بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المجادلة — Surah Mujadilah
آیت نمبر 21
کل آیات: 22
قرآن کریم المجادلة آیت 21
آیت نمبر: 21 — سورۃ المجادلة islamicurdubooks.com ↗
کَتَبَ اللّٰہُ لَاَغۡلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِیۡ ؕ اِنَّ اللّٰہَ قَوِیٌّ عَزِیۡزٌ ﴿۲۱﴾
اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول غالب ہو کر رہیں گے فی الواقع اللہ زبردست اور زور آور ہے
اللہ تعالیٰ لکھ چکا ہے کہ بیشک میں اور میرے پیغمبر غالب رہیں گے۔ یقیناً اللہ تعالیٰ زور آور اور غالب ہے
اللہ لکھ چکا کہ ضرور میں غالب آؤں گا اور میرے رسول بیشک اللہ قوت والا عزت والا ہے،
اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول(ص) ہی غالب آکر رہیں گے بےشک اللہ طاقتور (اور) زبردست ہے۔
اللہ نے لکھ دیا ہے کہ ضرور بالضرور میں غالب رہوں گا اور میرے رسول، یقینا اللہ بڑی قوت والا، سب پر غالب ہے ۔

📖 تفسیر ابن کثیر

جو حق سے پھرا وہ ذلیل و خوار ہوا ٭٭

اللہ تعالیٰ بیان فرماتا ہے کہ جو لوگ حق سے برگشتہ ہیں، ہدایت سے دور ہیں، اللہ اور اس کے رسول کے مخالف ہیں، احکام شرع کی اطاعت سے الگ ہیں، یہ لوگ انتہا درجے کے ذلیل، بےوقار اور خستہ حال ہیں۔ رحمت رب سے دور، اللہ کی مہربانی بھری نظروں سے اوجھل اور دنیا و آخرت میں برباد ہیں۔ اللہ تعالیٰ تو فیصلہ کر چکا ہے بلکہ اپنی پہلی کتاب میں ہی لکھ چکا ہے اور مقدر کر چکا ہے جو تقدیر اور جو تحریر نہ مٹے، نہ بدلے، نہ اسے ہیر پھیر کرنے کی کسی میں طاقت کہ وہ اور اس کی کتاب اور اس کے رسول اور اس کے مومن بندے دنیا اور آخرت میں غالب رہیں گے۔ جیسے اور جگہ ہے «إِنَّا لَنَنصُرُ رُسُلَنَا وَالَّذِينَ آمَنُوا فِي الْحَيَاةِ الدُّنْيَا وَيَوْمَ يَقُومُ الْأَشْهَادُ يَوْمَ لَا يَنفَعُ الظَّالِمِينَ مَعْذِرَتُهُمْ وَلَهُمُ اللَّعْنَةُ وَلَهُمْ سُوءُ الدَّارِ» [40-غافر:52-51] ‏‏‏‏ ’ ہم اپنے رسولوں کی اور ایماندار بندوں کی ضرور ضرور مدد کریں گے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی جس دن گواہ قائم ہو جائیں گے اور جس دن گنہگاروں کو کوئی عذر و معذرت فائدہ نہ پہنچائے گی ان پر لعنت برستی ہو گی اور ان کے لیے برا گھر ہو گا ‘۔ یہ لکھنے والا اللہ قوی ہے اور اس کا لکھا ہوا اٹل ہے وہ غالب و قہار ہے۔ اپنے دشمنوں پر ہر وقت قابو رکھنے والا ہے اس کا یہ اٹل فیصلہ اور طے شدہ امر ہے کہ دونوں جہان میں انجام کے اعتبار سے غلبہ و نصرت مومنوں کا حصہ ہے۔

📖 احسن البیان

21۔ 1 یعنی تقدیر اور لوح محفوظ میں جس میں کوئی تبدیلی نہیں ہوسکتی یہ مضمون سورة مومن میں بھی بیان کیا گیا ہے۔ 21۔ 2 جب یہ بات لکھنے والا، سب پر غالب اور نہایت زورآور ہے تو پھر اور کون ہے جو اس فیصلے میں تبدیلی کرسکے۔؟ مطلب یہ ہوا کہ یہ فیصلہ قدر محکم اور امر مبرم ہے۔

📖 القرآن الکریم

(آیت 21) ➊ { كَتَبَ اللّٰهُ لَاَغْلِبَنَّ اَنَا وَ رُسُلِيْ:} کفار کے {” الْاَذَلِّيْنَ “} ہونے کے مقابلے میں اللہ تعالیٰ کے رسولوں اور اہلِ ایمان کی عزت اور ان کے غلبے کا بیان فرمایا۔ تفسیر کے لیے دیکھیے سورۂ صافات (۱۷۱ تا ۱۷۳) کی تفسیر۔ ➋ { اِنَّ اللّٰهَ قَوِيٌّ عَزِيْزٌ:} یہ اللہ اور اس کے رسولوں کے غالب آنے کی علت ہے کہ اللہ تعالیٰ بہت قوت والا اور سب پر غالب ہے، پھر اس پر غالب کون آ سکتا ہے؟
← پچھلی آیت (20) پوری سورۃ اگلی آیت (22) →