی نعمتوں میں سے ایک اور نعمت، جس پر وہ حمد کا مستحق ہے، رات دن کا بدلنا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اِنَّ فِيْ خَلْقِ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضِ وَ اخْتِلَافِ الَّيْلِ وَ النَّهَارِ لَاٰيٰتٍ لِّاُولِي الْاَلْبَابِ }» [ آل عمران: ۱۹۰ ] ”بے شک آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے اور رات اور دن کے بدلنے میں عقلوں والوں کے لیے یقینا بہت سی نشانیاں ہیں۔“ فرمایا: ”یہ بتاؤ کہ اگر اللہ تعالیٰ تم پر قیامت کے دن تک ہمیشہ رات کر دے تو اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمھارے پاس کوئی روشنی لے آئے، خواہ کسی قسم کی ہو یا کتنی معمولی ہو۔“ ({بِضِيَآءٍ} کی تنوین تنکیر و تقلیل کے لیے ہے) یہاں اللہ تعالیٰ نے {” اَفَلَا تَسْمَعُوْنَ “} (تو کیا تم سنتے نہیں) ذکر فرمایا، جب کہ اگلی آیت میں {” اَفَلَا تُبْصِرُوْنَ “} (تو کیا تم نہیں دیکھتے) فرمایا۔ ابن ہبیرہ نے فرمایا: ”اس کی حکمت یہ ہے کہ سمع کی سلطنت رات کو ہوتی ہے اور بصر کی دن کو (رات کی تاریکی میں کان سنتے ہیں، آنکھ نہیں دیکھتی اور دن کی روشنی کے ذریعے سے آنکھ دیکھتی ہے، کان نہیں سنتے)۔“ (بقاعی) یعنی رات کی اس تاریکی میں، جو ہمیشہ کے لیے قیامت تک مسلط ہو، یہ بات تمھارے کان سن سکتے ہیں کہ اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمھارے پاس کسی بھی طرح کی تھوڑی سے تھوڑی روشنی ہی لے آئے؟ تو کیا تم سنتے نہیں کہ سن کر سمجھو اور سمجھ کر اللہ کی توحید پر ایمان لے آؤ۔ اسی طرح اگر اللہ تعالیٰ تم پر قیامت کے دن تک ہمیشہ کے لیے دن کر دے تو اللہ کے سوا کون سا معبود ہے جو تمھارے پاس کوئی رات لے آئے جس میں تم راحت اور سکون پاسکو۔ ➋ ان آیات میں رات کا ذکر دن سے پہلے فرمایا، کیونکہ رات کے بعد دن آنے کی نعمت بہت بڑی نعمت ہے۔ انسان کی معیشت کا سارا سلسلہ اسی پر موقوف ہے۔ علاوہ ازیں رات ایک طرح کا عدم ہے اور ضیاء وجود اور ظاہر ہے کہ عدم وجود سے پہلے ہے۔
← پچھلی آیت (70) پوری سورۃ اگلی آیت (72) →