اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ’ ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لیے کہ شفاعت وہاں نافع ہو جاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لیے شفاعت کہاں؟ وہ ہمیشہ کے لیے «ھاویہ» میں گئے ‘۔ پھر فرمایا: ’ کیا بات ہے کہ کون سی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے ‘۔ فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں «اسد» کہتے ہیں اور حبشی زبان میں «قَسْوَرَةٍ» کہتے ہیں اور نبطی زبان میں «رویا» ۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیحدہ علیحدہ کتاب اترے ‘۔ جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے «حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ» ۱؎ [6-الأنعام:124] یعنی ’ جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے ‘۔ ’ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ ‘ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ’ ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دے دیئے جائیں ‘۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟۔ پھر فرمایا ’ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ» ۱؎ [76-الإنسان:30] یعنی ’ تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے ‘۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا۔ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3328،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورۃ المدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
51۔ 1 یعنی یہ حق سے نفرت اور اعراض کرنے میں ایسے ہیں جیسے وحشی، خوف زدہ گدھے، شیر سے بھاگتے ہیں جب وہ ان کا شکار کرنا چاہیے۔
بلکہ اِن میں سے تو ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اُس کے نام کھلے خط بھیجے جائیں
مولانا محمد جوناگڑھی
بلکہ ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ اسے کھلی ہوئی کتابیں دی جائیں
احمد رضا خان بریلوی
بلکہ ان میں کا ہر شخص چاہتا ہے کہ کھلے صحیفے اس کے ہاتھ میں دے دیے جائیں
علامہ محمد حسین نجفی
بلکہ ان میں سے ہر ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے کھلی ہوئی کتابیں دے دی جائیں۔
عبدالسلام بن محمد
بلکہ ان میں سے ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے صحیفے دیے جائیں۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ’ ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لیے کہ شفاعت وہاں نافع ہو جاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لیے شفاعت کہاں؟ وہ ہمیشہ کے لیے «ھاویہ» میں گئے ‘۔ پھر فرمایا: ’ کیا بات ہے کہ کون سی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے ‘۔ فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں «اسد» کہتے ہیں اور حبشی زبان میں «قَسْوَرَةٍ» کہتے ہیں اور نبطی زبان میں «رویا» ۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیحدہ علیحدہ کتاب اترے ‘۔ جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے «حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ» ۱؎ [6-الأنعام:124] یعنی ’ جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے ‘۔ ’ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ ‘ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ’ ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دے دیئے جائیں ‘۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟۔ پھر فرمایا ’ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ» ۱؎ [76-الإنسان:30] یعنی ’ تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے ‘۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا۔ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3328،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورۃ المدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
52۔ 1 یعنی ہر ایک کے ہاتھ میں اللہ کی طرف سے ایک ایک کتاب مفتوح نازل ہو جس میں لکھا ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ بغیر عمل کے یہ عذاب سے چھٹکارہ چاہتے ہیں، یعنی ہر ایک کو پروانہ نجات مل جائے۔ (ابن کثیر)
(آیت 52) {بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ …:} یعنی قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہونا واضح ہو جانے کے باوجود ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے تازہ لکھی ہوئی تحریر دی جائے جو ابھی تہ بھی نہ کی گئی ہو اور ان کے ہر شخص کو باقاعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خط آئے کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمارے رسول ہیں، انھیں مان لو۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے خیال میں اتنے بڑے بن رہے ہیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور ان کی اطاعت کے لیے تیار ہی نہیں، بلکہ ان کی خواہش اور تقاضا یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو نبی بنا دیا جائے، اسے کتاب عطا ہو اور وہ بھی خرق عادت کے طور پر کاغذ پر لکھی ہوئی سب کے سامنے کھلی ہوئی حالت میں ان پر نازل ہو۔ لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہر شخص ہی کو نبوت و کتاب عطا ہو جائے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰيَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ» [ الأنعام: ۱۲۴ ] ”اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے، کہتے ہیں ہم ہر گز ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہمیں اس جیسی چیز نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی۔ اللہ بہتر جانتا ہے اس جگہ کو جہاں وہ اپنی رسالت رکھے۔“ اس سے ملتا جلتا مضمون سورۂ فرقان (۲۱) میں بھی بیان ہوا ہے۔
ہرگز نہیں، اصل بات یہ ہے کہ یہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے
مولانا محمد جوناگڑھی
ہرگز ایسا نہیں (ہوسکتا بلکہ) یہ قیامت سے بے خوف ہیں
احمد رضا خان بریلوی
ہرگز نہیں بلکہ ان کو آخرت کا ڈر نہیں
علامہ محمد حسین نجفی
ایسا نہیں ہے بلکہ وہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے۔
عبدالسلام بن محمد
ایسا ہرگز نہیں ہوسکتا، بلکہ وہ آخرت سے نہیں ڈرتے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ’ ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لیے کہ شفاعت وہاں نافع ہو جاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لیے شفاعت کہاں؟ وہ ہمیشہ کے لیے «ھاویہ» میں گئے ‘۔ پھر فرمایا: ’ کیا بات ہے کہ کون سی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے ‘۔ فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں «اسد» کہتے ہیں اور حبشی زبان میں «قَسْوَرَةٍ» کہتے ہیں اور نبطی زبان میں «رویا» ۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیحدہ علیحدہ کتاب اترے ‘۔ جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے «حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ» ۱؎ [6-الأنعام:124] یعنی ’ جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے ‘۔ ’ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ ‘ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ’ ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دے دیئے جائیں ‘۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟۔ پھر فرمایا ’ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ» ۱؎ [76-الإنسان:30] یعنی ’ تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے ‘۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا۔ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3328،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورۃ المدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
53۔ 1 یعنی ان کے فساد کی وجہ سے ان کا آخرت پر عدم ایمان اور اس کی تکذیب ہے جس نے انہیں بےخوف کردیا ہے۔
(آیت 53) {كَلَّا بَلْ لَّا يَخَافُوْنَ الْاٰخِرَةَ: ” كَلَّا “} یعنی ایسا تو ہر گز نہیں ہو سکتا کہ ان میں سے ہر ایک کو کتاب دی جائے اور ان کے انکار کی وجہ بھی یہ نہیں، بلکہ ان کے نصیحت سے بھاگنے کی اصل وجہ یہ ہے کہ ان کا آخرت پر ایمان نہیں اور تمام خرابیوںکی جڑ یہی ہے۔ جب تک یہ لوگ دنیا کی زندگی کو سب کچھ سمجھتے رہیں گے آپ ان کو ان کے تقاضوں کے مطابق کوئی معجزہ بھی دکھا دیں تو وہ اسے جادو قرار دے کر ماننے سے انکار کر دیں گے۔ دیکھیے سورۂ انعام (۷)۔
اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ’ ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لیے کہ شفاعت وہاں نافع ہو جاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لیے شفاعت کہاں؟ وہ ہمیشہ کے لیے «ھاویہ» میں گئے ‘۔ پھر فرمایا: ’ کیا بات ہے کہ کون سی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے ‘۔ فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں «اسد» کہتے ہیں اور حبشی زبان میں «قَسْوَرَةٍ» کہتے ہیں اور نبطی زبان میں «رویا» ۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیحدہ علیحدہ کتاب اترے ‘۔ جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے «حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ» ۱؎ [6-الأنعام:124] یعنی ’ جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے ‘۔ ’ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ ‘ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ’ ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دے دیئے جائیں ‘۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟۔ پھر فرمایا ’ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ» ۱؎ [76-الإنسان:30] یعنی ’ تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے ‘۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا۔ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3328،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورۃ المدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
54۔ 1 لیکن اس کے لئے جو اس قرآن کے واعظ اور نصیحت سے عبرت حاصل کرنا چاہے۔
(آیت 55،54) {كَلَّاۤ اِنَّهٗ تَذْكِرَةٌ …:} یعنی ان مشرکین نے جو قرآن کو جادو یا انسانی کلام قرار دیا ہے یہ بات ہر گز درست نہیں، بلکہ یہ قرآن تو اللہ کی طرف سے اپنے بندوں کے لیے ایک یاد دہانی ہے، اب جو چاہے اس سے نصیحت حاصل کرے۔
اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ’ ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لیے کہ شفاعت وہاں نافع ہو جاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لیے شفاعت کہاں؟ وہ ہمیشہ کے لیے «ھاویہ» میں گئے ‘۔ پھر فرمایا: ’ کیا بات ہے کہ کون سی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے ‘۔ فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں «اسد» کہتے ہیں اور حبشی زبان میں «قَسْوَرَةٍ» کہتے ہیں اور نبطی زبان میں «رویا» ۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیحدہ علیحدہ کتاب اترے ‘۔ جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے «حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ» ۱؎ [6-الأنعام:124] یعنی ’ جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے ‘۔ ’ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ ‘ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ’ ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دے دیئے جائیں ‘۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟۔ پھر فرمایا ’ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ» ۱؎ [76-الإنسان:30] یعنی ’ تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے ‘۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا۔ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3328،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورۃ المدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
اور یہ کوئی سبق حاصل نہ کریں گے الا یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے وہ اس کا حق دار ہے کہ اُس سے تقویٰ کیا جائے اور وہ اس کا اہل ہے کہ (تقویٰ کرنے والوں کو) بخش دے
مولانا محمد جوناگڑھی
اور وه اس وقت نصیحت حاصل کریں گے جب اللہ تعالیٰ چاہے، وه اسی ﻻئق ہے کہ اس سے ڈریں اور اس ﻻئق بھی کہ وه بخشے
احمد رضا خان بریلوی
اور وہ کیا نصیحت مانیں مگر جب اللہ چاہے، وہی ہے ڈرنے کے لائق اور اسی کی شان ہے مغفرت فرمانا،
علامہ محمد حسین نجفی
اور وہ اس سے نصیحت حاصل نہیں کریں گے مگر یہ کہ اللہ چاہے وہی اس کا حق دار ہے کہ اس سے ڈرا جائے اور وہی اس قابل ہے کہ مغفرت فرمائے۔
عبدالسلام بن محمد
اور وہ نصیحت حاصل نہیں کریں گے مگر یہ کہ اللہ چاہے، وہی لائق ہے کہ (اس سے) ڈرا جائے اور لائق ہے کہ بخش دے۔
تفسیر ابن کثیر
احسن البیان
القرآن الکریم
اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ’ ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لیے کہ شفاعت وہاں نافع ہو جاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لیے شفاعت کہاں؟ وہ ہمیشہ کے لیے «ھاویہ» میں گئے ‘۔ پھر فرمایا: ’ کیا بات ہے کہ کون سی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے ‘۔ فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں «اسد» کہتے ہیں اور حبشی زبان میں «قَسْوَرَةٍ» کہتے ہیں اور نبطی زبان میں «رویا» ۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیحدہ علیحدہ کتاب اترے ‘۔ جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے «حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ» ۱؎ [6-الأنعام:124] یعنی ’ جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے ‘۔ ’ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ ‘ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ’ ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دے دیئے جائیں ‘۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟۔ پھر فرمایا ’ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ» ۱؎ [76-الإنسان:30] یعنی ’ تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے ‘۔
مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا۔ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3328،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورۃ المدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»
56۔ 1 یعنی اس قرآن سے ہدایت اور نصیحت اسے ہی حاصل ہوگی جسے اللہ چاہے گا۔ 56۔ 2 یعنی وہ اللہ ہی اس لائق ہے اس سے ڈرا جائے اور وہی معاف کرنے کے اختیارات رکھتا ہے۔ اس لئے وہی اس بات کا مستحق ہے کہ اس کی اطاعت کی جائے اور اسکی نافرمانی سے بچا جائے تاکہ انسان اس کی مغفرت و رحمت کا سزاوار قرار پائے۔
(آیت 56){ وَ مَا يَذْكُرُوْنَ اِلَّاۤ اَنْ يَّشَآءَ اللّٰهُ …:} یعنی انسان کو اگرچہ اختیار ہے کہ وہ نیکی کی راہ اختیار کرے یا برائی کی، مگر اس کا یہ اختیار بھی اللہ تعالیٰ کے چاہنے کے تحت ہے۔ یہ نہیں کہ وہ ہدایت حاصل کرنا چاہے مگر اللہ کا ارادہ نہ ہو تو اسے ہدایت حاصل ہو ہی جائے گی، یا گمراہ ہونا چاہے مگر اللہ کی مشیت نہ ہو تو ضرور گمراہ ہو کر ہی رہے گا۔ پھر جب سب کچھ اللہ کے ہاتھ میں ہے تو وہی اس لائق ہے کہ ہر وقت اس سے ڈرا جائے اور اسی کی یہ شان ہے کہ جو اس سے ڈرے اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرے وہ اسے بخش دے۔