اس پیارے چمکتے تارے محمد کی قسم! جب یہ معراج سے اترے
علامہ محمد حسین نجفی
قَسم ہے ستارے کی جبکہ وہ ڈوبنے لگے۔
عبدالسلام بن محمد
قسم ہے ستا رے کی جب وہ گرے!
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ النجم ٭٭
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھا لے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی [ابن ابی حاتم] ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا ستارے کا غائب ہونا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:503/11] بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہو سکتی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت «فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ» * «وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ» * «إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ» * «فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ» * «لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ» * «تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [56-الواقعة:80-75] ہے۔
پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں، وہ بے علمی کے ساتھ کسی غلط راہ لگے ہوئے یا باوجود علم کے ٹیڑھا راستہ اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گمراہ نصرانیوں اور جان بوجھ کر خلاف حق کرنے والے یہودیوں کی طرح نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم کامل آپ کا عمل مطابق علم آپ کا راستہ سیدھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عظیم الشان شریعت کے شارع، آپ اعتدال والی راہ حق پر قائم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول، کوئی فرمان اپنے نفس کی خواہش اور ذاتی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی تبلیغ کا آپ کو حکم الٰہی ہوتا ہے آپ اسے ہی زبان سے نکالتے ہیں جو وہاں سے کہا جائے وہی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے، کمی بیشی زیادتی نقصان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام پاک ہوتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہیں، مثل دو قبیلوں کے یا دو میں سے ایک قبیلے کی گنتی کے، برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے، قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر۔“ اس پر ایک شخص نے کہا: کیا ربیعہ مضر میں سے نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں۔“ } ۱؎ [مسند احمد:257/5:صحیح بطرقه و شواھد]
مسند کی اور حدیث میں ہے { عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنتا تھا، اسے حفظ کرنے کے لیے لکھ لیا کرتا تھا پس بعض قریشیوں نے مجھے اس سے روکا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان ہیں، کبھی کبھی غصے اور غضب میں بھی کچھ فرما دیا کرتے ہیں، چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھ لیا کرو، اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری زبان سے سوائے حق بات کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلتا۔“ } ۱؎ [مسند احمد:192/2،صحیح] یہ حدیث ابوداؤد ۱؎ [سنن ابوداود:3646،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور ابن ابی شیبہ میں بھی ہے۔ بزار میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں جس امر کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔“ } ۱؎ [مسند بزار:121] مسند احمد میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سوائے حق کے اور کچھ نہیں کہتا“ اس پر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ! کبھی کبھی آپ ہم سے خوش طبعی بھی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت بھی میری زبان سے ناحق نہیں نکلتا۔“ } ۱؎ [مسند احمد:340/2:حسن]
قسم ہے ستارے کی جب وہ گرے (1)
(آیت 1) ➊ {وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰى: ” النَّجْمِ “} ستارہ۔ ”الف لام“ تعریف کے لیے ہو تو مراد ”ثریّا“ ہے، کیونکہ عرب کے ہاں{” النَّجْمِ “} بول کر ”ثریّا“ مراد لینا معروف ہے اور اگر ”الف لام“ جنس کے لیے ہو تو ستاروں کی جنس مراد ہے، خواہ کوئی ہوں اور یہاں جنس مراد لینا زیادہ مناسب ہے۔ {”هَوٰي يَهْوِيْ هُوِيًّا“} (ض) کا معنی گرنا اور غروب ہونا بھی آتا ہے اور چڑھنا اور طلوع ہونا بھی اور {”هَوِيَ يَهْوٰي هَوًي“} (س) کا معنی ہے محبت کرنا۔ ➋ قرآن مجید کی قسمیں اپنے جوابِ قسم کی شہادت کے طور پر لائی جاتی ہیں اور قسم اور جوابِ قسم میں معنوی طور پر مناسبت ہوتی ہے۔ یہاں {” وَ النَّجْمِ اِذَا هَوٰى “} میں مذکور قسم بعد کی آیت {” مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰى “} کے دعویٰ کی شہادت کے طور پر لائی گئی ہے اور دونوں میں معنوی مناسبت ہے۔ مفسرین نے اس مناسبت کی تقریر کئی طرح سے فرمائی ہے، ان میں سب سے واضح دو تقریریں یہاں درج کی جاتی ہیں۔ ایک یہ کہ {” النَّجْمِ “} سے مراد عام ستارے ہیں، یعنی جس طرح تمام ستارے اپنے اپنے مدار میں چلتے ہیں، اپنی مقررہ جگہ سے طلوع ہوتے اور مقررہ جگہ غروب ہوتے ہیں اسی طرح محمد صلی اللہ علیہ وسلم بھی اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے صراطِ مستقیم پر چل رہے ہیں، اس سے ذرہ برابر ادھر ادھر نہیں ہوتے، حتیٰ کہ وحی الٰہی کے بغیر بولتے بھی نہیں اور ستاروں کے احوال میں سے غروب کا وقت خاص طور پر ذکر کرنے کی مناسبت یہ معلوم ہوتی ہے کہ یہ عظیم مخلوق مکمل طور پر اللہ تعالیٰ کے حکم کی پابند ہے۔ اپنی تمام تر وسعت، روشنی اور چمک کے باوجود اس کی مجال نہیں کہ غروب ہونے اور ڈوبنے سے انکار کر سکے۔ (واللہ اعلم) اس تقریر کی مزید تفصیل سورۂ تکویر کی آیات (۱۵ تا ۱۹): «فَلَاۤ اُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ … اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ» کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ دوسری تقریر یہ ہے کہ ستاروں سے مراد شہاب ثاقب ہیں اورمطلب یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف بھیجی جانے والی وحی کی حفاظت کا ایسا زبردست انتظام کر رکھا ہے کہ اگر کوئی شیطان آسمان کے نیچے جا کر اسے سننے کی کوشش کرتا ہے تو اس پر ہر طرف سے شہاب ثاقب پھینکے جاتے ہیں جو اسے جلا کر راکھ بنا دیتے ہیں۔ دیکھیے سورۂ صافات (۶ تا ۱۰) اور سورۂ جن (۸،۹)۔ حفاظت کا یہ زبردست انتظام شاہد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے سیدھے راستے پر قائم ہیں اور ان پر نازل ہونے والی وحی الٰہی میں کسی قسم کی مداخلت یا کمی بیشی کا کوئی امکان نہیں ہے۔ یہی بات سورۂ واقعہ کی آیت (۷۵): «فَلَاۤ اُقْسِمُ بِمَوٰقِعِ النُّجُوْمِ» میں بیان فرمائی گئی ہے۔
کہ تمہارے ساتھی نے نہ راه گم کی ہے نہ وه ٹیڑھی راه پر ہے
احمد رضا خان بریلوی
تمہارے صاحب نہ بہکے نہ بے راہ چلے
علامہ محمد حسین نجفی
کہ تمہارا یہ ساتھی (پیغمبرِ اسلام(ص)) نہ گمراہ ہوا ہے اور نہ بہکا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کہ تمھارا ساتھی (رسول) نہ راہ بھولا ہے اور نہ غلط راستے پر چلا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تفسیر سورۂ النجم ٭٭
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھا لے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی [ابن ابی حاتم] ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا ستارے کا غائب ہونا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:503/11] بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہو سکتی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت «فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ» * «وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ» * «إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ» * «فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ» * «لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ» * «تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [56-الواقعة:80-75] ہے۔
پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں، وہ بے علمی کے ساتھ کسی غلط راہ لگے ہوئے یا باوجود علم کے ٹیڑھا راستہ اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گمراہ نصرانیوں اور جان بوجھ کر خلاف حق کرنے والے یہودیوں کی طرح نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم کامل آپ کا عمل مطابق علم آپ کا راستہ سیدھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عظیم الشان شریعت کے شارع، آپ اعتدال والی راہ حق پر قائم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول، کوئی فرمان اپنے نفس کی خواہش اور ذاتی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی تبلیغ کا آپ کو حکم الٰہی ہوتا ہے آپ اسے ہی زبان سے نکالتے ہیں جو وہاں سے کہا جائے وہی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے، کمی بیشی زیادتی نقصان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام پاک ہوتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہیں، مثل دو قبیلوں کے یا دو میں سے ایک قبیلے کی گنتی کے، برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے، قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر۔“ اس پر ایک شخص نے کہا: کیا ربیعہ مضر میں سے نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں۔“ } ۱؎ [مسند احمد:257/5:صحیح بطرقه و شواھد]
مسند کی اور حدیث میں ہے { عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنتا تھا، اسے حفظ کرنے کے لیے لکھ لیا کرتا تھا پس بعض قریشیوں نے مجھے اس سے روکا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان ہیں، کبھی کبھی غصے اور غضب میں بھی کچھ فرما دیا کرتے ہیں، چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھ لیا کرو، اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری زبان سے سوائے حق بات کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلتا۔“ } ۱؎ [مسند احمد:192/2،صحیح] یہ حدیث ابوداؤد ۱؎ [سنن ابوداود:3646،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور ابن ابی شیبہ میں بھی ہے۔ بزار میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں جس امر کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔“ } ۱؎ [مسند بزار:121] مسند احمد میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سوائے حق کے اور کچھ نہیں کہتا“ اس پر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ! کبھی کبھی آپ ہم سے خوش طبعی بھی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت بھی میری زبان سے ناحق نہیں نکلتا۔“ } ۱؎ [مسند احمد:340/2:حسن]
2۔ 1 یہ جواب قسم ہے۔ صَاحِبِکُمْ (تمہارا ساتھی) کہہ کر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کی صداقت کو واضح تر کیا گیا ہے کہ نبوت سے پہلے چالیس سال اس نے تمہارے ساتھ اور تمہارے درمیان گزارے ہیں، اس کے شب و روز کے تمام معمولات تمہارے سامنے ہیں، اس کا اخلاق و کردار تمہارا جانا پہچانا ہے۔ راست بازی اور امانت داری کے سوا تم نے اس کے کردار میں کبھی کچھ اور بھی دیکھا؟ اب چالیس سال کے بعد جو وہ نبوت کا دعوی کر رہا ہے تو ذرا سوچو، وہ کس طرح جھوٹ ہوسکتا ہے؟ چناچہ واقعہ یہ کہ وہ نہ گمراہ ہوا ہے نہ بہکا ہے۔ ضلالت، راہ حق سے وہ انحراف ہے جو جہالت اور لاعلمی سے ہو اور غوابت، وہ کجی ہے جو جانتے بوجھتے حق کو چھوڑ کر اختیار کی جائے۔ اللہ تعالیٰ نے دونوں قسم کی گمراہیوں سے اپنے پیغمبر کی تنزیہ بیان فرمائی۔
(آیت 2) ➊ { مَا ضَلَّ صَاحِبُكُمْ وَ مَا غَوٰى:} ”ضلالت“ (راہ بھولنے) سے مراد یہ ہے کہ کوئی شخص لاعلمی کی وجہ سے غلط راستے پر چل پڑے یا اسے سیدھا سمجھ لے اور ”غوایت“ کا مطلب یہ ہے کہ کوئی شخص جان بوجھ کر سیدھے راستے سے ہٹ جائے۔ اللہ تعالیٰ نے قسم کھا کر فرمایا کہ تمھارا ساتھی نہ لاعلمی میں غلط راستے پر چل رہا ہے اور نہ جان بوجھ کر سیدھے راستے سے ہٹا ہوا ہے۔ اتنی تاکید کے ساتھ نفی اس لیے فرمائی کہ مشرکین آپ کے متعلق یہ بات کہتے تھے۔ ➋ {” صَاحِبُكُمْ “} (تمھارا ساتھی) کہہ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے صدق و امانت کی صفات کی طرف توجہ دلائی ہے، جو کفار کے ہاں بھی مسلّم تھیں کہ نبوت سے پہلے چالیس سال اس نے تمھارے ساتھ اور تمھارے درمیان گزارے ہیں، اس کے شب و روز کے معمولات اور اخلاق و عادات تمھارے سامنے ہیں۔ جس شخص نے کبھی کسی آدمی پر جھوٹ نہیں بولا وہ اللہ تعالیٰ پر جھوٹ کیسے باندھ سکتا ہے؟ مزید دیکھیے سورۂ یونس (۱۶)۔
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھا لے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی [ابن ابی حاتم] ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا ستارے کا غائب ہونا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:503/11] بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہو سکتی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت «فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ» * «وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ» * «إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ» * «فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ» * «لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ» * «تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [56-الواقعة:80-75] ہے۔
پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں، وہ بے علمی کے ساتھ کسی غلط راہ لگے ہوئے یا باوجود علم کے ٹیڑھا راستہ اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گمراہ نصرانیوں اور جان بوجھ کر خلاف حق کرنے والے یہودیوں کی طرح نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم کامل آپ کا عمل مطابق علم آپ کا راستہ سیدھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عظیم الشان شریعت کے شارع، آپ اعتدال والی راہ حق پر قائم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول، کوئی فرمان اپنے نفس کی خواہش اور ذاتی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی تبلیغ کا آپ کو حکم الٰہی ہوتا ہے آپ اسے ہی زبان سے نکالتے ہیں جو وہاں سے کہا جائے وہی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے، کمی بیشی زیادتی نقصان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام پاک ہوتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہیں، مثل دو قبیلوں کے یا دو میں سے ایک قبیلے کی گنتی کے، برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے، قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر۔“ اس پر ایک شخص نے کہا: کیا ربیعہ مضر میں سے نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں۔“ } ۱؎ [مسند احمد:257/5:صحیح بطرقه و شواھد]
مسند کی اور حدیث میں ہے { عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنتا تھا، اسے حفظ کرنے کے لیے لکھ لیا کرتا تھا پس بعض قریشیوں نے مجھے اس سے روکا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان ہیں، کبھی کبھی غصے اور غضب میں بھی کچھ فرما دیا کرتے ہیں، چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھ لیا کرو، اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری زبان سے سوائے حق بات کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلتا۔“ } ۱؎ [مسند احمد:192/2،صحیح] یہ حدیث ابوداؤد ۱؎ [سنن ابوداود:3646،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور ابن ابی شیبہ میں بھی ہے۔ بزار میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں جس امر کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔“ } ۱؎ [مسند بزار:121] مسند احمد میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سوائے حق کے اور کچھ نہیں کہتا“ اس پر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ! کبھی کبھی آپ ہم سے خوش طبعی بھی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت بھی میری زبان سے ناحق نہیں نکلتا۔“ } ۱؎ [مسند احمد:340/2:حسن]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 3) {وَ مَا يَنْطِقُ عَنِ الْهَوٰى:} بھولنے یا جان بوجھ کر غلط راستے پر چلنے کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ آدمی صحیح راستہ بتانے والے کے بجائے اپنے گمان یا خواہشِ نفس پر چل پڑتا ہے۔ مشرکین اور تمام گمراہ لوگوں کی گمراہی کا اصل باعث یہی ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے بتائے ہوئے راستے کے بجائے گمان اور اپنی خواہشِ نفس پر چلتے ہیں، جیسا کہ فرمایا: «اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰى» [ النجم: ۲۳ ] ”یہ لوگ صرف گمان کے اور ان چیزوں کے پیچھے چل رہے ہیں جو ان کے دل چاہتے ہیں اور بلاشبہ یقینا ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت آچکی۔“ ہمارا رسول ضلالت و غوایت سے اس لیے محفوظ ہے کہ وہ صرف ہمارے بتائے ہوئے راستے پر چلتا ہے، اپنی خواہش اور مرضی سے کوئی کام نہیں کرتا، حتیٰ کہ اپنی خواہش سے بولتا بھی نہیں۔
شعبی رحمہ اللہ فرماتے ہیں خالق تو اپنی مخلوق میں سے جس کی چاہے قسم کھا لے لیکن مخلوق سوائے اپنے خالق کے کسی اور کی قسم نہیں کھا سکتی [ابن ابی حاتم] ستارے کے جھکنے سے مراد فجر کے وقت ثریا ستارے کا غائب ہونا ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:503/11] بعض کہتے ہیں مراد زہرہ نامی ستارہ ہے۔ ضحاک رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد اس کا جھڑ کر شیطان کی طرف لپکنا ہے اس قول کی اچھی توجیہ ہو سکتی ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس جملے کی تفسیر یہ ہے کہ قسم ہے قرآن کی جب وہ اترے۔ اس آیت جیسی ہی آیت «فَلَا أُقْسِمُ بِمَوَاقِعِ النُّجُومِ» * «وَإِنَّهُ لَقَسَمٌ لَّوْ تَعْلَمُونَ عَظِيمٌ» * «إِنَّهُ لَقُرْآنٌ كَرِيمٌ» * «فِي كِتَابٍ مَّكْنُونٍ» * «لَّا يَمَسُّهُ إِلَّا الْمُطَهَّرُونَ» * «تَنزِيلٌ مِّن رَّبِّ الْعَالَمِينَ» ۱؎ [56-الواقعة:80-75] ہے۔
پھر جس بات پر قسم کھا رہا ہے اس کا بیان ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) نیکی اور رشد و ہدایت اور تابع حق ہیں، وہ بے علمی کے ساتھ کسی غلط راہ لگے ہوئے یا باوجود علم کے ٹیڑھا راستہ اختیار کئے ہوئے نہیں ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم گمراہ نصرانیوں اور جان بوجھ کر خلاف حق کرنے والے یہودیوں کی طرح نہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا علم کامل آپ کا عمل مطابق علم آپ کا راستہ سیدھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم عظیم الشان شریعت کے شارع، آپ اعتدال والی راہ حق پر قائم۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی قول، کوئی فرمان اپنے نفس کی خواہش اور ذاتی غرض سے نہیں ہوتا بلکہ جس چیز کی تبلیغ کا آپ کو حکم الٰہی ہوتا ہے آپ اسے ہی زبان سے نکالتے ہیں جو وہاں سے کہا جائے وہی آپ کی زبان سے ادا ہوتا ہے، کمی بیشی زیادتی نقصان سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا کلام پاک ہوتا ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ایک شخص کی شفاعت سے جو نبی نہیں ہیں، مثل دو قبیلوں کے یا دو میں سے ایک قبیلے کی گنتی کے، برابر لوگ جنت میں داخل ہوں گے، قبیلہ ربیعہ اور قبیلہ مضر۔“ اس پر ایک شخص نے کہا: کیا ربیعہ مضر میں سے نہیں ہیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تو وہی کہتا ہوں جو کہتا ہوں۔“ } ۱؎ [مسند احمد:257/5:صحیح بطرقه و شواھد]
مسند کی اور حدیث میں ہے { عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنتا تھا، اسے حفظ کرنے کے لیے لکھ لیا کرتا تھا پس بعض قریشیوں نے مجھے اس سے روکا اور کہا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک انسان ہیں، کبھی کبھی غصے اور غضب میں بھی کچھ فرما دیا کرتے ہیں، چنانچہ میں لکھنے سے رک گیا پھر میں نے اس کا ذکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لکھ لیا کرو، اللہ کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے میری زبان سے سوائے حق بات کے اور کوئی کلمہ نہیں نکلتا۔“ } ۱؎ [مسند احمد:192/2،صحیح] یہ حدیث ابوداؤد ۱؎ [سنن ابوداود:3646،قال الشيخ الألباني:صحیح] اور ابن ابی شیبہ میں بھی ہے۔ بزار میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں تمہیں جس امر کی خبر اللہ تعالیٰ کی طرف سے دوں اس میں کوئی شک و شبہ نہیں ہوتا۔“ } ۱؎ [مسند بزار:121] مسند احمد میں ہے کہ { آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں سوائے حق کے اور کچھ نہیں کہتا“ اس پر بعض صحابہ رضی اللہ عنہم نے کہا: یا رسول اللہ! کبھی کبھی آپ ہم سے خوش طبعی بھی کرتے ہیں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس وقت بھی میری زبان سے ناحق نہیں نکلتا۔“ } ۱؎ [مسند احمد:340/2:حسن]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 4) ➊ { اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى: ” هُوَ “} سے مراد یا تو قرآن مجید اور دین ہے جس کے متعلق مشرکین کہتے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس سے بنا لیا ہے، جیسا کہ فرمایا: «اَمْ يَقُوْلُوْنَ افْتَرٰىهُ بَلْ هُوَ الْحَقُّ مِنْ رَّبِّكَ» [ السجدۃ: ۳ ] ”یا وہ کہتے ہیں کہ اس نے اسے خود گھڑ لیا ہے۔ بلکہ وہ تیرے رب کی طرف سے حق ہی ہے۔“ اس لیے قرآن اور دین کے متعلق فرمایا کہ وہ وحی کے سوا کچھ نہیں۔ دوسری جگہ فرمایا: «فَاِنَّهُمْ لَا يُكَذِّبُوْنَكَ وَ لٰكِنَّ الظّٰلِمِيْنَ بِاٰيٰتِ اللّٰهِ يَجْحَدُوْنَ» [الأنعام: ۳۳ ] ”تو بلاشبہ وہ تجھے جھوٹا نہیں کہتے اور لیکن وہ ظالم اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہیں۔ “ یا اس {” هُوَ “} سے مراد {” يَنْطِقُ “} کے ضمن میں پایا جانے والا ”منطوق بہ“ ہے، یعنی وہ بات جو وہ بولتا ہے وحی کے سوا کچھ نہیں، جو اس کی طرف کی جاتی ہے۔ یہاں ایک سوال ہے کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہر بات وحی کے بعد ہی کرتے تھے؟ اگر ہاں کہا جائے تو ان متعدد باتوں کے متعلق کیا کہا جائے گا جن کی اللہ تعالیٰ نے اصلاح فرمائی؟ مثلاً فرمایا: «عَفَا اللّٰهُ عَنْكَ لِمَ اَذِنْتَ لَهُمْ» [ التوبۃ: ۴۳ ] ” اللہ نے تجھے معاف کردیا، تو نے انھیں کیوں اجازت دی۔“ اور فرمایا: «مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗۤ اَسْرٰى حَتّٰى يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ» [ الأنفال: ۶۷ ] ”کبھی کسی نبی کے لائق نہیں کہ اس کے ہاں قیدی ہوں، یہاں تک کہ وہ زمین میں خوب خون بہا لے۔“ اور فرمایا: «مَا كَانَ لِلنَّبِيِّ وَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اَنْ يَّسْتَغْفِرُوْا۠ لِلْمُشْرِكِيْنَ۠» [ التوبۃ: ۱۱۳ ] ”اس نبی اور ان لوگوں کے لیے جو ایمان لائے کبھی جائز نہیں کہ وہ مشرکوں کے لیے بخشش کی دعا کریں۔“ اور فرمایا: «يٰۤاَيُّهَا النَّبِيُّ لِمَ تُحَرِّمُ مَاۤ اَحَلَّ اللّٰهُ لَكَ» [ التحریم: ۱ ] ”اے نبی! تو کیوں حرام کرتا ہے جو اللہ نے تیرے لیے حلال کیا ہے؟“ علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ رضی اللہ عنھم کے ساتھ مشورے کا حکم دیا، فرمایا: «وَ شَاوِرْهُمْ فِي الْاَمْرِ» [آل عمران: ۱۵۹] ”اور کام میں ان سے مشورہ کر۔“ جب کہ وحی کے بعد نہ مشورے کی ضرورت ہے نہ اجازت کی۔ جواب اس سوال کا یہ ہے کہ یہاں ان باتوں کو وحی قرار دیا جا رہا ہے جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے سامنے قرآنِ مجید یا شریعت کے حکم کے طور پر بیان فرماتے تھے۔ مفسر ابنِ کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: {” اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى “ أَيْ إِنَّمَا يَقُوْلُ مَا أُمِرَ بِهِ، يُبَلِّغُهُ إِلَي النَّاسِ كَامِلًا مُوَفِّرًا مِنْ غَيْرِ زِيَادَةٍ وَلاَ نُقْصَانٍ “} ”یعنی {” اِنْ هُوَ اِلَّا وَحْيٌ يُّوْحٰى “} کا مطلب یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم وہی بات کہتے تھے جس کے متعلق آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو حکم دیا جاتا تھا کہ کسی کمی یا زیادتی کے بغیر پوری پوری لوگوں تک پہنچا دیں۔“ اس وحی میں قرآن مجید بھی شامل ہے اور حدیث بھی۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو کچھ سنتا اسے حفظ کرنے کے ارادے سے لکھ لیتا تھا، تو قریش نے مجھے منع کیا اور کہا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے جو بھی سنتے ہو لکھ لیتے ہو، حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایک بشر ہیں، جو کبھی غصے میں بات کرتے ہیں اور کبھی خوشی میں، تو میں نے لکھنا ترک کر دیا۔ پھر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس بات کا ذکر کیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دہن مبارک کی طرف اپنی انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: [ اُكْتُبْ فَوَ الَّذِيْ نَفْسِيْ بِيَدِهِ! مَا يَخْرُجُ مِنْهُ إِلاَّ حَقٌّ ] [ أبو داوٗد، العلم، باب کتابۃ العلم: ۳۶۴۶، وقال الألباني صحیح ] ”لکھو، کیونکہ اس ذات کی قسم جس کے ہاتھ میں میری جان ہے! اس (منہ) سے حق کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔“ ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنِّيْ لاَ أَقُوْلُ إِلاَّ حَقًّا ] ”میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔“ تو آپ کے کسی صحابی نے کہا: ”یا رسول اللہ! آپ تو ہم سے خوش طبعی بھی کر لیتے ہیں؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنِّيْ لاَ أَقُوْلُ إِلاَّ حَقًّا ] ”بلاشبہ میں حق کے سوا کچھ نہیں کہتا۔“ [ مسند أحمد: 340/2، ح: ۸۴۸۱ ] مسند احمد کے محقق نے فرمایا: {”إِسْنَادُهُ قَوِيٌّ“} کہ اس کی سند قوی ہے۔ ➋ اس مقام پر مفسر عبدالرحمن کیلانی نے ”تیسیر القرآن“ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال کی حیثیت کے متعلق بہت مفید بحث لکھی ہے جس میں منکرینِ حدیث کے مغالطوں کا جواب بھی آ گیا ہے۔ فوائد کے پیشِ نظر وہ بحث یہاں درج کی جاتی ہے: ”ان آیات کے اوّلین مخاطب تو کفار مکہ ہیں، مگر یہ آیتیں چونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال کو وحی اور واجب الاتباع قرار دیتی ہیں، لہٰذا منکرین حدیث ان کو مقید بھی کرتے ہیں اور ان کا مذاق بھی اڑاتے ہیں۔ مثلاً ایک صاحب نے یوں کہا کہ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنے گھر جا کر اپنی کسی زوجہ سے یہ کہتے ہیں کہ ”میرا جوتا لاؤ“ تو کیا یہ بھی وحی ہوتی تھی؟ اور اکثر منکرین اس کی یہ تاویل کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جو کچھ وحی کی جاتی رہی وہ سب قرآن میں آ گئی ہے۔ اسی پر کفار کو اعتراض اور اسی پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ان کا تکرار اور جھگڑا رہتا تھا۔ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی قرآن کے علاوہ دوسری باتیں جو بحیثیت انسان کے ہیں، وہ قابلِ اتباع نہیں ہیں۔ اس طرح یہ حضرات چونکہ تمام ذخیرۂ حدیث کو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت کو دین سے خارج اور ناقابلِ اتباع بلکہ واضح الفاظ میں بے کار ثابت کرنا چاہتے ہیں، لہٰذا ہم اس پر ذرا تفصیل سے بات کریں گے۔ ان لوگوں کی بنیادی غلطی یہ ہے کہ انھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے اقوال کو صرف دو حصوں میں تقسیم کر دیا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہونے کی حیثیت سے کتاب اللہ کے معلّم، مفسر اور شارع بھی تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے قرآن کی جو تعلیم، تفسیر اور تشریح فرمائی وہ بھی دین ہی سے متعلق تھی۔ اس طرح آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال دو کے بجائے تین حصوں میں تقسیم ہوئے۔ پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم صرف بولتے ہی نہ تھے، کچھ کرتے بھی تھے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے افعال بھی اسی طرح واجب الاتباع تھے جیسے اقوال۔ اس طرح تین کے بجائے اور بھی زیادہ حصے ہو گئے۔ مختصراً آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی کے درج ذیل پہلو ہمارے سامنے آتے ہیں جن سے معلوم ہو جائے گا کہ دین میں سنت کی کیا ضرورت اور کیا مقام ہے: (1) تشریعی امور: قرآن میں نماز کا حکم تو بہت دفعہ آیا ہے مگر اس کی تفصیل کہیں بھی نہیں کہ اسے کیسے ادا کیا جائے، کتنی نمازیں ہوں، ان کے صحیح اوقات کیا ہیں، ہر نماز میں رکعات کی تعداد کتنی ہے اور اس کی ترکیب کیا ہے؟ اسی طرح حج کیسے ادا کیا جائے، زکوٰۃ کتنی وصول کی جائے؟ قضایا کا فیصلہ کیونکر کیا جائے۔ ہر قضیہ کے لیے شہادتوں کا نصاب اور طریق کار کیا ہے، یا نکاح میں عورت کی رضامندی کا حق اور اس کی اہمیت، خلع کا حق، صلح و جنگ کے قواعد کی تفصیلات وغیرہ وغیرہ۔ یہ تمام امور ایسے ہیں کہ انسان سنت یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اقوال و افعال سے بے نیاز ہو کر انھیں بجا لا ہی نہیں سکتا۔ گویا قرآن کو ماننے اور جاننے کا واحد ذریعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سنت ہے۔ پھر یہ تمام مندرجہ امور ایسے ہیں جن میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے کبھی مشورہ نہیں کیا، حالانکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو مشورہ کا تاکیدی حکم تھا، کیونکہ یہ امور انسانی بصیرت سے تعلق نہیں رکھتے۔ عام انسان تو کیا ایک نبی بھی ایسے امور کا فیصلہ کرنے کا مجاز نہیں۔ ایسے تمام امور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو بذریعہ وحی بتائے اور سکھائے جاتے تھے۔ خواہ یہ وحی بذریعہ القا ہو یا جبرئیل علیہ السلام کے بصورتِ انسان سامنے آ کر بتانے کی شکل میں ہو۔ گویا ایسے تمام امور بھی بذریعہ وحی طے پاتے تھے جسے عرف عام میں ”وحی خفی“ کہا جاتا ہے اور یہ تو ظاہر ہے کہ ایسی تمام تفصیلات قرآن میں مذکور نہیں۔ (2) تدبیری امور: ایسے امور میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صحابہ سے مشورہ لینے کا حکم دیا گیا تھا، مثلاً جنگ کے لیے کون سا مقام مناسب رہے گا، قیدیوں سے کیا سلوک کیا جائے، نظامِ حکومت کیسے چلایا جائے؟ گویا یہ ایسے امور ہیں جن کا تعلق انسانی بصیرت سے بھی ہے اور تجربہ سے بھی۔ ایسے امور میں وحی کی ضرورت نہیں ہوتی، الا یہ کہ مشورہ کے بعد فیصلہ میں کوئی غلطی رہ جائے۔ ایسی صورت میں اس فیصلہ کی اصلاح بذریعہ وحی کر دی جاتی ہے، جیسے غزوۂ بدر کے قیدیوں کے متعلق مشورہ کے بعد فیصلہ کے متعلق وحی قرآن میں نازل ہوئی۔ (3) اجتہادی امور: اس سے مراد ایسے دینی امور ہیں جن میں کسی پیش آمدہ مسئلہ کا حل سابقہ وحی کی روشنی میں تلاش کیا جائے۔ گویہ معاملہ ہر ماہر علوم دین کی ذاتی بصیرت سے یکساں تعلق رکھتا ہے، تاہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے سب سے زیادہ حق دار تھے۔ اس کی مثال یہ ہے کہ ایک عورت نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر مسئلہ پوچھا کہ میرے باپ پر حج فرض تھا اور وہ مر گیا ہے، کیا میں اب اس کی طرف سے حج کر سکتی ہوں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”بھلا دیکھو! اگر اس کے ذمے قرض ہوتا تو تم اسے ادا نہ کرتی؟“ اس عورت نے کہا: ”ضرور کرتی۔“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تو پھر اللہ اس ادائیگی کا زیادہ حق دار ہے۔“ [ بخاري، جزاء الصید، باب الحج والنذور …: ۱۸۵۲ ] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے ایسے اجتہادات اور استنباطات کی فہرست بھی طویل ہے، تاہم اس سلسلہ میں بھی جب کبھی کوئی لغزش ہوئی تو اس کی بذریعہ وحی جلی یا خفی اصلاح کر دی گئی۔ اس کی مثال وہ حدیث ہے جسے سیدنا ابوقتادہ رضی اللہ عنہ نے یوں روایت کیا کہ ایک آدمی نے پوچھا: ”یا رسول اللہ! بتائیے اگر میں اللہ کی راہ میں مارا جاؤں، درآں حالیکہ میں صبر کرنے والا، ثواب کی نیت رکھنے والا، آگے بڑھنے والا، پیٹھ نہ پھیرنے والا ہوں، تو کیا اللہ میرے سب گناہ معاف کر دے گا؟“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”ہاں!“ وہ شخص چلا گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے پھر آواز دے کر بلایا اور فرمایا: ”مگر قرضہ معاف نہ ہو گا، جبریل نے ابھی مجھے اس طرح بتایا ہے۔“ [ نسائي، الجہاد، باب من قاتل فی سبیل اللّٰہ تعالٰی و علیہ دین: ۳۱۵۸۔ مسلم: ۱۸۸۵ ] یعنی سائل کے سوال پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تو جنت کی بشارت دے دی، کیونکہ شہادت ایسا افضل عمل ہے کہ خون کا پہلا قطرہ گرتے ہی شہید جنت کا حق دار بن جاتا ہے، لیکن اللہ تعالیٰ نے اسی وقت وحی بھیج کر اس میں ترمیم فرما دی۔ (4) طبعی امور: جس میں انسان کی روز مرّہ کی بول چال، خوراک، پوشاک اور دوسرے معاملات آ جاتے ہیں اور ان امور کا تعلق تمام لوگوں سے یکساں ہے۔ ایسے امور میں انسان اور ایسے ہی آپ صلی اللہ علیہ وسلم بھی نسبتاً وحی سے آزاد تھے، لیکن وہ کون سا پہلو ہے جس میں وحی نے ایسے معاملات پر پابندی نہ لگائی ہو؟ مثلاً انسان اس بات میں تو آزاد ہے کہ وہ چاہے تو گوشت کھائے، چاہے تو سبزی کھائے اور چاہے تو دال کھائے، لیکن وہ حلال اور پاکیزہ چیزیں ہی کھا سکتا ہے۔ پھر اسے یہ بھی ہدایت ہے کہ کھانے سے پہلے ”بسم اللہ“ پڑھے، اپنے دائیں ہاتھ سے کھائے، اپنے آگے سے کھائے، برتن کو صاف کرے اور بعد میں دُعا پڑھے۔ اسی طرح وہ اپنے لباس کے انتخاب کی حد تک تو آزاد ہے لیکن لباس کا ساتر ہونا اور ستر ڈھانکنا ضروری ہے اور عورتوں کے لیے پردہ بھی۔ عورت مردوں جیسا لباس نہ پہنے، نہ مرد عورتوں جیسا لباس پہنیں۔ وہ اپنے اہلِ خانہ سے گفتگو میں آزاد ہے لیکن اپنی بیوی سے حسنِ سلوک اور حسنِ معاشرت کا پابند ہے۔ وہ اپنا کاروبار اختیار کرنے میں آزاد ہے لیکن حرام کاروبار نہیں کر سکتا، نہ جائز کاروبار میں ناجائز طریقوں سے مال کما سکتا ہے۔ ماپ تول میں کمی بیشی نہیں کر سکتا۔ کسی دوسرے سے فریب سے مال نہیں بٹور سکتا۔ نہ ہی سود اور اس کے مختلف طریقوں سے مال اکٹھا کر سکتا ہے وغیرہ وغیرہ۔ آخر وہ کون سا پہلو ہے جس میں وہ وحی سے بے نیاز ہے۔ ان تصریحات سے واضح ہوتا ہے کہ تشریعی امور کا انحصار کلیتاً وحی پر ہے اور قرآن میں احکام چونکہ مجملاً مذکور ہوئے ہیں اور ان کا تعلق انسانی بصیرت سے بھی نہیں، لہٰذا یہ احکام سنت کے بغیر انجام پا ہی نہیں سکتے۔ باقی تینوں قسم کے امور میں انسان نسبتاً آزاد ہے مگر ان تینوں پہلوؤں پر بھی وحی نے پابندیاں لگائی ہیں اور ہدایات بھی دی ہیں جن میں اکثر کا ذکر قرآن میں نہیں، تو پھر آخر سنت نبوی سے انکار کیسے ممکن ہے اور کیسے کہا جا سکتا ہے کہ {” وَ مَا يَنْطِقُ “} کا تعلق صرف قرآن ہی سے ہے؟ اور اس نظریہ کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ جو شخص سنت کا منکر ہو وہ قرآن کا بھی منکر ہوتا ہے۔“ (تیسیر القرآن)
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے معلم جبرائیل علیہ السلام ہیں۔‘ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ» ۱؎ [81-التكوير:19-21] ’ یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے۔ ‘ یہاں بھی فرمایا ’ وہ قوت والا ہے۔ ‘ آیت «ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے۔ حدیث میں بھی «مِرَّةٍ» کا لفظ آیا ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ” «لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي» صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔“ } ۱؎ [سنن ابوداود:1634،قال الشيخ الألباني:صحیح] ’ پھر وہ سیدھے کھڑے ہو گئے ‘ یعنی جبرائیل علیہ السلام، ’ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے۔‘ ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر جبرائیل علیہ السلام اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» ۱؎ [53-النجم:7] کا۔ [ضعیف] امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہو سکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لیے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جبرائیل علیہ السلام اترے تھے اور قریب ہو گئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اس کے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] کی چند آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو چکی تھیں پھر وحی بند ہو گئی تھی جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے جبرائیل علیہ السلام کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غم غلط ہو جاتا، دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہو جاتا واپس چلے آتے۔ ۱؎ [فتح الباری:360/12] لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامن گیر ہوتا اور وحی الٰہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح جبرائیل علیہ السلام تسکین و تسلی کر دیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہو گئے، چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لیے تھے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب آ گئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر رحمہ اللہ کے قول کی تائید میں پیش ہو سکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جا سکتی۔ ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو۔ اس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں، ایک میں تو جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا، میں نے دیکھا کہ جبرائیل،اس وقت ہیبت الٰہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا، میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔} ۱؎ [مسند احمد:395/1:اسنادہ ضعیف]
مسند میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد، موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیہوش ہو گئے، جبرائیل علیہ السلام فوراً آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔} ۱؎ [مسند احمد:322/1:ضعیف]
ابن عساکر میں ہے کہ ابولہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا: سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چنانچہ یہ آیا اور کہا اے محمد! جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آ گیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بے ادب تھا اور باربار گستاخی سے پیش آتا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس کے لیے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے۔ یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا: بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہو گیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سر زمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا، راہب نے ان سے کہا: یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آ گئے؟ ابولہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا: دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لیے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے، تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو۔ لوگوں نے اسے منظور کر لیا۔ یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا، جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا، اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا، پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابولہب کہنے لگا، اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔۱؎ [مستدرک حاکم:539/2:صحیح]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 5) {عَلَّمَهٗ شَدِيْدُ الْقُوٰى:} بعض لوگ اس سے مراد اللہ تعالیٰ لیتے ہیں مگر یہ درست نہیں، بلکہ اس سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں جنھوں نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم تک اللہ تعالیٰ کی وحی پہنچائی۔ دلیل اس کی یہ ہے کہ دوسری جگہ واضح طور پر یہ صفت جبریل علیہ السلام کی بیان ہوئی ہے، فرمایا: «اِنَّهٗ لَقَوْلُ رَسُوْلٍ كَرِيْمٍ (19) ذِيْ قُوَّةٍ عِنْدَ ذِي الْعَرْشِ مَكِيْنٍ (20) مُّطَاعٍ ثَمَّ اَمِيْنٍ» [التکویر: ۱۹ تا ۲۱] ”بلاشبہ یقینا یہ ایک ایسے پیغام پہنچانے والے کا قول ہے جو بہت معزز ہے۔ بڑی قوت والا ہے، عرش والے کے ہاں بہت مرتبے والا ہے۔ وہاں اس کی بات مانی جاتی ہے، نہایت امانت دار ہے۔“ {” الْقُوٰى “ ”قُوَّةٌ“} کی جمع ہے، اس سے معلوم ہوا کہ جبریل علیہ السلام کو اللہ تعالیٰ نے ایک نہیں بہت سی قوتیں عطا فرمائی ہیں اور ہر قوت ہی نہایت مضبوط اور زبردست ہے، بھلا جسے اللہ تعالیٰ نہایت مضبوط قوتوں والا فرمائے اس کی قوتوں کا کون اندازہ کر سکتا ہے۔ سید ولد آدم صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ان کی اصل صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا اور اس دیکھنے سے جو کیفیت آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر گزری اس سے ان کی عظمت و ہیبت، حسن و جمال اور قوت و وسعت کا تھوڑا سا اندازہ ہوتا ہے۔ پھر ہزاروں سالوں کے فاصلے لمحوں میں طے کرنے سے ان کی رفتار کی سرعت و قوت کا معمولی اندازہ ہوتا ہے۔
جو بڑا صاحبِ قدرت (یا بڑا دانا و حکیم) ہے پھر (وہ اپنی اصلی شکل میں) کھڑا ہوا۔
عبدالسلام بن محمد
جو بڑی طاقت والا ہے، سو وہ بلند ہوا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
تعارف جبرائیل امین علیہ السلام ٭٭
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے معلم جبرائیل علیہ السلام ہیں۔‘ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ» ۱؎ [81-التكوير:19-21] ’ یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے۔ ‘ یہاں بھی فرمایا ’ وہ قوت والا ہے۔ ‘ آیت «ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے۔ حدیث میں بھی «مِرَّةٍ» کا لفظ آیا ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ” «لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي» صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔“ } ۱؎ [سنن ابوداود:1634،قال الشيخ الألباني:صحیح] ’ پھر وہ سیدھے کھڑے ہو گئے ‘ یعنی جبرائیل علیہ السلام، ’ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے۔‘ ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر جبرائیل علیہ السلام اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» ۱؎ [53-النجم:7] کا۔ [ضعیف] امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہو سکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لیے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جبرائیل علیہ السلام اترے تھے اور قریب ہو گئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اس کے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] کی چند آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو چکی تھیں پھر وحی بند ہو گئی تھی جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے جبرائیل علیہ السلام کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غم غلط ہو جاتا، دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہو جاتا واپس چلے آتے۔ ۱؎ [فتح الباری:360/12] لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامن گیر ہوتا اور وحی الٰہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح جبرائیل علیہ السلام تسکین و تسلی کر دیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہو گئے، چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لیے تھے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب آ گئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر رحمہ اللہ کے قول کی تائید میں پیش ہو سکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جا سکتی۔ ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو۔ اس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں، ایک میں تو جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا، میں نے دیکھا کہ جبرائیل،اس وقت ہیبت الٰہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا، میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔} ۱؎ [مسند احمد:395/1:اسنادہ ضعیف]
مسند میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد، موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیہوش ہو گئے، جبرائیل علیہ السلام فوراً آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔} ۱؎ [مسند احمد:322/1:ضعیف]
ابن عساکر میں ہے کہ ابولہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا: سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چنانچہ یہ آیا اور کہا اے محمد! جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آ گیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بے ادب تھا اور باربار گستاخی سے پیش آتا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس کے لیے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے۔ یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا: بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہو گیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سر زمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا، راہب نے ان سے کہا: یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آ گئے؟ ابولہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا: دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لیے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے، تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو۔ لوگوں نے اسے منظور کر لیا۔ یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا، جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا، اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا، پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابولہب کہنے لگا، اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔۱؎ [مستدرک حاکم:539/2:صحیح]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 6تا9) ➊ {ذُوْ مِرَّةٍ:} طاقت، توانائی اور مضبوطی والا۔ {” مِرَّةٍ “} کا لفظ اصل میں رسی کو بٹنے اور بل دے کر مضبوط کرنے کے معنی میں آتا ہے۔ اس پر تنوین تعظیم کے لیے ہے، اس لیے ترجمہ ”بڑی طاقت والا“ کیا گیا ہے۔ اس طاقت میں عملی اور علمی دونوں طاقتیں شامل ہیں۔ {” شَدِيْدُ الْقُوٰى “} کے بعد {” ذُوْ مِرَّةٍ “} کے ساتھ ان کی طاقت اور توانائی کو مزید اجاگر فرمایا ہے۔ بعض مفسرین نے {” شَدِيْدُ الْقُوٰى “} سے عملی قوتیں اور {” ذُوْ مِرَّةٍ “} سے علمی اور عقلی قوتیں مراد لی ہیں، مگر دونوں لفظ ہر قسم کی قوتوں پر استعمال ہوتے ہیں، اس لیے تاکید مراد لینا راجح معلوم ہوتا ہے۔ ➋ {” فَاسْتَوٰى “} برابر ہوا، بلند ہوا۔ ”اُفق“ دور سے نظر آنے والی وہ جگہ جہاں زمین و آسمان ملتے ہوئے نظر آتے ہیں اور آسمان نیلے گنبد کی طرح بلند ہوتا ہوا دکھائی دیتا ہے۔ ”اُفقِ اعلی “ مشرقی کنارا، جہاں سے سورج طلوع کے وقت بلند ہوتا ہے۔ اسی کو دوسری جگہ {”اَلْأُفُقُ الْمُبِيْنُ“} فرمایا، جیسا کہ فرمایا: «وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِيْنِ» [ التکویر: ۲۳ ] ”اور بلاشبہ یقینا اس نے اس (جبریل) کو (آسمان کے) روشن کنارے پر دیکھا ہے۔“ ➌ { فَتَدَلّٰى:} یہ {”دَلْوٌ“} سے مشتق ہے، سورۂ یوسف میں ہے: «فَاَدْلٰى دَلْوَهٗ» [یوسف: ۱۹] ”تو اس نے اپنا ڈول لٹکایا۔“ {”تَدَلّٰي“} لٹک آیا، یعنی فضا میں رہتے ہوئے کچھ نیچے آ گیا۔ {” قَابَ “} مقدار۔ {” اَوْ اَدْنٰى “} یا زیادہ قریب۔ یعنی اگر آدمی اس فاصلے کو دیکھے تو اسے یہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے بھی کم نظر آئے۔ بعض اہلِ علم نے فرمایا، یہاں {” اَوْ “ ” بَلْ “} کے معنی میں ہے، یعنی دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی کم، جیسا کہ یونس علیہ السلام کے متعلق فرمایا: «وَ اَرْسَلْنٰهُ اِلٰى مِائَةِ اَلْفٍ اَوْ يَزِيْدُوْنَ» [ الصافات: ۱۴۷ ] ”اور ہم نے اسے ایک لاکھ کی طرف بھیجا، بلکہ وہ زیادہ ہوں گے۔“ ➍ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی زندگی میں جبریل علیہ السلام کو دو بار ان کی اصل صورت میں دیکھا ہے۔ ان آیات میں پہلی بار دیکھنے کا ذکر ہے، جبریل علیہ السلام آسمان کے مشرقی کنارے پر نمودار ہوئے، تو زمین و آسمان کا درمیانی فاصلہ ان سے پُر ہو گیا، جیسا کہ جابر بن عبداللہ رضی اللہ عنھما نے بیان کیا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا، آپ (پہلی وحی کے بعد) وحی کے وقفے کے متعلق بیان فرما رہے تھے: [ فَبَيْنَا أَنَا أَمْشِيْ إِذْ سَمِعْتُ صَوْتًا مِّنَ السَّمَاءِ فَرَفَعْتُ بَصَرِيْ قِبَلَ السَّمَاءِ فَإِذَا الْمَلَكُ الَّذِيْ جَاءَنِيْ بِحِرَاءٍ قَاعِدٌ عَلٰی كُرْسِيٍّ بَيْنَ السَّمَاءِ وَالْأَرْضِ فَجُئِثْتُ مِنْهُ حَتّٰی هَوَيْتُ إِلَی الْأَرْضِ فَجِئْتُ أَهْلِيْ فَقُلْتُ زَمِّلُوْنِيْ زَمِّلُوْنِيْ فَزَمَّلُوْنِيْ، فَأَنْزَلَ اللّٰهُ تَعَالٰی: «يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ (1) قُمْ فَاَنْذِرْ» إِلٰی «فَاهْجُرْ» ثُمَّ حَمِيَ الْوَحْيُ وَ تَتَابَعَ ] [بخاري، التفسیر، سورۃ المدثر، باب: «والرجز فاہجر» : ۴۹۲۶ ] ”ایک دفعہ میں چلا جا رہا تھا، اچانک میں نے آسمان سے ایک آواز سنی تو میں نے اپنی نگاہ آسمان کی طرف اٹھائی تو کیا دیکھتا ہوں کہ وہی فرشتہ جو میرے پاس حرا میں آیا تھا وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہے، تو میں اس سے ڈر گیا، یہاں تک کہ میں زمین پر گر گیا، پھر میں اپنے گھر والوں کے پاس آیا اور کہا، مجھے چادر اوڑھا دو، مجھے چادر اوڑھا دو، تو انھوں نے مجھے چادر اوڑھا دی۔ تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: «يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ (1) قُمْ فَاَنْذِرْ(2) وَ رَبَّكَ فَكَبِّرْ(3) وَ ثِيَابَكَ فَطَهِّرْ(4) وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ» پھر وحی گرما گرم ہو گئی اور پے در پے آنے لگی۔“ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھنے کی تائید اس حدیث سے بھی ہوتی ہے: [ حَدَّثَنَا الشَّيْبَانِيُّ قَالَ سَمِعْتُ زِرًّا عَنْ عَبْد ِاللّٰهِ «فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى (9) فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى» قَالَ حَدَّثَنَا ابْنُ مَسْعُوْدٍ أَنَّهُ رَاٰی جِبْرِيْلَ لَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ ] [ بخاري، التفسیر، سورۃ النجم، باب: «فکان قاب قوسین أو أدنی» : ۴۸۵۶ ] ”زِرّ (بن حُبیش) نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے «فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ اَوْ اَدْنٰى (9) فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى» کی تفسیر روایت کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل کو دیکھا، ان کے چھ سو پر تھے۔ “ ان آیات کا مقصد کفار کے اس الزام کی تردید ہے جو وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر لگاتے تھے کہ کوئی عجمی آدمی اسے قرآن کی باتیں سکھا جاتا ہے اور یہ ہمیں سنا کر کہتا ہے کہ یہ اللہ کی طرف سے نازل شدہ ہیں۔ اس کے جواب میں فرمایا گیا کہ کسی عجمی شخص نے نہیں، بلکہ ایک نہایت مضبوط قوتوں اور بڑی طاقت والے فرشتے نے اسے اس قرآن کی تعلیم دی ہے۔ چنانچہ ایک دفعہ ایسا ہوا کہ وہ شدید القویٰ فرشتہ مشرقی اُفق پر بلند ہوا، اس وقت وہ آسمان و زمین کے درمیان ایک کرسی پر بیٹھا ہوا تھا، پھر وہ فضا ہی میں نیچے اترتا ہوا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اتنا قریب ہوا کہ آپ سے دو کمانوں سے بھی کم فاصلے پر آگیا۔
اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ ’ محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے معلم جبرائیل علیہ السلام ہیں۔‘ جیسے اور جگہ فرمایا ہے «إِنَّهُ لَقَوْلُ رَسُولٍ كَرِيمٍ ذِي قُوَّةٍ عِندَ ذِي الْعَرْشِ مَكِينٍ مُّطَاعٍ ثَمَّ أَمِينٍ» ۱؎ [81-التكوير:19-21] ’ یہ قرآن ایک بزرگ زور آور فرشتے کا قول ہے جو مالک عرش کے ہاں باعزت سب کا مانا ہوا ہے وہاں معتبر ہے۔ ‘ یہاں بھی فرمایا ’ وہ قوت والا ہے۔ ‘ آیت «ذُو مِرَّةٍ فَاسْتَوَىٰ» کی ایک تفسیر تو یہی ہے دوسری یہ ہے کہ وہ خوش شکل ہے۔ حدیث میں بھی «مِرَّةٍ» کا لفظ آیا ہے۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ” «لَا تَحِلُّ الصَّدَقَةُ لِغَنِيَ وَلَا لِذِي مِرَّةٍ سَوِي» صدقہ مالدار پر اور قوت والے تندرست پر حرام ہے۔“ } ۱؎ [سنن ابوداود:1634،قال الشيخ الألباني:صحیح] ’ پھر وہ سیدھے کھڑے ہو گئے ‘ یعنی جبرائیل علیہ السلام، ’ اور وہ بلند آسمان کے کناروں پر تھے جہاں سے صبح چڑھتی ہے جو سورج کے طلوع ہونے کی جگہ ہے۔‘ ابن ابی حاتم میں ہے سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں صرف دو دفعہ دیکھا ہے ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر امین اللہ اپنی صورت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو دکھائی دئیے آسمانوں کے تمام کنارے ان کے جسم سے ڈھک گئے تھے۔ دوبارہ اس وقت جبکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو لے کر جبرائیل علیہ السلام اوپر چڑھے تھے۔ یہ مطلب آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» ۱؎ [53-النجم:7] کا۔ [ضعیف] امام ابن جریر رحمہ اللہ نے اس تفسیر میں ایک ایسا قول کہا ہے جو کسی نے نہیں کہا اور خود انہوں نے بھی اس قول کی اضافت دوسرے کی طرف نہیں کی ان کے فرمان کا ماحصل یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دونوں آسمانوں کے کناروں پر سیدھے کھڑے ہوئے تھے اور یہ واقعہ معراج کی رات کا ہے۔
امام ابن جریر رحمہ اللہ کی اس تفسیر کی تائید کسی نے نہیں کی گو امام صاحب نے عربیت کی حیثیت سے اسے ثابت کیا ہے اور عربی قواعد سے یہ بھی ہو سکتا ہے لیکن ہے یہ واقعہ کے خلاف اس لیے کہ یہ دیکھنا معراج سے پہلے کا ہے اس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جبرائیل علیہ السلام اترے تھے اور قریب ہو گئے تھے اور اپنی اصلی صورت میں تھے چھ سو پر تھے پھر اس کے بعد دوبارہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس معراج والی رات دیکھا تھا۔ یہ تو دوسری مرتبہ کا دیکھنا تھا لیکن پہلی مرتبہ کا دیکھنا تو شروع رسالت کے زمانہ کے وقت کا ہے پہلی وحی «اِقْرَاْ باسْمِ رَبِّكَ الَّذِيْ خَلَقَ» ۱؎ [96-العلق:1] کی چند آیتیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم پر نازل ہو چکی تھیں پھر وحی بند ہو گئی تھی جس کا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بڑا خیال بلکہ بڑا ملال تھا یہاں تک کہ کئی دفعہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ارادہ ہوا کہ پہاڑ سے گر پڑوں لیکن بروقت آسمان کی طرف سے جبرائیل علیہ السلام کی یہ ندا سنائی دیتی کہ اے محمد (صلی اللہ علیہ وسلم )! آپ اللہ کے سچے رسول ہیں اور میں جبرائیل ہوں۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا غم غلط ہو جاتا، دل پرسکون اور طبیعت میں قرار ہو جاتا واپس چلے آتے۔ ۱؎ [فتح الباری:360/12] لیکن پھر کچھ دنوں کے بعد شوق دامن گیر ہوتا اور وحی الٰہی کی لذت یاد آتی تو نکل کھڑے ہوتے اور پہاڑ پر سے اپنے آپ گرا دینا چاہتے اور اسی طرح جبرائیل علیہ السلام تسکین و تسلی کر دیا کرتے۔ یہاں تک کہ ایک مرتبہ ابطح میں جبرائیل اپنی اصلی صورت میں ظاہر ہو گئے، چھ سو پر تھے جسامت کے آسمان کے تمام کنارے ڈھک لیے تھے اب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے قریب آ گئے اور اللہ عزوجل کی وحی آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو پہنچائی۔ اس وقت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس فرشتے کی عظمت و جلالت معلوم ہوئی اور جان گئے کہ اللہ کے نزدیک یہ کس قدر بلند مرتبہ ہے۔ مسند بزار کی ایک روایت امام ابن جریر رحمہ اللہ کے قول کی تائید میں پیش ہو سکتی ہے مگر اس کے راوی صرف حارث بن عبید ہیں جو بصرہ کے رہنے والے شخص ہیں۔ ابو قدامہ ایادی ان کی کنیت ہے مسلم میں ان سے روایتیں آئی ہیں لیکن امام ابن معین انہیں ضعیف کہتے ہیں اور فرماتے ہیں یہ کوئی چیز نہیں۔
امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ مضطرب الحدیث ہیں امام ابوحاتم رازی رحمہ اللہ کا قول ہے کہ ان کی حدیثیں لکھ لی جاتی ہیں لیکن ان سے دلیل نہیں لی جا سکتی۔ ابن حبان فرماتے ہیں یہ بڑے وہمی تھے ان سے احتجاج درست نہیں، پس یہ حدیث صرف ان ہی کی روایت سے ہے تو علاوہ غریب ہونے کے منکر ہے اور اگر ثابت ہو بھی جائے تو ممکن ہے یہ واقعہ کسی خواب کا ہو۔ اس میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں ”میں بیٹھا تھا کہ ایک درخت ہے جس میں پرندوں کے آشیانوں کی طرح بیٹھنے کی جگہیں بنی ہوئی ہیں، ایک میں تو جبرائیل بیٹھ گئے اور دوسرے میں میں بیٹھ گیا۔ پھر وہ درخت بلند ہونے لگا یہاں تک کہ میں آسمان سے بالکل قریب پہنچ گیا میں دائیں بائیں کروٹیں بدلتا تھا اور اگر میں چاہتا تو ہاتھ بڑھا کر آسمان کو چھو لیتا، میں نے دیکھا کہ جبرائیل،اس وقت ہیبت الٰہی سے مثل بورئیے کے پیچھے جا رہے تھے، اس وقت میں سمجھ گیا کہ اللہ کی جلالت و قدر کے علم میں انہیں مجھ پر فضیلت ہے۔ آسمان کے دروازوں میں سے ایک دروازہ مجھ پر کھل گیا، میں نے بہت بڑا عظیم الشان نور دیکھا اور پردے کے پاس در و یاقوت کو ہلتے اور حرکت کرتے دیکھا، پھر اللہ تعالیٰ نے جو وحی فرمانی چاہی وہ فرمائی۔} ۱؎ [مسند احمد:395/1:اسنادہ ضعیف]
مسند میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل کو اپنی اصلی صورت میں دیکھا ہے ان کے چھ سو پر تھے ہر ایک ایسا جس میں آسمان کے کنارے پر کر دئیے تھے ان سے زمرد، موتی اور مروارید جھڑ رہے تھے۔ اور روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام سے خواہش کی کہ میں آپ کو آپ کی اصلی صورت میں دیکھنا چاہتا ہوں۔ جبرائیل علیہ السلام نے فرمایا: اللہ تعالیٰ سے دعا کیجئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دعا کی تو مشرق کی طرف سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو کوئی چیز اونچی اٹھتی ہوئی اور پھیلتی ہوئی نظر آئی جسے دیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم بیہوش ہو گئے، جبرائیل علیہ السلام فوراً آئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ہوش میں لائے اور آپ کی رخساروں سے لعاب مبارک دور کیا۔} ۱؎ [مسند احمد:322/1:ضعیف]
ابن عساکر میں ہے کہ ابولہب اور اس کا بیٹا عتبہ شام کے سفر کی تیاریاں کرنے لگے اس کے بیٹے نے کہا: سفر میں جانے سے پہلے ایک مرتبہ ذرا محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اللہ کو ان کے سامنے گالیاں تو دے آؤں چنانچہ یہ آیا اور کہا اے محمد! جو قریب ہوا اور اترا اور دو کمانوں کے برابر بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیک آ گیا میں تو اس کا منکر ہوں (چونکہ یہ ناہنجار سخت بے ادب تھا اور باربار گستاخی سے پیش آتا تھا) نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے اس کے لیے بد دعا نکل گئی کہ باری تعالیٰ اپنے کتوں میں سے ایک کتا اس پر مقرر کر دے۔ یہ جب لوٹ کر اپنے باپ کے پاس آیا اور ساری باتیں کہہ سنائیں تو اس نے کہا: بیٹا اب مجھے تو تیری جان کا اندیشہ ہو گیا اس کی دعا رد نہ جائے گی، اس کے بعد یہ قافلہ یہاں سے روانہ ہوا شام کی سر زمین میں ایک راہب کے عبادت خانے کے پاس پڑاؤ کیا، راہب نے ان سے کہا: یہاں تو بھیڑئیے اس طرح پھرتے ہیں جیسے بکریوں کے ریوڑ تم یہاں کیوں آ گئے؟ ابولہب یہ سن کر ٹھٹک گیا اور تمام قافلے والوں کو جمع کر کے کہا: دیکھو میرے بڑھاپے کا حال تمہیں معلوم ہے اور تم جانتے ہو کہ میرے کیسے کچھ حقوق تم پر ہیں آج میں تم سے ایک عرض کرتا ہوں امید کرتا ہوں کہ تم سب اسے قبول کرو گے بات یہ ہے کہ مدعی نبوت نے میرے جگر گوشے کے لیے بد دعا کی ہے اور مجھے اس کی جان کا خطرہ ہے، تم اپنا سب اسباب اس عبادت خانے کے پاس جمع کرو اور اس پر میرے پیارے بچے کو سلاؤ اور تم سب اس کے اردگرد پہرا دو۔ لوگوں نے اسے منظور کر لیا۔ یہ اپنے سب جتن کر کے ہوشیار رہے کہ اچانک شیر آیا اور سب کے منہ سونگھنے لگا، جب سب کے منہ سونگھ چکا اور گویا جسے تلاش کر رہا تھا، اسے نہ پایا تو پچھلے پیروں ہٹ کر بہت زور سے جست کی اور ایک چھلانگ میں اس مچان پر پہنچ گیا وہاں جا کر اس کا بھی منہ سونگھا اور گویا وہی اس کا مطلوب تھا، پھر تو اس نے اس کے پرخچے اڑا دئیے، چیر پھاڑ کر ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا، اس وقت ابولہب کہنے لگا، اس کا تو مجھے پہلے ہی یقین تھا کہ محمد (صلی اللہ علیہ وسلم ) کی بد دعا کے بعد یہ بچ نہیں سکتا۔۱؎ [مستدرک حاکم:539/2:صحیح]
جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ’ جبرائیل، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ ‘ یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے ’ پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں ‘ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» ۱؎ [2-البقرة:74] ’ بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت‘ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ’ پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ ‘ ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ۱؎ [4-النساء:77] ’ وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے ‘ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ’ بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ ‘ اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» ۱؎ [37-الصفات:147] ’ ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف ‘ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ’ اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ ‘ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» ۱؎ [53-النجم:8] میں ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:286] سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔ پھر فرمایا ’ اس نے وحی کی ‘ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» ۱؎ [93-الضحى:6] اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» ۱؎ [94-الشرح:4] تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:286] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔ جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الانعام:103] ’ اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ ‘ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔۱؎ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف] نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔۱؎ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ } ۱؎ [صحیح مسلم:291] ایک روایت میں ہے { میں نے نور دیکھا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:291] ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» ۱؎ [53-النجم:11] پڑھی۔ } [ضعیف] اور روایت میں ہے { میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» ۱؎ [53-النجم:8] پڑھی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف] عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» ۱؎ [53-النجم:11] کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ } اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:285/1:صحیح] چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ { میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا } ۱؎ [مسند احمد:368/1:صحیح] اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔
ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ { جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ ۱؎ [53-النجم:8] ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الأنعام:103] ، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» ۱؎ [42-الشورى:51] کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ’ کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ ‘ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔ پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:34] آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» ۱؎ [5-المائدہ:67] پڑھی یعنی ’ اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ‘ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔۱؎ [مسند احمد:49/6:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ { مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» ۱؎ [53-النجم:7] اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» ۱؎ [81-التكوير:23] پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ } یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4855] مسند احمد میں ہے { عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ } ۱؎ [مسند احمد:147/5:صحیح] صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:186] امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ ۱؎ [صحیح مسلم:279] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ’ جو مانگنا ہو مانگو۔‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524] مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔
{ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» ۱؎ [20-طه:23] ’ اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔‘ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف]
یہاں تک کہ دو کمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا
مولانا محمد جوناگڑھی
پس وه دو کمانوں کے بقدر فاصلہ ره گیا بلکہ اس سے بھی کم
احمد رضا خان بریلوی
تو اس جلوے اور اس محبوب میں دو ہاتھ کا فاصلہ رہا بلکہ اس سے بھی کم
علامہ محمد حسین نجفی
یہاں تک دو کمان کے برابریا اس سے بھی کم فاصلہ رہ گیا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر وہ دو کمانوں کے فاصلے پر ہو گیا، بلکہ زیادہ قریب۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ’ جبرائیل، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ ‘ یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے ’ پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں ‘ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» ۱؎ [2-البقرة:74] ’ بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت‘ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ’ پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ ‘ ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ۱؎ [4-النساء:77] ’ وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے ‘ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ’ بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ ‘ اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» ۱؎ [37-الصفات:147] ’ ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف ‘ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ’ اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ ‘ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» ۱؎ [53-النجم:8] میں ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:286] سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔ پھر فرمایا ’ اس نے وحی کی ‘ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» ۱؎ [93-الضحى:6] اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» ۱؎ [94-الشرح:4] تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:286] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔ جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الانعام:103] ’ اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ ‘ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔۱؎ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف] نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔۱؎ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ } ۱؎ [صحیح مسلم:291] ایک روایت میں ہے { میں نے نور دیکھا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:291] ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» ۱؎ [53-النجم:11] پڑھی۔ } [ضعیف] اور روایت میں ہے { میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» ۱؎ [53-النجم:8] پڑھی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف] عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» ۱؎ [53-النجم:11] کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ } اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:285/1:صحیح] چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ { میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا } ۱؎ [مسند احمد:368/1:صحیح] اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔
ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ { جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ ۱؎ [53-النجم:8] ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الأنعام:103] ، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» ۱؎ [42-الشورى:51] کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ’ کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ ‘ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔ پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:34] آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» ۱؎ [5-المائدہ:67] پڑھی یعنی ’ اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ‘ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔۱؎ [مسند احمد:49/6:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ { مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» ۱؎ [53-النجم:7] اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» ۱؎ [81-التكوير:23] پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ } یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4855] مسند احمد میں ہے { عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ } ۱؎ [مسند احمد:147/5:صحیح] صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:186] امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ ۱؎ [صحیح مسلم:279] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ’ جو مانگنا ہو مانگو۔‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524] مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔
{ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» ۱؎ [20-طه:23] ’ اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔‘ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف]
تب اُس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو وحی بھی اُسے پہنچانی تھی
مولانا محمد جوناگڑھی
پس اس نے اللہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو بھی پہنچائی
احمد رضا خان بریلوی
اب وحی فرمائی اپنے بندے کو جو وحی فرمائی
علامہ محمد حسین نجفی
پس اس (اللہ) نے اپنے بندہ (خاص) کی طرف وحی کی جو وحی کی۔
عبدالسلام بن محمد
پھر اس نے وحی کی اس (اللہ) کے بندے کی طرف جو وحی کی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ’ جبرائیل، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ ‘ یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے ’ پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں ‘ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» ۱؎ [2-البقرة:74] ’ بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت‘ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ’ پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ ‘ ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ۱؎ [4-النساء:77] ’ وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے ‘ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ’ بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ ‘ اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» ۱؎ [37-الصفات:147] ’ ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف ‘ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ’ اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ ‘ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» ۱؎ [53-النجم:8] میں ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:286] سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔ پھر فرمایا ’ اس نے وحی کی ‘ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» ۱؎ [93-الضحى:6] اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» ۱؎ [94-الشرح:4] تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:286] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔ جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الانعام:103] ’ اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ ‘ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔۱؎ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف] نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔۱؎ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ } ۱؎ [صحیح مسلم:291] ایک روایت میں ہے { میں نے نور دیکھا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:291] ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» ۱؎ [53-النجم:11] پڑھی۔ } [ضعیف] اور روایت میں ہے { میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» ۱؎ [53-النجم:8] پڑھی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف] عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» ۱؎ [53-النجم:11] کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ } اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:285/1:صحیح] چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ { میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا } ۱؎ [مسند احمد:368/1:صحیح] اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔
ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ { جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ ۱؎ [53-النجم:8] ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الأنعام:103] ، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» ۱؎ [42-الشورى:51] کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ’ کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ ‘ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔ پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:34] آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» ۱؎ [5-المائدہ:67] پڑھی یعنی ’ اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ‘ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔۱؎ [مسند احمد:49/6:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ { مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» ۱؎ [53-النجم:7] اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» ۱؎ [81-التكوير:23] پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ } یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4855] مسند احمد میں ہے { عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ } ۱؎ [مسند احمد:147/5:صحیح] صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:186] امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ ۱؎ [صحیح مسلم:279] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ’ جو مانگنا ہو مانگو۔‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524] مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔
{ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» ۱؎ [20-طه:23] ’ اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔‘ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 10) ➊ {فَاَوْحٰۤى اِلٰى عَبْدِهٖ مَاۤ اَوْحٰى: ” فَاَوْحٰۤى “} (پھر اس نے وحی کی) کی ضمیر اللہ تعالیٰ کی طرف بھی جا سکتی ہے، اس صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ پھر اللہ تعالیٰ نے (جبریل علیہ السلام کے واسطے سے) اپنے بندے کی طرف وحی کی اور {” فَاَوْحٰۤى “} کی ضمیر جبریل علیہ السلام کی طرف بھی جا سکتی ہے، مگر اس صورت میں {” عَبْدِهٖ “} میں ضمیر غائب سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات پاک ہو گی، کیونکہ {” عَبْدِهٖ “} سے مراد ”اللہ کے بندے“ کے سوا کوئی ہو ہی نہیں سکتا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم ہی نہیں آسمان و زمین کا ہر شخص اللہ کا بندہ ہے، جبریل یا کسی اور کا کوئی بندہ نہیں۔ اس صورت میں مطلب یہ ہو گا کہ ”پھر جبریل نے اس اللہ کے بندے کی طرف وحی کی۔“ ➋ {” مَاۤ اَوْحٰى “} (جو وحی کی) کو مبہم رکھ کر اس کی عظمتِ شان کی طرف اشارہ فرمایا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ طٰہٰ کی آیت(۷۸): «فَغَشِيَهُمْ مِّنَ الْيَمِّ مَا غَشِيَهُمْ» کی تفسیر۔ اس سے پچھلی آیات کے آخری فائدہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اس وحی میں{” يٰۤاَيُّهَا الْمُدَّثِّرُ “} سے {” وَ الرُّجْزَ فَاهْجُرْ “} تک آیات بھی تھیں۔
(رسول(ص) کے) دل نے جھوٹ نہیں کہا (جھٹلایا نہیں) جو کچھ (مصطفٰی(ص) کی) آنکھ نے دیکھا۔
عبدالسلام بن محمد
دل نے جھوٹ نہیں بولا جو اس نے دیکھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ’ جبرائیل، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ ‘ یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے ’ پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں ‘ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» ۱؎ [2-البقرة:74] ’ بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت‘ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ’ پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ ‘ ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ۱؎ [4-النساء:77] ’ وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے ‘ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ’ بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ ‘ اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» ۱؎ [37-الصفات:147] ’ ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف ‘ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ’ اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ ‘ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» ۱؎ [53-النجم:8] میں ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:286] سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔ پھر فرمایا ’ اس نے وحی کی ‘ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» ۱؎ [93-الضحى:6] اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» ۱؎ [94-الشرح:4] تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:286] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔ جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الانعام:103] ’ اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ ‘ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔۱؎ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف] نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔۱؎ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ } ۱؎ [صحیح مسلم:291] ایک روایت میں ہے { میں نے نور دیکھا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:291] ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» ۱؎ [53-النجم:11] پڑھی۔ } [ضعیف] اور روایت میں ہے { میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» ۱؎ [53-النجم:8] پڑھی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف] عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» ۱؎ [53-النجم:11] کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ } اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:285/1:صحیح] چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ { میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا } ۱؎ [مسند احمد:368/1:صحیح] اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔
ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ { جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ ۱؎ [53-النجم:8] ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الأنعام:103] ، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» ۱؎ [42-الشورى:51] کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ’ کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ ‘ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔ پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:34] آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» ۱؎ [5-المائدہ:67] پڑھی یعنی ’ اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ‘ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔۱؎ [مسند احمد:49/6:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ { مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» ۱؎ [53-النجم:7] اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» ۱؎ [81-التكوير:23] پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ } یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4855] مسند احمد میں ہے { عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ } ۱؎ [مسند احمد:147/5:صحیح] صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:186] امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ ۱؎ [صحیح مسلم:279] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ’ جو مانگنا ہو مانگو۔‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524] مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔
{ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» ۱؎ [20-طه:23] ’ اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔‘ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف]
11۔ 1 یعنی نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل ؑ کو اصل شکل میں دیکھا کہ ان کے چھ سو پر ہیں۔ ایک پر مشرق و مغرب کے درمیان فاصلے جتنا تھا، اس کو آپ کے دل نے جھٹلایا نہیں، بلکہ اللہ کی اس عظیم قدرت کو تسلیم کیا۔
(آیت 11) ➊ {مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى: ” كَذَبَ “} کو سبعہ قراء ات میں دو طرح پڑھا گیا ہے۔ چنانچہ ابن عامر نے اسے ذال کی تشدید کے ساتھ {”كَذَّبَ“} پڑھا ہے، جھٹلایا۔ اس وقت معنی ہو گا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے آنکھوں سے جو کچھ دیکھا دل نے اسے نہیں جھٹلایا، بلکہ اس کی تصدیق کی۔ دوسرے قراء نے ”ذال“ کو تشدید کے بغیر{” كَذَبَ “} پڑھا ہے، جھوٹ کہا۔ یعنی دل نے جبریل علیہ السلام کو دیکھا تو جھوٹ نہیں کہا، بلکہ سچ کہا کہ اس نے جبریل کو دیکھا ہے، جیسے آنکھوں نے دیکھا تو جھوٹ نہیں کہا۔ جبریل علیہ السلام کو دیکھنے میں آنکھیں اور دل دونوں شریک تھے۔ شیخ عبدالرحمن السعدی ”تیسیر الرحمن“ میں لکھتے ہیں: {”أَيْ اِتَّفَقَ فُؤَادُ الرَّسُوْلِ صَلَّي اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ رُؤْيَتُهُ عَلَي الْوَحْيِ الَّذِيْ أَوْحَاهُ اللّٰهُ إِلَيْهِ وَ تَوَاطَأَ عَلَيْهِ سَمْعُهُ وَ قَلْبُهُ وَ بَصَرُهُ“} ”یعنی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دل اور آپ کی رؤیت نے اس وحی پر اتفاق کیا جو اللہ تعالیٰ نے آپ کی طرف کی اور اس پر آپ کے کان، آنکھیں اور دل متفق ہو گئے۔“ سید امیر علی ملیح آبادی ”مواہب الرحمن“ میں اس جملے کی تفسیر کے آخر میں لکھتے ہیں: ”بالجملہ آں حضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے جو دیکھا اس میں فواد اور آنکھ دونوں متفق و صادق ہیں۔“ بعض مفسرین نے {” كَذَبَ “} (تشدید کے بغیر) کا معنی ”جھٹلایا“ کیا ہے، جبکہ یہ {”كَذَّبَ“} (تشدیدِ ذال کے ساتھ) کا معنی ہے، {” كَذَبَ “} (بلا تشدید) کا نہیں۔ ➋ جو کچھ آنکھ نے دیکھا وہ یہ تھا کہ اس نے جبریل علیہ السلام کو ان کی اصل صورت میں دیکھا، دن کی روشنی میں دیکھا تاریکی میں نہیں دیکھا، جاگتے ہوئے دیکھا نیند یا نیم خوابی یا اونگھ کی حالت میں نہیں دیکھا، دل نے بھی دیکھنے میں آنکھوں کی موافقت کی اور کہہ دیا کہ واقعی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس جبریل فرشتے ہی کو دیکھا جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے وحی لاتا ہے اور مسئلے میں کوئی شک و شبہ نہ رہا۔
اب کیا تم اُس چیز پر اُس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تم جھگڑا کرتے ہو اس پر جو (پیغمبر) دیکھتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا تم ان سے ان کے دیکھے ہوئے پر جھگڑ تے ہو
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم لوگ آپ(ص) سے اس بات پر جھگڑتے ہو جو کچھ انہوں نے دیکھا۔
عبدالسلام بن محمد
پھر کیا تم اس سے جھگڑتے ہو اس پر جو وہ دیکھتا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ’ جبرائیل، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ ‘ یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے ’ پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں ‘ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» ۱؎ [2-البقرة:74] ’ بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت‘ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ’ پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ ‘ ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ۱؎ [4-النساء:77] ’ وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے ‘ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ’ بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ ‘ اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» ۱؎ [37-الصفات:147] ’ ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف ‘ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ’ اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ ‘ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» ۱؎ [53-النجم:8] میں ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:286] سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔ پھر فرمایا ’ اس نے وحی کی ‘ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» ۱؎ [93-الضحى:6] اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» ۱؎ [94-الشرح:4] تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:286] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔ جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الانعام:103] ’ اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ ‘ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔۱؎ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف] نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔۱؎ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ } ۱؎ [صحیح مسلم:291] ایک روایت میں ہے { میں نے نور دیکھا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:291] ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» ۱؎ [53-النجم:11] پڑھی۔ } [ضعیف] اور روایت میں ہے { میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» ۱؎ [53-النجم:8] پڑھی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف] عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» ۱؎ [53-النجم:11] کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ } اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:285/1:صحیح] چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ { میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا } ۱؎ [مسند احمد:368/1:صحیح] اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔
ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ { جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ ۱؎ [53-النجم:8] ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الأنعام:103] ، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» ۱؎ [42-الشورى:51] کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ’ کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ ‘ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔ پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:34] آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» ۱؎ [5-المائدہ:67] پڑھی یعنی ’ اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ‘ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔۱؎ [مسند احمد:49/6:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ { مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» ۱؎ [53-النجم:7] اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» ۱؎ [81-التكوير:23] پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ } یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4855] مسند احمد میں ہے { عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ } ۱؎ [مسند احمد:147/5:صحیح] صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:186] امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ ۱؎ [صحیح مسلم:279] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ’ جو مانگنا ہو مانگو۔‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524] مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔
{ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» ۱؎ [20-طه:23] ’ اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔‘ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 12) ➊ {اَفَتُمٰرُوْنَهٗ: ”تُمَارُوْنَ“ ”مَارٰي يُمَارِيْ مِرَاءً وَ مُمَارَاةً“} (مفاعلہ) سے فعل مضارع معلوم جمع مذکر حاضر ہے، جھگڑا کرنا۔ یہ مشرکین مکہ سے خطاب ہے، جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں بتایا کہ میرے پاس کوئی شیطان نہیں بلکہ جبریل فرشتہ آتا ہے اور میں اسے دیکھتا ہوں، اس کی اصل صورت میں بھی میں نے اسے دیکھا ہے تو انھوں نے یہ بات ماننے سے انکار کر دیا اور جھگڑنے لگے، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں کہ تم اپنے صاحب کو خود صادق و امین تسلیم کرتے ہو، جب وہ تم سے کہتا ہے کہ اس کے پاس جبریل فرشتہ آتا ہے اور وہ اسے اپنی آنکھوں سے دیکھتا ہے تو تم اس سے جھگڑنے لگتے ہو، آخر تمھارے پاس اسے جھٹلانے اور اس پر جھگڑا کرنے کی کیا دلیل ہے؟ {إِذَا لَمْ تَرَ الْهِلَالَ فَسَلِّمْ لِأُنَاسٍ رَأَوْهُ بِالْأَبْصَارِ} ”جب تمھیں چاند نظر نہیں آیا تو ان لوگوں کی بات مان لو جنھوں نے اسے آنکھوں سے دیکھا ہے۔“ ➋ { عَلٰى مَا يَرٰى:} واضح رہے کہ یہاں اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا کہ {”أَفَتُمَارُوْنَهُ عَلٰي مَا رَأَي“} ”پھر کیا تم اس سے اس پر جھگڑتے ہو جو اس نے دیکھا“ بلکہ فرمایا: «اَفَتُمٰرُوْنَهٗ عَلٰى مَا يَرٰى» ”پھر کیا تم اس سے جھگڑتے ہو اس پر جو وہ دیکھتا ہے“ اس سے معلوم ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جس بات کو وہ جھٹلاتے تھے وہ یہ تھی کہ میں جبریل فرشتے کو دیکھتا ہوں جب وہ میرے پاس آتا ہے اور حقیقت بھی یہی تھی کہ پہلی دفعہ جب جبریل علیہ السلام غارِ حرا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے تو اگرچہ اصل صورت میں نہ تھے، مگر بعد میں جب وہ اپنی اصل صورت میں اس شان سے سامنے آئے کہ زمین سے آسمان تک اور دائیں سے بائیں تک پورا اُفق ان سے بھرا ہوا تھا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم فوراً پہچان گئے کہ یہ وہی فرشتہ ہے جو غارِ حرا میں میرے پاس آیا تھا۔ دیکھیے اسی سورت کی آیت (۶ تا ۹) کے آخری فائدہ میں مذکور حدیث۔ اس سے ظاہر ہے کہ جبریل علیہ السلام کے آنے پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم انھیں پہچان لیتے تھے، خواہ کسی حالت میں آئیں۔
حالانکہ بلاشبہ یقینا اس نے اسے ایک اور بار اترتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ’ جبرائیل، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ ‘ یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے ’ پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں ‘ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» ۱؎ [2-البقرة:74] ’ بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت‘ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ’ پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ ‘ ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ۱؎ [4-النساء:77] ’ وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے ‘ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ’ بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ ‘ اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» ۱؎ [37-الصفات:147] ’ ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف ‘ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ’ اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ ‘ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» ۱؎ [53-النجم:8] میں ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:286] سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔ پھر فرمایا ’ اس نے وحی کی ‘ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» ۱؎ [93-الضحى:6] اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» ۱؎ [94-الشرح:4] تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:286] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔ جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الانعام:103] ’ اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ ‘ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔۱؎ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف] نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔۱؎ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ } ۱؎ [صحیح مسلم:291] ایک روایت میں ہے { میں نے نور دیکھا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:291] ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» ۱؎ [53-النجم:11] پڑھی۔ } [ضعیف] اور روایت میں ہے { میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» ۱؎ [53-النجم:8] پڑھی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف] عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» ۱؎ [53-النجم:11] کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ } اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:285/1:صحیح] چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ { میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا } ۱؎ [مسند احمد:368/1:صحیح] اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔
ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ { جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ ۱؎ [53-النجم:8] ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الأنعام:103] ، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» ۱؎ [42-الشورى:51] کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ’ کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ ‘ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔ پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:34] آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» ۱؎ [5-المائدہ:67] پڑھی یعنی ’ اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ‘ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔۱؎ [مسند احمد:49/6:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ { مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» ۱؎ [53-النجم:7] اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» ۱؎ [81-التكوير:23] پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ } یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4855] مسند احمد میں ہے { عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ } ۱؎ [مسند احمد:147/5:صحیح] صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:186] امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ ۱؎ [صحیح مسلم:279] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ’ جو مانگنا ہو مانگو۔‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524] مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔
{ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» ۱؎ [20-طه:23] ’ اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔‘ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف]
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 13) {وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى:} ”لام“ اور {”قَدْ“} کے ساتھ تاکید قسم کے مفہوم کا فائدہ دیتی ہے۔ مشرکین کے انکار کی وجہ سے اتنی تاکید کے ساتھ بات کی ہے۔ یعنی تم زمین پر اس کے جبریل علیہ السلام کو دیکھنے کا انکار کرتے ہو، قسم ہے کہ اس نے تو اسے ایک اور بار آسمانوں کے اوپر بھی اس کی اصل صورت میں اترتے ہوئے دیکھا ہے۔
جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ’ جبرائیل، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ ‘ یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے ’ پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں ‘ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» ۱؎ [2-البقرة:74] ’ بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت‘ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ’ پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ ‘ ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ۱؎ [4-النساء:77] ’ وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے ‘ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ’ بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ ‘ اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» ۱؎ [37-الصفات:147] ’ ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف ‘ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ’ اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ ‘ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» ۱؎ [53-النجم:8] میں ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:286] سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔ پھر فرمایا ’ اس نے وحی کی ‘ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» ۱؎ [93-الضحى:6] اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» ۱؎ [94-الشرح:4] تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:286] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔ جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الانعام:103] ’ اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ ‘ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔۱؎ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف] نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔۱؎ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ } ۱؎ [صحیح مسلم:291] ایک روایت میں ہے { میں نے نور دیکھا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:291] ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» ۱؎ [53-النجم:11] پڑھی۔ } [ضعیف] اور روایت میں ہے { میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» ۱؎ [53-النجم:8] پڑھی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف] عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» ۱؎ [53-النجم:11] کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ } اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:285/1:صحیح] چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ { میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا } ۱؎ [مسند احمد:368/1:صحیح] اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔
ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ { جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ ۱؎ [53-النجم:8] ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الأنعام:103] ، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» ۱؎ [42-الشورى:51] کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ’ کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ ‘ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔ پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:34] آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» ۱؎ [5-المائدہ:67] پڑھی یعنی ’ اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ‘ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔۱؎ [مسند احمد:49/6:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ { مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» ۱؎ [53-النجم:7] اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» ۱؎ [81-التكوير:23] پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ } یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4855] مسند احمد میں ہے { عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ } ۱؎ [مسند احمد:147/5:صحیح] صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:186] امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ ۱؎ [صحیح مسلم:279] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ’ جو مانگنا ہو مانگو۔‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524] مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔
{ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» ۱؎ [20-طه:23] ’ اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔‘ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف]
14۔ 1 یہ لیلۃ المعراج کو جب اصل شکل میں جبرائیل ؑ کو دیکھا، اس کا بیان ہے۔ یہ سدرۃ المنتہیٰ، ایک بیری کا درخت ہے جو چھٹے یا ساتویں آسمان پر ہے اور یہ آخری حد ہے، اس کے اوپر کوئی فرشتہ نہیں جاسکتا۔ فرشتے اللہ کے احکام بھی یہیں سے وصول کرتے ہیں
(آیت 14) {عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى: ” سِدْرَةِ “} بیری کا درخت۔ {” الْمُنْتَهٰى “ ” اِنْتَهٰي يَنْتَهِيْ اِنْتِهَاءً “} (افتعال) سے ظرف مکان ہے، انتہا کی جگہ۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے اس نام کی وجہ بیان فرمائی ہے، انھوں نے فرمایا: [ لَمَّا أُسْرِيَ بِرَسُوْلِ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ انْتُهِيَ بِهِ إِلٰی سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰی وَهِيَ فِي السَّمَاءِ السَّادِسَةِ، إِلَيْهَا يَنْتَهِيْ مَا يُعْرَجُ بِهِ مِنَ الْأَرْضِ فَيُقْبَضُ مِنْهَا وَ إِلَيْهَا يَنْتَهِيْ مَا يَهْبِطُ بِهِ مِنْ فَوْقِهَا فَيُقْبَضُ مِنْهَا ] [مسلم، الإیمان، باب في ذکر سدرۃ المنتھٰی: ۱۷۳ ] ”جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو رات (معراج کے لیے) لے جایا گیا تو آپ کو سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچایا گیا اور وہ چھٹے آسمان میں ہے۔ زمین سے اوپر جو کچھ چڑھتا ہے اس کی انتہا وہاں تک ہوتی ہے، پھر اسے وہاں سے لے لیا جاتا ہے اور اس کے اوپر سے جو کچھ اترتا ہے اس کی انتہا بھی وہیں تک ہوتی ہے، پھر اسے وہاں سے لے لیا جاتا ہے۔“ مسلم کی شرح میں نووی رحمہ اللہ نے فرمایا کہ صحیح مسلم کے تمام نسخوں میں اسی طرح چھٹے آسمان ہی کا ذکر ہے، جب کہ انس رضی اللہ عنہ سے مروی دوسری روایات میں گزر چکا ہے کہ وہ ساتویں آسمان کے اوپر ہے۔ قاضی (عیاض) نے فرمایا، اس کا ساتویں آسمان پر ہونا ہی زیادہ صحیح اور اکثر کا قول ہے۔ یہی سدرۃ المنتہیٰ کے معنی کا اور نام کا تقاضا ہے کہ وہ ساتویں آسمان پر ہو۔ نووی فرماتے ہیں کہ دونوں اقوال کو جمع کرنا ممکن ہے کہ اس کی جڑ چھٹے آسمان میں ہے اور زیادہ تر حصہ ساتویں آسمان میں ہے، کیونکہ سب جانتے ہیں کہ وہ بہت بڑی ہے۔ اس آیت سے جبریل علیہ السلام کو دیکھنے کا وقت اور مقام بھی معلوم ہو گیا، کیونکہ سدرۃ المنتہیٰ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات دیکھی ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو آسمانوں کی سیر کروائی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ ثُمَّ رُفِعَتْ إِلَيَّ سِدْرَةُ الْمُنْتَهٰی فَإِذَا نَبِقُهَا مِثْلُ قِلاَلِ هَجَرَ، وَ إِذَا وَرَقُهَا مِثْلُ آذَانِ الْفِيَلَةِ قَالَ هٰذِهِ سِدْرَةُ الْمُنْتَهٰی] [ بخاري، المناقب، باب المعراج: ۳۸۸۷، عن مالک بن صعصعۃ رضی اللہ عنھما ] ”پھر سدرۃ المنتہیٰ میرے سامنے ظاہر ہوئی، دیکھا تو اس کے بیر (پھل) ہجر شہر کے مٹکوں کی طرح اور اس کے پتے ہاتھیوں کے کانوں کی طرح تھے۔ جبریل علیہ السلام نے کہا: یہ سدرۃ المنتھیٰ ہے۔“
جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ’ جبرائیل، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ ‘ یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے ’ پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں ‘ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» ۱؎ [2-البقرة:74] ’ بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت‘ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ’ پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ ‘ ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ۱؎ [4-النساء:77] ’ وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے ‘ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ’ بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ ‘ اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» ۱؎ [37-الصفات:147] ’ ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف ‘ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ’ اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ ‘ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» ۱؎ [53-النجم:8] میں ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:286] سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔ پھر فرمایا ’ اس نے وحی کی ‘ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» ۱؎ [93-الضحى:6] اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» ۱؎ [94-الشرح:4] تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:286] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔ جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الانعام:103] ’ اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ ‘ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔۱؎ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف] نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔۱؎ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ } ۱؎ [صحیح مسلم:291] ایک روایت میں ہے { میں نے نور دیکھا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:291] ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» ۱؎ [53-النجم:11] پڑھی۔ } [ضعیف] اور روایت میں ہے { میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» ۱؎ [53-النجم:8] پڑھی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف] عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» ۱؎ [53-النجم:11] کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ } اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:285/1:صحیح] چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ { میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا } ۱؎ [مسند احمد:368/1:صحیح] اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔
ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ { جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ ۱؎ [53-النجم:8] ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الأنعام:103] ، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» ۱؎ [42-الشورى:51] کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ’ کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ ‘ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔ پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:34] آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» ۱؎ [5-المائدہ:67] پڑھی یعنی ’ اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ‘ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔۱؎ [مسند احمد:49/6:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ { مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» ۱؎ [53-النجم:7] اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» ۱؎ [81-التكوير:23] پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ } یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4855] مسند احمد میں ہے { عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ } ۱؎ [مسند احمد:147/5:صحیح] صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:186] امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ ۱؎ [صحیح مسلم:279] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ’ جو مانگنا ہو مانگو۔‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524] مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔
{ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» ۱؎ [20-طه:23] ’ اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔‘ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف]
15۔ 1 اسے جنت الماویٰ، اس لئے کہتے ہیں کہ حضرت آدم ؑ کا ماویٰ و مسکن یہی تھا، بعض کہتے ہیں کہ روحیں یہاں آکر جمع ہوتی ہیں (فتح القدیر)
(آیت 15) {عِنْدَهَا جَنَّةُ الْمَاْوٰى: ” الْمَاْوٰى “ ” أَوٰي يَأْوِيْ أُوِيًّا “ (ض) ”اَلْبَيْتَ وَ إِلَي الْبَيْتِ“} سے مصدر میمی ہے، گھر میں قیام کرنا، رہائش رکھنا۔ یعنی وہ جنت جو متقی لوگوں کے قیام اور ہمیشہ رہنے کی جگہ ہے۔ اس سے معلوم ہوا کہ وہ جنت جس میں ایمان والوں کا دائمی قیام ہو گا آسمانوں کے اوپر سدرۃ المنتہیٰ کے پاس ہے۔ ابو ذر غفاری رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو سدرۃ المنتہیٰ کے بعد جنت میں لے جایا گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ حَتَّی انْتَهٰی بِيْ إِلٰی سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰی، وَغَشِيَهَا أَلْوَانٌ لاَ أَدْرِيْ مَا هِيَ، ثُمَّ أُدْخِلْتُ الْجَنَّةَ، فَإِذَا فِيْهَا حَبَايِلُ اللُّؤْلُؤِ، وَ إِذَا تُرَابُهَا الْمِسْكُ ] [بخاري، الصلاۃ، باب کیف فرضت الصلاۃ في الإسراء؟: ۳۴۹ ] ”پھر مجھے سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچایا گیا اور اسے ایسے رنگوں نے ڈھانپا ہوا تھا کہ میں نہیں جانتا وہ کیا تھے۔ پھر مجھے جنت میں داخل کیا گیا تو کیا دیکھتا ہوں کہ اس میں موتیوں کی لڑیاں ہیں اور اس کی مٹی کستوری ہے۔“
جب کہ سدره کو چھپائے لیتی تھی وه چیز جو اس پر چھا رہی تھی
احمد رضا خان بریلوی
جب سدرہ پر چھا رہا تھا جو چھا رہا تھا
علامہ محمد حسین نجفی
جب کہ سدرہ پر چھا رہا تھا (وہ نور) جو چھا رہا تھا۔
عبدالسلام بن محمد
جب اس بیری کو ڈھانپ رہا تھا جو ڈھانپ رہا تھا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ’ جبرائیل، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ ‘ یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے ’ پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں ‘ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» ۱؎ [2-البقرة:74] ’ بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت‘ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ’ پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ ‘ ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ۱؎ [4-النساء:77] ’ وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے ‘ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ’ بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ ‘ اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» ۱؎ [37-الصفات:147] ’ ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف ‘ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ’ اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ ‘ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» ۱؎ [53-النجم:8] میں ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:286] سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔ پھر فرمایا ’ اس نے وحی کی ‘ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» ۱؎ [93-الضحى:6] اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» ۱؎ [94-الشرح:4] تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:286] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔ جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الانعام:103] ’ اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ ‘ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔۱؎ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف] نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔۱؎ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ } ۱؎ [صحیح مسلم:291] ایک روایت میں ہے { میں نے نور دیکھا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:291] ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» ۱؎ [53-النجم:11] پڑھی۔ } [ضعیف] اور روایت میں ہے { میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» ۱؎ [53-النجم:8] پڑھی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف] عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» ۱؎ [53-النجم:11] کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ } اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:285/1:صحیح] چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ { میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا } ۱؎ [مسند احمد:368/1:صحیح] اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔
ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ { جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ ۱؎ [53-النجم:8] ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الأنعام:103] ، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» ۱؎ [42-الشورى:51] کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ’ کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ ‘ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔ پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:34] آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» ۱؎ [5-المائدہ:67] پڑھی یعنی ’ اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ‘ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔۱؎ [مسند احمد:49/6:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ { مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» ۱؎ [53-النجم:7] اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» ۱؎ [81-التكوير:23] پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ } یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4855] مسند احمد میں ہے { عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ } ۱؎ [مسند احمد:147/5:صحیح] صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:186] امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ ۱؎ [صحیح مسلم:279] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ’ جو مانگنا ہو مانگو۔‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524] مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔
{ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» ۱؎ [20-طه:23] ’ اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔‘ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف]
16۔ 1 سدرۃ المنتہیٰ کی اس کیفیت کا بیان ہے جب شب معراج میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کا مشاہدہ کیا، سونے کے پروانے اس کے گرد منڈلا رہے تھے، فرشتوں کا عکس اس پر پڑ رہا تھا، اور رب کی تجلیات کا مظہر بھی وہی تھا (ابن کثیر) اس مقام پر نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو تین چیزوں سے نوازا گیا، پانچ وقت کی نمازیں، سورة بقرہ کی آخری آیات اور اس مسلمان کی مغفرت کا وعدہ جو شرک کی آلودگیوں سے پاک ہوگا۔
(آیت 16) {اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى:} سدرۃ المنتہیٰ کے مشاہدے کے وقت اس پر انوار کی بارش، فرشتوں کے ہجوم اور اس کے جلال و جمال کے منظر کی نقشہ کشی کے لیے انسان کے استعمال میں آنے والی زبانوں کی تنگ دامانی کی طرف اشارہ ہے۔ (دیکھیے طٰہٰ: ۷۸) حدیث میں اس کے متعلق چند اشارے آئے ہیں، ان میں سے ایک کا ذکر پچھلی آیت کی تفسیر میں گزر چکا ہے: [ وَ غَشِيَهَا أَلْوَانٌ لاَ أَدْرِيْ مَا هِيَ ] [ دیکھیے بخاري: ۳۴۹ ] ”اور اسے ایسے رنگوں نے ڈھانپا ہوا تھا کہ میں نہیں جانتا کہ وہ کیا تھے۔“ انس رضی اللہ عنہ نے حدیث معراج میں سدرۃ المنتہیٰ کے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ الفاظ بیان فرمائے: [فَلَمَّا غَشِيَهَا مِنْ أَمْرِ اللّٰهِ مَا غَشِيَ تَغَيَّرَتْ فَمَا أَحَدٌ مِّنْ خَلْقِ اللّٰهِ يَسْتَطِيْعُ أَنْ يَنْعَتَهَا مِنْ حُسْنِهَا فَأَوْحَی اللّٰهُ إِلَيَّ مَا أَوْحٰی] [ مسلم، الإیمان، باب الإسراء برسول اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم …: ۱۶۲ ] ”پھر جب اس کو اللہ کے حکم سے ڈھانکا جس چیز نے ڈھانکا تو اس کی حالت بدل گئی، پھر اس کا یہ حال تھا کہ اللہ کی مخلوق میں سے کوئی اس کی خوب صورتی بیان نہیں کر سکتا، اس وقت اس نے میری طرف وحی کی جو وحی کی۔“ اور عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [ «اِذْ يَغْشَى السِّدْرَةَ مَا يَغْشٰى» قَالَ فَرَاشٌ مِنْ ذَهَبٍ ] [ مسلم، الإیمان، باب في ذکر سدرۃ المنتہٰی: ۱۷۳ ] ”سدرۃ المنتہیٰ کو ڈھانک رہا تھا جو ڈھانک رہا تھا“سے مراد سونے کے پروانے ہیں۔“ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبریل علیہ السلام کو، جو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو ساتھ لے کر گئے تھے، ان کی اصل صورت میں ایک بار پھر دیکھا۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے آیت: «وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى (13) عِنْدَ سِدْرَةِ الْمُنْتَهٰى» کی تفسیر کرتے ہوئے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ رَأَيْتُ جِبْرِيْلَ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَلَهُ سِتُّ مِائَةِ جَنَاحٍ، يَنْتَثِرُ مِنْ رِيْشِهِ التَّهَاوِيْلُ الدُّرُّ وَالْيَاقُوْتُ ] [ مسند أحمد: 460/1، ح: ۴۳۹۵ ] ”میں نے جبریل صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھا، اس کے چھ سو بازو تھے اور اس کے پروں سے حیران کن رنگا رنگ موتی اور یاقوت جھڑ رہے تھے۔“ مسند کے محقق نے فرمایا: {”إِسْنَادُهُ حَسَنٌ“} کہ اس کی سند حسن ہے اور ابنِ کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: {”هٰذَا إِسْنَادٌ جَيِّدٌ قَوِيٌّ“} کہ اس کی سند جید قوی ہے۔
جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ’ جبرائیل، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ ‘ یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے ’ پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں ‘ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» ۱؎ [2-البقرة:74] ’ بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت‘ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ’ پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ ‘ ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ۱؎ [4-النساء:77] ’ وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے ‘ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ’ بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ ‘ اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» ۱؎ [37-الصفات:147] ’ ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف ‘ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ’ اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ ‘ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» ۱؎ [53-النجم:8] میں ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:286] سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔ پھر فرمایا ’ اس نے وحی کی ‘ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» ۱؎ [93-الضحى:6] اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» ۱؎ [94-الشرح:4] تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:286] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔ جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الانعام:103] ’ اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ ‘ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔۱؎ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف] نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔۱؎ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ } ۱؎ [صحیح مسلم:291] ایک روایت میں ہے { میں نے نور دیکھا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:291] ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» ۱؎ [53-النجم:11] پڑھی۔ } [ضعیف] اور روایت میں ہے { میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» ۱؎ [53-النجم:8] پڑھی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف] عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» ۱؎ [53-النجم:11] کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ } اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:285/1:صحیح] چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ { میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا } ۱؎ [مسند احمد:368/1:صحیح] اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔
ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ { جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ ۱؎ [53-النجم:8] ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الأنعام:103] ، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» ۱؎ [42-الشورى:51] کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ’ کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ ‘ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔ پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:34] آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» ۱؎ [5-المائدہ:67] پڑھی یعنی ’ اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ‘ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔۱؎ [مسند احمد:49/6:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ { مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» ۱؎ [53-النجم:7] اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» ۱؎ [81-التكوير:23] پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ } یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4855] مسند احمد میں ہے { عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ } ۱؎ [مسند احمد:147/5:صحیح] صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:186] امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ ۱؎ [صحیح مسلم:279] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ’ جو مانگنا ہو مانگو۔‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524] مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔
{ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» ۱؎ [20-طه:23] ’ اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔‘ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف]
17۔ 1 یعنی نبی کی نگاہیں دائیں بائیں ہوئیں اور نہ حد سے بلند اور متجاوز ہوئیں جو آپ کے لئے مقرر کردی گئی تھی۔ (ایسر التفاسیر)
(آیت 17) {مَا زَاغَ الْبَصَرُ وَ مَا طَغٰى: ”زَاغَ يَزِيْغُ زَيْغًا“} ٹیڑھا ہونا اور {”طَغٰي يَطْغٰي طُغْيَانًا“} حد سے بڑھنا۔ اس میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے کمالِ ادب، تحمل اور استقامت کا بیان ہے کہ جبریل علیہ السلام کو اور اللہ تعالیٰ کی دوسری آیات کبریٰ کو دیکھتے ہوئے آپ کی نگاہ انھی پر مرکوز رہی، نہ دائیں یا بائیں طرف گئی اور نہ ان سے آگے بڑھی۔
یقیناً اس نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیوں میں سے بعض نشانیاں دیکھ لیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اپنے رب کی بہت بڑی نشانیاں دیکھیں
علامہ محمد حسین نجفی
یقیناً آپ(ص) نے اپنے پروردگار کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔
عبدالسلام بن محمد
بلاشبہ یقینا اس نے اپنے رب کی بعض بہت بڑی نشانیاں دیکھیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جبرائیل علیہ السلام کا نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبب ہونا ٭٭
پھر فرماتا ہے کہ ’ جبرائیل، نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے قریب ہوئے اور زمین کی طرف اترے یہاں تک کہ نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) کے اور جبرائیل کے درمیان صرف دو کمانوں کے برابر فاصلہ رہ گیا بلکہ اس سے بھی زیادہ نزدیکی ہو گئی۔ ‘ یہاں لفظ «أَوْ» جس کی خبر دی جاتی ہے اس کے ثابت کرنے کے لیے آیا ہے اور اس پر جو زیادتی ہو اس کے نفی کے لیے۔ جیسے اور جگہ ہے ’ پھر اس کے بعد تمہارے دل سخت ہو گئے پس وہ مثل پتھروں کے ہیں ‘ «ثُمَّ قَسَتْ قُلُوبُكُمْ مِّن بَعْدِ ذلِكَ فَهِىَ كَالْحِجَارَةِ أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» ۱؎ [2-البقرة:74] ’ بلکہ اس سے بھی زیادہ سخت‘ «أَوْ أَشَدُّ قَسْوَةً» یعنی ’ پتھر سے کم کسی صورت میں نہیں بلکہ اس سے بھی سختی میں بڑھے ہوئے ہیں۔ ‘ ایک اور فرمان ہے «يَخْشَوْنَ النَّاسَ كَخَشْيَةِ اللَّهِ أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ۱؎ [4-النساء:77] ’ وہ لوگوں سے ایسا ڈرتے ہیں جیسا کہ اللہ سے ‘ «أَوْ أَشَدَّ خَشْيَةً» ’ بلکہ اس سے بھی زیادہ۔ ‘ اور جگہ ہے «وَأَرْسَلْنَـهُ إِلَى مِاْئَةِ أَلْفٍ أَوْ يَزِيدُونَ» ۱؎ [37-الصفات:147] ’ ہم نے انہیں ایک لاکھ کی طرف بھیجا بلکہ زیادہ کی طرف ‘ یعنی وہ ایک لاکھ سے کم تو تھے ہی نہیں بلکہ حقیقتًا وہ ایک لاکھ تھے یا «أَوْ يَزِيدُونَ» ’ اس سے زیادہ ہی زیادہ۔ ‘ پس اپنی خبر کی تحقیق ہے شک و تردّد کے لیے نہیں۔ خبر میں اللہ کی طرف سے شک کے ساتھ بیان نہیں ہو سکتا۔ یہ قریب آنے والے جبرائیل علیہ السلام تھے جیسے ام المؤمنین عائشہ، ابن مسعود، ابوذر ابوہریرہ رضوان اللہ علیہم اجمعین کا فرمان ہے اور اس بابت کی حدیثیں بھی عنقریب ہم وارد کریں گے ان شاءاللہ تعالیٰ۔
صحیح مسلم میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا جن میں سے ایک کا بیان اس آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» ۱؎ [53-النجم:8] میں ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:286] سیدنا انس رضی اللہ عنہ والی معراج کی حدیث میں ہے پھر اللہ تعالیٰ رب العزت قریب ہوا اور نیچے آیا اور اسی لیے محدثین نے اس میں کلام کیا ہے اور کئی ایک غرابتیں ثابت کی ہیں اور اگر ثابت ہو جائے کہ یہ صحیح ہے تو بھی دوسرے وقت اور دوسرے واقعہ پر محمول ہو گی اس آیت کی تفسیر نہیں کہی جا سکتی۔ یہ واقعہ تو اس وقت کا ہے جبکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم زمین پر تھے نہ کہ معراج والی رات کا۔ کیونکہ اس کے بیان کے بعد ہی فرمایا ہے ہمارے نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے ایک مرتبہ اور بھی سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھا ہے۔ پس یہ سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دیکھنا تو واقعہ معراج کا ذکر ہے اور پہلی مرتبہ کا دیکھنا یہ زمین پر تھا۔ سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے جبرائیل کو دیکھا ان کے چھ سو پر تھے۔“ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:508/11:]
ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی ابتداء نبوت کے وقت آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے خواب میں جبرائیل علیہ السلام کو دیکھا، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی ضروری حاجت سے فارغ ہونے کے لیے نکلے تو سنا کہ کوئی آپ کا نام لے کر آپ کو پکار رہا ہے ہر چند دائیں بائیں دیکھا لیکن کوئی نظر نہ آیا، تین مرتبہ ایسا ہی ہوا۔ تیسری بار آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اوپر کی طرف دیکھا، تو دیکھا کہ جبرائیل علیہ السلام اپنے دونوں پاؤں میں سے ایک کو دوسرے سمیت موڑے ہوئے آسمان کے کناروں کو روکے ہیں، قریب تھا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم دہشت زدہ ہو جائیں کہ فرشتے نے کہا: میں جبرائیل ہوں، میں جبرائیل ہوں ڈرو نہیں، لیکن نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ضبط نہ ہو سکا، بھاگ کر لوگوں میں چلے آئے، اب جو نظریں ڈالیں تو کچھ دکھائی نہ دیا، پھر یہاں سے نکل کر باہر گئے اور آسمان کی طرف نظر ڈالی تو پھر جبرائیل علیہ السلام اسی طرح نظر آئے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم پھر خوف زدہ لوگوں کے مجمع میں آ گئے تو یہاں کچھ بھی نہیں باہر نکل کر پھر جو دیکھا تو وہی سماں نظر آیا، پس اسی کا ذکر ان آیتوں میں ہے۔ «قَابَ» آدھی انگلی کو بھی کہتے ہیں اور بعض کہتے ہیں صرف دو ہاتھ کا فاصلہ رہ گیا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32448:ضعیف] ایک اور روایت میں ہے کہ اس وقت جبرائیل علیہ السلام پر دو ریشمی حلے تھے۔ پھر فرمایا ’ اس نے وحی کی ‘ اس سے مراد یا تو یہ ہے کہ جبرائیل علیہ السلام نے اللہ کے بندے اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف وحی کی یا یہ کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے بندے کی طرف جبرائیل کی معرفت اپنی وحی نازل فرمائی۔ دونوں معنی صحیح ہیں۔ سعید بن جبیر فرماتے ہیں اس وقت کی وحی آیت «اَلَمْ يَجِدْكَ يَتِيْمًـا فَاٰوٰى» ۱؎ [93-الضحى:6] اور آیت «وَرَفَعْنَا لَكَ ذِكْرَكَ» ۱؎ [94-الشرح:4] تھی اور حضرات سے مروی ہے کہ اس وقت یہ وحی نازل ہوئی تھی کہ نبیوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس میں نہ جائیں اور امتوں پر جنت حرام ہے، جب تک کہ پہلے اس کی امت داخل نہ ہو جائے۔
سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے اللہ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:286] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ نے دیکھنے کو مطلق رکھا ہے یعنی خواہ دل کا دیکھنا ہو، خواہ ظاہری آنکھوں کا یہ ممکن ہے کہ اس مطلق کو بھی مقید پر محمول کریں یعنی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیکھا۔ جن بعض حضرات نے کہا ہے کہ اپنی ان آنکھوں سے دیکھا انہوں نے ایک غریب قول کہا ہے، اس لیے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم سے اس بارے میں کوئی چیز صحت کے ساتھ مروی نہیں۔ امام بغوی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ایک جماعت اس طرف گئی ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی آنکھوں سے دیکھا، جیسے انس رضی اللہ عنہ، حسن اور عکرمہ رحمہم اللہ ان کے اس قول میں نظر ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»
ترمذی میں سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا۔ عکرمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں، میں نے یہ سن کر کہا: پھر یہ آیت کہاں جائے گی جس میں فرمان ہے «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الانعام:103] ’ اسے کوئی نگاہ نہیں پا سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے۔ ‘ آپ نے جواب دیا کہ یہ اس وقت ہے جبکہ وہ اپنے نور کی پوری تجلی کرے ورنہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو دفعہ اپنے رب کو دیکھا۔۱؎ [سنن ترمذي:3279،قال الشيخ الألباني:ضعیف] یہ حدیث غریب ہے۔ ترمذی کی اور روایت میں ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کی ملاقات سیدنا کعب رضی اللہ عنہ سے ہوئی اور انہیں پہچان کر ان سے ایک سوال کیا جو ان پر بہت گراں گزرا۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما نے فرمایا: ہمیں بنو ہاشم نے یہ خبر دی ہے تو کعب رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ نے اپنا دیدار اور اپنا کلام محمد صلی اللہ علیہ وسلم اور موسیٰ علیہ السلام کے درمیان تقسیم کر دیا، موسیٰ علیہ السلام سے دو مرتبہ باتیں کیں اور نبی کریم کو دو مرتبہ اپنا دیدار کرایا۔ ایک مرتبہ مسروق رحمہ اللہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس گئے اور پوچھا کہ کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ آپ نے فرمایا: تو نے تو ایسی بات کہہ دی کہ جس سے میرے رونگٹے کھڑے ہو گئے، میں نے کہا: مائی صاحبہ قرآن کریم فرماتا ہے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کی نشانیاں دیکھیں آپ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: کہاں جا رہے ہو؟ سنو اس سے مراد جبرائیل علیہ السلام کا دیکھنا ہے جو تم سے کہے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کے کسی فرمان کو چھپا لیا یا آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان پانچ باتوں میں سے کوئی بات جانتے تھے یعنی قیامت کب قائم ہو گی؟ بارش کب اور کتنی برسے گی؟ ماں کے پیٹ میں نر ہے یا مادہ؟ کون کل کیا کرے گا؟ کون کہاں مرے گا؟ اس نے بڑی جھوٹ بات کہی اور اللہ پر بہتان باندھا، بات یہ ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دو مرتبہ اللہ کے اس جبرائیل امین علیہ السلام کو دیکھا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے ایک تو سدرۃ المنتہیٰ کے پاس اور ایک مرتبہ جیاد میں ان کے چھ سو پر تھے اور آسمان کے کل کنارے انہوں نے بھر رکھے تھے۔ [سنن ترمذي:3278،قال الشيخ الألباني:ضعیف] نسائی میں سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے روایت ہے کہ کیا تمہیں تعجب معلوم ہوتا ہے کہ خلت ابراہیم علیہ السلام کے لیے تھی اور کلام موسی علیہ السلام کے لیے اور دیدار محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے لیے۔۱؎ [سنن نسائی:11539،قال الشيخ الألباني:صحیح]
صحیح مسلم میں سیدنا ابو ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ { میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا کیا آپ نے اپنے رب کو دیکھا ہے؟ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ سراسر نور ہے، میں اسے کیسے دیکھ سکتا ہوں؟“ } ۱؎ [صحیح مسلم:291] ایک روایت میں ہے { میں نے نور دیکھا۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:291] ابن ابی حاتم میں ہے کہ صحابہ رضی اللہ عنہم کے اس سوال کے جواب میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے دل سے اپنے رب کو دو دفعہ دیکھا ہے“ پھر آپ نے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» ۱؎ [53-النجم:11] پڑھی۔ } [ضعیف] اور روایت میں ہے { میں نے اپنی ان آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں دل سے دو دفعہ دیکھا ہے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» ۱؎ [53-النجم:8] پڑھی۔ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32452:ضعیف] عکرمہ رحمہ اللہ سے آیت «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» ۱؎ [53-النجم:11] کی بابت سوال ہوا تو آپ نے فرمایا: ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیکھا اور پھر دیکھا۔ سائل نے پھر حسن رحمہ اللہ سے بھی سوال کیا تو آپ نے فرمایا: اس کے جلال عظمت اور چادر کبریائی کو دیکھا۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک مرتبہ یہ جواب دینا بھی مروی ہے کہ میں نے نہر دیکھی اور نہر کے پیچھے پردہ دیکھا اور پردے کے پیچھے نور دیکھا اس کے سوا میں نے کچھ نہیں دیکھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن ابی حاتم:258/12:ضعیف و مرسل] یہ حدیث بھی بہت غریب ہے۔ ایک حدیث مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”میں نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے۔“ } اس کی اسناد شرط صحیح پر ہے لیکن یہ حدیث حدیث خواب کا مختصر ٹکڑا ہے۔ ۱؎ [مسند احمد:285/1:صحیح] چنانچہ مطول حدیث میں ہے کہ { میرے پاس میرا رب بہت اچھی صورت میں آج کی رات آیا (راوی کہتا ہے میرے خیال میں) خواب میں آیا اور فرمایا: اے محمد! جانتے ہو بلند مقام والے فرشتے کس مسئلہ پر گفتگو کر رہے ہیں؟ میں نے کہا: نہیں پس اللہ تعالیٰ نے اپنا ہاتھ میرے دو بازوؤں کے درمیان رکھا جس کی ٹھنڈک مجھے میرے سینے میں محسوس ہوئی، پس زمین و آسمان کی ہر چیز مجھے معلوم ہو گئی، پھر مجھ سے وہی سوال کیا، میں نے کہا اب مجھے معلوم ہو گیا، وہ ان نیکیوں کے بارے میں جو گناہوں کا کفارہ بن جاتی ہیں اور جو درجے بڑھاتی ہیں، آپس میں پوچھ گچھ کر رہے ہیں، مجھ سے حق جل شانہ نے پوچھا: اچھا پھر تم بھی بتاؤ، کفارے کی نیکیاں کیا کیا ہیں؟ میں نے کہا نمازوں کے بعد میں، مسجدوں میں رکے رہنا، جماعت کے لیے چل کر آنا۔ جب وضو ناگوار گزرتا ہو اچھی طرح مل مل کر وضو کرنا۔ جو ایسا کرے گا وہ بھلائی کے ساتھ زندگی گزارے گا اور خیر کے ساتھ انتقال ہو گا اور گناہوں سے اس طرح الگ ہو جائے گا جیسے آج دنیا میں آیا۔ اس وقت اللہ تعالیٰ نے مجھ سے فرمایا: اے محمد! جب نماز پڑھو یہ کہو «اللَّهُمَّ إِنِّي أَسْأَلُكَ فِعْلَ الْخَيْرَاتِ، وَتَرْكَ الْمُنْكَرَاتِ، وَحُبَّ الْمَسَاكِينِ، وَأَنْ تَغْفِرَ لِي، وَتَرْحَمَنِي، وَإِذَا أَرَدْتَ فِتْنَةَ قَوْمٍ فَتَوَفَّنِي غَيْرَ مَفْتُونٍ» یعنی یا اللہ! میں تجھ سے نیکیوں کے کرنے برائیوں کے چھوڑنے مسکینوں سے محبت رکھنے کی توفیق طلب کرتا ہوں، تو جب اپنے بندوں کو فتنے میں ڈالنا چاہے، تو مجھے فتنے میں پڑنے سے پہلے ہی اپنی طرف اٹھا لینا، فرمایا اور درجے بڑھانے والے اعمال یہ ہیں، کھانا کھلانا، سلام پھیلانا، لوگوں کی نیند کے وقت رات کو تہجد کی نماز پڑھنا } ۱؎ [مسند احمد:368/1:صحیح] اسی کی مثل روایت سورۃ ص مکی کی تفسیر کے خاتمے پر گزر چکی ہے۔
ابن جریر میں یہ روایت دوسری سند سے مروی ہے جس میں غربت والی زیادتی اور بھی بہت سی ہے اس میں کفارے کے بیان میں ہے کہ { جمعہ کی نماز کے لیے پیدل چلنے کے قدم، ایک نماز کے بعد دوسری نماز کا انتظار، میں نے کہا: یا اللہ! تو نے ابراہیم علیہ السلام کو اپنا خلیل بنایا اور موسیٰ علیہ السلام کو اپنا کلیم بنایا اور یہ کیا۔ پس اللہ تعالیٰ نے فرمایا: میں نے تیرا سینہ کھول نہیں دیا اور تیرا بوجھ ہٹا نہیں دیا؟ اور فلاں اور فلاں احسان تیرے اوپر نہیں کئے؟ اور دیگر ایسے ایسے احسان بتائے کہ تمہارے سامنے ان کے بیان کی مجھے اجازت نہیں۔ اسی کا بیان ان آیتوں «ثُمَّ دَنَا فَتَدَلّٰى» الخ ۱؎ [53-النجم:8] ، میں ہے پس اللہ تعالیٰ نے میری آنکھوں کا نور میرے دل میں پیدا کر دیا اور میں نے اللہ تعالیٰ کو اپنے دل سے دیکھا۔} ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:12463:ضعیف] اس کی اسناد ضعیف ہے۔ اوپر عتبہ بن ابولہب کا یہ کہنا کہ ”میں اس قریب آنے اور نزدیک ہونے والے کو نہیں مانتا“ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس کے لیے بد دعا کرنا اور شیر کا اسے پھاڑ کھانا بیان ہو چکا ہے۔ یہ واقعہ زرقا میں یا سراۃ میں ہوا تھا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی فرما دی تھی کہ یہ اس طرح ہلاک ہو گا۔ پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو دوبارہ دیکھنا بیان ہو رہا ہے جو معراج والی رات کا واقعہ ہے۔ معراج کی حدیثیں نہایت تفصیل کے ساتھ سورۃ سبحٰان کی شروع آیت کی تفسیر میں گزر چکی ہیں جن کے دوبارہ یہاں وارد کرنے کی ضرورت نہیں۔ یہ بھی بیان گزر چکا ہے کہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما معراج والی رات دیدار باری تعالیٰ کے ہونے کے قائل ہیں۔ ایک جماعت سلف و خلف کا قول بھی یہی ہے اور صحابہ رضی اللہ عنہم کی بہت سی جماعتیں اس کے خلاف ہیں اسی طرح تابعین اور دوسرے بھی اس کے خلاف ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جبرائیل علیہ السلام کو پروں سمیت دیکھنا وغیرہ اس قسم کی روایتیں اوپر گزر چکی ہیں۔ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مسروق رضی اللہ عنہ کا پوچھنا اور آپ رضی اللہ عنہا کا جواب بھی ابھی بیان ہوا ہے۔ ایک روایت میں ہے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا اپنے اس جواب کے بعد آیت «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ ۡ وَهُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَهُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» ۱؎ [6-الأنعام:103] ، کی تلاوت کی اور آیت «وَمَا كَانَ لِبَشَرٍ أَن يُكَلِّمَهُ اللَّـهُ إِلَّا وَحْيًا أَوْ مِن وَرَاءِ حِجَابٍ» ۱؎ [42-الشورى:51] کی بھی تلاوت فرمائی یعنی ’ کوئی آنکھ اسے نہیں دیکھ سکتی اور وہ سب نگاہوں کو پا لیتا ہے کسی انسان سے اللہ کا کلام کرنا ممکن نہیں۔ ‘ ہاں وحی سے یا پردے کے پیچھے سے ہو تو اور بات ہے۔ پھر فرمایا جو تم سے کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو کل کی بات کا علم تھا اس نے غلط اور جھوٹ کہا، پھر آیت «إِنَّ اللَّـهَ عِندَهُ عِلْمُ السَّاعَةِ وَيُنَزِّلُ الْغَيْثَ وَيَعْلَمُ مَا فِي الْأَرْحَامِ وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ مَّاذَا تَكْسِبُ غَدًا وَمَا تَدْرِي نَفْسٌ بِأَيِّ أَرْضٍ تَمُوتُ إِنَّ اللَّـهَ عَلِيمٌ خَبِيرٌ» ۱؎ [31-لقمان:34] آخر تک پڑھی۔ اور فرمایا جو کہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی کسی بات کو چھپا لیا اس نے بھی جھوٹ کہا اور تہمت باندھی اور پھر آیت «يَا أَيُّهَا الرَّسُولُ بَلِّغْ مَا أُنزِلَ إِلَيْكَ مِن رَّبِّكَ» ۱؎ [5-المائدہ:67] پڑھی یعنی ’ اے رسول! جو تمہاری جانب تمہارے رب کی طرف نازل کیا گیا ہے اسے پہنچا دو۔ ‘ ہاں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جبرائیل علیہ السلام کو ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔۱؎ [مسند احمد:49/6:صحیح]
مسند احمد میں ہے کہ { مسروق رضی اللہ عنہ نے ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے سامنے سورۃ النجم کی آیت «وَهُوَ بالْاُفُقِ الْاَعْلٰى» ۱؎ [53-النجم:7] اور «وَلَقَدْ رَآهُ بِالْأُفُقِ الْمُبِينِ» ۱؎ [81-التكوير:23] پڑھیں اس کے جواب میں ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: ”اس امت میں سب سے پہلے ان آیتوں کے متعلق خود نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سوال کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اس سے مراد میرا جبرائیل علیہ السلام کو دیکھنا ہے۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے صرف دو دفعہ اس امین اللہ کو ان کی اصلی صورت میں دیکھا ہے، ایک مرتبہ آسمان سے زمین پر آتے ہوئے اس وقت تمام خلاء ان کے جسم سے پر تھا۔“ } یہ حدیث بخاری و مسلم میں بھی ہے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4855] مسند احمد میں ہے { عبداللہ بن شفیق نے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے کہا کہ ”اگر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دیکھتا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک بات ضرور پوچھتا۔ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے کہا: ”کیا پوچھتے؟“ کہا: ”یہ کہ آپ نے اپنے رب عزوجل کو دیکھا ہے؟“ سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: ”یہ سوال تو خود میں نے جناب رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے جواب دیا کہ ”میں نے اسے نور دیکھا وہ تو نور ہے میں اسے کیسے دیکھ سکتا؟“ } ۱؎ [مسند احمد:147/5:صحیح] صحیح مسلم میں بھی یہ حدیث دو سندوں سے مروی ہے دونوں کے الفاظ میں کچھ ہیر پھیر ہے۔ ۱؎ [صحیح مسلم:186] امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں نہیں سمجھ سکتا کہ اس حدیث کی کیا توجیہ کروں دل اس پر مطمئن نہیں۔ ابن ابی حاتم میں سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ سے منقول ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے دل سے دیدار کیا ہے آنکھوں سے نہیں۔“
امام ابن خزیمہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں عبداللہ بن شفیق رحمہ اللہ اور سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کے درمیان انقطاع ہے، اور امام ابن جوزی رحمہ اللہ فرماتے ہیں ممکن ہے سیدنا ابوذر رضی اللہ عنہ کا یہ سوال معراج کے واقعہ سے پہلے کا ہو اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس وقت یہ جواب دیا ہو۔ اگر یہ سوال معراج کے بعد آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کیا جاتا تو ضرور آپ اس کے جواب میں ہاں فرماتے انکار نہ کرتے۔ لیکن یہ قول سرتاپا ضعیف ہے اس لیے کہ ام المؤمنین سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کا سوال قطعاً معراج کے بعد تھا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا جواب اس وقت بھی انکار میں ہی رہا۔ بعض حضرات نے فرمایا کہ ان سے خطاب ان کی عقل کے مطابق کیا گیا یا یہ کہ ان کا یہ خیال غلط ہے چنانچہ ابن خزیمہ نے کتاب التوحید میں یہی لکھا ہے دراصل یہ محض خطا ہے اور بالکل غلطی ہے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» سیدنا انس اور سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ”نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دل سے تو دیکھا ہے لیکن اپنی آنکھوں سے نہیں دیکھا، ہاں جبرائیل علیہ السلام کو اپنی آنکھوں سے ان کی اصلی صورت میں دو مرتبہ دیکھا ہے۔ سدرۃ المنتہیٰ پر اس وقت فرشتے بکثرت تھے اور نور ربانی اس پر جگمگا رہا تھا اور قسم قسم کے رنگ جنہیں سوائے اللہ تعالیٰ کے اور کوئی نہیں جان سکتا۔“ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں معراج والی رات نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سدرۃ المنتہیٰ تک پہنچے جو ساتویں آسمان پر ہے، زمین سے جو چیزیں چڑھتی ہیں وہ یہیں تک چڑھتی ہیں، پھر یہاں سے اٹھا لی جاتی ہیں اسی طرح جو چیزیں اللہ کی طرف سے نازل ہوتی ہیں یہیں تک پہنچتی ہیں پھر یہاں سے پہنچائی جاتی ہیں اس وقت اس درخت پر سونے کی ٹڈیاں لدی ہوئی تھیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو وہاں تین چیزیں عطا فرمائی گئیں پانچوں وقت کی نمازیں سورۃ البقرہ کی خاتمہ کی آیتیں اور آپ کی امت میں سے جو مشرک نہ ہو اس کے گناہوں کی بخشش۔ ۱؎ [صحیح مسلم:279] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے یا کسی اور صحابی سے روایت ہے کہ جس طرح کوے کسی درخت کو گھیر لیتے ہیں، اسی طرح اس وقت سدرۃ المنتہیٰ پر فرشتے چھا رہے تھے، وہاں جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پہنچے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا گیا کہ ’ جو مانگنا ہو مانگو۔‘ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32524] مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اس درخت کی شاخیں مروارید، یاقوت اور زبرجد کی تھیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے دیکھا اور اپنے دل کی آنکھوں سے اللہ کی بھی زیارت کی۔
{ ابن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال ہوا کہ آپ نے سدرہ پر کیا دیکھا؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اسے سونے کی ٹڈیاں ڈھانکے ہوئے تھیں اور ہر ایک پتے پر ایک ایک فرشتہ کھڑا ہوا اللہ کی تسبیح کر رہا تھا۔“ } ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32519] آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی نگاہیں دائیں بائیں نہیں ہوئیں جس چیز کے دیکھنے کا حکم تھا وہیں لگی رہیں۔ ثابت قدمی اور کامل اطاعت کی یہ پوری دلیل ہے کہ جو حکم تھا وہی بجا لائے، جو دئیے گئے وہی لے کر خوش ہوئے، اسی کو ایک ناظم نے تعریفاً کہا ہے۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ کی بڑی بڑی نشانیاں ملاحظہ فرمائیں جیسے اور جگہ ہے «لِنُرِيَكَ مِنْ اٰيٰتِنَا الْكُبْرٰى» ۱؎ [20-طه:23] ’ اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی بڑی نشانیاں دکھائیں جو ہماری کامل قدرت اور زبردست عظمت پر دلیل بن جائیں۔‘ ان دونوں آیتوں کو دلیل بنا کر اہل سنت کا مذہب ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس رات اللہ کا دیدار اپنی آنکھوں سے نہیں کیا کیونکہ ارشاد باری ہے کہ آپ نے اپنے رب کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں، اگر خود اللہ کا دیدار ہوا ہوتا، تو اسی دیدار کا ذکر ہوتا اور لوگوں پر سے اسے ظاہر کیا جاتا۔ سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ کا قول گزر چکا ہے کہ ایک مرتبہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی خواہش پر دوسری دفعہ آسمان پر چڑھتے وقت جبرائیل علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اصلی صورت میں دیکھا۔ پس جبکہ جبرائیل علیہ السلام نے اپنے رب عزوجل کو خبر دی اپنی اصلی صورت میں عود کر گئے اور سجدہ ادا کیا، پس سدرۃ المنتہیٰ کے پاس دوبارہ دیکھنے سے انہی کا دیکھنا مراد ہے یہ روایت مسند احمد میں ہے اور غریب ہے۔ [مسند احمد:407/1:ضعیف]
18۔ 1 جن میں جبرائیل ؑ اور سدرۃ المنتہیٰ کا دیکھنا اور دیگر مظاہر قدرت کا مشاہدہ ہے جس کی کچھ تفصیل احادیث معراج میں بیان کی گئی ہے۔
(آیت 18) ➊ { لَقَدْ رَاٰى مِنْ اٰيٰتِ رَبِّهِ الْكُبْرٰى:” مِنْ “} تبعیض کے لیے ہے، یعنی قسم ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر اپنے رب کی بعض بہت بڑی نشانیاں دیکھیں۔ ان بہت بڑی نشانیوں میں سب سے پہلی نشانی تو جبریل علیہ السلام ہیں، جنھیں دو دفعہ دیکھنے کے ذکر کے لیے یہ آیات نازل ہوئیں، اس کے علاوہ احادیثِ معراج میں اور بہت سی نشانیوں کا ذکر ہے جنھیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس موقع پر دیکھا۔ ان میں براق، ساتوں آسمانوں کے عجائبات اور ان پر انبیائے کرام کی ملاقات، دجال، سدرۃ المنتہیٰ، جنت و جہنم، جہنم کا خازن مالک، نہر کوثر، بیت المعمور، چار دریا، وہ (مستوی) بلند ہموار جگہ جس پر چڑھے تو قلموں کے چلنے کی آوازیں سنیں اور دوسری نشانیاں شامل ہیں، اختصار کے پیشِ نظر ان کی تفصیل ترک کی جاتی ہے۔ ➋ یہ آیت واضح دلیل ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے معراج کی رات اللہ تعالیٰ کو نہیں دیکھا، کیونکہ اگر ایسا ہوتا تو اللہ تعالیٰ {” لَقَدْ “} کے تاکیدی الفاظ کے ساتھ یہ نہ فرماتے کہ ”بلاشبہ یقینا اس نے اپنے رب کی بعض بہت بڑی نشانیاں دیکھیں“ بلکہ یہ فرماتے کہ ”بلاشبہ یقینا اس نے اپنے ربِ اعلیٰ کو دیکھا۔“ ➌ جیسا کہ پیچھے گزرا ہے کہ {” شَدِيْدُ الْقُوٰى “} اور {” ذُوْ مِرَّةٍ “} سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں اور {” دَنَا فَتَدَلّٰى “} اور {” فَكَانَ قَابَ قَوْسَيْنِ “} کی ضمیر غائب سے بھی وہی مراد ہیں اور {” وَ لَقَدْ رَاٰهُ “} میں ضمیر{”هُ “} سے مراد بھی جبریل علیہ السلام ہیں۔ قرآن مجید سے اس کی تائید اور صحیح روایات سے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کی تفسیر بھی گزر چکی ہے۔ صحیح مسلم میں ابوہریرہ رضی اللہ عنہ اور عائشہ رضی اللہ عنھا سے بھی یہی تفسیر مروی ہے۔ [ دیکھیے مسلم، الإیمان، باب معنی قول اللّٰہ عزوجل: «ولقد راٰہ نزلۃ أخری» : ۱۷۵،۱۷۷ ] مگر بعض مفسرین نے ان الفاظ اور ضمیروں کا مصداق اللہ تعالیٰ کو قرار دیا ہے، ان کا کہنا ہے کہ ان آیات کا مطلب یہ ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو دو دفعہ دیکھا ہے۔ اس کی تائید میں انھوں نے ابنِ عباس رضی اللہ عنھما کا قول پیش کیا ہے: [ عَنْ أَبِي الْعَالِيَةِ عَنِ ابْنِ عَبَّاسٍ قَالَ: «مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى» ، «وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى» قَالَ رَآهُ بِفُؤَادِهِ مَرَّتَيْنِ ] [ مسلم، الإیمان، باب معنی قول اللّٰہ عزوجل: «ولقد راٰہ نزلۃ أخرٰی» …: ۱۷۶ ] ”ابو العالیہ نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے {” مَا كَذَبَ الْفُؤَادُ مَا رَاٰى “} اور {” وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى “} کی تفسیر میں فرمایا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے دل کے ساتھ دوبار دیکھا۔ “ اس میں شک نہیں کہ آیات کے الفاظ میں ابنِ عباس رضی اللہ عنھما والی تفسیر کی گنجائش موجود ہے، مگر صحیح مسلم میں عائشہ رضی اللہ عنھا سے مروی ہے کہ خود رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ اس سے مراد جبریل علیہ السلام ہیں۔ ظاہر ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صراحت کے بعد کسی اور تفسیر کا اعتبار نہیں کیا جا سکتا۔ اب آپ حدیث کے الفاظ ملاحظہ فرمائیں، مسروق کہتے ہیں کہ میں عائشہ رضی اللہ عنھا کے ہاں ٹیک لگا کر بیٹھا ہوا تھا، انھوں نے فرمایا: [ يَا أَبَا عَائِشَةَ! ثَلاَثٌ مَنْ تَكَلَّمَ بِوَاحِدَةٍ مِّنْهُنَّ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَی اللّٰهِ الْفِرْيَةَ، قُلْتُ مَا هُنَّ؟ قَالَتْ مَنْ زَعَمَ أَنَّ مُحَمَّدًا صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ رَاٰی رَبَّهُ فَقَدْ أَعْظَمَ عَلَی اللّٰهِ الْفِرْيَةَ، قَالَ وَكُنْتُ مُتَّكِئًا فَجَلَسْتُ فَقُلْتُ يَا أُمَّ الْمُؤْمِنِيْنَ! أَنْظِرِيْنِيْ وَلَا تَعْجَلِيْنِيْ أَلَمْ يَقُلِ اللّٰهُ عَزَّ وَجَلَّ: «وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِيْنِ» [ التكوير: ۲۳] «وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى» [ النجم: ۱۳] فَقَالَتْ أَنَا أَوَّلُ هٰذِهِ الْأُمَّةِ سَأَلَ عَنْ ذٰلِكَ رَسُوْلَ اللّٰهِ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَقَالَ إِنَّمَا هُوَ جِبْرِيْلُ لَمْ أَرَهُ عَلٰی صُوْرَتِهِ الَّتِيْ خُلِقَ عَلَيْهَا غَيْرَ هَاتَيْنِ الْمَرَّتَيْنِ، رَأَيْتُهُ مُنْهَبِطًا مِنَ السَّمَاءِ سَادًّا عِظَمُ خَلْقِهِ مَا بَيْنَ السَّمَاءِ إِلَی الْأَرْضِ، فَقَالَتْ أَوَ لَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللّٰهَ يَقُوْلُ: «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَ هُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [ الأنعام: ۱۰۳] أَوَ لَمْ تَسْمَعْ أَنَّ اللَّهَ يَقُوْلُ: «وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيَ بِاِذْنِهٖ مَا يَشَآءُ اِنَّهٗ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ» [ الشورٰي: ۵۱ ] ] [ مسلم، الإیمان، باب معنی قولہ: «ولقد راٰہ نزلۃ أخری» : ۱۷۷ ] ”اے ابو عائشہ! تین باتیں ایسی ہیں کہ جو ان میں سے ایک بات بھی کہے اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔“ میں نے کہا: ”وہ کیا ہیں؟“ انھوں نے فرمایا: ”جو شخص یہ گمان کرے کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنے رب کو دیکھا ہے، اس نے اللہ پر بہت بڑا بہتان باندھا۔“ مسروق کہتے ہیں، میں ٹیک لگائے ہوئے تھا، یہ سن کر سیدھا ہو کر بیٹھ گیا اور میں نے کہا: ”ام المومنین! مجھے کچھ مہلت دیں، جلدی نہ کریں، کیا اللہ عز و جل نے یہ نہیں فرمایا: «وَ لَقَدْ رَاٰهُ بِالْاُفُقِ الْمُبِيْنِ» [ التکویر: ۲۳ ] ”اور بلاشبہ یقینا اس نے اس کو (آسمان کے) روشن کنارے پر دیکھا ہے۔“ اور فرمایا: «وَ لَقَدْ رَاٰهُ نَزْلَةً اُخْرٰى» ”حالانکہ بلاشبہ یقینا اس نے اسے ایک اور بار اترتے ہوئے بھی دیکھا ہے۔“ تو انھوں نے فرمایا: ”اس امت میں جس نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے اس کے متعلق سب سے پہلے پوچھا وہ میں ہوں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ تو جبریل علیہ السلام ہیں، میں نے انھیں ان کی اس صورت میں، جس میں انھیں پیدا کیا گیا ہے، ان دو مرتبہ کے سوا نہیں دیکھا۔ میں نے انھیں آسمان سے اترتے ہوئے دیکھا، ان کے عظیم وجود نے آسمان و زمین کے مابین کو پُر کر رکھا تھا۔“ پھر ام المومنین رضی اللہ عنھا نے فرمایا: ”کیا تم نے نہیں سنا، اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: «لَا تُدْرِكُهُ الْاَبْصَارُ وَ هُوَ يُدْرِكُ الْاَبْصَارَ وَ هُوَ اللَّطِيْفُ الْخَبِيْرُ» [ الأنعام: ۱۰۳ ] ”اسے نگاہیں نہیں پاتیں اور وہ سب نگاہوں کو پاتا ہے اور وہی نہایت باریک بین، سب خبر رکھنے والا ہے۔“ اور کیا تم نے سنا نہیں کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: «وَ مَا كَانَ لِبَشَرٍ اَنْ يُّكَلِّمَهُ اللّٰهُ اِلَّا وَحْيًا اَوْ مِنْ وَّرَآئِ حِجَابٍ اَوْ يُرْسِلَ رَسُوْلًا فَيُوْحِيَ بِاِذْنِهٖ مَا يَشَآءُ اِنَّهٗ عَلِيٌّ حَكِيْمٌ» [ الشورٰی: ۵۱ ] ”اور کسی بشر کے لیے ممکن نہیں کہ اللہ اس سے کلام کرے مگر وحی کے ذریعے یا پردے کے پیچھے سے، یا یہ کہ وہ کوئی رسول بھیجے، پھر اپنے حکم کے ساتھ وحی کرے جو چاہے، بے شک وہ بے حد بلند، کمال حکمت والا ہے۔“ ابنِ کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا: ”ابنِ عباس رضی اللہ عنھما سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو دل سے دیکھنا مروی ہے، ایک روایت میں مطلق دیکھنے کا بھی ذکر ہے مگر اس سے مراد بھی دل سے دیکھنا ہی ہے اور جنھوں نے ان سے آنکھوں کے ساتھ دیکھنا روایت کیا ہے انھوں نے غریب بات کی ہے، کیونکہ اس (آنکھوں کے ساتھ دیکھنے) کے بارے میں صحابہ کرام رضی اللہ عنھم سے کوئی چیز ثابت نہیں اور بغوی نے اپنی تفسیر میں جو فرمایا ہے کہ ایک جماعت کا کہنا ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اللہ تعالیٰ کو آنکھوں کے ساتھ دیکھا ہے اور یہ انس، حسن اور عکرمہ کا قول ہے، تو بغوی کی اس بات میں نظر ہے۔“ (ابن کثیر) المختصر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ کو آنکھوں سے دیکھنا کسی صحابی سے صحیح سند کے ساتھ مروی نہیں۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے دل کے ساتھ دیکھنے کی جو بات کی ہے اگر ان آیات کے پیشِ نظر کی ہے تو وہ درست نہیں، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تصریح کے خلاف ہے۔ ہاں، نیند کی حالت میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اللہ تعالیٰ کو دیکھنا صحیح سندوں کے ساتھ ثابت ہے اور یہ دیکھنا دل ہی کے ساتھ تھا، کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَا عَائِشَةُ! إِنَّ عَيْنَيَّ تَنَامَانِ وَلاَ يَنَامُ قَلْبِيْ ] [ بخاري، صلاۃ التراویح، باب فضل من قام رمضان: ۲۰۱۳ ] ”اے عائشہ! میری آنکھیں سوتی ہیں اور میرا دل نہیں سوتا۔“ یہاں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا حالتِ نیند میں اللہ تعالیٰ کو دیکھنے سے متعلق ایک حدیث درج کی جاتی ہے، معاذ بن جبل رضی اللہ عنہ کہتے ہیں: ”ایک دن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم صبح کی نماز کے لیے ہمارے پاس آنے سے رکے رہے، یہاں تک کہ قریب تھا کہ ہم سورج کی ٹکیہ کو دیکھ لیں، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم جلدی کے ساتھ آئے، نماز کی اقامت کہی گئی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے نماز پڑھائی اور نماز میں اختصار فرمایا۔ جب سلام پھیرا تو ہمیں اونچی آواز کے ساتھ فرمایا: ”اپنی اپنی صفوں میں بیٹھے رہو۔“ پھر فرمایا: [ أَمَا إِنِّيْ سَأُحَدِّثُكُمْ مَا حَبَسَنِيْ عَنْكُمُ الْغَدَاةَ، إِنِّيْ قُمْتُ مِنَ اللَّيْلِ فَتَوَضَّأْتُ وَصَلَّيْتُ مَا قُدِّرَ لِيْ فَنَعَسْتُ فِيْ صَلاَتِيْ حَتَّی اسْتَثْقَلْتُ فَإِذَا أَنَا بِرَبِّيْ تَبَارَكَ وَ تَعَالٰی فِيْ أَحْسَنِ صُوْرَةٍ فَقَالَ يَا مُحَمَّدُ! قُلْتُ لَبَّيْكَ رَبِّ! قَالَ فِيْمَ يَخْتَصِمُ الْمَلَأُ الْأَعْلٰی؟ قُلْتُ لاَ أَدْرِيْ رَبِّ! قَالَهَا ثَلاَثًا قَالَ فَرَأَيْتُهُ وَضَعَ كَفَّهُ بَيْنَ كَتِفَيَّ قَدْ وَ جَدْتُ بَرْدَ أَنَامِلِهِ بَيْنَ ثَدْيَيَّ فَتَجَلّٰی لِيْ كُلُّ شَيْءٍ وَعَرَفْتُ ] [ ترمذي، التفسیر، سورۃ صٓ: ۳۲۳۵ ] ”سنو! میں تمھیں بتاؤں گا کہ آج صبح مجھے تمھارے پاس آنے سے کس چیز نے روکے رکھا۔ آج رات میں اٹھا، وضو کیا اور جتنی میری قسمت میں نماز تھی وہ نماز میں نے پڑھی، پھر مجھے نماز میں اونگھ آ گئی، یہاں تک کہ میں بھاری ہو گیا۔ اچانک دیکھتا ہوں کہ میرا رب خوب صورت ترین شکل میں میرے سامنے ہے، تو اس نے فرمایا: ”اے محمد!“ میں نے کہا: ”میں حاضر ہوںاے میرے رب!“فرمایا: ”ملأ اعلیٰ کس بات میں بحث کر رہے ہیں؟“ میں نے کہا: ”میں نہیں جانتا۔“ تین دفعہ فرمایا۔ (نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے) فرمایا: ”تو میں نے اسے (اپنے رب کو) دیکھا کہ اس نے اپنی کف میرے کندھوں کے درمیان رکھی، تو میں نے اس کے پوروں کی ٹھنڈک اپنی دونوں چھاتیوں کے درمیان محسوس کی، تو میرے لیے (ملأ اعلیٰ کی بحث کے متعلق) ہر چیز روشن ہو گئی اور میں نے اسے جان لیا۔“ آگے لمبی حدیث ہے، ترمذی نے فرمایا: ”یہ حدیث حسن صحیح ہے اور میں نے محمد بن اسمٰعیل بخاری سے اس حدیث کے متعلق پوچھا تو انھوں نے فرمایا: ”یہ حدیث حسن صحیح ہے۔“ امام ترمذی نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے بھی معمولی فرق کے ساتھ یہ روایت بیان کی ہے اور شیخ البانی نے اسے صحیح کہا ہے۔ ابن کثیر رحمہ اللہ نے فرمایا کہ مسند احمد (۱؍۲۸۵) میں ابنِ عباس رضی اللہ عنھما سے مروی حدیث {”رَأَيْتُ رَبِّيْ تَبَارَكَ وَ تَعَالٰي“} (میں نے اپنے رب عز و جل کو دیکھا) اسی سند والی حدیث کا اختصار ہے، کیونکہ امام احمد نے ابن عباس رضی اللہ عنھما سے خواب میں دیکھنے کی مفصل حدیث بھی روایت کی ہے جو پیچھے ترمذی کے حوالے سے گزری ہے۔ صحیح بخاری میں انس رضی اللہ عنہ سے مروی حدیث میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے کا ذکر ہے: [ وَدَنَا الْجَبَّارُ رَبُّ الْعِزَّةِ فَتَدَلّٰی حَتّٰی كَانَ مِنْهُ قَابَ قَوْسَيْنِ أَوْ أَدْنٰی فَأَوْحَی اللّٰهُ فِيْمَا أَوْحٰی إِلَيْهِ خَمْسِيْنَ صَلاَةً عَلٰی أُمَّتِكَ كُلَّ يَوْمٍ وَ لَيْلَةٍ ] [بخاري، التوحید، باب ما جاء في قولہ عزوجل: «وکلم اللّٰہ موسٰی تکلیما» : ۷۵۱۷ ] ”اور جبار رب العزت قریب آیا پھر اتر آیا، یہاں تک کہ اس سے دو کمانوں کے فاصلے پر ہو گیا یا اس سے بھی قریب۔ پھر اللہ تعالیٰ نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف جو وحی فرمائی، اس میں آپ کی امت پر دن رات میں پچاس نمازوں کی وحی فرمائی۔“ یہ لمبی حدیث ہے، اس حدیث کے شروع اور آخر میں یہ صراحت موجود ہے کہ یہ معاملہ نیند کا تھا اور نیند میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے اللہ تعالیٰ کو دیکھنے میں کوئی اختلاف نہیں۔ رہی یہ بات کہ کیا معراج متعدد بار ہوا ہے، تو اہلِ علم نے فرمایا کہ بیداری کی حالت میں معراج ایک ہی دفعہ ہوا ہے، اس سے پہلے تمہید کے طور پر پہلے خواب میں آپ کو یہ سب کچھ دکھایا گیا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے ابنِ کثیر میں تفسیر سورۂ بنی اسرائیل اور فتح الباری میں شرح حدیث مذکور۔ تفسیر ہذا میں سورۂ انعام کی آیت (۱۰۳) کی تفسیر پر بھی ایک نظر ڈال لیں۔
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ «لات» ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا، غلاف چڑھائے جاتے تھے، مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے، اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے، اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا، قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ «لات» بنایا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/11] گویا اس کا مؤنث بنایا تھا۔ اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ «لات» تا کی تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے «لات» اس معنی میں اس لیے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا، موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا، اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کر دی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ «عزیٰ» لفظ «عزیز» سے لیا گیا ہے مکے اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابوسفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا «عزیٰ» ہے اور تمہارا نہیں، جس کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلوایا تھا { اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری والی کوئی نہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3039]
صحیح بخاری میں ہے { جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے اسے چاہیئے کہ فوراً «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آو جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4860] مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔ { سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ» پڑھ لو اور تین مرتبہ «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا۔“ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2097،قال الشيخ الألباني:ضعیف] مکے اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں «مناۃ» تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لیے جاتے تھے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4861] اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لیے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔ ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا۔ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:83/1] اس بت کے توڑنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کہتے جاتے تھے «یَا عُزَّی کُفْرَانَكِ لَا سُبْحَانَك» *** «اِنِّیْ رَاَیْتُ اللهَ قَدْ اَهانَكِ» اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا جو کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کچھ نہیں کیا، لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ۔“ خالد رضی اللہ عنہ کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکر و فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر ”یا عزیٰ، یا عزیٰ“ کے نعرے لگائے، خالد رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عزیٰ یہی تھی۔“ ۱؎ [سنن نسائی:567:حسن]
«لات» قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغیرہ بن شعبہ اور ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہم کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنا دی۔ «مناۃ» اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔ «ذوالخلصہ» نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے فنا ہوا «فلس» نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مامور ہوئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں۔ قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں «ریام» نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کر دیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور «رضا» نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔ ابن ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے۔ «ذوالکعبات» نامی صنم خانہ بکر تغلب اور ایاد قبیلے کا سنداد میں تھا۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ تمہارے لیے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں؟‘ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہو گا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لیے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لیے لڑکے پسند کرو ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 19تا21) ➊ { اَفَرَءَيْتُمُ اللّٰتَ وَ الْعُزّٰى …:} گزشتہ آیات میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی صراطِ مستقیم پر استقامت اور آپ کی ہر بات اللہ تعالیٰ کی وحی پر موقوف ہونے کا ذکر ہوا، اس کے ساتھ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو تعلیم دینے والے فرشتے کی قوت و عظمت کا ذکر ہوا، اس کے زمین پر اور آسمانوں پر سدرۃ المنتہیٰ کے پاس نزول اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بالکل قریب آ کر وحی پہنچانے کا اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا اسے اور اللہ تعالیٰ کی دوسری بڑی بڑی نشانیوں کو دیکھنے کا ذکر ہوا۔ ان سب باتوں سے اللہ تعالیٰ کی عظمت و قدرت، اس کا جلال اور اس کی وحدانیت خود بخود ظاہر ہو رہی ہے کہ جب اس کے رسول کا، فرشتوں کا اور اس کی زمین و آسمان پر بے شمار نشانیوں کی عظمت کا یہ عالم ہے تو وہ خود کتنی قدرتوں کا مالک ہو گا۔ اس لیے ساتھ ہی اپنی توحید کی طرف توجہ دلانے اور مشرکین کو ان کی حماقت پر متنبہ کرنے کے لیے فرمایا کہ جب تم میری قدرتوں کو سن اور دیکھ چکے تو پھر کیا تم نے لات اور عزیٰ کو بھی دیکھا ہے؟ کیا سوچا بھی جا سکتا ہے کہ یہ معبود ہیں یا اس عظیم الشان کائنات میں ان کا کوئی دخل ہے؟ یہ اندازِ بیان ان بتوں کی انتہائی تحقیر اور ان پر طنز کا اظہار ہے، جیسے کوئی انتہائی کمزور اور ہاتھ پاؤں سے معذور شخص بادشاہ ہونے کا دعویٰ کر دے تو سبھی کہیں گے، اسے دیکھو یہ بادشاہ سلامت ہے۔ ➋ طبری نے فرمایا: ”مشرکین نے اپنے بتوں اور آستانوں کے نام اللہ تعالیٰ کے ناموں کی مؤنث بنا کر رکھے ہوئے تھے۔ چنانچہ انھوں نے لفظ {”اَللّٰهُ“} کے ساتھ تائے تانیث ملا کر {”اَللَّاتُ“} بنا لیا، جیسے {”عَمْرٌو“} مذکر کے لیے {”عَمْرَةٌ“} مؤنث اور {”عَبَّاسٌ“} مذکر کے لیے {”عَبَّاسَةٌ“} مؤنث بنا لیتے ہیں اور {”عَزِيْزٌ“} سے {”عُزّٰي“} بنا لیا (جو {”أَعَزُّ“} اسم تفضیل کی مؤنث ہے)۔“ یہاں ایک سوال ہے کہ لفظ {”اَللّٰهُ“} کا مؤنث {”اَللَّاتُ“} کیسے بن گیا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ لفظ {”اَللّٰهُ“} اصل میں {”اَلْإِلٰهُ“} ہے، مؤنث اس کا {”اَلْإِلٰهَةُ“} بنے گا، مگر انھوں نے تخفیف کے لیے اسے {”اَللَّاتُ“} بنا لیا اور معلوم ہے کہ تخفیف کا کوئی طے شدہ قاعدہ نہیں۔ شیخ عبدالرحمن سعدی لکھتے ہیں: {”مَنَاةٌ“ ”مَنَّانٌ“} کی مؤنث بنا لی گئی ہے۔“ ظاہر ہے یہاں بھی تخفیف کا قاعدہ ہی استعمال ہوا ہے۔ طبری نے فرمایا: ”مشرکین نے اپنے اوثان کے نام اللہ تعالیٰ کے ناموں کی مؤنث بنا کر رکھے ہوئے تھے اور دعویٰ یہ کرتے تھے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی بیٹیاں ہیں۔ (اللہ تعالیٰ ان کے اس بہتان سے بہت بلند ہے) تو اللہ جل ثناء ہ نے انھیں مخاطب کر کے فرمایا کہ لات و عزیٰ اور تیسرے ایک اور منات کو اللہ کی بیٹیاں کہنے والو! {” اَلَكُمُ الذَّكَرُ “} کیا تم اپنے لیے اولاد لڑکے پسند اور لڑکیاں ناپسند کرتے ہو اور {” وَ لَهُ الْاُنْثٰى “} اس کے لیے لڑکیاں قرار دیتے ہو، جنھیں اپنے لیے کسی صورت پسند نہیں کرتے، بلکہ ان سے اتنی شدید نفرت رکھتے ہو کہ انھیں زندہ درگور کر دیتے ہو۔“ ➌ {” اللّٰتَ “} کی قراء ت میں اختلاف ہے۔ اکثر قراء اسے ”تاء“ کی تشدید کے بغیر پڑھتے ہیں، اس مفہوم کے مطابق جس کا اوپر ذکر ہوا ہے اور بعض اسے {”اَللاَّتُّ“} (تاء کی تشدید کے ساتھ) پڑھتے ہیں، جو {”لَتَّ يَلُتُّ“} (ن) سے اسم فاعل ہے، جس کا معنی بلونا اور لت پت کرنا ہے۔ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: [ كَانَ اللاَّتُ رَجُلاً يَلُتُّ سَوِيْقَ الْحَاجِّ ] [ بخاري، التفسیر، سورۃ النجم: ۴۸۵۹ ] ”لات ایک مرد تھا جو ستو بلو کر حاجیوں کو پلاتا تھا۔“ پہلی قراء ت اس لیے راجح ہے کہ اکثر قراء نے ایسے ہی پڑھا ہے اور اس لیے بھی کہ اللہ تعالیٰ نے مشرکین کو اس بات پر جھڑکا ہے کہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے بیٹیاں قرار دیتے ہیں، جبکہ دوسری قراءت کے مطابق ”لات“ ایک مرد تھا۔ ”لات“ کے مؤنث ہونے کی ایک دلیل صحیح بخاری (۲۷۳۱، ۲۷۳۲) میں مذکور صلح حدیبیہ والی طویل حدیث ہے، جس میں ہے کہ جب کفار کے نمائندے سہیل بن عمرو نے کہا کہ تم مختلف لوگ اکٹھے ہو گئے ہو، جنگ ہوئی تو بھاگ جاؤ گے، تو ابوبکر رضی اللہ عنہ نے فرمایا: [ اُمْصُصْ بَظْرَ اللاَّتِ أَنَحْنُ نَفِرُّ عَنْهُ ] ”لات کی شرم گاہ کو چوس، کیا ہم آپ(صلی اللہ علیہ وسلم ) کو چھوڑ کر بھاگ جائیں گے؟“ واضح رہے {”بَظْرٌ“} عورت کی شرم گاہ کو کہا جاتا ہے۔ ➍ عرب میں بتوں کے بے شمار آستانے تھے، اللہ تعالیٰ نے ان میں سے ان تین کا ذکر اس لیے فرمایا کہ یہ ان کے سب سے مشہور اور بڑے بت تھے۔ مکہ، طائف، مدینہ اور حجاز کے اکثر علاقوں کے لوگ انھیں سب سے زیادہ پوجتے تھے۔ لات طائف میں تھا، بنو ثقیف اس کے پجاری اور متولی تھے۔ عزیٰ قریش کی خاص دیوی تھی جس کا اَستھان مکہ اور طائف کے درمیان مقام نخلہ پر تھا۔ وہاں عمارت کے علاوہ درخت بھی تھے جن کی پوجا ہوتی تھی۔ قریش کے ہاں اس کی تعظیم کا اندازہ صحیح بخاری کی اس حدیث سے ہوتا ہے جس میں ہے کہ جنگِ اُحد کے موقع پر جب کفار مسلمانوں کو کچھ نقصان پہنچانے میں کامیاب ہوئے تو پہاڑ پر چڑھ کر ابو سفیان نے فخر سے کہا: {” لَنَا الْعُزّٰی وَلاَ عُزّٰی لَكُمْ“} (ہمارے پاس عزیٰ ہے، تمھارے پاس کوئی عزیٰ نہیں) تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا، اسے جواب دو: [ اَللّٰهُ مَوْلاَنَا وَلاَ مَوْلٰی لَكُمْ ] ”اللہ ہمارا مولیٰ ہے، تمھارا کوئی مولیٰ نہیں۔“ [ بخاري، الجہاد والسیر، باب ما یکرہ من التنازع…: ۳۰۳۹ ] منات کا مندر مکہ اور مدینہ کے درمیان بحر احمر کے کنارے مشلل کے قریب قدید کے مقام پر تھا۔ [ دیکھیے بخاري، التفسیر، سورۃ النجم: ۴۸۶۱ ] مدینہ کے اوس و خزرج اور ان کے ہمنوا اس کی پوجا کرتے تھے۔ ان تمام بتوں کے مندر تھے اور ان کے باقاعدہ پروہت اور پجاری بھی تھے۔ کعبہ کی طرح ان پر بھی جانور لا کر قربان کیے جاتے تھے۔ ابن کثیر نے اس مقام پر سیرت ابن اسحاق سے عرب کے بتوں کا تذکرہ تفصیل سے نقل کیا ہے کہ وہ کہاں کہاں تھے، ان کی شکل کیا تھی اور کون کون سے صحابہ نے انھیں منہدم کیا۔ یہ تفصیل ان کی تفسیر میں ملاحظہ فرمائیں۔ ➎ {وَ مَنٰوةَ الثَّالِثَةَ الْاُخْرٰى:} یہاں ایک سوال ہے کہ {” الثَّالِثَةَ “} (تیسرا) کہنے کے بعد {” الْاُخْرٰى “} (ایک اور یا بعد والا) کہنے کی کیا ضرورت تھی؟ جواب اس کا یہ ہے کہ مشرکین کے ہاں بتوں اور دیویوں کے بھی درجے ہیں، لات اور عزیٰ کو جو مقام حاصل تھا وہ منات کو حاصل نہ تھا۔ اس کا تذکرہ ان الفاظ میں یہ ظاہر کرنے کے لیے فرمایا کہ اس کا نمبر تمھارے ہاں بھی تیسرا اور دونوں کے بعد ہے۔ یہ بھی شرک پر بہت بڑی چوٹ ہے کہ وہ معبود ہی کیا ہوا جو دوسرے معبود کو برداشت کرتا ہے اور متعدد معبود اپنی اپنی حیثیت پر قناعت کرتے اور خوش رہتے ہیں، بھلا معبود برحق ایسا ہونا چاہیے؟ ابراہیم علیہ السلام کے زمانے کے بتوں میں بھی یہ تقسیم موجود تھی، جیسا کہ فرمایا: «فَجَعَلَهُمْ جُذٰذًا اِلَّا كَبِيْرًا لَّهُمْ» [الأنبیاء: ۵۸] ”پس اس نے انھیں ٹکڑے ٹکڑے کر دیا، سوائے ان کے ایک بڑے کے۔“ ➏ اس مقام پر بعض مفسرین نے ایک روایت بیان کی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس آیت پر پہنچے تو شیطان نے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان پر یہ کلمات جاری کر دیے: {”تِلْكَ الْغَرَانِيْقُ الْعُلٰي وَ إِنَّ شَفَاعَتَهُنَّ لَتُرْتَجٰي“} اس روایت کی حقیقت کے لیے دیکھیے سورۂ حج کی آیت (۵۲) کی تفسیر۔
اور تیسری ایک اور دیوی منات کی حقیقت پر کچھ غور بھی کیا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور منات تیسرے پچھلے کو
احمد رضا خان بریلوی
اور اس تیسری منات کو
علامہ محمد حسین نجفی
اور تیسرے منات کو کبھی دیکھا ہے (ان کی اصلیت میں غور کیا ہے؟)
عبدالسلام بن محمد
اور تیسری ایک اور (دیوی) منات کو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بت کدے کیا تھے؟ ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ «لات» ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا، غلاف چڑھائے جاتے تھے، مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے، اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے، اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا، قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ «لات» بنایا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/11] گویا اس کا مؤنث بنایا تھا۔ اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ «لات» تا کی تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے «لات» اس معنی میں اس لیے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا، موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا، اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کر دی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ «عزیٰ» لفظ «عزیز» سے لیا گیا ہے مکے اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابوسفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا «عزیٰ» ہے اور تمہارا نہیں، جس کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلوایا تھا { اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری والی کوئی نہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3039]
صحیح بخاری میں ہے { جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے اسے چاہیئے کہ فوراً «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آو جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4860] مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔ { سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ» پڑھ لو اور تین مرتبہ «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا۔“ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2097،قال الشيخ الألباني:ضعیف] مکے اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں «مناۃ» تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لیے جاتے تھے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4861] اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لیے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔ ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا۔ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:83/1] اس بت کے توڑنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کہتے جاتے تھے «یَا عُزَّی کُفْرَانَكِ لَا سُبْحَانَك» *** «اِنِّیْ رَاَیْتُ اللهَ قَدْ اَهانَكِ» اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا جو کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کچھ نہیں کیا، لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ۔“ خالد رضی اللہ عنہ کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکر و فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر ”یا عزیٰ، یا عزیٰ“ کے نعرے لگائے، خالد رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عزیٰ یہی تھی۔“ ۱؎ [سنن نسائی:567:حسن]
«لات» قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغیرہ بن شعبہ اور ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہم کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنا دی۔ «مناۃ» اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔ «ذوالخلصہ» نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے فنا ہوا «فلس» نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مامور ہوئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں۔ قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں «ریام» نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کر دیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور «رضا» نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔ ابن ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے۔ «ذوالکعبات» نامی صنم خانہ بکر تغلب اور ایاد قبیلے کا سنداد میں تھا۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ تمہارے لیے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں؟‘ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہو گا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لیے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لیے لڑکے پسند کرو ‘۔
20۔ 1 یہ مشرکین کی توبیخ کے لئے کہا جا رہا ہے کہ اللہ کی یہ تو شان ہے جو مذکور ہوئی کہ جبرائیل ؑ جیسے عظیم فرشتوں کا وہ خالق ہے، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جیسے اس کے رسول ہیں، جنہیں اس نے آسمان پر بلا کر بڑی بڑی نشانیوں کا مشاہدہ بھی کرایا اور وحی بھی ان پر نازل فرماتا ہے۔ کیا تم جن معبودوں کی عبادت کرتے ہو، ان کے اندر بھی یہ یا اس قسم کی خوبیاں ہیں؟ اس ضمن میں عرب کے تین مشہور بتوں کے نام بطور مثال لیے۔ لات، بعض کے نزدیک یہ لفظ اللہ سے ماخوذ ہے، بعض کے نزدیک لات یلیت سے ہے، جس کے معنی موڑنے کے ہیں، پجاری اپنی گردنیں اس کی طرف موڑتے اور اس کا طواف کرتے تھے۔ اس لیے یہ نام پڑگیا۔ بعض کہتے ہیں، کہ لات میں تا مشدد ہے لت یلت سے اسم فاعل (ستو گھولنے والا) یہ ایک نیک آدمی تھا، حاجیوں کو ستو گھول کر پلایا کرتا تھا، جب یہ مرگیا تو لوگوں نے اس کی قبر کو عبادت گاہ بنالیا، پھر اس کے مجسمے اور بت بن گئے۔ یہ طائف میں بنو ثقیف کا سب سے بڑا بت تھا۔ عزی کہتے ہیں یہ اللہ کے صفاتی نام عزیز سے ماخوذ ہے، اور یہ أعز کی تانیث ہے بمعنی عزیزت بعض کہتے ہیں کہ یہ غطفان میں ایک درخت تھا جس کی عبادت کی جاتی تھی، بعض کہتے ہیں کہ شیطاننی (بھوتنی) تھی جو بعض درختوں میں ظاہر ہوتی تھی۔ بعض کہتے ہیں کہ یہ سنگ ابیض تھا جس کو پوجتے تھے۔ یہ قریش اور بنو کنانہ کا خاص معبود تھا۔ منوت، منی یمنی سے ہے جس کے معنی صب (بہانے) کے ہیں۔ اس کا تقرب حاصل کرنے کے لئے لوگ کثرت سے اس کے پاس جانور ذبح کرتے اور انکا خون بہاتے تھے۔ یہ مکہ اور مدینہ کے درمیان ایک بت تھا (فتح القدیر) یہ قدید کے بالمقابل مشلل جگہ میں تھا، بنوخزاعہ کا یہ خاص بت تھا۔ زمانہ جاہلیت میں اوس اور خزرج یہیں سے احرام باندھتے تھے اور اس بت کا طواف بھی کرتے تھے۔ (ایسر التفاسیر وابن کثیر) ان کے علاوہ مختلف اطراف میں اور بھی بہت سے بت اور بت خانے پھیلے ہوئے تھے۔ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد اور دیگر مواقع پر ان بتوں اور دیگر تمام بتوں کا خاتمہ فرما دیا ان پر جو قبے اور عمارتیں بنی ہوئی تھیں، وہ مسمار کروا دیں، ان درختوں کو کٹوا دیا، جن کی تعظیم کی جاتی تھی اور وہ تمام آثار و مظاہر مٹا ڈالے گئے جو بت پرستی کی یادگار تھے، اس کام کے لیے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خالد، حضرت علی، حضرت عمرو بن عاص اور حضرت جریر بن عبد اللہ البجلی وغیرہم رضوان اللہ علیہم اجمعین کو، جہاں جہاں یہ بت تھے، بھیجا اور انہوں نے جاکر ان سب کو ڈھا کر سرزمین عرب سے شرک کا نام مٹا دیا۔ (ابن کثیر)
کیا تمہارے لئے لڑکے ہیں اور اس(اللہ) کے لئے لڑکیاں؟
عبدالسلام بن محمد
کیا تمھارے لیے لڑکے ہیں اور اس کے لیے لڑکیاں؟
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
بت کدے کیا تھے؟ ٭٭
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ «لات» ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا، غلاف چڑھائے جاتے تھے، مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے، اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے، اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا، قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ «لات» بنایا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/11] گویا اس کا مؤنث بنایا تھا۔ اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ «لات» تا کی تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے «لات» اس معنی میں اس لیے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا، موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا، اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کر دی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ «عزیٰ» لفظ «عزیز» سے لیا گیا ہے مکے اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابوسفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا «عزیٰ» ہے اور تمہارا نہیں، جس کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلوایا تھا { اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری والی کوئی نہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3039]
صحیح بخاری میں ہے { جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے اسے چاہیئے کہ فوراً «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آو جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4860] مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔ { سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ» پڑھ لو اور تین مرتبہ «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا۔“ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2097،قال الشيخ الألباني:ضعیف] مکے اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں «مناۃ» تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لیے جاتے تھے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4861] اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لیے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔ ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا۔ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:83/1] اس بت کے توڑنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کہتے جاتے تھے «یَا عُزَّی کُفْرَانَكِ لَا سُبْحَانَك» *** «اِنِّیْ رَاَیْتُ اللهَ قَدْ اَهانَكِ» اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا جو کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کچھ نہیں کیا، لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ۔“ خالد رضی اللہ عنہ کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکر و فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر ”یا عزیٰ، یا عزیٰ“ کے نعرے لگائے، خالد رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عزیٰ یہی تھی۔“ ۱؎ [سنن نسائی:567:حسن]
«لات» قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغیرہ بن شعبہ اور ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہم کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنا دی۔ «مناۃ» اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔ «ذوالخلصہ» نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے فنا ہوا «فلس» نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مامور ہوئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں۔ قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں «ریام» نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کر دیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور «رضا» نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔ ابن ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے۔ «ذوالکعبات» نامی صنم خانہ بکر تغلب اور ایاد قبیلے کا سنداد میں تھا۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ تمہارے لیے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں؟‘ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہو گا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لیے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لیے لڑکے پسند کرو ‘۔
21۔ 1 مشرکین مکہ فرشتوں کو اللہ کی بیٹیاں قرار دیتے تھے، یہ اس کی تردید ہے، جیسا کہ متعدد جگہ یہ مضمون گزر چکا ہے۔
ان آیتوں میں اللہ تعالیٰ مشرکین کو ڈانٹ رہا ہے کہ وہ بتوں کی اور اللہ کے سوا دوسروں کی پرستش کرتے ہیں اور جس طرح خلیل اللہ نے بحکم اللہ بیت اللہ بنایا ہے یہ لوگ اپنے اپنے معبودان باطل کے پرستش کدے بنا رہے ہیں۔ «لات» ایک سفید پتھر منقش تھا جس پر قبہ بنا رکھا تھا، غلاف چڑھائے جاتے تھے، مجاور محافظ اور جاروب کش مقرر تھے، اس کے آس پاس کی جگہ مثل حرم کی حرمت و بزرگی والی جانتے تھے، اہل طائف کا یہ بت کدہ تھا، قبیلہ ثقیف اس کا پجاری اور اس کا متولی تھا۔ قریش کے سوا باقی اور سب پر یہ لوگ اپنا فخر جتایا کرتے تھے۔ ابن جریر رحمہ اللہ فرماتے ہیں ان لوگوں نے لفظ اللہ سے لفظ «لات» بنایا تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:520/11] گویا اس کا مؤنث بنایا تھا۔ اللہ کی ذات تمام شریکوں سے پاک ہے ایک قرأت میں لفظ «لات» تا کی تشدید کے ساتھ ہے یعنی گھولنے والا اسے «لات» اس معنی میں اس لیے کہتے تھے کہ یہ ایک نیک شخص تھا، موسم حج میں حاجیوں کو ستو گھول گھول کر پلاتا تھا، اس کے انتقال کے بعد لوگوں نے اس کی قبر پر مجاورت شروع کر دی رفتہ رفتہ اسی کی عبادت کرنے لگے۔ اسی طرح لفظ «عزیٰ» لفظ «عزیز» سے لیا گیا ہے مکے اور طائف کے درمیان نخلہ میں یہ ایک درخت تھا اس پر بھی قبہ بنا ہوا تھا چادریں چڑھی ہوئی تھیں قریش اس کی عظمت کرتے تھے۔ ابوسفیان نے احد والے دن بھی کہا تھا ہمارا «عزیٰ» ہے اور تمہارا نہیں، جس کے جواب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کہلوایا تھا { اللہ ہمارا والی ہے اور تمہاری والی کوئی نہیں۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3039]
صحیح بخاری میں ہے { جو شخص لات عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے اسے چاہیئے کہ فوراً «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ» کہہ لے اور جو اپنے ساتھی سے کہہ دے کہ آو جوا کھیلیں اسے صدقہ کرنا چاہیئے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:4860] مطلب یہ ہے کہ جاہلیت کے زمانہ میں چونکہ اسی کی قسم کھائی جاتی تھی تو اب اسلام کے بعد اگر کسی کی زبان سے اگلی عادت کے موافق یہ الفاظ نکل جائیں تو اسے کلمہ پڑھ لینا چاہیئے۔ { سعد بن وقاص رضی اللہ عنہ ایک مرتبہ اسی طرح لات و عزیٰ کی قسم کھا بیٹھے جس پر لوگوں نے انہیں متنبہ کیا، یہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئے آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ” «لَا إِلَـٰهَ إِلَّا اللَّـهُ وَحدَهُ لَا شَرِیْکَ لَهُ وَھُوَ عَلٰی کُلِّ شَیْئٍ قَدِیْرٌ» پڑھ لو اور تین مرتبہ «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ کر اپنی بائیں جانب تھوک دو اور آئندہ سے ایسا نہ کرنا۔“ } ۱؎ [سنن ابن ماجہ:2097،قال الشيخ الألباني:ضعیف] مکے اور مدینے کے درمیان قدید کے پاس مثلل میں «مناۃ» تھا۔ قبیلہ خزاعہ، اوس، اور خزرج جاہلیت میں اس کی بہت عظمت کرتے تھے یہیں سے احرام باندھ کر وہ حج کعبہ کے لیے جاتے تھے۔ ۱؎ [صحیح بخاری:4861] اسی طرح ان تین کی شہرت بہت زیادہ تھی اس لیے یہاں صرف ان تین کا ہی بیان فرمایا۔ ان مقامات کا یہ لوگ طواف بھی کرتے تھے قربانیوں کے جانور وہاں لے جاتے تھے ان کے نام پر جانور چڑھائے جاتے تھے باوجود اس کے یہ سب لوگ کعبہ کی حرمت و عظمت کے قائل تھے اسے مسجد ابراہیم مانتے تھے اور اس کی خاطر خواہ توقیر کرتے تھے۔ سیرۃ ابن اسحاق میں ہے کہ قریش اور بنو کنانہ عزیٰ کے پجاری تھے جو نخلہ میں تھا۔ اس کا نگہبان اور متولی قبیلہ بنو شیبان تھا جو قبیلہ سلیم کی شاخ تھا اور بنو ہاشم کے ساتھ ان کا بھائی چارہ تھا۔ ۱؎ [سیرۃ ابن ھشام:83/1] اس بت کے توڑنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فتح مکہ کے بعد سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے ٹکڑے ٹکڑے کر دیا اور کہتے جاتے تھے «یَا عُزَّی کُفْرَانَكِ لَا سُبْحَانَك» *** «اِنِّیْ رَاَیْتُ اللهَ قَدْ اَهانَكِ» اے عزیٰ میں تیرا منکر ہوں تیری پاکی بیان کرنے والا نہیں ہوں میرا ایمان ہے کہ تیری عزت کو اللہ نے خاک میں ملا دیا۔ یہ ببول کے تین درختوں پر تھا جو کاٹ ڈالے گئے اور قبہ ڈھا دیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اطلاع دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے کچھ نہیں کیا، لوٹ کر پھر دوبارہ جاؤ۔“ خالد رضی اللہ عنہ کے دوبارہ تشریف لے جانے پر وہاں کے محافظ اور خدام نے بڑے بڑے مکر و فریب کئے اور خوب غل مچا مچا کر ”یا عزیٰ، یا عزیٰ“ کے نعرے لگائے، خالد رضی اللہ عنہ نے جو دیکھا تو معلوم ہوا کہ ایک ننگی عورت ہے جس کے بال بکھرے ہوئے ہیں اور اپنے سر پر مٹی ڈال رہی ہے۔ آپ رضی اللہ عنہ نے تلوار کے ایک ہی وار میں اس کا کام تمام کیا اور واپس آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو خبر دی آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”عزیٰ یہی تھی۔“ ۱؎ [سنن نسائی:567:حسن]
«لات» قبیلہ ثقیف کا بت تھا جو طائف میں تھا۔ اس کی تولیت اور مجاورت بنو معتب میں تھی یہاں اس کے ڈھانے کے لیے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے مغیرہ بن شعبہ اور ابوسفیان صخر بن حرب رضی اللہ عنہم کو بھیجا تھا جنہوں نے اسے معدوم کر کے اس کی جگہ مسجد بنا دی۔ «مناۃ» اوس و خزرج اور اس کے ہم خیال لوگوں کا بت تھا یہ مثلل کی طرف سے سمندر کے کنارے قدید میں تھا یہاں بھی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوسفیان رضی اللہ عنہ کو بھیجا اور آپ نے اس کے ریزے ریزے کر دئیے۔ بعض کا قول ہے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں یہ کفرستان فنا ہوا۔ «ذوالخلصہ» نامی بت خانہ دوس اور خشعم اور بجیلہ کا تھا اور جو لوگ اس کے ہم وطن تھے یہ تبالہ میں تھا اور اسے یہ لوگ کعبہ یمانیہ کہتے تھے اور مکہ کے کعبہ کو کعبہ شامیہ کہتے تھے یہ جریر بن عبداللہ رضی اللہ عنہ کے ہاتھوں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حکم سے فنا ہوا «فلس» نامی بت خانہ قبیلہ طے اور ان کے آس پاس کے عربوں کا تھا یہ جبل طے میں سلمیٰ اور اجا کے درمیان تھا اس کے توڑنے پر سیدنا علی رضی اللہ عنہ مامور ہوئے تھے آپ رضی اللہ عنہ نے اسے توڑ دیا اور یہاں سے دو تلواریں لے گئے تھے ایک رسوب دوسری مخزم نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ دونوں تلواریں انہی کو دے دیں۔ قبیلہ حمیر اہل یمن نے اپنا بت خانہ صنعاء میں «ریام» نامی بنا رکھا تھا مذکور ہے کہ اس میں ایک سیاہ کتا تھا اور وہ دو حمیری جو تبع کے ساتھ نکلے تھے انہوں نے اسے نکال کر قتل کر دیا اور اس بت خانہ کی اینٹ سے اینٹ بجا دی اور «رضا» نامی بت کدہ بنو ربیعہ بن سعد کا تھا اس کو مستوغر بن ربیعہ بن کعب بن اسد نے اسلام میں ڈھایا۔ ابن ہشام رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ان کی عمر تین سو تیس سال کی ہوئی تھی جس کا بیان خود انہوں نے اپنے اشعار میں کیا ہے۔ «ذوالکعبات» نامی صنم خانہ بکر تغلب اور ایاد قبیلے کا سنداد میں تھا۔ پھر فرماتا ہے کہ ’ تمہارے لیے لڑکے ہوں اور اللہ کی لڑکیاں ہوں؟‘ کیونکہ مشرکین اپنے زعم باطل میں فرشتوں کو اللہ کی لڑکیاں سمجھتے تھے، تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ اگر تم آپس میں تقسیم کرو اور کسی کو صرف لڑکیاں اور کسی کو صرف لڑکے دو تو وہ بھی راضی نہ ہو گا اور یہ تقسیم نامنصفی کی سمجھی جائے گی چہ جائیکہ تم اللہ کے لیے لڑکیاں ثابت کرو اور خود تم اپنے لیے لڑکے پسند کرو ‘۔
22۔ 1 ضِیْزیٰ، حق و صواب سے ہٹی ہوئی۔
(آیت 22){ تِلْكَ اِذًا قِسْمَةٌ ضِيْزٰى: ” ضِيْزٰى “ ”ضَازَ يَضِيْزُ ضَيْزًا“} (ض) سے {”فُعْلٰي“} (فاء کے ضمہ کے ساتھ) کے وزن پر ہے جو {”أَفْعَلُ“} (اسم تفضیل) کی مؤنث ہے۔ اس کا معنی {”شَدِيْدُ الضِّيْزِ“} (سخت ناانصافی والی) ہے۔ ”ضاد“ کے ضمہ کو ”یاء“ کی موافقت کے لیے کسرہ سے بدل دیا گیا۔ یعنی ایک تو اللہ کے لیے اولاد بتانا، پھر اپنے لیے لڑکے اور اللہ تعالیٰ کے لیے لڑکیاں پسند کرنا، یہ تو بہت ہی سخت ناانصافی کی تقسیم ہے۔
دراصل یہ کچھ نہیں ہیں مگر بس چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں اللہ نے اِن کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی حقیقت یہ ہے کہ لوگ محض وہم و گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور خواہشات نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں حالانکہ اُن کے رب کی طرف سے اُن کے پاس ہدایت آ چکی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
دراصل یہ صرف نام ہیں جو تم نے اور تمہارے باپ دادوں نے ان کے رکھ لیے ہیں اللہ نے ان کی کوئی دلیل نہیں اتاری۔ یہ لوگ تو صرف اٹکل کے اور اپنی نفسانی خواہشوں کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ اور یقیناً ان کے رب کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آ چکی ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ تو نہیں مگر کچھ نام کہ تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں اللہ نے ان کی کوئی سند نہیں اتاری، وہ تو نرے گمان اور نفس کی خواہشوں کے پیچھے ہیں حالانکہ بیشک ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت آئی
علامہ محمد حسین نجفی
یہ نہیں ہیں مگر صرف چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادانے رکھ لئے ہیں جس پر اللہ نے کوئی دلیل (سند) نہیں نازل کی یہ لوگ محض وہم و گمان کی پیروی کر رہے ہیں اور خواہشاتِ نفس کی حالانکہ ان کے پاس ان کے پروردگار کی طرف سے ہدایت و رہنمائی آچکی۔
عبدالسلام بن محمد
یہ (بت) چند ناموں کے سوا کچھ بھی نہیں ہیں، جو تم نے اور تمھارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں، ان کی کوئی دلیل اللہ نے نازل نہیں فرمائی۔ یہ لوگ صرف گمان کے اور ان چیزوں کے پیچھے چل رہے ہیں جو ان کے دل چاہتے ہیں اور بلاشبہ یقینا ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت آچکی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جو چاہا نام گھڑ لیا ہے، ورنہ نہ وہ معبود ہیں، نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں۔ خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں، مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں، مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آ جانے، اللہ کی باتیں واضح ہو جانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔ پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان کی ہر تمنا خواہ مخواہ پوری ہو ہی جاتی ہے؟ جو کہے میں حق پر ہوں تو کیا وہ حق پر ہو ہی گیا؟ تم گو دعوے لمبے چوڑے کرو لیکن دعوؤں سے مراد اور مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ ‘ { نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمنا کرتے وقت سوچ لیا کرو کہ کیا تمنا کرتے ہو؟ تمہیں نہیں معلوم کہ اس تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا؟“ } ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2255،] تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہو گا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لیے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا، جیسے فرمایا «مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ» ۱؎ [2-البقرة:255] ’ کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کر سکے۔‘ «وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ» ۱؎ [34-سبأ:23] ’ اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ ‘ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے، تمام رسول علیہ السلام اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 23) ➊ { اِنْ هِيَ اِلَّاۤ اَسْمَآءٌ سَمَّيْتُمُوْهَاۤ اَنْتُمْ وَ اٰبَآؤُكُمْ …:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۷۱) اور سورۂ یوسف (۴۰) کی تفسیر۔ ➋ { اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ:} تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (66،36) کی تفسیر۔ ➌ { وَ مَا تَهْوَى الْاَنْفُسُ وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ …:} یعنی یہ لوگ ان کی پرستش صرف اپنے دلوں کی خواہشات کی پیروی میں کر رہے ہیں۔ ان کا دل چاہتا ہے کہ کوئی ایسا معبود ہو جو دنیا میں ان کے کام بناتا رہے اور اگر آخرت آ ہی جائے تو وہاں بھی انھیں بخشوا دے، مگر ان پر حلال و حرام کی کوئی پابندی ہو نہ ان کی خواہشات پر کوئی قدغن ہو۔ اس لیے کبھی کسی کو اللہ کی اولاد بنا کر پوجنا شروع کر دیتے ہیں، جیسے کوئی مسیح یا عزیر علیھما السلام کو اس کا بیٹا بنا کر پوجتا ہے، جیسے یہود و نصاریٰ اور کوئی فرشتوں کو بیٹیاں بنا کر، جیسے مشرکینِ عرب اور کبھی کسی کو اس کا ایسا محبوب یا محبوبہ بنا کر پوجنے لگتے ہیں جس کی محبت کے ہاتھوں وہ مجبور ہے اور ان کی کوئی بات ٹال نہیں سکتا، جیسا کہ عام بت پرست ہیں اور کئی جھوٹے مسلمانوں کا بھی یہی حال ہے اور دل میں امید باندھ لیتے ہیں کہ ان کے بنائے ہوئے یہ خیالی معبود قیامت کے دن انھیں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچا لیں گے، کیونکہ ان کا اس کے ساتھ نسب یا محبت کا رشتہ ہے جس سے مجبور ہو کر اسے ان کی شفاعت ماننا پڑے گی۔ جب کہ حقیقت میں یہ سب ان کی ناکام تمنائیں اور آرزوئیں ہیں، بات یہ ہے: «وَ لَقَدْ جَآءَهُمْ مِّنْ رَّبِّهِمُ الْهُدٰى» ”اور بلاشبہ یقینا ان کے پاس ان کے رب کی طرف سے ہدایت آچکی۔“ اور اصل ہدایت اور سیدھی راہ وہی ہے جو ہمارے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم لے کر ان کے پاس آئے ہیں۔
کیا انسان کو وہ چیز مل سکتی ہے جس کی وہ تمنا کرتا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
یا انسان کے لیے وہ (میسر) ہے جو وہ آرزو کرے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جو چاہا نام گھڑ لیا ہے، ورنہ نہ وہ معبود ہیں، نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں۔ خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں، مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں، مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آ جانے، اللہ کی باتیں واضح ہو جانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔ پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان کی ہر تمنا خواہ مخواہ پوری ہو ہی جاتی ہے؟ جو کہے میں حق پر ہوں تو کیا وہ حق پر ہو ہی گیا؟ تم گو دعوے لمبے چوڑے کرو لیکن دعوؤں سے مراد اور مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ ‘ { نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمنا کرتے وقت سوچ لیا کرو کہ کیا تمنا کرتے ہو؟ تمہیں نہیں معلوم کہ اس تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا؟“ } ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2255،] تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہو گا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لیے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا، جیسے فرمایا «مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ» ۱؎ [2-البقرة:255] ’ کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کر سکے۔‘ «وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ» ۱؎ [34-سبأ:23] ’ اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ ‘ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے، تمام رسول علیہ السلام اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔
24۔ 1 یعنی یہ جو چاہتے ہیں کہ ان کے یہ معبود انہیں فائدہ پہنچائیں اور ان کی سفارش کریں یہ ممکن ہی نہیں۔
(آیت 25،24){ اَمْ لِلْاِنْسَانِ مَا تَمَنّٰى…:} یعنی انھوں نے جو آرزوئیں دل میں پال رکھی ہیں کہ ان کے معبود دنیا میں ان کے کام آئیں گے اور آخرت میں انھیں اللہ تعالیٰ کی گرفت سے بچا لیں گے، یا اگر آخرت قائم ہوئی تو انھیں وہاں بھی وہی آسائشیں ملیں گی جو انھیں دنیا میں میسر ہیں، تو سب سے پہلے یہ سوچیں کہ آیا انسان کی ہر تمنا جو وہ کرے، کیا پوری ہوتی ہے؟ ظاہر ہے ایسا ہرگز نہیں، کیونکہ دنیا کا مالک بھی صرف اللہ تعالیٰ ہے اور آخرت کا مالک بھی وہی ہے، اس لیے کسی اور کے چاہنے یا نہ چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا، بلکہ ہوتا وہی ہے جو مالک چاہے۔ پھر انھوں نے ان خود ساختہ معبودوں سے یہ توقع کیسے باندھ لی کہ وہ ان کی تمنائیں پوری کریں گے۔ یہاں تو بڑے سے بڑا شخص بھی خواہ اللہ کا خلیل ہو یا اس کا حبیب، اس کی مرضی کا پابند ہے اور اس کی وہی آرزو پوری ہوتی ہے جو مالک چاہتا ہے۔ ابراہیم علیہ السلام کے والد کو دیکھ لو، نوح علیہ السلام کے بیٹے اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا کو دیکھ لو، تم پر یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ کسی بھی شخص کی تمنا وہی پوری ہوتی ہے جو دنیا اور آخرت دونوں کا مالک چاہتا ہے۔ ایک شاعر نے کیا خوب کہا ہے: {مَا كُلُّ مَا يَتَمَنَّي الْمَرْء يُدْرِكُهُ تَجْرِي الرِّيَاحُ بِمَا لَا تَشْتَهِي السُّفُنُ} ”ایسا نہیں کہ آدمی جو تمنا کرے اسے حاصل کر ہی لے، کیونکہ بہت دفعہ ہوائیں کشتیوں کی خواہش کے خلاف چلتی ہیں۔“
پس اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے آخرت بھی اور دنیا بھی (یعنی انجام بھی اور آغاز بھی)۔
عبدالسلام بن محمد
سو اللہ ہی کے لیے پچھلا اور پہلا جہان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جو چاہا نام گھڑ لیا ہے، ورنہ نہ وہ معبود ہیں، نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں۔ خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں، مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں، مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آ جانے، اللہ کی باتیں واضح ہو جانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔ پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان کی ہر تمنا خواہ مخواہ پوری ہو ہی جاتی ہے؟ جو کہے میں حق پر ہوں تو کیا وہ حق پر ہو ہی گیا؟ تم گو دعوے لمبے چوڑے کرو لیکن دعوؤں سے مراد اور مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ ‘ { نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمنا کرتے وقت سوچ لیا کرو کہ کیا تمنا کرتے ہو؟ تمہیں نہیں معلوم کہ اس تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا؟“ } ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2255،] تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہو گا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لیے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا، جیسے فرمایا «مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ» ۱؎ [2-البقرة:255] ’ کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کر سکے۔‘ «وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ» ۱؎ [34-سبأ:23] ’ اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ ‘ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے، تمام رسول علیہ السلام اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔
25۔ 1 یعنی وہی ہوگا، جو وہ چاہے گا، کیونکہ تمام اختیارات اسی کے پاس ہیں۔
آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں، اُن کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آ سکتی جب تک کہ اللہ کسی ایسے شخص کے حق میں اُس کی اجازت نہ دے جس کے لیے وہ کوئی عرضداشت سننا چاہے اور اس کو پسند کرے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور بہت سے فرشتے آسمانوں میں ہیں جن کی سفارش کچھ بھی نفع نہیں دے سکتی مگر یہ اور بات ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی خوشی اور اپنی چاہت سے جس کے لیے چاہے اجازت دے دے
احمد رضا خان بریلوی
اور کتنے ہی فرشتے ہیں آسمانوں میں کہ ان کی سفارش کچھ کام نہیں آتی مگر جبکہ اللہ اجازت دے دے جس کے لیے چاہے اور پسند فرمائے
علامہ محمد حسین نجفی
اور آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے ہیں جن کی سفارش کچھ بھی فائدہ نہیں دے سکتی مگر بعد اس کے کہ اللہ جس کے لئے چاہے اجازت دے اور پسند کرے۔
عبدالسلام بن محمد
اور آسمانوں میں کتنے ہی فرشتے ہیں کہ ان کی سفارش کچھ کام نہیں آتی مگر اس کے بعد کہ اللہ اجازت دے جس کے لیے چاہے اور (جسے) پسند کرے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
پھر فرماتا ہے ان کو تم نے اپنی طرف سے بغیر کسی دلیل کے مضبوط ٹھہرا کر جو چاہا نام گھڑ لیا ہے، ورنہ نہ وہ معبود ہیں، نہ کسی ایسے پاک نام کے مستحق ہیں۔ خود یہ لوگ بھی ان کی پوجا پاٹ پر کوئی دلیل پیش نہیں کر سکتے صرف اپنے بڑوں پر حسن ظن رکھ کر جو انہوں نے کیا تھا یہ بھی کر رہے ہیں، مکھی پر مکھی مارتے چلے جاتے ہیں، مصیبت تو یہ ہے کہ دلیل آ جانے، اللہ کی باتیں واضح ہو جانے کے باوجود بھی باپ دادا کی غلط راہ کو نہیں چھوڑتے۔ پھر فرماتا ہے کیا ہر انسان کی ہر تمنا خواہ مخواہ پوری ہو ہی جاتی ہے؟ جو کہے میں حق پر ہوں تو کیا وہ حق پر ہو ہی گیا؟ تم گو دعوے لمبے چوڑے کرو لیکن دعوؤں سے مراد اور مقصد حاصل نہیں ہوتا۔ ‘ { نبی صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”تمنا کرتے وقت سوچ لیا کرو کہ کیا تمنا کرتے ہو؟ تمہیں نہیں معلوم کہ اس تمنا پر تمہارے لئے کیا لکھا جائے گا؟“ } ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:2255،] تمام امور کا مالک اللہ تعالیٰ ہے دنیا اور آخرت میں تصرف اسی کا ہے جو اس نے جو چاہا ہو رہا ہے اور جو چاہے گا ہو گا۔ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی بڑے سے بڑا فرشتہ بھی کسی کے لیے سفارش کا لفظ بھی نہیں نکال سکتا، جیسے فرمایا «مَن ذَا الَّذِى يَشْفَعُ عِندَهُ إِلاَّ بِإِذْنِهِ» ۱؎ [2-البقرة:255] ’ کون ہے جو اس کے پاس اس کی اجازت کے بغیر سفارش پیش کر سکے۔‘ «وَلاَ تَنفَعُ الشَّفَـعَةُ عِندَهُ إِلاَّ لِمَنْ أَذِنَ لَهُ» ۱؎ [34-سبأ:23] ’ اس کے فرمان کے بغیر کسی کو کسی کی سفارش نفع نہیں دے سکتی۔ ‘ جبکہ بڑے بڑے قریبی فرشتوں کا یہ حال ہے تو پھر اے ناوافقو! تمہارے یہ بت اور تھان کیا نفع پہنچا دیں گے؟ ان کی پرستش سے اللہ روک رہا ہے، تمام رسول علیہ السلام اور کل آسمانی کتابیں اللہ کے سوا اوروں کی عبادت سے روکنا اپنا عظیم الشان مقصد بتاتی ہیں پھر تم ان کو اپنا سفارشی سمجھ رہے ہو کس قدر غلط راہ ہے۔
26۔ 1 یعنی فرشتے، جو اللہ کے مقرب ترین مخلوق ہے ان کو بھی شفاعت کا حق صرف انہی لوگوں کے لئے ملے گا جن کے لئے اللہ پسند کرے گا، جب یہ بات ہے تو پھر یہ پتھر کی مورتیاں کس طرح کسی کی سفارش کرسکیں گی؟ جن سے تم آس لگائے بیٹھے ہو، نیز اللہ تعالیٰ مشرکوں کے حق میں کسی کو سفارش کرنے کا حق بھی کب دے گا، جب کہ شرک اس کے نزدیک ناقابل معافی ہے؟
(آیت 26) {وَ كَمْ مِّنْ مَّلَكٍ فِي السَّمٰوٰتِ لَا تُغْنِيْ شَفَاعَتُهُمْ شَيْـًٔا …:} یعنی تمھارے یہ حاجت روا اور مشکل کشا اور فرشتوں کے ناموں پر بنائے ہوئے دیوی دیوتا تو محض تمھارے وہم و گمان کی پیداوار ہیں، حقیقت میں ان کا کہیں وجود ہی نہیں۔ یہاں تو حقیقی فرشتے جو آسمانوں میں رہتے ہیں اور انھیں اللہ تعالیٰ کا قرب حاصل ہے، ان کا بھی یہ حال ہے کہ ان میں سے کسی کی سفارش کام نہیں آتی، سوائے اس کے جسے اللہ تعالیٰ اجازت دے اور اسی کو فائدہ دیتی ہے جس کے حق میں سفارش کو اللہ تعالیٰ پسند فرمائے اور اس کے حق میں سفارش کی اجازت دے۔ غرض سفارش کا اختیار بھی اللہ تعالیٰ ہی کے پاس ہے، فرمایا: «قُلْ لِّلّٰهِ الشَّفَاعَةُ جَمِيْعًا» [ الزمر: ۴۴ ] ”کہہ دے سفارش ساری کی ساری اللہ ہی کے اختیار میں ہے۔“ پھر اسے چھوڑ کر تم کسی اور کو کیوں پکارتے اور پوجتے ہو؟ شفاعت کے متعلق مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۲۵۵): «مَنْ ذَا الَّذِيْ يَشْفَعُ عِنْدَهٗۤ اِلَّا بِاِذْنِهٖ» (آیت الکرسی) اور سورۂ نبا (۳۸) کی تفسیر۔
مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ فرشتوں کو دیویوں کے ناموں سے موسوم کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وه فرشتوں کا زنانہ نام مقرر کرتے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جو آخرت پر ایمان رکھتے نہیں ملائکہ کا نام عورتوں کا سا رکھتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے وہ فرشتوں کو عورتوں کے نام سے موسوم کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جو آخرت پر ایمان نہیں رکھتے یقینا وہ فرشتوں کے نام عورتوں کے ناموں کی طرح رکھتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آخرت کا گھر اور دنیا ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:19] یعنی ’ اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرسش کی جائے گی۔ ‘ یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے۔ محض جھوٹ، کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہو سکتیں۔ حدیث شریف میں ہے { گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے۔} ۱؎ [صحیح بخاری:6066]
پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کر لیں، ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے، اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (آخرت میں) کنگال ہو اسے جمع کرنے کی دھن میں وہ رہتا ہے۔“ } ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1933،] ایک منقول دعا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں { «اَللّٰھُمَّ لاَ تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَ لاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا» پروردگار! تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3502،قال الشيخ الألباني:حسن] پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے، جسے چاہے ہدایت دے، جسے چاہے ضلالت دے، سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بے انصافی نہیں کرتا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 28،27) ➊ { اِنَّ الَّذِيْنَ لَا يُؤْمِنُوْنَ بِالْاٰخِرَةِ …:} اس کی وضاحت کے لیے دیکھیے سورۂ زخرف (۱۹) کی تفسیر۔ ➋ { اِنْ يَّتَّبِعُوْنَ اِلَّا الظَّنَّ:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ یونس (66،36) کی تفسیر۔
حالانکہ اس معاملہ کا کوئی علم انہیں حاصل نہیں ہے، وہ محض گمان کی پیروی کر رہے ہیں، اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا
مولانا محمد جوناگڑھی
حاﻻنکہ انہیں اس کا کوئی علم نہیں وه صرف اپنے گمان کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں اور بیشک وہم (و گمان) حق کے مقابلے میں کچھ کام نہیں دیتا
احمد رضا خان بریلوی
اور انہیں اس کی کچھ خبر نہیں، وہ تو نرے گمان کے پیچھے ہیں، اور بیشک گمان یقین کی جگہ کچھ کام نہیں دیتا
علامہ محمد حسین نجفی
حالانکہ انہیں اس کا کوئی علم نہیں ہے وہ مخصوص ظن و گمان کی پیروی کرتے ہیں اور ظنِ حق کے مقابلہ میں ذرا بھی کام نہیں دے سکتا۔
عبدالسلام بن محمد
حالانکہ انھیں اس کے متعلق کوئی علم نہیں، وہ صرف گمان کے پیچھے چل رہے ہیں اور بے شک گمان حق کے مقابلے میں کسی کام نہیں آتا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آخرت کا گھر اور دنیا ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:19] یعنی ’ اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرسش کی جائے گی۔ ‘ یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے۔ محض جھوٹ، کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہو سکتیں۔ حدیث شریف میں ہے { گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے۔} ۱؎ [صحیح بخاری:6066]
پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کر لیں، ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے، اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (آخرت میں) کنگال ہو اسے جمع کرنے کی دھن میں وہ رہتا ہے۔“ } ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1933،] ایک منقول دعا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں { «اَللّٰھُمَّ لاَ تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَ لاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا» پروردگار! تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3502،قال الشيخ الألباني:حسن] پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے، جسے چاہے ہدایت دے، جسے چاہے ضلالت دے، سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بے انصافی نہیں کرتا۔
پس اے نبیؐ، جو شخص ہمارے ذکر سے منہ پھیرتا ہے، اور دنیا کی زندگی کے سوا جسے کچھ مطلوب نہیں ہے، اُسے اس کے حال پر چھوڑ دو
مولانا محمد جوناگڑھی
تو آپ اس سے منھ موڑ لیں جو ہماری یاد سے منھ موڑے اور جن کا اراده بجز زندگانیٴ دنیا کے اور کچھ نہ ہو
احمد رضا خان بریلوی
تو تم اس سے منہ پھیر لو، جو ہماری یاد سے پھرا اور اس نے نہ چاہی مگر دنیا کی زندگی
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) آپ اس سے رُوگردانی کیجئے! جو ہمارے ذکر سے رُوگردانی کرتا ہے اور جو زندگانئ دنیا کے سوا اور کچھ نہیں چاہتا۔
عبدالسلام بن محمد
سو اس سے منہ پھیرلے جس نے ہماری نصیحت سے منہ موڑا اور جس نے دنیا کی زندگی کے سوا کچھ نہ چاہا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آخرت کا گھر اور دنیا ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:19] یعنی ’ اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرسش کی جائے گی۔ ‘ یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے۔ محض جھوٹ، کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہو سکتیں۔ حدیث شریف میں ہے { گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے۔} ۱؎ [صحیح بخاری:6066]
پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کر لیں، ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے، اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (آخرت میں) کنگال ہو اسے جمع کرنے کی دھن میں وہ رہتا ہے۔“ } ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1933،] ایک منقول دعا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں { «اَللّٰھُمَّ لاَ تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَ لاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا» پروردگار! تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3502،قال الشيخ الألباني:حسن] پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے، جسے چاہے ہدایت دے، جسے چاہے ضلالت دے، سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بے انصافی نہیں کرتا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 29){ فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى عَنْ ذِكْرِنَا …:} یہاں یہ کہنے کے بجائے کہ {”فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ“} (سو ان سے منہ پھیر لے) یہ فرمایا: «فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى عَنْ ذِكْرِنَا» (سو اس سے منہ پھیر لے جس نے ہماری نصیحت سے منہ موڑا) تاکہ ان مشرکین سے اعراض کی وجہ بھی سامنے آ جائے کہ جو شخص ہماری وحی کے ذریعے سے آنے والی نصیحت کی طرف توجہ دینے کے لیے تیار ہی نہیں، بلکہ جان بوجھ کر اس سے منہ موڑے ہوئے ہے اور دنیا کی زندگی کے سوا اس نے کچھ چاہا ہی نہیں ہے،آپ بھی اس کے پیچھے نہ پڑیں اور نہ ہی اس کی خاطر وقت ضائع کریں۔
اِن لوگوں کا مبلغ علم بس یہی کچھ ہے، یہ بات تیرا رب ہی زیادہ جانتا ہے کہ اُس کے راستے سے کون بھٹک گیا ہے اور کون سیدھے راستے پر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یہی ان کے علم کی انتہا ہے۔ آپ کا رب اس سے خوب واقف ہے جو اس کی راه سے بھٹک گیا ہے اور وہی خوب واقف ہےاس سے بھی جو راه یافتہ ہے
احمد رضا خان بریلوی
یہاں تک ان کے علم کی پہنچ ہے بیشک تمہارا خوب جانتا ہے جو اس کی راہ سے بہکا اور وہ خوب جانتا ہے جس نے راہ پائی،
علامہ محمد حسین نجفی
ان لوگوں کامبلغ علم یہی ہے (ان کے علم کی رسائی کی حد یہی ہے) آپ(ص) کا پروردگار ہی بہتر جانتا ہے کہ اس کے راستہ سے بھٹکا ہوا کون ہے؟ اور وہی بہتر جانتا ہے کہ راہِ راست پر کون ہے؟
عبدالسلام بن محمد
یہ علم میں ان کی انتہا ہے، یقینا تیرا رب ہی زیادہ جاننے والا ہے اسے جو اس کے راستے سے بھٹک گیا اور وہی زیادہ جاننے والا ہے اسے جو راستے پر چلا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آخرت کا گھر اور دنیا ٭٭
اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّحْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:19] یعنی ’ اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرسش کی جائے گی۔ ‘ یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے۔ محض جھوٹ، کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہو سکتیں۔ حدیث شریف میں ہے { گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے۔} ۱؎ [صحیح بخاری:6066]
پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی (صلی اللہ علیہ وسلم ) سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کر لیں، ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے، اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا (آخرت میں) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (آخرت میں) کنگال ہو اسے جمع کرنے کی دھن میں وہ رہتا ہے۔“ } ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1933،] ایک منقول دعا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں { «اَللّٰھُمَّ لاَ تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَ لاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا» پروردگار! تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3502،قال الشيخ الألباني:حسن] پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے، جسے چاہے ہدایت دے، جسے چاہے ضلالت دے، سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بے انصافی نہیں کرتا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 30) ➊ {ذٰلِكَ مَبْلَغُهُمْ مِّنَ الْعِلْمِ: ”مَبْلَغٌ“ ”بَلَغَ يَبْلُغُ“} (ن) سے ظرف ہے، پہنچنے کی جگہ۔ {” ذٰلِكَ “} کا لفظ تحقیر کے لیے ہے کہ ان لوگوں کے علم کی پہنچ اور انتہا اس حقیر حیاتِ دنیا تک ہی ہے، جو آخرت کے مقابلے میں قلیل بھی ہے اور ناپائیدار بھی، اس سے آگے نہ انھیں کچھ علم ہے نہ وہ اس سے آگے جاننے یا سوچنے کے لیے تیار ہیں۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مروی ایک دعا میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ آئے ہیں: [ وَلاَ تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَلاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا ] [ ترمذي، الدعوات، باب دعاء { ”اللهم اقسم لنا…“ }: ۳۵۰۲، قال الألباني حسن ] ”اور دنیا کو ہماری سب سے بڑی فکر نہ بنانا اور نہ اسے ہمارے علم کی انتہا بنانا۔“ ➋ {اِنَّ رَبَّكَ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنْ ضَلَّ عَنْ سَبِيْلِهٖ …:} اس سے اللہ تعالیٰ کا کمال علم ثابت ہوتا ہے کہ اسے ان تمام لوگوں کا علم ہے جو اس کی راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور ان کا بھی جو اس کی راہ پر قائم ہیں۔
اور زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا مالک اللہ ہی ہے تاکہ اللہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے اور اُن لوگوں کو اچھی جزا سے نوازے جنہوں نے نیک رویہ اختیار کیا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے تاکہ اللہ تعالیٰ برے عمل کرنے والوں کو ان کے اعمال کا بدلہ دے اور نیک کام کرنے والوں کو اچھا بدلہ عنایت فرمائے
احمد رضا خان بریلوی
اور اللہ ہی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں تاکہ برائی کرنے والوں کو ان کے کیے کا بدلہ دے اور نیکی کرنے والوں کو نہایت اچھا صلہ عطا فرمائے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے وہ اللہ ہی کا ہے تاکہ وہ برا کام کرنے والوں کو ان کے (برے) کاموں کا بدلہ دے اور نیک کرنے والوں کو اچھی جزا عطا کرے۔
عبدالسلام بن محمد
اور جو کچھ آسمانوں میں اور جو کچھ زمین میں ہے اللہ ہی کا ہے، تاکہ وہ ان لوگوں کو جنھوں نے برائی کی، اس کا بدلہ دے جو انھوں نے کیا اور ان لوگوں کو جنھوں نے بھلائی کی، بھلائی کے ساتھ بدلہ دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گناہ اور ضابطہ الہٰی ٭٭
مالک آسمان و زمین، بے پرواہ، مطلق شہنشاہ، حقیقی عادل، خالق، حق و حق کار اللہ تعالیٰ ہی ہے، ہر کسی کو اس کے اعمال کا بدلہ دینے والا، نیکی پر نیک جزا اور بدی پر بری سزا وہی دے گا۔ اس کے نزدیک بھلے لوگ وہ ہیں جو اس کی حرام کردہ چیزوں اور کاموں سے بڑے بڑے گناہوں اور بدکاریوں و نالائقیوں سے الگ رہیں ان سے بتقاضائے بشریت اگر کبھی کوئی چھوٹا سا گناہ سرزد ہو بھی جائے تو پروردگار پردہ پوشی کرتا ہے اور معاف فرما دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا» ۱؎ [4-النساء:31] ’ اگر تم ان کبیرہ گناہوں سے پاکدامن رہے جن سے تمہیں روک دیا گیا ہے تو ہم تمہاری برائیاں معاف فرما دیں گے ‘۔ یہاں بھی فرمایا: مگر چھوٹی چھوٹی لغزشیں اور انسانیت کی کمزوریاں معاف ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «لَـمَـمَ» کی تفسیر میرے خیال میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ اس حدیث سے زیادہ اچھی کوئی نہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر اس کا زنا کا حصہ لکھ دیا ہے جسے وہ یقیناً پا کر ہی رہے گا، آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے، دل امنگ اور آرزو کرتا ہے، اب شرمگاہ خواہ اسے سچا کر دکھائے یا جھوٹا۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:2643] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آنکھوں کا زنا نظر کرنا ہے اور ہونٹوں کا بوسہ لینا ہے اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے اور پیروں کا زنا چلنا ہے اور شرمگاہ اسے سچا کرتی ہے یا جھوٹا کر دیتی ہے یعنی اگر شرمگاہ کو نہ روک سکا اور بدکاری کر بیٹھا تو سب اعضاء کا زنا ثابت اور اگر اپنے اس عضو کو روک لیا تو وہ سب «لَـمَـمَ» میں داخل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:516/11] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «لَـمَـمَ» بوسہ لینا، چھیڑنا، دیکھنا، مس کرنا ہے اور جب شرمگاہیں مل گئیں تو غسل واجب ہو گیا اور زناکاری کا گناہ ثابت ہو گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس جملہ کی تفسیر یہی مروی ہے یعنی جو پہلے گزر چکا، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں گناہ سے آلودگی ہو پھر چھوڑ دے تو «لَـمَـمَ» میں داخل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:528/11] شاعر کہتا ہے «إِنْ تَغْفِرْ اللَّهُمَّ تَغْفِرْ جَمًّا» *** «أَيّ عَبْدٍ لَك مَا أَلَمَّا» اے اللہ! جبکہ تو معاف فرماتا ہے تو سب کچھ ہی معاف فرما دے ورنہ یوں آلودہ عصیاں تو ہر انسان ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اہل جاہلیت اپنے طواف میں عموماً اس شعر کو پڑھا کرتے تھے۔ ابن جریر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شعر کو پڑھنا بھی مروی ہے، ترمذی میں بھی یہ مروی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3284،قال الشيخ الألباني:صحیح] بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہمیں اس کی اور سند معلوم نہیں صرف اسی سند سے مرفوعاً مروی ہے ابن ابی حاتم اور بغوی نے بھی اسے نقل کیا ہے بغوی نے اسے سورۃ تنزیل میں روایت کیا ہے لیکن اس مرفوع کی صحت میں نظر ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مراد یہ ہے کہ زنا سے نزدیکی ہونے کے بعد توبہ کرے اور پھر نہ لوٹے، چوری کے قریب ہو جانے کے بعد چوری نہ کی اور توبہ کر کے لوٹ آیا، اسی طرح شراب پینے کے قریب ہو کر شراب نہ پی اور توبہ کر کے لوٹ گیا، یہ سب «المام» ہیں جو ایک مومن کو معاف ہیں“ }۔ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32569] ایک روایت میں ہے صحابہ رضی اللہ عنہم سے عمومًا اس کا مروی ہونا بیان کیا گیا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مراد اس سے شرک کے علاوہ گناہ ہیں۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دو حدوں کے درمیان حد زنا اور عذاب آخرت ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہر وہ چیز جو دو حدوں کے درمیان حد دنیا اور حد آخرت نمازیں اس کا کفارہ بن جاتی ہیں اور وہ ہر واجب کر دینے والی سے کم ہے، حد دنیا تو وہ ہے جو کسی گناہ پر اللہ نے دنیاوی سزا مقرر کر دی ہے اور اس کی سزا دنیا میں مقرر نہیں کی۔ تیرے رب کی بخشش بہت وسیع ہے ہر چیز کو گھیر لیا ہے اور تمام گناہوں پر اس کا احاطہٰ ہے جیسے فرمان ہے «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ’ اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جان پر اسراف کیا ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے اور وہ بڑی بخشش والا اور بڑے رحم والا ہے۔ ‘ پھر فرمایا وہ تمہیں دیکھنے والا اور تمہارے ہر حال کا علم رکھنے والا اور تمہارے ہر کلام کو سننے والا اور تمہارے تمام تر اعمال سے واقف ہے جبکہ اس نے تمہارے باپ آدم کو زمین سے پیدا کیا اور ان کی پیٹھ سے ان کی اولاد نکالی جو چیونٹیوں کی طرح پھیل گئی پھر ان کی تقسیم کر کے دو گروہ بنا دئیے ایک جنت کے لیے اور ایک جہنم کے لیے اور جب تم اپنی ماں کے پیٹ میں بچے تھے اس کی مقرر کردہ فرشتے نے روزی، عمر، عمل، نیکی، بدی لکھ لی۔ بہت سے بچے پیٹ سے ہی گر جاتے ہیں، بہت سے دودھ پینے کی حالت میں فوت ہو جاتے ہیں، بہت سے دودھ چھٹنے کے بعد بلوغت سے پہلے ہی چل بستے ہیں، بہت سے عین جوانی میں دار دنیا خالی کر جاتے ہیں، اب جبکہ ہم تمام منازل کو طے کر چکے اور بڑھاپے میں آ گئے جس کے بعد کوئی منزل موت کے سوا نہیں اب بھی اگر ہم نہ سنبھلیں تو ہم سے بڑھ کر غافل کون ہے؟ خبردار تم اپنے نفس کو پاک نہ کہو اپنے نیک اعمال کی تعریفیں کرنے نہ بیٹھ جاؤ، اپنے آپ سراہنے نہ لگو، جس کے دل میں رب کا ڈر ہے اسے رب ہی خوب جانتا ہے۔
اور آیت میں ہے «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم بَلِ اللَّـهُ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا» ۱؎ [4-النساء:49] ’ کیا تو نے ان لوگوں کو نہ دیکھا جو اپنے نفس کی پاکیزگی آپ بیان کرتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ یہ اللہ کے ہاتھ ہے جسے وہ چاہے برتر اعلیٰ اور پاک صاف کر دے کسی پر کچھ بھی ظلم نہ ہو گا۔‘ محمد بن عمرو بن عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں { میں نے اپنی لڑکی کا نام برہ رکھا تو مجھ سے زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام سے منع فرمایا ہے خود میرا نام بھی برہ تھا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم خود اپنی برتری اور پاکی آپ نہ بیان کرو تم میں سے نیکی والوں کا علم پورے طور پر اللہ ہی کو ہے۔“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ فرمایا: ”زینب نام رکھو“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2142] مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی ایک شخص کی بہت تعریفیں بیان کیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس تو نے اس کی گردن ماری، کئی مرتبہ یہی فرما کر ارشاد فرمایا کہ اگر کسی کی تعریف ہی کرنی ہو تو یوں کہو، میرا گمان فلاں کے بارے میں ایسا ہے حقیقی علم اللہ کو ہی ہے پھر اپنی معلومات بیان کرو خود کسی کی پاکیزگیاں بیان کرنے نہ بیٹھ جاؤ“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2662] ابوداؤد اور مسلم میں ہے کہ { ایک شخص نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے ان کی تعریفیں بیان کرنا شروع کر دیں اس پر مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ اس کے منہ میں مٹی بھرنے لگے اور فرمایا: ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ تعریفیں کرنے والوں کے منہ مٹی سے بھر دیں۔“ } ۱؎ [صحیح مسلم:7431]
31۔ 1 یعنی ہدایت اور گمراہی اسی کے ہاتھ میں ہے، وہ جس کو چاہتا ہے ہدایت سے نوازتا ہے اور جسے چاہتا ہے، گمراہی کے گڑھے میں ڈال دیتا ہے، تاکہ نیکوکار اس کی نیکیوں کا صلہ اور بدکار کو اس کی برائیوں کا بدلہ دے۔
(آیت 31) ➊ { وَ لِلّٰهِ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ:} لفظ {” لِلّٰهِ “} پہلے لانے سے حصر پیدا ہو رہا ہے۔ اس جملے میں اللہ تعالیٰ کی قدرت اور اس کے اختیار کے کمال کا ذکر ہے کہ ساری کائنات کی ہر چیز کا وہی مالک ہے۔ ➋ { لِيَجْزِيَ الَّذِيْنَ اَسَآءُوْا بِمَا عَمِلُوْا …:} تو جب وہ علم اور قدرت دونوں میں کامل ہے تو اس کا نتیجہ یہی ہے کہ وہ برائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلا دے گا اور بھلائی کرنے والوں کو بھلائی کے ساتھ بدلا دے گا، ان میں سے کوئی بھی نہ اس کے علم سے اوجھل ہے نہ اس کی قدرت سے باہر ہے۔ اس میں برائی کرنے والوں کے لیے وعید اور بھلائی کرنے والوں کے لیے وعدہ ہے۔
جو بڑے بڑے گناہوں اور کھلے کھلے قبیح افعال سے پرہیز کرتے ہیں، الا یہ کہ کچھ قصور اُن سے سرزد ہو جائے بلاشبہ تیرے رب کا دامن مغفرت بہت وسیع ہے وہ تمھیں اُس وقت سے خوب جانتا ہے جب اُس نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں ابھی جنین ہی تھے پس اپنے نفس کی پاکی کے دعوے نہ کرو، وہی بہتر جانتا ہے کہ واقعی متقی کون ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان لوگوں کو جو بڑے گناہوں سے بچتے ہیں اور بے حیائی سے بھی۔ سوائے کسی چھوٹے سے گناه کے۔ بیشک تیرا رب بہت کشاده مغفرت واﻻ ہے، وه تمہیں بخوبی جانتا ہے جبکہ اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جبکہ تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں بچے تھے۔ پس تم اپنی پاکیزگی آپ بیان نہ کرو، وہی پرہیزگاروں کو خوب جانتا ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں مگر اتنا کہ گناہ کے پاس گئے اور رک گئے بیشک تمہارے رب کی مغفرت وسیع ہے، وہ تمہیں خوب جانتا ہے تمہیں مٹی سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹ میں حمل تھے، تو آپ اپنی جانوں کو ستھرا نہ بتاؤ وہ خوب جانتا ہے جو پرہیزگار ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
جو کہ بڑے گناہوں اور بےحیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں مگر یہ کہ کچھ ہلکے گناہ سر زد ہو جائیں۔ بےشک آپ کا پروردگار وسیع مغفرت والا ہے وہ تمہیں (اس وقت سے) خوب جانتا ہے جب اس نے تمہیں زمین سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں جنین کی صورت میں تھے پس تم اپنے آپ کی پاکی کے دعوے نہ کرو۔ وہ (اللہ) بہتر جانتا ہے کہ واقعی پرہیزگار کون ہے؟
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ جو بڑے گناہوں اور بے حیائیوں سے بچتے ہیں مگر صغیرہ گناہ، یقینا تیرا رب وسیع بخشش والا ہے، وہ تمھیں زیادہ جاننے والا ہے جب اس نے تمھیں زمین سے پیدا کیا اور جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں بچے تھے۔ سو اپنی پاکیزگی کا دعویٰ نہ کرو ، وہ زیادہ جاننے والا ہے کہ کون بچا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
گناہ اور ضابطہ الہٰی ٭٭
مالک آسمان و زمین، بے پرواہ، مطلق شہنشاہ، حقیقی عادل، خالق، حق و حق کار اللہ تعالیٰ ہی ہے، ہر کسی کو اس کے اعمال کا بدلہ دینے والا، نیکی پر نیک جزا اور بدی پر بری سزا وہی دے گا۔ اس کے نزدیک بھلے لوگ وہ ہیں جو اس کی حرام کردہ چیزوں اور کاموں سے بڑے بڑے گناہوں اور بدکاریوں و نالائقیوں سے الگ رہیں ان سے بتقاضائے بشریت اگر کبھی کوئی چھوٹا سا گناہ سرزد ہو بھی جائے تو پروردگار پردہ پوشی کرتا ہے اور معاف فرما دیتا ہے جیسے اور آیت میں ہے «إِن تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُم مُّدْخَلًا كَرِيمًا» ۱؎ [4-النساء:31] ’ اگر تم ان کبیرہ گناہوں سے پاکدامن رہے جن سے تمہیں روک دیا گیا ہے تو ہم تمہاری برائیاں معاف فرما دیں گے ‘۔ یہاں بھی فرمایا: مگر چھوٹی چھوٹی لغزشیں اور انسانیت کی کمزوریاں معاف ہیں۔
سیدنا عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں «لَـمَـمَ» کی تفسیر میرے خیال میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی بیان کردہ اس حدیث سے زیادہ اچھی کوئی نہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ نے ابن آدم پر اس کا زنا کا حصہ لکھ دیا ہے جسے وہ یقیناً پا کر ہی رہے گا، آنکھوں کا زنا دیکھنا ہے، زبان کا زنا بولنا ہے، دل امنگ اور آرزو کرتا ہے، اب شرمگاہ خواہ اسے سچا کر دکھائے یا جھوٹا۔“ } ۱؎ [صحیح بخاری:2643] سیدنا ابن مسعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں آنکھوں کا زنا نظر کرنا ہے اور ہونٹوں کا بوسہ لینا ہے اور ہاتھوں کا زنا پکڑنا ہے اور پیروں کا زنا چلنا ہے اور شرمگاہ اسے سچا کرتی ہے یا جھوٹا کر دیتی ہے یعنی اگر شرمگاہ کو نہ روک سکا اور بدکاری کر بیٹھا تو سب اعضاء کا زنا ثابت اور اگر اپنے اس عضو کو روک لیا تو وہ سب «لَـمَـمَ» میں داخل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:516/11] سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ «لَـمَـمَ» بوسہ لینا، چھیڑنا، دیکھنا، مس کرنا ہے اور جب شرمگاہیں مل گئیں تو غسل واجب ہو گیا اور زناکاری کا گناہ ثابت ہو گیا، سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے اس جملہ کی تفسیر یہی مروی ہے یعنی جو پہلے گزر چکا، مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں گناہ سے آلودگی ہو پھر چھوڑ دے تو «لَـمَـمَ» میں داخل ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:528/11] شاعر کہتا ہے «إِنْ تَغْفِرْ اللَّهُمَّ تَغْفِرْ جَمًّا» *** «أَيّ عَبْدٍ لَك مَا أَلَمَّا» اے اللہ! جبکہ تو معاف فرماتا ہے تو سب کچھ ہی معاف فرما دے ورنہ یوں آلودہ عصیاں تو ہر انسان ہے۔ مجاہد رحمہ اللہ فرماتے ہیں اہل جاہلیت اپنے طواف میں عموماً اس شعر کو پڑھا کرتے تھے۔ ابن جریر میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اس شعر کو پڑھنا بھی مروی ہے، ترمذی میں بھی یہ مروی ہے اور امام ترمذی اسے حسن صحیح غریب کہتے ہیں۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3284،قال الشيخ الألباني:صحیح] بزار رحمہ اللہ فرماتے ہیں ہمیں اس کی اور سند معلوم نہیں صرف اسی سند سے مرفوعاً مروی ہے ابن ابی حاتم اور بغوی نے بھی اسے نقل کیا ہے بغوی نے اسے سورۃ تنزیل میں روایت کیا ہے لیکن اس مرفوع کی صحت میں نظر ہے۔
ایک روایت میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”مراد یہ ہے کہ زنا سے نزدیکی ہونے کے بعد توبہ کرے اور پھر نہ لوٹے، چوری کے قریب ہو جانے کے بعد چوری نہ کی اور توبہ کر کے لوٹ آیا، اسی طرح شراب پینے کے قریب ہو کر شراب نہ پی اور توبہ کر کے لوٹ گیا، یہ سب «المام» ہیں جو ایک مومن کو معاف ہیں“ }۔ حسن بصری رحمہ اللہ سے بھی یہی مروی ہے۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:32569] ایک روایت میں ہے صحابہ رضی اللہ عنہم سے عمومًا اس کا مروی ہونا بیان کیا گیا ہے۔ سیدنا عبداللہ بن عمرو فرماتے ہیں مراد اس سے شرک کے علاوہ گناہ ہیں۔ ابن زبیر رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں دو حدوں کے درمیان حد زنا اور عذاب آخرت ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ ہر وہ چیز جو دو حدوں کے درمیان حد دنیا اور حد آخرت نمازیں اس کا کفارہ بن جاتی ہیں اور وہ ہر واجب کر دینے والی سے کم ہے، حد دنیا تو وہ ہے جو کسی گناہ پر اللہ نے دنیاوی سزا مقرر کر دی ہے اور اس کی سزا دنیا میں مقرر نہیں کی۔ تیرے رب کی بخشش بہت وسیع ہے ہر چیز کو گھیر لیا ہے اور تمام گناہوں پر اس کا احاطہٰ ہے جیسے فرمان ہے «قُلْ يَا عِبَادِيَ الَّذِينَ أَسْرَفُوا عَلَى أَنفُسِهِمْ لَا تَقْنَطُوا مِن رَّحْمَةِ اللَّـهِ إِنَّ اللَّـهَ يَغْفِرُ الذُّنُوبَ جَمِيعًا إِنَّهُ هُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ» ۱؎ [39-الزمر:53] ’ اے میرے وہ بندو! جنہوں نے اپنی جان پر اسراف کیا ہے اللہ کی رحمت سے ناامید نہ ہونا اللہ تعالیٰ تمام گناہوں کو بخش دیتا ہے اور وہ بڑی بخشش والا اور بڑے رحم والا ہے۔ ‘ پھر فرمایا وہ تمہیں دیکھنے والا اور تمہارے ہر حال کا علم رکھنے والا اور تمہارے ہر کلام کو سننے والا اور تمہارے تمام تر اعمال سے واقف ہے جبکہ اس نے تمہارے باپ آدم کو زمین سے پیدا کیا اور ان کی پیٹھ سے ان کی اولاد نکالی جو چیونٹیوں کی طرح پھیل گئی پھر ان کی تقسیم کر کے دو گروہ بنا دئیے ایک جنت کے لیے اور ایک جہنم کے لیے اور جب تم اپنی ماں کے پیٹ میں بچے تھے اس کی مقرر کردہ فرشتے نے روزی، عمر، عمل، نیکی، بدی لکھ لی۔ بہت سے بچے پیٹ سے ہی گر جاتے ہیں، بہت سے دودھ پینے کی حالت میں فوت ہو جاتے ہیں، بہت سے دودھ چھٹنے کے بعد بلوغت سے پہلے ہی چل بستے ہیں، بہت سے عین جوانی میں دار دنیا خالی کر جاتے ہیں، اب جبکہ ہم تمام منازل کو طے کر چکے اور بڑھاپے میں آ گئے جس کے بعد کوئی منزل موت کے سوا نہیں اب بھی اگر ہم نہ سنبھلیں تو ہم سے بڑھ کر غافل کون ہے؟ خبردار تم اپنے نفس کو پاک نہ کہو اپنے نیک اعمال کی تعریفیں کرنے نہ بیٹھ جاؤ، اپنے آپ سراہنے نہ لگو، جس کے دل میں رب کا ڈر ہے اسے رب ہی خوب جانتا ہے۔
اور آیت میں ہے «أَلَمْ تَرَ إِلَى الَّذِينَ يُزَكُّونَ أَنفُسَهُم بَلِ اللَّـهُ يُزَكِّي مَن يَشَاءُ وَلَا يُظْلَمُونَ فَتِيلًا» ۱؎ [4-النساء:49] ’ کیا تو نے ان لوگوں کو نہ دیکھا جو اپنے نفس کی پاکیزگی آپ بیان کرتے ہیں وہ نہیں جانتے کہ یہ اللہ کے ہاتھ ہے جسے وہ چاہے برتر اعلیٰ اور پاک صاف کر دے کسی پر کچھ بھی ظلم نہ ہو گا۔‘ محمد بن عمرو بن عطا رحمہ اللہ فرماتے ہیں { میں نے اپنی لڑکی کا نام برہ رکھا تو مجھ سے زینب بنت ابوسلمہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس نام سے منع فرمایا ہے خود میرا نام بھی برہ تھا جس پر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم خود اپنی برتری اور پاکی آپ نہ بیان کرو تم میں سے نیکی والوں کا علم پورے طور پر اللہ ہی کو ہے۔“ لوگوں نے کہا: پھر ہم اس کا کیا نام رکھیں؟ فرمایا: ”زینب نام رکھو“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2142] مسند احمد میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے کسی ایک شخص کی بہت تعریفیں بیان کیں آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”افسوس تو نے اس کی گردن ماری، کئی مرتبہ یہی فرما کر ارشاد فرمایا کہ اگر کسی کی تعریف ہی کرنی ہو تو یوں کہو، میرا گمان فلاں کے بارے میں ایسا ہے حقیقی علم اللہ کو ہی ہے پھر اپنی معلومات بیان کرو خود کسی کی پاکیزگیاں بیان کرنے نہ بیٹھ جاؤ“ }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:2662] ابوداؤد اور مسلم میں ہے کہ { ایک شخص نے سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ کے سامنے ان کی تعریفیں بیان کرنا شروع کر دیں اس پر مقداد بن اسود رضی اللہ عنہ اس کے منہ میں مٹی بھرنے لگے اور فرمایا: ”ہمیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ تعریفیں کرنے والوں کے منہ مٹی سے بھر دیں۔“ } ۱؎ [صحیح مسلم:7431]
32۔ 1 کبائر، کبیرت کی جمع ہے۔ کبیرہ گناہ کی تعریف میں اختلاف ہے۔ زیادہ اہل علم کے نزدیک ہر وہ گناہ کبرہ ہے جس پر جہنم کی وعید ہے، یا جس کے مرتکب کی سخت مذمت قرآن و حدیث میں مذکور ہے اور اہل علم یہ بھی کہتے ہیں کہ چھوٹے گناہ پر اصرار و دوام بھی اسی کبیرہ گناہ بنا دیتا ہے۔ علاوہ ازیں اس کے معنی اور ماہیت کی تحقیق میں اختلاف کی طرح، اس کی تعداد میں بھی اختلاف ہے، بعض علماء نے انہیں کتابوں میں جمع بھی کیا ہے۔ جیسے کتاب الکبائر للذہبی اور الزواجر وغیرہ۔ فواحش، فاحشت کی جمع ہے، بےحیائی کے مظاہر چونکہ بہت عام ہوگئے ہیں، اس لیے بےحیائی کو، تہذیب، سمجھ لیا گیا، حتی کہ اب مسلمانوں نے بہی اس، تہذیب بےحیائی، کو اپنا لیا ہے۔ چناچہ گھروں میں ٹیوی، وی سی آر وغیرہ عام ہیں، عورتوں نے نہ صرف پردے کو خیرباد کہہ دیا، بلکہ بن سنور کر اور حسن وجمال کا مجسم اشتہار بن کر باہر نکلنے کو اپنا شعار اور وطیرہ بنالیا ہے۔ مخلوط تعلیم، مخلوط ادارے، مخلوط مجلسیں اور دیگر بہت سے موقعوں پر مرد و زن کا بےباکانہ اختلاط اور بےمحابا گفتگو روز افزوں ہے، دراں حالیکہ یہ سب، فواحش، میں داخل ہیں، جن کی بابت یہاں بتلایا جارہا ہے کہ جن لوگوں کی مغفرت ہونی ہے، وہ کبائر فواحش سے اجتناب کرنے والے ہوں گے نہ کہ ان میں مبتلا۔ (2) اس کا مطلب یہ ہے کہ کسی بڑے گناہ کے آغاز کا ارتکاب، لیکن بڑے گناہ سے پرہیز کرنا یا کسی گناہ کا ایک دو مرتبہ کرنا پھر ہمیشہ کے لئے اسے چھوڑ دینا، یا کسی گناہ کا محض دل میں خیال کرنا لیکن عملاً اس کے قریب نہ جانا، یہ سارے صغیرہ گناہ ہوں گے، جو اللہ تعالیٰ کبائر سے اجتناب کی برکت سے معاف فرمادے گا۔ (3) جنین کی جمع ہے جو پیٹ کے بچے کو کہا جاتا ہے، اس لیے کہ یہ لوگوں کی نظروں سے مستور ہوتا ہے۔ (3) یعنی اس سے جب تمہاری کوئی کیفیت اور حرکت مخفی نہیں، حتی کہ جب تم ماں کے پیٹ میں تھے، جہاں تمہیں کوئی دیکھنے پر قادر نہیں تھا، وہاں بھی تمہارے تمام احوال سے واقف تھا، تو بھر اپنی پاکیزگی بیان کرنے کی اور اپنے منہ میاں مٹھو بننے کی کیا ضرورت ہے؟ مطلب یہ ہے کہ ایسا نہ کرو۔ تاکہ ریاکاری سے تم بچو۔
(آیت 32) ➊ { اَلَّذِيْنَ يَجْتَنِبُوْنَ كَبٰٓىِٕرَ الْاِثْمِ وَ الْفَوَاحِشَ …:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ شوریٰ (۳۷) کی تفسیر۔ ➋ { اِلَّا اللَّمَمَ: ”اَلْإِلْمَامُ“} اور {”اَللَّمَمُ“} کا اصل معنی ”کسی جگہ تھوڑی دیر کے لیے اترنا“ ہے۔ {”أَلَمَّ فُلَانٌ بِالْمَكَانِ“} جب کوئی شخص کسی جگہ تھوڑی دیر کے لیے اترا ہو۔ یعنی بھلائی کرنے والے لوگ جنھیں اللہ بھلائی کے ساتھ جزا دے گا، وہ ہیں جو کبیرہ گناہوں اور فواحش سے بچتے ہیں، مگر کبھی کسی وقت ان سے کوئی گناہ ہو جائے تو وہ اس پر اصرار نہیں کرتے بلکہ فوراً توبہ کر کے اس سے نکل جاتے ہیں۔ گناہ سے ان کی آلودگی تھوڑی دیر کے لیے ہوتی ہے۔ (دیکھیے نساء: ۱۷،۱۸) طبری نے صحیح سند کے ساتھ ابن عباس رضی اللہ عنھما کا قول نقل فرمایا ہے: ”اس سے مراد وہ شخص ہے جو کسی فاحشہ کا ارتکاب کرتا ہے پھر توبہ کر لیتا ہے۔“ {” اللَّمَمَ “} کا معنی ”قریب ہونا“ بھی ہے، {” أَلَمَّ بِالشَّيْءِ إِذَا قَارَبَهُ وَلَمْ يُخَالِطْهُ “} جب کوئی شخص کسی کام کے قریب ہوا ہو، مگر اس نے وہ کام نہ کیا ہو۔ اس لیے اکثر سلف نے {” اللَّمَمَ “} سے مراد صغیرہ گناہ لیے ہیں۔ چنانچہ ابن عباس رضی اللہ عنھما نے فرمایا: ”میں نے {” اللَّمَمَ “} کے مشابہ اس سے زیادہ کوئی چیز نہیں دیکھی جو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کی ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ كَتَبَ عَلَی ابْنِ آدَمَ حَظَّهُ مِنَ الزِّنَا، أَدْرَكَ ذٰلِكَ لاَ مَحَالَةَ، فَزِنَا الْعَيْنِ النَّظَرُ وَ زِنَا اللِّسَانِ الْمَنْطِقُ وَالنَّفْسُ تَمَنّٰی وَتَشْتَهِيْ وَالْفَرْجُ يُصَدِّقُ ذٰلِكَ كُلَّهُ وَ يُكَذِّبُهُ ] [ بخاري، الاستئذان، باب زنا الجوارح دون الفرج: ۶۲۴۳ ] ”اللہ تعالیٰ نے ابنِ آدم پر زنا میں سے اس کا حصہ لکھ دیا ہے، جسے لامحالہ اس نے پانا ہی پانا ہے۔ سو آنکھ کا زنا دیکھنا ہے اور زبان کا زنا بولنا ہے اور نفس تمنا کرتا اور خواہش کرتا ہے اور شرم گاہ اس سب کو سچا کر دکھا تی ہے یا جھوٹا۔ “ مزید دیکھیے سورۂ نساء (۳۱) کی تفسیر۔ ➌ { اِنَّ رَبَّكَ وَاسِعُ الْمَغْفِرَةِ:} اللہ تعالیٰ کی صفات میں سے {”رَبٌّ“} کا ذکر کر کے فرمایا کہ تیرا رب وسیع بخشش والا ہے، یعنی اس کی ربوبیت کا نتیجہ ہے کہ وہ بندوں کے گناہوں پر پردہ ڈالتا ہے اور انھیں معاف فرماتا ہے، ورنہ اگر وہ ہر چھوٹے بڑے گناہ پر گرفت فرمائے تو زمین پر کوئی متنفس باقی نہ چھوڑے۔ اس کی مغفرت اتنی وسیع ہے کہ وہ توبہ کرنے والوں کا ہر گناہ حتیٰ کہ کفر و شرک بھی معاف کر دیتا ہے اور جسے چاہے کفر و شرک کے سوا توبہ کے بغیر بھی سب کچھ معاف کر دیتا ہے۔ ➍ { هُوَ اَعْلَمُ بِكُمْ اِذْ اَنْشَاَكُمْ مِّنَ الْاَرْضِ …:” اَجِنَّةٌ “ ”جَنِيْنٌ“} کی جمع ہے، بچہ جب تک ماں کے پیٹ میں رہے، کیونکہ وہ وہاں چھپا ہوا ہوتا ہے۔ یعنی اس کی مغفرت کی یہ وسعت اس کے علم کی وسعت کی وجہ سے ہے، وہ تم سے بھی زیادہ تمھارا علم رکھتا ہے، اسے تمھارا اس وقت کا حال بھی معلوم ہے جب تم اس قابل ہی نہیں تھے کہ کچھ جان سکو۔ چنانچہ وہ تمھارے اس وقت کا بھی علم رکھتا ہے جب اس نے تمھیں زمین سے پیدا کیا اور اس وقت کا بھی جب تم اپنی ماؤں کے پیٹوں میں جنین کی حالت میں تھے۔ اسے تمھاری کمزوری اور گناہ کی طرف رغبت خوب معلوم ہے، اس لیے وہ چھوٹے موٹے گناہوں کو ویسے ہی معاف کر دیتا ہے۔ ➎ {فَلَا تُزَكُّوْۤا اَنْفُسَكُمْ هُوَ اَعْلَمُ بِمَنِ اتَّقٰى:} اس لیے اگر تمھیں کسی اچھے کام کی توفیق مل جائے تو نہ اس پر فخر کرو اور نہ اپنے آپ کو پاک قرار دو۔ ہمیشہ اپنی ابتدا پر نظر رکھو اور اپنی انتہا پر بھی، کیونکہ تمھارا انجام اللہ تعالیٰ ہی جانتا ہے کہ اچھا ہے یا برا۔ وہی جانتا ہے کہ حقیقی متقی کون ہے، جس کا خاتمہ تقویٰ پر ہو گا، تو جب تمھیں اپنا انجام ہی معلوم نہیں تو اپنے پاک ہونے کا دعویٰ کیسے کر سکتے ہو؟ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نساء کی آیت (۴۹) کی تفسیر۔ ➏ اس حکم کی دھڑلے کے ساتھ مخالفت سب سے زیادہ بعض صوفی حضرات نے کی ہے۔ اس کی واضح دلیل ان کا ”وحدت الوجود“ کا عقیدہ ہے، بھلا جو شخص مردہ مٹی سے بنا، پھر رحم کی تین ظلمتوں میں غلیظ خون کے ساتھ پرورش پاتا رہا اور پیشاب کے راستوں سے دو دفعہ گزر کر وجود میں آیا، جسے اپنے انجام تک کا علم نہیں کہ جنت ہے یا جہنم، اسے خدائی کا دعویٰ کرتے ہوئے حیا نہیں آتی۔ ان لوگوں نے اپنی {” اَنَا رَبُّكُمُ الْاَعْلٰي “} کی فرعونیت کو زہد و تقدس کے پردے میں چھپا رکھا ہے۔ ان میں سے کوئی کہتا ہے: {”سُبْحَانِيْ مَا أَعْظَمَ شَأْنِيْ“} ”میں پاک ہوں، میری شان کس قدر عظیم ہے۔“ کوئی کہتا ہے: {”مُلْكِيْ أَعْظَمُ مِنْ مُلْكِ اللّٰهِ“} ”میرا ملک اللہ کے ملک سے بڑا ہے۔“ کوئی کہتا ہے: ”میرا دل چاہتا ہے دوزخ کو بجھا دوں، جنت کو جلا دوں۔“ غرض اپنی پاکبازی کے دعوے کے ساتھ جو لاف زنی اور بے ہودہ گوئی یہ لوگ کرتے ہیں آپ کو اور کسی جگہ مشکل سے ملے گی۔
پھر اے نبیؐ، تم نے اُس شخص کو بھی دیکھا جو راہ خدا سے پھر گیا
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا آپ نے اسے دیکھا جس نے منھ موڑ لیا
احمد رضا خان بریلوی
تو کیا تم نے دیکھا جو پھر گیا
علامہ محمد حسین نجفی
(اے رسول(ص)) کیا آپ(ص) نے اس شخص کو دیکھا ہے جس نے رُوگردانی کی۔
عبدالسلام بن محمد
پھر کیا تو نے دیکھا اسے جس نے منہ موڑ لیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں، سچ نہ کہیں، نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں، اعراض کریں، راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں، دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں، کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہو گئے۔ عرب «اَکْدیٰ» اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آ جائے اور وہ دستبردار ہو جائیں۔ فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے، نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے۔ حدیث میں ہے { اے بلال! خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ۔ } ۱؎ [طبرانی:1020:ضعیف] خود قرآن میں ہے آیت «وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ» ۱؎ [34-سبأ:39] ’ تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ ‘ «وَفَّىٰ» کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا، دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا» ۱؎ [2-البقرة:124] ، ’ ابراہیم (علیہ السلام) کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر لیے۔ ‘ یعنی ہر حکم کو بجا لائے، ہر منع سے رکے رہے، رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنا دیا۔
جیسے ارشاد ہوا ہے «ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» ۱؎ [16-النحل:123] ’ پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا۔ ‘ ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ { ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی۔ } ۱؎ [ضعیف جدا] ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ { اے ابن آدم! اول دن میں تو میرے لئے چار رکعت ادا کر لے میں آخر دن تک تیری کفایات کروں گا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:385،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابراہیم علیہ السلام کے لیے لفظ «وَفَّى» اس لیے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:17] یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ختم کی۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1358،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر بیان ہورہا ہے کہ «صحف ابراہیم و موسیٰ» میں کیا تھا؟ ان میں یہ تھا کہ جس کسی نے اپنی جان پر ظلم کیا مثلاً شرک و کفر کیا یا گناہ صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔
جیسے قرآن کریم میں ہے «وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [35-فاطر:18] ، ’ اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابت دار ہو۔ ‘ ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا، دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لیے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے، نہ کسب، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کا جواز بیان کیا، نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی، نہ انہیں اس پر آمادہ کیا، نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے، نہ کسی اشارے کنائیے سے، ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لیے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے (رضی اللہ عنہم اجمعین)۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں، ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، اس پر اجماع ہے اور شارع علیہ السلام کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1631]
اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو، اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1357،قال الشيخ الألباني:صحیح] پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لیے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے، اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [36-يس:12] ، یعنی ’ ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ ‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2674] پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا «وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [9-التوبة:105] ، یعنی ’ کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا ‘ یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 34،33) ➊ { اَفَرَءَيْتَ الَّذِيْ تَوَلّٰى:} اس سورت کا مضمون رسالت کا اثبات، شرک اور بت پرستی کی تردید اور مشرکینِ مکہ کی مذمت ہے۔ پچھلی آیت میں اللہ تعالیٰ نے انسان کو اپنے پاک ہونے کے گمان اور دعویٰ سے منع فرمایا۔ قریش مکہ اپنے بارے میں کئی طرح کے گمان اور دعوے رکھتے تھے، جنھوں نے انھیں دھوکے میں مبتلا کر رکھا تھا۔ قرآن مجید میں مختلف مقامات پر ان کے وہ گمان ذکر فرمائے گئے ہیں۔ ان میں سے ایک ابراہیم علیہ السلام کی اولاد ہونے کی وجہ سے اپنی برتری کا گمان تھا، اللہ تعالیٰ نے تمام لوگوں کو مٹی سے، پھر ماں کے شکم سے پیدا کرنے کا ذکر فرما کر تقویٰ کو معیارِ فضیلت قرار دیا۔ ایک کام ان کا یہ تھا کہ انھوں نے عین کعبہ کے اندر ابراہیم، اسمٰعیل علیھما السلام اور دوسرے بزرگوں کی صورتیں رکھ کر ان کی عبادت کر کے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہمارے یہ وکیل اور سفارشی بڑے زبردست ہیں کہ وہ اپنے نام لیواؤں کو، خواہ وہ کچھ بھی کرتے رہیں، اپنے دامن میں پناہ دیں گے۔ (دیکھیے یونس: ۱۸) ایک گمان ان کا یہ تھا کہ کفر کے باوجود انھیں جس طرح دنیا میں نعمتیں ملی ہوئی ہیں اسی طرح آخرت میں بھی ملیں گی۔ (دیکھیے مریم: ۷۷) اسی طرح وہ دوسروں کو یہ کہہ کر اسلام قبول کرنے سے روکتے تھے کہ تم ہماری راہ پر چلتے رہو، تمھارے گناہ ہم اٹھا لیں گے۔ (دیکھیے عنکبوت: ۱۲) ان سارے دعوؤں اور گمانوں کا نتیجہ یہ تھا کہ آخرت کے عذاب سے بے خوف ہونے کی وجہ سے ان میں دنیا کی شدید ہوس، بخل اور کمینگی آ چکی تھی۔ وہ کچھ خرچ کرتے بھی تھے تو نام و نمود کی خاطر، وہ بھی بس اتنا کہ نام ہو جائے، اس سے آگے ان کے ہاتھ کھلنے کے لیے تیار نہیں ہوتے تھے اور اتنا خرچ کر کے بھی وہ اپنی سخاوت اور دریا دلی کی لاف زنی کرتے کہ میں نے یہ کر دیا اور وہ کر دیا، جیسا کہ سورۂ بلد میں ہے: «يَقُوْلُ اَهْلَكْتُ مَالًا لُّبَدًا» [ البلد: ۶ ] ”کہتا ہے میں نے ڈھیروں مال برباد کر ڈالا۔“ اپنے آباو اجداد، پیشواؤں، وکیلوں اور سفارشیوں کے بل بوتے پر یہ کہہ کر گناہ کیے جاتے ہیں کہ ہمارے گناہ وہ اٹھا لیں گے، جیسے نصرانیوں کا کہنا ہے کہ ہمارے تمام گناہوں کے کفارہ میں مسیح علیہ السلام سولی پر چڑھ گئے ہیں، ہم ان کے نام لیوا ہیں، ہمارے سارے گناہ انھوں نے اپنے ذمے لے کر بخشوا لیے ہیں اور جیسا کہ آج کل مسلمانوں میں سے کچھ لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ حسین رضی اللہ عنہ نے شہادت پا کر اپنے نام لیواؤں کے سارے گناہ بخشوا لیے ہیں۔ اللہ تعالیٰ نے ان آیات میں ایسے تمام گمانوں اور دعوؤں کی تردید فرمائی ہے۔ ➋ { وَ اَعْطٰى قَلِيْلًا وَّ اَكْدٰى: ” اَكْدٰى “ ”كُدْيَةٌ“} سے ہے جس کا معنی چٹان ہے۔ کوئی شخص کنواں وغیرہ کھودنے لگے اور آگے چٹان یا پتھر آ جانے کی وجہ سے کھودنے سے رک جائے تو کہا جاتا ہے: {”أَكْدَي الرَّجُلُ۔“} یہاں {” الَّذِيْ “} سے کوئی خاص شخص مراد نہیں، بلکہ مقصود مشرک آدمی کی نفسیات اور طرزِ عمل کا تذکرہ ہے کہ یہ لوگ اللہ کی راہ میں دینے کا حوصلہ نہیں رکھتے، اگر کبھی دیتے بھی ہیں تو نام کے لیے، وہ بھی تھوڑا سا، پھر ان کے سامنے کنجوسی کی چٹان آ جاتی ہے اور وہ رک جاتے ہیں، خصوصاً جب انھیں اس سے شہرت یا دنیوی مفاد حاصل ہوتا دکھائی نہ دیتا ہو۔ فرمایا کیا تو نے اس شخص کو دیکھا جس نے حق قبول کرنے سے منہ موڑ لیا، کچھ تھوڑا سا مال خرچ کیا اور رک گیا۔ شاہ عبدالقادر نے فرمایا: ”یعنی تھوڑا سا ایمان لانے لگا، پھر رک گیا۔“ (موضح) اس معنی میں مراد وہ مشرک ہیں جنھوں نے کبھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم یا قرآن کی تعریف کی، مگر اس کے بعد ایمان لانے سے رک گئے۔
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں، سچ نہ کہیں، نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں، اعراض کریں، راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں، دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں، کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہو گئے۔ عرب «اَکْدیٰ» اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آ جائے اور وہ دستبردار ہو جائیں۔ فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے، نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے۔ حدیث میں ہے { اے بلال! خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ۔ } ۱؎ [طبرانی:1020:ضعیف] خود قرآن میں ہے آیت «وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ» ۱؎ [34-سبأ:39] ’ تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ ‘ «وَفَّىٰ» کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا، دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا» ۱؎ [2-البقرة:124] ، ’ ابراہیم (علیہ السلام) کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر لیے۔ ‘ یعنی ہر حکم کو بجا لائے، ہر منع سے رکے رہے، رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنا دیا۔
جیسے ارشاد ہوا ہے «ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» ۱؎ [16-النحل:123] ’ پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا۔ ‘ ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ { ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی۔ } ۱؎ [ضعیف جدا] ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ { اے ابن آدم! اول دن میں تو میرے لئے چار رکعت ادا کر لے میں آخر دن تک تیری کفایات کروں گا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:385،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابراہیم علیہ السلام کے لیے لفظ «وَفَّى» اس لیے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:17] یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ختم کی۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1358،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر بیان ہورہا ہے کہ «صحف ابراہیم و موسیٰ» میں کیا تھا؟ ان میں یہ تھا کہ جس کسی نے اپنی جان پر ظلم کیا مثلاً شرک و کفر کیا یا گناہ صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔
جیسے قرآن کریم میں ہے «وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [35-فاطر:18] ، ’ اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابت دار ہو۔ ‘ ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا، دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لیے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے، نہ کسب، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کا جواز بیان کیا، نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی، نہ انہیں اس پر آمادہ کیا، نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے، نہ کسی اشارے کنائیے سے، ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لیے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے (رضی اللہ عنہم اجمعین)۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں، ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، اس پر اجماع ہے اور شارع علیہ السلام کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1631]
اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو، اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1357،قال الشيخ الألباني:صحیح] پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لیے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے، اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [36-يس:12] ، یعنی ’ ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ ‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2674] پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا «وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [9-التوبة:105] ، یعنی ’ کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا ‘ یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
34۔ 1 یعنی تھوڑا سا دیکر ہاتھ روک لیا۔ یا تھوڑی سی اطاعت کی اور پیچھ ہٹ گیا، یعنی کوئی کام شروع کرے لیکن اسے پایہ تکمیل تک نہ پہنچائے۔
کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ حقیقت کو دیکھ رہا ہے؟
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا اسے علم غیب ہے کہ وه (سب کچھ) دیکھ رہا ہے؟
احمد رضا خان بریلوی
کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے تو وہ دیکھ رہا ہے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے پس وہ دیکھ رہا ہے؟
عبدالسلام بن محمد
کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے؟ پس وہ دیکھ رہا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں، سچ نہ کہیں، نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں، اعراض کریں، راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں، دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں، کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہو گئے۔ عرب «اَکْدیٰ» اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آ جائے اور وہ دستبردار ہو جائیں۔ فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے، نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے۔ حدیث میں ہے { اے بلال! خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ۔ } ۱؎ [طبرانی:1020:ضعیف] خود قرآن میں ہے آیت «وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ» ۱؎ [34-سبأ:39] ’ تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ ‘ «وَفَّىٰ» کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا، دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا» ۱؎ [2-البقرة:124] ، ’ ابراہیم (علیہ السلام) کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر لیے۔ ‘ یعنی ہر حکم کو بجا لائے، ہر منع سے رکے رہے، رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنا دیا۔
جیسے ارشاد ہوا ہے «ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» ۱؎ [16-النحل:123] ’ پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا۔ ‘ ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ { ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی۔ } ۱؎ [ضعیف جدا] ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ { اے ابن آدم! اول دن میں تو میرے لئے چار رکعت ادا کر لے میں آخر دن تک تیری کفایات کروں گا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:385،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابراہیم علیہ السلام کے لیے لفظ «وَفَّى» اس لیے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:17] یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ختم کی۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1358،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر بیان ہورہا ہے کہ «صحف ابراہیم و موسیٰ» میں کیا تھا؟ ان میں یہ تھا کہ جس کسی نے اپنی جان پر ظلم کیا مثلاً شرک و کفر کیا یا گناہ صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔
جیسے قرآن کریم میں ہے «وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [35-فاطر:18] ، ’ اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابت دار ہو۔ ‘ ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا، دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لیے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے، نہ کسب، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کا جواز بیان کیا، نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی، نہ انہیں اس پر آمادہ کیا، نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے، نہ کسی اشارے کنائیے سے، ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لیے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے (رضی اللہ عنہم اجمعین)۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں، ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، اس پر اجماع ہے اور شارع علیہ السلام کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1631]
اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو، اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1357،قال الشيخ الألباني:صحیح] پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لیے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے، اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [36-يس:12] ، یعنی ’ ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ ‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2674] پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا «وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [9-التوبة:105] ، یعنی ’ کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا ‘ یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
35۔ 1 یعنی کیا وہ دیکھ رہا ہے کہ اس نے فی سبیل اللہ خرچ کیا تو اس کا مال ختم ہوجائے گا؟ نہیں، غیب کا یہ علم اس کے پاس نہیں ہے بلکہ وہ خرچ کرنے سے گریز محض بخل، دنیا کی محبت اور آخرت پر عدم یقین کی وجہ سے کر رہا ہے اور اطاعت الٰہی سے انحراف کی وجوہات بھی یہی ہیں۔
(آیت 35){ اَعِنْدَهٗ عِلْمُ الْغَيْبِ فَهُوَ يَرٰى:} یعنی یہ شخص ایمان سے منہ موڑنے اور اس تمام تر بخل اور کنجوسی کے باوجود جو اپنے آپ کو پاک قرار دے رہا ہے اور آخرت کے عذاب سے محفوظ رہنے اور وہاں کی نعمتوں کے حق دار ہونے کا جو گمان اس نے کر رکھا ہے، کیا اس کے پاس علمِ غیب کی دوربین (آلہ) ہے جس کے ساتھ وہ یہ سب کچھ دیکھ رہا ہے؟
کیا اُسے اُن باتوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰؑ کے صحیفوں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا اسے اس چیز کی خبر نہیں دی گئی جو موسیٰ (علیہ السلام) کے
احمد رضا خان بریلوی
کیا اسے اس کی خبر نہ آئی جو صحیفوں میں ہے موسیٰ کے
علامہ محمد حسین نجفی
کیا اسے اس بات کی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰ (ع) کے صحیفوں میں ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یا اسے اس بات کی خبر نہیں دی گئی جو موسیٰ کے صحیفوں میں ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں، سچ نہ کہیں، نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں، اعراض کریں، راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں، دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں، کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہو گئے۔ عرب «اَکْدیٰ» اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آ جائے اور وہ دستبردار ہو جائیں۔ فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے، نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے۔ حدیث میں ہے { اے بلال! خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ۔ } ۱؎ [طبرانی:1020:ضعیف] خود قرآن میں ہے آیت «وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ» ۱؎ [34-سبأ:39] ’ تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ ‘ «وَفَّىٰ» کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا، دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا» ۱؎ [2-البقرة:124] ، ’ ابراہیم (علیہ السلام) کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر لیے۔ ‘ یعنی ہر حکم کو بجا لائے، ہر منع سے رکے رہے، رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنا دیا۔
جیسے ارشاد ہوا ہے «ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» ۱؎ [16-النحل:123] ’ پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا۔ ‘ ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ { ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی۔ } ۱؎ [ضعیف جدا] ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ { اے ابن آدم! اول دن میں تو میرے لئے چار رکعت ادا کر لے میں آخر دن تک تیری کفایات کروں گا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:385،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابراہیم علیہ السلام کے لیے لفظ «وَفَّى» اس لیے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:17] یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ختم کی۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1358،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر بیان ہورہا ہے کہ «صحف ابراہیم و موسیٰ» میں کیا تھا؟ ان میں یہ تھا کہ جس کسی نے اپنی جان پر ظلم کیا مثلاً شرک و کفر کیا یا گناہ صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔
جیسے قرآن کریم میں ہے «وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [35-فاطر:18] ، ’ اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابت دار ہو۔ ‘ ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا، دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لیے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے، نہ کسب، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کا جواز بیان کیا، نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی، نہ انہیں اس پر آمادہ کیا، نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے، نہ کسی اشارے کنائیے سے، ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لیے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے (رضی اللہ عنہم اجمعین)۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں، ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، اس پر اجماع ہے اور شارع علیہ السلام کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1631]
اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو، اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1357،قال الشيخ الألباني:صحیح] پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لیے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے، اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [36-يس:12] ، یعنی ’ ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ ‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2674] پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا «وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [9-التوبة:105] ، یعنی ’ کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا ‘ یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 37،36) ➊ { اَمْ لَمْ يُنَبَّاْ بِمَا فِيْ صُحُفِ مُوْسٰى …:} یعنی اگر وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے کے لیے تیار نہیں اور اس کے پاس علمِ غیب بھی نہیں تو کیا پہلے انبیاء کی کتابوں میں جو بنیادی اصول لکھے ہیں وہ بھی کسی نے اسے نہیں بتائے؟ ان انبیاء میں سے ابراہیم اور موسیٰ علیھما السلام کا خاص طور پر ذکر اس لیے فرمایا کہ ابراہیم علیہ السلام کے دین پر چلنے کا وہ دعویٰ رکھتے تھے اور ابراہیم علیہ السلام کے بعد احکام کی بنیادی کتاب موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہونے والی تورات ہی تھی جس پر بعد کے تمام انبیاء عمل کرتے تھے اور جو اس وقت بھی موجود تھی اور قریش یہودیوں سے اس کے متعلق پوچھتے رہتے تھے۔ ➋ { وَ اِبْرٰهِيْمَ الَّذِيْ وَفّٰۤى:” وَفّٰۤى “} جس نے پورا کیا، یہ ذکر نہیں فرمایا کہ کیا پورا کیا، تاکہ وہ عام رہے کہ انھوں نے اللہ تعالیٰ سے اور بندوں سے کیا ہوا ہر عہد پورا کیا۔ (دیکھیے توبہ: ۱۱۴) اللہ تعالیٰ نے جو حکم دیا اسے پورا کیا اور جن باتوں کے ساتھ امتحان لیا سب پوری کر دکھائیں۔(دیکھیے بقرۃ: ۱۲۴) {” الَّذِيْ وَفّٰۤى “} (جس نے پورا کیا) پر مفسر ثناء اللہ امرتسری لکھتے ہیں: ”میرے خیال میں {” الَّذِيْ “} موصول دونوں میں سے ہر ایک کی صفت ہے۔ (واللہ اعلم)“ {” أَيْ كُلُّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا “} یعنی ابراہیم اور موسیٰ علیھما السلام میں سے ہر ایک نے عہد پورا کیا۔
اور اُس ابراہیمؑ کے صحیفوں میں بیان ہوئی ہیں جس نے وفا کا حق ادا کر دیا؟
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وفادار ابراہیم (علیہ السلام) کے صحیفوں میں تھا
احمد رضا خان بریلوی
اور ابراہیم کے جو پورے احکام بجالایا
علامہ محمد حسین نجفی
اور اس ابراہیم (ع) کے صحیفوں میں جس نے وفاداری کا حق ادا کر دیا۔
عبدالسلام بن محمد
اور ابراہیم کے (صحیفوں میں) جس نے (عہد) پورا کیا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں، سچ نہ کہیں، نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں، اعراض کریں، راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں، دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں، کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہو گئے۔ عرب «اَکْدیٰ» اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آ جائے اور وہ دستبردار ہو جائیں۔ فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے، نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے۔ حدیث میں ہے { اے بلال! خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ۔ } ۱؎ [طبرانی:1020:ضعیف] خود قرآن میں ہے آیت «وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ» ۱؎ [34-سبأ:39] ’ تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ ‘ «وَفَّىٰ» کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا، دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا» ۱؎ [2-البقرة:124] ، ’ ابراہیم (علیہ السلام) کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر لیے۔ ‘ یعنی ہر حکم کو بجا لائے، ہر منع سے رکے رہے، رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنا دیا۔
جیسے ارشاد ہوا ہے «ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» ۱؎ [16-النحل:123] ’ پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا۔ ‘ ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ { ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی۔ } ۱؎ [ضعیف جدا] ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ { اے ابن آدم! اول دن میں تو میرے لئے چار رکعت ادا کر لے میں آخر دن تک تیری کفایات کروں گا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:385،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابراہیم علیہ السلام کے لیے لفظ «وَفَّى» اس لیے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:17] یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ختم کی۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1358،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر بیان ہورہا ہے کہ «صحف ابراہیم و موسیٰ» میں کیا تھا؟ ان میں یہ تھا کہ جس کسی نے اپنی جان پر ظلم کیا مثلاً شرک و کفر کیا یا گناہ صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔
جیسے قرآن کریم میں ہے «وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [35-فاطر:18] ، ’ اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابت دار ہو۔ ‘ ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا، دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لیے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے، نہ کسب، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کا جواز بیان کیا، نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی، نہ انہیں اس پر آمادہ کیا، نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے، نہ کسی اشارے کنائیے سے، ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لیے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے (رضی اللہ عنہم اجمعین)۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں، ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، اس پر اجماع ہے اور شارع علیہ السلام کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1631]
اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو، اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1357،قال الشيخ الألباني:صحیح] پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لیے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے، اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [36-يس:12] ، یعنی ’ ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ ‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2674] پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا «وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [9-التوبة:105] ، یعنی ’ کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا ‘ یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
"یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا
مولانا محمد جوناگڑھی
کہ کوئی شخص کسی دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا
احمد رضا خان بریلوی
کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی جان دوسری کا بوجھ نہیں اٹھاتی
علامہ محمد حسین نجفی
کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا کسی دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا۔
عبدالسلام بن محمد
کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی (جان ) کسی دوسری کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں، سچ نہ کہیں، نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں، اعراض کریں، راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں، دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں، کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہو گئے۔ عرب «اَکْدیٰ» اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آ جائے اور وہ دستبردار ہو جائیں۔ فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے، نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے۔ حدیث میں ہے { اے بلال! خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ۔ } ۱؎ [طبرانی:1020:ضعیف] خود قرآن میں ہے آیت «وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ» ۱؎ [34-سبأ:39] ’ تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ ‘ «وَفَّىٰ» کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا، دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا» ۱؎ [2-البقرة:124] ، ’ ابراہیم (علیہ السلام) کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر لیے۔ ‘ یعنی ہر حکم کو بجا لائے، ہر منع سے رکے رہے، رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنا دیا۔
جیسے ارشاد ہوا ہے «ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» ۱؎ [16-النحل:123] ’ پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا۔ ‘ ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ { ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی۔ } ۱؎ [ضعیف جدا] ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ { اے ابن آدم! اول دن میں تو میرے لئے چار رکعت ادا کر لے میں آخر دن تک تیری کفایات کروں گا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:385،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابراہیم علیہ السلام کے لیے لفظ «وَفَّى» اس لیے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:17] یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ختم کی۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1358،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر بیان ہورہا ہے کہ «صحف ابراہیم و موسیٰ» میں کیا تھا؟ ان میں یہ تھا کہ جس کسی نے اپنی جان پر ظلم کیا مثلاً شرک و کفر کیا یا گناہ صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔
جیسے قرآن کریم میں ہے «وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [35-فاطر:18] ، ’ اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابت دار ہو۔ ‘ ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا، دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لیے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے، نہ کسب، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کا جواز بیان کیا، نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی، نہ انہیں اس پر آمادہ کیا، نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے، نہ کسی اشارے کنائیے سے، ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لیے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے (رضی اللہ عنہم اجمعین)۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں، ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، اس پر اجماع ہے اور شارع علیہ السلام کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1631]
اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو، اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1357،قال الشيخ الألباني:صحیح] پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لیے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے، اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [36-يس:12] ، یعنی ’ ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ ‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2674] پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا «وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [9-التوبة:105] ، یعنی ’ کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا ‘ یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 38){ اَلَّا تَزِرُ وَازِرَةٌ وِّزْرَ اُخْرٰى: ” اَلَّا تَزِرُ “} اصل میں {” أَنْ لاَ تَزِرُ“} ہے، {”أَنْ“} تفسیریہ ہے یا {”أَنَّهُ“} کی تخفیف ہے۔ یہاں سے ابراہیم اور موسیٰ علیھما السلام کے صحیفوں میں سے چند احکام نقل فرمائے ہیں، ان میں سے پہلا یہ ہے کہ کوئی بوجھ اٹھانے والی (جان) کسی دوسری (جان) کا بوجھ نہیں اٹھائے گی۔ تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ انعام (۱۶۴)، بنی اسرائیل (۱۵) اور فاطر (۱۸)۔
اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اُس نے سعی کی ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور یہ کہ ہر انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی کوشش خود اس نے کی
احمد رضا خان بریلوی
اور یہ کہ آدمی نہ پاے گا مگر اپنی کوشش
علامہ محمد حسین نجفی
اور یہ کہ انسان کے لئے وہی کچھ ہے جس کی وہ کوشش کرتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور یہ کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جس کی اس نے کوشش کی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
منافق و کافر کا نفسیاتی تجزیہ ٭٭
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں، سچ نہ کہیں، نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں، اعراض کریں، راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں، دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں، کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہو گئے۔ عرب «اَکْدیٰ» اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آ جائے اور وہ دستبردار ہو جائیں۔ فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے، نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے۔ حدیث میں ہے { اے بلال! خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ۔ } ۱؎ [طبرانی:1020:ضعیف] خود قرآن میں ہے آیت «وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ» ۱؎ [34-سبأ:39] ’ تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ ‘ «وَفَّىٰ» کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا، دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا» ۱؎ [2-البقرة:124] ، ’ ابراہیم (علیہ السلام) کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر لیے۔ ‘ یعنی ہر حکم کو بجا لائے، ہر منع سے رکے رہے، رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنا دیا۔
جیسے ارشاد ہوا ہے «ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» ۱؎ [16-النحل:123] ’ پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا۔ ‘ ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ { ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی۔ } ۱؎ [ضعیف جدا] ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ { اے ابن آدم! اول دن میں تو میرے لئے چار رکعت ادا کر لے میں آخر دن تک تیری کفایات کروں گا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:385،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابراہیم علیہ السلام کے لیے لفظ «وَفَّى» اس لیے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:17] یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ختم کی۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1358،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر بیان ہورہا ہے کہ «صحف ابراہیم و موسیٰ» میں کیا تھا؟ ان میں یہ تھا کہ جس کسی نے اپنی جان پر ظلم کیا مثلاً شرک و کفر کیا یا گناہ صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔
جیسے قرآن کریم میں ہے «وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [35-فاطر:18] ، ’ اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابت دار ہو۔ ‘ ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا، دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لیے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے، نہ کسب، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کا جواز بیان کیا، نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی، نہ انہیں اس پر آمادہ کیا، نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے، نہ کسی اشارے کنائیے سے، ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لیے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے (رضی اللہ عنہم اجمعین)۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں، ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، اس پر اجماع ہے اور شارع علیہ السلام کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1631]
اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو، اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1357،قال الشيخ الألباني:صحیح] پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لیے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے، اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [36-يس:12] ، یعنی ’ ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ ‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2674] پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا «وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [9-التوبة:105] ، یعنی ’ کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا ‘ یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
39۔ 1 یعنی جس طرح کوئی کسی دوسرے کے گناہ کا ذمے دار نہیں ہوگا، اسی طرح اسے آخرت میں اجر بھی انہی چیزوں کا ملے گا، جن میں اس کی اپنی محنت ہوگی۔
(آیت 39) {وَ اَنْ لَّيْسَ لِلْاِنْسَانِ اِلَّا مَا سَعٰى:} یعنی جس طرح کسی دوسرے کے گناہوں کا بوجھ اس پر نہیں ڈالا جائے گا اسی طرح اسے اجر و ثواب بھی انھی اعمال کا ملے گا جو اس نے خود کیے ہیں۔ یہاں ایک سوال ہے کہ قرآن و حدیث سے ثابت ہے کہ آدمی کو دوسروں کے نیک اعمال سے فائدہ پہنچتا ہے، مثلاً گناہ گاروں کے لیے انبیاء، فرشتوں اور صالحین کی شفاعت، مُردوں کے لیے زندوں کی دعا (دیکھیے مومن: 8،7۔ حشر: ۱۰) اور باپ کے عمل سے اولاد کے درجوں کا بلند ہونا تو قرآن سے ثابت ہے (دیکھیے طور: ۲۱) اور میت کی طرف سے صدقہ، صیام اور حج وغیرہ کا نافع ہونا حدیث سے ثابت ہے، تو اس آیت کے ساتھ اس کی مطابقت کیسے ہو گی؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہ سب کچھ اسی شخص کے لیے نافع ہو گا جو ایمان لے آیا، کافر کو ان میں سے کوئی چیز نفع نہیں دے گی۔ ایمان کے بعد ان چیزوں کا نافع ہونا اس کی اپنی سعی یعنی ایمان ہی کی برکت اور اسی کا نتیجہ ہے، جیسا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ابوطالب سے کہا تھا: [ أَيْ عَمِّ! قُلْ لاَ إِلٰهَ إِلاَّ اللّٰهُ، كَلِمَةً أُحَاجُّ لَكَ بِهَا عِنْدَ اللّٰهِ ] [ بخاري، مناقب الأنصار، باب قصۃ أبي طالب: ۳۸۸۴ ] ”اے چچا! تو ”لا الٰہ الا اللہ“ کہہ لے، میں اس کلمے کے ساتھ تیری خاطر اللہ تعالیٰ کے پاس جھگڑوں گا۔“ اور ابراہیم علیہ السلام نے کہا تھا: «يَوْمَ لَا يَنْفَعُ مَالٌ وَّ لَا بَنُوْنَ (88) اِلَّا مَنْ اَتَى اللّٰهَ بِقَلْبٍ سَلِيْمٍ» [ الشعراء: 89،88 ] ”جس دن نہ کوئی مال فائدہ دے گا اور نہ بیٹے۔ مگر جو اللہ کے پاس سلامتی والا دل لے کر آیا۔“ کفر و شرک سے سلامت دل والے کو وہاں اس کے بیٹے بھی کام آئیں گے جو اس کے بعد اعمالِ صالحہ کرتے رہے اور اس کے لیے دعا کرتے رہے اور اس کا مال بھی جو صدقہ جاریہ کی صورت میں اس کے نامۂ اعمال میں ثبت ہوتا رہا۔ بلند درجے والے مومن والدین کے ساتھ ان کی اسی اولاد کو ملایا جائے گا جو ایمان کی نعمت رکھتے ہوں گے، خواہ کسی بھی درجے کا ہو۔ دیکھیے سورۂ طور (۲۱) کی تفسیر۔
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں، سچ نہ کہیں، نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں، اعراض کریں، راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں، دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں، کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہو گئے۔ عرب «اَکْدیٰ» اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آ جائے اور وہ دستبردار ہو جائیں۔ فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے، نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے۔ حدیث میں ہے { اے بلال! خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ۔ } ۱؎ [طبرانی:1020:ضعیف] خود قرآن میں ہے آیت «وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ» ۱؎ [34-سبأ:39] ’ تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ ‘ «وَفَّىٰ» کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا، دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا» ۱؎ [2-البقرة:124] ، ’ ابراہیم (علیہ السلام) کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر لیے۔ ‘ یعنی ہر حکم کو بجا لائے، ہر منع سے رکے رہے، رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنا دیا۔
جیسے ارشاد ہوا ہے «ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» ۱؎ [16-النحل:123] ’ پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا۔ ‘ ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ { ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی۔ } ۱؎ [ضعیف جدا] ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ { اے ابن آدم! اول دن میں تو میرے لئے چار رکعت ادا کر لے میں آخر دن تک تیری کفایات کروں گا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:385،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابراہیم علیہ السلام کے لیے لفظ «وَفَّى» اس لیے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:17] یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ختم کی۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1358،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر بیان ہورہا ہے کہ «صحف ابراہیم و موسیٰ» میں کیا تھا؟ ان میں یہ تھا کہ جس کسی نے اپنی جان پر ظلم کیا مثلاً شرک و کفر کیا یا گناہ صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔
جیسے قرآن کریم میں ہے «وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [35-فاطر:18] ، ’ اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابت دار ہو۔ ‘ ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا، دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لیے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے، نہ کسب، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کا جواز بیان کیا، نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی، نہ انہیں اس پر آمادہ کیا، نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے، نہ کسی اشارے کنائیے سے، ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لیے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے (رضی اللہ عنہم اجمعین)۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں، ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، اس پر اجماع ہے اور شارع علیہ السلام کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1631]
اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو، اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1357،قال الشيخ الألباني:صحیح] پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لیے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے، اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [36-يس:12] ، یعنی ’ ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ ‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2674] پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا «وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [9-التوبة:105] ، یعنی ’ کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا ‘ یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
40۔ 1 یعنی دنیا میں اس نے اچھا یا برا جو بھی کیا، چھپ کر کیا یا اعلانیہ کیا، قیامت والے دن سامنے آجائے گا اور اس پر اسے پوری جزا دی جائے گی۔
(آیت 40) {وَ اَنَّ سَعْيَهٗ سَوْفَ يُرٰى: ” يُرٰى “ ” رَأَي يَرٰي رُؤْيَةً “} (ف) سے بھی فعل مجہول ہو سکتا ہے (اس کی کوشش دیکھی جائے گی) اور {”أَرٰي يُرِيْ إِرَائَةً “} (افعال) سے بھی(اس کی کوشش اس کو دکھائی جائے گی)۔ تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ بنی اسرائیل(14،13) اور سورۂ کہف (۴۹)۔
اللہ تعالیٰ ان لوگوں کی مذمت کر رہا ہے جو اللہ کی فرمانبرداری سے منہ موڑ لیں، سچ نہ کہیں، نہ نماز ادا کریں بلکہ جھٹلائیں، اعراض کریں، راہ اللہ بہت ہی کم خرچ کریں، دل کو نصیحت قبول کرنے والا نہ بنائیں، کبھی کچھ کہنا مان لیا پھر رسیاں کاٹ کر الگ ہو گئے۔ عرب «اَکْدیٰ» اس وقت کہتے ہیں مثلًا کچھ لوگ کنواں کھود رہے ہوں درمیان میں کوئی سخت چٹان آ جائے اور وہ دستبردار ہو جائیں۔ فرماتا ہے کیا اس کے پاس علم غیب ہے جس سے اس نے جان لیا کہ اگر میں راہ للہ اپنا زر و مال دوں گا تو خالی ہاتھ رہ جاؤں گا؟ یعنی دراصل یوں نہیں بلکہ یہ صدقے، نیکی اور بھلائی سے ازروئے بخل، طمع، خود غرضی، نامردی و بےدلی کے رک رہا ہے۔ حدیث میں ہے { اے بلال! خرچ کر اور عرش والے سے فقیر بنا دینے کا ڈر نہ رکھ۔ } ۱؎ [طبرانی:1020:ضعیف] خود قرآن میں ہے آیت «وَمَا أَنفَقْتُم مِّن شَيْءٍ فَهُوَ يُخْلِفُهُ وَهُوَ خَيْرُ الرَّازِقِينَ» ۱؎ [34-سبأ:39] ’ تم جو کچھ خرچ کرو گے اللہ تعالیٰ تمہیں اس کا بدلہ دے گا اور وہی بہترین رازق ہے۔ ‘ «وَفَّىٰ» کے معنی ایک تو یہ کئے گئے ہیں کہ انہیں حکم کیا گیا تھا وہ سب انہوں نے پہنچا دیا، دوسرے معنی یہ کئے گئے ہیں کہ جو حکم ملا اسے بجا لائے۔ ٹھیک یہ ہے کہ یہ دونوں ہی معنی درست ہیں جیسے اور آیت میں ہے «وَإِذِ ابْتَلَىٰ إِبْرَاهِيمَ رَبُّهُ بِكَلِمَاتٍ فَأَتَمَّهُنَّ قَالَ إِنِّي جَاعِلُكَ لِلنَّاسِ إِمَامًا» ۱؎ [2-البقرة:124] ، ’ ابراہیم (علیہ السلام) کو جب کبھی جس کسی آزمائش کے ساتھ اس کے رب نے آزمایا آپ نے کامیابی کے ساتھ اس میں نمبر لیے۔ ‘ یعنی ہر حکم کو بجا لائے، ہر منع سے رکے رہے، رب کی رسالت پوری طرح پہنچا دی پس اللہ نے انہیں امام بنا کر دوسروں کا ان کا تابعدار بنا دیا۔
جیسے ارشاد ہوا ہے «ثُمَّ أَوْحَيْنَا إِلَيْكَ أَنِ اتَّبِعْ مِلَّةَ إِبْرَاهِيمَ حَنِيفًا وَمَا كَانَ مِنَ الْمُشْرِكِينَ» ۱؎ [16-النحل:123] ’ پھر ہم نے تیری طرف وحی کی کہ ملت ابراہیم حنیف کی پیروی کر جو مشرک نہ تھا۔ ‘ ابن جریر کی ایک مرفوع حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا کہ { ہر روز وہ دن نکلتے ہی چار رکعت ادا کیا کرتے تھے یہی ان کی وفا داری تھی۔ } ۱؎ [ضعیف جدا] ترمذی میں ایک حدیث قدسی ہے کہ { اے ابن آدم! اول دن میں تو میرے لئے چار رکعت ادا کر لے میں آخر دن تک تیری کفایات کروں گا۔} ۱؎ [سنن ترمذي:385،قال الشيخ الألباني:صحیح] ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: { ابراہیم علیہ السلام کے لیے لفظ «وَفَّى» اس لیے فرمایا کہ وہ ہر صبح شام ان کلمات کو پڑھا کرتے تھے آیت «فَسُـبْحٰنَ اللّٰهِ حِيْنَ تُمْسُوْنَ وَحِيْنَ تُصْبِحُوْنَ» ۱؎ [30-الروم:17] یہاں تک کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آیت ختم کی۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1358،قال الشيخ الألباني:صحیح] پھر بیان ہورہا ہے کہ «صحف ابراہیم و موسیٰ» میں کیا تھا؟ ان میں یہ تھا کہ جس کسی نے اپنی جان پر ظلم کیا مثلاً شرک و کفر کیا یا گناہ صغیرہ یا کبیرہ کیا تو اس کا وبال خود اس پر ہے اس کا یہ بوجھ کوئی اور نہ اٹھائے گا۔
جیسے قرآن کریم میں ہے «وَاِنْ تَدْعُ مُثْقَلَةٌ اِلٰى حِمْلِهَا لَا يُحْمَلْ مِنْهُ شَيْءٌ وَّلَوْ كَانَ ذَا قُرْبٰى اِنَّمَا تُنْذِرُ الَّذِيْنَ يَخْشَوْنَ رَبَّهُمْ بالْغَيْبِ وَاَقَامُوا الصَّلٰوةَ وَمَنْ تَزَكّٰى فَاِنَّمَا يَتَزَكّٰى لِنَفْسِهٖ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ» ۱؎ [35-فاطر:18] ، ’ اگر کوئی بوجھل اپنے بوجھ کی طرف کسی کو بلائے گا تو اس میں سے کچھ نہ اٹھایا جائے گا اگرچہ وہ قرابت دار ہو۔ ‘ ان صحیفوں میں یہ بھی تھا کہ انسان کے لیے صرف وہی ہے جو اس نے حاصل کیا یعنی جس طرح اس پر دوسرے کا بوجھ نہیں لادا جائے گا، دوسروں کی بداعمالیوں میں یہ بھی نہیں پکڑا جائے گا اور اسی طرح دوسرے کی نیکی بھی اسے کچھ فائدہ نہ دے گی۔ امام شافعی رحمہ اللہ اور ان کے متعبین نے اس آیت سے استدلال کیا ہے کہ قرآن خوانی کا ثواب مردوں کا پہنچایا جائے تو نہیں پہنچتا اس لیے کہ نہ تو یہ ان کا عمل ہے، نہ کسب، یہی وجہ ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ اس کا جواز بیان کیا، نہ اپنی امت کو اس پر رغبت دلائی، نہ انہیں اس پر آمادہ کیا، نہ تو کسی صریح فرمان کے ذریعہ سے، نہ کسی اشارے کنائیے سے، ٹھیک اسی طرح صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین میں سے کسی ایک سے یہ ثابت نہیں کہ انہوں نے قرآن پڑھ کر اس کے ثواب کا ہدیہ میت کے لیے بھیجا ہو اگر یہ نیکی ہوتی اور مطابق شرع عمل ہوتا تو ہم سے بہت زیادہ سبقت نیکیوں کی طرف کرنے والے صحابہ کرام تھے (رضی اللہ عنہم اجمعین)۔ ساتھ ہی یہ بات بھی یاد رکھنی چاہیئے کہ نیکیوں کے کام قرآن حدیث کے صاف فرمان صحیح ثابت ہوتے ہیں کسی قسم کے رائے اور قیاس کا ان میں کوئی دخل نہیں، ہاں دعا اور صدقہ کا ثواب میت کو پہنچتا ہے، اس پر اجماع ہے اور شارع علیہ السلام کے الفاظ سے ثابت ہے جو حدیث صحیح مسلم شریف میں سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ کی روایت سے مروی ہے کہ {رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”انسان کے مرنے پر اس کے اعمال منقطع ہو جاتے ہیں لیکن تین چیزیں نیک اولاد جو اس کے لیے دعا کرتی رہے یا وہ صدقہ جو اس کے انتقال کے بعد بھی جاری رہے یا وہ علم جس سے نفع اٹھایا جاتا رہے“ }۔ ۱؎ [صحیح مسلم:1631]
اس کا یہ مطلب ہے کہ درحقیقت یہ تینوں چیزیں بھی خود میت کی سعی اس کی کوشش اور اس کا عمل ہیں، یعنی کسی اور کے عمل کا اجر اسے نہیں پہنچ رہا۔ صحیح حدیث میں ہے کہ { سب سے بہتر انسان کا کھانا وہ ہے جو اس نے اپنے ہاتھوں سے حاصل کیا ہو، اس کی اپنی کمائی ہو اور انسان کی اولاد بھی اسی کی کمائی اور اسی کی حاصل کردہ چیز ہے۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:1357،قال الشيخ الألباني:صحیح] پس ثابت ہوا کہ نیک اولاد جو اس کے مرنے کے بعد اس کے لیے دعا کرتی ہے وہ دراصل اسی کا عمل ہے، اسی طرح صدقہ جاریہ مثلاً وقف وغیرہ کہ وہ بھی اسی کے عمل کا اثر ہے اور اسی کا کیا ہوا وقف ہے۔ خود قرآن فرماتا ہے آیت «اِنَّا نَحْنُ نُـحْيِ الْمَوْتٰى وَنَكْتُبُ مَا قَدَّمُوْا وَاٰثَارَهُمْ وَكُلَّ شَيْءٍ اَحْصَيْنٰهُ فِيْٓ اِمَامٍ مُّبِيْنٍ» ۱؎ [36-يس:12] ، یعنی ’ ہم مردوں کا زندہ کرتے ہیں اور لکھتے ہیں جو آگے بھیج چکے اور جو نشان ان کے پیچھے رہے۔ ‘ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ ان کے اپنے پیچھے چھوڑے ہوئے نشانات نیک کا ثواب انہیں پہنچتا رہتا ہے، رہا وہ علم جسے اس نے لوگوں میں پھیلایا اور اس کے انتقال کے بعد بھی لوگ اس پر عامل اور کاربند رہے وہ بھی اصل اسی کی سعی اور اسی کا عمل ہے جو اس کے تابعداری کریں ان سب کے برابر اجر کے اسے اجر ملتا ہے درآنحالیکہ ان کے اجر گھٹتے نہیں۔ ۱؎ [صحیح مسلم:2674] پھر فرماتا ہے اس کی کوشش قیامت کے دن جانچی جائے گی اس دن اس کا عمل دیکھا جائے گا جیسے فرمایا «وَقُلِ اعْمَلُوْا فَسَيَرَى اللّٰهُ عَمَلَكُمْ وَرَسُوْلُهٗ وَالْمُؤْمِنُوْنَ وَسَتُرَدُّوْنَ اِلٰى عٰلِمِ الْغَيْبِ وَالشَّهَادَةِ فَيُنَبِّئُكُمْ بِمَا كُنْتُمْ تَعْمَلُوْنَ» ۱؎ [9-التوبة:105] ، یعنی ’ کہہ دے کہ تم عمل کئے جاؤ گے پھر وہ تمہیں تمہارے اعمال سے خبردار کرے گا ‘ یعنی ہر نیکی کی جزا اور ہر بدی کی سزا دے گا یہاں بھی فرمایا پھر اس کا پورا پورا بدلہ دیا جائے گا۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 41) {ثُمَّ يُجْزٰىهُ الْجَزَآءَ الْاَوْفٰى:} اس کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ نحل (۱۱۱) اور سورۂ آل عمران (۲۵) کی تفسیر۔
اور یہ کہ سب کی انتہا آپ(ص) کے پروردگار کی طرف ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور یہ کہ تیرے رب ہی کی طرف آخر پہنچنا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب کی آخری منزل اللہ تعالٰی ادراک سے بلند ہے ٭٭
فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا: ”اے بنی اود! میں اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے، پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ۔“ بغوی میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں“ }۔ ۱؎ [بغوی فی التفسیر:232/4:ضعیف] جیسے اور حدیث میں ہے { مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو، اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پا سکتا۔ } ۱؎ [بغوی فی التفسیر:232/4:ضعیف] گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں، مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے، اس میں ہے کہ { شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3276] سنن کی ایک حدیث میں ہے { مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو، سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:134] پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت و حیات کا خالق ہے۔ جیسے فرمایا «الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ» ۱؎ [67-الملک:2] ’ اس نے موت و حیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 42) {وَ اَنَّ اِلٰى رَبِّكَ الْمُنْتَهٰى:} یعنی ہر شخص نے آخر کار اپنے رب ہی کے پاس پہنچنا ہے، جیسا کہ فرمایا: «كُلٌّ اِلَيْنَا رٰجِعُوْنَ» [ الأنبیاء: ۹۳ ] ”سب ہماری ہی طرف لوٹنے والے ہیں۔“ ایک مطلب اس کا یہ بھی ہے کہ تمام علوم و افکار کا سلسلہ اللہ تعالیٰ پر جا کر ختم ہو جاتا ہے، جیسا کہ فرمایا: «يَسْـَٔلُوْنَكَ عَنِ السَّاعَةِ اَيَّانَ مُرْسٰىهَا (42) فِيْمَ اَنْتَ مِنْ ذِكْرٰىهَا (43) اِلٰى رَبِّكَ مُنْتَهٰىهَا» [ النازعات: ۴۲ تا ۴۴ ] ”وہ تجھ سے قیامت کے متعلق پوچھتے ہیں کہ اس کا قیام کب ہے؟ اس کے ذکر سے تو کس خیال میں ہے؟ تیرے رب ہی کی طرف اس (کے علم) کی انتہا ہے۔“
فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا: ”اے بنی اود! میں اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے، پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ۔“ بغوی میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں“ }۔ ۱؎ [بغوی فی التفسیر:232/4:ضعیف] جیسے اور حدیث میں ہے { مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو، اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پا سکتا۔ } ۱؎ [بغوی فی التفسیر:232/4:ضعیف] گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں، مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے، اس میں ہے کہ { شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3276] سنن کی ایک حدیث میں ہے { مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو، سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:134] پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت و حیات کا خالق ہے۔ جیسے فرمایا «الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ» ۱؎ [67-الملک:2] ’ اس نے موت و حیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا ‘۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 43تا49) ➊ { وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰى …:} اس سے پچھلی آیات میں ان معاملات کا ذکر تھا جو انسان کے اختیار میں ہیں، اختیار کے باوجود ان میں انسان کی کوتاہی ایک مسلّم امر ہے، جیسا کہ فرمایا: «كَلَّا لَمَّا يَقْضِ مَاۤ اَمَرَهٗ» [ عبس: ۲۳ ] ”ہرگز نہیں، ابھی تک اس نے وہ کام پورا نہیں کیا جس کا اس نے اسے حکم دیا۔ “ پھر کسی کے پاس اپنے تزکیے کی کیا گنجائش ہے؟ اب ان معاملات کا ذکر ہے جن میں انسان کا کچھ اختیار نہیں، مثلاً ہنسانا، رلانا، مارنا، جلانا (زندہ کرنا)، ایک نطفہ سے کسی کو مرد اور کسی کو عورت بنا دینا، مارنے کے بعد دوبارہ زندہ کر دینا، غنی کر دینا، خزانے بخش دینا، مشرکین جن ستاروں کو پوجتے ہیں ان سب کا، خصوصاً ”شعریٰ“ کا رب ہونا اور بڑی بڑی قوت والی قوموں کو نافرمانی پر ہلاک کر دینا، یہ سب کچھ صرف اللہ تعالیٰ کا کام ہے۔ پھر جب انسان اس قادر مطلق کے سامنے اتنا بے بس ہے کہ اس کا رونا، ہنسنا اور مرنا جینا بھی اس کے اختیار میں نہیں اور نہ ہی اسے اگلے لمحے تک کی خبر ہے کہ اسے ہنسنا ہے یا رونا، جینا ہے یا مرنا، تو وہ اپنا تزکیہ کس منہ سے کرتا ہے؟ ➋ { وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰى …: ” اَقْنٰى “ ”قِنْيَةٌ“} سے ہے جس کا معنی خزانہ ہے۔ یعنی اسی نے جمع کرنے اور خزانہ بنانے کے لیے مال عطا فرمایا۔ آیت: «وَ اَنَّهٗ هُوَ اَضْحَكَ وَ اَبْكٰى» اور یہ آیت: «وَ اَنَّهٗ هُوَ اَغْنٰى وَ اَقْنٰى» دونوں میں {” اَنَّهٗ “} کے بعد {” هُوَ “} ضمیر سے حصر پیدا ہو رہا ہے، یعنی وہی ہے جس نے ہنسایا اور رلایا …۔ ➌ { وَ اَنَّهٗ هُوَ رَبُّ الشِّعْرٰى:} ہر چیز کا رب ہونے کے باوجود اس ستارے کا رب ہونے کا خاص طور پر ذکر اس لیے فرمایا کہ بعض عرب مثلاً خزاعہ وغیرہ اس کی پرستش کرتے تھے، اس لیے فرمایا کہ تم جس ستارے کی پرستش کرتے ہو تمھاری قسمتیں اس کے اختیار میں نہیں، وہ تو خود اپنی قسمت کا مالک نہیں، بلکہ اس کا رب بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔
اور یہ کہ حقیقت یہ ہے کہ اسی نے موت دی اور زندگی بخشی۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
سب کی آخری منزل اللہ تعالٰی ادراک سے بلند ہے ٭٭
فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا: ”اے بنی اود! میں اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے، پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ۔“ بغوی میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں“ }۔ ۱؎ [بغوی فی التفسیر:232/4:ضعیف] جیسے اور حدیث میں ہے { مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو، اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پا سکتا۔ } ۱؎ [بغوی فی التفسیر:232/4:ضعیف] گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں، مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے، اس میں ہے کہ { شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3276] سنن کی ایک حدیث میں ہے { مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو، سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:134] پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت و حیات کا خالق ہے۔ جیسے فرمایا «الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ» ۱؎ [67-الملک:2] ’ اس نے موت و حیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا ‘۔
فرمان ہے کہ بازگشت آخر اللہ کی طرف ہے۔ قیامت کے دن سب کو لوٹ کر اسی کے سامنے پیش ہونا ہے۔ سیدنا معاذ رضی اللہ عنہ نے قبیلہ بنی اود میں خطبہ پڑھتے ہوئے فرمایا: ”اے بنی اود! میں اللہ کے پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم کا قاصد بن کر تمہاری طرف آیا ہوں تم یقین کرو کہ تمہارا سب کا لوٹنا اللہ کی طرف ہے، پھر یا تو جنت میں پہنچائے جاؤ یا جہنم میں دھکیلے جاؤ۔“ بغوی میں ہے { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تفسیر میں فرمایا: ”اللہ تعالیٰ کی ذات میں فکر کرنا جائز نہیں“ }۔ ۱؎ [بغوی فی التفسیر:232/4:ضعیف] جیسے اور حدیث میں ہے { مخلوق پر غور بھری نظریں ڈالو لیکن ذات خالق میں گہرے نہ اترو، اسے عقل و ادراک فکر و ذہن نہیں پا سکتا۔ } ۱؎ [بغوی فی التفسیر:232/4:ضعیف] گو ان لفظوں سے یہ حدیث محفوظ نہیں، مگر صحیح حدیث میں یہ بھی مضمون موجود ہے، اس میں ہے کہ { شیطان کسی کے پاس آتا ہے اور کہتا ہے اسے کس نے پیدا کیا؟ پھر اسے کس نے پیدا کیا؟ یہاں تک کہ کہتا ہے اللہ تعالیٰ کو کس نے پیدا کیا؟ جب تم میں سے کسی کے دل میں یہ وسوسہ پیدا ہوا تو «اعُوذُ بِاللّهِ مِن الشِّیطانِ الرَّجِیمِ» پڑھ لے اور اس خیال کو دل سے دور کر دے۔ } ۱؎ [صحیح بخاری:3276] سنن کی ایک حدیث میں ہے { مخلوقات اللہ میں غور و فکر کرو لیکن ذات اللہ میں غور و فکر نہ کرو، سنو اللہ تعالیٰ نے ایک فرشتہ پیدا کیا ہے جس کے کان کی لو سے لے کر مونڈھے تک تین سو سال کا راستہ ہے او کما قال۔ } ۱؎ [صحیح مسلم:134] پھر فرماتا ہے کہ بندوں میں ہنسنے رونے کا مادہ اور ان کے اسباب بھی اسی نے پیدا کئے ہیں جو بالکل مختلف ہیں وہی موت و حیات کا خالق ہے۔ جیسے فرمایا «الَّذِي خَلَقَ الْمَوْتَ وَالْحَيَاةَ» ۱؎ [67-الملک:2] ’ اس نے موت و حیات کو پیدا کیا اسی نے نطفہ سے ہر جاندار کو جوڑ جوڑ بنایا ‘۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَىٰ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ» ۱؎ [75-القيامة:40-36] ، ’ کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بےکار چھوڑ دیا جائے گا؟، کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا، جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟، پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا؟، پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے، کیا (ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کر دے۔‘ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا، یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے، اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنا دیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے۔
اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے، اس نے دیا اور خوش ہوا، اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنا دیا، جسے چاہا غنی کیا، جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ «شعریٰ» اس روشن ستارے کا نام ہے جسے «مِرْزَم الْجَوْزَاء» بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے۔ عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کر دیا۔ جیسے فرمایا «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» ۱؎ [89-الفجر:6-8] ، یعنی ’ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا؟ ‘ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زور آور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی۔ «وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا» ۱؎ [69-الحاقة:6،7] ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا، اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کر دیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہو چکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن و قہار نے زیر و زبر کر دیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کر دیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (پتھروں نے) اور آیت میں ہے «وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:173] ’ جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ ‘ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے، آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا: ’ پھر تو اے انسان! اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا؟ ‘ بعض کہتے ہیں خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر رحمہ اللہ بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:540/11]
اور یہ کہ اسی کے ذمہ ہے پچھلا اٹھانا (دوبارہ زندہ کرنا)
علامہ محمد حسین نجفی
اور بیشک دوبارہ پیدا کرنا اسی (اللہ) کے ذمہ ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور یہ کہ اسی کے ذمہ دوسری دفعہ پیدا کرنا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جیسے اور جگہ فرمان ہے «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَىٰ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ» ۱؎ [75-القيامة:40-36] ، ’ کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بےکار چھوڑ دیا جائے گا؟، کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا، جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟، پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا؟، پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے، کیا (ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کر دے۔‘ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا، یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے، اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنا دیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے۔
اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے، اس نے دیا اور خوش ہوا، اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنا دیا، جسے چاہا غنی کیا، جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ «شعریٰ» اس روشن ستارے کا نام ہے جسے «مِرْزَم الْجَوْزَاء» بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے۔ عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کر دیا۔ جیسے فرمایا «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» ۱؎ [89-الفجر:6-8] ، یعنی ’ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا؟ ‘ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زور آور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی۔ «وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا» ۱؎ [69-الحاقة:6،7] ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا، اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کر دیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہو چکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن و قہار نے زیر و زبر کر دیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کر دیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (پتھروں نے) اور آیت میں ہے «وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:173] ’ جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ ‘ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے، آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا: ’ پھر تو اے انسان! اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا؟ ‘ بعض کہتے ہیں خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر رحمہ اللہ بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:540/11]
اور یہ کہ وہی سرمایہ دار بناتا ہے اور وہی فقیر و نادار بناتا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور یہ کہ اسی نے غنی کیا اور خزانہ بخشا۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جیسے اور جگہ فرمان ہے «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَىٰ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ» ۱؎ [75-القيامة:40-36] ، ’ کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بےکار چھوڑ دیا جائے گا؟، کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا، جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟، پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا؟، پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے، کیا (ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کر دے۔‘ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا، یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے، اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنا دیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے۔
اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے، اس نے دیا اور خوش ہوا، اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنا دیا، جسے چاہا غنی کیا، جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ «شعریٰ» اس روشن ستارے کا نام ہے جسے «مِرْزَم الْجَوْزَاء» بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے۔ عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کر دیا۔ جیسے فرمایا «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» ۱؎ [89-الفجر:6-8] ، یعنی ’ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا؟ ‘ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زور آور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی۔ «وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا» ۱؎ [69-الحاقة:6،7] ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا، اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کر دیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہو چکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن و قہار نے زیر و زبر کر دیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کر دیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (پتھروں نے) اور آیت میں ہے «وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:173] ’ جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ ‘ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے، آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا: ’ پھر تو اے انسان! اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا؟ ‘ بعض کہتے ہیں خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر رحمہ اللہ بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:540/11]
48۔ 1 یعنی کسی کو اتنی تونگری دیتا ہے کہ وہ کسی کا محتاج نہیں ہوتا اور اسکی تمام حاجتیں پوری ہوجاتی ہیں اور کسی کو اتنا سرمایا دے دیتا ہے کہ اس کے پاس ضرورت سے زائد بچ رہتا ہے اور وہ اس کو جمع کرکے رکھتا ہے۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَىٰ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ» ۱؎ [75-القيامة:40-36] ، ’ کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بےکار چھوڑ دیا جائے گا؟، کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا، جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟، پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا؟، پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے، کیا (ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کر دے۔‘ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا، یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے، اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنا دیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے۔
اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے، اس نے دیا اور خوش ہوا، اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنا دیا، جسے چاہا غنی کیا، جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ «شعریٰ» اس روشن ستارے کا نام ہے جسے «مِرْزَم الْجَوْزَاء» بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے۔ عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کر دیا۔ جیسے فرمایا «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» ۱؎ [89-الفجر:6-8] ، یعنی ’ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا؟ ‘ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زور آور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی۔ «وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا» ۱؎ [69-الحاقة:6،7] ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا، اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کر دیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہو چکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن و قہار نے زیر و زبر کر دیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کر دیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (پتھروں نے) اور آیت میں ہے «وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:173] ’ جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ ‘ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے، آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا: ’ پھر تو اے انسان! اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا؟ ‘ بعض کہتے ہیں خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر رحمہ اللہ بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:540/11]
49۔ 1 رب تو وہ ہر چیز کا ہے، یہاں ستارے کا نام اس لئے لیا ہے کہ بعض عرب قبائل اس کی پوجا کرتے ہیں۔
جیسے اور جگہ فرمان ہے «أَيَحْسَبُ الْإِنسَانُ أَن يُتْرَكَ سُدًى أَلَمْ يَكُ نُطْفَةً مِّن مَّنِيٍّ يُمْنَىٰ ثُمَّ كَانَ عَلَقَةً فَخَلَقَ فَسَوَّىٰ فَجَعَلَ مِنْهُ الزَّوْجَيْنِ الذَّكَرَ وَالْأُنثَىٰ أَلَيْسَ ذَٰلِكَ بِقَادِرٍ عَلَىٰ أَن يُحْيِيَ الْمَوْتَىٰ» ۱؎ [75-القيامة:40-36] ، ’ کیا انسان سمجھتا ہے کہ وہ بےکار چھوڑ دیا جائے گا؟، کیا وہ منی کا قطرہ نہ تھا، جو (رحم میں) ٹپکایا جاتا ہے؟، پھر کیا وہ بستہ خون نہ تھا؟، پھر اللہ نے اسے پیدا کیا اور درست کیا اور اس سے جوڑے یعنی نرو مادہ بنائے، کیا (ایسی قدرتوں والا) اللہ اس بات پر قادر نہیں کہ مردوں کو زندہ کر دے۔‘ پھر فرماتا ہے اسی پر دوبارہ زندہ کرنا، یعنی جیسے اس نے ابتداء پیدا کیا اسی طرح مار ڈالنے کے بعد دوبارہ کی پیدائش بھی اسی کے ذمہ ہے، اسی نے اپنے بندوں کو غنی بنا دیا اور مال ان کے قبضہ میں دے دیا ہے جو ان کے پاس ہی بطور پونجی کے رہتا ہے۔
اکثر مفسرین کے کلام کا خلاصہ اس مقام پر یہی ہے گو بعض سے مروی ہے کہ اس نے مال دیا اور غلام دئیے، اس نے دیا اور خوش ہوا، اسے غنی بنا کر اور مخلوق کو اس کا دست نگر بنا دیا، جسے چاہا غنی کیا، جسے چاہا فقیر لیکن یہ پچھلے دونوں قول لفظ سے کچھ زیادہ مطابقت نہیں رکھتے۔ «شعریٰ» اس روشن ستارے کا نام ہے جسے «مِرْزَم الْجَوْزَاء» بھی کہتے ہیں بعض عرب اس کی پرستش کرتے تھے۔ عاد و اولیٰ یعنی قوم ہود کو جسے عاد بن ارم بن سام بن نوح بھی کہا جاتا ہے اسی نے ان کی نافرمانی کی بنا پر تباہ کر دیا۔ جیسے فرمایا «أَلَمْ تَرَ كَيْفَ فَعَلَ رَبُّكَ بِعَادٍ إِرَمَ ذَاتِ الْعِمَادِ الَّتِي لَمْ يُخْلَقْ مِثْلُهَا فِي الْبِلَادِ» ۱؎ [89-الفجر:6-8] ، یعنی ’ کیا تو نے نہیں دیکھا کہ تیرے رب نے عاد کے ساتھ کیا کیا؟ ‘ یعنی ارم کے ساتھ جو بڑے قدآور تھے جن کا مثل شہروں میں پیدا نہیں کیا گیا تھا یہ قوم بڑی قوی اور زور آور تھی ساتھ ہی اللہ کی بڑی نافرمان اور رسول سے بڑی سرتاب تھی۔ «وَأَمَّا عَادٌ فَأُهْلِكُوا بِرِيحٍ صَرْصَرٍ عَاتِيَةٍ سَخَّرَهَا عَلَيْهِمْ سَبْعَ لَيَالٍ وَثَمَانِيَةَ أَيَّامٍ حُسُومًا» ۱؎ [69-الحاقة:6،7] ان پر ہوا کا عذاب آیا جو سات راتیں اور آٹھ دن برابر رہا، اسی طرح ثمودیوں کو بھی اس نے ہلاک کر دیا جس میں سے ایک بھی باقی نہ بچا اور ان سے پہلے قوم نوح تباہ ہو چکی ہے جو بڑے ناانصاف اور شریر تھے اور لوط کی بستیاں جنہیں رحمن و قہار نے زیر و زبر کر دیا اور آسمانی پتھروں سے سب بدکاروں کا ہلاک کر دیا انہیں ایک چیز نے ڈھانپ لیا یعنی (پتھروں نے) اور آیت میں ہے «وَأَمْطَرْنَا عَلَيْهِم مَّطَرًا فَسَاءَ مَطَرُ الْمُنذَرِينَ» ۱؎ [26-الشعراء:173] ’ جن کا مینہ ان پر برسا اور برے حالوں تباہ ہوئے۔ ‘ ان بستیوں میں چار لاکھ آدمی آباد تھے، آبادی کی کل زمین کی آگ اور گندھک اور تیل بن کر ان پر بھڑک اٹھی۔ قتادہ رحمہ اللہ کا یہی قول ہے جو بہت غریب سند سے ابن ابی حاتم میں مروی ہے۔ پھر فرمایا: ’ پھر تو اے انسان! اپنے رب کی کس کس نعمت پر جھگڑے گا؟ ‘ بعض کہتے ہیں خطاب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ہے لیکن خطاب کو عام رکھنا بہت اولیٰ ہے ابن جریر رحمہ اللہ بھی عام رکھنے کو ہی پسند فرماتے ہیں۔۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:540/11]
50۔ 1 قوم عاد اول اس لئے کہا کہ یہ ثمود سے پہلے ہوئی، یا اس لئے کہ قوم نوح کے بعد سب سے پہلے یہ قوم ہلاک کی گئی۔ بعض کہتے ہیں، عاد نامی دو قومیں گزری ہیں، یہ پہلی ہے جسے باد تند سے ہلاک کیا گیا جب کہ دوسری زمانے کی گردشوں کے ساتھ مختلف ناموں سے چلتی اور بکھرتی ہوئی موجود رہی۔
(آیت 51،50) {وَ اَنَّهٗۤ اَهْلَكَ عَادًا الْاُوْلٰى …:} ”عادِ اُولٰى“ وہ قدیم قوم جس کی طرف ہود علیہ السلام بھیجے گئے تھے۔ انھیں ”اُولٰى“ یا تو ان کے قدیم ہونے کی وجہ سے کہا گیا، جیسے فرمایا: «وَ لَا تَبَرَّجْنَ تَبَرُّجَ الْجَاهِلِيَّةِ الْاُوْلٰى» [ الأحزاب: ۳۳ ] ”پہلی جاہلیت کے زینت ظاہر کرنے کی طرح زینت ظاہر نہ کرو۔“ یا اس وجہ سے کہ ان پر عذاب آنے کے وقت جو لوگ بچ گئے ان کی نسل کو عاد اُخریٰ یا عاد ثانیہ کہا گیا۔ اکثر کے مطابق ہود علیہ السلام کی قوم کو عادِ اُولیٰ اور صالح علیہ السلام کی قومِ ثمود کو عاد اُخریٰ کہا جاتا ہے۔ قومِ عاد کی ہلاکت کی تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۷۲)، حاقہ (۶ تا ۸)، حم سجدہ (۱۵، ۱۶)، قمر (۱۸ تا ۲۰)، ذاریات (۴۱، ۴۲) اور احقاف (۲۱ تا ۲۵) اور قومِ ثمود کے تعارف کے لیے دیکھیے سورۂ اعراف (۷۳ تا ۷۹)۔