بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
المجادلة
سورۃ المجادلة — 22 آیات
قرآن کریم Surah 58
قَدۡ سَمِعَ اللّٰہُ قَوۡلَ الَّتِیۡ تُجَادِلُکَ فِیۡ زَوۡجِہَا وَ تَشۡتَکِیۡۤ اِلَی اللّٰہِ ٭ۖ وَ اللّٰہُ یَسۡمَعُ تَحَاوُرَکُمَا ؕ اِنَّ اللّٰہَ سَمِیۡعٌۢ بَصِیۡرٌ ﴿۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ نے سن لی اُس عورت کی بات جو ا پنے شوہر کے معاملہ میں تم سے تکرار کر رہی ہے اور اللہ سے فریاد کیے جاتی ہے اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے، وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سنی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اللہ کے آگے شکایت کر رہی تھی، اللہ تعالیٰ تم دونوں کے سوال وجواب سن رہا تھا، بیشک اللہ تعالیٰ سننے دیکھنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک اللہ نے سنی اس کی بات جو تم سے اپنے شوہر کے معاملہ میں بحث کرتی ہے اور اللہ سے شکایت کرتی ہے، اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے، بیشک اللہ سنتا دیکھتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک اللہ نے اس عورت کی بات سن لی ہے جو اپنے شوہر کے بارے میں آپ(ص) سے بحث و تکرار کررہی ہے اور اللہ سے شکوہ و شکایت کر رہی ہے اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے بےشک اللہ بڑا سننے والا، بڑا دیکھنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
یقینا اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑ رہی تھی اور اللہ کی طرف شکایت کر رہی تھی اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا۔ بے شک اللہ سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
{ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: اللہ تعالیٰ کی ذات حمد و ثناء کے لائق ہے جس کے سننے نے تمام آوازوں کو گھیر رکھا ہے، یہ شکایت کرنے والی خاتون آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اس طرح چپکے چپکے باتیں کر رہی تھیں کہ باوجود اسی گھر میں موجود ہونے کے میں مطلقاً نہ سن سکی کہ وہ کیا کہہ رہی ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے اس پوشیدہ آواز کو بھی سن لیا اور یہ آیت اتری }۔ ۱؎ [صحیح بخاری:7386] ‏‏‏‏ اور روایت میں آپ کا یہ فرمان اس طرح منقول ہے کہ بابرکت ہے وہ اللہ جو ہر اونچی نیچی آواز کو سنتا ہے، یہ شکایت کرنے والی بی بی صاحبہ سیدہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوئیں تو اس طرح سرگوشیاں کر رہی تھیں کہ کوئی لفظ تو کان تک پہنچ جاتا تھا ورنہ اکثر باتیں باوجود اسی گھر میں موجود ہونے کے میرے کانوں تک نہیں پہنچتی تھیں۔ اپنے میاں کی شکایت کرتے ہوئے فرمایا کہ یا رسول اللہ! میری جوانی تو ان کے ساتھ کٹی، بچے ان سے ہوئے، اب جبکہ میں بڑھیا ہو گئی، بچے پیدا کرنے کے قابل نہ رہی، تو میرے میاں نے مجھ سے ظہار کر لیا، اے اللہ میں تیرے سامنے اپنے اس دکھڑے کا رونا روتی ہوں، ابھی یہ بی بی صاحبہ گھر سے باہر نہیں نکلی تھیں کہ جبرائیل علیہ السلام یہ آیت لے کر اترے، ان کے خاوند کا نام سیدنا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ تھا۔ ۱؎ [تفسیر ابن جریر الطبری:33727:صحیح] ‏‏‏‏ (‏‏‏‏ابن ابی حاتم)

انہیں بھی کچھ جنون سا ہو جاتا تھا اس حالت میں اپنی بیوی صاحبہ سے ظہار کر لیتے پھر جب اچھے ہو جاتے تو گویا کچھ کہا ہی نہ تھا، یہ بی بی صاحبہ حضور صلی اللہ علیہ وسلم سے فتویٰ پوچھنے اور اللہ کے سامنے اپنی التجا بیان کرنے کو آئیں تھیں جس پر یہ آیت اتری۔ ۱؎ [سنن ابوداود:2219،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ یزید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے زمانے میں اور لوگوں کے ساتھ جا رہے تھے کہ ایک عورت نے آواز دے کر ٹھہرا لیا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ فوراً ٹھہر گئے اور ان کے پاس جا کر توجہ اور ادب سے سر جھکائے ان کی باتیں سننے لگے، جب وہ اپنی فرمائش کی تعمیل کرا چکیں اور خود لوٹ گئیں تب امیر المؤمنین رضی اللہ عنہ بھی واپس ہمارے پاس آئے، ایک شخص نے کہا: امیر المؤمنین ایک بڑھیا کے کہنے سے آپ رک گئے اور اتنے آدمیوں کو آپ کی وجہ سے اب تک رکنا پڑا، آپ نے فرمایا: افسوس! جانتے بھی ہو یہ کون تھیں؟ اس نے کہا: نہیں، فرمایا: یہ وہ عورت ہیں جن کی شکایت اللہ تعالیٰ نے ساتویں آسمان پر سنی یہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا ہیں اگر یہ آج صبح سے شام چھوڑ رات کر دیتیں اور مجھ سے کچھ فرماتی رہتیں تو بھی میں ان کی خدمت سے نہ ٹلتا، ہاں نماز کے وقت نماز ادا کر لیتا اور پھر کمربستہ خدمت کیلئے حاضر ہو جاتا (‏‏‏‏ابن ابی حاتم) اس کی سند منقطع ہے اور دوسرے طریق سے بھی مروی ہے، ایک روایت میں ہے کہ یہ سیدہ خولہ بن صامت رضی اللہ عنہا تھیں اور ان کی والدہ کا نام سیدہ معاذہ رضی اللہ عنہا تھا جن کے بارے میں آیت «وَلَا تُكْرِهُوْا فَتَيٰتِكُمْ عَلَي الْبِغَاۗءِ اِنْ اَرَدْنَ تَحَصُّنًا لِّتَبْتَغُوْا عَرَضَ الْحَيٰوةِ الدُّنْيَا» ۱؎ [24-النور:33] ‏‏‏‏ نازل ہوئی تھی، لیکن ٹھیک بات یہ ہے کہ خولہ رضی اللہ عنہا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کی بیوی تھیں، اللہ تعالیٰ ان سے راضی ہو۔
یقیناً اللہ تعالیٰ نے اس عورت کی بات سنی جو تجھ سے اپنے شوہر کے بارے میں تکرار کر رہی تھی اور اللہ کے آگے شکایت کر رہی تھی، اللہ تعالیٰ تم دونوں کے سوال جواب سن رہا تھا (1) بیشک اللہ تعالیٰ سننے دیکھنے والا ہے۔
(آیت 1) ➊ { قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا:} یہ آیات خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنھا کے بارے میں اتریں۔ بعض روایات میں ان کا نام خویلہ اور بعض میں جمیلہ آیا ہے۔ ان کے خاوند اوس بن صامت انصاری رضی اللہ عنہ تھے جو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے، بوڑھے تھے اور خولہ کے ان سے بچے بھی تھے۔ انھوں نے کسی بات پر ناراض ہو کر ان سے ظہار کر لیا، یعنی یہ کہہ دیا: {”أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّيْ“} ”تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے۔“ جاہلیت میں جو شخص بیوی سے ظہار کرتا وہ اسے ماں ہی کی طرح ہمیشہ کے لیے حرام سمجھ لیتا تھا۔ خولہ کے سامنے تو دنیا اندھیر ہو گئی، اس عمر میں کہاں رہوں گی، بچوں کا کیا کروں گی؟ باپ کے پاس رہے تو ضائع ہو جائیں گے، میرے پاس رہے تو انھیں کہاں سے کھلاؤں گی؟ وہ یہ شکایت لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئیں۔ سنن ابو داؤد میں ہے کہ خویلہ بنت مالک بن ثعلبہ رضی اللہ عنھا نے کہا کہ میرے خاوند اوس بن صامت رضی اللہ عنہ نے مجھ سے ظہار کر لیا تو میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، میں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس شکایت کرتی تھی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بارے میں مجھ سے جھگڑتے تھے اور فرماتے تھے: [ اِتَّقِي اللّٰهَ فَإِنَّهُ ابْنُ عَمِّكِ ] ”اس کے بارے میں اللہ سے ڈر، کیونکہ وہ تمھارا چچا زاد ہے۔“ مگر میں نہیں ٹلی، حتیٰ کہ {” قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا “} سے لے کر کفارہ کے فرض کے بیان تک قرآن نازل ہوا۔ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَعْتِقُ رَقَبَةً ] ”وہ ایک گردن آزاد کرے۔“ اس نے کہا: ”وہ تو اس کے پاس ہے نہیں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ فَيَصُوْمُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ] ”پھر دو ماہ پے در پے روزے رکھے۔“ اس نے کہا: ”اے اللہ کے رسول! وہ بڑا بوڑھا ہے، روزے رکھ نہیں سکتا۔“ فرمایا: [ فَلْيُطْعِمْ سِتِّيْنَ مِسْكِيْنًا ] ”پھر ساٹھ (۶۰) مسکینوں کو کھانا کھلائے۔“ اس نے کہا: ”اس کے پاس کوئی چیز نہیں جس کا صدقہ کرے۔“ کہتی ہیں کہ اس وقت کھجوروں کا ایک ٹوکرا لایا گیا، میں نے کہا: ”یا رسول اللہ! میں ایک اور ٹوکرے کے ساتھ اس کی مدد کر دیتی ہوں۔“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ قَدْ أَحْسَنْتِ اِذْهَبِيْ فَأَطْعِمِيْ بِهَا عَنْهُ سِتِّيْنَ مِسْكِيْنًا وَارْجِعِيْ إِلٰی ابْنِ عَمِّكِ ] [ أبو داوٗد، الطلاق، باب في الظہار:۲۲۱۴، وقال الألباني حسن ] ”تم نے بہت اچھا کیا، جاؤ اس کی طرف سے ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلاؤ اور اپنے چچا زاد کے پاس واپس چلی جاؤ۔“ ➋ { قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ:} حرف {” قَدْ “} تحقیق کے لیے آتا ہے اور اس کام کے واقع ہونے کے لیے بھی جس کی توقع کی جا رہی ہو۔ یہاں پہلے معنی کا تو محل نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کے سننے میں کسی کو شک نہیں کہ اس کا یقین دلانے کے لیے حرف تحقیق لایا جائے، تو مطلب یہ کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے جھگڑا کرنے والی عورت اپنی فریاد سنے جانے کی جو توقع کر رہی تھی اللہ تعالیٰ نے پوری فرما دی۔ سننے سے مراد یہاں صرف سن لینا ہی نہیں بلکہ سننا اور سن کر مراد پوری کرنا ہے، جیسے کہا جاتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے دعا سن لی، یعنی سن کر قبول فرمائی۔ ➌ { تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا:} وہ جھگڑا یہی تھا کہ وہ کہتی تھی میرے بارے میں کوئی گنجائش نکالیں، میرے خاوند نے مجھے طلاق نہیں دی، صرف {”أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّيْ“} کہا ہے۔ اب میں بڑھاپے میں کہاں جاؤں اور بچوں کا کیا کروں؟ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اللہ تعالیٰ کی طرف سے کوئی واضح حکم نہ ہونے کی وجہ سے انھیں اکٹھے رہنے کی اجازت نہیں دے رہے تھے۔ ➍ { وَ تَشْتَكِيْۤ اِلَى اللّٰهِ:شَكَا يَشْكُوْ شَكْوًي وَشِكَايَةً “} اپنے دکھ تکلیف کا اظہار کرنا۔ {” تَشْتَكِيْۤ “} (افتعال) میں حروف زیادہ ہونے کی وجہ سے معنی میں مبالغہ ہے، یعنی وہ جھگڑنے والی اللہ تعالیٰ کی جناب میں بہت شکایت کر رہی تھی اور اپنے دکھ درد کا شدت سے اظہار کر رہی تھی۔ ➎ {وَ اللّٰهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌ:اِنَّ “} تعلیل کے لیے ہوتا ہے۔ اور اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا تھا، کیونکہ اللہ تو سب کچھ سننے والا، سب کچھ دیکھنے والا ہے۔ ”سمع“ (سننا) وہ صفت ہے جس کے ساتھ آوازوں کا علم ہوتا ہے اور ” بصر“ (دیکھنا) وہ صفت ہے جس کے ساتھ نظر آنے والی چیزوں کا علم ہوتا ہے۔ یونان کے مشرک فلاسفہ سے متاثر ہو کر بعض مسلم متکلمین نے ان کا یہ قاعدہ مان لیا کہ محل حوادث حادث ہوتا ہے۔ اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ ان کے لیے اللہ تعالیٰ کو سمیع و بصیر ماننا ممکن نہ رہا، کیونکہ اگر مانا جائے کہ اللہ تعالیٰ تمام آوازوں کو سنتا ہے اور تمام چیزوں کو دیکھتا ہے تو سنائی دینے والی اور نظر آنے والی چیزیں تو حادث ہیں، نئی سے نئی وجود میں آتی ہیں، اگر اللہ تعالیٰ سنتا اور دیکھتا ہو تو وہ محل حوادث ہوگا اور ان کے قاعدے کے مطابق خود بھی حادث ہو گا، ہمیشہ سے اور قدیم نہیں ہوگا، اس لیے انھوں نے اللہ تعالیٰ کے سننے، دیکھنے، کلام کرنے اور ایسی تمام صفات کا یا تو انکار کر دیا جن میں حدوث پایا جاتا ہے یا ان کی ایسی تاویل کردی جو درحقیقت انکار ہی ہے۔ اکثر مفسرین نے یہی روش اختیار کی ہے۔ تفسیر جلالین کو دیکھ لیجیے، وہ لکھتے ہیں: {” اِنَّ اللّٰهَ سَمِيْعٌۢ بَصِيْرٌعَالِمٌ “} حالانکہ سب جانتے ہیں کہ سننا، دیکھنا اور جاننا تینوں الگ الگ صفات ہیں، صرف عالم مان لینے سے سمیع و بصیر نہیں مانا جا سکتا اور یہ قاعدہ کہ ”محل حوادث حادث ہوتا ہے“ قرآن مجید کے صریح الفاظ سے ٹکراتا ہے، اس لیے غلط ہے۔ مزید تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ رحمن کی آیت (۲۹): «كُلَّ يَوْمٍ هُوَ فِيْ شَاْنٍ» ‏‏‏‏ کی تفسیر۔ اگر کوئی کہے کہ اگر اللہ تعالیٰ کو سمیع و بصیر مانیں تو وہ بندوں کی مثل ٹھہرتا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ جب {”عليم“} ماننے سے وہ بندوں جیسا نہیں ٹھہرتا، حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ”علیم “ کا لفظ بندوں پر بھی بولا ہے: «‏‏‏‏اِنَّا نُبَشِّرُكَ بِغُلٰمٍ عَلِيْمٍ» [ الحجر: ۵۳ ] (بے شک ہم تجھے ایک علیم لڑکے کی خوش خبری دیتے ہیں) تو سمیع و بصیر ماننے سے بندوں کی مثل کیسے بن جائے گا؟ مزید دیکھیے سورۂ شوریٰ کی آیت (۱۱): «‏‏‏‏لَيْسَ كَمِثْلِهٖ شَيْءٌ وَ هُوَ السَّمِيْعُ الْبَصِيْرُ» ‏‏‏‏ کی تفسیر۔ ➏ ام المومنین عائشہ رضی اللہ عنھا نے فرمایا: [ اَلْحَمْدُ لِلّٰهِ الَّذِيْ وَسِعَ سَمْعُهُ الْأَصْوَاتَ، لَقَدْ جَاءَتِ الْمُجَادِلَةُ إِلَی النَّبِيِّ صَلَّی اللّٰهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ وَ أَنَا فِيْ نَاحِيَةِ الْبَيْتِ، تَشْكُوْ زَوْجَهَا وَمَا أَسْمَعُ مَا تَقُوْلُ فَأَنْزَلَ اللّٰهُ: «‏‏‏‏قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا» ] [ ابن ماجہ، المقدمۃ، باب فیما أنکرت الجھمیۃ: ۱۸۸ ] ”سب تعریف اللہ کے لیے ہے جس کی سماعت تمام آوازوں پر وسیع ہے، وہ جھگڑنے والی عورت نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی جب کہ میں گھر کے ایک طرف موجود تھی، وہ اپنے خاوند کی شکایت کر رہی تھی اور میں وہ نہیں سنتی تھی جو وہ کہہ رہی تھی، تو اللہ تعالیٰ نے یہ آیات نازل فرمائیں: «‏‏‏‏قَدْ سَمِعَ اللّٰهُ قَوْلَ الَّتِيْ تُجَادِلُكَ فِيْ زَوْجِهَا» ‏‏‏‏ ”یقینا اللہ نے اس عورت کی بات سن لی جو تجھ سے اپنے خاوند کے بارے میں جھگڑ رہی تھی۔“ اس حدیث سے ظاہر ہے کہ صحابہ کرام اللہ تعالیٰ کے سننے کا کیا مطلب سمجھتے تھے۔ اس لیے امام ابن ماجہ نے اپنی سنن کے شروع ہی میں یہ حدیث اس باب میں ذکر فرمائی ہے جس کا عنوان ہے: {” بَابٌ فِيْمَا أَنْكَرَتِ الْجَهْمِيَّةُ“} ”یہ باب ان چیزوں کو ثابت کرنے کے لیے ہے جن کا جہمیہ نے انکار کیا ہے۔“ اور امام بخاری نے اپنی صحیح بخاری کی {” كِتَابُ التَّوْحِيْدِ“} کے {”بَابُ قَوْلِ اللّٰهِ تَعْالٰي: «‏‏‏‏وَ كَانَ اللّٰهُ سَمِيْعًۢا بَصِيْرًا» ‏‏‏‏ “} کے تحت اسے اللہ تعالیٰ کی صفت سمع و بصر ثابت کرنے کے لیے ذکر فرمایا ہے۔
اَلَّذِیۡنَ یُظٰہِرُوۡنَ مِنۡکُمۡ مِّنۡ نِّسَآئِہِمۡ مَّا ہُنَّ اُمَّہٰتِہِمۡ ؕ اِنۡ اُمَّہٰتُہُمۡ اِلَّا الِّٰٓیۡٔ وَلَدۡنَہُمۡ ؕ وَ اِنَّہُمۡ لَیَقُوۡلُوۡنَ مُنۡکَرًا مِّنَ الۡقَوۡلِ وَ زُوۡرًا ؕ وَ اِنَّ اللّٰہَ لَعَفُوٌّ غَفُوۡرٌ ﴿۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں ہیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے یہ لوگ ایک سخت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ﻇہار کرتے ہیں (یعنی انہیں ماں کہہ بیٹھتے ہیں) وه دراصل ان کی مائیں نہیں بن جاتیں، ان کی مائیں تو وہی ہیں جن کے بطن سے وه پیدا ہوئے، یقیناً یہ لوگ ایک نامعقول اور جھوٹی بات کہتے ہیں۔ بیشک اللہ تعالیٰ معاف کرنے واﻻ اور بخشنے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
وہ جو تم میں اپنی بیبیوں کو اپنی ماں کی جگہ کہہ بیٹھتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ان کی مائیں تو وہی ہیں جن سے وہ پیدا ہیں اور وہ بیشک بری اور نری جھوٹ بات کہتے ہیں اور بیشک اللہ ضرور معاف کرنے والا اور بخشنے والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہیں (کیونکہ) ان کی مائیں تو بس وہی ہیں جنہوں نے انہیں جَنا ہے البتہ یہ لوگ ایک بہت بری بات اور جھوٹ کہتے ہیں اور بلاشبہ اللہ بڑا درگزر کرنے والا، بڑا بخشنے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
وہ لوگ جو تم میں سے اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں وہ ان کی مائیں نہیں ہیں، ان کی مائیں ان کے سوا کوئی نہیں جنھوں نے انھیں جنم دیا اور بلاشبہ وہ یقینا ایک بری بات اور جھوٹ کہتے ہیں اور بلاشبہ اللہ یقینا بے حد معاف کرنے والا، نہایت بخشنے والا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خولہ اور خویلہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا اور مسئلہ ظہار ٭٭

سیدہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم میرے اور میرے خاوند اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس سورۃ المجادلہ کی شروع کی چار آیتیں اتری ہیں، میں ان کے گھر میں تھی، یہ بوڑھے اور بڑی عمر کے تھے اور کچھ اخلاق کے بھی اچھے نہ تھے، ایک دن باتوں ہی باتوں میں میں نے ان کی کسی بات کے خلاف کہا اور انہیں کچھ جواب دیا، جس پر وہ بڑے غضب ناک ہوئے اور غصے میں فرمانے لگے، تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے پھر گھر سے چلے گئے اور قومی مجلس میں کچھ دیر بیٹھے رہے پھر واپس آئے اور مجھ سے خاص بات چیت کرنی چاہی، میں نے کہا: اس اللہ کی قسم! جس کے ہاتھ میں خولہ کی جان ہے تمہارے اس کہنے کے بعد اب یہ بات ناممکن ہے یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ ہمارے بارے میں نہ ہو، لیکن وہ نہ مانے اور زبردستی کرنے لگے مگر چونکہ کمزور اور ضعیف تھے میں ان پر غالب آ گئی اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے، میں اپنی پڑوسن کے ہاں گئی اور اس سے کپڑا مانگ کر اوڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی، اس واقعہ کو بیان کیا اور بھی اپنی مصیبتیں اور تکلیفیں بیان کرنی شروع کر دیں، آپ یہی فرماتے جاتے تھے خولہ! اپنے خاوند کے بارے میں اللہ سے ڈرو، وہ بوڑھے بڑے ہیں، ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی کیفیت طاری ہوئی، جب وحی اتر چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خولہ! تیرے اور تیرے خاوند کے بارے میں قرآن کریم کی آیتیں نازل ہوئی ہیں“، پھر آپ نے آیات «قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ» [58-المجادلة:1] ‏‏‏‏ سے «وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ‏‏‏‏ [58-المجادلة:4] ‏‏‏‏ تک پڑھ سنائیں۔

اور فرمایا: ”جاؤ اپنے میاں سے کہو کہ ایک غلام آزاد کریں“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! ان کے پاس غلام کہاں؟ وہ تو بہت مسکین شخص ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا تو دو مہینے کے لگاتار روزے رکھ لیں“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو بڑی عمر کے بوڑھے ناتواں کمزور ہیں انہیں دو ماہ کے روزوں کی بھی طاقت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ساٹھ مسکینوں کو ایک وسق (‏‏‏‏تقریباً چار من پختہ) کھجوریں دے دیں“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! ”اس مسکین کے پاس یہ بھی نہیں۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا آدھا وسق کھجوریں میں اپنے پاس سے انہیں دیدوں گا“ میں نے کہا: بہتر آدھا وسق میں دیدوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تم نے بہت اچھا کیا اور خوب کام کیا، جاؤ یہ ادا کر دو اور اپنے خاوند کے ساتھ جو تمہارے چچا کے لڑکے ہیں محبت، پیار، خیر خواہی اور فرمانبرداری سے گزارا کرو۔“ [سنن ابوداود:2214،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ ان کا نام بعض روایتوں میں خویلہ کے بجائے خولہ رضی اللہ عنہا بھی آیا ہے اور بنت ثعلبہ کے بدلے بنت مالک بن ثعلبہ رضی اللہ عنہا بھی آیا ہے، ان اقوال میں کوئی ایسا اختلاف نہیں جو ایک دوسرے کے خلاف ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اس سورت کی ان شروع کی آیتوں کا صحیح شان نزول یہی ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 2) ➊ { اَلَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْكُمْ مِّنْ نِّسَآىِٕهِمْ مَّا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ …: ” يُظٰهِرُوْنَ”ظَهْرٌ“} سے نکلا ہے جس کا معنی ”پیٹھ “ ہے۔ عرب سواری کو {”ظَهْرٌ“} کہتے ہیں۔ یہ استعارہ ہے، جس میں بیوی سے جماع کو گھوڑے وغیرہ کی پشت پر سوار ہونے کے ساتھ تشبیہ دی گئی ہے۔ {”أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّيْ“} (تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے) کا مطلب یہ ہے کہ جس طرح میرے لیے اپنی ماں پر سوار ہونا اور اس سے جماع حرام ہے، اسی طرح تم بھی میرے لیے میری ماں کی طرح ہو۔ جاہلیت میں لوگ بیوی کو ماں کہہ دیتے تو اسے ماں کی طرح حرام قرار دے لیتے تھے، اللہ تعالیٰ نے اس رسمِ بد کو ختم کر دیا، فرمایا منہ کے ساتھ بیوی کو ماں کہنے سے وہ ماں نہیں بن جاتی، آدمی کی ماں وہی ہے جس نے اسے جنم دیا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ احزاب (۴) کی تفسیر۔ ➋ { وَ اِنَّهُمْ لَيَقُوْلُوْنَ مُنْكَرًا مِّنَ الْقَوْلِ وَ زُوْرًا:مُنْكَرًا”أَنْكَرَ يُنْكِرُ“} (افعال) سے اسم مفعول ہے، وہ بات جسے انسانی طبیعت یا عقل یا شرع نہ پہچانتی ہو بلکہ اس کا انکار کرتی ہو۔ {” زُوْرًا “} جھوٹ۔ یعنی بیوی کو ماں کی طرح کہنے والے ایسی بات کہتے ہیں جو نہ انسانی طبیعت مانتی ہے، نہ عقل اور نہ ہی شرع، کیونکہ ماں کے ساتھ بیٹے کا رشتہ اکرام و احترام کا ہے، جبکہ بیوی کے ساتھ خاوند کا رشتہ ایک خاص تعلق کا ہے جو ماں کے ساتھ سوچا بھی نہیں جا سکتا۔ پھر جس عورت نے آدمی کو جنم ہی نہیں دیا بلکہ اس کا اس کے ساتھ مباشرت کا تعلق رہا، اسے ماں کہنا بری بات اور کتنا بڑا جھوٹ ہے۔ ➌ { وَ اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ تمھاری کوتاہیوں اور غلطیوں کے باوجود ان سے بہت درگزر کرنے والا اور ان پر پردہ ڈالنے والا ہے۔ خصوصاً جب غلطی کرنے والا پلٹ آئے اور توبہ کر کے آئندہ ایسی باتوں سے باز رہے۔ ➍ اس آیت میں کئی چیزیں ظہار کے حرام ہونے پر دلالت کر رہی ہیں، پہلی اللہ تعالیٰ کا یہ کہنا کہ {” مَا هُنَّ اُمَّهٰتِهِمْ “} (وہ ان کی مائیں نہیں)، اس میں ظہار کرنے والے کو جھوٹا قرار دیا ہے، دوسری اور تیسری یہ کہ اللہ نے ان کا نام منکراور زُور رکھا ہے اور چوتھی اللہ تعالیٰ کا فرمان {” اِنَّ اللّٰهَ لَعَفُوٌّ غَفُوْرٌ “} ہے، کیونکہ عفو و مغفرت گناہ ہی سے ہوتی ہے۔
وَ الَّذِیۡنَ یُظٰہِرُوۡنَ مِنۡ نِّسَآئِہِمۡ ثُمَّ یَعُوۡدُوۡنَ لِمَا قَالُوۡا فَتَحۡرِیۡرُ رَقَبَۃٍ مِّنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّتَمَآسَّا ؕ ذٰلِکُمۡ تُوۡعَظُوۡنَ بِہٖ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی اُس بات سے رجوع کریں جو انہوں نے کہی تھی، تو قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، ایک غلام آزاد کرنا ہوگا اِس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جو لوگ اپنی بیویوں سے ﻇہار کریں پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرلیں تو ان کے ذمہ آپس میں ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک غلام آزاد کرنا ہے، اس کے ذریعہ تم نصیحت کیے جاتے ہو۔ اور اللہ تعالیٰ تمہارے تمام اعمال سے باخبر ہے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ جو اپنی بیبیوں کو اپنی ماں کی جگہ کہیں پھر وہی کرنا چاہیں جس پر اتنی بری بات کہہ چکے تو ان پر لازم ہے ایک بردہ آزاد کرنا قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں یہ ہے جو نصیحت تمہیں کی جاتی ہے، اور اللہ تمہارے کاموں سے خبردار ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں اور پھر اپنی کہی ہوئی بات سے رجوع کرنا چاہیں تو قبل اس کے کہ باہمی ازدواجی تعلق قائم کریں (شوہر کو) ایک غلام آزاد کرنا ہوگا۔ یہ بات ہے جس کی تمہیں نصیحت کی جاتی ہے اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ لوگ جو اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں، پھر اس سے رجوع کرلیتے ہیں جو انھوں نے کہا ،تو ایک گردن آزاد کرنا ہے، اس سے پہلے کہ وہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، یہ ہے وہ (کفارہ) جس کے ساتھ تم نصیحت کیے جائو گے،اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، پور ی طرح باخبر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
خولہ اور خویلہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا اور مسئلہ ظہار ٭٭

سیدہ خولہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اللہ کی قسم میرے اور میرے خاوند اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کے بارے میں اس سورۃ المجادلہ کی شروع کی چار آیتیں اتری ہیں، میں ان کے گھر میں تھی، یہ بوڑھے اور بڑی عمر کے تھے اور کچھ اخلاق کے بھی اچھے نہ تھے، ایک دن باتوں ہی باتوں میں میں نے ان کی کسی بات کے خلاف کہا اور انہیں کچھ جواب دیا، جس پر وہ بڑے غضب ناک ہوئے اور غصے میں فرمانے لگے، تو مجھ پر میری ماں کی پیٹھ کی طرح ہے پھر گھر سے چلے گئے اور قومی مجلس میں کچھ دیر بیٹھے رہے پھر واپس آئے اور مجھ سے خاص بات چیت کرنی چاہی، میں نے کہا: اس اللہ کی قسم! جس کے ہاتھ میں خولہ کی جان ہے تمہارے اس کہنے کے بعد اب یہ بات ناممکن ہے یہاں تک کہ اللہ اور اس کے رسول کا فیصلہ ہمارے بارے میں نہ ہو، لیکن وہ نہ مانے اور زبردستی کرنے لگے مگر چونکہ کمزور اور ضعیف تھے میں ان پر غالب آ گئی اور وہ اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکے، میں اپنی پڑوسن کے ہاں گئی اور اس سے کپڑا مانگ کر اوڑھ کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچی، اس واقعہ کو بیان کیا اور بھی اپنی مصیبتیں اور تکلیفیں بیان کرنی شروع کر دیں، آپ یہی فرماتے جاتے تھے خولہ! اپنے خاوند کے بارے میں اللہ سے ڈرو، وہ بوڑھے بڑے ہیں، ابھی یہ باتیں ہو ہی رہی تھیں کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی کیفیت طاری ہوئی، جب وحی اتر چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے خولہ! تیرے اور تیرے خاوند کے بارے میں قرآن کریم کی آیتیں نازل ہوئی ہیں“، پھر آپ نے آیات «قَدْ سَمِعَ اللَّهُ قَوْلَ الَّتِي تُجَادِلُكَ فِي زَوْجِهَا وَتَشْتَكِي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسْمَعُ تَحَاوُرَكُمَا ۚ إِنَّ اللَّهَ سَمِيعٌ بَصِيرٌ» [58-المجادلة:1] ‏‏‏‏ سے «وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ» ‏‏‏‏ [58-المجادلة:4] ‏‏‏‏ تک پڑھ سنائیں۔

اور فرمایا: ”جاؤ اپنے میاں سے کہو کہ ایک غلام آزاد کریں“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! ان کے پاس غلام کہاں؟ وہ تو بہت مسکین شخص ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا تو دو مہینے کے لگاتار روزے رکھ لیں“، میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! وہ تو بڑی عمر کے بوڑھے ناتواں کمزور ہیں انہیں دو ماہ کے روزوں کی بھی طاقت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر ساٹھ مسکینوں کو ایک وسق (‏‏‏‏تقریباً چار من پختہ) کھجوریں دے دیں“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! ”اس مسکین کے پاس یہ بھی نہیں۔‏‏‏‏“ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اچھا آدھا وسق کھجوریں میں اپنے پاس سے انہیں دیدوں گا“ میں نے کہا: بہتر آدھا وسق میں دیدوں گی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تم نے بہت اچھا کیا اور خوب کام کیا، جاؤ یہ ادا کر دو اور اپنے خاوند کے ساتھ جو تمہارے چچا کے لڑکے ہیں محبت، پیار، خیر خواہی اور فرمانبرداری سے گزارا کرو۔“ [سنن ابوداود:2214،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ ان کا نام بعض روایتوں میں خویلہ کے بجائے خولہ رضی اللہ عنہا بھی آیا ہے اور بنت ثعلبہ کے بدلے بنت مالک بن ثعلبہ رضی اللہ عنہا بھی آیا ہے، ان اقوال میں کوئی ایسا اختلاف نہیں جو ایک دوسرے کے خلاف ہو۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» اس سورت کی ان شروع کی آیتوں کا صحیح شان نزول یہی ہے۔
3۔ 1 اب اس حکم کی تفصیل بیان کی جا رہی ہے۔ رجوع کا مطلب، بیوی سے ہم بستری کرنا چاہیں۔ 3۔ 2 یعنی ہم بستری سے پہلے وہ کفارہ ادا کریں 1۔ ایک غلام آزاد کرنا 2۔ اس کی طاقت نہ ہو تو پے درپے دو مہینے کے روزے رکھنے پڑیں گے۔ عذر شرعی سے مراد بیماری یا سفر ہے، امام ابوحنیفہ رحمۃ اللہ کہتے ہیں کہ بیماری وغیرہ کی وجہ سے روزے رکھنے کی طاقت نہ ہو تو ساٹھ مساکین کو کھانا کھلائے۔ بعض کہتے ہیں کہ ہر مسکین کو دو مد نصف صاع یعنی سوا کلو اور بعض کہتے ہیں ایک مد کافی ہے لیکن قرآن کے الفاظ سے معلوم ہوتا ہے کہ کھانا اس طرح کھلایا جائے کہ وہ شکم سیر ہوجائیں یا اتنی مقدار میں ان کو کھانا دیا جائے ایک مرتبہ ہی سب کو کھلانا بھی ضروری نہیں بلکہ متعدد اقساط میں یہ تعداد پوری کی جاسکتی ہے۔ فتح القدیر۔ تاہم یہ ضروری ہے جب تک یہ تعداد پوری نہ ہوجائے اس وقت تک بیوی سے ہم بستری جائز نہیں۔
(آیت 3) ➊ {وَ الَّذِيْنَ يُظٰهِرُوْنَ مِنْ نِّسَآىِٕهِمْ ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا …: ” ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا “} کی تفسیر میں بعض حضرات نے فرمایا کہ اس کا مطلب یہ ہے کہ جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں ان پر پہلی بار کوئی مؤاخذہ نہیں، البتہ اگر یہی بات دوبارہ کریں تو ان پر یہ کفارہ ہے، مگر یہ بات اس لیے درست نہیں کہ آیت جس واقعہ پر نازل ہوئی اس میں خاوند نے خولہ رضی اللہ عنھا کو ایک ہی بار {” أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِيِّ “} کہا تھا۔ دوسری مرتبہ یا بار بار ایسا کہنے کا کہیں ذکر نہیں، اس لیے آیت کا وہی مطلب درست ہو گا جو صحیح حدیث کے مطابق ہو۔ چنانچہ {” يَعُوْدُوْنَ لِمَا قَالُوْا “} کا مطلب فراء اور بعض مفسرین نے تویہ لیا ہے کہ یہاں ”لام“ بمعنی {” عَنْ “} ہے، یعنی پھر وہ اپنی اس بات سے رجوع کریں جو انھوں نے کہی ہے، تو ان پر یہ کفارہ ہے اور بعض نے فرمایا کہ یہاں ” لام “ {”إِلٰی“} کے معنی میں ہے، کلام میں کچھ عبارت حذف بھی ہے اور {” مَا قَالُوْا “} کامطلب {” مَا حَرَّمُوْا “} ہے: {” أَيْ ثُمَّ يَعُوْدُوْنَ إِلٰي تَحْلِيْلِ مَا حَرَّمُوْا“} ”یعنی پھر دوبارہ لوٹیں اس کو حلال کرنے کی طرف جسے انھوں نے حرام کہا ہے۔“ رہی یہ بات کہ اللہ تعالیٰ نے یہاں الفاظ میں ابہام کیوں رکھا ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ ماں کہنے کے بعد پھر اس سے بیوی والا معاملہ کرنا ایک قسم کی کراہت رکھتا ہے، اس لیے اس کا ذکر کرتے ہوئے اللہ تعالیٰ نے صراحت کے بجائے کنایہ سے کام لیا ہے۔ ➋ ظہار کا کفارہ مقرر کرنے سے ظاہر ہے کہ یہ طلاق نہیں بلکہ بیوی کو اپنے آپ پر حرام قرار دینے کے قبیل سے ہے۔ عام معاملات میں حلال کو اپنے آپ پر حرام کرنے کا کفارہ وہی ہے جو قسم کا کفارہ ہے (دیکھیے تحریم: 2،1) مگر منکر و زور بات ہونے کی وجہ سے ظہار کا کفارہ سخت ہے۔ اب ظہار کرنے والے کے سامنے دو ہی صورتیں ہیں، اگر وہ بیوی سے قطع تعلق پر مصر ہے تو زیادہ سے زیادہ چار ماہ تک اس کا انتظار کیا جائے گا کہ کفارہ ادا کر کے دوبارہ تعلق استوار کر لے (دیکھیے بقرہ: ۲۲۶) پھر اسے کہا جائے گا کہ یا اسے طلاق دو یا کفارہ ادا کر کے اسے بیوی بنا کر رکھو۔ پھر اگر وہ اپنی بات سے رجوع پر تیار ہو تو کفارہ بالترتیب تین چیزوں میں سے ایک چیز ہے، اگر آدمی کے پاس طاقت ہو تو ہاتھ لگانے یعنی جماع سے پہلے ایک گردن آزاد کرے۔ یہ شرط اس لیے لگائی ہے کہ بیوی کے پاس جانے کی رغبت میں اس کے لیے اتنا بھاری جرمانہ آسان ہو جائے گا۔ ➌ {فَتَحْرِيْرُ رَقَبَةٍ مِّنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَآسَّا:رَقَبَةٍ “} کا معنی گردن ہے، مراد لونڈی یا غلام ہے، یعنی جز بول کر کل مراد لیا گیا ہے، تو ظہار کا کفارہ یہ ہے کہ اگر آدمی کے پاس طاقت ہو تو ایک دوسرے کو ہاتھ لگانے سے پہلے ایک لونڈی یا غلام آزاد کرے۔ پہلے کی شرط اس لیے لگائی ہے کہ بیوی کے پاس جانے کی رغبت میں اس کے لیے اتنا بھاری جرمانہ آسان ہو جائے گا۔ ➍ { ذٰلِكُمْ تُوْعَظُوْنَ بِهٖ:} یعنی ہاتھ لگانے سے پہلے گردن آزاد کرنے کا حکم اس لیے دیا ہے کہ اس سے تمھیں آئندہ کے لیے نصیحت ہوگی کہ ایسا کام نہیں کیا کرتے۔ ➎ { وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ:} یعنی اگر تم ظہار کے بعد گردن آزاد کیے بغیر ایک دوسرے کو ہاتھ لگاؤ گے تو کسی اور کو خبر ہو یا نہ ہو اللہ تعالیٰ تمھارے ہر کام سے پوری طرح باخبر ہے، تم نہ اس سے چھپ سکتے ہو اور نہ اس کی گرفت سے بچ سکتے ہو۔ ➏ بیوی کو ماں کی طرح اپنے آپ پر حرام ٹھہرانے پر جو کفارہ ہے اگر اسے بہن یا بیٹی یا کسی بھی ایسی عورت کی طرح حرام کہہ دے جس سے نکاح حرام ہے تو اس پر بھی وہی کفارہ ہے، کیونکہ نکاح کی حرمت میں ان کے درمیان کوئی فرق نہیں، اس لیے جو حکم ماں کہنے کا ہے وہی سب کا ہو گا۔
فَمَنۡ لَّمۡ یَجِدۡ فَصِیَامُ شَہۡرَیۡنِ مُتَتَابِعَیۡنِ مِنۡ قَبۡلِ اَنۡ یَّتَمَآسَّا ۚ فَمَنۡ لَّمۡ یَسۡتَطِعۡ فَاِطۡعَامُ سِتِّیۡنَ مِسۡکِیۡنًا ؕ ذٰلِکَ لِتُؤۡمِنُوۡا بِاللّٰہِ وَ رَسُوۡلِہٖ ؕ وَ تِلۡکَ حُدُوۡدُ اللّٰہِ ؕ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ اَلِیۡمٌ ﴿۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اور جو شخص غلام نہ پائے وہ دو مہینے کے پے در پے روزے رکھے قبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جو اس پر بھی قادر نہ ہو وہ ۶۰ مسکینوں کو کھانا کھلائے یہ حکم اس لیے دیا جا رہا ہے کہ تم اللہ اور اُس کے رسول پر ایمان لاؤ یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں، اور کافروں کے لیے دردناک سزا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہاں جو شخص نہ پائے اس کے ذمہ دو مہینوں کے لگاتار روزے ہیں اس سے پہلے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں اور جس شخص کو یہ طاقت بھی نہ ہو اس پر ساٹھ مسکینوں کا کھانا کھلانا ہے۔ یہ اس لیے کہ تم اللہ کی اور اس کے رسول کی حکم برداری کرو، یہ اللہ تعالیٰ کی مقرر کرده حدیں ہیں اور کفار ہی کے لیے درد ناک عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
پھر جسے بردہ نہ ملے تو لگاتار دو مہینے کے روزے قبل اس کے کہ ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں پھر جس سے روزے بھی نہ ہوسکیں تو ساٹھ مسکینوں کا پیٹ بھرنا یہ اس لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو اور یہ اللہ کی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اور جوشخص (غلام) نہ پائے تو جنسی تعلق قائم کرنے سے پہلے دو ماہ پے در پے (لگاتار) روزے رکھنا ہوں گے اور جو اس پر بھی قدرت نہ رکھتا ہو تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے یہ اس لئے کہ تم اللہ اور اس کے رسول(ص) پر ایمان لاؤ (تمہارا ایمان راسخ ہو) یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اور کافروں کیلئے دردناک عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
پھر جو شخص نہ پائے تو دو پے درپے مہینوں کا روزہ رکھنا ہے، اس سے پہلے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں، پھر جو اس کی (بھی) طاقت نہ رکھے تو ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا ہے۔یہ اس لیے کہ تم اللہ اور اس کے رسول پر ایمان لے آئو اور یہ اللہ کی حدیں ہیں اور کافروں کے لیے دردناک عذاب ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
ظہار کے احکام ٭٭

سیدنا سلمہ بن صخر رضی اللہ عنہ کا واقعہ جو اب آ رہا ہے وہ اس کے اترنے کا باعث نہیں ہوا ہاں البتہ جو حکم ظہار ان آیتوں میں تھا انہیں بھی دیا گیا یعنی غلام آزاد کرنا یا روزے رکھنا یا کھانا دینا، سیدنا سلمہ بن صخر انصاری رضی اللہ عنہ کا واقعہ خود ان کی زبانی یہ ہے کہ مجھے جماع کی طاقت اوروں سے بہت زیادہ تھی، رمضان میں اس خوف سے کہ کہیں ایسا نہ ہو دن میں روزے کے وقت میں بچ نہ سکوں میں نے رمضان بھر کیلئے اپنی بیوی سے ظہار کر لیا، ایک رات جبکہ وہ میری خدمت میں مصروف تھی بدن کے کسی حصہ پر سے کپڑا ہٹ گیا پھر تاب کہاں تھی؟ اس سے بات چیت کر بیٹھا صبح اپنی قوم کے پاس آ کر میں نے کہا رات ایسا واقعہ ہو گیا ہے تم مجھے لے کر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس چلو اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھو کہ اس گناہ کا بدلہ کیا ہے؟ سب نے انکار کیا اور کہا کہ ہم تو تیرے ساتھ نہیں جائیں گے ایسا نہ ہو کہ قرآن کریم میں اس کی بابت کوئی آیت اترے یا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوئی ایسی بات فرما دیں کہ ہمیشہ کیلئے ہم پر عار باقی رہ جائے، تو جانے تیرا کام، تو نے ایسا کیوں کیا؟ ہم تیرے ساتھی نہیں، میں نے کہا اچھا پھر میں اکیلا جاتا ہوں۔ چنانچہ میں گیا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے تمام واقعہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”تم نے ایسا کیا؟“ میں نے کہا: جی ہاں، اے اللہ کے رسول! مجھ سے ایسا ہو گیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر فرمایا: ”تم نے ایسا کیا؟“ میں نے پھر یہی عرض کیا کہ اے اللہ کے رسول! مجھ سے یہ خطا ہو گئی، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیسری دفعہ بھی یہی فرمایا میں نے پھر اقرار کیا اور کہا کہ اے اللہ کے رسول! میں موجود ہوں جو سزا میرے لیے تجویز کی جائے میں اسے صبر سے برداشت کروں گا آپ صلی اللہ علیہ وسلم حکم دیجئیے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ ایک غلام آزاد کرو، میں نے اپنی گردن پر ہاتھ رکھ کر کہا اے اللہ کے رسول! میں تو صرف اس کا مالک ہوں اللہ کی قسم مجھے غلام آزاد کرنے کی طاقت نہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر دو مہینے کے پے در پے روزے رکھو“، میں نے کہا: یا رسول اللہ! روزوں ہی کی وجہ سے تو یہ ہوا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”پھر جاؤ صدقہ کرو“ میں نے کہا: اس اللہ کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ بھیجا ہے میرے پاس کچھ نہیں بلکہ آج کی شب سب گھر والوں نے فاقہ کیا ہے، پھر فرمایا: ”اچھا بنو رزیق کے قبیلے کے صدقے والے کے پاس جاؤ اور اس سے کہو کہ وہ صدقے کا مال تمہیں دیدیں تم اس میں سے ایک وسق کھجور تو ساٹھ مسکینوں کو دے دو اور باقی تم آپ اپنے اور اپنے بال بچوں کے کام میں لاؤ“، میں خوش خوش لوٹا اور اپنی قوم کے پاس آیا اور ان سے کہا کہ تمہارے پاس تو میں نے تنگی اور برائی پائی اور محمد مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس میں نے کشادگی اور برکت پائی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا حکم ہے کہ اپنے صدقے تم مجھے دے دو چنانچہ انہوں نے مجھے دے دیئے۔ [سنن ابوداود:3299،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

بظاہر ایسا معلوم ہوتا ہے کہ یہ واقعہ سیدنا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ اور ان کی بیوی صاحبہ سیدہ خویلہ بنت ثعلبہ رضی اللہ عنہا کے واقعہ کے بعد کا ہے، چنانچہ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما کا فرمان ہے کہ ظہار کا پہلا واقعہ سیدنا اوس بن صامت رضی اللہ عنہ کا ہے جو عبادہ بن صامت رضی اللہ عنہ کے بھائی تھے، ان کی بیوی صاحبہ کا نام سیدہ خولہ بنت ثعلبہ بن مالک رضی اللہ عنہا تھا، اس واقعہ سے سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا کو ڈر تھا کہ شاید طلاق ہو گئی، انہوں نے آ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے کہا کہ میرے میاں نے مجھ سے ظہار کر لیا ہے اور اگر ہم علیحدہ علیحدہ ہو گئے تو دونوں برباد ہو جائیں گے میں اب اس لائق بھی نہیں رہی کہ مجھے اولاد ہو ہمارے اس تعلق کو بھی زمانہ گزر چکا اور بھی اسی طرح کی باتیں کہتی جاتی تھیں اور روتی جاتی تھیں، اب تک ظہار کا کوئی حکم اسلام میں نہ تھا اس پر یہ آیتیں شروع سورت سے «وَلِلْكَافِرِينَ عَذَابٌ أَلِيمٌ» [58-المجادلة:4] ‏‏‏‏ تک اتریں۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا اوس رضی اللہ عنہ کو بلوایا اور پوچھا کہ کیا تم غلام آزاد کر سکتے ہو؟ انہوں نے قسم کھا کر انکار کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کیلئے رقم جمع کی انہوں نے اس سے غلام خرید کر آزاد کیا اور اپنی بیوی صاحبہ سے رجوع کیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33730] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہ کے علاوہ اور بھی بہت سے بزرگوں کا یہ فرمان ہے کہ یہ آیتیں انہی کے بارے میں نازل ہوئی ہیں۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

لفظ «ظِّهَار» «ظَّهْر» سے مشتق ہے چونکہ اہل جاہلیت اپنی بیوی سے ظہار کرتے وقت یوں کہتے تھے کہ «أَنْتِ عَلَيَّ كَظَهْرِ أُمِّي» یعنی تو مجھ پر ایسی ہے جیسے میری ماں کی پیٹھ، شریعت میں حکم یہ ہے کہ اس طرح خواہ کسی عضو کا نام لے ظہار ہو جائے گا، ظہار جاہلیت کے زمانے میں طلاق سمجھا جاتا تھا اللہ تعالیٰ نے اس امت کیلئے اس میں کفارہ مقرر کر دیا اور اسے طلاق شمار نہیں کیا جیسے کہ جاہلیت کا دستور تھا۔ سلف میں سے اکثر حضرات نے یہی فرمایا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما جاہلیت کے اس دستور کا ذکر کر کے فرماتے ہیں اسلام میں جب سیدہ خویلہ رضی اللہ عنہا والا واقعہ پیش آیا اور دونوں میاں بیوی پچھتانے لگے تو سیدنا اوس رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی صاحبہ کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں بھیجا یہ جب آئیں تو دیکھا کہ آپ کنگھی کر رہے ہیں، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے واقعہ سن کر فرمایا: ”ہمارے پاس اس کا کوئی حکم نہیں“ اتنے میں یہ آیتیں اتریں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ خویلہ رضی اللہ عنہا کو اس کی خوشخبری دی اور پڑھ سنائیں، جب غلام کو آزاد کرنے کا ذکر کیا تو عذر کیا کہ ہمارے پاس غلام نہیں، پھر روزوں کا ذکر سن کر کہا اگر ہر روز تین مرتبہ پانی نہ پئیں تو بوجہ اپنے بڑھاپے کے فوت ہو جائیں، جب کھانا کھلانے کا ذکر سنا تو کہا چند لقموں پر تو سارا دن گزرتا ہے تو اوروں کو دینا کہاں؟ چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آدھا وسق تیس صاع منگوا کر انہیں دیئے اور فرمایا اسے صدقہ کر دو اور اپنی بیوی سے رجوع کر لو [تفسیر ابن جریر الطبری:33717ضعیف] ‏‏‏‏ اس کی اسناد قوی اور پختہ ہے، لیکن ادائیگی غربت سے خالی نہیں۔

ابوالعالیہ رحمہ اللہ سے بھی اسی طرح مروی ہے، فرماتے ہیں خولہ بنت دلیج ایک انصاری کی بیوی تھیں جو کم نگاہ والے، مفلس اور کج خلق تھے، کسی دن کسی بات پر میاں بیوی میں جھگڑا ہو گیا تو جاہلیت کی رسم کے مطابق ظہار کر لیا جو ان کی طلاق تھی۔ یہ بیوی صاحبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچیں اس وقت آپ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں تھے اور ام المؤمنین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا سر دھو رہی تھیں، جا کر سارا واقعہ بیان کیا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب کیا ہو سکتا ہے، میرے علم میں تو تو اس پر حرام ہو گئی“ یہ سن کر کہنے لگیں، اللہ! میری عرض تجھ سے ہے، اب سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کے سر مبارک کا ایک طرف کا حصہ دھو کر گھوم کر دوسری جانب آئیں اور ادھر کا حصہ دھونے لگیں تو سیدہ خولہ رضی اللہ عنہا بھی گھوم کر اس دوسری طرف آ بیٹھیں اور اپنا واقعہ دوہرایا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر یہی جواب دیا، ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے دیکھا کہ آپ کے چہرے کا رنگ متغیر ہو گیا ہے تو ان سے کہا کہ دور ہٹ کر بیٹھو، یہ دور کھسک گئیں ادھر وحی نازل ہونی شروع ہوئی جب اتر چکی تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”وہ عورت کہاں ہے؟“ ام المؤمنین رضی اللہ عنہا نے انہیں آواز دے کر بلایا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جاؤ، اپنے خاوند کو لے آؤ“، یہ دوڑتی ہوئی گئیں اور اپنے شوہر کو بلا لائیں تو واقعی وہ ایسے ہی تھے جیسے انہوں نے کہا تھا، آپ نے «أَسْتَعِيذ بِاَللَّهِ السَّمِيع الْعَلِيم، بِسْمِ اللَّه الرَّحْمَن الرَّحِيم» پڑھ کر اس سورت کی یہ آیتیں سنائیں «قَد سَمِعَ اللَّهُ قَولَ الَّتي تُجادِلُكَ في زَوجِها وَتَشتَكي إِلَى اللَّهِ وَاللَّهُ يَسمَعُ تَحاوُرَكُما إِنَّ اللَّهَ سَميعٌ بَصيرٌ» [58-المجادلة:1] ‏‏‏‏، اور فرمایا: ”تم غلام آزاد کر سکتے ہو؟“ انہوں نے کہا: نہیں، کہا: ”دو مہینے کے لگاتار ایک کے پیچھے ایک روزے رکھ سکتے ہو؟“ انہوں نے قسم کھا کر کہا کہ اگر دو تین دفعہ دن میں نہ کھاؤں تو بینائی بالکل جاتی رہتی ہے، فرمایا: ”کیا ساٹھ مسکینوں کو کھانا دے سکتے ہو؟“ انہوں نے کہا: نہیں، لیکن اگر آپ میری امداد فرمائیں تو اور بات ہے، پس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی اعانت کی اور فرمایا: ”ساٹھ مسکینوں کو کھلا دو اور جاہلیت کی اس رسم طلاق کو ہٹا کر اللہ تعالیٰ نے اسے ظہار مقرر فرمایا۔‏‏‏‏“ [تفسیر ابن جریر الطبری:33714:مرسل] ‏‏‏‏

سعید بن جبیر رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں «ایلا» اور «ظہار» جاہلیت کے زمانہ کی طلاقیں تھیں، اللہ تعالیٰ نے «ایلا» میں تو چار مہینے کی مدت مقرر فرمائی اور «ظہار» میں کفارہ مقرر فرمایا۔ امام مالک رحمتہ اللہ علیہ نے لفظ «مِنكُم» سے استدلال کیا ہے کہ چونکہ یہاں خطاب مومنوں سے ہے اس لیے اس حکم میں کافر داخل نہیں۔ جمہور کا مذہب اس کے برخلاف ہے وہ اس کا جواب یہ دیتے ہیں کہ یہ بہ اعتبار غلبہ کے کہہ دیا گیا ہے اس لیے بطور قید کے اس کا مفہوم مخالف مراد نہیں لے سکتے۔ لفظ «مِّن نِّسَائِهِم» سے جمہور نے استدلال کیا ہے کہ لونڈی سے ظہار نہیں، نہ وہ اس خطاب میں داخل ہے۔ پھر فرماتا ہے اس کہنے سے کہ تو مجھ پر میری ماں کی طرح ہے یا میرے لیے تو مثل میری ماں کے ہے یا مثل میری ماں کی پیٹھ کے ہے یا اور ایسے ہی الفاظ اپنی بیوی کو کہہ دینے سے وہ سچ مچ ماں نہیں بن جاتی، حقیقی ماں تو وہی ہے جس کے بطن سے یہ تولد ہوا ہے، یہ لوگ اپنے منہ سے فحش اور باطل قول بول دیتے ہیں، اللہ تعالیٰ درگزر کرنے والا اور بخشنے والا ہے۔ اس نے جاہلیت کی اس تنگی کو تم سے دور کر دیا، اسی طرح ہر وہ کلام جو ایک دم زبان سے بغیر سوچے سمجھے اور بلا قصد نکل جائے۔ چنانچہ ابوداؤد وغیرہ میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سنا کہ ایک شخص اپنی بیوی سے کہہ رہا ہے اے میری بہن! تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تیری بہن ہے؟“ [سنن ابوداود:2210،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ غرض یہ کہنا برا لگا اسے روکا مگر اس سے حرمت ثابت نہیں کی کیونکہ دراصل اس کا مقصود یہ نہ تھا یونہی زبان سے بغیر قصد کے نکل گیا تھا ورنہ ضرور حرمت ثابت ہو جاتی، کیونکہ صحیح قول یہی ہے کہ اپنی بیوی کو جو شخض اس نام سے یاد کرے جو محرمات ابدیہ ہیں مثلاً بہن یا پھوپھی یا خالہ وغیرہ تو وہ بھی حکم میں ماں کہنے کے ہیں۔ جو لوگ ظہار کریں پھر اپنے کہنے سے لوٹیں اس کا مطلب ایک تو یہ بیان کیا گیا ہے کہ ظہار کیا پھر مکرر اس لفظ کو کہا لیکن یہ ٹھیک نہیں۔

بقول امام شافعی رحمہ اللہ مطلب یہ ہے کہ ظہار کیا پھر اس عورت کو روک رکھا یہاں تک کہ اتنا زمانہ گزر گیا کہ اگر چاہتا تو اس میں باقاعدہ طلاق دے سکتا تھا لیکن طلاق نہ دی۔ امام احمد رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ پھر لوٹے جماع کی طرف یا ارادہ کرے تو یہ حلال نہیں تاوقتیکہ مذکورہ کفارہ ادا نہ کرے۔ امام مالک رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ مراد اس سے جماع کا ارادہ یا پھر بسانے کا عزم یا جماع ہے۔ امام ابوحنیفہ رحمہ اللہ وغیرہ کہتے ہیں مراد ظہار کی طرف لوٹنا ہے اس کی حرمت اور جاہلیت کے حکم کے اٹھ جانے کے بعد، پس جو شخص اب ظہار کرے گا اس پر اس کی بیوی حرام ہو جائے گی جب تک کہ یہ کفارہ ادا نہ کرے۔ سعید رحمہ اللہ فرماتے ہیں مراد یہ ہے کہ جس چیز کو اس نے اپنی جان پر حرام کر لیا تھا اب پھر اس کام کو کرنا چاہے تو اس کا کفارہ ادا کرے۔ حسن بصری رحمہ اللہ کا قول ہے کہ مجامعت کرنا چاہے ورنہ اور طرح چھونے میں، قبل کفارہ کے بھی، ان کے نزدیک کوئی حرج نہیں۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما وغیرہ فرماتے ہیں یہاں اس سے مراد صحبت کرنا ہے۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:231/32:] ‏‏‏‏ زہری رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ ہاتھ لگانا، پیار کرنا بھی کفارہ کی ادائیگی سے پہلے جائز نہیں۔ سنن میں ہے کہ ایک شخص نے کہا یا رسول اللہ! میں نے اپنی بیوی سے ظہار کیا تھا پھر کفارہ ادا کرنے سے پہلے میں اس سے مل لیا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اللہ تجھ پر رحم کرے ایسا تو نے کیوں کیا؟“ کہنے لگا یا رسول اللہ! چاندنی رات میں اس کے خلخال کی چمک نے مجھے بیتاب کر دیا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اب اس سے قربت نہ کرنا جب تک کہ اللہ کے فرمان کے مطابق کفارہ ادا نہ کر دے“، [سنن ابوداود:2221،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ نسائی میں یہ حدیث مرسلاً مروی ہے اور امام نسائی رحمتہ اللہ علیہ مرسل ہونے کو اولیٰ بتاتے ہیں۔ پھر کفارہ بیان ہو رہا ہے کہ ایک غلام آزاد کرے، ہاں یہ قید نہیں کہ مومن ہی ہو جیسے قتل کے کفارے میں غلام کے مومن ہونے کی قید ہے۔ امام شافعی رحمہ اللہ تو فرماتے ہیں یہ مطلق اس مقید پر محمول ہو گی کیونکہ غلام کو آزاد کرنے کی شرط جیسی وہاں ہے ایسی ہی یہاں بھی ہے، اس کی دلیل یہ حدیث بھی ہے کہ ایک سیاہ فام لونڈی کی بابت نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا: ”اسے آزاد کر دو یہ مومنہ ہے“، [صحیح مسلم:537] ‏‏‏‏ اوپر واقعہ گزر چکا جس سے معلوم ہوتا ہے کہ ظہار کر کے پھر کفارہ سے قبل واقع ہونے والے کو آپ نے دوسرا کفارہ ادا کرنے کو نہیں فرمایا۔

پھر فرماتا ہے اس سے تمہیں نصیحت کی جاتی ہے یعنی دھمکایا جا رہا ہے۔ اللہ تعالیٰ تمہاری مصلحتوں سے خبردار ہے اور تمہارے احوال کا عالم ہے۔ جو غلام کو آزاد کرنے پر قادر نہ ہو وہ دو مہینے کے لگاتار روزے رکھنے کے بعد اپنی بیوی سے اس صورت میں مل سکتا ہے اور اگر اس کا بھی مقدور نہ ہو تو پھر ساٹھ مسکینوں کو کھانا دینے کے بعد، پہلے حدیثیں گزر چکیں جن سے معلوم ہوتا ہے کہ مقدم پہلی صورت پھر دوسری پھر تیسری، جیسے کہ بخاری و مسلم کی اس حدیث میں بھی ہے جس میں آپ نے رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کرنے والے کو فرمایا تھا۔ [صحیح بخاری:1936] ‏‏‏‏ ہم نے یہ احکام اس لیے مقرر کئے ہیں کہ تمہارا کامل ایمان اللہ پر اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر ہو جائے۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں اس کے محرمات ہیں! خبردار اس حرمت کو نہ توڑنا۔ جو کافر ہوں یعنی ایمان نہ لائیں حکم برداری نہ کریں شریعت کے احکام کی بےعزتی کریں ان سے لاپرواہی برتیں انہیں بلاؤں سے بچنے والا نہ سمجھو بلکہ ان کیلئے دنیا اور آخرت میں درد ناک عذاب ہیں۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 4) ➊ {فَمَنْ لَّمْ يَجِدْ فَصِيَامُ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ مِنْ قَبْلِ اَنْ يَّتَمَآسَّا:} اس سے معلوم ہوا کہ اگر گردن آزاد کرنے کی طاقت ہے تو روزوں سے یا کھانا کھلانے سے کفارہ ادا نہیں ہوگا۔ ➋ { فَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ:} پھر جو شخص ہاتھ لگانے سے پہلے دو ماہ کے پے در پے روزے رکھنے کی طاقت نہ رکھے وہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلائے۔ ظہار کرنے والا خواہ کمزوری کی وجہ سے پے در پے اتنے روزے نہ رکھ سکتا ہو یا شدت شہوت کی وجہ سے اتنے دن صبر نہ کر سکتا ہو، {” فَمَنْ لَّمْ يَسْتَطِعْ “} میں دونوں شامل ہیں، جیسا کہ سلمہ بن صخر بیاضی رضی اللہ عنہ نے اپنی بیوی کو ماہِ رمضان گزرنے تک کے لیے ماں کہہ دیا، پھر کسی رات اس سے جماع کر بیٹھے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے، تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ حَرِّرْ رَقَبَةً ] ”ایک گردن آزاد کرو۔“ انھوں نے اپنی گردن پر ہاتھ مار کر کہا: ”اس ذات کی قسم جس نے آپ کو حق کے ساتھ مبعوث فرمایا! میرے پاس اس گردن کے سوا کوئی گردن نہیں۔“ فرمایا: [ فَصُمْ شَهْرَيْنِ مُتَتَابِعَيْنِ ] ”پھر دو ماہ پے در پے روزے رکھ۔“ انھوں نے کہا: ”مجھ پر روزوں ہی کی وجہ سے تو یہ مصیبت آئی ہے۔“ فرمایا: [ فَأَطْعِمْ وَ سَقًا مِنْ تَمْرٍ بَيْنَ سِتِّيْنَ مِسْكِيْنًا ] [ أبو داوٗد، کتاب الطلاق، باب في الظہار: ۲۲۱۳ ] ”پھر ساٹھ مسکینوں میں ایک وسق کھجور تقسیم کر دو۔“ ➌ { فَاِطْعَامُ سِتِّيْنَ مِسْكِيْنًا:} اس سے معلوم ہواکہ ایک ہی مسکین کو ساٹھ دن کھا نا کھلانے سے یا ساٹھ دنوں کا کھانا دینے سے یہ کفارہ ادا نہیں ہوگا، بلکہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلانا پڑے گا، خواہ ایک وقت میں کھلا دے یا مختلف وقتوں میں۔ آیت کے الفاظ کے مطابق اس کا بلا تکلف مطلب یہ ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو ایک دفعہ پیٹ بھر کر کھانا کھلا دے۔ (شوکانی) ➍ { ذٰلِكَ لِتُؤْمِنُوْا بِاللّٰهِ وَ رَسُوْلِهٖ:} اللہ اور اس کے رسول پر ایمان سے مراد ان کے احکام کے سچا ہونے پر یقین رکھنا اور ان پر عمل کرنا ہے، کیونکہ ایمان میں تصدیق، اقرار اور عمل تینوں چیزیں شامل ہیں۔ ➎ { وَ تِلْكَ حُدُوْدُ اللّٰهِ:} یعنی ظہار کا حرام ہونا اور اس سے رجوع کی صورت میں اس پر کفارہ لازم ہونا اللہ تعالیٰ کی مقرر کردہ حدود ہیں، جن سے تجاوز حرام ہے۔ ➏ { وَ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ اَلِيْمٌ: ”اَلْكَافِرِيْنَ“} انکار کرنے والے۔ معلوم ہوا کہ جو لوگ اللہ کے حکموں کو نہیں مانتے وہ حقیقت میں کافر ہیں، چاہے دنیوی احکام میں اور مردم شماری کی رُو سے مسلمانوں میں شمار ہوتے ہوں۔
اِنَّ الَّذِیۡنَ یُحَآدُّوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ کُبِتُوۡا کَمَا کُبِتَ الَّذِیۡنَ مِنۡ قَبۡلِہِمۡ وَ قَدۡ اَنۡزَلۡنَاۤ اٰیٰتٍۭ بَیِّنٰتٍ ؕ وَ لِلۡکٰفِرِیۡنَ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ۚ﴿۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ اسی طرح ذلیل و خوار کر دیے جائیں گے جس طرح ان سے پہلے کے لوگ ذلیل و خوار کیے جا چکے ہیں ہم نے صاف صاف آیات نازل کر دی ہیں، اور کافروں کے لیے ذلت کا عذاب ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وه ذلیل کیے جائیں گے جیسے ان سے پہلے کے لوگ ذلیل کیے گئے تھے، اور بیشک ہم واضح آیتیں اتار چکے ہیں اور کافروں کے لیے تو ذلت واﻻ عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جو مخالفت کرتے ہیں اللہ اور اس کے رسول کی ذلیل کیے گئے جیسے ان سے اگلوں کو ذلت دی گئی اور بیشک ہم نے روشن آیتیں اتاریں اور کافروں کے لیے خواری کا عذاب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
بےشک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول(ص) کی مخالفت کرتے ہیں وہ اسی طرح ذلیل و خوار ہوں گے جس طرح وہ (مخالف) لوگ ذلیل و خوار ہوئے جو ان سے پہلے تھے اور ہم نے کھلی ہوئی آیتیں نازل کر دی ہیں اور کافروں کیلئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں، وہ ذلیل کیے جائیں گے، جیسے وہ لوگ ذلیل کیے گئے جو ان سے پہلے تھے اور بلاشبہ ہم نے واضح آیات نازل کی ہیں اور کافروں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احکامات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم ٭٭

فرمان ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والے اور احکام شرعی سے سرتابی کرنے والے ذلت ادبار نحوست اور پھٹکار کے لائق ہیں جس طرح ان سے اگلے انہی اعمال کے باعث برباد اور رسوا کر دیئے گئے، اسی طرح یہ بھی اس سرکشی کے باعث برباد اور رسوا کر دئیے گئے، اسی طرح واضح، اس قدر ظاہر، اتنی صاف اور ایسی کھلی ہوئی آیتیں بیان کر دی ہیں اور نشانیاں ظاہر کر دی ہیں کہ سوائے اس کے جس کے دل میں سرکشی ہو کوئی ان سے انکار کر نہیں سکتا اور جو ان کا انکار کرے وہ کافر ہے اور ایسے کفار کیلئے یہاں کی ذلت کے بعد وہاں کے بھی اہانت والے عذاب ہیں، یہاں ان کے تکبر نے اللہ کی طرف جھکنے سے روکا وہاں اس کے بدلے انہیں بے انتہا ذلیل کیا جائے گا، خوب روندا جائے گا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا اور جو بھلائی برائی جس کسی نے کی تھی اس سے اسے آگاہ کرے گا۔ گو یہ بھول گئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے تو اسے یاد رکھا تھا اس کے فرشتوں نے اسے لکھ رکھا تھا۔ نہ تو اللہ پر کوئی چیز چھپ سکے نہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو بھولے۔ پھر بیان فرماتا ہے کہ تم جہاں ہو جس حالت میں ہو نہ تمہاری باتیں اللہ کے سننے سے رہ سکیں نہ تمہاری حالتیں اللہ کے دیکھنے سے پوشیدہ رہیں اس کے علم نے ساری دنیا کا احاطہ کر رکھا ہے اسے ہر زبان و مکان کی اطلاع ہر وقت ہے، وہ زمین و آسمان کی تمام تر کائنات سے باعلم ہے۔

تین شخص آپس میں مل کر نہایت پوشیدگی، رازداری کے ساتھ اپنی باتیں ظاہر کریں انہیں وہ سنتا ہے اور وہ اپنے آپ کو تین ہی نہ سمجھیں بلکہ اپنا چوتھا اللہ کو گنیں اور جو پانچ شخص تنہائی میں رازداریاں کر رہے ہیں وہ چھٹا اللہ کو جانیں پھر جو اس سے کم ہوں یا اس سے زیادہ ہوں، وہ بھی یقین رکھیں کہ وہ جہاں کہیں بھی ہیں ان کے ساتھ ان کا اللہ ہے یعنی ان کے حال و قال سے مطلع ہے ان کے کلام کو سن رہا ہے اور ان کی حالتوں کو دیکھ رہا ہے پھر ساتھ ہی ساتھ اس کے فرشتے بھی لکھتے جا رہے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ» [9-التوبہ:78] ‏‏‏‏ ’ کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پوشیدہ باتوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو بخوبی جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمام غیبوں پر اطلاع رکھنے والا ہے ‘، اور جگہ ارشاد ہے «اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ ۭ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ» [43-الزخرف:80] ‏‏‏‏ ’ کیا ان کا یہ گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں اور خفیہ مشوروں کو سن نہیں رہے؟ برابر سن رہے ہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس موجود ہیں جو لکھتے جا رہے ہیں ‘، اکثر بزرگوں نے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ اس آیت سے مراد معیت علمی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا وجود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر جگہ ہے، ہر تین کے مجمع میں چوتھا اس کا علم ہے تبارک و تعالیٰ۔ بیشک و شبہ اس بات پر ایمان کامل اور یقین راسخ رکھنا چاہیئے کہ یہاں مراد ذات سے ساتھ ہونا نہیں بلکہ علم سے ہر جگہ موجود ہونا ہے، ہاں بیشک اس کا سننا دیکھنا بھی اسی طرح اس کے علم کے ساتھ ساتھ ہے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی تمام مخلوق پر مطلع ہے ان کا کوئی کام اس سے پوشیدہ نہیں، پھر قیامت کے دن انہیں ان کے تمام اعمال پر تنبیہ کرے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کو شروع بھی اپنے علم کے بیان سے کیا تھا اور ختم بھی اللہ کے علم کے بیان پر کیا (‏‏‏‏مطلب یہ ہے کہ درمیان میں اللہ کا ساتھ ہونا جو بیان کیا تھا اس سے بھی ازروئے علم کے ساتھ ہونا ہے نہ کہ ازروئے ذات کے۔مترجم)
5۔ 1 کتبوا، ماضی مجہول کا صیغہ ہے مستقبل میں ہونے والے واقعے کو ماضی سے تعبیر کر کے واضح کردیا کہ اس کا وقوع اور تحقق اسی طرح یقینی ہے جیسے کہ وہ ہوچکا ہے چناچہ ایسا ہی ہوا کہ یہ مشرکین مکہ بدر والے دن ذلیل کیے گئے کچھ مارے گئے کچھ قیدی ہوگئے اور مسلمان ان پر غالب رہے مسلمانوں کا غلبہ بھی ان کے حق میں نہایت ذلت تھا۔ 5۔ 2 اس سے مراد گزشتہ امتیں ہیں جو اسی مخالفت کی وجہ سے ہلاک ہوئیں
(آیت 5) ➊ { اِنَّ الَّذِيْنَ يُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗ …: ” يُحَآدُّوْنَ”حَدٌّ“} سے مشتق ہے جس کا معنی جانب ہے۔ باب مفاعلہ عموماً مقابلہ کے معنی کے لیے آتا ہے، یعنی جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں، اللہ اور اس کے رسول ایک جانب ہوں تو وہ ان کے مقابلے میں دوسری جانب ہوتے ہیں۔ {” كُبِتُوْا”كَبَتَ يَكْبِتُ كَبْتًا“} (ض) ذلیل کرنا، ہلاک کرنا، لعنت کرنا، دھکے دے کر نکال دینا۔ اللہ تعالیٰ نے شروع سورت سے یہاں تک ظہار کی حرمت اور اس کے کفارہ کے احکام بیان فرمائے اور بتایا کہ یہ احکام اس لیے مقرر کیے گئے ہیں کہ لوگ ظہار اور اس جیسی بری رسوم سے باز آ جائیں جن کے وہ جاہلیت میں عادی تھے، تاکہ وہ اللہ اور اس کے رسول کی پیروی کے خوگر ہو جائیں اور ان کے احکام پر اخلاص کے ساتھ عمل کریں۔ اس کے بعد فرمایا کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کریں گے، ان کے احکام کی نافرمانی کریں گے اور ان کے مقابلے پر اتر آئیں گے انھیں دنیا میں ذلیل کیا جائے گا، جس طرح ان قوموں کو ذلیل کیا گیا جنھوں نے ان سے پہلے اللہ اور اس کے رسولوں کی مخالفت کی اور یہ احکام اللہ کی مقرر کردہ حدود ہیں اور ان کا انکار کرنے والوں کے لیے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔ ➋ { ” كُبِتُوْا “} ماضی مجہول کا صیغہ ہے، لفظی معنی ہے ”ذلیل کیے گئے۔“ مراد یہ ہے کہ ”ذلیل کیے جائیں گے۔“ آئندہ ہونے والی بات کو ماضی کے صیغے کے ساتھ اس لیے فرمایا کہ اس کا ہونا اتنا یقینی ہے کہ سمجھو یہ کام ہو ہی چکا ہے۔ اس میں کفار کے لیے وعید اور مسلمانوں کے لیے خوش خبری ہے۔ چنانچہ ایسا ہی ہوا کہ بدر اور دوسرے معرکوں میں کفار اور ان کے مددگار یہود و منافقین بری طرح ذلیل ہوئے، انھیں شکستوں پر شکستیں ہوئیں اورانھیں قتل، قید، مال و اولاد سے محرومی، غلامی اور جلا وطنی کی ذلتیں اٹھانا پڑیں، حتیٰ کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی ہی میں مکہ فتح ہو گیا۔ پھر پورے جزیرۂ عرب پر اسلام کے مکمل غلبے کے ساتھ کفار و منافقین پر ذلت و رسوائی کی مہر ثبت ہو گئی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کے خلفاء کے ہاتھوں مشرق سے مغرب تک اسلام غالب ہوا اور کفار و منافقین ذلیل و رسوا ہوئے۔
یَوۡمَ یَبۡعَثُہُمُ اللّٰہُ جَمِیۡعًا فَیُنَبِّئُہُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا ؕ اَحۡصٰہُ اللّٰہُ وَ نَسُوۡہُ ؕ وَ اللّٰہُ عَلٰی کُلِّ شَیۡءٍ شَہِیۡدٌ ٪﴿۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُس دن (یہ ذلت کا عذاب ہونا ہے) جب اللہ ان سب کو پھر سے زندہ کر کے اٹھائے گا اور انہیں بتا دے گا کہ وہ کیا کچھ کر کے آئے ہیں وہ بھول گئے ہیں مگر اللہ نے ان سب کا کیا دھرا گن گن کر محفوظ کر رکھا ہے اور اللہ ایک ایک چیز پر شاہد ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھائے گا پھر انہیں ان کے کیے ہوئے عمل سے آگاه کرے گا، جسے اللہ نے شمار رکھا ہے اور جسے یہ بھول گئے تھے، اور اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے
احمد رضا خان بریلوی
جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا پھر انہیں ان کے کو تک جتادے گا اللہ نے انہیں گن رکھا ہے اور وہ بھول گئے اور ہر چیز اللہ کے سامنے ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن اللہ ان سب کو زندہ کر کے اٹھائے گا تو انہیں بتائے گا جو کچھ انہوں نے کیا تھا اللہ نے تو (ان کے اعمال کو) محفوظ رکھا مگر وہ بھول گئے اور اللہ ہر چیز پر شاہد ہے۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا، پھر انھیں بتا ئے گا جو انھوں نے کیا۔ اللہ نے اسے محفوظ رکھا اور وہ اسے بھول گئے اور اللہ ہر چیز پر گواہ ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
احکامات رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ہم ٭٭

فرمان ہے کہ اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کرنے والے اور احکام شرعی سے سرتابی کرنے والے ذلت ادبار نحوست اور پھٹکار کے لائق ہیں جس طرح ان سے اگلے انہی اعمال کے باعث برباد اور رسوا کر دیئے گئے، اسی طرح یہ بھی اس سرکشی کے باعث برباد اور رسوا کر دئیے گئے، اسی طرح واضح، اس قدر ظاہر، اتنی صاف اور ایسی کھلی ہوئی آیتیں بیان کر دی ہیں اور نشانیاں ظاہر کر دی ہیں کہ سوائے اس کے جس کے دل میں سرکشی ہو کوئی ان سے انکار کر نہیں سکتا اور جو ان کا انکار کرے وہ کافر ہے اور ایسے کفار کیلئے یہاں کی ذلت کے بعد وہاں کے بھی اہانت والے عذاب ہیں، یہاں ان کے تکبر نے اللہ کی طرف جھکنے سے روکا وہاں اس کے بدلے انہیں بے انتہا ذلیل کیا جائے گا، خوب روندا جائے گا، قیامت کے دن اللہ تعالیٰ تمام اگلوں پچھلوں کو ایک ہی میدان میں جمع کرے گا اور جو بھلائی برائی جس کسی نے کی تھی اس سے اسے آگاہ کرے گا۔ گو یہ بھول گئے تھے لیکن اللہ تعالیٰ نے تو اسے یاد رکھا تھا اس کے فرشتوں نے اسے لکھ رکھا تھا۔ نہ تو اللہ پر کوئی چیز چھپ سکے نہ اللہ تعالیٰ کسی چیز کو بھولے۔ پھر بیان فرماتا ہے کہ تم جہاں ہو جس حالت میں ہو نہ تمہاری باتیں اللہ کے سننے سے رہ سکیں نہ تمہاری حالتیں اللہ کے دیکھنے سے پوشیدہ رہیں اس کے علم نے ساری دنیا کا احاطہ کر رکھا ہے اسے ہر زبان و مکان کی اطلاع ہر وقت ہے، وہ زمین و آسمان کی تمام تر کائنات سے باعلم ہے۔

تین شخص آپس میں مل کر نہایت پوشیدگی، رازداری کے ساتھ اپنی باتیں ظاہر کریں انہیں وہ سنتا ہے اور وہ اپنے آپ کو تین ہی نہ سمجھیں بلکہ اپنا چوتھا اللہ کو گنیں اور جو پانچ شخص تنہائی میں رازداریاں کر رہے ہیں وہ چھٹا اللہ کو جانیں پھر جو اس سے کم ہوں یا اس سے زیادہ ہوں، وہ بھی یقین رکھیں کہ وہ جہاں کہیں بھی ہیں ان کے ساتھ ان کا اللہ ہے یعنی ان کے حال و قال سے مطلع ہے ان کے کلام کو سن رہا ہے اور ان کی حالتوں کو دیکھ رہا ہے پھر ساتھ ہی ساتھ اس کے فرشتے بھی لکھتے جا رہے ہیں۔ جیسے اور جگہ ہے «اَلَمْ يَعْلَمُوْٓا اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ وَاَنَّ اللّٰهَ عَلَّامُ الْغُيُوْبِ» [9-التوبہ:78] ‏‏‏‏ ’ کیا لوگ نہیں جانتے کہ اللہ تعالیٰ ان کی پوشیدہ باتوں کو اور ان کی سرگوشیوں کو بخوبی جانتا ہے اور اللہ تعالیٰ تمام غیبوں پر اطلاع رکھنے والا ہے ‘، اور جگہ ارشاد ہے «اَمْ يَحْسَبُوْنَ اَنَّا لَا نَسْمَعُ سِرَّهُمْ وَنَجْوٰىهُمْ ۭ بَلٰى وَرُسُلُنَا لَدَيْهِمْ يَكْتُبُوْنَ» [43-الزخرف:80] ‏‏‏‏ ’ کیا ان کا یہ گمان ہے کہ ہم ان کی پوشیدہ باتوں اور خفیہ مشوروں کو سن نہیں رہے؟ برابر سن رہے ہیں اور ہمارے بھیجے ہوئے ان کے پاس موجود ہیں جو لکھتے جا رہے ہیں ‘، اکثر بزرگوں نے اس بات پر اجماع نقل کیا ہے کہ اس آیت سے مراد معیت علمی ہے یعنی اللہ تعالیٰ کا وجود نہیں بلکہ اللہ تعالیٰ کا علم ہر جگہ ہے، ہر تین کے مجمع میں چوتھا اس کا علم ہے تبارک و تعالیٰ۔ بیشک و شبہ اس بات پر ایمان کامل اور یقین راسخ رکھنا چاہیئے کہ یہاں مراد ذات سے ساتھ ہونا نہیں بلکہ علم سے ہر جگہ موجود ہونا ہے، ہاں بیشک اس کا سننا دیکھنا بھی اسی طرح اس کے علم کے ساتھ ساتھ ہے، اللہ سبحانہ و تعالیٰ اپنی تمام مخلوق پر مطلع ہے ان کا کوئی کام اس سے پوشیدہ نہیں، پھر قیامت کے دن انہیں ان کے تمام اعمال پر تنبیہ کرے گا، اللہ تعالیٰ ہر چیز کو جاننے والا ہے۔ امام احمد بن حنبل رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ اس آیت کو شروع بھی اپنے علم کے بیان سے کیا تھا اور ختم بھی اللہ کے علم کے بیان پر کیا (‏‏‏‏مطلب یہ ہے کہ درمیان میں اللہ کا ساتھ ہونا جو بیان کیا تھا اس سے بھی ازروئے علم کے ساتھ ہونا ہے نہ کہ ازروئے ذات کے۔مترجم)
6 ۔ 1 یہ ذہنوں میں پیدا ہونے والے اشکال کا جواب ہے کہ گناہوں کی اتنی کثرت اور ان کا اتنا تنوع ہے کہ ان کا احصار بظاہر ناممکن ہے اللہ تعالیٰ نے فرمایا تمہارے لیے یقینا ناممکن ہے بلکہ تمہیں تو خود اپنے کیے ہوئے سارے کام بھی یاد نہیں ہوں گے لیکن اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل نہیں اس نے ایک ایک کا عمل محفوظ کیا ہوا ہے۔ 6۔ 2 اس سے کوئی چیز پوشیدہ نہیں آگے اس کی مزید تاکید ہے کہ وہ ہر چیز کو جانتا ہے
(آیت 6) ➊ {يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا …:} اس کا تعلق پچھلی آیت کے آخری جملے {” وَ لِلْكٰفِرِيْنَ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ “} سے ہے، یعنی ان کافروں کے لیے اس دن بھی رسوا کرنے والا عذاب ہے جب اللہ تعالیٰ ان سب کو جمع فرمائے گا، پھر وہ جو کرتے رہے اس سے انھیں آگاہ کرے گا، تاکہ وہ اس کا نتیجہ بھگتنے کے لیے تیار ہو جائیں۔ ➋ { اَحْصٰىهُ اللّٰهُ وَ نَسُوْهُ:} یہ اس سوال کا جواب ہے کہ ہزاروں لاکھوں سالوں کے بعد اگر سب لوگوں کو زندہ کر بھی لیا گیا تو انھوں نے جو کچھ کیا اسے مدتیں گزر چکی ہوں گی، اللہ تعالیٰ اتنی بے شمار مخلوق کے بے شمار اعمال انھیں کیسے بتائے گا؟ فرمایا وہ اپنا کیا ہوا بے شک بھول چکے ہوں، مگر اللہ تعالیٰ نے وہ سب کچھ محفوظ کر رکھا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ کہف (۴۹) کی تفسیر۔ ➌ { وَ اللّٰهُ عَلٰى كُلِّ شَيْءٍ شَهِيْدٌ:} کیو نکہ اللہ تعالیٰ سے کوئی چیز چھپی نہیں رہ سکتی، وہ ہر چیز کا مشاہدہ کر رہا ہے۔ (دیکھیے مائدہ: ۱۱۷۔ نجم: ۱۷) اگلی آیت میں اس کی مزید تاکید ہے۔
اَلَمۡ تَرَ اَنَّ اللّٰہَ یَعۡلَمُ مَا فِی السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِی الۡاَرۡضِ ؕ مَا یَکُوۡنُ مِنۡ نَّجۡوٰی ثَلٰثَۃٍ اِلَّا ہُوَ رَابِعُہُمۡ وَ لَا خَمۡسَۃٍ اِلَّا ہُوَ سَادِسُہُمۡ وَ لَاۤ اَدۡنٰی مِنۡ ذٰلِکَ وَ لَاۤ اَکۡثَرَ اِلَّا ہُوَ مَعَہُمۡ اَیۡنَ مَا کَانُوۡا ۚ ثُمَّ یُنَبِّئُہُمۡ بِمَا عَمِلُوۡا یَوۡمَ الۡقِیٰمَۃِ ؕ اِنَّ اللّٰہَ بِکُلِّ شَیۡءٍ عَلِیۡمٌ ﴿۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا تم کو خبر نہیں ہے کہ زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا اللہ کو علم ہے؟ کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ تین آدمیوں میں کوئی سرگوشی ہو اور ان کے درمیان چوتھا اللہ نہ ہو، یا پانچ آدمیوں میں سرگوشی ہو اور ان کے اندر چھٹا اللہ نہ ہو خفیہ بات کرنے والا خواہ اِس سے کم ہوں یا زیادہ، جہاں کہیں بھی وہ ہوں، اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے پھر قیامت کے روز وہ ان کو بتا دے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ آسمانوں کی اور زمین کی ہر چیز سے واقف ہے۔ تین آدمیوں کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر اللہ ان کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ پانچ کی مگر ان کا چھٹا وه ہوتا ہے اور نہ اس سے کم کی اور نہ زیاده کی مگر وه ساتھ ہی ہوتا ہے جہاں بھی وه ہوں، پھر قیامت کے دن انہیں ان کے اعمال سے آگاه کرے گا بیشک اللہ تعالیٰ ہر چیز سے واقف ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے سننے والے کیا تو نے نہ دیکھا کہ اللہ جانتا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں جہاں کہیں تین شخصوں کی سرگوشی ہو تو چوتھا وہ موجود ہے اور پانچ کی تو چھٹا وہ اور نہ اس سے کم اور نہ اس سے زیادہ کی مگر یہ کہ وہ ان کے ساتھ ہے جہاں کہیں ہوں پھر انہیں قیامت کے دن بتادے گا جو کچھ انہوں نے کیا، بیشک اللہ سب کچھ جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نے نہیں دیکھا (غور نہیں کیا) کہ اللہ وہ سب کچھ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے کہیں بھی تین آدمیوں کی سرگوشی نہیں ہوتی مگر وہ ان کا چوتھا ہوتاہے اور نہ پانچ کی ہوتی ہے مگر وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم اور نہ زیادہ مگر یہ کہ وہ جہاں بھی ہوں اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے پھر وہ قیامت کے دن انہیں بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے؟ یقیناً اللہ ہر چیز کا بڑا جاننے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تو نے نہیں دیکھا کہ اللہ جانتا ہے جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے۔ کوئی تین آدمیوں کی کوئی سرگوشی نہیں ہوتی مگر وہ ان کا چوتھا ہوتا ہے اور نہ کوئی پانچ آدمیوں کی مگر وہ ان کا چھٹا ہوتا ہے اور نہ اس سے کم ہوتے ہیں اور نہ زیادہ مگر وہ ان کے ساتھ ہوتا ہے، جہاں بھی ہوں، پھر وہ انھیں قیامت کے دن بتائے گا جو کچھ انھوں نے کیا۔ یقینا اللہ ہر چیز کو خوب جاننے والا ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معاشرتی آداب کا ایک پہلو اور قیامت کا ایک منظر ٭٭

کانا پھوسی سے یہودیوں کو روک دیا گیا تھا اس لیے کہ ان میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں جب صلح صفائی تھی تو یہ لوگ یہ حرکت کرنے لگے کہ جہاں کسی مسلمان کو دیکھا اور جہاں کوئی ان کے پاس گیا یہ ادھر ادھر جمع ہو ہو کر چپکے چپکے اشاروں کنایوں میں اس طرح کانا پھوسی کرنے لگتے کہ اکیلا دکیلا مسلمان یہ گمان کرتا کہ شاید یہ لوگ میرے قتل کی سازشیں کر رہے ہیں یا میرے خلاف اور ایمانداروں کے خلاف کچھ مخفی ترکیبیں سوچ رہے ہیں اسے ان کی طرف جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا، جب یہ شکایتیں عام ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اس سفلی حرکت سے روک دیا، لیکں انہوں نے پھر بھی یہی کرنا شروع کیا۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ ہم لوگ باری باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رات کو حاضر ہوتے کہ اگر کوئی کام کاج ہو تو کریں، ایک رات کو باری والے آ گئے اور کچھ اور لوگ بھی بہ نیت ثواب آ گئے چونکہ لوگ زیادہ جمع ہو گئے تو ہم ٹولیاں ٹولیاں بن کر ادھر ادھر بیٹھ گئے اور ہر جماعت آپس میں باتیں کرنے لگی، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: ”یہ سرگوشیاں کیا ہو رہی ہیں؟ کیا تمہیں اس سے روکا نہیں گیا؟“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری توبہ ہم مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے کیونکہ اس سے کھٹکا لگا رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو میں تمہیں اس سے بھی زیادہ خوف کی چیز بتاؤں وہ پوشیدہ شرک ہے اس طرح کہ ایک شخص اٹھ کھڑا ہو اور دوسروں کے دکھانے کیلئے کوئی دینی کام کرے (‏‏‏‏یعنی ریاکاری)“ اس کی اسناد غریب ہے اور اس میں بعض راوی ضعیف ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر بیان ہوتا ہے کہ ان کی خانگی سرگوشیاں یا تو گناہ کے کاموں پر ہوتی ہیں جس میں ان کا ذاتی نقصان ہے، یا ظلم پر ہوتی ہیں جس میں دوسروں کے نقصان کی ترکیبیں سوچتے ہیں یا پیغمبر علیہ السلام کی مخالفت پر ایک دوسروں کو پختہ کرتے ہیں اور آپ کی نافرمانیوں کے منصوبے گانٹھتے ہیں۔ پھر ان بدکاروں کی ایک بدترین خصلت بیان ہو رہی ہے کہ سلام کے الفاظ کو بھی یہ بدل دیتے ہیں، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک مرتبہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا «السَّام عَلَيْك يَا أَبَا الْقَاسِم» ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رہا نہ گیا فرمایا «وَعَلَيْكُمْ السَّام» ، «سَّام» کے معنی موت کے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! اللہ تعالیٰ برے الفاظ اور سخت کلامی کو ناپسند فرماتا ہے۔ میں نے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا۔ انہوں نے آپ کو «السلام» نہیں کہا بلکہ «السام» کہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے نہیں سنا؟ میں نے کہہ دیا «وَعَلَيْكُمْ» ۔‏‏‏‏“ [صحیح مسلم:2165] ‏‏‏‏ اسی کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے جواب میں فرمایا تھا «عَلَیْکُمْ السَّامُ وَالذَّامُ وَاللَّعْنَتَهُ» اور آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو روکتے ہوئے فرمایا کہ ہماری دعا ان کے حق میں مقبول ہے اور ان کا ہمیں کوسنا نامقبول ہے۔ [ابن ابی حاتم وغیرہ] ‏‏‏‏ [صحیح بخاری:6030] ‏‏‏‏

ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے مجمع میں تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی نے آ کر سلام کیا،صحابہ نے جواب دیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ”معلوم بھی ہے اس نے کیا کہا تھا؟“ انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول! سلام کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں اس نے کہا تھا «سَام عَلَيْكُمْ» یعنی تمہارا دین مغلوب ہو کر مٹ جائے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس یہودی کو بلاؤ جب وہ آ گیا تو آپ نے فرمایا: ”سچ سچ بتا کیا تو نے «سَام عَلَيْكُمْ» نہیں کہا تھا؟“ اس نے کہا: ہاں، میں نے یہی کہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو جب کبھی کوئی اہل کتاب تم میں سے کسی کو سلام کرے تو تم صرف «عَلَيْك» کہہ دیا کرو یعنی جو تو نے کہا ہو وہ تجھ پر۔ [سنن ابن ماجہ:3697،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر یہ لوگ اپنے اس کرتوت پر خوش ہو کر اپنے دل میں کہتے کہ اگر یہ نبی برحق ہوتا تو اللہ تعالیٰ ہماری اس چالبازی پر ہمیں دنیا میں ضرور عذاب کرتا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ تو ہمارے باطنی حال سے بخوبی واقف ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ انہیں دار آخرت کا عذاب ہی کافی ہے جہاں یہ جہنم میں جائیں گے اور بری جگہ پہنچیں گے ‘۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اس آیت کا شان نزول یہودیوں کا اس طریقے کا سلام ہے، [مسند احمد:170/2:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ منافق اسی طرح سلام کرتے تھے۔
7۔ 1 یعنی مذکورہ تعداد کا خصوصی طور پر ذکر اس لئے نہیں ہے کہ اس میں کم یا اس سے زیادہ تعداد کے درمیان ہونے والی گفتگو سے بیخبر رہتا ہے بلکہ یہ تعداد بطور مثال ہے، مقصد یہ بتلانا ہے کہ تعداد تھوڑی ہو یا زیادہ وہ ہر ایک کے ساتھ ہے اور ہر ظاہر اور پوشیدہ بات کو جانتا ہے۔ 7۔ 2 خلوت میں ہوں یا جلوت میں، شہروں میں ہوں یا جنگلوں صحراؤں میں، آبادیوں میں ہوں یا بےآباد پہاڑوں بیابانوں میں، جہاں بھی ہوں، اس سے چھپے نہیں رہ سکتے۔ 7۔ 3 یعنی اس کے مطابق ہر ایک کو جزا دے گا نیک کو اس کی نیکیوں کی جزا اور بد کو اس کی بدیوں کی سزا۔
(آیت 7) ➊ { اَلَمْ تَرَ:} اس کے لیے دیکھیے سورۂ فیل کی پہلی آیت اور سورۂ نور کی آیت (۴۱) کی تفسیر۔ ➋ { اَنَّ اللّٰهَ يَعْلَمُ مَا فِي السَّمٰوٰتِ وَ مَا فِي الْاَرْضِ:} یعنی اللہ تعالیٰ ان کے اعمال ہی کو نہیں بلکہ آسمان و زمین کی ہر چھوٹی بڑی چیز کو جانتا ہے۔ ➌ یہاں سے آیت (۱۹) تک مسلسل منافقین کے طرز عمل پر گرفت کی گئی ہے۔ ➍ {مَا يَكُوْنُ مِنْ نَّجْوٰى ثَلٰثَةٍ اِلَّا هُوَ رَابِعُهُمْ …: ” نَجَا يَنْجُوْ نَجْوًا وَنَجْوٰي وَ نَاجٰي مُنَاجَاةً وَ نِجَاءً، الرَّجُلَ “} کسی آدمی سے اپنے دل کی بات دوسروں سے چھپا کر کرنا۔ {” نَجْوٰى “} اس سے اسم مصدر ہے، سرگوشی۔ زیادہ تر اس کا استعمال برے کاموں کی سرگوشیوں اور سازشوں کے لیے ہوتا ہے، مثلاً چوری، ڈاکے، قتل یا کسی کو نقصان پہنچانے کے لیے خفیہ مشورہ کرنا۔ خیر کے کاموں میں اس کا استعمال کم ہوتا ہے، کیونکہ عموماً انھیں چھپانے کی ضرورت نہیں ہوتی۔یعنی تھوڑے سے تھوڑے یا زیادہ سے زیادہ لوگوں کی کوئی مجلس، کوئی سرگوشی اور کوئی خفیہ سے خفیہ مشورہ نہیں ہوتا جو اللہ تعالیٰ سے مخفی ہو اور اللہ تعالیٰ ان کے ساتھ نہ ہو، بلکہ جو بھی تین آدمی چھپ کر مشورہ کر رہے ہوں ان کے ساتھ چوتھا اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اور جو بھی پانچ آدمی چھپ کر مشورہ کر رہے ہوں ان کے ساتھ چھٹا اللہ تعالیٰ ہوتا ہے اور اس سے کم یا زیادہ جہاں بھی ہوں اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے اور اللہ تعالیٰ ہر چیز کو پوری طرح جاننے والا ہے۔ {” اِلَّا هُوَ مَعَهُمْ “} کی تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ حدید (۴)کی تفسیر۔
اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ نُہُوۡا عَنِ النَّجۡوٰی ثُمَّ یَعُوۡدُوۡنَ لِمَا نُہُوۡا عَنۡہُ وَ یَتَنٰجَوۡنَ بِالۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ وَ مَعۡصِیَتِ الرَّسُوۡلِ ۫ وَ اِذَا جَآءُوۡکَ حَیَّوۡکَ بِمَا لَمۡ یُحَیِّکَ بِہِ اللّٰہُ ۙ وَ یَقُوۡلُوۡنَ فِیۡۤ اَنۡفُسِہِمۡ لَوۡ لَا یُعَذِّبُنَا اللّٰہُ بِمَا نَقُوۡلُ ؕ حَسۡبُہُمۡ جَہَنَّمُ ۚ یَصۡلَوۡنَہَا ۚ فَبِئۡسَ الۡمَصِیۡرُ ﴿۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جنہیں سرگوشیاں کرنے سے منع کر دیا گیا تھا پھر بھی وہ وہی حرکت کیے جاتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا؟ یہ لوگ چھپ چھپ کر آپس میں گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں کرتے ہیں، اور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو تمہیں اُس طریقے سے سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے تم پر سلام نہیں کیا ہے اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہماری اِن باتوں پر اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا اُن کے لیے جہنم ہی کافی ہے اُسی کا وہ ایندھن بنیں گے بڑا ہی برا انجام ہے اُن کا
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا؟ جنہیں کانا پھوسی سے روک دیا گیا تھا وه پھر بھی اس روکے ہوئے کام کو دوباره کرتے ہیں اور آپس میں گناه کی اور ﻇلم وزیادتی کی اور نافرمانیٴ پیغمبر کی سرگوشیاں کرتے ہیں، اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو تجھے ان لفظوں میں سلام کرتے ہیں جن لفظوں میں اللہ تعالیٰ نے نہیں کہا اور اپنے دل میں کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس پر جو ہم کہتے ہیں سزا کیوں نہیں دیتا، ان کے لیے جہنم کافی (سزا) ہے جس میں یہ جائیں گے، سو وه برا ٹھکانا ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جنہیں بری مشورت سے منع فرمایا گیا تھا پھر وہی کرتے ہیں جس کی ممانعت ہوئی تھی اور آپس میں گناہ اور حد سے بڑھنے اور رسول کی نافرمانی کے مشورے کرتے ہیں اور جب تمہارے حضور حاضر ہوتے ہیں تو ان لفظوں سے تمہیں مجرا کرتے ہیں جو لفظ اللہ نے تمہارے اعزاز میں نہ کہے اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں ہمیں اللہ عذاب کیوں نہیں کرتا ہمارے اس کہنے پر انہیں جہنم بس ہے، اس میں دھنسیں گے، تو کیا ہی برا انجام،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نے ان لوگوں کی طرف نہیں دیکھاجنہیں (اسلام کے خلاف) سرگوشیاں کرنے سے منع کیا گیا تھا وہ پھر وہی کام کرتے ہیں جس سے ان کو منع کیا گیا تھا اور وہ گناہ، ظلم و زیادتی اور رسول(ص) کی نافرمانی کی سرگوشیاں (خفیہ میٹنگیں) کرتے ہیں اور جب آپ(ص) کے پاس آتے ہیں تو آپ(ص) کو کس طرح سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے آپ(ص) کو سلام نہیں کیا اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ (اگر یہ برحق نبی(ص) ہیں تو) اللہ ہماری ان باتوں پر ہم پر عذاب کیوں نازل نہیں کرتا؟ ان کے لئے جہنم کافی ہے جس میں وہ پڑیں گے (اور اس کی تپش اٹھائیں گے) سو وہ کیا برا ٹھکانہ ہے؟
عبدالسلام بن محمد
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنھیں سر گوشی کرنے سے منع کیا گیا، پھر وہ اس چیز کی طرف لوٹتے ہیں جس سے انھیں منع کیا گیا اور آپس میں گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی کرتے ہیں اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو (ان لفظوں کے ساتھ) تجھے سلام کہتے ہیں جن کے ساتھ اللہ نے تجھے سلام نہیں کہا اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ اللہ ہمیں اس پر سزا کیوں نہیں دیتا جو ہم کہتے ہیں ؟ انھیں جہنم ہی کافی ہے، وہ اس میں داخل ہوں گے ، پس وہ برا ٹھکانا ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
معاشرتی آداب کا ایک پہلو اور قیامت کا ایک منظر ٭٭

کانا پھوسی سے یہودیوں کو روک دیا گیا تھا اس لیے کہ ان میں اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم میں جب صلح صفائی تھی تو یہ لوگ یہ حرکت کرنے لگے کہ جہاں کسی مسلمان کو دیکھا اور جہاں کوئی ان کے پاس گیا یہ ادھر ادھر جمع ہو ہو کر چپکے چپکے اشاروں کنایوں میں اس طرح کانا پھوسی کرنے لگتے کہ اکیلا دکیلا مسلمان یہ گمان کرتا کہ شاید یہ لوگ میرے قتل کی سازشیں کر رہے ہیں یا میرے خلاف اور ایمانداروں کے خلاف کچھ مخفی ترکیبیں سوچ رہے ہیں اسے ان کی طرف جاتے ہوئے بھی ڈر لگتا، جب یہ شکایتیں عام ہوئیں تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہودیوں کو اس سفلی حرکت سے روک دیا، لیکں انہوں نے پھر بھی یہی کرنا شروع کیا۔ ابن ابی حاتم کی ایک حدیث میں ہے کہ ہم لوگ باری باری رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں رات کو حاضر ہوتے کہ اگر کوئی کام کاج ہو تو کریں، ایک رات کو باری والے آ گئے اور کچھ اور لوگ بھی بہ نیت ثواب آ گئے چونکہ لوگ زیادہ جمع ہو گئے تو ہم ٹولیاں ٹولیاں بن کر ادھر ادھر بیٹھ گئے اور ہر جماعت آپس میں باتیں کرنے لگی، اتنے میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے اور فرمایا: ”یہ سرگوشیاں کیا ہو رہی ہیں؟ کیا تمہیں اس سے روکا نہیں گیا؟“ ہم نے کہا: اے اللہ کے رسول! ہماری توبہ ہم مسیح دجال کا ذکر کر رہے تھے کیونکہ اس سے کھٹکا لگا رہتا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو میں تمہیں اس سے بھی زیادہ خوف کی چیز بتاؤں وہ پوشیدہ شرک ہے اس طرح کہ ایک شخص اٹھ کھڑا ہو اور دوسروں کے دکھانے کیلئے کوئی دینی کام کرے (‏‏‏‏یعنی ریاکاری)“ اس کی اسناد غریب ہے اور اس میں بعض راوی ضعیف ہیں۔ [تفسیر ابن ابی حاتم:ضعیف] ‏‏‏‏ پھر بیان ہوتا ہے کہ ان کی خانگی سرگوشیاں یا تو گناہ کے کاموں پر ہوتی ہیں جس میں ان کا ذاتی نقصان ہے، یا ظلم پر ہوتی ہیں جس میں دوسروں کے نقصان کی ترکیبیں سوچتے ہیں یا پیغمبر علیہ السلام کی مخالفت پر ایک دوسروں کو پختہ کرتے ہیں اور آپ کی نافرمانیوں کے منصوبے گانٹھتے ہیں۔ پھر ان بدکاروں کی ایک بدترین خصلت بیان ہو رہی ہے کہ سلام کے الفاظ کو بھی یہ بدل دیتے ہیں، سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں ایک مرتبہ یہودی نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور کہا «السَّام عَلَيْك يَا أَبَا الْقَاسِم» ، سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے رہا نہ گیا فرمایا «وَعَلَيْكُمْ السَّام» ، «سَّام» کے معنی موت کے ہیں، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اے عائشہ! اللہ تعالیٰ برے الفاظ اور سخت کلامی کو ناپسند فرماتا ہے۔ میں نے کہا: کیا آپ نے نہیں سنا۔ انہوں نے آپ کو «السلام» نہیں کہا بلکہ «السام» کہا ہے، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”کیا تم نے نہیں سنا؟ میں نے کہہ دیا «وَعَلَيْكُمْ» ۔‏‏‏‏“ [صحیح مسلم:2165] ‏‏‏‏ اسی کا بیان یہاں ہو رہا ہے۔ دوسری روایت میں ہے کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان کے جواب میں فرمایا تھا «عَلَیْکُمْ السَّامُ وَالذَّامُ وَاللَّعْنَتَهُ» اور آپ نے عائشہ رضی اللہ عنہا کو روکتے ہوئے فرمایا کہ ہماری دعا ان کے حق میں مقبول ہے اور ان کا ہمیں کوسنا نامقبول ہے۔ [ابن ابی حاتم وغیرہ] ‏‏‏‏ [صحیح بخاری:6030] ‏‏‏‏

ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے اصحاب کے مجمع میں تشریف فرما تھے کہ ایک یہودی نے آ کر سلام کیا،صحابہ نے جواب دیا، پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے پوچھا: ”معلوم بھی ہے اس نے کیا کہا تھا؟“ انہوں نے کہا اے اللہ کے رسول! سلام کیا تھا۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”نہیں اس نے کہا تھا «سَام عَلَيْكُمْ» یعنی تمہارا دین مغلوب ہو کر مٹ جائے“، پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے حکم دیا کہ اس یہودی کو بلاؤ جب وہ آ گیا تو آپ نے فرمایا: ”سچ سچ بتا کیا تو نے «سَام عَلَيْكُمْ» نہیں کہا تھا؟“ اس نے کہا: ہاں، میں نے یہی کہا تھا، آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”سنو جب کبھی کوئی اہل کتاب تم میں سے کسی کو سلام کرے تو تم صرف «عَلَيْك» کہہ دیا کرو یعنی جو تو نے کہا ہو وہ تجھ پر۔ [سنن ابن ماجہ:3697،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ پھر یہ لوگ اپنے اس کرتوت پر خوش ہو کر اپنے دل میں کہتے کہ اگر یہ نبی برحق ہوتا تو اللہ تعالیٰ ہماری اس چالبازی پر ہمیں دنیا میں ضرور عذاب کرتا اس لیے کہ اللہ تعالیٰ تو ہمارے باطنی حال سے بخوبی واقف ہے۔ پس اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ انہیں دار آخرت کا عذاب ہی کافی ہے جہاں یہ جہنم میں جائیں گے اور بری جگہ پہنچیں گے ‘۔ سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ اس آیت کا شان نزول یہودیوں کا اس طریقے کا سلام ہے، [مسند احمد:170/2:صحیح] ‏‏‏‏ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما سے منقول ہے کہ منافق اسی طرح سلام کرتے تھے۔
8۔ 1 اس سے مدینے کے یہودی اور منافقین مراد ہیں جب مسلمان ان کے پاس سے گزرتے تو یہ باہم سر جوڑ کر اس طرح سرگوشیاں اور کانا پھوسی کرتے کہ مسلمان یہ سمجھتے کہ شاید ان کے خلاف یہ کوئی سازش کر رہے ہیں یا مسلمانوں کے کسی لشکر پر دشمن نے حملہ کر کے انہیں نقصان پہنچایا ہے جس کی خبر ان کے پاس پہنچ گئی ہے مسلمان ان چیزوں سے خوف زدہ ہوجاتے چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے اس طرح سرگوشیاں کرنے سے منع فرما دیا لیکن کچھ ہی عرصے کے بعد انہوں نے پھر یہ مذموم سلسلہ شروع کردیا آیت میں ان کے اسی کردار کو بیان کیا جارہا ہے۔ 8۔ 2 یعنی ان کی سرگوشیاں نیکی اور تقویٰ کی باتوں میں نہیں ہوتیں، بلکہ گناہ، زیادتی اور معصیت رسول پر مبنی ہوتی ہیں مثلاً کسی کی غیبت، الزام تراشی، بےہودہ گوئی ایک دوسرے کو رسول اللہ کی نافرمانی پر اکسانا وغیرہ۔ 8۔ 3 یعنی اللہ نے سلام کا طریقہ یہ بتلایا ہے کہ تم السلام علیکم و رحمۃ اللہ کہو، لیکن یہودی نبی کی خدمت میں حاضر ہوتے تو اس کی بجائے کہتے السام علیکم یا علیک (تم پر موت وارد ہو) اس لئے رسول اللہ ان کے جواب میں صرف یہ فرمایا کرتے تھے، وعلیکم یا و علیکَ (اور تم پر ہی ہو) اور مسلمانوں کو بھی آپ نے تاکید فرمائی کہ جب کوئی اہل کتاب تمہیں سلام کرے تو جواب میں و علیک کہا کرو یعنی علیک ما قلتَ (تو نے جو کہا ہے وہ تجھ پر ہی وارد ہو (صحیح بخاری) 8۔ 4 یعنی وہ آپس میں یا اپنے دلوں میں کہتے کہ اگر یہ سچا نبی ہوتا تو اللہ تعالیٰ یقینا ہماری اس قبیح حرکت پر ہماری گرفت ضرور فرماتا۔ 8۔ 5 اللہ نے فرمایا کہ اگر اللہ نے اپنی مشیت اور حکمت بالغہ کے تحت دنیا میں ان کی فوری گرفت نہیں فرمائی تو کیا وہ آخرت میں جہنم کے عذاب سے بھی بچ جائیں گے؟ نہیں یقینا نہیں جہنم ان کی منتظر ہے جس میں وہ داخل ہوں گے۔
(آیت 8) ➊ { اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ نُهُوْا عَنِ النَّجْوٰى …:} یہاں سے یہود اور منافقین کے طرز عمل پر گرفت کا آغاز ہو رہا ہے، جو انھوں نے اختیار کر رکھا تھا۔ یہود نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ صلح کا معاہدہ کر رکھا تھا اور آپ کی مجلسوں میں آتے جاتے تھے اور منافقین بظاہر ایمان لا چکے تھے اور مسلمانوں کی جماعت کے فرد تھے، مگر ان کی دوستی یہود ہی کے ساتھ تھی۔ منافقین اور یہود نے اندر ہی اندر اپنا الگ جتھا بنا رکھا تھا، انھیں جب بھی موقع ملتا خفیہ مجالس میں مسلمانوں کے اندر پھوٹ ڈالنے، فتنہ برپا کرنے اور مشرکین سے مل کر مسلمانوں کو نقصان پہنچانے کے منصوبے بناتے۔ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں آتے تو آپس میں کھسر پھسر کرتے رہتے، جس سے مجلس کی بے وقعتی ہوتی اور اس بات کا اظہار ہوتا کہ انھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھیوں کی باتوں سے کوئی دلچسپی نہیں۔ بعض اوقات وہ آپس میں سرگوشی کرتے ہوئے کسی مسلمان کو دیکھ کر آپس میں آنکھ مارتے، تاکہ وہ سمجھے کہ وہ اس کے متعلق کوئی بات کر رہے ہیں۔ مسلمانوں کو ان کے اس رویے سے سخت تکلیف ہوتی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے انھیں ایسی مجالس سے منع کیا جن میں وہ اسلام اور مسلمانوں کے خلاف خفیہ مشورے اور سازشیں کرتے تھے اور مسلمانوں کی مجلسوں میں علیحدہ سرگوشیوں سے بھی منع کیا، مگر وہ باز نہ آئے تو اللہ تعالیٰ نے قرآن مجید میں یہ آیات نازل فرما کر ان پر اپنی ناراضی کا اظہار فرمایا۔ ➋ { وَ يَتَنٰجَوْنَ بِالْاِثْمِ وَ الْعُدْوَانِ وَ مَعْصِيَتِ الرَّسُوْلِ:} اللہ تعالیٰ نے بتایا کہ ان کے خفیہ مشورے اور سرگوشیاں یا تو ایسے گناہوں پر مشتمل ہوتی تھیں جن کا تعلق ان کی ذات سے تھا یا ایسے گناہوں پر جن میں دوسروں پر ظلم و زیادتی ہوتی، یا پھر ان کی سرگوشیاں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی پر مشتمل ہوتی تھیں۔ ➌ { وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللّٰهُ: ”حَيِيَ يَحْيٰ حَيَاةً“} ({خَشِيَ يَخْشٰي}) زندہ ہونا۔ {” حَيّٰي يُحَيِّيْ تَحِيَّةً “} (تفعیل) زندگی اور سلامتی کی دعا دینا، سلام کہنا۔ (دیکھیے نساء: ۸۶) یعنی جب یہ یہودی اور ان کے ہم نوا منافقین آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آتے ہیں تو ایسے الفاظ کے ساتھ آپ کو سلام کہتے ہیں جن کے ساتھ اللہ تعالیٰ نے آپ کو سلام نہیں کہا۔ اللہ تعالیٰ کے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سلام کا ذکرِ خاص اس آیت میں ہے: «‏‏‏‏يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا صَلُّوْا عَلَيْهِ وَ سَلِّمُوْا تَسْلِيْمًا» [الأحزاب: ۵۶ ] ”اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اس پر صلوٰۃ بھیجو اور سلام بھیجو، خوب سلام بھیجنا۔“ اور ذکرِ عام اس آیت میں ہے: «‏‏‏‏قُلِ الْحَمْدُ لِلّٰهِ وَ سَلٰمٌ عَلٰى عِبَادِهِ الَّذِيْنَ اصْطَفٰى» ‏‏‏‏ [ النمل: ۵۹ ] ”کہہ دے سب تعریف اللہ کے لیے ہے اور سلام ہے اس کے ان بندوں پر جنھیں اس نے چن لیا۔“ یہودی آپ کو {”اَلسَّلاَمُ عَلَيْكُمْ“} کے بجائے {”اَلسَّامُ عَلَيْكُمْ“} (تم پر موت ہو) کہتے۔ آیت سے معلوم ہوتا ہے کہ منافقین نے بھی یہود کی دیکھا دیکھی یہ کام شروع کر دیا تھا، جیسا کہ انھوں نے یہود سے سیکھ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو متوجہ کرنے کے لیے استعمال ہونے والا لفظ {” رَاعِنَا “} گالی کے طور پر استعمال کرنا شروع کر دیا تھا، جس سے اللہ تعالیٰ نے منع فرما دیا اور اس کے بجائے {” انْظُرْنَا “} کہنے کا حکم دیا۔ (دیکھیے بقرہ: ۱۰۴) عائشہ رضی اللہ عنھا بیان کرتی ہیں کہ کچھ یہودی لوگ نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انھوں نے کہا: [ اَلسَّامُ عَلَيْكَ يَا أَبَا الْقَاسِمِ! ] ”اے ابو القاسم! تجھ پر موت ہو۔“آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ وَعَلَيْكُمْ ] ”اور وہ تمھی پر ہو۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا کہتی ہیں میں نے کہا: [ بَلْ عَلَيْكُمُ السَّامُ وَالذَّامُ ] ”بلکہ تم پر موت اور مذمت ہو۔“ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يَا عَائِشَةُ! لَا تَكُوْنِيْ فَاحِشَةً ] ”اے عائشہ! نازیبا الفاظ کہنے والی نہ بن۔“ عائشہ رضی اللہ عنھا نے کہا: ”آپ نے وہ نہیں سنا جو انھوں نے کہا ہے؟“ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ أَوَ لَيْسَ قَدْ رَدَدْتُ عَلَيْهِمُ الَّذِيْ قَالُوْا، قُلْتُ وَعَلَيْكُمْ ] ”تو کیا میں نے وہ بات انھی پر لوٹا نہیں دی جو انھوں نے کہی ہے؟ میں نے کہہ دیا {”وَعَلَيْكُمْ “} کہ ”وہ تمھی پر ہو۔“ تو اللہ عزوجل نے یہ آیت نازل فرما دی: «وَ اِذَا جَآءُوْكَ حَيَّوْكَ بِمَا لَمْ يُحَيِّكَ بِهِ اللّٰهُ» ”اور جب تیرے پاس آتے ہیں تو (ان لفظوں کے ساتھ) تجھے سلام کہتے ہیں جن کے ساتھ اللہ نے تجھے سلام نہیں کہا۔“ [ مسلم، السلام، باب النھي عن ابتداء أھل الکتاب بالسلام…: ۱۱ /۲۱۶۵۔ مسند أحمد: ۶ /۲۲۹، ۲۳۰، ح: ۲۵۹۷۸ ] ➍ {وَ يَقُوْلُوْنَ فِيْۤ اَنْفُسِهِمْ لَوْ لَا يُعَذِّبُنَا اللّٰهُ بِمَا نَقُوْلُ …:} اور وہ اپنے دل میں یا آپس کی مجلس میں اسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رسول نہ ہونے کی دلیل قرار دیتے تھے کہ اگر یہ رسول ہوتے تو یہ الفاظ کہتے ہوئے ہم پر عذاب آ جاتا۔ حالانکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سچا ہونے کے لیے یہی دلیل کافی تھی کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کو ان کی اس حرکت سے آگاہ کر دیا۔ رہا عذاب، تو اللہ تعالیٰ کا یہ طریقہ نہیں کہ وہ گناہ پر اسی وقت گرفت فرمائے، اس نے تو ان لوگوں کو بھی مہلت دے رکھی ہے جو اسے گالی دیتے ہیں، تاکہ وہ یہ نہ کہہ سکیں کہ ہمیں مہلت نہیں ملی اور اس نے ہر کام کی طرح ان کے عذاب کے لیے بھی ایک وقت مقرر کر رکھا ہے۔ چنانچہ مرنے کے بعد ان کے لیے جہنم کا عذاب تیار ہے اور وہ انھیں کافی ہے، اس کے ہوتے ہوئے کسی اور سزا کی ضرورت نہ رہے گی۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا تَنَاجَیۡتُمۡ فَلَا تَتَنَاجَوۡا بِالۡاِثۡمِ وَ الۡعُدۡوَانِ وَ مَعۡصِیَتِ الرَّسُوۡلِ وَ تَنَاجَوۡا بِالۡبِرِّ وَ التَّقۡوٰی ؕ وَ اتَّقُوا اللّٰہَ الَّذِیۡۤ اِلَیۡہِ تُحۡشَرُوۡنَ ﴿۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم آپس میں پوشیدہ بات کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی باتیں نہیں بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو اور اُس خدا سے ڈرتے رہو جس کے حضور تمہیں حشر میں پیش ہونا ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے ایمان والو! تم جب سرگوشی کرو تو یہ سرگوشیاں گناه اور ﻇلم (زیادتی) اور نافرمانیٴ پیغمبر کی نہ ہوں، بلکہ نیکی اور پرہیزگاری کی باتوں پر سرگوشی کرو اور اس اللہ سے ڈرتے رہو جس کے پاس تم سب جمع کیے جاؤ گے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو تم جب آپس میں مشورت کرو تو گناہ اور حد سے بڑھنے اور رسول کی نافرمانی کی مشورت نہ کرو اور نیکی اورپرہیزگاری کی مشورت کرو، اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف اٹھائے جاؤ گے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! تم جب کوئی سرگوشی (خفیہ بات) کرو تو گناہ، ظلم و زیادتی اور رسول(ص) کی نافرمانی کے بارے میں سرگوشی نہ کرو بلکہ نیکی کرنے اور تقویٰ اختیار کرنے کی سرگوشی کرو اور اللہ (کی نافرمانی سے) ڈرو جس کے پاس جمع کئے جاؤ گے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم آپس میں سرگوشی کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسول کی نافرمانی کی سرگوشی نہ کرو اور نیکی اور تقویٰ کی سرگوشی کرو اور اللہ سے ڈرو جس کی طرف تم اکٹھے کیے جاؤ گے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومن کی سرگوشی ٭٭

پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو ادب سکھاتا ہے کہ تم ان منافقوں اور یہودیوں کے سے کام نہ کرنا تم گناہ کے کاموں اور حد سے گزر جانے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کے مشورے نہ کرنا بلکہ تمہیں ان کے برخلاف نیکی اور اپنے بچاؤ کے مشورے کرنے چاہئیں۔ تمہیں ہر وقت اس اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیئے جس کی طرف تمہیں جمع ہونا ہے، جو اس وقت تمہیں ہر نیکی بدی کی جزا سزا دے گا اور تمام اعمال و اقوال سے متنبہ کرے گا گو تم بھول گئے لیکن اس کے پاس سب محفوظ اور موجود ہیں۔ صفوان رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ تھامے ہوا تھا کہ ایک شخص آیا اور پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مومن کی جو سرگوشی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ہو گی اس کے بارے میں کیا سنا ہے؟ آپ نے فرمایا: رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے قریب بلائے گا اور اس قدر قریب کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور لوگوں سے اسے پردے میں کر لے گا اور اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا اور پوچھے گا یاد ہے؟ فلاں گناہ تم نے کیا تھا، فلاں کیا تھا، فلاں کیا تھا، یہ اقرار کرتا جائے گا اور دل دھڑک رہا ہو گا کہ اب ہلاک ہوا، اتنے میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھ دنیا میں بھی میں نے تیری پردہ پوشی کی اور آج بھی میں نے بخشش کی، پھر اسے اس کی نیکیوں کا نامہ اعمال دیا جائے گا لیکن کافر و منافق کے بارے میں تو گواہ پکار کر کہہ دیں گے کہ یہ اللہ پر جھوٹ بولنے والے لوگ ہیں خبردار ہو جاؤ ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔ [صحیح بخاری:2441] ‏‏‏‏

پھر فرمان ہے کہ اس قسم کی سرگوشی جس سے مسلمان کو تکلیف پہنچے اور اسے بدگمانی ہو شیطان کی طرف سے ہے، شیطان ان منافقوں سے یہ کام اس لیے کراتا ہے کہ مومنوں کو غم و رنج ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی شیطان یا کوئی اور انہیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتا، جسے کوئی ایسی حرکت معلوم ہو اسے چاہیئے کہ «اعوذ» پڑھے اللہ کی پناہ لے اور اللہ پر بھروسہ رکھے، ان شاءاللہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔، ایسی کانا پھوسی جو کسی مسلمان کو ناگوار گزرے، حدیث میں بھی منع آئی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم تین آدمی ہو تو دو مل کر کان میں منہ ڈال کر باتیں کرنے نہ بیٹھ جاؤ اس سے اس تیسرے کا دل میلا ہو گا“ [صحیح بخاری:6290] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ ہاں اگر اس کی اجازت ہو تو کوئی حرج نہیں۔ [صحیح مسلم:2183] ‏‏‏‏
9۔ 1 جس طرح یہود اور منفقین کا شیوہ ہے یہ گویا اہل ایمان کو تربیت اور کردار سازی کے لیے کہا جارہا ہے کہ اگر تم اپنے دعوائے ایمان میں سچے ہو تو تمہاری سرگوشیاں یہود اور اہل نفاق کی طرح اثم وعدوان پر نہیں ہونی چاہئیں۔ 9۔ 2 یعنی جس میں خیر ہی خیر ہو اور جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت پر مبنی ہو، کیونکہ یہی نیکی اور تقویٰ ہے
(آیت 9){ يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا تَنَاجَيْتُمْ …:} جیسا کہ آیت (۷) کے فوائد میں گزرا کہ {”نَجْوٰی“} کا لفظ عموماً برے مقاصد کے لیے سرگوشیوں پر استعمال ہوتا ہے جو حرام ہیں، لیکن بعض اوقات{ ”نَجْوٰي“} (خفیہ مشورہ) اچھے مقاصد کے لیے بھی ہو سکتا ہے، اس کی اجازت ہے بلکہ اس کی ترغیب دی گئی ہے اور یہ باعث اجر ہے۔ (دیکھیے نساء: ۱۱۴) اس آیت میں ایمان کا دعویٰ کرنے والوں کو گناہ، زیادتی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نافرمانی والی سرگوشیوں اور خفیہ مجلسوں سے منع فرمایا، کیونکہ یہ ایمان کے دعویٰ کے خلاف ہے اور نیکی اور تقویٰ والی سرگوشیوں کی اجازت بلکہ نصیحت فرمائی۔ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سرگوشی کی ہر ایسی صورت سے منع فرمایا جس سے کسی مسلمان کی دل آزاری ہوتی ہو۔ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِذَا كُنْتُمْ ثَلاَثَةً فَلاَ يَتَنَاجٰی رَجُلاَنِ دُوْنَ الْآخَرِ حَتّٰی تَخْتَلِطُوْا بِالنَّاسِ، أَجْلَ أَنْ يُّحْزِنَهُ ] [بخاري، الاستئذان، باب إذا کانوا أکثر من ثلاثۃ فلا بأس بالمسارّۃ المناجاۃ: ۶۲۹۰۔ مسلم: ۲۱۸۴ ] ”جب تم تین آدمی ہو تو دو آدمی تیسرے کے بغیر آپس میں سرگوشی نہ کریں، یہاں تک کہ تم دوسرے لوگوں کے ساتھ مل جاؤ، کیونکہ یہ چیز اسے غمگین کرے گی۔“ اس حدیث سے معلوم ہوا کہ اگر تین سے زیادہ آدمی ہوں تو کوئی دو آدمی آپس میں سرگوشی کر سکتے ہیں۔ البتہ چار یا پانچ یا زیادہ آدمی ایک شخص کو اکیلے چھوڑ کر الگ سرگوشی کریں تو اس اکیلے کا غمگین اور پریشان ہونا تو لازمی بات ہے، اس لیے اس حدیث کے مطابق وہ بھی ناجائز ہے۔ تین آدمیوں میں سے دو اگر ایسی زبان میں بات شروع کر دیں جو تیسرا نہیں جانتا تو اس حدیث کے مطابق وہ بھی جائز نہیں۔ ہاں، اگر دو آدمی تیسرے سے اجازت لے کر آپس میں سرگوشی کر لیں تو یہ جائز ہے، جیسا کہ ابن عمر رضی اللہ عنھما سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِذَا كُنْتُمْ ثَلاَثَةً فَلاَ يَتَنَاجَ اثْنَانِ دُوْنَ الثَّالِثِ إِلاَّ بِإِذْنِهِ فَإِنَّ ذٰلِكَ يُحْزِنُهُ ] [مسند أحمد: 146/2، ح: ۶۳۳۸۔ مصنف عبد الرزاق، ح: ۱۹۸۰۶، وسندہ صحیح ] ”جب تم تین آدمی ہو تو دو آدمی تیسرے کے بغیر سرگوشی نہ کریں، مگر اس کی اجازت کے ساتھ، کیونکہ یہ چیز اسے غمگین کرے گی۔“
اِنَّمَا النَّجۡوٰی مِنَ الشَّیۡطٰنِ لِیَحۡزُنَ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ لَیۡسَ بِضَآرِّہِمۡ شَیۡئًا اِلَّا بِاِذۡنِ اللّٰہِ ؕ وَ عَلَی اللّٰہِ فَلۡیَتَوَکَّلِ الۡمُؤۡمِنُوۡنَ ﴿۱۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کانا پھوسی تو ایک شیطانی کام ہے، اور وہ اس لیے کی جاتی ہے کہ ایمان لانے والے لوگ اُس سے رنجیدہ ہوں، حالانکہ بے اذن خدا وہ انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے
مولانا محمد جوناگڑھی
(بری) سرگوشیاں، پس شیطانی کام ہے جس سے ایمان داروں کو رنج پہنچے۔ گو اللہ تعالیٰ کی اجازت کے بغیر وه انہیں کوئی نقصان نہیں پہنچا سکتا۔ اور ایمان والوں کو چاہئے کہ اللہ ہی پر بھروسہ رکھیں
احمد رضا خان بریلوی
وہ مشورت تو شیطان ہی کی طرف سے ہے اس لیے کہ ایمان والوں کو رنج دے اور وہ اس کا کچھ نہیں بگاڑ سکتا بے حکم خدا کے، اور مسلمانوں کو اللہ ہی پر بھروسہ چاہیے
علامہ محمد حسین نجفی
(کافروں کی یہ) سرگوشی شیطان کی طرف سے ہے تاکہ وہ اہلِ ایمان کو رنج و غم پہنچائے حالانکہ وہ اللہ کے اذن کے بغیر انہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتا اور ایمان والوں کو اللہ پر ہی بھروسہ کرنا چاہیے۔
عبدالسلام بن محمد
یہ سرگوشی تو شیطان ہی کی طرف سے ہے، تاکہ وہ ان لوگوں کو غم میں مبتلا کر ے جو ایمان لائے، حالانکہ وہ اللہ کے حکم کے بغیر انھیں ہرگز کوئی نقصان پہنچانے والا نہیں اور اللہ ہی پر پس لازم ہے کہ مومن بھروسا کریں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
مومن کی سرگوشی ٭٭

پھر اللہ تعالیٰ مومنوں کو ادب سکھاتا ہے کہ تم ان منافقوں اور یہودیوں کے سے کام نہ کرنا تم گناہ کے کاموں اور حد سے گزر جانے اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے نہ ماننے کے مشورے نہ کرنا بلکہ تمہیں ان کے برخلاف نیکی اور اپنے بچاؤ کے مشورے کرنے چاہئیں۔ تمہیں ہر وقت اس اللہ سے ڈرتے رہنا چاہیئے جس کی طرف تمہیں جمع ہونا ہے، جو اس وقت تمہیں ہر نیکی بدی کی جزا سزا دے گا اور تمام اعمال و اقوال سے متنبہ کرے گا گو تم بھول گئے لیکن اس کے پاس سب محفوظ اور موجود ہیں۔ صفوان رحمہ اللہ فرماتے ہیں میں سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کا ہاتھ تھامے ہوا تھا کہ ایک شخص آیا اور پوچھا: آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مومن کی جو سرگوشی قیامت کے دن اللہ تعالیٰ سے ہو گی اس کے بارے میں کیا سنا ہے؟ آپ نے فرمایا: رسالت مآب صلی اللہ علیہ وسلم سے میں نے سنا ہے کہ اللہ تعالیٰ مومن کو اپنے قریب بلائے گا اور اس قدر قریب کہ اپنا بازو اس پر رکھ دے گا اور لوگوں سے اسے پردے میں کر لے گا اور اس سے اس کے گناہوں کا اقرار کرائے گا اور پوچھے گا یاد ہے؟ فلاں گناہ تم نے کیا تھا، فلاں کیا تھا، فلاں کیا تھا، یہ اقرار کرتا جائے گا اور دل دھڑک رہا ہو گا کہ اب ہلاک ہوا، اتنے میں اللہ تعالیٰ فرمائے گا دیکھ دنیا میں بھی میں نے تیری پردہ پوشی کی اور آج بھی میں نے بخشش کی، پھر اسے اس کی نیکیوں کا نامہ اعمال دیا جائے گا لیکن کافر و منافق کے بارے میں تو گواہ پکار کر کہہ دیں گے کہ یہ اللہ پر جھوٹ بولنے والے لوگ ہیں خبردار ہو جاؤ ان ظالموں پر اللہ کی لعنت ہے۔ [صحیح بخاری:2441] ‏‏‏‏

پھر فرمان ہے کہ اس قسم کی سرگوشی جس سے مسلمان کو تکلیف پہنچے اور اسے بدگمانی ہو شیطان کی طرف سے ہے، شیطان ان منافقوں سے یہ کام اس لیے کراتا ہے کہ مومنوں کو غم و رنج ہو لیکن حقیقت یہ ہے کہ اللہ کی اجازت کے بغیر کوئی شیطان یا کوئی اور انہیں کوئی ضرر نہیں پہنچا سکتا، جسے کوئی ایسی حرکت معلوم ہو اسے چاہیئے کہ «اعوذ» پڑھے اللہ کی پناہ لے اور اللہ پر بھروسہ رکھے، ان شاءاللہ اسے کوئی نقصان نہ پہنچے گا۔، ایسی کانا پھوسی جو کسی مسلمان کو ناگوار گزرے، حدیث میں بھی منع آئی ہے۔ مسند احمد میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”جب تم تین آدمی ہو تو دو مل کر کان میں منہ ڈال کر باتیں کرنے نہ بیٹھ جاؤ اس سے اس تیسرے کا دل میلا ہو گا“ [صحیح بخاری:6290] ‏‏‏‏ اور روایت میں ہے کہ ہاں اگر اس کی اجازت ہو تو کوئی حرج نہیں۔ [صحیح مسلم:2183] ‏‏‏‏
10۔ 1 یعنی اثم وعدوان اور معصیت رسول پر مبنی سرگوشیاں یہ شیطانی کام ہیں، کیونکہ شیطان ہی ان پر آمادہ کرتا ہے، تاکہ وہ اس کے ذریعے سے مومنوں کو غم میں مبتلا کرے۔ 10۔ 2 لیکن یہ سرگوشیاں اور شیطانی حرکتیں مومنوں کو کچھ نقصان نہیں پہنچا سکتیں الا یہ کہ اللہ کی مشیت ہو اس لیے تم اپنے دشمنوں کی ان اوچھی حرکتوں سے پریشان نہ ہوا کرو بلکہ اللہ پر بھروسہ رکھو اس لیے کہ تمام معاملات کا اختیار اسی کے ہاتھ میں ہے اور وہی ہر چیز پر قادر ہے نہ کہ یہود اور منافقین جو تمہیں تباہ و برباد کرنا چاہتے ہیں سرگوشی کے سلسلے میں ہی مسلمانوں کو ایک اخلاقی ہدایت یہ دی گئی ہے کہ جب تم تین آدمی اکٹھے ہو تو اپنے میں سے ایک کو چھوڑ کردو آدمی آپس میں سرگوشی نہ کریں کیونکہ یہ طریقہ اس ایک آدمی کو غم ڈال دے گا۔ صحیح بخاری۔ البتہ اس کی رضامندی اور اجازت سے ایسا کرنا جا‏ئز ہے کیونکہ اس صورت میں دو آدمیوں کا سرگوشی کرنا کسی کے لیے تشویش کا باعث نہیں ہوگا۔
(آیت 10){ اِنَّمَا النَّجْوٰى مِنَ الشَّيْطٰنِ لِيَحْزُنَ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …: ”حَزِنَ يَحْزَنُ“} (س) غمگین ہونا اور {”حَزَنَ يَحْزُنُ “} (ن) غمگین کرنا۔ اس میں مسلمانوں کو تسلی دلائی ہے کہ یہود و منافقین کی یہ سرگوشیاں دراصل شیطان کی کار ستانی ہے، جس سے وہ ایمان والوں کو غمگین کرنا چاہتا ہے۔ اگر تم ایسی کوئی بات دیکھو تو زیادہ پریشان ہونے کی ضرورت نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا حکم نہ ہو تو شیطان تمھارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا اور نہ ان سرگوشیوں سے تمھارا کچھ نقصان ہو سکتا ہے، اس لیے اللہ ہی پر توکل رکھو اور غمگین ہو کر شیطان کو خوش ہونے کا موقع نہ دو۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا قِیۡلَ لَکُمۡ تَفَسَّحُوۡا فِی الۡمَجٰلِسِ فَافۡسَحُوۡا یَفۡسَحِ اللّٰہُ لَکُمۡ ۚ وَ اِذَا قِیۡلَ انۡشُزُوۡا فَانۡشُزُوۡا یَرۡفَعِ اللّٰہُ الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا مِنۡکُمۡ ۙ وَ الَّذِیۡنَ اُوۡتُوا الۡعِلۡمَ دَرَجٰتٍ ؕ وَ اللّٰہُ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ خَبِیۡرٌ ﴿۱۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم سے کہا جائے کہ اپنی مجلسوں میں کشادگی پیدا کرو تو جگہ کشادہ کر دیا کرو، اللہ تمہیں کشادگی بخشے گا اور جب تم سے کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تو اٹھ جایا کرو تم میں سے جو لوگ ایمان رکھنے والے ہیں اور جن کو علم بخشا گیا ہے، اللہ ان کو بلند درجے عطا فرمائے گا، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے مسلمانو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں ذرا کشادگی پیدا کرو تو تم جگہ کشاده کر دو اللہ تمہیں کشادگی دے گا، اور جب کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہو جاؤ تو تم اٹھ کھڑے ہو جاؤ اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کے جو ایمان ﻻئے ہیں اور جو علم دیئے گئے ہیں درجے بلند کر دے گا، اور اللہ تعالیٰ (ہر اس کام سے) جو تم کر رہے ہو (خوب) خبردار ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو جب تم سے کہا جائے مجلسوں میں جگہ دو تو جگہ دو اللہ تمہیں جگہ دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہو اللہ تمہارے ایمان والوں کے اور ان کے جن کو علم دیا گیا درجے بلند فرمائے گا، اور اللہ کو تمہارے کاموں کی خبر ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! جب تم سے کہا جائے کہ (آنے والوں کیلئے) مجلسوں میں جگہ کشادہ کرو تو کشادہ کر دیا کرو اللہ تمہیں کشادگی دے گااور جب کہا جائے کہ اٹھ جاؤ تو اٹھ جایا کرو اللہ ان لوگوں کے جو تم میں سے ایمان لائے ہیں اور جن کو علم دیا گیا ہے ان کے در جے بلند کرتا ہے اور تم جو کچھ کرتے ہواللہ اس سے بڑا باخبر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگوجو ایمان لائے ہو! جب تم سے کہا جائے کہ مجلسوں میں کھل جاؤ تو کھل جاؤ، اللہ تمھارے لیے فراخی کر دے گا اور جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو تو اٹھ کھڑے ہو جاؤ، اللہ ان لوگوں کو درجوں میں بلند کرے گاجو تم میں سے ایمان لائے اور جنھیں علم دیا گیا اور اللہ اس سے جو تم کرتے ہو، پوری طرح باخبر ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
آداب مجلس باہم معاملات اور علمائے حق و باعمل کی توقیر ٭٭

یہاں ایمان والوں کو اللہ تعالیٰ مجلسی آداب سکھاتا ہے۔ انہیں حکم دیتا ہے کہ نشست و برخاست میں بھی ایک دوسرے کا خیال و لحاظ رکھو۔ تو فرماتا ہے کہ جب مجلس جمع ہو اور کوئی آئے تو ذرا ادھر ادھر ہٹ ہٹا کر اسے بھی جگہ دو۔ مجلس میں کشادگی کرو۔ اس کے بدلے اللہ تعالیٰ تمہیں کشادگی دے گا۔ اس لیے کہ ہر عمل کا بدلہ اسی جیسا ہوتا ہے۔ چنانچہ ایک حدیث میں ہے { جو شخص اللہ تعالیٰ کیلئے مسجد بنا دے اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں گھر بنا دے گا۔ } [صحیح بخاری:450] ‏‏‏‏ ایک اور حدیث میں ہے کہ { جو کسی سختی والے پر آسانی کرے اللہ تعالیٰ اس پر دنیا اور آخرت میں آسانی کرے گا، جو شخص اپنے کسی مسلمان بھائی کی مدد میں لگا رہے اللہ تعالیٰ خود اپنے اس بندے کی مدد پر رہتا ہے۔ } [صحیح مسلم:2699] ‏‏‏‏ اور بھی اسی طرح کی بہت سی حدیثیں ہیں۔ قتادہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں یہ آیت مجلس ذکر کے بارے میں اتری ہے مثلاً وعظ ہو رہا ہے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کچھ نصیحت کی باتیں بیان فرما رہے ہیں لوگ بیٹھے سن رہے ہیں، اب جو دوسرا کوئی آیا تو کوئی اپنی جگہ سے نہیں سرکتا تاکہ اسے بھی جگہ مل جائے، قرآن کریم نے حکم دیا کہ ایسا نہ کرو ادھر ادھر کھل جایا کرو تاکہ آنے والے کی جگہ ہو جائے۔

مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں جمعہ کے دن یہ آیت اتری، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اس دن صفہ میں تھے یعنی مسجد کے ایک چھپر تلے جگہ تنگ تھی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی عادت مبارک تھی کہ جو مہاجر اور انصاری بدر کی لڑائی میں آپ کے ساتھ تھے آپ ان کی بڑی عزت اور تکریم کیا کرتے تھے، اس دن اتفاق سے چند بدری صحابہ رضی اللہ عنہم دیر سے آئے، تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے آس پاس کھڑے ہو گئے، آپ سے سلام علیک ہوئی، آپ نے جواب دیا پھر اور اہل مجلس کو سلام کیا، انہوں نے بھی جواب دیا، اب یہ اسی امید پر کھڑے رہے کہ مجلس میں ذرا کشادگی دیکھیں تو بیٹھ جائیں لیکن کوئی شخص اپنی جگہ سے نہ ہلا جو ان کیلئے جگہ ہوتی۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب یہ دیکھا تو نہ رہا گیا، نام لے لے کر بعض لوگوں کو ان کی جگہ سے کھڑا کیا اور ان بدری صحابیوں کو بیٹھنے کو فرمایا، جو لوگ کھڑے کرائے گئے تھے انہیں ذرا بھاری پڑا ادھر منافقین کے ہاتھ میں ایک مشغلہ لگ گیا، کہنے لگے، لیجئے یہ عدل کرنے کے مدعی نبی ہیں کہ جو لوگ شوق سے آئے، پہلے آئے، اپنے نبی کے قریب جگہ لی، اطمینان سے اپنی اپنی جگہ بیٹھ گئے، انہیں تو ان کی جگہ سے کھڑا کر دیا اور دیر سے آنے والوں کو ان کی جگہ دلوا دی کس قدر ناانصافی ہے، ادھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس لیے ان کے دل میلے نہ ہوں دعا کی کہ اللہ اس پر رحم کرے جو اپنے مسلمان بھائی کیلئے مجلس میں جگہ کر دے۔ اس حدیث کو سنتے ہی صحابہ رضی اللہ عنہم نے فوراً خود بخود اپنی جگہ سے ہٹنا اور آنے والوں کو جگہ دینا شروع کر دیا اور جمعہ ہی کے دن یہ آیت اتری۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:244/23:مرسل] ‏‏‏‏

بخاری، مسلم، مسند وغیرہ میں حدیث ہے کہ { کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کی جگہ سے ہٹا کر وہاں نہ بیٹھے بلکہ تمہیں چاہیئے کہ ادھر ادھر سرک کر اس کیلئے جگہ بنا دو۔ } [صحیح بخاری:911] ‏‏‏‏ مسند شافعی میں ہے، تم میں سے کوئی شخص اپنے بھائی کو جمعہ کے دن اس کی جگہ سے ہرگز نہ اٹھائے بلکہ کہہ دے کہ گنجائش کرو۔ [مسند شافعی:159/1ضعیف] ‏‏‏‏ اس مسئلہ میں علماء کا اختلاف ہے کہ کسی آنے والے کیلئے کھڑے ہو جانا جائز ہے یا نہیں؟ بعض لوگ تو اجازت دیتے ہیں اور یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”اپنے سردار کیلئے کھڑے ہو جاؤ۔ ”} [صحیح بخاری:2550] ‏‏‏‏ بعض علماء منع کرتے ہیں اور یہ حدیث پیش کرتے ہیں کہ { جو شخص یہ چاہے کہ لوگ اس کیلئے سیدھے کھڑے ہوں وہ جہنم میں اپنی جگہ بنا لے۔ } [سنن ترمذي:2755،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏

بعض بزرگ تفصیل بیان کرتے ہیں اور فرماتے ہیں کہ سفر سے اگر کوئی آیا ہو تو حاکم کیلئے عہدہ حکمرانی کے سبب لوگوں کا کھڑے ہو جانا درست ہے کیونکہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جن کیلئے کھڑا ہونے کو فرمایا تھا یہ سیدنا سعد بن معاذ رضی اللہ عنہ تھے۔ بنو قریظہ کے آپ حاکم بنائے گئے تھے جب انہیں آتا ہوا دیکھا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تھا کہ اپنے سردار کیلئے کھڑے ہو جاؤ اور یہ (‏‏‏‏بطور تعظیم کے نہ تھا بلکہ) صرف اس لیے تھا کہ ان کے احکام کو بخوبی جاری کرائے۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ» ہاں اسے عادت بنا لینا کہ مجلس میں جہاں کوئی بڑا آدمی آیا اور لوگ کھڑے ہو گئے یہ عجمیوں کا طریقہ ہے، سنن کی حدیث میں ہے کہ { صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے نزدیک رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے زیادہ محبوب اور باعزت کوئی نہ تھا لیکن تاہم آپ کو دیکھ کر وہ کھڑے نہیں ہوا کرتے تھے، جانتے تھے کہ آپ اسے مکروہ سمجھتے ہیں۔ } [سنن ترمذي:2754،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ سنن کی اور حدیث میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم آتے ہی مجلس کے خاتمہ پر بیٹھ جایا کرتے تھے اور جہاں آپ تشریف فرما ہو جاتے وہی جگہ صدارت کی جگہ ہو جاتی اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اپنے اپنے مراتب کے مطابق مجلس میں بیٹھ جاتے۔ سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ کے آپ دائیں جانب، سیدنا فاروق رضی اللہ عنہ آپ کے بائیں اور عموماً سیدنا عثمان و سیدنا علی رضی اللہ عنہما آپ کے سامنے بیٹھتے تھے کیونکہ یہ دونوں بزرگ کاتب وحی تھے آپ صلی اللہ علیہ وسلم ان سے فرماتے اور یہ وحی کو لکھ لیا کرتے تھے۔ }

صحیح مسلم میں ہے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا فرمان تھا کہ مجھ سے قریب ہو کر عقلمند، صاحب فراست لوگ بیٹھیں پھر درجہ بدرجہ۔ } [صحیح مسلم:432] ‏‏‏‏ اور یہ انتظام اس لیے تھا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مبارک ارشادات یہ حضرات سنیں اور بخوبی سمجھیں، یہی وجہ تھی کہ صفہ والی مجلس میں جس کا ذکر ابھی ابھی گزرا ہے آپ نے اور لوگوں کو ان کی جگہ سے ہٹا کر وہ جگہ بدری صحابہ رضی اللہ عنہم کو دلوائی، گو اس کے ساتھ اور وجوہات بھی تھیں مثلاً ان لوگوں کو خود چاہیئے تھا کہ ان بزرگ صحابہ رضی اللہ عنہم کا خیال کرتے اور لحاظ و مروت برت کر خود ہٹ کر انہیں جگہ دیتے، جب انہوں نے از خود ایسا نہیں کیا تو پھر حکماً ان سے ایسا کرایا گیا، اسی طرح پہلے کے لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بہت سے کلمات پوری طرح سن چکے تھے اب یہ حضرات آئے تھے تو آپ نے چاہا کہ یہ بھی باآرام بیٹھ کر میری حدیثیں سن لیں اور دینی تعلیم حاصل کر لیں، اسی طرح امت کو اس بات کی تعلیم بھی دینی تھی کہ وہ اپنے بڑوں اور بزرگوں کو امام کے پاس بیٹھنے دیں اور انہیں اپنے سے مقدم رکھیں۔ مسند احمد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نماز کی صفوں کی درستی کے وقت ہمارے مونڈھے خود پکڑ پکڑ کر ٹھیک ٹھاک کرتے اور زبانی بھی فرماتے جاتے سیدھے رہو، ٹیڑھے ترچھے نہ کھڑے ہوا کرو، دانائی اور عقلمندی والے مجھ سے بالکل قریب رہیں پھر درجہ بہ درجہ دوسرے لوگ۔ سیدنا ابومسعود رضی اللہ عنہ اس حدیث کو بیان فرما کر فرماتے اس حکم کے باوجود افسوس کہ اب تم بڑی ٹیڑھی صفیں کرتے ہو۔ } [صحیح مسلم:432] ‏‏‏‏ مسلم، ابوداؤد، نسائی اور ابن ماجہ میں بھی یہ حدیث ہے ظاہر ہے کہ جب آپ کا یہ حکم نماز کیلئے تھا تو نماز کے سوا کسی اور وقتوں میں تو بطور اولیٰ یہی حکم رہے گا، ابوداؤد میں ہے کہ { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”صفوں کو درست کرو، مونڈھے ملائے رکھو، صفوں کے درمیان خالی جگہ نہ چھوڑو، اپنے بھائیوں کے پاس صف میں نرم بن جایا کرو، صف میں شیطان کیلئے سوراخ نہ چھوڑو صف ملانے والے کو اللہ تعالیٰ ملاتا ہے اور صف توڑنے والے کو اللہ تعالیٰ کاٹ دیتا ہے۔ } [سنن ابوداود:666،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ اسی لیے سید القراء سیدنا ابی بن کعب رضی اللہ عنہ جب پہنچتے تو صف اول میں سے کسی ضعیف العقل شخص کو پیچھے ہٹا دیتے اور خود پہلی صف میں کھڑے ہو جاتے اور اسی حدیث کو دلیل میں لاتے کہ { نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے: ”مجھ سے قریب ذی رائے اور اعلیٰ عقلمند کھڑے ہوں پھر درجہ بہ درجہ دوسرے لوگ۔“ } [مسند احمد:140/5:صحیح] ‏‏‏‏

سیدنا عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما کو دیکھ کر اگر کوئی شخص کھڑا ہو جاتا تو آپ اس کی جگہ پر نہ بیٹھتے۔ [صحیح بخاری:6280] ‏‏‏‏ اور اس حدیث کو پیش کرتے جو اوپر گزری کہ کسی کو اٹھا کر اس کی جگہ میں کوئی اور نہ بیٹھے، یہاں بطور نمونے کے یہ چند مسائل اور تھوڑی حدیثیں لکھ کر ہم آگے چلتے ہیں بسط و تفصیل کی یہاں گنجائش نہیں، نہ یہ موقع ہے۔ ایک صحیح حدیث میں ہے کہ { ایک مرتبہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیٹھے ہوئے تھے کہ تین شخص آئے ایک تو مجلس کے درمیان جگہ خالی دیکھ کر وہاں آ کر بیٹھ گئے دوسرے نے مجلس کے آخر میں جگہ بنا لی تیسرے واپس چلے گئے، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”لوگوں میں تمہیں تین شخصوں کی بابت خبر دوں، ایک نے تو اللہ کی طرف جگہ لی اور اللہ تعالیٰ نے اسے جگہ دی، دوسرے نے شرم کی۔ اللہ نے بھی اس سے حیاء کی، تیسرے نے منہ پھیر لیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی اس سے منہ پھیر لیا۔“ } [صحیح بخاری:66] ‏‏‏‏ مسند احمد میں ہے کہ { کسی کو حلال نہیں کہ دو شخصوں کے درمیان تفریق کرے، ہاں ان کی خوشنودی سے ہو تو اور بات ہے۔ } [سنن ابوداود:4845،قال الشيخ الألباني:صحیح] ‏‏‏‏ امام ترمذی رحمہ اللہ نے اسے حسن کہا ہے۔ سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما، حسن بصری وغیرہ فرماتے ہیں مجلسوں کی کشادگی کا حکم جہاد کے بارے میں ہے، اسی طرح اٹھ کھڑے ہونے کا حکم بھی جہاد کے بارے میں ہے۔

قتادہ رحمہ اللہ فرماتے ہیں یعنی جب تمہیں بھلائی اور کارخیر کی طرف بلایا جائے تو تم فوراً آ جاؤ، مقاتل رحمہ اللہ فرماتے ہیں، مطلب یہ ہے کہ جب تمہیں نماز کیلئے بلایا جائے تو اٹھ کھڑے ہو جایا کرو، عبدالرحمٰن بن زید رحمہ اللہ فرماتے ہیں کہ صحابہ رضی اللہ عنہم جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاں آتے تو جاتے وقت ہر ایک کی چاہت یہ ہوتی کہ سب سے آخر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے جدا میں ہوں، بسا اوقات آپ کو کوئی کام کاج ہوتا تو بڑا حرج ہوتا لیکن آپ صلی اللہ علیہ وسلم مروت سے کچھ نہ فرماتے اس پر یہ حکم ہوا کہ جب تم سے کھڑے ہونے کو کہا جائے تو کھڑے ہو جایا کرو، جیسے اور جگہ ہے «وَإِن قيلَ لَكُمُ ارجِعوا فَارجِعوا هُوَ أَزكىٰ لَكُم وَاللَّهُ بِما تَعمَلونَ عَليمٌ» [24-النور:28] ‏‏‏‏ ’ اگر تم سے لوٹ جانے کو کہا جائے تو لوٹ جاؤ ‘۔ پھر فرماتا ہے کہ مجلسوں میں جگہ دینے کو جب کہا جائے تو جگہ دینے میں اور جب چلے جانے کو کہا جائے تو چلے جانے میں اپنی ہتک نہ سمجھو بلکہ یہ اللہ تعالیٰ کے نزدیک مرتبہ بلند کرنا اور اپنی توقیر کرانا ہے، اسے اللہ ضائع نہ کرے گا بلکہ اس پر دنیا اور آخرت میں نیک بدلہ دے گا، جو شخص احکام الٰہیہ پر تواضع سے گردن جھکا دے اللہ تعالیٰ اس کی عزت بڑھاتا ہے اور اس کی شہرت نیکی کے ساتھ کرتا ہے۔ ایمان والوں اور صحیح علم والوں کا یہی کام ہوتا ہے کہ اللہ کے احکام کے سامنے گردن جھکا دیا کریں اور اس سے وہ بلند درجوں کے مستحق ہو جاتے ہیں۔ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ بلند مرتبوں کا مستحق کون ہے اور کون نہیں؟

نافع بن عبدالحارث رحمہ اللہ سے امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی ملاقات عسفان میں ہوئی ہے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے انہیں مکہ کا عامل بنایا تھا تو ان سے پوچھا کہ تم مکہ میں اپنی جگہ کسے چھوڑ آئے ہو؟ جواب دیا کہ ابن ابزیٰ کو، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے فرمایا: وہ تو ہمارے مولیٰ ہیں یعنی آزاد کردہ غلام، انہیں تم اہل مکہ کا امیر بنا کر چلے آئے ہو؟ کہا: ہاں، اس لیے کہ وہ اللہ کی کتاب کا ماہر اور فرائض کا جاننے والا اور اچھا وعظ کہنے والا ہے، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اس وقت فرمایا: سچ فرمایا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہ { اللہ تعالیٰ اس کتاب کی وجہ سے ایک قوم کو عزت پر پہنچا کر بلند مرتبہ کرے گا اور بعض کو پست و کم مرتبہ بنا دے گا }۔ [صحیح مسلم:817] ‏‏‏‏ علم اور علماء کی فضیلت، جو اس آیت اور دیگر آیات و احادیث سے ظاہر ہے میں نے ان سب کو بخاری شریف کی کتاب العلم کی شرح میں جمع کر دیا ہے۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
11۔ 1 اس میں مسلمانوں کو مجلس کے آداب بتلائے جا رہے ہیں مجلس کا لفظ عام ہے جو ہر اس مجلس کو شامل ہے جس میں مسلمان خیر اور اجر کے حصول کے لیے جمع ہوں وعظ و نصیحت کی مجلس ہو یا جمعہ کی مجلس ہو تفسیر القرطبی کھل کر بیٹھو کا مطلب ہے کہ مجلس کا دائرہ وسیع رکھو تاکہ بعد میں آنے والوں کے لے بیٹھنے کی جگہ رہے دائرہ تنگ مت رکھو کہ بعد میں آنے والے کو کھڑا رہنا پڑھے یا کسی بیٹھے ہو‏ئے کو اٹھا کر اس کی جگہ وہ بیٹھے کہ یہ دونوں باتیں ناشائستہ ہیں چناچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا کوئی شخص کسی دوسرے شخص کو اس کی جگہ سے اٹھا کر خود نہ بیٹھے اس لیے مجلس کے دائرے کو فراخ اور وسیع کرلو۔ صحیح بخاری۔ 11۔ 2 یعنی اس کے صلے میں اللہ تعالیٰ تمہیں جنت میں وسعت عطا فرمائے گا یا جہاں بھی تم وسعت و فراخی کے طالب ہوگے، مثلاً مکان میں، رزق میں، قبر میں، ہر جگہ تمہیں فراخی عطا فرمائے گا۔ 11۔ 3 یعنی جہاد کے لئے، نماز کے لئے یا کسی بھی عمل خیر کے لئے۔ یا مطلب ہے کہ جب مجلس سے اٹھ کر جانے کو کہا جائے تو فوراً چلے جاؤ۔ مسلمانوں کو یہ حکم اس لئے دیا گیا کہ صحابہ کرام نبی کی مجلس سے اٹھ کر جانا پسند نہیں کرتے تھے لیکن اس طرح بعض دفعہ ان لوگوں کو تکلیف ہوتی تھی جو نبی سے خلوت میں کوئی گفتگو کرنا چاہتے تھے۔ 11۔ 4 یعنی اہل ایمان کے درجے غیر اہل ایمان پر اور اہل علم کے درجے اہل ایمان پر بلند فرمائے گا جس کا مطلب یہ ہوا کہ ایمان کے ساتھ علوم دین سے واقفیت مزید رفع درجات کا باعث ہے۔
(آیت 11) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا قِيْلَ لَكُمْ تَفَسَّحُوْا …:} پچھلی آیات میں مجلس کے آداب میں سے سرگوشی سے ممانعت کا ادب بیان ہوا، اس آیت میں اس کے مزید کچھ آداب بیان ہوئے ہیں۔ ان آداب کی ضرورت اس لیے پڑی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں ہر شخص آپ کے زیادہ سے زیادہ قریب رہنے کی خواہش رکھتا تھا، جس سے مجلس میں تنگی پیش آتی تھی۔ اللہ تعالیٰ نے یہ ادب سکھایا کہ جب حاضرینِ مجلس کی سہولت کے لیے کہا جائے کہ کھل جاؤ، تاکہ سب لوگ آسانی سے کھلے ہو کر بیٹھ سکیں تو کھل جاؤ، صرف میر مجلس کے قرب کے پیش نظر ایک دوسرے کے اوپر چڑھ کر بیٹھے رہنے پر اصرار نہ کرو۔ اسی طرح اگر مجلس میں کچھ اور لوگ آجائیں اور ان کی جگہ بنانے کے لیے کھل جانے کے لیے کہا جائے تو کھل جاؤ اور دل میں تنگی محسوس نہ کرو۔ ➋ { يَفْسَحِ اللّٰهُ لَكُمْ:يَفْسَحِ “} فعل مضارع معلوم ہے جو {” تَفَسَّحُوْا “} امر کا جواب ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے، آگے ملانے کے لیے اسے کسرہ دیا گیا ہے، یعنی تم مجلس میں کشادگی کرو گے تو اللہ تعالیٰ تمھارے لیے فراخی کر دے گا، اس فراخی میں سب سے پہلی فراخی تودل کی فراخی ہے کہ خوش دلی سے کھل جاؤ گے تو دلوں کی تنگی دور ہوگی اور ان میں بھائیوں کے لیے وسعت پیدا ہوگی۔ اس کے علاوہ بھی اللہ تعالیٰ دنیا و آخرت کے ہر معاملے میں تمھیں فراخی عطا فرمائے گا، کیونکہ ہر عمل کا بدلا اسی جیسا ہوتا ہے، جیسا کہ عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ بَنٰی مَسْجِدًا لِلّٰهِ بَنَی اللّٰهُ لَهُ فِي الْجَنَّةِ مِثْلَهُ ] [مسلم، المساجد، باب فضل بناء المساجد والحث علیھا: ۲۵ /۵۳۳۔ بخاري: ۴۵۰ ] ”جو شخص اللہ کے لیے مسجد بنائے اللہ اس کے لیے اس کی مثل جنت میں (گھر) بنائے گا۔“ اور ابو ہریرہ رضی اللہ عنہ نے بیان کیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَنْ نَفَّسَ عَنْ مُّؤْمِنٍ كُرْبَةً مِّنْ كُرَبِ الدُّنْيَا نَفَّسَ اللّٰهُ عَنْهُ كُرْبَةً مِّنْ كُرَبِ يَوْمِ الْقِيَامَةِ وَمَنْ يَسَّرَ عَلٰی مُعْسِرٍ يَسَّرَ اللّٰهُ عَلَيْهِ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَمَنْ سَتَرَ مُسْلِمًا سَتَرَهُ اللّٰهُ فِي الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ وَاللّٰهُ فِيْ عَوْنِ الْعَبْدِ مَا كَانَ الْعَبْدُ فِيْ عَوْنِ أَخِيْهِ ] [مسلم، الذکر، باب فضل الاجتماع علی تلاوۃ القرآن وعلی الذکر: ۲۶۹۹ ] ”جو شخص کسی مومن سے دنیا کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور کرے اللہ تعالیٰ اس سے قیامت کے دن کی مصیبتوں میں سے کوئی مصیبت دور فرمائے گا۔ اور جو کسی تنگی والے پر آسانی کرے اللہ تعالیٰ اس پر دنیا اور آخرت میں آسانی کرے گا اور جو شخص کسی مسلم (کے عیبوں) پر پردہ ڈالے اللہ تعالیٰ دنیا اور آخرت میں اس (کے عیبوں) پر پردہ ڈالے گا اور اللہ تعالیٰ بندے کی مدد میں ہوتا ہے جب تک بندہ اپنے بھائی کی مدد میں ہوتا ہے۔“ ➌ {وَ اِذَا قِيْلَ انْشُزُوْا فَانْشُزُوْا:نَشَزَ يَنْشِزُ نَشْزًا“ (ض،ن) ”اَلرَّجُلُ عَنْ مَّكَانِهٖ“} آدمی کا اپنی جگہ سے اٹھ کھڑے ہونا۔ جب کہا جائے اٹھ کھڑے ہو جاؤ تو اٹھ کھڑے ہو جاؤ، یعنی جب مجلس کا امیر یا مجلس کے منتظمین حاضرین میں سے کسی کے علم و فضل اور شرف و مرتبہ کے پیش نظر اسے امیر کے قریب لانے کے لیے کسی کو اس کی جگہ سے اٹھ جانے کے لیے کہیں تو اسے چاہیے کہ اٹھ جائے اور اپنے دل میں کوئی تنگی یا ملال نہ لائے، کیونکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لِيَلِنِيْ مِنْكُمْ أُوْلُو الْأَحْلَامِ وَالنُّهٰی ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ثُمَّ الَّذِيْنَ يَلُوْنَهُمْ ] [مسلم، الصلاۃ، باب تسویۃ الصفوف و إقامتہا …: ۴۳۲ ] ”تم میں سے میرے قریب وہ لوگ ہوں جو سمجھ اور عقل والے ہوں، پھر جو ان سے (سمجھ اور عقل میں) قریب ہوں۔“ اسی طرح اگر امیر کسی شخص سے یا کچھ لوگوں سے مشورہ کرنے کے لیے یا ان کی بات سننے کے لیے کسی کو اس کی جگہ سے اٹھ جانے کے لیے کہے تو اسے کسی ملال کے بغیر اٹھ جانا چاہیے۔ یہ ادب اس لیے مقرر فرمایا کہ بعض اوقات عام سمجھ والے مسلمان رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت کی وجہ سے یا منافقین اپنے خبثِ باطن کی وجہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریب ساری جگہ گھیر لیتے، پھر کوئی بزرگ صحابی مثلاً ابوبکر و عمر رضی اللہ عنھما وغیرہ آتے تو ان کے لیے جگہ نہ چھوڑتے اور اگر اٹھنے کے لیے کہا جاتا تو برا مناتے۔ ظاہر ہے اگر اس ادب کا خیال نہ رکھا جائے تو کسی امیر کی کوئی مجلس صحیح طریقے سے چل ہی نہیں سکتی۔ اسی طرح اگر امیر مجلس کو برخاست کر دے اور سب کو اٹھ جانے کے لیے کہے تو انھیں اٹھ جانا چاہیے اور اس میں اپنی توہین محسوس نہیں کرنی چاہیے۔ ➍ {يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا …: ” يَرْفَعِ “} فعل مضارع ہے جو {” فَانْشُزُوْا “} امر کا جواب ہونے کی وجہ سے مجزوم ہے، کسرہ اسے آگے ملانے کے لیے دیا گیا ہے۔ یعنی جب تم سے کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہو جاؤ تو اٹھ کھڑے ہو جاؤ۔ جب تم اللہ کا حکم سمجھ کر تواضع اختیار کرو گے اور اٹھنے میں کسی طرح کی توہین یا کسرِ شان کا خیال دل میں نہیں لاؤ گے تو اللہ تعالیٰ تم میں سے ان لوگوں کو درجوں میں بلند کر دے گا جو ایمان لائے، کیونکہ ایمان کا تقاضا تواضع ہے اور ایمان اور کبر کبھی جمع نہیں ہو سکتے۔ عبد اللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ لاَ يَدْخُلُ الْجَنَّةَ مَنْ كَانَ فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ حَبَّةٍ مِنْ خَرْدَلٍ مِّنْ كِبْرٍ وَلاَ يَدْخُلُ النَّارَ مَنْ كَانَ فِيْ قَلْبِهِ مِثْقَالُ خَرْدَلٍ مِّنْ إِيْمَانٍ ] [ أبو داوٗد، اللباس، باب ما جاء في الکبر: ۴۰۹۱، وقال الألباني صحیح ] ”وہ شخص جنت میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں رائی کے دانے کے برابر کبر ہوگا اور وہ شخص آگ میں داخل نہیں ہو گا جس کے دل میں رائی کے برابر ایمان ہوگا۔“ ➎ {يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ:} بظاہر یہاں الفاظ یہ ہونے چاہییں تھے کہ {”يَرْفَعِ اللّٰهُ الَّذِيْنَ نَشَزُوْا مِنْكُمْ“} یعنی ”(جب تمھیں کہا جائے کہ اٹھ کھڑے ہو جاؤ تو اٹھ کھڑے ہو جاؤ) تو اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو اٹھ کھڑے ہوں گے درجات میں بلند کر دے گا“ مگر اللہ تعالیٰ نے منافقین کو نکالنے کے لیے {” اٰمَنُوْا مِنْكُمْ “} کی قید لگا دی کہ منافقین اس حکم پر اٹھ کھڑے ہوں تب بھی انھیں رفع درجات کا شرف حاصل نہیں ہو سکتا، ان کا ٹھکانا {”الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ “} (آگ کا سب سے نچلا درجہ) ہی ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۴۵)۔ ➏ {وَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ دَرَجٰتٍ:} یہ {” الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا “} ہی کی صفت ہے، کیونکہ اللہ تعالیٰ نے تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو {” الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ “} قرار دیا ہے۔ دیکھیے سورۂ محمد (۱۶) کی تفسیر اور ایمان کا ادنیٰ سے ادنیٰ درجہ بھی علم کے بغیر حاصل نہیں ہو سکتا، جیسا کہ فرمایا: «‏‏‏‏فَاعْلَمْ اَنَّهٗ لَاۤ اِلٰهَ اِلَّا اللّٰهُ» ‏‏‏‏ [ محمد: ۱۹ ] ”پس جان لے کہ حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی معبود نہیں۔“ہاں علم اور ایمان کے مدارج میں کمی بیشی ہوتی ہے۔ اسی طرح جنت میں علم کے لحاظ سے اہلِ ایمان کے مدارج میں بلندی ہوگی۔ عبداللہ بن عمرو رضی اللہ عنھما بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ يُقَالُ لِصَاحِبِ الْقُرْآنِ اقْرَأْ وَارْتَقِ وَ رَتِّلْ كَمَا كُنْتَ تُرَتِّلُ فِي الدُّنْيَا فَإِنَّ مَنْزِلَكَ عِنْدَ آخِرِ آيَةٍ تَقْرَؤُهَا ] [ أبو داوٗد، الوتر، باب کیف یستحب الترتیل في القراء ۃ: ۱۴۶۴، وقال الألباني حسن صحیح ] ”قرآن والے شخص سے کہا جائے گا پڑھ اور چڑھتا جا اور ٹھہر ٹھہر کر پڑھ جس طرح تو دنیا میں ٹھہر ٹھہر کر پڑھتا تھا، تیرا مقام آخری آیت کے پاس ہے جسے تو پڑھے گا۔ “ اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ إِنَّ اللّٰهَ يَرْفَعُ بِهٰذَا الْكِتَابِ أَقْوَامًا وَيَضَعُ بِهِ آخَرِيْنَ ] [ مسلم، صلاۃ المسافرین، باب فضل من یقوم بالقرآن ویعلمہ…: ۸۱۷، عن عمر رضی اللہ عنہ ] یعنی اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنھیں علم دیا گیا درجات میں بلندی عطا فرمائے گا، وہ جس قدر ایمان اور علم میں زیادہ ہوں گے اتنے ہی درجوں میں بلند ہوں گے۔ اس آیت سے علم کی فضیلت ثابت ہوتی ہے۔ ➐ یہاں ایک سوال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے {” الَّذِيْنَ اٰمَنُوْا مِنْكُمْ “} اور {” وَ الَّذِيْنَ اُوْتُوا الْعِلْمَ “} کو عطف کے ساتھ ذکر فرمایا ہے، جو مغایرت کے لیے ہوتا ہے، تو یہ دونوں ایک ہی موصوف کی صفت کیسے ہو سکتے ہیں؟ جواب اس کا یہ ہے کہ یہاں موصوف میں مغایرت مراد نہیں صفات میں مغایرت مراد ہے اور بعض اوقات ایک ہی موصوف کی صفات اس طرح بھی لائی جاتی ہیں، جیسا کہ سورۂ اعلیٰ میں ہے: «‏‏‏‏سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْاَعْلَى (1) الَّذِيْ خَلَقَ فَسَوّٰى (2) وَ الَّذِيْ قَدَّرَ فَهَدٰى (3) وَ الَّذِيْۤ اَخْرَجَ الْمَرْعٰى» ‏‏‏‏ [ الأعلٰی: ۱ تا ۴ ] ”اپنے رب کے نام کی تسبیح کر جو سب سے بلند ہے۔ وہ جس نے پیدا کیا، پس درست بنایا۔ اور وہ جس نے اندازہ ٹھہرایا، پھر ہدایت کی۔ اور وہ جس نے چارا اُگایا۔“ ➑ {وَ اللّٰهُ بِمَا تَعْمَلُوْنَ خَبِيْرٌ:} یعنی اللہ تعالیٰ تمھارے تمام اعمال سے پوری طرح باخبر ہے کہ تم اٹھنے کا حکم ملنے پر خوش دلی سے اٹھ کھڑے ہوتے ہو یا نفاق اور کبر کی وجہ سے مجبوراً اٹھتے ہو اور وہ تمھیں تمھارے عمل کے مطابق ہی جزا دے گا۔
یٰۤاَیُّہَا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡۤا اِذَا نَاجَیۡتُمُ الرَّسُوۡلَ فَقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیۡ نَجۡوٰىکُمۡ صَدَقَۃً ؕ ذٰلِکَ خَیۡرٌ لَّکُمۡ وَ اَطۡہَرُ ؕ فَاِنۡ لَّمۡ تَجِدُوۡا فَاِنَّ اللّٰہَ غَفُوۡرٌ رَّحِیۡمٌ ﴿۱۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم رسول سے تخلیہ میں بات کرو تو بات کرنے سے پہلے کچھ صدقہ دو یہ تمہارے لیے بہتر اور پاکیزہ تر ہے البتہ اگر تم صدقہ دینے کے لیے کچھ نہ پاؤ تو اللہ غفور و رحیم ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اے مسلمانو! جب تم رسول ﴿صلی اللہ علیہ وسلم﴾ سے سرگوشی کرنا چاہو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو یہ تمہارے حق میں بہتر اور پاکیزه تر ہے، ہاں اگر نہ پاؤ تو بیشک اللہ تعالیٰ بخشنے واﻻ مہربان ہے
احمد رضا خان بریلوی
اے ایمان والو جب تم رسول سے کوئی بات آہستہ عرض کرنا چاہو تو اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقہ دے لو یہ تمہارے لیے بہت بہتر اور بہت ستھرا ہے، پھر اگر تمہیں مقدور نہ ہو تو اللہ بخشنے والا مہربان ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اے ایمان والو! جب تم پیغمبر سے تنہائی میں کوئی بات کرنا چاہو تو اپنی اس رازدارانہ بات سے پہلے کچھ صدقہ دے دیا کرو یہ بات تمہارے لئے بہتر ہے اور پاکیزہ تر ہے اور اگر اس کے لئے کچھ نہ پاؤ تو بلاشبہ اللہ بڑا بخشنے والا، بڑا مہربان ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم رسول سے سرگوشی کرو تو اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقہ پیش کرو، یہ تمھارے لیے زیادہ اچھا اور زیادہ پاکیزہ ہے، پھر اگر نہ پاؤ تو یقینا اللہ بے حد بخشنے والا، نہایت مہربان ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کی منسوخ شرط ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ میرے نبی (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جب تم کوئی راز کی بات کرنا چاہو تو اس سے پہلے میری راہ میں خیرات کرو تاکہ تم پاک صاف ہو جاؤ اور اس قابل بن جاؤ کہ میرے پیغمبر سے مشورہ کر سکو، ہاں اگر کوئی غریب مسکین شخص ہو تو خیر۔ اسے اللہ تعالیٰ کی بخشش اور اس کے رحم پر نظریں رکھنی چاہئیں یعنی یہ حکم صرف انہیں ہے جو مالدار ہوں۔

پھر فرمایا شاید تمہیں اس حکم کے باقی رہ جانے کا اندیشہ تھا اور خوف تھا کہ یہ صدقہ نہ جانے کب تک واجب رہے۔ جب تم نے اسے ادا نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی تمہیں معاف فرما دیا، اب تو اور مذکورہ بالا فرائض کا پوری طرح خیال رکھو، کہا جاتا ہے کہ سرگوشی سے پہلے صدقہ نکالنے کا شرف صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوا پھر یہ حکم ہٹ گیا، ایک دینار دے کر آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوشیدہ باتیں کیں دس مسائل پوچھے۔ پھر تو یہ حکم ہی ہٹ گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33788:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے خود بھی یہ واقعہ بہ تفصیل مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: اس آیت پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل کیا نہ میرے بعد کوئی عمل کر سکا، میرے پاس ایک دینار تھا جسے بھنا کر میں نے دس درہم لے لیے ایک درہم اللہ کے نام پر کسی مسکین کو دے دیا پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے سرگوشی کی پھر تو یہ حکم اٹھ گیا تو مجھ سے پہلے بھی کسی نے اس پر عمل نہیں کیا اور نہ میرے بعد کوئی اس پر عمل کر سکتا ہے۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33790:مرسل] ‏‏‏‏ ابن جریر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا صدقہ کی مقدار ایک دینار مقرر کرنی چاہیئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو بہت ہوئی“، فرمایا: پھر آدھا دینار کہا: ”ہر شخص کو اس کی بھی طاقت نہیں“ آپ نے فرمایا: ”اچھا تم ہی بتاؤ کس قدر؟“ فرمایا ایک جو برابر سونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واہ واہ تم تو بڑے ہی زاہد ہو“، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پس میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس امت پر تخفیف کر دی، [سنن ترمذي:3300،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی میں بھی یہ روایت ہے اور اسے حسن غریب کہا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مسلمان برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راز داری کرنے سے پہلے صدقہ نکالا کرتے تھے لیکن زکوٰۃ کے حکم نے اسے اٹھا دیا، آپ فرماتے ہیں صحابہ رضی اللہ عنہم نے کثرت سے سوالات کرنے شروع کر دیئے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر گراں گزرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دے کر آپ پر تخفیف کر دی کیونکہ اب لوگوں نے سوالات چھوڑ دیئے، پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کشادگی کر دی اور اس حکم کو منسوخ کر دیا، عکرمہ رحمہ اللہ اور حسن بصری رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے کہ یہ حکم منسوخ ہے، قتادہ رحمہ اللہ اور مقاتل رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ صرف دن کی چند ساعتوں تک یہ حکم رہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ صرف میں ہی عمل کر سکا تھا اور دن کا تھوڑا ہی حصہ اس حکم کو نازل ہوئے تھا کہ منسوخ ہو گیا۔
12۔ 1 ہر مسلمان نبی سے مناجات اور خلوت میں گفتگو کرنے کی خواہش رکھتا تھا، جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو خاصی تکلیف ہوتی، بعض کہتے ہیں کہ منافقین یوں ہی بلا وجہ نبی سے مناجات میں مصروف رہتے تھے، جس سے مسلمان تکلیف محسوس کرتے تھے، اس لئے اللہ نے یہ حکم نازل فرمایا، تاکہ آپ سے گفتگو کرنے کے رحجان عام کی حوصلہ شکنی ہو 12۔ 2 بہتر اس لیے کہ صدقے سے تمہارے ہی دوسرے غریب مسلمان بھا‏ئیوں کو فائدہ ہوگا اور پاکیزہ تر اس لیے کہ یہ ایک عمل صالح اور اطاعت الہی ہے جس سے نفوس انسانی کی تطہیر ہوتی ہے اس سے یہ بھی معلوم ہوا کہ یہ امر بطور استحباب کے تھا وجوب کے لیے نہیں۔
(آیت 12) ➊ {يٰۤاَيُّهَا الَّذِيْنَ اٰمَنُوْۤا اِذَا نَاجَيْتُمُ الرَّسُوْلَ …:} ہر مسلمان نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے مناجات اور خلوت میں گفتگو کی خواہش رکھتا تھا، جس سے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کو مشقت اٹھانا پڑتی تھی۔ اس پر مزید منافقین کا رویہ تھا کہ انھوں نے محض اپنی بڑائی جتانے کے لیے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشیاں شروع کر دیں۔ ایک ایک آدمی آپ کا خاصا وقت لے جاتا، اس سے دوسرے لوگوں کو تکلیف ہوتی، کیونکہ انھیں عام فائدہ اٹھانے کا موقع نہ ملتا، خود نبی صلی اللہ علیہ وسلم پر بھی ان کا یہ طرز عمل شاق گزرتا، مگر آپ مروّت و اخلاق کی وجہ سے کسی کو منع نہ فرماتے۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ جو شخص بھی آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی میں گفتگو کرنا چاہے وہ اس سے پہلے صدقہ دے کر آئے، البتہ نادار مسلمانوں کے لیے گنجائش رکھی کہ اگر صدقہ کرنے کے لیے تمھارے پاس کچھ نہ ہو اور تمھیں علیحدگی میں گفتگو کرنا ضروری ہو تو اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے۔ منافقین عموماً مال دار تھے مگر سخت بخیل تھے،لہٰذا انھوں نے بخل کی وجہ سے علیحدگی میں گفتگو کر کے آپ کا وقت ضائع کرنا ترک کر دیا۔ ➋ { ذٰلِكَ خَيْرٌ لَّكُمْ وَ اَطْهَرُ:} یعنی اس حکم کا مقصد صرف رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مشقت ہٹانا نہیں بلکہ تمھاری تربیت بھی ہے کہ جب بھی تمھیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے علیحدگی میں گفتگو کی خواہش ہوگی اور ہر بار اس سے پہلے تم صدقہ کرو گے تو اس سے فقراء کا فائدہ ہو گا اور تمھیں خرچ کرنے کی عادت پڑے گی، بخل کی کمینگی دور ہو گی، مال میں برکت ہوگی، آفات و مصائب اور جہنم سے حفاظت ہوگی اور اموال و قلوب کو طہارت حاصل ہوگی۔
ءَاَشۡفَقۡتُمۡ اَنۡ تُقَدِّمُوۡا بَیۡنَ یَدَیۡ نَجۡوٰىکُمۡ صَدَقٰتٍ ؕ فَاِذۡ لَمۡ تَفۡعَلُوۡا وَ تَابَ اللّٰہُ عَلَیۡکُمۡ فَاَقِیۡمُوا الصَّلٰوۃَ وَ اٰتُوا الزَّکٰوۃَ وَ اَطِیۡعُوا اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ ؕ وَ اللّٰہُ خَبِیۡرٌۢ بِمَا تَعۡمَلُوۡنَ ﴿٪۱۳﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا تم ڈر گئے اس بات سے کہ تخلیہ میں گفتگو کرنے سے پہلے تمہیں صدقات دینے ہونگے؟ اچھا، اگر تم ایسا نہ کرو اور اللہ نے تم کو اس سے معاف کر دیا تو نماز قائم کرتے رہو، زکوٰۃ دیتے رہو اور اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرتے رہو تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تم اپنی سرگوشی سے پہلے صدقہ نکالنے سے ڈر گئے؟ پس جب تم نے یہ نہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے بھی تمہیں معاف فرما دیا تو اب (بخوبی) نمازوں کو قائم رکھو زکوٰة دیتے رہا کرو اور اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی تابعداری کرتے رہو۔ تم جو کچھ کرتے ہو اس (سب) سے اللہ (خوب) خبردار ہے
احمد رضا خان بریلوی
کیا تم اس سے ڈرے کہ تم اپنی عرض سے پہلے کچھ صدقے دو پھر جب تم نے یہ نہ کیا، اور اللہ نے اپنی مہر سے تم پر رجوع فرمائی تو نماز قائم رکھو اور زکوٰة دو اور اللہ اور اس کے رسول کے فرمانبردار رہو، اور اللہ تمہارے کاموں کو جانتا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم اس بات سے ڈر گئے کہ (رسول(ص) سے) تنہائی میں بات کرنے سے پہلے صدقہ دو! اب جبکہ تم نے ایسانہیں کیا اور اللہ نے تمہاری توبہ قبول کر لی تو بس نماز قائم کرو اور زکوٰۃد و اور اللہ اور اس کے رسول(ص) کی اطاعت کرو اور تم جو کچھ کرتے ہواللہ اس سے اچھی طرح باخبر ہے۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تم اس سے ڈر گئے کہ اپنی سرگوشی سے پہلے کچھ صدقے پیش کرو، سو جب تم نے ایسا نہیں کیا اور اللہ نے تم پر مہربانی فرمائی تو نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو اور اللہ اور اس کے رسول کا حکم مانو اور اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے سرگوشی کی منسوخ شرط ٭٭

اللہ تعالیٰ اپنے مومن بندوں کو حکم دیتا ہے کہ میرے نبی (‏‏‏‏صلی اللہ علیہ وسلم ) سے جب تم کوئی راز کی بات کرنا چاہو تو اس سے پہلے میری راہ میں خیرات کرو تاکہ تم پاک صاف ہو جاؤ اور اس قابل بن جاؤ کہ میرے پیغمبر سے مشورہ کر سکو، ہاں اگر کوئی غریب مسکین شخص ہو تو خیر۔ اسے اللہ تعالیٰ کی بخشش اور اس کے رحم پر نظریں رکھنی چاہئیں یعنی یہ حکم صرف انہیں ہے جو مالدار ہوں۔

پھر فرمایا شاید تمہیں اس حکم کے باقی رہ جانے کا اندیشہ تھا اور خوف تھا کہ یہ صدقہ نہ جانے کب تک واجب رہے۔ جب تم نے اسے ادا نہ کیا تو اللہ تعالیٰ نے بھی تمہیں معاف فرما دیا، اب تو اور مذکورہ بالا فرائض کا پوری طرح خیال رکھو، کہا جاتا ہے کہ سرگوشی سے پہلے صدقہ نکالنے کا شرف صرف سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو حاصل ہوا پھر یہ حکم ہٹ گیا، ایک دینار دے کر آپ نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے پوشیدہ باتیں کیں دس مسائل پوچھے۔ پھر تو یہ حکم ہی ہٹ گیا۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33788:ضعیف] ‏‏‏‏ سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے خود بھی یہ واقعہ بہ تفصیل مروی ہے کہ آپ نے فرمایا: اس آیت پر مجھ سے پہلے کسی نے عمل کیا نہ میرے بعد کوئی عمل کر سکا، میرے پاس ایک دینار تھا جسے بھنا کر میں نے دس درہم لے لیے ایک درہم اللہ کے نام پر کسی مسکین کو دے دیا پھر آپ کی خدمت میں حاضر ہو کر آپ سے سرگوشی کی پھر تو یہ حکم اٹھ گیا تو مجھ سے پہلے بھی کسی نے اس پر عمل نہیں کیا اور نہ میرے بعد کوئی اس پر عمل کر سکتا ہے۔ پھر آپ نے اس آیت کی تلاوت کی۔ [تفسیر ابن جریر الطبری:33790:مرسل] ‏‏‏‏ ابن جریر میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے پوچھا: کیا صدقہ کی مقدار ایک دینار مقرر کرنی چاہیئے تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”یہ تو بہت ہوئی“، فرمایا: پھر آدھا دینار کہا: ”ہر شخص کو اس کی بھی طاقت نہیں“ آپ نے فرمایا: ”اچھا تم ہی بتاؤ کس قدر؟“ فرمایا ایک جو برابر سونا آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ”واہ واہ تم تو بڑے ہی زاہد ہو“، سیدنا علی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں پس میری وجہ سے اللہ تعالیٰ نے اس امت پر تخفیف کر دی، [سنن ترمذي:3300،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ترمذی میں بھی یہ روایت ہے اور اسے حسن غریب کہا ہے۔

سیدنا ابن عباس رضی اللہ عنہما فرماتے ہیں مسلمان برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے راز داری کرنے سے پہلے صدقہ نکالا کرتے تھے لیکن زکوٰۃ کے حکم نے اسے اٹھا دیا، آپ فرماتے ہیں صحابہ رضی اللہ عنہم نے کثرت سے سوالات کرنے شروع کر دیئے، جو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر گراں گزرتے تھے، تو اللہ تعالیٰ نے یہ حکم دے کر آپ پر تخفیف کر دی کیونکہ اب لوگوں نے سوالات چھوڑ دیئے، پھر اللہ تعالیٰ نے مسلمانوں پر کشادگی کر دی اور اس حکم کو منسوخ کر دیا، عکرمہ رحمہ اللہ اور حسن بصری رحمہ اللہ کا بھی یہی قول ہے کہ یہ حکم منسوخ ہے، قتادہ رحمہ اللہ اور مقاتل رحمہ اللہ بھی یہی فرماتے ہیں۔ قتادہ رحمہ اللہ کا قول ہے کہ صرف دن کی چند ساعتوں تک یہ حکم رہا سیدنا علی رضی اللہ عنہ بھی یہی فرماتے ہیں کہ صرف میں ہی عمل کر سکا تھا اور دن کا تھوڑا ہی حصہ اس حکم کو نازل ہوئے تھا کہ منسوخ ہو گیا۔
13۔ 1 یہ امر گو استحاباً تھا، پھر بھی مسلمانوں کے لئے شاق تھا اس لئے اللہ تعالیٰ نے جلدی اسے منسوخ فرما دیا۔ 13۔ 2 یعنی فرائض و احکام کی پابندی، اس صدقے کا بدل بن جائے گی، جسے اللہ نے تمہاری تکلیف کے لئے معاف فرما دیا۔
(آیت 13) ➊ { ءَاَشْفَقْتُمْ اَنْ تُقَدِّمُوْا بَيْنَ يَدَيْ نَجْوٰىكُمْ صَدَقٰتٍ:} اس سے ظاہر ہے کہ اس حکم کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ علیحدگی میں گفتگو کا رجحان، جو بہت بڑھ گیا تھا، رک گیا۔ منافقین اپنے بخل کی وجہ سے رک گئے اور مخلص مسلمان، جو نادار تھے، غربت کی وجہ سے محتاط ہو گئے۔ ➋ { فَاِذْ لَمْ تَفْعَلُوْا وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ:} اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس حکم کے نزول کے بعد کسی نے نہ تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے کوئی رازدارانہ بات کرنے کی جرأت کی اور نہ اس مقصد کے لیے صدقہ دینے کی نوبت آئی، بلکہ انھیں احساس ہوگیا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے رازدارانہ گفتگو کے بارے میں ان کی روش اللہ تعالیٰ کو پسند نہیں آئی، اس لیے وہ اس پر نادم ہوئے اور اپنے رویے سے باز آگئے۔ {” وَ تَابَ اللّٰهُ عَلَيْكُمْ “} یعنی اللہ تعالیٰ نے بھی ان پر مہربانی فرمائی اور آپ سے مناجات سے پہلے صدقے کا حکم منسوخ کر دیا۔ ➌ {فَاَقِيْمُوا الصَّلٰوةَ وَ اٰتُوا الزَّكٰوةَ …:} یعنی جب یہ وقتی حکم تم سے اٹھا لیا گیا تو ان احکام کی پابندی کرتے رہو جن پر عمل تمھارے لیے ہمیشہ لازم ہے۔ ان میں سب سے اہم نماز اور زکوٰۃ ہے، اس کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول کے ہر حکم کی اطاعت پر کار بند رہو اور یہ بات ہمیشہ پیشِ نظر رکھو کہ اللہ تعالیٰ تمھارے ہر عمل سے پوری طرح باخبر ہے۔ ➍ یہ حکم اگرچہ منسوخ ہو گیا مگر اس سے جو مقصود تھا وہ حاصل ہوگیا، مسلمان تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت اور آپ کے ادب کی وجہ سے علیحدگی میں لمبی گفتگو سے اجتناب کرنے لگے اور منافقین اس خوف سے کہ ہم نے ایسا کیا تو ہمارا نفاق کھل جائے گا اور ہم پہچان لیے جائیں گے۔
اَلَمۡ تَرَ اِلَی الَّذِیۡنَ تَوَلَّوۡا قَوۡمًا غَضِبَ اللّٰہُ عَلَیۡہِمۡ ؕ مَا ہُمۡ مِّنۡکُمۡ وَ لَا مِنۡہُمۡ ۙ وَ یَحۡلِفُوۡنَ عَلَی الۡکَذِبِ وَ ہُمۡ یَعۡلَمُوۡنَ ﴿۱۴﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
کیا تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جنہوں نے دوست بنایا ہے ایک ایسے گروہ کو جو اللہ کا مغضوب ہے؟ وہ نہ تمہارے ہیں نہ اُن کے، اور وہ جان بوجھ کر جھوٹی بات پر قسمیں کھاتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا؟ جنہوں نے اس قوم سے دوستی کی جن پر اللہ غضبناک ہوچکا ہے، نہ یہ (منافق) تمہارے ہی ہیں نہ ان کے ہیں باوجود علم کے پھر بھی جھوٹ پر قسمیں کھا رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
کیا تم نے انہیں نہ دیکھا جو ایسوں کے دوست ہوئے جن پر اللہ کا غضب ہے وہ نہ تم میں سے نہ ان میں سے وہ دانستہ جھوٹی قسم کھاتے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
کیا تم نے ایسے لوگوں کو نہیں دیکھا جو ایسے لوگوں سے دوستی کرتے ہیں جن پر اللہ نے غضب نازل کیا ہے وہ نہ تم میں سے ہیں اور نہ ان میں سے ہیں اور وہ جانتے بوجھتے ہوئے جھوٹی بات پر قَسمیں کھاتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
کیا تو نے ان لوگوں کو نہیںدیکھا جنھوں نے ان لوگوں کو دوست بنا لیا جن پر اللہ غصے ہو گیا، وہ نہ تم سے ہیں اور نہ ان سے اور وہ جھوٹ پر قسمیں کھاتے ہیں، حالانکہ وہ جانتے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوغلے لوگوں کا کردار ٭٭

منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں، حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں، نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بے دھڑک قسمیں کھا لیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے، اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا، یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، ایمان ظاہر کرتے ہیں، کفر دل میں رکھتے ہیں اور قسموں سے اپنی باطنی بدی کو چھپاتے ہیں اور ناواقف لوگوں پر اپنی سچائی کا ثبوت اپنی قسموں سے پیش کر کے انہیں اپنا مداح بنا لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں، چونکہ انہوں نے جھوٹی قسموں سے اللہ تعالیٰ کے پر از صد ہزار تکریم نام کی بےعزتی کی تھی «مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا» [4-النساء:143] ‏‏‏‏ اس لیے انہیں ذلت و اہانت والے عذاب ہوں گے، جن عذابوں کو نہ ان کے مال دفع کر سکیں، نہ اس وقت ان کی اولاد انہیں کچھ کام دے سکے گی یہ تو جہنمی بن چکے اور وہاں سے ان کا نکلنا بھی کبھی نہ ہو گا۔ قیامت والے دن جب ان کا حشر ہو گا اور ایک بھی اس میدان میں آئے بغیر نہ رہے گا، سب جمع ہو جائیں گے تو چونکہ زندگی میں ان کی عادت تھی کہ اپنی جھوٹ بات کو قسموں سے سچ بات کر دکھاتے تھے، آج اللہ کے سامنے بھی اپنی ہدایت و استقامت پر بڑی بڑی قسمیں کھا لیں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ یہاں بھی یہ چالاکی چل جائے گی مگر ان جھوٹوں کی بھلا اللہ کے سامنے چال بازی کہاں چل سکتی ہے؟ وہ تو ان کا جھوٹا ہونا یہاں بھی مسلمانوں سے بیان فرما چکا۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آس پاس بیٹھے تھے سایہ دار جگہ کم تھی بمشکل لوگ اس میں پناہ لیے بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطانی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا“، تھوڑی دیر میں ایک کیری آنکھوں والا شخص آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا: ”کیوں بھئی تو اور فلاں اور فلاں مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو؟“ یہ یہاں سے چلا گیا اور جن جن کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا تھا انہیں لے کر آیا اور پھر تو قسموں کا تانتا باندھ دیا کہ ہم میں سے کسی نے آپ کی کوئی بے ادبی نہیں کی۔ اس پر یہ آیت اتری کہ یہ جھوٹے ہیں۔ [مسند احمد:267/1:حسن] ‏‏‏‏ یہی حال مشرکوں کا بھی دربار الٰہی میں ہو گا «‏‏‏‏ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ انظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ» [6-الانعام:23،24] ‏‏‏‏ قسمیں کھا جائیں گے کہ ہمیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔ پھر فرماتا ہے ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور ان کے دل کو اپنی مٹھی میں کر لیا ہے، یاد اللہ، ذکر اللہ سے انہیں دور ڈال دیا ہے۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس کسی بستی یا جنگل میں تین شخص بھی ہوں اور ان میں نماز نہ قائم کی جاتی ہو تو شیطان ان پر چھا جاتا ہے پس تو جماعت کو لازم پکڑے رہ، بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو۔‏‏‏‏“ سائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں مراد جماعت سے نماز کی جماعت ہے۔ [سنن ابوداود:547،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے ذکر کو فراموش کرنے والے اور شیطان کے قبضے میں پھنس جانے والے شیطانی جماعت کے افراد ہیں، شیطان کا یہ لشکر یقیناً نامراد اور زیاں کار ہے۔
14۔ 1 جن پر اللہ کا غضب نازل ہوا وہ قرآن کریم کی صراحت کے مطابق یہود ہیں اور ان سے دوستی کرنے والے منافقین یہ آیات اس وقت نازل ہوئیں جب مدینے میں منافقین کا بھی زور تھا اور یہودیوں کی سازشیں بھی عروج پر تھیں ابھی یہود کو جلا وطن نہیں کیا گیا تھا۔ 14۔ 2 یعنی یہ منافقین مسلمان ہیں اور نہ دین کے لحاظ سے یہودی ہیں۔ پھر یہ کیوں یہودیوں سے دوستی کرتے ہیں۔؟ صرف اس لیے کہ ان کے اور یہود کے درمیان نبی صلی اللہ علیہ وسلم اور اسلام کی عداوت قدر مشترک ہے۔ 14۔ 3 یعنی قسمیں کھا کر مسلمانوں کو باور کراتے ہیں کہ ہم تمہاری طرح مسلمان ہیں یا یہودیوں سے انکے رابطے نہیں ہیں۔
(آیت 14) ➊ { اَلَمْ تَرَ اِلَى الَّذِيْنَ تَوَلَّوْا قَوْمًا غَضِبَ اللّٰهُ عَلَيْهِمْ:} اس آیت میں منافقین کے تین اوصاف بیان کرتے ہوئے ان کی حالت پر تعجب کا اظہار کیا گیا ہے، ان میں سے پہلا وصف یہ ہے کہ ایمان کے دعوے کے باوجود ان کی دوستی ان لوگوں کے ساتھ ہے جو ایمان والوں کے بد ترین دشمن ہیں اور جن پر اللہ کا غضب ہوا ہے۔ اگرچہ تمام کفار ہی پر اللہ کا غضب ہے اور منافقین تمام کفار سے دوستی کرتے تھے، مگر {”مَغْضُوْبٌ عَلَيْهِمْ“} خاص طور پر یہود کا لقب ہے، جیسا کہ {” غَيْرِ الْمَغْضُوْبِ عَلَيْهِمْ “} کی تفسیر میں گزر چکا ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ بقرہ (۶۱،۹۰)، آل عمران (۱۱۲)، اعراف (۱۵۲)، مائدہ (۶۰) اور سورۂ ممتحنہ (۱۳) حالانکہ اللہ تعالیٰ نے ایمان والوں کو یہود و نصاریٰ اور کفار کی دوستی سے صریح الفاظ میں منع فرمایا ہے۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ آل عمران (۲۸)، نساء (۱۴۴)، مائدہ (۵۱)اور سورہ توبہ (۲۳)۔ ➋ { مَا هُمْ مِّنْكُمْ وَ لَا مِنْهُمْ:} یہ منافقین کا دوسرا وصف ہے کہ بظاہر مسلمان ہونے کے باوجود فی الواقع وہ تم میں سے نہیں ہیں، کیونکہ اگر وہ حقیقی مومن ہوتے تو کفار کو کبھی دوست نہ بناتے۔ (دیکھیے مائدہ: ۸۱) اور اسی طرح وہ یہود میں سے بھی نہیں، کیونکہ وہ انھیں بھی حق پر نہیں سمجھتے، ان کی دوستی محض غرض کی دوستی ہے کہ اگر مسلمانوں پر کوئی گردش آئی تو ان کی دوستی کام آئے گی۔ دیکھیے سورۂ نساء (143،142) کی تفسیر۔ ➌ { وَ يَحْلِفُوْنَ عَلَى الْكَذِبِ وَ هُمْ يَعْلَمُوْنَ:} یعنی یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ جھوٹ بول رہے ہیں جھوٹ بولتے ہیں اور اس پر قسمیں بھی کھاتے ہیں۔ اس جھوٹ سے مراد ایک تو مومن ہونے کا دعویٰ ہے۔ (دیکھیے منافقون: ۱۔ توبہ: ۵۶) پھر مختلف اوقات میں اللہ اور اس کے رسول اور مسلمانوں کے خلاف ان کے کسی قول یا فعل پر جب گرفت کی جاتی تو وہ جھوٹ بول دیتے کہ ہم نے یہ بات نہیں کہی، نہ یہ کام کیا ہے اور اس پر قسمیں کھا جاتے۔ (دیکھیے توبہ: ۶۲، ۷۴، 96،95۔ منافقون: 7،6) سیرت کی کتابوں میں ایسے بہت سے واقعات مذکور ہیں۔
اَعَدَّ اللّٰہُ لَہُمۡ عَذَابًا شَدِیۡدًا ؕ اِنَّہُمۡ سَآءَ مَا کَانُوۡا یَعۡمَلُوۡنَ ﴿۱۵﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے، بڑے ہی برے کرتوت ہیں جو وہ کر رہے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے، تحقیق جو کچھ یہ کر رہے ہیں برا کر رہے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
اللہ نے ان کے لیے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے، بیشک وہ بہت ہی برے کام کرتے ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ نے ان کیلئے سخت عذاب تیار کر رکھا ہے بےشک یہ لوگ بہت برے کام کرتے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ نے ان کے لیے بہت سخت عذاب تیار کیا ہے، بے شک یہ لوگ، برا ہے جو کچھ کرتے رہے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوغلے لوگوں کا کردار ٭٭

منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں، حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں، نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بے دھڑک قسمیں کھا لیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے، اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا، یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، ایمان ظاہر کرتے ہیں، کفر دل میں رکھتے ہیں اور قسموں سے اپنی باطنی بدی کو چھپاتے ہیں اور ناواقف لوگوں پر اپنی سچائی کا ثبوت اپنی قسموں سے پیش کر کے انہیں اپنا مداح بنا لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں، چونکہ انہوں نے جھوٹی قسموں سے اللہ تعالیٰ کے پر از صد ہزار تکریم نام کی بےعزتی کی تھی «مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا» [4-النساء:143] ‏‏‏‏ اس لیے انہیں ذلت و اہانت والے عذاب ہوں گے، جن عذابوں کو نہ ان کے مال دفع کر سکیں، نہ اس وقت ان کی اولاد انہیں کچھ کام دے سکے گی یہ تو جہنمی بن چکے اور وہاں سے ان کا نکلنا بھی کبھی نہ ہو گا۔ قیامت والے دن جب ان کا حشر ہو گا اور ایک بھی اس میدان میں آئے بغیر نہ رہے گا، سب جمع ہو جائیں گے تو چونکہ زندگی میں ان کی عادت تھی کہ اپنی جھوٹ بات کو قسموں سے سچ بات کر دکھاتے تھے، آج اللہ کے سامنے بھی اپنی ہدایت و استقامت پر بڑی بڑی قسمیں کھا لیں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ یہاں بھی یہ چالاکی چل جائے گی مگر ان جھوٹوں کی بھلا اللہ کے سامنے چال بازی کہاں چل سکتی ہے؟ وہ تو ان کا جھوٹا ہونا یہاں بھی مسلمانوں سے بیان فرما چکا۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آس پاس بیٹھے تھے سایہ دار جگہ کم تھی بمشکل لوگ اس میں پناہ لیے بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطانی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا“، تھوڑی دیر میں ایک کیری آنکھوں والا شخص آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا: ”کیوں بھئی تو اور فلاں اور فلاں مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو؟“ یہ یہاں سے چلا گیا اور جن جن کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا تھا انہیں لے کر آیا اور پھر تو قسموں کا تانتا باندھ دیا کہ ہم میں سے کسی نے آپ کی کوئی بے ادبی نہیں کی۔ اس پر یہ آیت اتری کہ یہ جھوٹے ہیں۔ [مسند احمد:267/1:حسن] ‏‏‏‏ یہی حال مشرکوں کا بھی دربار الٰہی میں ہو گا «‏‏‏‏ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ انظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ» [6-الانعام:23،24] ‏‏‏‏ قسمیں کھا جائیں گے کہ ہمیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔ پھر فرماتا ہے ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور ان کے دل کو اپنی مٹھی میں کر لیا ہے، یاد اللہ، ذکر اللہ سے انہیں دور ڈال دیا ہے۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس کسی بستی یا جنگل میں تین شخص بھی ہوں اور ان میں نماز نہ قائم کی جاتی ہو تو شیطان ان پر چھا جاتا ہے پس تو جماعت کو لازم پکڑے رہ، بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو۔‏‏‏‏“ سائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں مراد جماعت سے نماز کی جماعت ہے۔ [سنن ابوداود:547،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے ذکر کو فراموش کرنے والے اور شیطان کے قبضے میں پھنس جانے والے شیطانی جماعت کے افراد ہیں، شیطان کا یہ لشکر یقیناً نامراد اور زیاں کار ہے۔
15۔ 1 یعنی یہودیوں سے دوستانہ تعلق رکھنے اور جھوٹی قسمیں کھانے کی وجہ سے۔
(آیت 15){ اَعَدَّ اللّٰهُ لَهُمْ عَذَابًا شَدِيْدًا …:} عذابِ شدید سے مراد {” الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ “} ہے۔ دیکھیے سورۂ نساء (۱۴۵)۔
اِتَّخَذُوۡۤا اَیۡمَانَہُمۡ جُنَّۃً فَصَدُّوۡا عَنۡ سَبِیۡلِ اللّٰہِ فَلَہُمۡ عَذَابٌ مُّہِیۡنٌ ﴿۱۶﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اُنہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے جس کی آڑ میں وہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں، اِس پر ان کے لیے ذلت کا عذاب ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان لوگوں نے تو اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور لوگوں کو اللہ کی راه سے روکتے ہیں ان کے لیے رسوا کرنے واﻻ عذاب ہے
احمد رضا خان بریلوی
انہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنالیا ہے تو اللہ کی راہ سے روکا تو ان کے لیے خواری کا عذاب ہے
علامہ محمد حسین نجفی
انہوں نے اپنی قَسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے پس وہ (لوگوں کو) اللہ کی راہ سے روکتے ہیں تو ان کے لئے ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔
عبدالسلام بن محمد
انھوں نے اپنی قسموں کو ایک طرح کی ڈھال بنا لیا، پس انھوں نے اللہ کی راہ سے روکا، سو ان کے لیے رسوا کرنے والا عذاب ہے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوغلے لوگوں کا کردار ٭٭

منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں، حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں، نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بے دھڑک قسمیں کھا لیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے، اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا، یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، ایمان ظاہر کرتے ہیں، کفر دل میں رکھتے ہیں اور قسموں سے اپنی باطنی بدی کو چھپاتے ہیں اور ناواقف لوگوں پر اپنی سچائی کا ثبوت اپنی قسموں سے پیش کر کے انہیں اپنا مداح بنا لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں، چونکہ انہوں نے جھوٹی قسموں سے اللہ تعالیٰ کے پر از صد ہزار تکریم نام کی بےعزتی کی تھی «مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا» [4-النساء:143] ‏‏‏‏ اس لیے انہیں ذلت و اہانت والے عذاب ہوں گے، جن عذابوں کو نہ ان کے مال دفع کر سکیں، نہ اس وقت ان کی اولاد انہیں کچھ کام دے سکے گی یہ تو جہنمی بن چکے اور وہاں سے ان کا نکلنا بھی کبھی نہ ہو گا۔ قیامت والے دن جب ان کا حشر ہو گا اور ایک بھی اس میدان میں آئے بغیر نہ رہے گا، سب جمع ہو جائیں گے تو چونکہ زندگی میں ان کی عادت تھی کہ اپنی جھوٹ بات کو قسموں سے سچ بات کر دکھاتے تھے، آج اللہ کے سامنے بھی اپنی ہدایت و استقامت پر بڑی بڑی قسمیں کھا لیں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ یہاں بھی یہ چالاکی چل جائے گی مگر ان جھوٹوں کی بھلا اللہ کے سامنے چال بازی کہاں چل سکتی ہے؟ وہ تو ان کا جھوٹا ہونا یہاں بھی مسلمانوں سے بیان فرما چکا۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آس پاس بیٹھے تھے سایہ دار جگہ کم تھی بمشکل لوگ اس میں پناہ لیے بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطانی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا“، تھوڑی دیر میں ایک کیری آنکھوں والا شخص آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا: ”کیوں بھئی تو اور فلاں اور فلاں مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو؟“ یہ یہاں سے چلا گیا اور جن جن کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا تھا انہیں لے کر آیا اور پھر تو قسموں کا تانتا باندھ دیا کہ ہم میں سے کسی نے آپ کی کوئی بے ادبی نہیں کی۔ اس پر یہ آیت اتری کہ یہ جھوٹے ہیں۔ [مسند احمد:267/1:حسن] ‏‏‏‏ یہی حال مشرکوں کا بھی دربار الٰہی میں ہو گا «‏‏‏‏ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ انظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ» [6-الانعام:23،24] ‏‏‏‏ قسمیں کھا جائیں گے کہ ہمیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔ پھر فرماتا ہے ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور ان کے دل کو اپنی مٹھی میں کر لیا ہے، یاد اللہ، ذکر اللہ سے انہیں دور ڈال دیا ہے۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس کسی بستی یا جنگل میں تین شخص بھی ہوں اور ان میں نماز نہ قائم کی جاتی ہو تو شیطان ان پر چھا جاتا ہے پس تو جماعت کو لازم پکڑے رہ، بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو۔‏‏‏‏“ سائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں مراد جماعت سے نماز کی جماعت ہے۔ [سنن ابوداود:547،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے ذکر کو فراموش کرنے والے اور شیطان کے قبضے میں پھنس جانے والے شیطانی جماعت کے افراد ہیں، شیطان کا یہ لشکر یقیناً نامراد اور زیاں کار ہے۔
1 6 ۔ 1 ایمان، یمین، کی جمع ہے بمعنی قسم۔ یعنی قسم جس طرح ڈھال سے دشمن کے وار کو روک کر اپنا بچاؤ کرلیا جاتا ہے اسی طرح انہوں نے اپنی قسموں کو مسلمانوں کی تلواروں سے بچنے کے لیے ڈھال بنا رکھا ہے۔ 1 6 ۔ 2 یعنی جھوٹی قسمیں کھا کر یہ اپنے کو مسلمان ظاہر کرتے ہیں جس کی وجہ سے بہت سے لوگوں کو ان کے بارے میں حقیقت واقعیہ کا علم نہیں ہوتا اور وہ ان کے غرے میں آکر قبول اسلام سے محروم رہتے ہیں اور یوں یہ لوگوں کو اللہ کے راستے سے روکنے کا جرم بھی کرتے ہیں۔
(آیت 16) ➊ {اِتَّخَذُوْۤا اَيْمَانَهُمْ جُنَّةً …:} یعنی ایک طرف انھوں نے اپنی جانیں اور اپنے مال بچانے کے لیے مسلمان ہونے کی جھوٹی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے اور دوسری طرف وہ مسلمانوں کے اندر رہ کر جب موقع ملتا ہے شکوک و شبہات پیدا کر کے بہت سے لوگوں کو جہاد فی سبیل اللہ سے روک دیتے ہیں۔ مزید دیکھیے سورۂ آل عمران (168،156)، نساء (۷۲) اور سورۂ احزاب (۱۸)۔ ➋ { فَلَهُمْ عَذَابٌ مُّهِيْنٌ:} دنیا میں یہ رسوائی کہ نہ مسلمانوں میں ان کی کوئی عزت ہے اور نہ کفار میں سے کوئی ان پر اعتماد کرتا ہے اور قیامت کے دن ان کے لیے {” الدَّرْكِ الْاَسْفَلِ مِنَ النَّارِ “} کی شکل میں عذاب تیار ہے۔
لَنۡ تُغۡنِیَ عَنۡہُمۡ اَمۡوَالُہُمۡ وَ لَاۤ اَوۡلَادُہُمۡ مِّنَ اللّٰہِ شَیۡئًا ؕ اُولٰٓئِکَ اَصۡحٰبُ النَّارِ ؕ ہُمۡ فِیۡہَا خٰلِدُوۡنَ ﴿۱۷﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ سے بچانے کے لیے نہ ان کے مال کچھ کام آئیں گے نہ ان کی اولاد وہ دوزخ کے یار ہیں، اسی میں وہ ہمیشہ رہیں گے
مولانا محمد جوناگڑھی
ان کے مال اور ان کی اوﻻد اللہ کے ہاں کچھ کام نہ آئیں گی۔ یہ تو جہنمی ہیں ہمیشہ ہی اس میں رہیں گے
احمد رضا خان بریلوی
ان کے مال اور ان کی اولاد اللہ کے سامنے انہیں کچھ کام نہ دیں گے وہ دوزخی ہیں، انہیں اس میں ہمیشہ رہنا،
علامہ محمد حسین نجفی
ان کے مال اور ان کی اولاد انہیں ذرا بھی اللہ (کے عذاب) سے نہیں بچا سکیں گے یہ لوگ دوزخ والے ہیں وہ اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔
عبدالسلام بن محمد
ان کے اموال اللہ کے مقابلے میں ہرگز ان کے کسی کام نہ آئیں گے اور نہ ہی ان کی اولاد۔ یہ لوگ آگ میں رہنے والے ہیں، وہ اس میں ہمیشہ رہنے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوغلے لوگوں کا کردار ٭٭

منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں، حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں، نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بے دھڑک قسمیں کھا لیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے، اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا، یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، ایمان ظاہر کرتے ہیں، کفر دل میں رکھتے ہیں اور قسموں سے اپنی باطنی بدی کو چھپاتے ہیں اور ناواقف لوگوں پر اپنی سچائی کا ثبوت اپنی قسموں سے پیش کر کے انہیں اپنا مداح بنا لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں، چونکہ انہوں نے جھوٹی قسموں سے اللہ تعالیٰ کے پر از صد ہزار تکریم نام کی بےعزتی کی تھی «مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا» [4-النساء:143] ‏‏‏‏ اس لیے انہیں ذلت و اہانت والے عذاب ہوں گے، جن عذابوں کو نہ ان کے مال دفع کر سکیں، نہ اس وقت ان کی اولاد انہیں کچھ کام دے سکے گی یہ تو جہنمی بن چکے اور وہاں سے ان کا نکلنا بھی کبھی نہ ہو گا۔ قیامت والے دن جب ان کا حشر ہو گا اور ایک بھی اس میدان میں آئے بغیر نہ رہے گا، سب جمع ہو جائیں گے تو چونکہ زندگی میں ان کی عادت تھی کہ اپنی جھوٹ بات کو قسموں سے سچ بات کر دکھاتے تھے، آج اللہ کے سامنے بھی اپنی ہدایت و استقامت پر بڑی بڑی قسمیں کھا لیں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ یہاں بھی یہ چالاکی چل جائے گی مگر ان جھوٹوں کی بھلا اللہ کے سامنے چال بازی کہاں چل سکتی ہے؟ وہ تو ان کا جھوٹا ہونا یہاں بھی مسلمانوں سے بیان فرما چکا۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آس پاس بیٹھے تھے سایہ دار جگہ کم تھی بمشکل لوگ اس میں پناہ لیے بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطانی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا“، تھوڑی دیر میں ایک کیری آنکھوں والا شخص آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا: ”کیوں بھئی تو اور فلاں اور فلاں مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو؟“ یہ یہاں سے چلا گیا اور جن جن کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا تھا انہیں لے کر آیا اور پھر تو قسموں کا تانتا باندھ دیا کہ ہم میں سے کسی نے آپ کی کوئی بے ادبی نہیں کی۔ اس پر یہ آیت اتری کہ یہ جھوٹے ہیں۔ [مسند احمد:267/1:حسن] ‏‏‏‏ یہی حال مشرکوں کا بھی دربار الٰہی میں ہو گا «‏‏‏‏ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ انظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ» [6-الانعام:23،24] ‏‏‏‏ قسمیں کھا جائیں گے کہ ہمیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔ پھر فرماتا ہے ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور ان کے دل کو اپنی مٹھی میں کر لیا ہے، یاد اللہ، ذکر اللہ سے انہیں دور ڈال دیا ہے۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس کسی بستی یا جنگل میں تین شخص بھی ہوں اور ان میں نماز نہ قائم کی جاتی ہو تو شیطان ان پر چھا جاتا ہے پس تو جماعت کو لازم پکڑے رہ، بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو۔‏‏‏‏“ سائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں مراد جماعت سے نماز کی جماعت ہے۔ [سنن ابوداود:547،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے ذکر کو فراموش کرنے والے اور شیطان کے قبضے میں پھنس جانے والے شیطانی جماعت کے افراد ہیں، شیطان کا یہ لشکر یقیناً نامراد اور زیاں کار ہے۔
اس آیت کی تفسیر پچھلی آیت کے ساتھ کی گئی ہے۔
(آیت 17) {لَنْ تُغْنِيَ عَنْهُمْ اَمْوَالُهُمْ وَ لَاۤ اَوْلَادُهُمْ …:} نفاق کا بڑا باعث مال و اولاد کی محبت ہے، اس لیے فرمایا قیامت کے دن یہ اموال و اولاد ان کے کسی کام نہیں آئیں گے۔ مزید دیکھیے سورۂ آلِ عمران (117،116)۔
یَوۡمَ یَبۡعَثُہُمُ اللّٰہُ جَمِیۡعًا فَیَحۡلِفُوۡنَ لَہٗ کَمَا یَحۡلِفُوۡنَ لَکُمۡ وَ یَحۡسَبُوۡنَ اَنَّہُمۡ عَلٰی شَیۡءٍ ؕ اَلَاۤ اِنَّہُمۡ ہُمُ الۡکٰذِبُوۡنَ ﴿۱۸﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا، وہ اس کے سامنے بھی اُسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں اور اپنے نزدیک یہ سمجھیں گے کہ اس سے ان کا کچھ کام بن جائے گا خوب جان لو، وہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
جس دن اللہ تعالیٰ ان سب کو اٹھا کھڑا کرے گا تو یہ جس طرح تمہارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں (اللہ تعالیٰ) کے سامنے بھی قسمیں کھانے لگیں گے اور سمجھیں گے کہ وه بھی کسی (دلیل) پر ہیں، یقین مانو کہ بیشک وہی جھوٹے ہیں
احمد رضا خان بریلوی
جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو اس کے حضور بھی ایسے ہی قسمیں کھائیں گے جیسی تمہارے سامنے کھارہے ہیں اور وہ یہ سمجھتے ہیں کہ انہوں نے کچھ کیا سنتے ہو بیشک وہی جھوٹے ہیں
علامہ محمد حسین نجفی
جس دن اللہ ان سب کو (دوبارہ) اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے بھی اسی طرح قَسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں اور خیال کریں گے کہ وہ کسی چیز (بنیاد) پر ہیں خبردار! یہ لوگ بالکل جھوٹے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
جس دن اللہ ان سب کو اٹھائے گا تو وہ اس کے سامنے قسمیں کھائیں گے جس طرح تمھارے سامنے قسمیں کھاتے ہیں اور گمان کریں گے کہ بے شک وہ کسی چیز پر (قائم) ہیں، سن لو! یقینا وہی اصل جھوٹے ہیں ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوغلے لوگوں کا کردار ٭٭

منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں، حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں، نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بے دھڑک قسمیں کھا لیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے، اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا، یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، ایمان ظاہر کرتے ہیں، کفر دل میں رکھتے ہیں اور قسموں سے اپنی باطنی بدی کو چھپاتے ہیں اور ناواقف لوگوں پر اپنی سچائی کا ثبوت اپنی قسموں سے پیش کر کے انہیں اپنا مداح بنا لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں، چونکہ انہوں نے جھوٹی قسموں سے اللہ تعالیٰ کے پر از صد ہزار تکریم نام کی بےعزتی کی تھی «مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا» [4-النساء:143] ‏‏‏‏ اس لیے انہیں ذلت و اہانت والے عذاب ہوں گے، جن عذابوں کو نہ ان کے مال دفع کر سکیں، نہ اس وقت ان کی اولاد انہیں کچھ کام دے سکے گی یہ تو جہنمی بن چکے اور وہاں سے ان کا نکلنا بھی کبھی نہ ہو گا۔ قیامت والے دن جب ان کا حشر ہو گا اور ایک بھی اس میدان میں آئے بغیر نہ رہے گا، سب جمع ہو جائیں گے تو چونکہ زندگی میں ان کی عادت تھی کہ اپنی جھوٹ بات کو قسموں سے سچ بات کر دکھاتے تھے، آج اللہ کے سامنے بھی اپنی ہدایت و استقامت پر بڑی بڑی قسمیں کھا لیں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ یہاں بھی یہ چالاکی چل جائے گی مگر ان جھوٹوں کی بھلا اللہ کے سامنے چال بازی کہاں چل سکتی ہے؟ وہ تو ان کا جھوٹا ہونا یہاں بھی مسلمانوں سے بیان فرما چکا۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آس پاس بیٹھے تھے سایہ دار جگہ کم تھی بمشکل لوگ اس میں پناہ لیے بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطانی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا“، تھوڑی دیر میں ایک کیری آنکھوں والا شخص آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا: ”کیوں بھئی تو اور فلاں اور فلاں مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو؟“ یہ یہاں سے چلا گیا اور جن جن کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا تھا انہیں لے کر آیا اور پھر تو قسموں کا تانتا باندھ دیا کہ ہم میں سے کسی نے آپ کی کوئی بے ادبی نہیں کی۔ اس پر یہ آیت اتری کہ یہ جھوٹے ہیں۔ [مسند احمد:267/1:حسن] ‏‏‏‏ یہی حال مشرکوں کا بھی دربار الٰہی میں ہو گا «‏‏‏‏ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ انظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ» [6-الانعام:23،24] ‏‏‏‏ قسمیں کھا جائیں گے کہ ہمیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔ پھر فرماتا ہے ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور ان کے دل کو اپنی مٹھی میں کر لیا ہے، یاد اللہ، ذکر اللہ سے انہیں دور ڈال دیا ہے۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس کسی بستی یا جنگل میں تین شخص بھی ہوں اور ان میں نماز نہ قائم کی جاتی ہو تو شیطان ان پر چھا جاتا ہے پس تو جماعت کو لازم پکڑے رہ، بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو۔‏‏‏‏“ سائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں مراد جماعت سے نماز کی جماعت ہے۔ [سنن ابوداود:547،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے ذکر کو فراموش کرنے والے اور شیطان کے قبضے میں پھنس جانے والے شیطانی جماعت کے افراد ہیں، شیطان کا یہ لشکر یقیناً نامراد اور زیاں کار ہے۔
18۔ 1 یعنی ان کی بدبختی اور سنگ دلی کی انتہا ہے کہ قیامت والے دن، جہاں کوئی چیز پوشیدہ نہیں رہے گی، وہاں بھی اللہ کے سامنے جھوٹی قسمیں کھانے کی شوخ چشمانہ جسارت کریں گے 18۔ 2 یعنی جس طرح دنیا میں وہ وقتی طور پر جھوٹی قسمیں کھا کر کچھ فائدے اٹھا لیتے تھے وہاں بھی سمجھیں گے کہ یہ جھوٹی قسمیں ان کے لیے مفید رہیں گی۔
(آیت 18) {يَوْمَ يَبْعَثُهُمُ اللّٰهُ جَمِيْعًا فَيَحْلِفُوْنَ لَهٗ …:} یعنی منافقین کی جھوٹ بولنے اور اس پر قسم کھانے کی عادت اتنی پکی ہے کہ موت اور حشر و نشر کے بعد بھی نہیں جائے گی اور وہ اللہ تعالیٰ کے سامنے اسی طرح جھوٹی قسمیں کھا جائیں گے جس طرح دنیا میں مسلمانوں کے سامنے کھاتے ہیں اور سمجھیں گے کہ قسم کی صورت میں ان کے پاس کچھ نہ کچھ بنیاد موجود ہے، جس پر وہ قائم ہیں۔ فرمایا سن لو، وہی اصل اور کامل جھوٹے ہیں کہ علام الغیوب کے سامنے بھی جھوٹ بولنے سے باز نہیں آتے۔ دیکھیے سورہ انعام (۲۲ تا ۲۴)۔
اِسۡتَحۡوَذَ عَلَیۡہِمُ الشَّیۡطٰنُ فَاَنۡسٰہُمۡ ذِکۡرَ اللّٰہِ ؕ اُولٰٓئِکَ حِزۡبُ الشَّیۡطٰنِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ الشَّیۡطٰنِ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۹﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
شیطان اُن پر مسلط ہو چکا ہے اور ا ُس نے خدا کی یاد اُن کے دل سے بھلا دی ہے وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں خبردار ہو، شیطان کی پارٹی والے ہی خسارے میں رہنے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
ان پر شیطان نے غلبہ حاصل کرلیا ہے، اور انہیں اللہ کا ذکر بھلا دیا ہے یہ شیطانی لشکر ہے۔ کوئی شک نہیں کہ شیطانی لشکر ہی خسارے واﻻ ہے
احمد رضا خان بریلوی
ان پر شیطان غالب آگیا تو انہیں اللہ کی یاد بھلا دی، وہ شیطان کے گروہ ہیں، سنتا ہے بیشک شیطان ہی کا گروہ ہار میں ہے
علامہ محمد حسین نجفی
شیطان نے ان پر غلبہ پا لیا ہے اور اس نے انہیں خدا کی یاد بُھلا دی ہے یہ لوگ شیطان کا گروہ ہیں آگاہ ہو کہ شیطانی گروہ ہی گھاٹا اٹھانے والا ہے۔
عبدالسلام بن محمد
شیطان ان پر غالب آگیا، سو اس نے انھیں اللہ کی یاد بھلا دی، یہ لوگ شیطان کا گروہ ہیں۔ سن لو! یقینا شیطان کا گروہ ہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
دوغلے لوگوں کا کردار ٭٭

منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں، حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں، نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بے دھڑک قسمیں کھا لیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے، اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا، یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، ایمان ظاہر کرتے ہیں، کفر دل میں رکھتے ہیں اور قسموں سے اپنی باطنی بدی کو چھپاتے ہیں اور ناواقف لوگوں پر اپنی سچائی کا ثبوت اپنی قسموں سے پیش کر کے انہیں اپنا مداح بنا لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں، چونکہ انہوں نے جھوٹی قسموں سے اللہ تعالیٰ کے پر از صد ہزار تکریم نام کی بےعزتی کی تھی «مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا» [4-النساء:143] ‏‏‏‏ اس لیے انہیں ذلت و اہانت والے عذاب ہوں گے، جن عذابوں کو نہ ان کے مال دفع کر سکیں، نہ اس وقت ان کی اولاد انہیں کچھ کام دے سکے گی یہ تو جہنمی بن چکے اور وہاں سے ان کا نکلنا بھی کبھی نہ ہو گا۔ قیامت والے دن جب ان کا حشر ہو گا اور ایک بھی اس میدان میں آئے بغیر نہ رہے گا، سب جمع ہو جائیں گے تو چونکہ زندگی میں ان کی عادت تھی کہ اپنی جھوٹ بات کو قسموں سے سچ بات کر دکھاتے تھے، آج اللہ کے سامنے بھی اپنی ہدایت و استقامت پر بڑی بڑی قسمیں کھا لیں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ یہاں بھی یہ چالاکی چل جائے گی مگر ان جھوٹوں کی بھلا اللہ کے سامنے چال بازی کہاں چل سکتی ہے؟ وہ تو ان کا جھوٹا ہونا یہاں بھی مسلمانوں سے بیان فرما چکا۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آس پاس بیٹھے تھے سایہ دار جگہ کم تھی بمشکل لوگ اس میں پناہ لیے بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطانی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا“، تھوڑی دیر میں ایک کیری آنکھوں والا شخص آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا: ”کیوں بھئی تو اور فلاں اور فلاں مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو؟“ یہ یہاں سے چلا گیا اور جن جن کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا تھا انہیں لے کر آیا اور پھر تو قسموں کا تانتا باندھ دیا کہ ہم میں سے کسی نے آپ کی کوئی بے ادبی نہیں کی۔ اس پر یہ آیت اتری کہ یہ جھوٹے ہیں۔ [مسند احمد:267/1:حسن] ‏‏‏‏ یہی حال مشرکوں کا بھی دربار الٰہی میں ہو گا «‏‏‏‏ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ انظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ» [6-الانعام:23،24] ‏‏‏‏ قسمیں کھا جائیں گے کہ ہمیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔ پھر فرماتا ہے ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور ان کے دل کو اپنی مٹھی میں کر لیا ہے، یاد اللہ، ذکر اللہ سے انہیں دور ڈال دیا ہے۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس کسی بستی یا جنگل میں تین شخص بھی ہوں اور ان میں نماز نہ قائم کی جاتی ہو تو شیطان ان پر چھا جاتا ہے پس تو جماعت کو لازم پکڑے رہ، بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو۔‏‏‏‏“ سائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں مراد جماعت سے نماز کی جماعت ہے۔ [سنن ابوداود:547،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے ذکر کو فراموش کرنے والے اور شیطان کے قبضے میں پھنس جانے والے شیطانی جماعت کے افراد ہیں، شیطان کا یہ لشکر یقیناً نامراد اور زیاں کار ہے۔
19۔ 1 استحوذ کے معنی ہیں گھیر لیا احاطہ کرلیا جمع کرلیا اسی کا ترجمہ غلبہ حاصل کرلیا کیا جاتا ہے کہ غلبے میں یہ سارے مفہوم آجاتے ہیں۔ 19۔ 2 یعنی اس نے جن چیزوں کے کرنے کا حکم دیا ہے، ان سے شیطان نے ان کو غافل کردیا ہے اور جن چیزوں سے اس نے منع کیا ہے، ان کا وہ ارتکاب کرواتا ہے، انہیں خوبصورت دکھلا کر یا مغالطوں میں ڈال کر یا تمناؤں اور آرزاؤں میں مبتلا کر کے۔ 19۔ 3 یعنی مکمل خسارا انہی کے حصے میں آئے گا۔ گویا دوسرے ان کی نسبت خسارے میں نہیں ہیں۔ اس لئے کہ انہوں نے جنت کا سودا گمراہی لے کر کرلیا، اللہ پر جھوٹ بولا اور دنیا و آخرت میں جھوٹی قسمیں کھاتے رہے۔
(آیت 19) ➊ {اِسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ …:} یعنی منافقین کے ان اعمال کی وجہ سے ان پر شیطان غالب آگیا اور اس طرح مسلط ہو گیا ہے کہ اس نے انھیں اللہ کی یاد تک بھلا دی ہے۔ یہ لوگ شیطانی گروہ ہیں اور شیطان کا گروہ ہی کامل خسارے والے لوگ ہیں۔ ➋ اس سے معلوم ہوا کہ بعض اعمال کے نتیجے میں شیطان کا آدمی پر غلبہ ہو جاتا ہے، ان اعمال میں سے ایک نماز باجماعت کا ترک ہے۔ ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا مِنْ ثَلاَثَةٍ فِيْ قَرْيَةٍ وَلاَ بَدْوٍ لاَ تُقَامُ فِيْهِمُ الصَّلاَةُ إِلاَّ قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ ] [ أبو داوٗد، الصلاۃ، باب التشدید في ترک الجماعۃ: ۵۴۷ ] ”کوئی بھی بستی یا بادیہ نہیں جس میں تین آدمی (ہی) ہوں اور ان میں نماز باجماعت نہ ہوتی ہو مگر اس پر شیطان غالب آچکا ہے، اس لیے تم جماعت کو لازم پکڑو، کیونکہ بھیڑیا صرف اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے دور جانے والی ہو۔“ قرآن مجید میں بھی اس کی طرف اشارہ موجود ہے، فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى» ‏‏‏‏ [ النساء: ۱۴۲ ] ”اور جب وہ (منافق)نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں توسست ہو کر کھڑے ہوتے ہیں۔“
اِنَّ الَّذِیۡنَ یُحَآدُّوۡنَ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗۤ اُولٰٓئِکَ فِی الۡاَذَلِّیۡنَ ﴿۲۰﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
یقیناً ذلیل ترین مخلوقات میں سے ہیں وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول کا مقابلہ کرتے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بیشک اللہ تعالیٰ کی اور اس کے رسول کی جو لوگ مخالفت کرتے ہیں وہی لوگ سب سے زیاده ذلیلوں میں ہیں
احمد رضا خان بریلوی
بیشک وہ جو اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ سب سے زیادہ ذلیلوں میں ہیں،
علامہ محمد حسین نجفی
جو لوگ اللہ اور اس کے رسول(ص) کی مخالفت کرتے ہیں وہ ذلیل ترین لوگوں میں سے ہیں۔
عبدالسلام بن محمد
بے شک وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسو ل کی مخالفت کرتے ہیں وہی سب سے زیادہ ذلیل ہونے والوں میں سے ہیں ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جو حق سے پھرا وہ ذلیل و خوار ہوا ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ حق سے برگشتہ ہیں، ہدایت سے دور ہیں، اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں، احکام شرع کی اطاعت سے الگ ہیں، یہ لوگ انتہا درجے کے ذلیل، بےوقار اور خستہ حال ہیں۔ رحمت رب سے دور، اللہ کی مہربانی بھری نظروں سے اوجھل اور دنیا و آخرت میں برباد ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو فیصلہ کر چکا ہے بلکہ اپنی پہلی کتاب میں ہی لکھ چکا ہے اور مقدر کر چکا ہے جو تقدیر اور جو تحریر نہ مٹے، نہ بدلے، نہ اسے ہیر پھیر کرنے کی کسی میں طاقت کہ وہ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول اور اس کے مومن بندے دنیا اور آخرت میں غالب رہیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [40-غافر:52-51] ‏‏‏‏ ’ ہم اپنے رسولوں کی اور ایماندار بندوں کی ضرور ضرور مدد کریں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی جس دن گواہ قائم ہو جائیں گے اور جس دن گنہگاروں کو کوئی عذر و معذرت فائدہ نہ پہنچائے گی ان پر لعنت برستی ہو گی اور ان کے لیے برا گھر ہو گا ‘۔ یہ لکھنے والا اللہ قوی ہے اور اس کا لکھا ہوا اٹل ہے وہ غالب و قہار ہے۔ اپنے دشمنوں پر ہر وقت قابو رکھنے والا ہے اس کا یہ اٹل فیصلہ اور طے شدہ امر ہے کہ دونوں جہان میں انجام کے اعتبار سے غلبہ و نصرت مومنوں کا حصہ ہے۔
20۔ 1 محادۃ، ایسی شدید مخالفت عناد اور جھگڑے کو کہتے ہیں کہ فریقین کا باہم ملنا نہایت مشکل ہو گویا دونوں دو کناروں پر ہیں جو ایک دوسرے کے مخالف ہیں اسی سے یہ ممانعت کے مفہوم میں بھی استعمال ہوتا ہے اور اسی لیے دربان اور پہرے دار کو بھی حداد کہا جاتا ہے۔ فتح القدیر۔ 20۔ 2 یعنی جس طرح گزشتہ امتوں میں سے اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے مخالفوں کو ذلیل اور تباہ کیا گیا ان کا شمار بھی انہیں اہل ذلت میں ہوگا اور ان کے حصے میں بھی دنیا وآخرت کی ذلت و رسوائی کے سوا کچھ نہیں آئے گا۔
(آیت 20){ اِنَّ الَّذِيْنَ يُحَآدُّوْنَ اللّٰهَ وَ رَسُوْلَهٗۤ …:} یہ حزب الشیطان کے اس خسارے کا بیان ہے جو پچھلی آیت میں مذکور ہے اور وہ یہ ہے کہ جو لوگ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرتے ہیں وہ دنیا اور آخرت میں سب سے زیادہ ذلیل ہونے والوں میں سے ہیں۔ مزید دیکھیے اسی سورت کی آیت (6،5) اور سورۂ توبہ کی آیت (۲۳) کی تفسیر۔
کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیۡزٌ ﴿۲۱﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہو کر رہیں گے فی الواقع اللہ زبردست اور زور آور ہے
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ لکھ چکا ہے کہ بیشک میں اور میرے پیغمبر غالب رہیں گے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ زور آور اور غالب ہے
احمد رضا خان بریلوی
اللہ لکھ چکا کہ ضرور میں غالب آؤں گا اور میرے رسول بیشک اللہ قوت والا عزت والا ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول(ص) ہی غالب آکر رہیں گے بےشک اللہ طاقتور (اور) زبردست ہے۔
عبدالسلام بن محمد
اللہ نے لکھ دیا ہے کہ ضرور بالضرور میں غالب رہوں گا اور میرے رسول، یقینا اللہ بڑی قوت والا، سب پر غالب ہے ۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
جو حق سے پھرا وہ ذلیل و خوار ہوا ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ حق سے برگشتہ ہیں، ہدایت سے دور ہیں، اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں، احکام شرع کی اطاعت سے الگ ہیں، یہ لوگ انتہا درجے کے ذلیل، بےوقار اور خستہ حال ہیں۔ رحمت رب سے دور، اللہ کی مہربانی بھری نظروں سے اوجھل اور دنیا و آخرت میں برباد ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو فیصلہ کر چکا ہے بلکہ اپنی پہلی کتاب میں ہی لکھ چکا ہے اور مقدر کر چکا ہے جو تقدیر اور جو تحریر نہ مٹے، نہ بدلے، نہ اسے ہیر پھیر کرنے کی کسی میں طاقت کہ وہ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول اور اس کے مومن بندے دنیا اور آخرت میں غالب رہیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [40-غافر:52-51] ‏‏‏‏ ’ ہم اپنے رسولوں کی اور ایماندار بندوں کی ضرور ضرور مدد کریں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی جس دن گواہ قائم ہو جائیں گے اور جس دن گنہگاروں کو کوئی عذر و معذرت فائدہ نہ پہنچائے گی ان پر لعنت برستی ہو گی اور ان کے لیے برا گھر ہو گا ‘۔ یہ لکھنے والا اللہ قوی ہے اور اس کا لکھا ہوا اٹل ہے وہ غالب و قہار ہے۔ اپنے دشمنوں پر ہر وقت قابو رکھنے والا ہے اس کا یہ اٹل فیصلہ اور طے شدہ امر ہے کہ دونوں جہان میں انجام کے اعتبار سے غلبہ و نصرت مومنوں کا حصہ ہے۔
21۔ 1 یعنی تقدیر اور لوح محفوظ میں جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی یہ مضمون سورة مومن میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ 21۔ 2 جب یہ بات لکھنے والا، سب پر غالب اور نہایت زورآور ہے تو پھر اور کون ہے جو اس فیصلے میں تبدیلی کرسکے۔؟ مطلب یہ ہوا کہ یہ فیصلہ قدر محکم اور امر مبرم ہے۔
(آیت 21) ➊ { كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِيْ:} کفار کے {” الْاَذَلِّيْنَ “} ہونے کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اہلِ ایمان کی عزت اور ان کے غلبے کا بیان فرمایا۔ تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ صافات (۱۷۱ تا ۱۷۳) کی تفسیر۔ ➋ { اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ:} یہ اللہ اور اس کے رسولوں کے غالب آنے کی علت ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت قوت والا اور سب پر غالب ہے، پھر اس پر غالب کون آ سکتا ہے؟
لَا تَجِدُ قَوۡمًا یُّؤۡمِنُوۡنَ بِاللّٰہِ وَ الۡیَوۡمِ الۡاٰخِرِ یُوَآدُّوۡنَ مَنۡ حَآدَّ اللّٰہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ لَوۡ کَانُوۡۤا اٰبَآءَہُمۡ اَوۡ اَبۡنَآءَہُمۡ اَوۡ اِخۡوَانَہُمۡ اَوۡ عَشِیۡرَتَہُمۡ ؕ اُولٰٓئِکَ کَتَبَ فِیۡ قُلُوۡبِہِمُ الۡاِیۡمَانَ وَ اَیَّدَہُمۡ بِرُوۡحٍ مِّنۡہُ ؕ وَ یُدۡخِلُہُمۡ جَنّٰتٍ تَجۡرِیۡ مِنۡ تَحۡتِہَا الۡاَنۡہٰرُ خٰلِدِیۡنَ فِیۡہَا ؕ رَضِیَ اللّٰہُ عَنۡہُمۡ وَ رَضُوۡا عَنۡہُ ؕ اُولٰٓئِکَ حِزۡبُ اللّٰہِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ اللّٰہِ ہُمُ الۡمُفۡلِحُوۡنَ ﴿٪۲۲﴾
سید ابو الاعلیٰ مودودی
تم کبھی یہ نہ پاؤ گے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی ہے، خواہ وہ اُن کے باپ ہوں، یا اُن کے بیٹے، یا اُن کے بھائی یا اُن کے اہل خاندان یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثبت کر دیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کر کے ان کو قوت بخشی ہے وہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے وہ اللہ کی پارٹی کے لوگ ہیں خبردار رہو، اللہ کی پارٹی والے ہی فلاح پانے والے ہیں
مولانا محمد جوناگڑھی
اللہ تعالیٰ پر اور قیامت کے دن پر ایمان رکھنے والوں کو آپ اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کرنے والوں سے محبت رکھتے ہوئے ہرگز نہ پائیں گے گو وه ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی یا ان کے کنبہ (قبیلے) کے (عزیز) ہی کیوں نہ ہوں۔ یہی لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ تعالیٰ نے ایمان کو لکھ دیا ہے اور جن کی تائید اپنی روح سے کی ہے اور جنہیں ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہے اور یہ اللہ سے خوش ہیں یہ خدائی لشکر ہے، آگاه رہو بیشک اللہ کے گروه والے ہی کامیاب لوگ ہیں
احمد رضا خان بریلوی
تم نہ پاؤ گے ان لوگوں کو جو یقین رکھتے ہیں اللہ اور پچھلے دن پر کہ دوستی کریں ان سے جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول سے مخالفت کی اگرچہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی یا کنبے والے ہوں یہ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان نقش فرمادیا اور اپنی طرف کی روح سے ان کی مدد کی اور انہیں باغوں میں لے جائے گا جن کے نیچے نہریں بہیں ان میں ہمیشہ رہیں، اللہ ان سے راضی اور وہ اللہ سے راضی یہ اللہ کی جماعت ہے، سنتا ہے اللہ ہی کی جماعت کامیاب ہے،
علامہ محمد حسین نجفی
تم کوئی ایسی قوم نہیں پاؤگے جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتی ہو (اور پھر) وہ دوستی رکھے ان لوگوں سے جو خدا و رسول(ص) کے مخالف ہیں اگرچہ وہ (مخالف) ان کے باپ یا ان کے بیٹے یا ان کے بھائی ہی ہوں یا ان کے قبیلے والے یہ وہ لوگ ہیں کہ اللہ نے ان کے دلوں میں ایمان ثبت کر دیا ہے اور اپنی ایک خاص روح سے ان کی تائید کی ہے اور انہیں ایسے باغہائے بہشت میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں جاری ہیں جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہے اور وہ اس سے راضی ہیں یہ لوگ اللہ کا گروہ ہیں آگاہ رہو کہ اللہ کا گروہ ہی فلاح پانے والا (اور کامیاب ہونے والا) ہے۔
عبدالسلام بن محمد
تو ان لوگوں کو جو اللہ اور یوم آخرت پر ایمان رکھتے ہیں، نہیں پائے گا کہ وہ ان لوگوں سے دوستی رکھتے ہوں جنھوں نے اللہ اور اس کے رسول کی مخالفت کی، خواہ وہ ان کے باپ ہوں، یا ان کے بیٹے ، یا ان کے بھائی، یا ان کا خاندان۔ یہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اس نے ایمان لکھ دیا ہے اور انھیں اپنی طرف سے ایک روح کے ساتھ قوت بخشی ہے اور انھیں ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں گی، ان میں ہمیشہ رہنے والے ہیں، اللہ ان سے راضی ہو گیا اور وہ اس سے راضی ہو گئے۔ یہ لوگ اللہ کا گروہ ہیں، یاد رکھو! یقینا اللہ کا گروہ ہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اللہ کے دشمنوں سے عداوت ٭٭

پھر فرماتا کہ یہ ناممکن ہے کہ اللہ کے دوست اللہ کے دشمنوں سے محبت رکھیں، ایک اور جگہ ہے «لَّا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُونَ الْكَافِرِينَ أَوْلِيَاءَ مِن دُونِ الْمُؤْمِنِينَ وَمَن يَفْعَلْ ذَٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللَّـهِ فِي شَيْءٍ إِلَّا أَن تَتَّقُوا مِنْهُمْ تُقَاةً وَيُحَذِّرُكُمُ اللَّـهُ نَفْسَهُ» [3-آل عمران:28] ‏‏‏‏ مسلمانوں کو چاہیئے کہ مسلمانوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا دلی دوست نہ بنائیں ایسا کرنے والے اللہ کے ہاں کسی گنتی میں نہیں، ہاں ڈر خوف کے وقت عارضی دفع کے لیے ہو تو اور بات ہے اللہ تعالیٰ تمہیں اپنی گرامی ذات سے ڈرا رہا ہے۔ اور جگہ ہے «قُلْ إِن كَانَ آبَاؤُكُمْ وَأَبْنَاؤُكُمْ وَإِخْوَانُكُمْ وَأَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيرَتُكُمْ وَأَمْوَالٌ اقْتَرَفْتُمُوهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسَاكِنُ تَرْضَوْنَهَا أَحَبَّ إِلَيْكُم مِّنَ اللَّـهِ وَرَسُولِهِ وَجِهَادٍ فِي سَبِيلِهِ فَتَرَبَّصُوا حَتَّىٰ يَأْتِيَ اللَّـهُ بِأَمْرِهِ وَاللَّـهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفَاسِقِينَ» [9-التوبہ:24] ‏‏‏‏ اے نبی! آپ اعلان کر دیجئیے کہ اگر تمہارے باپ، دادا، بیٹے، پوتے، بچے، کنبہ، قبیلہ، مال دولت، تجارت حرفت، گھربار وغیرہ تمہیں اللہ تعالیٰ، اس کے رسول کے، اس کی راہ میں جہاد کی نسبت زیادہ عزیز اور محبوب ہیں تو تم اللہ کے عنقریب برس پڑنے والے عذاب کا انتظار کرو، اس قسم کے فاسقوں کی رہبری بھی اللہ کی طرف سے نہیں ہوتی۔ سعید بن عبدالعزیز رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہ آیت سیدنا ابوعبیدہ عامر بن عبداللہ بن جراح رضی اللہ عنہ کے بارے میں اتری ہے، جنگ بدر میں ان کے والد کفر کی حمایت میں مسلمانوں کے مقابلے پر آئے آپ نے انہیں قتل کر دیا۔

سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنے آخری وقت میں جبکہ خلافت کے لیے ایک جماعت کو مقرر کیا کہ یہ لوگ مل کر جسے چاہیں خلیفہ بنا لیں اس وقت سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کی نسبت فرمایا تھا کہ اگر یہ ہوتے تو میں انہی کو خلیفہ مقرر کرتا [مستدرک حاکم 268/3:منقطع] ‏‏‏‏ اور یہ بھی فرمایا گیا ہے کہ ایک ایک صفت الگ الگ بزرگوں میں تھی، مثلاً سیدنا ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ نے تو اپنے والد کو قتل کیا تھا اور سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے بیٹے عبدالرحمٰن کے قتل کا ارادہ کیا تھا اور سیدنا معصب بن عمیر رضی اللہ عنہ نے اپنے بھائی عبید بن عمیر کو قتل کیا تھا اور سیدنا عمر رضی اللہ عنہ اور سیدنا حمزہ رضی اللہ عنہ اور سیدنا علی رضی اللہ عنہ اور سیدنا عبیدہ بن حارث رضی اللہ عنہ نے اپنے قریبی رشتہ داروں عتبہ، شیبہ اور ولید بن عتبہ کو قتل کیا تھا۔ «وَاللهُ اَعْلَمُ»

اسی ضمن میں یہ واقعہ بھی داخل ہو سکتا ہے کہ جس وقت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بدری قیدیوں کی نسبت مسلمانوں سے مشورہ کیا تو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے تو فرمایا کہ ان سے فدیہ لے لیا جائے تاکہ مسلمانوں کی مالی مشکلات دور ہو جائیں، مشرکوں سے جہاد کرنے کے لیے آلات حرب جمع کر لیں اور یہ چھوڑ دیئے جائیں، کیا عجب کہ اللہ تعالیٰ ان کے دل اسلام کی طرف پھیر دے، آخر ہیں تو ہمارے ہی کنبے رشتے کے، لیکن سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ نے اپنی رائے اس کے بالکل برخلاف پیش کی کہ یا رسول اللہ! جس مسلمان کا جو رشتہ دار مشرک ہے اس کے حوالے کر دیا جائے اور اسے حکم دیا جائے کہ وہ اسے قتل کر دے ہم اللہ تعالیٰ کو دکھانا چاہتے ہیں کہ ہمارے دلوں میں ان مشرکوں کی کوئی محبت نہیں، مجھے فلاں رشتہ دار سونپ دیجئیے اور علی کے حوالے عقیل کر دیجئیے اور فلاں صحابی کو فلاں کافر دے دیجئیے وغیرہ۔ پھر فرماتا ہے کہ جو اپنے دل کو دشمنان اللہ کی محبت سے خالی کر دے اور مشرک رشتہ داروں سے بھی محبت چھوڑ دے وہ کامل الایمان شخص ہے جس کے دل میں ایمان نے جڑیں جما لی ہیں اور جن کی قسمت میں سعادت لکھی جا چکی ہے اور جن کی نگاہ میں ایمان کی زینت جچ گئی ہے اور ان کی تائید اللہ تعالیٰ نے اپنے پاس کی روح سے کی ہے یعنی انہیں قوی بنا دیا ہے اور یہی بہتی ہوئی نہروں والی جنت میں جائیں گے جہاں سے کبھی نہ نکالے جائیں، اللہ تعالیٰ ان سے راضی یہ اللہ سے خوش، چونکہ انہوں نے اللہ کے رشتہ کنبہ والوں کو ناراض کر دیا تھا، اللہ تعالیٰ اس کے بدلے ان سے راضی ہو گیا اور انہیں اس قدر دیا کہ یہ بھی خوش خوش ہو گئے۔ اللہ کا لشکر یہی ہے اور کامیاب گروہ بھی یہی ہے، جو شیطانی لشکر اور ناکام گروہ کے مقابل ہے۔ ابوحازم اعرج رحمہ اللہ نے زہری رحمہ اللہ کو لکھا کہ جاہ دو قسم کی ہے ایک وہ جسے اللہ تعالیٰ اپنے اولیاء کے ہاتھوں پر جاری کرتا ہے، جو حضرات عام لوگوں کی نگاہوں میں نہیں جچتے جن کی عام شہرت نہیں ہوتی جن کی صفت اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی بیان فرمائی ہے، کہ اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو دوست رکھتا ہے جو گمنام متقی نیکوکار ہیں، اگر وہ نہ آئیں تو پوچھ گچھ نہ ہو اور آ جائیں تو آؤ بھگت نہ ہو ان کے دل ہدایت کے چراغ ہیں، ہر سیاہ رنگ اندھیرے والے فتنے سے نکلتے ہیں، یہ ہیں وہ اولیاء جنہیں اللہ نے اپنا لشکر فرمایا ہے اور جن کی کامیابی کا اعلان کیا ہے۔ [ابن ابی حاتم] ‏‏‏‏

نعیم بن حماد میں ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی دعا میں فرمایا: ”اے اللہ کسی فاسق فاجر کا کوئی احسان اور سلوک مجھ پر نہ رکھ کیونکہ میں نے تیری نازل کردہ وحی میں پڑھا ہے کہ ایماندار اللہ کے مخالفین کے دوست نہیں ہوتے۔‏‏‏‏“ [سلسلۃ احادیث ضعیفہ البانی:2975،ضعیف] ‏‏‏‏ سفیان رحمہ اللہ فرماتے ہیں علمائے سلف کا خیال ہے کہ یہ آیت ان لوگوں کے بارے میں اتری ہے جو بادشاہ سے خلط ملط رکھتے ہوں۔ [ابواحمدعسکری] ‏‏‏‏ «الحمداللہ» سورۃ المجادلہ کی تفسیر ختم ہوئی۔
22۔ 1 اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وضاحت فرمائی کہ جو ایمان باللہ اور ایمان بالآخرت میں کامل ہوتے ہیں وہ اللہ اور رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے محبت اور تعلق خاطر نہیں رکھتے گویا ایمان اور اللہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں کی محبت ونصرت ایک دل میں جمع نہیں ہوسکتے یہ مضمون قرآن مجید میں اور بھی کئی مقامات پر بیان کیا گیا ہے مثلا (لَا يَتَّخِذِ الْمُؤْمِنُوْنَ الْكٰفِرِيْنَ اَوْلِيَاۗءَ مِنْ دُوْنِ الْمُؤْمِنِيْنَ ۚ وَمَنْ يَّفْعَلْ ذٰلِكَ فَلَيْسَ مِنَ اللّٰهِ فِيْ شَيْءٍ اِلَّآ اَنْ تَتَّقُوْا مِنْھُمْ تُقٰىةً ۭ وَيُحَذِّرُكُمُ اللّٰهُ نَفْسَهٗ ۭ وَاِلَى اللّٰهِ الْمَصِيْرُ 28) 3۔ آل عمران:28) (قُلْ اِنْ كَانَ اٰبَاۗؤُكُمْ وَاَبْنَاۗؤُكُمْ وَاِخْوَانُكُمْ وَاَزْوَاجُكُمْ وَعَشِيْرَتُكُمْ وَاَمْوَالُۨ اقْتَرَفْتُمُوْهَا وَتِجَارَةٌ تَخْشَوْنَ كَسَادَهَا وَمَسٰكِنُ تَرْضَوْنَهَآ اَحَبَّ اِلَيْكُمْ مِّنَ اللّٰهِ وَرَسُوْلِهٖ وَجِهَادٍ فِيْ سَبِيْلِهٖ فَتَرَبَّصُوْا حَتّٰي يَاْتِيَ اللّٰهُ بِاَمْرِهٖ ۭ وَاللّٰهُ لَا يَهْدِي الْقَوْمَ الْفٰسِقِيْنَ 24؀) 9۔ التوبہ:24)۔ وغیرہ۔ 22۔ 2 اس لیے کہ ان کا ایمان ان کو ان کی محبت سے روکتا ہے اور ایمان کی رعایت ابوت بنوت اخوت اور خاندان و برادری کی محبت و رعایت سے زیادہ اہم اور ضروری ہے چناچہ صحابہ کرام ؓ نے عملا ایسا کر کے دکھایا ایک مسلمان صحابی نے اپنے باپ اپنے بیٹے اپنے بھائی اور اپنے چچا ماموں اور دیگر رشتے داروں کو قتل کرنے سے گریز نہیں کیا اگر وہ کفر کی حمایت میں کافروں کے ساتھ لڑنے والوں میں شامل ہوتے سیر و تواریخ کی کتابوں میں یہ مثالیں درج ہیں اسی ضمن میں جنگ بدر کا واقعہ بھی قابل ذکر ہے جب اسیران بدر کے بارے میں مشورہ ہوا کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا قتل کردیا جائے تو حضرت عمر ؓ نے مشورہ دیا تھا کہ ان کافر قیدیوں میں سے ہر قیدی کو اس کے رشتے دار کے سپرد کردیا جائے جسے وہ خود اپنے ہاتھوں سے قتل کرے اور اللہ تعالیٰ کو حضرت عمر ؓ کا یہی مشورہ پسند آیا تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھئے (مَا كَانَ لِنَبِيٍّ اَنْ يَّكُوْنَ لَهٗٓ اَسْرٰي حَتّٰي يُثْخِنَ فِي الْاَرْضِ ۭتُرِيْدُوْنَ عَرَضَ الدُّنْيَا ڰ وَاللّٰهُ يُرِيْدُ الْاٰخِرَةَ ۭوَاللّٰهُ عَزِيْزٌ حَكِيْمٌ 67؀) 8۔ الانفال:67) کا حاشیہ۔ 22۔ 3 یعنی راسخ اور مضبوط کردیا ہے۔ 22۔ 4 روح سے مراد اپنی نصرت خاص، یا نور ایمان ہے جو انہیں ان کی مذکورہ خوبی کی وجہ سے حاصل ہوا۔ 22۔ 5 یعنی جب یہ اولین مسلمان صحابہ کرام ؓ ایمان کی بنیاد پر اپنے عزیز واقارب سے ناراض ہوگئے حتی کہ انہیں اپنے ہاتھوں سے قتل تک کرنے میں تامل نہیں کیا تو اس کے بدلے میں اللہ نے ان کو اپنی رضامندی سے نواز دیا اور ان پر اس طرح اپنے انعامات کی بارش فرمائی کہ وہ بھی اللہ سے راضی ہوگئے اس لیے آیت میں بیان کردہ اعزاز رضی اللہ عنھم ورضوا عنہ۔ اگرچہ خاص صحابہ کرام ؓ کے بارے میں نازل نہیں ہوا ہے تاہم وہ اس کا مصداق اولین اور مصداق اتم ہیں اسی لیے اس کے لغوی مفہوم کو سامنے رکھتے ہوئے مذکورہ صفات سے متصف ہر مسلمان ؓ کا مستحق بن سکتا ہے جیسے لغوی معنی کے لحاظ سے ہر مسلمان شخص پر (علیہ الصلوۃ والسلام) کا دعائیہ جملے کے طور پر اطلاق کیا جاسکتا ہے لیکن اہل سنت نے ان کے مفہوم لغوی سے ہٹ کر ان کو صحابہ کرام ؓ اور انبیاء (علیہم السلام) کے علاوہ کسی اور کے لیے بولنا لکھنا جائز قرار نہیں دیا ہے۔ یہ گویا شعار ہیں ؓ صحابہ کے لیے اور علیہم الصلواۃ والسلام انبیائے کرام کے لیے یہ ایسے ہی ہے جیسے ؒ اللہ کی رحمت اس پر ہو یا اللہ اس پر رحم فرما‏ئے کا اطلاق لغوی مفہوم کی رو سے زندہ اور مردہ دونوں پر ہوسکتا ہے کیونکہ یہ ایک دعائیہ کلمہ ہے جس کے ضرورت مند زندہ اور مردہ دونوں ہی ہیں لیکن ان کا استعمال مردوں کے لیے خاص ہوچکا ہے اس لیے اسے زندہ کے لیے استعمال نہیں کیا جاتا۔ 22۔ 6 یعنی یہی گروہ مومنین فلاح سے ہمکنار ہوگا دوسرے ان کی بہ نسبت ایسے ہی ہوں گے جیسے وہ فلاح سے بالکل محروم ہیں جیسا کہ واقعی وہ آخرت میں محروم ہوں گے۔
(آیت 22) ➊ { لَا تَجِدُ قَوْمًا يُّؤْمِنُوْنَ بِاللّٰهِ وَ الْيَوْمِ الْاٰخِرِ يُوَآدُّوْنَ …:} یعنی اللہ اور یوم آخرت پر ایمان اور اللہ اور اس کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے دشمنوں سے دوستی دو ایسی چیزیں ہیں جو ایک ساتھ جمع نہیں ہو سکتیں، خواہ وہ آدمی کے کتنے قریبی رشتہ دار ہوں، اس لیے منافقین جو ایمان کے دعوے کے باوجود کفار سے دوستی رکھتے ہیں ان کا ایمان کا دعویٰ غلط ہے۔ مزید دیکھیے سورۂ آلِ عمران (۲۸) اور سورۂ توبہ (24،23)۔ ➋ { اُولٰٓىِٕكَ كَتَبَ فِيْ قُلُوْبِهِمُ الْاِيْمَانَ:} یعنی یہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسول سے دشمنی رکھنے والوں سے دوستی نہیں رکھتے، خواہ وہ کتنے قریبی رشتہ دار ہوں، اللہ تعالیٰ نے ان کے دلوں میں ایمان نقش کر دیا ہے۔ اس کا مصداق صحابہ کرام رضی اللہ عنھم ہیں، کیونکہ انھوں نے ان تمام لوگوں سے دوستی اور دلی تعلق کا رشتہ کاٹ پھینکا تھا جو اللہ اور اس کے رسو ل سے مخالفت اور دشمنی رکھتے تھے، خواہ وہ ان کے باپ تھے یا بیٹے یا بھائی یا خاندان کے لوگ۔ تاریخ اور سیرت کی کتابوں میں ایسی بہت سی مثالیں موجود ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنھم نے کفر کی حمایت میں مسلمانوں سے لڑنے والے قریب ترین رشتہ داروں کو بھی قتل یا قید کرنے سے دریغ نہیں کیا، خواہ وہ ان کے باپ یا بیٹے یا بھائی تھے یا کوئی اور رشتہ دار۔ جنگِ بدر میں جب قیدیوں کے متعلق مشورہ ہوا کہ ان کو فدیہ لے کر چھوڑ دیا جائے یا قتل کر دیا جائے تو عمر رضی اللہ عنہ نے مشورہ دیا تھا کہ ان کافر قیدیوں میں سے ہر ایک کو اس کے رشتہ دار کے سپرد کیا جائے، جسے وہ خود اپنے ہاتھوں سے قتل کرے اور اللہ تعالیٰ کو عمر رضی اللہ عنہ ہی کا مشورہ پسند آیا تھا۔ تفصیل کے لیے دیکھیے سورۂ انفال (۶۷) کی تفسیر۔ پھر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے چچا عباس اور عقیل بن ابی طالب(رضی اللہ عنھما) اسیر ہوئے تو دوسرے قیدیوں کی طرح فدیہ دے کر رہا ہوئے۔ اسی طرح آپ کے داماد ابو العاص اس شرط پر رہا ہوئے کہ آپ کی بیٹی زینب رضی اللہ عنھا کو واپس بھجوا دیں گے۔ ➌ { وَ اَيَّدَهُمْ بِرُوْحٍ مِّنْهُ:} یعنی انھیں اپنی طرف سے ایک عظیم روحانی قوت عطا فرما کر ان کی مدد فرمائی۔ ➍ { وَ يُدْخِلُهُمْ جَنّٰتٍ تَجْرِيْ مِنْ تَحْتِهَا الْاَنْهٰرُ …:} یہ ہے جنتوں میں داخلے، اس میں ابدی قیام اور اللہ تعالیٰ کی رضا کا وہ تصدیق نامہ جو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کو اللہ تعالیٰ کی جانب سے حاصل ہوا۔ پھر ان لوگوں کی بدنصیبی کا کیا عالم ہو سکتا ہے جو ان سے دشمنی رکھتے اور ان کے بارے میں بدزبانی کرتے ہیں۔ ➎ {اُولٰٓىِٕكَ حِزْبُ اللّٰهِ …: ” حِزْبُ اللّٰهِ “} خبر معرفہ ہونے سے حصر کا مفہوم پیدا ہو رہا ہے، یعنی اللہ کی جماعت اور گروہ صرف یہ لوگ ہیں جنھوں نے اللہ کو اپنا بنا لیا اور اپنے ان عزیزوں سے بیگانہ ہو گئے جو اس سے اور اس کے رسول سے دشمنی رکھتے تھے۔ یاد رکھو! صرف اللہ کا گروہ ہی وہ لوگ ہیں جو کامیاب ہونے والے ہیں۔