بِسْمِ اللَّهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ  |  In the name of Allah, the Most Gracious, the Most Merciful
سورۃ المدثر — Surah Muddaththir
آیت نمبر 52
کل آیات: 56
قرآن کریم المدثر آیت 52
آیت نمبر: 52 — سورۃ المدثر islamicurdubooks.com ↗
بَلۡ یُرِیۡدُ کُلُّ امۡرِیًٔ مِّنۡہُمۡ اَنۡ یُّؤۡتٰی صُحُفًا مُّنَشَّرَۃً ﴿ۙ۵۲﴾
بلکہ اِن میں سے تو ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اُس کے نام کھلے خط بھیجے جائیں
بلکہ ان میں سے ہر شخص چاہتا ہے کہ اسے کھلی ہوئی کتابیں دی جائیں
بلکہ ان میں کا ہر شخص چاہتا ہے کہ کھلے صحیفے اس کے ہاتھ میں دے دیے جائیں
بلکہ ان میں سے ہر ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے کھلی ہوئی کتابیں دے دی جائیں۔
بلکہ ان میں سے ہر آدمی یہ چاہتا ہے کہ اسے کھلے ہوئے صحیفے دیے جائیں۔

📖 تفسیر ابن کثیر

اب اللہ مالک الملک فرماتا ہے کہ ’ ایسے لوگوں کو کسی کی سفارش اور شفاعت نفع نہ دے گی اس لیے کہ شفاعت وہاں نافع ہو جاتی ہے جہاں محل شفاعت ہو لیکن جن کا دم ہی کفر پر نکلا ہو ان کے لیے شفاعت کہاں؟ وہ ہمیشہ کے لیے «ھاویہ» میں گئے ‘۔ پھر فرمایا: ’ کیا بات ہے کہ کون سی وجہ ہے کہ یہ کافر تیری نصیحت اور دعوت سے منہ پھیر رہے ہیں اور قرآن و حدیث سے اس طرح بھاگتے ہیں جیسے جنگلی گدھے شکاری شیر سے ‘۔ فارسی زبان میں جسے شیر کہتے ہیں اسے عربی میں «اسد» کہتے ہیں اور حبشی زبان میں «قَسْوَرَةٍ» کہتے ہیں اور نبطی زبان میں «رویا» ۔ پھر فرماتا ہے ’ یہ مشرکین تو چاہتے ہیں کہ ان میں کے ہر شخص پر علیحدہ علیحدہ کتاب اترے ‘۔ جیسے اور جگہ ان کا مقولہ ہے «حَتّٰي نُؤْتٰى مِثْلَ مَآ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ» ۱؎ [6-الأنعام:124] ‏‏‏‏ یعنی ’ جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو ہرگز ایمان نہ لائیں گے جب تک کہ وہ نہ دیئے جائیں جو اللہ کے رسولوں کو دیا گیا ہے ‘۔ ’ اللہ تعالیٰ کو بخوبی علم ہے کہ رسالت کے قابل کون ہے؟ ‘ اور یہ بھی مطلب ہو سکتا ہے کہ ’ ہم بغیر عمل کے چھٹکارا دے دیئے جائیں ‘۔ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ’ دراصل وجہ یہ ہے کہ انہیں آخرت کا خوف ہی نہیں کیونکہ انہیں اس کا یقین نہیں اس پر ایمان نہیں بلکہ اسے جھٹلاتے ہیں تو پھر ڈرتے کیوں؟۔ پھر فرمایا ’ سچی بات تو یہ ہے کہ یہ قرآن محض نصیحت و موعظت ہے جو چاہے عبرت حاصل کر لے اور نصیحت پکڑ لے ‘۔ جیسے فرمان ہے «وَمَا تَشَاءُونَ إِلَّا أَن يَشَاءَ اللَّـهُ» ۱؎ [76-الإنسان:30] ‏‏‏‏ یعنی ’ تمہاری چاہتیں اللہ کی چاہت کی تابع ہیں ‘۔ پھر فرمایا ’ اسی کی ذات اس قابل ہے کہ اس سے خوف کھایا جائے اور وہی ایسا ہے کہ ہر رجوع کرنے والے کی توبہ قبول فرمائے ‘۔

مسند احمد میں ہے { رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس آیت کی تلاوت کی اور فرمایا کہ تمہارا رب فرماتا ہے میں اس کا حقدار ہوں کہ مجھ سے ڈرا جائے اور میرے ساتھ دوسرا معبود نہ ٹھہرایا جائے جو میرے ساتھ شریک بنانے سے بچ گیا تو وہ میری بخشش کا مستحق ہو گیا۔ }۔ ۱؎ [سنن ترمذي:3328،قال الشيخ الألباني:ضعیف] ‏‏‏‏ ابن ماجہ اور نسائی اور ترمذی وغیرہ میں بھی یہ حدیث ہے، اور امام ترمذی رحمتہ اللہ علیہ اسے حسن غریب کہتے ہیں، سہیل اس کا راوی قوی نہیں۔ اللہ تعالیٰ کے احسان سے سورۃ المدثر کی تفسیر بھی ختم ہوئی۔ «فالْحَمْدُ لِلَّـه»

📖 احسن البیان

52۔ 1 یعنی ہر ایک کے ہاتھ میں اللہ کی طرف سے ایک ایک کتاب مفتوح نازل ہو جس میں لکھا ہو کہ محمد صلی اللہ علیہ وسلم اللہ کے رسول ہیں۔ بعض نے اس کا مفہوم یہ بیان کیا ہے کہ بغیر عمل کے یہ عذاب سے چھٹکارہ چاہتے ہیں، یعنی ہر ایک کو پروانہ نجات مل جائے۔ (ابن کثیر)

📖 القرآن الکریم

(آیت 52) {بَلْ يُرِيْدُ كُلُّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ …:} یعنی قرآن مجید اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا حق ہونا واضح ہو جانے کے باوجود ان میں سے ہر شخص یہ چاہتا ہے کہ اسے تازہ لکھی ہوئی تحریر دی جائے جو ابھی تہ بھی نہ کی گئی ہو اور ان کے ہر شخص کو باقاعدہ اللہ تعالیٰ کی طرف سے خط آئے کہ محمد(صلی اللہ علیہ وسلم ) ہمارے رسول ہیں، انھیں مان لو۔ دوسرا معنی یہ ہے کہ یہ لوگ اپنے خیال میں اتنے بڑے بن رہے ہیں کہ یہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لانے اور ان کی اطاعت کے لیے تیار ہی نہیں، بلکہ ان کی خواہش اور تقاضا یہ ہے کہ ان میں سے ہر ایک کو نبی بنا دیا جائے، اسے کتاب عطا ہو اور وہ بھی خرق عادت کے طور پر کاغذ پر لکھی ہوئی سب کے سامنے کھلی ہوئی حالت میں ان پر نازل ہو۔ لیکن یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہر شخص ہی کو نبوت و کتاب عطا ہو جائے، اللہ تعالیٰ نے فرمایا: «‏‏‏‏وَ اِذَا جَآءَتْهُمْ اٰيَةٌ قَالُوْا لَنْ نُّؤْمِنَ حَتّٰى نُؤْتٰى مِثْلَ مَاۤ اُوْتِيَ رُسُلُ اللّٰهِ اَللّٰهُ اَعْلَمُ حَيْثُ يَجْعَلُ رِسَالَتَهٗ» [ الأنعام: ۱۲۴ ] ”اور جب ان کے پاس کوئی آیت آتی ہے، کہتے ہیں ہم ہر گز ایمان نہیں لائیں گے جب تک ہمیں اس جیسی چیز نہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی۔ اللہ بہتر جانتا ہے اس جگہ کو جہاں وہ اپنی رسالت رکھے۔“ اس سے ملتا جلتا مضمون سورۂ فرقان (۲۱) میں بھی بیان ہوا ہے۔
← پچھلی آیت (51) پوری سورۃ اگلی آیت (53) →