بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القصص — Surah Qasas
آیت نمبر 70
کل آیات: 88
قرآن کریم القصص آیت 70
آیت نمبر: 70 — سورۃ القصص islamicurdubooks.com ↗
وَ ہُوَ اللّٰہُ لَاۤ اِلٰہَ اِلَّا ہُوَ ؕ لَہُ الۡحَمۡدُ فِی الۡاُوۡلٰی وَ الۡاٰخِرَۃِ ۫ وَ لَہُ الۡحُکۡمُ وَ اِلَیۡہِ تُرۡجَعُوۡنَ ﴿۷۰﴾
وہی ایک اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں اسی کے لیے حمد ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، فرماں روائی اسی کی ہے اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو
وہی اللہ ہے اس کے سوا کوئی ﻻئق عبادت نہیں، دنیا اور آخرت میں اسی کی تعریف ہے۔ اسی کے لیے فرمانروائی ہے اور اسی کی طرف تم سب پھیرے جاؤ گے
اور وہی ہے اللہ کہ کوئی خدا نہیں اس کے سوا اسی کی تعریف ہے دنیا اور آخرت میں اور اسی کا حکم ہے اور اسی کی طرف پھر جاؤ گے،
وہی (ایک) اللہ ہے اس کے سوا کوئی اللہ نہیں ہے اسی کیلئے ہر قسم کی تعریف ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی اور اسی کی حکومت (فرمانروائی) ہے اور تم اسی کی طرف لوٹائے جاؤگے۔
اور وہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی معبود نہیں، اسی کے لیے دنیا اور آخرت میں سب تعریف ہے اور اسی کے لیے حکم ہے اور اسی کی طرف تم لوٹائے جاؤ گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

صفات الٰہی ٭٭

ساری مخلوق کا خالق تمام اختیارات والا اللہ ہی ہے۔ نہ اس میں کوئی اس سے جھگڑنے والا نہ اس کا شریک و ساتھی۔ جو چاہے پیدا کرے جسے چاہے اپنا خاص بندہ بنا لے۔ جو چاہتا ہے ہوتا ہے جو نہیں چاہتا ہو نہیں سکتا۔ تمام امور سب خیرو شر اسی کے ہاتھ ہے۔ سب کی باز گشت اسی کی جانب ہے کسی کو کوئی اختیار نہیں۔ یہی لفظ اسی معنی میں آیت «وَمَا كَانَ لِمُؤْمِنٍ وَّلَا مُؤْمِنَةٍ اِذَا قَضَى اللّٰهُ وَرَسُوْلُهٗٓ اَمْرًا اَنْ يَّكُوْنَ لَهُمُ الْخِـيَرَةُ مِنْ اَمْرِهِمْ» ۱؎ [33-الأحزاب:36] ‏‏‏‏ میں ہے دنوں جگہ «ما» نافیہ ہے۔ گو ابن جریررحمہ اللہ نے یہ کہا کہ «ما» معنی میں «الَّذِیْ» کے ہے یعنی اللہ پسند کرتا ہے اسے جس میں بھلائی ہو اور اس معنی کو لے کر معتزلیوں نے مراعات صالحین پر استدلال کیا ہے لیکن صحیح بات یہی ہے کہ یہاں «ما» نفی کے معنی میں ہے جیسے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ وغیرہ سے مروی ہے۔ یہ آیت اسی بیان میں ہے کہ مخلوق کی پیدائش میں تقدیر کے مقرر کرنے میں اختیار رکھنے میں اللہ ہی اکیلا ہے اور نظیر سے پاک ہے۔ اسی لیے آیت کے خاتمہ پر فرمایا کہ ’ جب بتوں وغیرہ کو وہ شریک الٰہی ٹھہرا رہے ہیں جو نہ کسی چیز کو بناسکیں نہ کسی طرح اختیار رکھیں اللہ ان سب سے پاک اور بہت دور ہے ‘۔ پھر فرمایا ’ سینوں اور دلوں میں چھپی ہوئی باتیں بھی اللہ جانتا ہے اور وہ سب بھی اس پر اسی طرح ظاہر ہیں جس طرح کھلم کھلا اور ظاہر باتیں۔ پوشیدہ بات کہو یا اعلان سے کہو وہ سب کا عالم ہے رات میں اور دن میں جو ہو رہا ہے اس پر پوشیدہ نہیں ‘۔ الوہیت میں بھی وہ یکتا ہے مخلوق میں کوئی ایسا نہیں جو اپنی حاجتیں اس کی طرف لے جائے۔ جس سے مخلوق عاجزی کرے، جو مخلوق کا ملجا و ماویٰ ہو، جو عبادت کے لائق ہو۔ خالق مختار رب مالک وہی ہے۔ وہ جو کچھ کر رہا ہے سب لائق تعریف ہے اس کا عدل وحکمت اسی کے ساتھ ہے۔ اس کے احکام کو کوئی رد نہیں کر سکتا اس کے ارادوں کو کوئی ٹال نہیں سکتا۔ غلبہ حکمت رحمت اسی کی ذات پاک میں ہے۔ تم سب قیامت کے دن اسی کی طرف لوٹائے جاؤ گے وہ سب کو ان کے اعمال کا بدلہ دے گا۔ اس پر تمہارے کاموں میں سے کوئی کام چھپا ہوا نہیں۔ نیکوں کو جزا بدوں کو سزا وہ اس روز دے گا اور اپنی مخلوق میں فیصلے فرمائے گا۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 70) ➊ { وَ هُوَ اللّٰهُ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا هُوَ:} اور وہ جس نے جو چاہا پیدا کیا اور پیدا کرتا ہے اور جو چاہے اختیا رکرتا ہے، جو سینوں کی چھپائی ہوئی باتوں کو اور علانیہ کیے جانے والے کاموں کو جانتا ہے وہی اللہ ہے، اس کے سوا کوئی عبادت کے لائق نہیں۔ کیونکہ یہ صفات کسی اور میں ہیں ہی نہیں، پھر کوئی اس کا شریک کیسے بن گیا؟! ➋ { لَهُ الْحَمْدُ فِي الْاُوْلٰى وَ الْاٰخِرَةِ:} دنیا اور آخرت میں تعریف جو بھی ہے اور جس کی بھی ہے سب اس اکیلے کی ہے، کیونکہ جو تعریف ہو گی کسی نہ کسی خوبی پر ہو گی اور خوبی جو بھی ہے اور جس میں ہے سب اس کی عطا کر دہ ہے۔ سو تعریف جس کی بھی کی جائے اصل میں اسی کی ہو گی۔ اس کے علاوہ دنیا اور آخرت میں اس نے جو کچھ کیا یا کر رہا ہے یا کرے گا سب محمود ہی محمود ہے۔ اس کی بات یا اس کا کام ایک بھی ایسا نہیں جس کی مذمت کی جا سکے۔ اس لیے مومن دنیا میں بھی اسی کی حمد کرتے ہیں۔ اور آخرت میں بھی اسی کی حمد کریں گے۔ دیکھیے سورۂ زمر (۷۴، ۷۵)۔ ➌ { وَ لَهُ الْحُكْمُ:} حکم کی دو قسمیں ہیں، ایک تکوینی حکم اور ایک تشریعی۔ تکوینی حکم کا مطلب {”كُنْ“} کہنا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{اِنَّمَا اَمْرُهٗۤ اِذَاۤ اَرَادَ شَيْـًٔا اَنْ يَّقُوْلَ لَهٗ كُنْ فَيَكُوْنُ }» [ یٰس: ۸۲ ] ”اس کا حکم تو، جب وہ کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے، اس کے سوا نہیں ہوتا کہ اسے کہتا ہے ”ہو جا“ تو وہ ہو جاتی ہے۔“ یہ حکم صرف اس کا ہے، کسی اور میں یہ قدرت ہے نہ اختیار، فرمایا: «{ وَ اللّٰهُ يَحْكُمُ لَا مُعَقِّبَ لِحُكْمِهٖ وَ هُوَ سَرِيْعُ الْحِسَابِ }» [ الرعد: ۴۱ ] ”اور اللہ فیصلہ فرماتا ہے، اس کے فیصلے پر کوئی نظر ثانی کرنے والا نہیں اور وہ جلد حساب لینے والا ہے۔“ دوسرا حکم تشریعی ہے، یعنی اس نے اپنے بندوں کو جو کچھ کرنے یا نہ کرنے کا حکم دیا ہے یہ بھی صرف اس کا حق ہے، کسی دوسرے کو یہ حق دینا اسے اللہ کا شریک بنانا ہے، جیسا کہ فرمایا: «{ اَمْ لَهُمْ شُرَكٰٓؤُا شَرَعُوْا لَهُمْ مِّنَ الدِّيْنِ مَا لَمْ يَاْذَنْۢ بِهِ اللّٰهُ }» [ الشورٰی: ۲۱ ] ” یا ان کے لیے کچھ ایسے شریک ہیں جنھوں نے ان کے لیے دین کا وہ طریقہ مقرر کیا ہے جس کی اللہ نے اجازت نہیں دی۔“ ➍ {وَ اِلَيْهِ تُرْجَعُوْنَ:} یعنی مرنے کے بعد تم اپنے بنائے ہوئے کسی مشکل کشا، حاجت روا، داتا، دستگیر، گنج بخش یا غریب نواز کی طرف نہیں بلکہ اس اکیلے کی طرف لوٹائے جاؤ گے اور وہی تمھارا حساب کر کے نیک کو نیکی کا اور بد کو بدی کا بدلا دے گا، اس لیے اس کے ساتھ کسی کو شریک بنا کر اپنی جان پر ظلم مت کرو۔
← پچھلی آیت (69) پوری سورۃ اگلی آیت (71) →