بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ النجم — Surah Najm
آیت نمبر 29
کل آیات: 62
قرآن کریم النجم آیت 29
آیت نمبر: 29 — سورۃ النجم islamicurdubooks.com ↗
فَاَعۡرِضۡ عَنۡ مَّنۡ تَوَلّٰی ۬ۙ عَنۡ ذِکۡرِنَا وَ لَمۡ یُرِدۡ اِلَّا الۡحَیٰوۃَ الدُّنۡیَا ﴿ؕ۲۹﴾
پس اے نبیؐ، جو شخص ہمارے ذکر سے منہ پھیرتا ہے، اور دنیا کی زندگی کے سوا جسے کچھ مطلوب نہیں ہے، اُسے اس کے حال پر چھوڑ دو
تو آپ اس سے منھ موڑ لیں جو ہماری یاد سے منھ موڑے اور جن کا اراده بجز زندگانیٴ دنیا کے اور کچھ نہ ہو
تو تم اس سے منہ پھیر لو، جو ہماری یاد سے پھرا اور اس نے نہ چاہی مگر دنیا کی زندگی
(اے رسول(ص)) آپ اس سے رُوگردانی کیجئے! جو ہمارے ذکر سے رُوگردانی کرتا ہے اور جو زندگانئ دنیا کے سوا اور کچھ نہیں چاہتا۔
سو اس سے منہ پھیرلے جس نے ہماری نصیحت سے منہ موڑا اور جس نے دنیا کی زندگی کے سوا کچھ نہ چاہا۔

📖 تفسیر ابن کثیر

آخرت کا گھر اور دنیا ٭٭

اللہ تعالیٰ مشرکین کے اس قول کی تردید فرماتا ہے کہ اللہ کے فرشتے اس کی لڑکیاں ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «وَجَعَلُوا الْمَلَائِكَةَ الَّذِينَ هُمْ عِبَادُ الرَّ‌حْمَـٰنِ إِنَاثًا أَشَهِدُوا خَلْقَهُمْ سَتُكْتَبُ شَهَادَتُهُمْ وَيُسْأَلُونَ» ۱؎ [43-الزخرف:19] ‏‏‏‏ یعنی ’ اللہ کے مقبول بندوں اور فرشتوں کو انہوں نے اللہ کی لڑکیاں ٹھہرا دیا ہے کیا ان کی پیدائش کے وقت یہ موجود تھے؟ ان کی شہادت لکھی جائے گی اور ان سے پرسش کی جائے گی۔ ‘ یہاں بھی فرمایا کہ یہ لوگ فرشتوں کے زنانہ نام رکھتے ہیں جو ان کی بےعلمی کا نتیجہ ہے۔ محض جھوٹ، کھلا بہتان بلکہ صریح شرک ہے یہ صرف ان کی اٹکل ہے اور یہ ظاہر ہے کہ اٹکل پچو کی باتیں حق کے قائم مقام نہیں ہو سکتیں۔ حدیث شریف میں ہے { گمان سے بچو گمان بدترین جھوٹ ہے۔} ۱؎ [صحیح بخاری:6066] ‏‏‏‏

پھر اللہ تعالیٰ اپنے نبی (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) سے فرماتا ہے کہ حق سے اعراض کرنے والوں سے آپ بھی اعراض کر لیں، ان کا مطمع نظر صرف دنیا کی زندگی ہے، اور جس کی غایت یہ سفلی دنیا ہو اس کا انجام کبھی نیک نہیں ہوتا ان کے علم کی غایت بھی یہی ہے کہ دنیا طلبی اور کوشش دنیا میں ہر وقت منہمک رہیں۔ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”دنیا اس کا گھر ہے جس کا (‏‏‏‏آخرت میں) گھر نہ ہو اور دنیا اس کا مال ہے جس کا مال (‏‏‏‏آخرت میں) کنگال ہو اسے جمع کرنے کی دھن میں وہ رہتا ہے۔“ } ۱؎ [سلسلة احادیث ضعیفه البانی:1933،] ‏‏‏‏ ایک منقول دعا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے یہ الفاظ بھی آئے ہیں { «‏‏‏‏اَللّٰھُمَّ لاَ تَجْعَلِ الدُّنْيَا أَكْبَرَ هَمِّنَا وَ لاَ مَبْلَغَ عِلْمِنَا» پروردگار! تو ہماری اہم تر کوشش اور مطمع نظر اور مقصد معلومات صرف دنیا ہی کو نہ کر۔ } ۱؎ [سنن ترمذي:3502،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ جمیع مخلوقات کا خالق صرف اللہ تعالیٰ ہی ہے اپنے بندوں کی مصلحتوں سے صحیح طور پر وہی واقف ہے، جسے چاہے ہدایت دے، جسے چاہے ضلالت دے، سب کچھ اس کی قدرت علم اور حکمت سے ہو رہا ہے وہ عادل ہے اپنی شریعت میں اور انداز مقرر کرنے میں ظلم و بے انصافی نہیں کرتا۔

📖 احسن البیان

اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 29){ فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى عَنْ ذِكْرِنَا …:} یہاں یہ کہنے کے بجائے کہ {”فَأَعْرِضْ عَنْهُمْ“} (سو ان سے منہ پھیر لے) یہ فرمایا: «‏‏‏‏فَاَعْرِضْ عَنْ مَّنْ تَوَلّٰى عَنْ ذِكْرِنَا» (سو اس سے منہ پھیر لے جس نے ہماری نصیحت سے منہ موڑا) تاکہ ان مشرکین سے اعراض کی وجہ بھی سامنے آ جائے کہ جو شخص ہماری وحی کے ذریعے سے آنے والی نصیحت کی طرف توجہ دینے کے لیے تیار ہی نہیں، بلکہ جان بوجھ کر اس سے منہ موڑے ہوئے ہے اور دنیا کی زندگی کے سوا اس نے کچھ چاہا ہی نہیں ہے،آپ بھی اس کے پیچھے نہ پڑیں اور نہ ہی اس کی خاطر وقت ضائع کریں۔
← پچھلی آیت (28) پوری سورۃ اگلی آیت (30) →