بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النور — Surah Nur
آیت نمبر 52
کل آیات: 64
قرآن کریم النور آیت 52
آیت نمبر: 52 — سورۃ النور islamicurdubooks.com ↗
وَ مَنۡ یُّطِعِ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ یَخۡشَ اللّٰہَ وَ یَتَّقۡہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الۡفَآئِزُوۡنَ ﴿۵۲﴾
اور کامیاب وہی ہیں جو اللہ اور رسول کی فرماں برداری کریں اور اللہ سے ڈریں اور اس کی نافرمانی سے بچیں
جو بھی اللہ تعالیٰ کی، اس کے رسول کی فرماں برداری کریں، خوف الٰہی رکھیں اور اس کے عذابوں سے ڈرتے رہیں، وہی نجات پانے والے ہیں
اور جو حکم مانے اللہ اور اس کے رسول کا اور اللہ سے ڈرے اور پرہیزگاری کرے تو یہی لوگ کامیاب ہیں،
اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ سے ڈرے اور پرہیزگاری اختیار کرے (اس کی نافرمانی سے بچے) تو ایسے ہی لوگ کامیاب ہونے والے ہیں۔
اور جو شخص اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور اللہ سے ڈرے اور اس سے بچے تو یہی لوگ مرُاد پانے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

پھر سچے مومنوں کی شان بیان ہوتی ہے کہ ’ وہ کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سوا کسی تیسری چیز کو داخل دین نہیں سمجھتے۔ وہ تو قرآن و حدیث سنتے ہی، اس کی دعوت کی ندا کان میں پڑتے ہی صاف کہہ دیتے ہیں کہ ہم نے سنا اور مانا یہ کامیاب، بامراد اور نجات یافتہ لوگ ہیں ‘۔ عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ جو بدری صحابی ہیں، انصاری ہیں، انصاروں کے ایک سردار ہیں، انہوں نے اپنے بھتیجے جنادہ بن امیہ سے بوقت انتقال فرمایا کہ ”آؤ مجھ سے سن لو کہ تمہارے ذمے کیا ہے؟ سننا اور ماننا سختی میں بھی آسانی میں بھی، خوشی میں بھی ناخوشی میں بھی، اس وقت بھی جب کہ تیرا حق دوسرے کو دیا جا رہا ہو، اپنی زبان کو عدل اور سچائی کے ساتھ سیدھی رکھ۔ کام کے اہل لوگوں سے کام کو نہ چھین، ہاں اگر کسی کھلی نافرمانی کا وہ حکم دیں تو نہ ماننا۔ کتاب اللہ کے خلاف کوئی بھی کہے ہرگز نہ ماننا۔ کتاب اللہ کی پیروی میں لگے رہنا۔‏‏‏‏“ سیدنا ابودرداء رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ ”اسلام بغیر اللہ کی اطاعت کے نہیں اور بہتری جو کچھ ہے وہ جماعت کی، اللہ کی، اس کے رسول کی، خلیفۃ المسلمین کی اور عام مسلمانوں کی خیر خواہی میں ہے۔‏‏‏‏“ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں ”اسلام کا مضبوط کڑا، اللہ کی وحدانیت کی گواہی، نماز کی پابندی، زکوٰۃ کی ادائیگی اور مسلمانوں کے بادشاہ کی اطاعت ہے۔‏‏‏‏“ جو احادیث و آثار کتاب اللہ اور سنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت کے بارے میں اور مسلمان بادشاہوں کی ماننے کے بارے میں مروی ہیں وہ اس کثرت سے ہیں کہ سب یہاں کسی طرح بیان ہو ہی نہیں سکتیں۔ جو شخص اللہ اور رسول کا نافرمان بن جائے جو حکم ملے بجا لائے جس چیز سے روک دیں رک جائے جو گناہ ہو جائے اس سے خوف کھاتا رہے آئندہ کے لیے اس سے بچتا رہے ایسے لوگ تمام بھلائیوں کو سمیٹنے والے اور تمام برائیوں سے بچ جانے والے ہیں۔ دنیا اور آخرت میں وہ نجات یافتہ ہیں۔

📖 احسن البیان

52-1یعنی فلاح و کامیابی کے مستحق صرف وہ لوگ ہوں گے جو اپنے تمام معاملات میں اللہ اور رسول کے فیصلے کو خوش دلی سے قبول کرتے اور انہی کی اطاعت کرتے ہیں اور خشیت الٰہی اور تقوٰی سے متصف ہیں، نہ کہ دوسرے لوگ، جو ان صفات سے محروم ہیں۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 52){ وَ مَنْ يُّطِعِ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ …: ” يَتَّقْهِ “} اصل میں {”يَتَّقِيْهِ“} تھا، آیت کے شروع میں اسم جازم {” مَنْ “} کی وجہ سے اس کی یاء گر گئی اور لفظ {”يَتَّقِهِ“} ہو گیا، جس میں قاف اور ہاء دونوں پر کسرہ ہے، پھر تخفیف کے لیے قاف کو ساکن کر دیا، جیسے {”كَتْفٌ“} کی تاء کو ساکن کیا گیا۔ (ابوالسعود) یعنی صرف باہمی جھگڑے کے لیے ہی نہیں بلکہ مومن کے لیے ضروری ہے کہ وہ اپنے ہر کام میں اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے اور کوئی کوتاہی ہو جائے تو اللہ سے ڈرے، اس گناہ سے توبہ کرے اور معافی مانگے اور آئندہ کے لیے بھی اللہ تعالیٰ سے ڈرتا رہے اور جو ایسا کریں سو وہی مراد پانے والے ہیں۔
← پچھلی آیت (51) پوری سورۃ اگلی آیت (53) →