بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ القصص — Surah Qasas
آیت نمبر 66
کل آیات: 88
قرآن کریم القصص آیت 66
آیت نمبر: 66 — سورۃ القصص islamicurdubooks.com ↗
فَعَمِیَتۡ عَلَیۡہِمُ الۡاَنۡۢبَآءُ یَوۡمَئِذٍ فَہُمۡ لَا یَتَسَآءَلُوۡنَ ﴿۶۶﴾
اُس وقت کوئی جواب اِن کو نہ سُوجھے گا اور نہ یہ آپس میں ایک دُوسرے سے پوچھ ہی سکیں گے
پھر تو اس دن ان کی تمام دلیلیں گم ہو جائیں گی اور ایک دوسرے سے سوال تک نہ کریں گے
تو اس دن ان پر خبریں اندھی ہوجائیں گی تو وہ کچھ پوجھ گچھ نہ کریں گے
اس دن ان پر خبریں تاریک ہو جائیں گی (کوئی جواب نہ بن پڑے گا) اور نہ ہی یہ آپس میں ایک دوسرے سے پوچھ گچھ کر سکیں گے۔
تو اس دن ان پر تمام خبریں تاریک ہو جائیں گی، سو وہ ایک دوسرے سے (بھی) نہیں پوچھیں گے۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جیسے ارشاد ہے کہ «وَيَوْمَ يَقُوْلُ نَادُوْا شُرَكَاءِيَ الَّذِيْنَ زَعَمْتُمْ فَدَعَوْهُمْ فَلَمْ يَسْتَجِيْبُوْا لَهُمْ وَجَعَلْنَا بَيْنَهُمْ مَّوْبِقًا» الخ ۱؎ [18-الكهف:53-52] ‏‏‏‏، ’ جس دن فرمائے گا کہ میرے ان شریکوں کو آواز دو جنہیں تم بہت کچھ سمجھ رہے تھے یہ پکاریں گے لیکن وہ جواب نہ دیں گے اور ہم ان کے اور ان کے درمیان آڑ کریں گے مجرم لوگ دوزخ کو دیکھیں گے پھر باور کرائیں گے کہ وہ اس میں گرنے والے ہیں لیکن اس سے بچنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے ‘۔ اسی قیامت والے دن ان سب کو سنا کر ایک سوال یہ بھی ہو گا کہ ’ تم نے میرے انبیاء علیہم السلام کو کیا جواب دیا؟ اور کہاں تک ان کا ساتھ دیا؟ ‘ پہلے توحید کے متعلق بازپرس تھی اب رسالت کے متعلق سوال جواب ہو رہے ہیں۔ اسی طرح قبر میں بھی سوال ہوتا ہے کہ تیرا رب کون ہے؟ تیرا نبی کون ہے؟ اور تیرا دین کیا ہے؟ مومن جواب دیتا ہے کہ میرا معبود صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اور میرے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم ہیں جو اللہ کے بندے اور اس کے رسول تھے (‏‏‏‏سلام علیہ) ہاں کافر سے کوئی جواب نہیں بن پڑتا وہ گھبراہٹ اور پریشانی سے کہتا ہے مجھے اس کی کوئی خبر نہیں۔ اندھا بہرا ہو جاتا ہے۔ جیسے فرمایا آیت «وَمَنْ كَانَ فِيْ هٰذِهٖٓ اَعْمٰى فَهُوَ فِي الْاٰخِرَةِ اَعْمٰى وَاَضَلُّ سَبِيْلًا» ۱؎ [17-الإسراء:72] ‏‏‏‏ ’ جو شخص یہاں اندھا ہے وہ وہاں بھی اندھا اور راہ بھولا رہے گا ‘۔ تمام دلیلیں ان کی نگاہوں سے ہٹ جائیں گی رشتے ناتے حسب نسب کی کوئی قدر نہ ہو گی نسب ناموں کا کوئی سوال نہ ہو گا۔ ہاں دنیا میں توبہ کرنے والے ایمان اور نیکی کے ساتھ زندگی گزارنے والے تو بیشک فلاح اور نجات حاصل کر لیں گے یہاں «عَسیٰ» یقین کے معنی میں ہے یعنی مومن ضرور کامیاب ہونگے۔

📖 احسن البیان

6-6۔-1کیونکہ انھیں یقین ہوچکا ہوگا کہ سب جہنم میں داحل ہونے والے ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 66) ➊ { فَعَمِيَتْ عَلَيْهِمُ الْاَنْۢبَآءُ يَوْمَىِٕذٍ …:”عَمِيَ يَعْمٰي عَمًي“} (ع) کا معنی اندھا ہونا ہے۔ کہنا یہ تھا کہ {”فَعَمُوْا عَنِ الْأَنْبَاءِ يَوْمَئِذٍ “} کہ ”وہ اس دن خبروں سے اندھے ہو جائیں گے۔“ مبالغے کے لیے الٹ فرمایا کہ اس دن ان پر تمام خبریں تاریک ہو جائیں گی، یعنی یہ بات ان کی سمجھ ہی میں نہیں آئے گی کہ وہ اس سوال کا کیا جواب دیں، نہ ہی یہ ہو سکے گا کہ ایک دوسرے سے پوچھ کر اس سوال کا جواب دے دیں۔ اس وقت کی دہشت ہی اتنی زیادہ ہو گی کہ وہ ایک دوسرے سے کوئی بات پوچھ ہی نہیں سکیں گے۔ ➋ اس سوال سے پہلے قبر میں منکر نکیر کے سوالات کے جواب میں بھی کافر اور منافق یہی کہیں گے: [ هَاهْ هَاهْ لَا أَدْرِيْ ] ”ہائے ہائے، میں نہیں جانتا۔“ [ دیکھیے أبوداوٗد، السنۃ، باب المسألۃ في القبر…: ۴۷۵۳، عن البراء بن عازب رضی اللہ عنہ، و صححہ الألباني ] یہ بھی خبروں کے تاریک ہو جانے ہی کا نتیجہ ہو گا۔ ➌ یہاں فرمایا: «{ فَهُمْ لَا يَتَسَآءَلُوْنَ}» ”وہ ایک دوسرے سے (بھی) نہیں پوچھیں گے۔“ دوسری جگہ فرمایا: «{ وَ اَقْبَلَ بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ يَّتَسَآءَلُوْنَ }» [ الصافات: ۲۷ ] ”اور ان کے بعض بعض کی طرف متوجہ ہوں گے، ایک دوسرے سے سوال کریں گے۔“ اسی طرح یہاں فرمایا: ”وہ کچھ جواب نہ دیں سکیں گے۔“ دوسری جگہ فرمایا، وہ کہیں گے: «{ وَ اللّٰهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِيْنَ }» [ الأنعام: ۲۳ ] ”اللہ کی قسم! جو ہمارا رب ہے، ہم شریک بنانے والے نہ تھے۔“ اس ظاہری اختلاف کی حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا دن بہت لمبا ہے۔ اس میں کفار پر کئی مرحلے آئیں گے، جن میں کبھی وہ خاموش رہیں گے، کبھی جرم سے انکار کریں گے، کبھی اقرار کریں گے اور کہیں گے ہم پر ہماری بدبختی غالب آگئی۔ کبھی ایک دوسرے سے سوال کریں گے اور کبھی ایک دوسرے سے سوال نہیں کر سکیں گے، اس لیے مقامات مختلف ہونے کی وجہ سے ان آیات میں کوئی حقیقی اختلاف نہیں ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ انعام (۲۲، ۲۳)۔
← پچھلی آیت (65) پوری سورۃ اگلی آیت (67) →