بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النور — Surah Nur
آیت نمبر 53
کل آیات: 64
قرآن کریم النور آیت 53
آیت نمبر: 53 — سورۃ النور islamicurdubooks.com ↗
وَ اَقۡسَمُوۡا بِاللّٰہِ جَہۡدَ اَیۡمَانِہِمۡ لَئِنۡ اَمَرۡتَہُمۡ لَیَخۡرُجُنَّ ؕ قُلۡ لَّا تُقۡسِمُوۡا ۚ طَاعَۃٌ مَّعۡرُوۡفَۃٌ ؕ اِنَّ اللّٰہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿۵۳﴾
یہ (منافق) اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ "آپ حکم دیں تو ہم گھروں سے نکل کھڑے ہوں" اِن سے کہو "قسمیں نہ کھاؤ، تمہاری اطاعت کا حال معلوم ہے، تمہارے کرتوتوں سے اللہ بے خبر نہیں ہے"
بڑی پختگی کے ساتھ اللہ تعالیٰ کی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ آپ کا حکم ہوتے ہی نکل کھڑے ہوں گے۔ کہہ دیجیئے کہ بس قسمیں نہ کھاؤ (تمہاری) اطاعت (کی حقیقت) معلوم ہے۔ جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ تعالیٰ اس سے باخبر ہے
اور انہوں نے اللہ کی قسم کھائی اپنے حلف میں حد کی کوشش سے کہ اگر تم انہیں حکم دو گے تو وہ ضرور جہاد کو نکلیں گے تم فرماؤ قسمیں نہ کھاؤ موافق شرع حکم برداری چاہیے، اللہ جانتا ہے جو تم کرتے ہو
اور یہ (منافق) اپنے مقدور بھر اللہ کی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ اگر آپ انہیں حکم دیں گے تو وہ (اپنے گھروں سے بھی) نکل کھڑے ہوں گے آپ کہیئے کہ تم قسمیں نہ کھاؤ۔ پس معروف و معلوم فرمانبرداری مطلوب ہے۔ بےشک جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے خوب واقف ہے۔
اور انھوں نے اللہ کی قسمیں کھائیں، اپنی پختہ قسمیں کہ اگر واقعی تو انھیں حکم دے تو وہ ہر صورت ضرور نکلیں گے، تو کہہ قسمیں نہ کھاؤ، جانی پہچانی ہوئی اطاعت (ہی کافی ہے)۔ بے شک اللہ اس سے خوب واقف ہے جو تم کرتے ہو۔

📖 تفسیر ابن کثیر

مکار منافق ٭٭

اہل نفاق کا حال بیان ہو رہا ہے کہ ’ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر اپنی ایمانداری اور خیر خواہی جتاتے ہوئے قسمیں کھا کھا کر یقین دلاتے تھے کہ ہم جہاد کیلئے تیار بیٹھے ہیں بلکہ بے قرار ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم کی دیر ہے فرمان ہوتے ہی گھربار بال بچے چھوڑ کر میدان جنگ میں پہنچ جائیں گے ‘۔ اللہ تعالیٰ ان سے فرماتا ہے «يَحْلِفُونَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِن تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَإِنَّ اللَّـهَ لَا يَرْضَىٰ عَنِ الْقَوْمِ الْفَاسِقِينَ» ۱؎ [9-التوبة:96] ‏‏‏‏ ’ ان سے کہہ دو کہ قسمیں نہ کھاؤ تمہاری اطاعت کی حقیقت تو روشن ہے ‘، زبانی ڈینگیں بہت ہیں، عملی حصہ صفر ہے۔ «اتَّخَذُوا أَيْمَانَهُمْ جُنَّةً فَصَدُّوا عَن سَبِيلِ اللَّـهِ إِنَّهُمْ سَاءَ مَا كَانُوا يَعْمَلُونَ» ۱؎ [63-المنافقون:2] ‏‏‏‏ ’ تمہاری قسموں کی حقیقت بھی معلوم ہے، دل میں کچھ ہے، زبان پر کچھ ہے، جتنی زبان مومن ہے اتنا ہی دل کافر ہے۔ یہ قسمیں صرف مسلمانوں کی ہمدردی حاصل کرنے کے لیے ہیں ‘۔ «لَئِنْ أُخْرِجُوا لَا يَخْرُجُونَ مَعَهُمْ وَلَئِن قُوتِلُوا لَا يَنصُرُونَهُمْ وَلَئِن نَّصَرُوهُمْ لَيُوَلُّنَّ الْأَدْبَارَ ثُمَّ لَا يُنصَرُونَ» ۱؎ [59-الحشر:12] ‏‏‏‏ ’ ان قسموں کو تو یہ لوگ ڈھال بنائے ہوئے ہیں تم سے ہی نہیں بلکہ کافروں کے سامنے بھی ان کی موافقت اور ان کی امداد کی قسمیں کھاتے ہیں لیکن اتنے بزدل ہیں کہ ان کا ساتھ خاک بھی نہیں دے سکتے ‘۔ اس جملے کے ایک معنی یہ بھی ہو سکتے ہیں کہ ’ تمہیں تو معقول اور پسندیدہ اطاعت کاشیوہ چاہے نہ کہ قسمیں کھانے اور ڈینگیں مارنے کا، تمہارے سامنے مسلمان موجود ہیں دیکھو نہ وہ قسمیں کھاتے ہیں نہ بڑھ بڑھ کر باتیں بناتے ہیں، ہاں کام کے وقت سب سے آگے نکل آتے ہیں اور فعلی حصہ بڑھ چڑھ کر لیتے ہیں۔ اللہ پر کسی کا کوئی عمل مخفی نہیں وہ اپنے بندوں کے ایک ایک عمل سے باخبر ہے۔ ہر عاصی اور مطیع اس پر ظاہر ہے۔ ہر ایک باطن پر بھی اس کی نگاہیں ویسی ہی ہیں جیسی ظاہر پر، گو تم ظاہر کچھ کرو لیکن وہ باطن پر بھی اگاہ ہے۔ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی یعنی قرآن اور حدیث کی اتباع کرو اگر تم اس سے منہ موڑ لو، اسے چھوڑ دو تو تمہارے اس گناہ کا وبال میرے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر نہیں۔ اس کے ذمے تو صرف پیغام الٰہی پہنچانا اور ادائے امانت کر دینا ہے۔ تم پر وہ ہے جس کے ذمے دار تم ہو یعنی قبول کرنا، عمل کرنا وغیرہ ‘۔ ہدایت صرف اطاعت رسول میں ہے، اس لیے کہ «صِرَاطِ اللَّـهِ الَّذِي لَهُ مَا فِي السَّمَاوَاتِ وَمَا فِي الْأَرْضِ أَلَا إِلَى اللَّـهِ تَصِيرُ الْأُمُورُ» ۱؎ [42-الشورى:53] ‏‏‏‏ ’ صراط مستقیم کا داعی وہی ہے جو صراط مستقیم اس اللہ تک پہنچاتی ہے جس کی سلطنت تمام زمین آسمان ہے ‘۔ «وَإِن مَّا نُرِيَنَّكَ بَعْضَ الَّذِي نَعِدُهُمْ أَوْ نَتَوَفَّيَنَّكَ فَإِنَّمَا عَلَيْكَ الْبَلَاغُ وَعَلَيْنَا الْحِسَابُ» ۱؎ [13-الرعد:40] ‏‏‏‏ ’ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے ذمے صرف پہنچادینا ہی ہے، سب کا حساب ہمارے ذمے ہے ‘۔ جیسے فرمان ہے آیت «فَذَكِّرْ إِنَّمَا أَنتَ مُذَكِّرٌ لَّسْتَ عَلَيْهِم بِمُصَيْطِرٍ» ۱؎ [88-الغاشية:22،21] ‏‏‏‏، ’ تو صرف ناصح و واعظ ہے۔ انہیں نصیحت کر دیا کر، تو ان کا وکیل یا داروغہ نہیں ‘۔

وہب بن منبہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ”شعیاء علیہ السلام کی طرف وحی الٰہی آئی کہ ’ تو بنی اسرائیل کے مجمع میں کھڑا ہوجا، میں تیری زبان سے جو چاہوں گا نکلواؤں گا ‘، چنانچہ آپ علیہ السلام کھڑے ہوئے تو آپ علیہ السلام کی زبان سے بہ حکم الٰہی یہ خطبہ بیان ہوا: ”اے آسمان سن، اے زمین خاموش رہ، اللہ تعالیٰ ایک شان پوری کرنا اور ایک امر کی تدبیر کرنے والا ہے وہ چاہتا ہے کہ جنگلوں کو آباد کردے، ویرانے کو بسا دے، صحراوں کو سرسبز بنا دے، فقیروں کو غنی کر دے، چرواہوں کو سلطان بنا دے، ان پڑھوں میں سے ایک امی کو نبی بنا کر بھیجے جو نہ بدگو ہو نہ بد اخلاق ہو، نہ بازاروں میں شور و غل کرنے والا ہو، اتنا مسکین صفت ہو اور متواضع ہو کہ اس کے دامن کی ہوا سے چراغ بھی نہ بجھے، جس کے پاس سے وہ گزرا ہو۔ اگر وہ سوکھے بانسوں پر پیر رکھ کر چلے تو بھی چراچراہٹ کسی کے کان میں نہ پہنچے۔ میں اسے بشیر و نذیر بنا کر بھیجوں گا، وہ زبان کا پاک ہو گا، اندھی آنکھیں اس کی وجہ سے روشن ہو جائیں گی، بہرے کان اس کے باعث سننے لگیں گے، غلاف والے دل اس کی برکت سے کھل جائیں گے۔ ہر ایک بھلے کام سے میں اسے سنواردوں گا۔ حکمت اس کی باتیں ہوں گی، صدق و وفا کی کی طبیعت ہوگی، عفو ودرگزر کرنا اور عمدگی و بھلائی چاہنا اس کی خصلت ہو گی۔ حق اس کی شریعت ہوگی، عدل اس کی سیرت ہو گی، ہدایت اس کی امام ہوگی۔ اسلام اس کی ملت ہو گا۔ احمد اس کا نام ہوگا (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) گمراہی کے بعد اس کی وجہ سے میں ہدایت پھیلاوں گا، جہالت کے بعد علم چمک اٹھے گا، پستی کے بعد اس کی وجہ سے ترقی ہو گی۔ نادانی اس کی ذات سے دانائی میں بدل جائے گی۔ کمی زیادتی سے بدل جائے گی، فقیری کو اس کی وجہ سے میں امیری سے بدل دوں گا۔ اس کی ذات سے جدا جدا لوگوں کو میں ملا دوں گا، فرقت کے بعد الفت ہوگی، انتشار کے بعد اتحاد ہوگا، اختلاف کے بعد اتفاق ہوگا، مختلف دل، جداگانہ خواہشیں ایک ہو جائیں گی۔ بے شمار بندگان رب ہلاکت سے بچ جائیں گے، اس کی امت کو میں تمام امتوں سے بہتر کر دوں گا جو لوگوں کے نفع کے لیے ہوگی، بھلائیوں کا حکم کرنے والی برائیوں سے روکنے والی ہوگی، موحد مومن مخلص ہوں گے، اللہ کے جتنے رسول اللہ کی طرف سے جو لائے ہیں یہ سب کو مانیں گے، کسی کے منکر نہ ہوں گے۔‏‏‏‏“

📖 احسن البیان

53-1اور وہ یہ ہے کہ جس طرح تم قسمیں جھوٹی کھاتے ہو، تمہاری اطاعت بھی نفاق پر مبنی ہے۔ بعض نے یہ معنی کئے ہیں کہ تمہارا معاملہ اطاعت معروف ہونا چاہیئے۔ یعنی معروف میں بغیر کسی قسم کے حلف کے اطاعت، جس طرح مسلمان کرتے ہیں، پس تم بھی ان کی مثل ہوجاؤ۔ (ابن کثیر)

📖 القرآن الکریم

(آیت 53) ➊ {وَ اَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ …: ” جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ “} کی دو ترکیبیں ہو سکتی ہیں، ایک یہ کہ یہ فعل محذوف کا مصدر ہے، جو اس فعل کی تاکید کر رہا ہے: {”أَيْ أَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ يَجْهَدُوْنَ أَيْمَانَهُمْ جَهْدًا“} اور {” جَهْدَ اَيْمَانِهِمْ “} کا مطلب یہ ہے کہ وہ اللہ کی قسم کھانے کی زیادہ سے زیادہ جو طاقت رکھتے تھے اس کے ساتھ انھوں نے قسم کھائی۔ یہ ”جَھَدَ نَفْسَہُ “ سے ماخوذ ہے، جس کا معنی ہے اس نے اپنی جان کی آخری طاقت لگا دی۔ دوسری ترکیب یہ ہے کہ یہ حال ہونے کی وجہ سے منصوب ہے: {”أَيْ أَقْسَمُوْا بِاللّٰهِ مُجْتَهِدِيْنَ فِيْ أَيْمَانِهِمْ“} یعنی انھوں نے قسموں میں اپنی پوری کوشش لگاتے ہوئے اللہ کی قسم کھائی۔ (شوکانی) یعنی منافقین کو اپنے طرز عمل کی وجہ سے احساس تھا کہ مسلمان ہماری بات کا اعتبار نہیں کرتے تو انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ سے زیادہ پکی قسمیں کھا کر کہا کہ اگر آپ ہمیں ہمارے گھروں اور اہل و عیال سے نکلنے کا حکم دیں تو ہم ان سے نکل جائیں گے اور اگر جہاد کا حکم دیں تو ہم ہر صورت آپ کے ساتھ جہاد کے لیے نکلیں گے، غرض جو کہیں گے اس پر عمل کریں گے۔ درحقیقت ان کا قسم کھانا ہی اس بات کی چغلی کر رہا تھا کہ ان کی بات کا اعتبار نہیں، جیسا کہ متنبی نے کہا ہے: {وَ فِيْ يَمِيْنِكَ فِيْمَا أَنْتَ وَاعِدُهُ مَا دَلَّ أَنَّكَ فِي الْمِيْعَادِ مُتَّهَمُ} ”اور تو جس بات کا وعدہ کر رہا ہے اس پر تیرے قسم کھانے میں اس بات کی دلیل ہے کہ تو اپنے وعدے میں قابل اعتبار نہیں۔“ اللہ تعالیٰ نے فرمایا، ان سے کہہ دے کہ قسمیں مت کھاؤ۔ ➋ { طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ: ”أَيْ الْمَطْلُوْبُ مِنْكُمْ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ“} یعنی مطلوب تم سے قسمیں لینا نہیں بلکہ مطلوب جانے پہچانے طریقے کے مطابق فرماں برداری ہے اور یہی کافی ہے، قسموں کی ضرورت نہیں۔ دوسرا مطلب یہ ہے: {”طَاعَتُكُمْ طَاعَةٌ مَّعْرُوْفَةٌ“} کہ قسمیں مت کھاؤ، تمھاری اطاعت جانی پہچانی اور تمھارا جھوٹ مشہور و معروف ہے، سب جانتے ہیں کہ تم کیسی اطاعت کرتے ہو۔ قسمیں کھانے سے تم مطیع نہیں بن جاؤ گے، تم جو کچھ کر رہے ہو یا کرو گے، جتنا چاہو چھپانے کی کوشش کرو، اللہ تعالیٰ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔ اس دوسری تفسیر کی تائید اس آیت سے ہوتی ہے: «{ يَحْلِفُوْنَ لَكُمْ لِتَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنْ تَرْضَوْا عَنْهُمْ فَاِنَّ اللّٰهَ لَا يَرْضٰى عَنِ الْقَوْمِ الْفٰسِقِيْنَ }» [ التوبۃ: ۹۶ ] ”تمھارے لیے قسمیں کھائیں گے، تاکہ تم ان سے راضی ہو جاؤ، پس اگر تم ان سے راضی ہو جاؤ تو بے شک اللہ نافرمان لوگوں سے راضی نہیں ہوتا۔“
← پچھلی آیت (52) پوری سورۃ اگلی آیت (54) →