بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القصص — Surah Qasas
آیت نمبر 67
کل آیات: 88
قرآن کریم القصص آیت 67
آیت نمبر: 67 — سورۃ القصص islamicurdubooks.com ↗
فَاَمَّا مَنۡ تَابَ وَ اٰمَنَ وَ عَمِلَ صَالِحًا فَعَسٰۤی اَنۡ یَّکُوۡنَ مِنَ الۡمُفۡلِحِیۡنَ ﴿۶۷﴾
البتہ جس نے آج توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے وہی یہ توقع کر سکتا ہے کہ وہاں فلاح پانے والوں میں سے ہو گا
ہاں جو شخص توبہ کرلے ایمان لے آئے اور نیک کام کرے یقین ہے کہ وه نجات پانے والوں میں سے ہو جائے گا
تو وہ جس نے توبہ کی اور ایمان لایا اور اچھا کام کیا قریب ہے کہ وہ راہ یاب ہو،
البتہ جو توبہ کرے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے تو امید ہے کہ وہ فلاح پانے والوں میں سے ہوگا۔
پس رہا وہ جس نے توبہ کر لی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیا، سو امید ہے کہ وہ فلاح پانے والوں میں سے ہوگا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جیسے ارشاد ہے کہ «وَيَوْمَ يَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَاءِيَ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ مَّوْبِقًا» الخ ۱؎ [18-الكهف:53-52] ‏‏‏‏، ’ جس دن فرمائے گا کہ میرے ان شریکوں کو آواز دو جنہیں تم بہت کچھ سمجھ رہے تھے یہ پکاریں گے لیکن وہ جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے اور ان کے درمیان آڑ کریں گے مجرم لوگ دوزخ کو دیکھیں گے پھر باور کرائیں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں لیکن اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے ‘۔ اسی قیامت والے دن ان سب کو سنا کر ایک سوال یہ بھی ہو گا کہ ’ تم نے میرے انبیاء علیہم السلام کو کیا جواب دیا؟ اور کہاں تک ان کا ساتھ دیا؟ ‘ پہلے توحید کے متعلق بازپرس تھی اب رسالت کے متعلق سوال جواب ہو رہے ہیں۔ اسی طرح قبر میں بھی سوال ہوتا ہے کہ تیرا رب کون ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ اور تیرا دین کیا ہے؟ مومن جواب دیتا ہے کہ میرا معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میرے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے (‏‏‏‏سلام علیہ) ہاں کافر سے کوئی جواب نہیں بن پڑتا وہ گھبراہٹ اور پریشانی سے کہتا ہے مجھے اس کی کوئی خبر نہیں۔ اندھا بہرا ہو جاتا ہے۔ جیسے فرمایا آیت «وَمَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖٓ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَاَضَلُّ سَبِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:72] ‏‏‏‏ ’ جو شخص یہاں اندھا ہے وہ وہاں بھی اندھا اور راہ بھولا رہے گا ‘۔ تمام دلیلیں ان کی نگاہوں سے ہٹ جائیں گی رشتے ناتے حسب نسب کی کوئی قدر نہ ہو گی نسب ناموں کا کوئی سوال نہ ہو گا۔ ہاں دنیا میں توبہ کرنے والے ایمان اور نیکی کے ساتھ زندگی گزارنے والے تو بیشک فلاح اور نجات حاصل کر لیں گے یہاں «عَسیٰ» یقین کے معنی میں ہے یعنی مومن ضرور کامیاب ہونگے۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 67) ➊ { فَاَمَّا مَنْ تَابَ وَ اٰمَنَ …:} قرآن مجید میں کافر و مومن اور عذاب و ثواب دونوں کے بیان کا سلسلہ ساتھ ساتھ چلتا ہے۔ یہاں کفر پر مرنے والوں کے ذکر کے بعد توبہ کر کے ایمان اور عمل صالح والوں کا ذکر فرمایا کہ امید ہے کہ یہ لوگ فلاح پانے والوں سے ہوں گے۔ ➋ یہاں مشہور سوال ہے کہ توبہ، ایمان اور عمل صالح والوں کے لیے فلاح کا وعدہ موجود ہے، جیسا کہ سورۂ بقرہ کے شروع میں مومنوں کی چند صفات ذکر کرنے کے بعد فرمایا: «{ اُولٰٓىِٕكَ عَلٰى هُدًى مِّنْ رَّبِّهِمْ وَ اُولٰٓىِٕكَ هُمُ الْمُفْلِحُوْنَ }» [البقرۃ: ۵ ] ”یہ لوگ اپنے رب کی طرف سے بڑی ہدایت پر ہیں اور یہی لوگ پورے کامیاب ہیں۔“ پھر یقین کے بجائے {” فَعَسٰۤى “} (سو امید ہے) کا کیا مطلب ہے؟ اس کے دو جواب ہیں، ایک یہ کہ یہ شاہانہ اندازِ بیان ہے۔ عام بادشاہ کسی چیز کی امید دلا دیں تو اسے پورا کرتے ہیں، تو شاہوں کا شاہ ملک الملوک امید دلائے تو کیسے ہو سکتا ہے کہ پوری نہ کرے، یہ اس کی شان ہی کے خلاف ہے۔ دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ {” فَعَسٰۤى “} (سو امید ہے) اس توبہ، ایمان اور عمل صالح والے شخص کے اعتبار سے ہے کہ اسے یہ امید رکھنی چاہیے، کیونکہ یقین تو تب ہو جب اسے قبولیت کی سند مل جائے۔
← پچھلی آیت (66) پوری سورۃ اگلی آیت (68) →