بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المجادلة — Surah Mujadilah
آیت نمبر 19
کل آیات: 22
قرآن کریم المجادلة آیت 19
آیت نمبر: 19 — سورۃ المجادلة islamicurdubooks.com ↗
اِسۡتَحۡوَذَ عَلَیۡہِمُ الشَّیۡطٰنُ فَاَنۡسٰہُمۡ ذِکۡرَ اللّٰہِ ؕ اُولٰٓئِکَ حِزۡبُ الشَّیۡطٰنِ ؕ اَلَاۤ اِنَّ حِزۡبَ الشَّیۡطٰنِ ہُمُ الۡخٰسِرُوۡنَ ﴿۱۹﴾
شیطان اُن پر مسلط ہو چکا ہے اور ا ُس نے خدا کی یاد اُن کے دل سے بھلا دی ہے وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں خبردار ہو، شیطان کی پارٹی والے ہی خسارے میں رہنے والے ہیں
ان پر شیطان نے غلبہ حاصل کرلیا ہے، اور انہیں اللہ کا ذکر بھلا دیا ہے یہ شیطانی لشکر ہے۔ کوئی شک نہیں کہ شیطانی لشکر ہی خسارے واﻻ ہے
ان پر شیطان غالب آگیا تو انہیں اللہ کی یاد بھلا دی، وہ شیطان کے گروہ ہیں، سنتا ہے بیشک شیطان ہی کا گروہ ہار میں ہے
شیطان نے ان پر غلبہ پا لیا ہے اور اس نے انہیں خدا کی یاد بُھلا دی ہے یہ لوگ شیطان کا گروہ ہیں آگاہ ہو کہ شیطانی گروہ ہی گھاٹا اٹھانے والا ہے۔
شیطان ان پر غالب آگیا، سو اس نے انھیں اللہ کی یاد بھلا دی، یہ لوگ شیطان کا گروہ ہیں۔ سن لو! یقینا شیطان کا گروہ ہی وہ لوگ ہیں جو خسارہ اٹھانے والے ہیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

دوغلے لوگوں کا کردار ٭٭

منافقوں کا ذکر ہو رہا ہے کہ یہ اپنے دل میں یہود کی محبت رکھتے ہیں گو وہ اصل میں ان کے بھی حقیقی ساتھی نہیں ہیں، حقیقت میں نہ ادھر کے ہیں، نہ ادھر کے ہیں صاف جھوٹی قسمیں کھا جاتے ہیں، ایمانداروں کے پاس آ کر ان کی سے کہنے لگتے ہیں، رسول صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آ کر قسمیں کھا کر اپنی ایمانداری کا یقین دلاتے ہیں اور دل میں اس کے خلاف جذبات پاتے ہیں اور اپنی اس غلط گوئی کا علم رکھتے ہوئے بے دھڑک قسمیں کھا لیتے ہیں، ان کی ان بداعمالیوں کی وجہ سے انہیں سخت تر عذاب ہوں گے، اس دھوکہ بازی کا برابر بدلہ انہیں دیا جائے گا، یہ تو اپنی قسموں کو اپنی ڈھالیں بنائے ہوئے ہیں اور اللہ کی راہ سے رک گئے ہیں، ایمان ظاہر کرتے ہیں، کفر دل میں رکھتے ہیں اور قسموں سے اپنی باطنی بدی کو چھپاتے ہیں اور ناواقف لوگوں پر اپنی سچائی کا ثبوت اپنی قسموں سے پیش کر کے انہیں اپنا مداح بنا لیتے ہیں اور پھر رفتہ رفتہ انہیں بھی اپنے رنگ میں رنگ لیتے ہیں اور اللہ کی راہ سے روک دیتے ہیں، چونکہ انہوں نے جھوٹی قسموں سے اللہ تعالیٰ کے پر از صد ہزار تکریم نام کی بےعزتی کی تھی «مُّذَبْذَبِينَ بَيْنَ ذَٰلِكَ لَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَلَا إِلَىٰ هَـٰؤُلَاءِ وَمَن يُضْلِلِ اللَّـهُ فَلَن تَجِدَ لَهُ سَبِيلًا» [4-النساء:143] ‏‏‏‏ اس لیے انہیں ذلت و اہانت والے عذاب ہوں گے، جن عذابوں کو نہ ان کے مال دفع کر سکیں، نہ اس وقت ان کی اولاد انہیں کچھ کام دے سکے گی یہ تو جہنمی بن چکے اور وہاں سے ان کا نکلنا بھی کبھی نہ ہو گا۔ قیامت والے دن جب ان کا حشر ہو گا اور ایک بھی اس میدان میں آئے بغیر نہ رہے گا، سب جمع ہو جائیں گے تو چونکہ زندگی میں ان کی عادت تھی کہ اپنی جھوٹ بات کو قسموں سے سچ بات کر دکھاتے تھے، آج اللہ کے سامنے بھی اپنی ہدایت و استقامت پر بڑی بڑی قسمیں کھا لیں گے اور سمجھتے ہوں گے کہ یہاں بھی یہ چالاکی چل جائے گی مگر ان جھوٹوں کی بھلا اللہ کے سامنے چال بازی کہاں چل سکتی ہے؟ وہ تو ان کا جھوٹا ہونا یہاں بھی مسلمانوں سے بیان فرما چکا۔

ابن ابی حاتم میں ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم اپنے حجرے کے سائے میں تشریف فرما تھے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم بھی آس پاس بیٹھے تھے سایہ دار جگہ کم تھی بمشکل لوگ اس میں پناہ لیے بیٹھے تھے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ”دیکھو ابھی ایک شخص آئے گا جو شیطانی نگاہ سے دیکھتا ہے وہ آئے تو اس سے بات نہ کرنا“، تھوڑی دیر میں ایک کیری آنکھوں والا شخص آیا، نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اسے اپنے پاس بلا کر فرمایا: ”کیوں بھئی تو اور فلاں اور فلاں مجھے کیوں گالیاں دیتے ہو؟“ یہ یہاں سے چلا گیا اور جن جن کا نام نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے لیا تھا انہیں لے کر آیا اور پھر تو قسموں کا تانتا باندھ دیا کہ ہم میں سے کسی نے آپ کی کوئی بے ادبی نہیں کی۔ اس پر یہ آیت اتری کہ یہ جھوٹے ہیں۔ [مسند احمد:267/1:حسن] ‏‏‏‏ یہی حال مشرکوں کا بھی دربار الٰہی میں ہو گا «‏‏‏‏ثُمَّ لَمْ تَكُن فِتْنَتُهُمْ إِلَّا أَن قَالُوا وَاللَّـهِ رَبِّنَا مَا كُنَّا مُشْرِكِينَ انظُرْ كَيْفَ كَذَبُوا عَلَىٰ أَنفُسِهِمْ وَضَلَّ عَنْهُم مَّا كَانُوا يَفْتَرُونَ» [6-الانعام:23،24] ‏‏‏‏ قسمیں کھا جائیں گے کہ ہمیں اللہ کی قسم جو ہمارا رب ہے کہ ہم نے شرک نہیں کیا۔ پھر فرماتا ہے ان پر شیطان نے غلبہ پا لیا ہے اور ان کے دل کو اپنی مٹھی میں کر لیا ہے، یاد اللہ، ذکر اللہ سے انہیں دور ڈال دیا ہے۔ ابوداؤد کی حدیث میں ہے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں: ”جس کسی بستی یا جنگل میں تین شخص بھی ہوں اور ان میں نماز نہ قائم کی جاتی ہو تو شیطان ان پر چھا جاتا ہے پس تو جماعت کو لازم پکڑے رہ، بھیڑیا اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے الگ ہو۔‏‏‏‏“ سائب رحمہ اللہ فرماتے ہیں یہاں مراد جماعت سے نماز کی جماعت ہے۔ [سنن ابوداود:547،قال الشيخ الألباني:حسن] ‏‏‏‏ پھر فرماتا ہے کہ اللہ کے ذکر کو فراموش کرنے والے اور شیطان کے قبضے میں پھنس جانے والے شیطانی جماعت کے افراد ہیں، شیطان کا یہ لشکر یقیناً نامراد اور زیاں کار ہے۔

📖 احسن البیان

19۔ 1 استحوذ کے معنی ہیں گھیر لیا احاطہ کرلیا جمع کرلیا اسی کا ترجمہ غلبہ حاصل کرلیا کیا جاتا ہے کہ غلبے میں یہ سارے مفہوم آجاتے ہیں۔ 19۔ 2 یعنی اس نے جن چیزوں کے کرنے کا حکم دیا ہے، ان سے شیطان نے ان کو غافل کردیا ہے اور جن چیزوں سے اس نے منع کیا ہے، ان کا وہ ارتکاب کرواتا ہے، انہیں خوبصورت دکھلا کر یا مغالطوں میں ڈال کر یا تمناؤں اور آرزاؤں میں مبتلا کر کے۔ 19۔ 3 یعنی مکمل خسارا انہی کے حصے میں آئے گا۔ گویا دوسرے ان کی نسبت خسارے میں نہیں ہیں۔ اس لئے کہ انہوں نے جنت کا سودا گمراہی لے کر کرلیا، اللہ پر جھوٹ بولا اور دنیا و آخرت میں جھوٹی قسمیں کھاتے رہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 19) ➊ {اِسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطٰنُ فَاَنْسٰىهُمْ ذِكْرَ اللّٰهِ …:} یعنی منافقین کے ان اعمال کی وجہ سے ان پر شیطان غالب آگیا اور اس طرح مسلط ہو گیا ہے کہ اس نے انھیں اللہ کی یاد تک بھلا دی ہے۔ یہ لوگ شیطانی گروہ ہیں اور شیطان کا گروہ ہی کامل خسارے والے لوگ ہیں۔ ➋ اس سے معلوم ہوا کہ بعض اعمال کے نتیجے میں شیطان کا آدمی پر غلبہ ہو جاتا ہے، ان اعمال میں سے ایک نماز باجماعت کا ترک ہے۔ ابو درداء رضی اللہ عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: [ مَا مِنْ ثَلاَثَةٍ فِيْ قَرْيَةٍ وَلاَ بَدْوٍ لاَ تُقَامُ فِيْهِمُ الصَّلاَةُ إِلاَّ قَدِ اسْتَحْوَذَ عَلَيْهِمُ الشَّيْطَانُ فَعَلَيْكَ بِالْجَمَاعَةِ فَإِنَّمَا يَأْكُلُ الذِّئْبُ الْقَاصِيَةَ ] [ أبو داوٗد، الصلاۃ، باب التشدید في ترک الجماعۃ: ۵۴۷ ] ”کوئی بھی بستی یا بادیہ نہیں جس میں تین آدمی (ہی) ہوں اور ان میں نماز باجماعت نہ ہوتی ہو مگر اس پر شیطان غالب آچکا ہے، اس لیے تم جماعت کو لازم پکڑو، کیونکہ بھیڑیا صرف اسی بکری کو کھاتا ہے جو ریوڑ سے دور جانے والی ہو۔“ قرآن مجید میں بھی اس کی طرف اشارہ موجود ہے، فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِذَا قَامُوْۤا اِلَى الصَّلٰوةِ قَامُوْا كُسَالٰى» ‏‏‏‏ [ النساء: ۱۴۲ ] ”اور جب وہ (منافق)نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہیں توسست ہو کر کھڑے ہوتے ہیں۔“
← پچھلی آیت (18) پوری سورۃ اگلی آیت (20) →